Showing posts with label پورٹ گرانڈ. Show all posts
Showing posts with label پورٹ گرانڈ. Show all posts

Saturday, June 18, 2011

بنا ہے عیش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹی وی پہ ایک خبر گذر رہی تھی کہ کراچی میں  پاکستان کی سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ کا افتتاح ہو گیا ہے۔ ہمیں بھی خواہش ہوئ کہ  لاہور کی فوڈ اسٹریٹ کے درشن تو حاصل کر چکے۔ اب دیکھیں کہ کراچی کی فوڈ اسٹریٹ کیسی ہے جس کا نام ہے پورٹ گرانڈ۔ نام سے تو شاہوں کی چیز لگتی ہے، لیکن کراچی کی فوڈ اسٹریٹ شاہانہ کیسے ہو سکتی ہے؟  تین دن  ارادے باندھنے اور توڑنے کے بعد بالآخر ہم گھر سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
ایکسپریس وے سے نیچے اترے تو پولیس کی گاڑیاں موجود تھیں۔ ٹریفک بالکل رینگ رہا تھا۔ لگتا ہے ہم نے غلط دن چن لیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بند ہو۔ اگلے دن معلوم ہوا کہ لیاری کے معروف باکسر ابرار حسین شاہ کو کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا۔ ٹریفک کے ہجوم سے باہر نکلے ہوٹل بیچ لگژری کی طرف گاڑی مڑی تو مجھے حیرانی ہوئ۔ یہ فوڈ اسٹریٹ اتنی خاص الخاص جگہ پہ کیوں ہے۔ یہاں عام لوگ کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ اسے تو کسی عوامی جگہ پہ ہونا چاہئیے تھا۔


لیکن آگے چل کرجب شہر کی جدید ماڈل کی گاڑیاں  نظر آنے لگیں تو دل میں اور وسوسے آنے لگے۔ ہم تو عوامی ہونے کے چکر میں کچھ ایسے اہتمام سے نہ نکلے تھے۔ لیکن داخلی دروازے پہ اترتے ہی ہمارے سب وسوسے حقیقت کا روپ دھار چکے تھے۔

کراچی کے اور بیرون ملک ڈیزائینرز کے کپڑوں میں ملبوس لوگ، اپنے شیر خوار بچوں سے انگریزی میں گفتگو فرماتے لوگ۔ ہمارا دل تو یہ منظر دیکھ کر ہی ہٹ سا گیا۔


 
داخلہ ٹوکن فی آدمی تین سو روپے کا، اگر اندر کچھ کھالیں تو دو سو روپے اس میں سے منہا ہو جائیں گے یعنی ایڈ جسٹ ہو جائیں گے۔ اگر نہیں کھاتے تو آپ کا ہی نقصان ہے واپس نہیں ملیں گے۔ چھوٹے بچوں کے لئے رعایت۔ چھوٹے سے کیا مراد ہے یہ معلوم نہیں ہوا۔ ہمیں مل گئ۔ ہماری بیٹی ابھی چار سال کچھ مہینے کی ہے۔
داخل ہوتے ہی سامنے ایک چھوٹا سا شاپنگ ایریا بنا ہوا ہے جہاں مغربی ملبوسات اور   مغربی پرفیوم کی دوکان نظر آئ، جس پہ بڑا بڑا  لکھا تھا ماشاء اللہ۔ باقی دوکانوں کو دیکھنے کی ہم نے ضرورت محسوس نہیں کی۔ اندازہ ہو چلا تھا کہ کراچی کے طبقہ ء اشرافیہ یعنی ایلیٹس کے ذوق نظر کو سامنے رکھتے ہوئے مال مصالحہ رکھتی ہونگیں۔

