خواتین سے متعلق موضوعات کچھ زیادہ ہی ہیں۔ سوچتی ہوں ایک ہفتہ ء خواتین منانا پڑے گا۔ سب سے پہلے اپنے بالکل پاس سے شروع کرتی ہوں۔
کوئ چار پانچ سال پہلے میں نے سوچا کہ گھر کے قریب کسی بینک میں اکاءونٹ کھول کیا جائے۔ گورنمنٹ بینکس اکثر مشکوک رہتے ہیں سو نظر انتخاب بینک الحبیبب پہ پڑی۔ جب میں نئے اکاءونٹ کے لئے فارم لے آئ تو کسی نے کہا کہ ایک اطلاع آپکو ہو کہ بینک الحبیب اپنے عملے میں کسی خاتون کو نہیں رکھتے۔ میں نے سوچا ٹھیک کہہ رہے ہیں میں نے بھی برانچ میں کسی خاتون کو نہیں دیکھا۔
چند دنوں بعد میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئ جو بینک الحبیب میں کام کرتے تھے۔ ان سے دریافت کیا کہ سنا ہے آپ کے بینک میں خواتین کو جاب نہیں دی جاتی۔ ناراضگی سے کہنے لگے۔ بینک الحبیب ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ ہمارے سیٹھ، دنیا کا اور کاروبار کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
تو اس بیچ انکی کیا رائے ہے؟ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ملازمت کی ذمہ داری خواتین پہ نہیں آتی۔
اس بات کا فیصلہ وہ کیسے کر سکتے ہیں؟ میں نے پھر سوال داغا۔ کہنے لگے انہیں کاروبار کا تجربہ ہے، دنیا دیکھی ہے۔ میں نے کہا، دنیا تو میں نے بھی دیکھی ہے۔ آپ بھی ابھی فوراً گھر سے نکل کر دیکھ سکتے ہیں کہ شہر میں ایک بڑی تعداد ان خواتین کی ہوتی ہے جنکے مرد رشتے دار نہیں ہوتے۔ خواتین جنکے شوہر مرجاتے ہیں اور انکے بچے بھی ہوتے ہیں۔ خواتین جن کے مرد اتنا نہیں کما پاتے کہ انکی کمائ سے گھر عزت کے ساتھ چل سکے۔ کیا انہیں لاوارث چھوڑ دیا جائے۔ وہاں بنگلہ دیش میں تو یونس صاحب، انہی عورتوں کی وجہ سے ایسا نظام چلانے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ خواتین کی خوشحالی کمیونٹی کی خوشحالی بن جائے اور نوبل پرائز حاصل کر لیتے ہیں ادھر آپکے سیٹھ خدا جانے کون سی دنیا دیکھنے کے بعد ایسی دانش سے بھر پور پالیسی بناتے ہیں۔
ایسی بات پہ انہیں دیوار سے لگنا پڑا۔ سو اس سے چپک کر کہنے لگے اسکی وجہ ایک اور بھی ہے۔ وہ کیا ہے؟
جو وجہ انہوں نے بتائ وہ دیوار سے لگنے کے بعد کھائ میں گرنے والی تھی۔ ایسی وجہ بینک الحبیب کا نمک کھانے کے بعد ہی پیش کیا سکتی تھی۔
خواتین کی وجہ سے دفتری ماحول خراب ہوتا ہے۔ کام کی رفتار سست ہوتی ہے اور معیار خراب۔ پھر دفتری عملہ بےکار کے چکروں میں الجھا رہتا ہے۔ جس سے لوگوں کے اخلاقیات خراب ہوتے ہیں۔
اگرچہ مجھے لوگوں کو انکے خاندانی حوالے دینا مناسب نہیں لگتا۔ لیکن جب مرد حضرات غیر خواتین کے بارے میں اتنے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیں تو انکی قریبی خواتین کی یاد دلانا ضروری ہو جاتا ہے۔ تس پہ میں نے ان سے کہا کہ دو سال پہلے آپکی چھوٹی بہن نے ہاءوس جاب مکمل کیا اور پچھلے دو سال سے وہ آن جاب ہے۔ اکثر رات کو بھی ہسپتال میں رکنا پڑتا ہے کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انکی وجہ سے ہسپتال کا ماحول خراب ہو رہا ہے۔ اس پہ انہوں نے مجھے گھورا اور کہا کہ بہر حال بینک الحبیب کی پالیسی یہی ہے۔ ہم کیا کر سکتے ہیں۔
