Showing posts with label طالبان. Show all posts
Showing posts with label طالبان. Show all posts

Wednesday, October 17, 2012

لٹل ریڈ رائڈنگ ہڈ گرل

فرض کریں کہ انصار عباسی صاحب دفتر سے اپنے گھر واپس جا رہے ہیں کہ راستے میں رک کر ایک ٹھیلے والے سے پھل لے کر اپنی گاڑی کی طرف واپس پلٹتے ہیں لیکن اسی اثناء میں ٹھیلے پہ لگا بم پھٹ جاتا ہے اور انصار عباسی سمیت بیس لوگ لقمہ ء اجل بن جاتے ہیں۔ لوگ افسوس کریں گے کہ انصار عباسی صاحب لا علمی میں کس طرح مارے گئے۔
اب یہی واقعہ ایک اور طرح سے پیش آتا ہے۔ انصار عباسی ساحب جس گروہ پہ تنقید کرتے ہیں اسکی طرف سے انہیں قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں وہ گاڑی میں جا رہے ہیں ۔ ٹھیلے والے کے پاس رک کر پھل خرید ہورہے ہوتے ہیں کہ ایک موٹر سائیکل پاس آ کر رکتی ہے اس پہ سوار افراد ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ انصار عباسی ہیں اور انکو گولی کا نشانہ بنا کر فرار ہوجاتے ہیں اگلے دن انکو دھمکی دینے والی تنظیم اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہے۔
کیا ان دو واقعات پہ رد عمل ایک جیسا ہوگا؟
جی نہیں۔ پہلے واقعے میں پاکستان کے سیکیوریٹی کے حالات اور انکی وجوہات ڈسکس ہونگیں۔  دوسرے واقعے کو پاکستانی جرنلزم پہ اندوہناک وار کہا جائے گا۔ اور ہر شخص جو انکا نظریاتی طور پہ کتنا ہی مخالف ہو اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ جرنلسٹ کی حیثیئت سے انکا قتل ایک سانحے سے کم نہیں۔ یہ آزاد  صحافت پہ حملہ ہے۔
دھیرج رکھیں، انصار عباسی صاحب ابھی زندہ ہیں۔ خدا انہیں طویل عمر دے۔
بس یہیں سے ملالہ کا ملال شروع ہوتا ہے۔
ملالہ کی کہانی سن کر لٹل ریڈ رائڈنگ ہڈ گرل  کی کہانی یاد آتی ہے جسے اسکی ماں باسکٹ میں کھانے کی اشیاء دے کر بیمار نانی کے پاس جنگل کے اس طرف بھیجتی ہے اور راستے میں اسے ایک بھیڑیا مل جاتا ہے۔
ملالہ ، ملال یہ نہیں ہے کہ تمہیں کس نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ نہ ہی یہ ملال ہے  کہ اسلام کا نام لینے والوں نے یہ دعوی کیا کہ انہوں نے تمہیں گولی ماری۔ بہت عرصہ ہوا لوگ مر رہے ہیں اور ہم یہ دعوے سن رہے ہیں۔ نہ ہی یہ ملال ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ چونکہ تم نے شریعت کے خلاف جا کر کام کیا اس لئے تم اس سزا کی حقدار ہو۔ شرعی معاملات کو نافذ کرنے کے لئے اب ہمارے یہاں ٹھیلے پہ سبزی بیچنے والا بھی بے قرار ہے یہ جانے بغیر کہ شریعت کس چڑیا کا نام ہے۔  نہ ہی مجھے اس بات کا ملال ہے کہ طالبان نے کہا کہ کیا ہوا تم بچ گئ وہ دوبارہ تمہیں مارنے کی کوشش کریں گے۔ ہم دیکھ چکے کہ وہ اپنی بات میں کتنے اٹل ہیں۔ 