ادھر اس طرف بڑھے جہاں ایک قطار میں کھانے پینے کی دوکانیں بنی ہوئیں ہیں تو  زیادہ تر بیرون ملک فاسٹ فوڈ کی دوکانیں نظر آئیں مثلاً ون پوٹیٹو، ٹو پوٹیٹو، اومور کا آئس کریم پارلر، سوشی جاپانی کھانا اور اسی طرح کی چنداور دوکانیں۔ سمندر کے ساتھ والے حصے پہ شیشے کی چھوٹی سی دیوار بنادی گئ ہے۔ اسکے ساتھ نوجوانوں کی ٹولیاں بیٹھی ہوئیں تھیں۔ خوش باش، آسودہ اور پر تعیش زندگی گذارنے والے نوجوان۔





چونکہ ہم لوگ بالکل بھی سینڈ وچز اور برگر کھانے کے موڈ میں نہیں تھے تو نظر انتخاب وہاں کی واحد مقامی کھانوں کی ایک دوکان پہ پڑی شیخ عبدالغفار کباب ہاءوس۔  لوگوں کی اکثریت کے ساتھ  شاید یہی مسئلہ تھا۔ اس وجہ سے وہاں خاصہ رش تھا۔ پتہ چلا کہ چالیس منٹ بعد باری آئے گی کہ بیٹھنے کی جگہ ملے۔


ہم نے سوچا اس سے تو بہتر ہے کہ انسان، بار بی کیو ٹونائٹ چلا جائے۔ وہ یہاں سے نزدیک ہے۔ لیکن پھر ٹوکن کے پیسوں کا خیال آیا اور رک گئے۔ چالیس منٹ مشعل کے ساتھ آرٹ اینڈ کرافٹ  فار کڈز میں گذارے۔
باری پہ اندر گئے۔ مزید صدمہ، مینو میں صرف چار  چیزیں شامل تھیں۔  آرڈر دیا۔ آدھ گھنٹے بعد جب وہ آئیں تو اندازہ ہوا کہ سرونگ خاصی کم ہے ایک شخص ، خاص طور پہ ایک مرد پیٹ بھر کے نہیں کھا سکتا۔ مزید کے لئے آرڈر دیا۔ کھانا بالکل عام مزے کا۔ پیسے چار سو روپے فی پلیٹ۔ تیس روپے ایک چپاتی۔
باہر نکل کر سوچا کہ سامنے گولا گنڈے والا کھڑا ہے اسے ٹرائ کرنا چاہئیے۔ لاہور کی فوداسٹریٹ پہ بڑے مزے کا ، خوب بڑا گولا گنڈا بناتا ہے۔ اپنے بچپن میں بھی گولے گنڈے پہ جان دیتے تھے۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہو اکہ ایک گلاس میں  برف چور کر کے بھر کے اوپر سے مختلف سیرپ ڈال کر دے رہے ہیں۔ گولے گنڈے کی یہ توہین برداشت نہ ہوئ۔ ان سے پوچھا کہ ڈنڈی پہ نہیں ملے گا۔ فرمایا، ہم اسٹک پہ نہیں لگاتے۔
چناچہ ہم وہاں سے سٹک گئے۔ پر تعیش زندگی کے عادی لوگوں کے نخرے دیکھے۔ اور واپسی کا سوچا۔
رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ حساب لگایا کہ گھر پہنچنے میں ساڑھے گیارہ بج جائیں گے۔ساڑھے نو سے، ساڑھے گیارہ بجے والا لوڈ شیڈنگ کا ٹائم ختم ہو جائے گا۔ بس اس آءوٹنگ میں ایک مثبت  بات یہی نکلے گی۔
داخلی دروازے سے باہر کھڑے ویلے پارکنگ سے گاڑی کے باہر آنے کا انتظار کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ فٹ پاتھ پہ تین خواتین بڑے بڑے مدنی برقعے پھیلائے فٹ پاتھ پہ بیٹھی تھیں۔ انکے پاس ایک آٹھ نو سال کی بچی کھڑی تھی۔ اس نے بھی کالے رنگ کا عبایہ پہنا ہوا تھا اور اسکارف باندھا ہوا تھا۔
ایک طرف مغربی اور جدید لبادوں میں ملبوس فیشن ایبل خواتین کی لمبی قطار، درمیان میں ، میں اور دوسری طرف مدنی برقعے جو کہ ایک ایک بچی بھی پہنے ہوئے تھی۔  میں نے سوچا ہم تینوں ہی یہاں آکر مایوس ہوئے ہونگے۔ مدنی برقعے، مغربی لبادوں کو دیکھ کر اور مجھے بے حجاب دیکھ کر، مغربی لبادے مدنی برقعوں کو دیکھ کر یہ بھی یہاں موجود ہیں اور میں یہ سوچ کر  کہ کیا اب حکام کے پاس ہم جیسے عوام کے لئے پروجیکٹس ختم ہو گئے ہیں۔ شہر میں ہم اکثریت میں ہیں اور کثیر سرمائے سے عیاشی کے پروجیکٹس اقلیت کے لئے۔
جن  افضل لوگوں کے لئے آپ نے یہ سب کچھ بنایا، انہیں تو اب بھی اس میں کوئ قابل ذکر بات نہیں نظر آئے گی سوائے اسکے کہ لیٹسٹ ٹرینڈز فیشن کے دیکھنے اور دکھانے ہوں تو یہاں آجائیں۔  اندازہ ہے یہ اس طبقے کے نوجوان کو مصروف رکھنے کے لئے تیار کی گئ ہے۔ جو چائے کی پیالی میں طوفان اٹھائیں یا بیٹھ کر نیرو کی طرح بانسری بجائیں۔ البتہ یہ کہ الکوحل اور نشہ آور اشیاء پہ پابندی ہے۔ یہ زیادتی ہے۔ اس ماحول اور طبقے کے ساتھ۔




