کچھ لوگ دسمبر اور جنوری کی درمیانی رات کو سال بھر کا جوش نکال کر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ اب سارا سال بھنگ ملے یا چرس، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو یا پیٹرول کی قیمت اور بجلی کی قیمت میں کانٹے کا مقابلہ چل پڑے، انکے لئے سب برابر ہے۔ لیکن کچھ لوگ ہرروز کچھ نیا کے چکر میں نئےسال کی قرار داد بناتے اور پھر سارا سال اس قرارداد کا تعاقب کرتے نظر آتے ہیں۔میں نے بھی کچھ قراردایں بنانے کی کوشش کی مگر آخر میں اللہ مالک ہے کہہ کر اپنی بیٹی کے ساتھ جگسا پزل بنانے بیٹھ گئ۔
جب اپنے غم سے یوں فراغت ہو گئ تو دوسروں کے خیال بھی دل میں آئے، اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ ہمارے محبوب صدر نے کیا قرارداد بنائ اپنے لئے۔ کہنے لگے آپکو معلوم نہیں نجومیوں نے اس سال انکی دوسری شادی کی پیشن گوئ کی ہے۔ تو اب انکے پاس ایک نہیں کئ قراردادیں ہونگیں۔ اچھا خدا مسبّب الاسباب ہے یعنی اس سال اس بہانے ہم خوشی کے شادیانے بجائیں گے۔
ادھررحمان ملک کے بارے میں تو شرطیہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سورہ اخلاص سمیت چاروں قل ،سورہ فاتحہ، آیۃ الکرسی اور دعائے قنوت کے حفظ کے کریش کورس پہ لگ جائیں گے۔ مبادا گیلانی صاحب اسی طرح سال کے اخیر میں دستیاب رہے تو کیبنٹ کے اجلاس میں ایکدوسرے کی پھبتی اڑانے کے لئے وہ نشانے پہ نہ آ سکیں۔
لیکن لگتا یوں ہے کہ 'قدرت' کو گیلانی صاحب کے ہاتھوں انکی یہ توہین پسند نہیں آئ۔ اور صورت حال کچھ اس طرح سامنے آئ کہ گیلانی صاحب کو اخلاص چھوڑ کرجل تو جلال تو آئ بلا کو ٹال تو کی تسبیح گھمانا پڑ رہی ہے۔
سال کے شروع میں پٹرولیئم مصنوعات پہ یکدم نو فیصدی کا اضافہ ،عوام کو اشارہ ہے کہ باقی سال سورہ یس حفظ کر لیں موت کی سختی کم کرتی ہے۔
مذہبی جماعتیں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ گاتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کے زیر زبر پیش کی حفاظت میں لگی رہیں گی یہ انکی بڑی امید اور سہارا ہے۔ اور اگلے کئ سالوں کے لئے 'اہم ملکی معاملات' پہ انکی گرفت مضبوط رکھے گا۔
نواز شریف جمہوریت کی ریل کو ڈی ریل ہونے سے بچانے میں مصروف رہیں گے انہیں ڈی ساخت پسند نہیں بلکہ اپنے چہرے کی طرح گول' او ' ساخت چاہئیے تاکہ جمہوریت کی ریل ایک دائرے میں گھومتی رہے ۔
طالبان خاتون کے کامیاب خود کش حملے کے بعد پاکستان میں مردوں کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ لوگ جو اپنی کم جہیز لانے والی بہوءووں سے نالاں ہیں اور چولہے وغیرہ پھٹنے کا انتظار کرتے ہیں یا وہ لوگ جو اپنی بیٹیوں کو ونی کرنے یا کاروکاری کرنے کے چکر میں رہتے ہیں یا جائداد کے بٹوارے میں پڑنے کے بجائے قرآن سے شادی کروا دیتے ہیں۔ اب طالبان کے مراکز کے آگے لائن بنا کر کھڑے ہونگے۔ لوگوں کے ہجوم میں خواتین کا پھٹنا، بالکل مناسب ہوگا۔ کیونکہ اسکے بعد اعضاء میں وہ تناسب نہیں رہتا جن سے ہارمونز کا کھیل شروع ہو سکے۔
ادھر ایم کیو ایم ، حکومت سے اپنے نعرہ ء علیحدگی پہ رقص بسمل کرے گی ۔ حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد امید ہے کہ انہیں ریہرسل کا زیادہ وقت ملے گا۔ یہ بھی امکان ہے ک ایک پیس کے رد و بدل ، اور کچھ معلوم و نا معلوم لوگوں کے مقامات بعد از حیات طے کرنے کے بعد حکومت دوبارہ انہیں اپنے اتحادیوں میں شامل کر لے۔
مولانا فضل الرحمن کے متعلق لوگوں نے اڑائ ہے کہ انکی صدر صاحب سے ڈیل ہو گئ ہے۔ وہ وزارت عظمی مانگ رہے تھے۔ بالآخر عظمی پہ معاملہ ٹہر گیا۔
وزارت میں سے عظمی کے نکل جانے کے بعد گیلانی صاحب کیا کریں گے؟ سن رہے ہیں کہ پچھلے ہفتے کا سارا کھڑاگ انہیں لائن حاضر کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یعنی ذوالفقار مرزا کے سندھ میں ایم کیو ایم مخالف بیانات کا سلسلہ زرداری صاحب کی وفاداری سے جا کر مل رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجومیوں نے غلطی سے دوسری تبدیلی کو دوسری شادی سمجھ لیا ۔ واللہ اعلم۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ ایک زرداری سب پہ بھاری۔
جگسا پزل بھی بناتے بناتے آتا ہے۔ اب آپکی باری ہے۔
Showing posts with label ایم کیو ایم، نواز شریف. Show all posts
Showing posts with label ایم کیو ایم، نواز شریف. Show all posts
Tuesday, January 4, 2011
Subscribe to:
Posts (Atom)

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