 میں تمہیں اتنا ہی جانتی ہوں جتنا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔ یہاں بہت سارے لوگ معاشرے کی تباہ ہوتی اقدار کے بارے میں فکر مند ہیں مجھے تمہارے بارے میں جان کر کیا کرنا۔ وہاں وادی ء سوات میں بے شمار لڑکیاں ہونگیں جو اپنی تعلیم پہ فکر مند ہونگیں۔ جنہیں اپنے ساتھ یہ دوسرے درجے کا سلوک پسند نہیں ہوگا۔ بس یہ کہ تم ان لڑکیوں کے لئے ایک علامت بن گئیں۔ زیادہ تر لوگ تو اس علامت کو درپیش خطرے سے صدمے میں آئے۔ 
 در حقیقت میں تم سے زیادہ تمہارے والدین کی بہادری کی قائل ہوں۔ آخر تمہارے والدین نے تمہیں گیارہ سال کی عمر میں اس قسم کی مضامین لکھنے کی اجازت کیوں دی جس میں تم لڑکیوں کی تعلیم کی بات کرو وہ بھی ایسے علاقے میں، اس عہد میں جب کہ صرف اس فتوی کے آنے کی دیر تھی کہ بحیثیئت عورت پیدا ہونا ایک غیر شرعی عمل ہے۔ آخر انہوں نے تمہیں وہ سبق کیوں نہیں پڑھایا جو ہمارے یہاں اس وقت خواتین کو پڑھایا جانا پسند کیا جاتا ہے؟  
لیکن پھر بھی مجھے ایک ملال سا ہے۔ اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ نہیں جنہوں نے تمہیں گولی ماری بلکہ وہ لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد سامنے آتے ہیں۔
لوگوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ طالبان نے یہ نہیں کیا امریکہ نے کیا ہے فوج نے کیا ہے۔ لیکن اس کے اگلے ہی لمحے وہ کہتے ہیں کہ کیا آپکو معلوم ہے کہ ملالہ  کی فیورٹ شخصیت اوبامہ ہے، یا یہ کہ کیا آپ نے ملالہ کے مضامین پڑھے ہیں؟ انہیں پڑھے بغیر آپ ملالہ کو مظلوم کیوں سمجھتی ہیں؟  ڈرون حملوں میں  بچے مارے جاتے ہیں آپ اسکی مذمت نہیں کرتیں تو ہم ملالہ کی مذمت کیوں کریں؟ پاکستان میں ایک نہیں لاکھوں ملالائیں ہیں ہم صرف اسکی مذمت کیوں کریں؟ وہ ہمارے یہاں کی ایک اور مختاران مائ ہے۔  ہم کیوں نہ کہیں کہ عافیہ صدیقی اور جامعہ حفصہ کی لڑکیوں سے اگر آپکو ہمدردی نہیں تو ہمیں بھی ملالہ سے ہمدردی نہیں؟
آخر ملالہ نے ایسا کون سا کام کیا ہے جس پہ اسکی اتنی شہرت ہے؟  ہمارے یہاں تو ایسی لاکھوں ذہین لڑکیاں ہیں۔ عین اسی وقت دوسرا سوال پوچھتے ہیں کہ وہ جو مضامین اس نے لکھے ہیں اس عمر کا بچہ تو لکھ ہی نہیں سکتا۔ اس عمر میں بچے نہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں اور نہ اتنا سوچتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ دراصل اس کے ساتھ جو ہوا اس کے اصل ذمے دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسکی باتوں پہ اس کی حوصلہ افزائ کی۔
یہیں پہ دل ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ یہ تک کھوج کر نکال لاتے ہیں کہ کیا ہم جانتے ہیں کہ ملالہ کے دیندار دادا نے ملالہ کے سیکولر نظریات رکھنے والے والد کو اسکے کفر کی وجہ سے نوجوانی میں گھر سے باہر نکال دیا تھا۔
ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں، جو کہتے ہیں کہ طالبان تو وجود ہی نہیں رکھتے یہ تو امریکیوں کا پھیلایا ہوا وہم ہے۔  لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پھر آپ طالبان کی مذمت کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں تو پھر ایک آئیں بائیں شائیں۔