عام لوگوں کے لئے اول تو یہاں پہنچنا ہی مشکل ہے۔ یہاں پہنچ جائیں تو اس مہنگے، بے مزہ کھانے پہ اتنا کیوں خرچ کریں۔ پاکستان تو دور، فی الحال تو اسے کراچی کی بھی سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ نہیں کہا جا سکتا۔ اس سے تو بہتر ہے کہ بوٹ بیسن کی فوڈ اسٹریٹ چلے جائیں۔ وہ کہیں گے، اتنی دیر میں یہ بات سمجھ میں آئ۔ بوٹ بیسن آپکے لئے ، پورٹ گرانڈ ہمارے لئے۔
لیکن خیر، ہمارے کراچی کے بلاگرز چاہیں تو ایک میٹ اپ یہاں رکھ لیں۔  سمندر کے کنارے تازہ ہوا کے ساتھ رات کو پورٹ کی روشنیاں دیکھیں۔ احتیاط سے گفتگو فرمائیں۔ دل چاہے تو کچھ ہلا گلا کریں اور کھانے میں اپنے ٹوکن کے دو سو روپے استعمال کریں ۔ الگ سے کچھ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں۔ 
شاپنگ ایریا میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔ غیر شادی شدہ، خوش شکل، خوش پوش، انگلش بہتر طور پہ بول لینے والے نوجوان چاہیں تو کسی اعلی خاندان کی حسینہ سے میل جول پیدا کرنے کے لئے یہاں پہ کوشش کر سکتے ہیں. ۔
اسکی مشہوری کرنے والے ادارے اپنا سلوگن تبدیل کر لیں۔ پاکستان میں ایلیٹس کے لئے مخصوص سب سے بڑی فوڈ اسٹریٹ۔ جسکی تعمیر میں امریکہ، اٹلی اور تھائ لینڈ کے ماہر اداروں نے حصہ لیا ہے۔
اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو عوام وہاں پہنچ کر صدمے کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اور واپس آ کر کہیں گے  سب شہنشاہوں نے پیسے کا سہارا لے کر، ہم غریبوں کی بھوک کا اڑایا ہے مذاق۔ عوام کی بھوک کا مذاق اڑانا، اشرافیہ کے مستقبل کے لئے اچھا نہیں ہے۔ یہ تمام الہامی و اساطیری دانش کا کہنا ہے۔

شام آرہی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
تم اور کتنی دیر ہو ، ہم اور کتنی دیر