میں نے یہ کہنا مناسب نہیں سمجھا کہ آپ ایک آسان سا کام کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ اپنے سیٹھ کی اس بے وقوفانہ پالیسی کا دفاع کرنا چھوڑ دیں۔ دیوار اور کھائ سے نجات پانے کا آسان اور ہزاروں سال سے آزمودہ نسخہ۔
اس وقت میں نے اس بینک میں اکاءونٹ کھولنے کا ارادہ ختم کردیا۔ یہ کھلی منافقت ہے کہ ایک بینک خواتین سرمایہ کاروں کا سرمایہ تو لینے کو تیار ہو لیکن بدلے میں انہیں نوکری کی سہولت دینے کو تیار نہ ہو۔ یعنی میرا سرمایہ میری ہم جنسوں کے استعمال میں نہیں آ سکتا۔ تف ہے ایسے بینک پہ۔
قسمت کا چکر، گذشتہ دنوں ایسی مجبوری آن پڑی کہ ہمیں ایک جوائینٹ اکاءونٹ کھولنا پڑ گیا۔ میں اور میرے شوہر دونوں ایک ساتھ بینک گئے اور اپنا عندیہ بتایا کہ ایک جوائینٹ اکاءونٹ کھولنا ہے۔ جو ہم دونوں کے نام پہ ہوگا لیکن اسے دراصل انہیں ہینڈل کرنا ہوگا۔ میرے شوہر صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ نو پرابلم، وہاں موجود شخص نے کہا۔ اور فارم نکال کر خود بھرنے بیٹھ گیا۔ جب اس نے لکھنا شروع کیا تو سب سے پہلے میرے شوہر کا نام لکھا۔ میرے شوہر صاحب نے پھر اسکی تصحیح کی کہ پہلے میری بیگم کا نام ڈالا جائے فرمایا۔ کسی کا نام بھی پہلے ہو کوئ فرق نہیں پڑتا۔ یہ آپکا جوائینٹ اکاءونٹ ہے۔ اچھا وہ خاموش ہو گئے۔
دس پندرہ دن بعد میں نے کریڈٹ کارڈ کے لئے درخواست دی۔ فارم بھر کر دیا۔ کہنے لگے اس پہ توآپکا نام لکھا ہے۔ اکاءونٹ تو آپکے شوہر کے نام پہ ہے۔ منٹو کی طرح اس وقت میرا دل چاہا کہ اس پہ ایک چھوٹا سا ایٹم بم پھینک دوں۔ ابھی دس دن پہلے تو آپ کہہ رہے تھے کہ اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ اور آج پڑتا ہے۔
ایسا کریں ناں ہم کریڈٹ کارڈ آپکے شوہر کے نام پہ جاری کر دیتے ہیں اور اسکے ساتھ آیک سپلیمینٹری کارڈ بھی ایشو کر دیتے ہیں۔ جوآپ استعمال کر سکیں گی۔
کیا آپکو یاد نہیں کہ آپکو بتایا گیا تھا کہ عملی طور پہ یہ میرا اکاءونٹ ہے۔ میں غصے میں مینیجر کے پاس گئ۔ کہنے لگے، مسکرا کر۔ آپ کا اور آپکے شوہر کا پیسہ ایک ہی تو ہے اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کس کے نام پہ ہے۔ جی، آپ مجھے یہ فلاسفی سمجھا رہے ہیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے اور اس سے بہت فرق پڑتا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کس کے نام پہ ہے۔ آپ یہ نہیں سمجھ رہے ہیں کہ کریڈٹ کارڈ میری ضرورت ہے۔ میں ملک سے باہر جاءوں تو کیا کرونگی۔
کیوں آپکے شوہر آپکے ساتھ نہیں جائیں گے۔
مسٹر مینیجر، یہ بالکل ضروری نہیں ہے کہ وہ میرے ساتھ جائیں۔ مجھے پہلے سمجھ لینا چاہئیے تھا کہ بینک الحبیب، جہاں خواتین کو نوکری نہیں دی جاتی۔ وہاں خواتین کلائینٹس کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوگا۔
نہیں نہیں، آپ ہماری قابل قدر کلائینٹ ہیں لیکن ایسا ہے کہ اکاءونٹ بنتے وقت آپکے شوہر کا نام پہلے آگیا ہے۔ پھر یہ کہ عام طور پہ کریڈٹ کارڈ شوہر کے نام پہ ہوتا ہے۔
جن خواتین کی شادی نہیں ہوتی یا بیوہ ہوتی ہیں انہیں آپ لوگ کریڈٹ کارڈ ایشو کرتے ہیں۔
جی ہاں کرتے ہیں، مگر اس صورت میں شوہر کا نام نہیں ہوتا۔
اس میں ہمارا قصوور، ان صاحب سے کہا بھی۔ مگر وہ اپنی بات پہ اڑ گئے کہ اس سے فرق نہیں پڑتا۔
جی بس ہمارے معاشرے میں رواج ہے کہ جب جوائینٹ اکاءونٹ کھولا جاتا ہے تو پہلے شوہر کا نام ہوتا ہے۔ اس لئے اس نے دھیان نہیں دیا۔
عجیب بات ہے عملے میں کوئ خاتون موجود نہیں پھر بھی اسکا دھیان ادھر ادھر گھوم رہا تھا۔ ایسا نہ ہو اسٹاف کا دماغ صحیح جگہ رکھنے کے لئے بینک کو صرف مرد حضرات کے لئے بینکنگ مخصوص کرنی پڑے۔ نئیں اس میں تو ان کا نقصان ہو جائے گا۔ وہ یہ کر سکتے ہیں کہ طالبانی قوتوں کے ہاتھ مضبوط کریں اور خواتین کے بجائے حوروں کے لئے بینکنگ کریں۔ میں نے یہ صرف سوچا، لیکن ان سے اتنا ہی کہا کہ
دھیان نہیں دیا، جبکہ ہم اس سے کہہ رہےتھے کہ ہمیں اس طرح چاہئیے۔
جی بس، میں معذرت خواہ ہوں یہ غلطی ہو چکی ہے۔
ٹھیک ہے میں کھڑی ہو گئ۔ اگر آپ مجھے میرے نام سے کریڈٹ کارڈ نہیں دے سکتے تو میں اپنی ساری انویسٹمنٹ واپس لے کر اپنا اکاءونٹ بند کرنا چاہونگی۔
اس بات پہ انکے مزاج ٹھکانے آئے۔ نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ چلیں ہم دیکھتے ہیں اس سلسلے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ آپ ایساکریں کہ کل آ کر معلوم کر لیں۔
اگلے دن انہوں نے اطلاع دی کہ ٹھیک ہے آپکو کریڈٹ کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔ اگر میرے پاس وقت ہوتا تو ایک دفعہ پھر میں بینک الحبیب پہ تف بھیج دیتی۔
اگلے دن میں پھر اس سلسلے میں انکے پاس موجود تھی۔ اس دفعہ انہوں نے فارم خود بھرنا شروع کیا۔ نام کے لئے جب ٹائٹل کے انتخاب کا خانہ آیا تو خواتین کے لئے تین آپشنز موجود تھے۔ مس، مسز یا مز۔ جب وہ مسز کی طرف اپنا ہاتھ بڑھا رہے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ مسز نہیں مز۔
لیکن انہوں نے حیرانی سے کہا آپ تو شادی شدہ ہیں۔ جی ہاں شادی شدہ ہوں اور ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی گذار رہی ہوں۔ لیکن بینک کو اس بات کی فکر نہیں ہونا چاہئیے کہ میں شادی شدہ ہوں یا نہیں ۔ اور اسٹاف کو پتہ ہونا چاہئیے کہ خواتین شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی یہ آپشن استعمال کر سکتی ہیں۔ اکیسویں صدی کے بینک الحبیب کو یہ تو سیکھنا پڑے گا۔
اب میں انتظار میں ہوں کریڈٹ کارڈ کے نہیں، بلکہ اسکے کہ اپنی اگلی اہم بینکنگ، بینک الحبیب کے ساتھ نہ کروں۔ اور موقع ملتے ہی یہاں سے بھاگ لوں۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