اس وقت ایک چودہ سالہ لڑکی برطانیہ کے کسی ہسپتال میں ہوش و خرد سے نا آشنا کسی بستر پہ مشینوں کے سہارے پڑی ہے۔ وہ اگر ایک طویل علاج کے بعد زندگی کی طرف لوٹ بھی آئے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کس حد تک تندرست ہوگی۔
لیکن میرے جیسے دلوں میں یہ خیال کروٹیں لے رہا ہے کہ بستر پہ پڑا وہ وجود ایک چودہ سالہ لڑکی کا ہے یا چونسٹھ سال کے ملک کا ہے۔ 
  

Friday, March 23, 2012

پاکستان؟

آج جب گھر سے نکلی تو ٹی وی پہ قومی ترانے چل رہے تھے۔ فیس بک پہ لوگ تیئیس مارچ جیسے قومی دن پہ اپنے  جذبات سے فضا کو پرجوش بنائے ہوئے تھے۔  گھر سے باہر نکل کر بس جمعہ بازار تک گئ ، سبزیاں لینے اور یہ طلسم ٹوٹ گیا۔
ہوا یوں کہ جب میں نے امرود والے کے اس دعوے کے رد میں کہ اس نے بقول اسکے بہترین امرود رکھے ہیں۔ ایک بھی داغ دار نہیں ہوگا۔ ایک کے بعد ایک چار داغدار امرود نکال کر واپس رکھے تو بازار ان نعروں کی آواز سے گونج اٹھا جو سڑک سے آرہی تھیں۔ دوکاندار کی داغدار زبان رک گئ اور اسکی توجہ روڈ پہ ہو گئ۔ میں نے بھی مڑ کر دیکھا  بلا کسی خوف کے کہ کوہ قاف میں تو موجود نہیں ہوں۔ ایک کے بعد کئ منی بسیں گذریں جن پہ لوگوں کا ہجوم جئے سندھ نیشنلسٹ پارٹی کے جھنڈے لئے بیٹھا وہ نعرے لگا رہا تھا جنکے مطلب  اور معنی سے وہ خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ مجھے بھی سمجھ نہیں آرہے تھے۔ یہ گاڑیاں شہر کے اس حصے کی طرف سے آرہی تھِں جہاں سندھی بلوچ گوٹھ ہیں۔ یہ وہ عوام ہے جو پیچھے پلٹ کر دیکھ نہیں سکتی۔ اس لئے نہیں کہ پتھر کی بن جائے گی اس لئے کہ اسے پیچھے دیکھنا ہی نہیں آتا۔ دیکھنا تو اسے آگے بھی نہیں آتا۔ جو انکے جدی پشتی رہ نما دکھا دیں وہی دِکھنے لگتا ہے۔
گھر آکر شہر کے حالات جاننے کا تجسس ہوا کہ ایک دوست سے ملنے کا وعدہ تھا۔ معلوم ہوا کہ  سندھ کی آزادی کا مطالبہ رکھنے والی اس ریلی کے شرکاء کی وجہ سے شاہراہ فیصل پہ بد ترین ٹریفک جام ہے۔ اور اس رکے ہوئے ٹریفک میں مسلح افراد نے لوٹ مار شروع کی ہوئ ہے۔
یہ جئے سندھ کی اس سلسلے میں پہلی ریلی نہیں تھی۔ ابھی چار دن پہلے بھی میں انکی ایسی ہی ریلی میں پھنسی اور جہاں جانے کا ارادہ تھا اسے ترک کے واپس آگئ۔
میں نے اپنا گھر سے نکلنے کا خیال منسوخ کیا۔ اور سوچنے لگی کہ ایک طرف بلوچستان میں آزادی کی نام نہاد جنگ سردار لندن، فرانس اور امریکہ میں بیٹھ کر لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف خیبر پختون خواہ میں انتہا پسندوں نے تحریک چلائ ہوئ ہے کہ انکے علاقے کی علاقہ غیر والی حیثیت بحال کر کے اسے حکومت  پاکستان کے رائج قوانین سے نہ صرف نجات دی جائے بلکہ باقی کے ملک میں بھی انکی مرضی کا نظام حکومت لایا جائے۔ جسے وہ شرعی حکومت کا نام دیتے ہیں۔ ادھر خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کی شہہ پہ اچانک جئے سندھ والوں کو سندھ کی آزادی کے نعرے پہ دوبارہ کھڑا کر کے کراچی میں اودھم مچانے کی اجازت دے دی گئ ہے۔ ابھی چند دن پہلے کراچی میں کسی خفیہ ہاتھ نے کراچی کی دیواروں پہ مہاجر صوبے کا مطالبہ بھی لکھنے کی کوشش کی۔  ادھر پنجاب  میں جنوبی پنجاب باقی پنجاب سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ ادھر باقی پنجاب نئے سرے سے مسلمان ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اب ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے۔ یہ ملک یہاں کی بنیادی اقوام کو چاہئیے یا نہیں؟
مجھ سے ایک بزرگ نے دریافت کیا کہ یوم پاکستان کیوں منایا جاتا ہے؟ میں نے مطالعہ پاکستان میں برسوں پڑھے ہوئے جواب کو طوطے کی طرح دوہرا دیا۔ اس دن دو قومی نظرئیے کی بنیاد پہ پاکستان بنانے کا مطالبہ ایک قرارداد کی صورت میں مسلمانوں کی طرف سے متفقہ طور پہ پیش کیا گیا تھا۔ پھر پاکستان کا پہلا آئین بھی اسی دن پیش ہوا۔
انہوں نے دریافت کیا لیکن جس دن بنگلہ دیش بنا۔ نہ صرف اس قرارداد سے تعلق رکھنے والا  پاکستان اس دن ختم ہو گیا تھا بلکہ واقعی اگر کوئ دو قومی نظریہ تھا تو وہ بھی اس دن غلط ثابت ہوا۔  رہا آئین تو اس  پہلے کے بعد کئ آئین آئے۔ یہ آئین جسکی بگڑی ہوئ شکل اب موجود ہے۔ جو بھٹو نے بنایا۔ اسے قوم کو دینے کے بعد چوبیس گھنٹوں میں اس میں پہلی ترمیم ہوئ، جو بھٹو ہی نے کی تھی مخالفین کو دبانے کے لئے۔ اس لئے ان دونوں وجوہات کی بناء پہ تو اب اس دن کو بالکل نہیں منانا چاہئیے۔ کیوں مناتے ہو تم لوگ یہ دن؟
کیوں مناتے ہیں ہم یہ دن، کیا اس لئے کہ قومی ترانوں کو گانے کی پریکٹس ہو سکے یا اس لئے کہ اپنی منافقت کی ہم مزید مشق کر سکیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اگلی نسلوں میں اپنی پوری آب و تاب سے منتقل نہ ہو سکے؟
ملک کی سیاسی حالات کی ابتری کا اندازہ لگانے کے لئے مزید اشارے دیکھیں۔ گیلانی صاحب عدالت کے زور دینے پہ بھی سوئس حکومت کو خط لکھنے کے لئے تیار نہیں۔ انکے بقول وہ صدر صاحب کی پیٹھ میں چھرا نہیں مار سکتے۔ یہ نہ کر کے وہ  پاکستان کے سینے میں چھرا مار رہے ہیں اسکا انہیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں بلکہ پرواہ بھی نہیں۔
 اعتزاز احسن جو ججوں کی بحالی تحریک میں آگے آگے ہو رہے تھے۔ جسکی وجہ اب یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ بس مشرف کے لکھے کو مٹانا چاہتے تھے۔ اس کیس میں انہوں نے بھی اپنے ضمیر کی شاید صحیح قیمت وصول کر لی ہے۔ کہتے ہیں عدالت کو گیلانی صاحب کے گدی نشیں ہونے کا تو خیال کرنا چاہئیے۔
یہی نہیں، ادھر برہمداغ بگتی کے اوپر سے سارے مقدمات واپس۔ کیوں جناب؟ اس لئے کہ بلوچستان کہیں پاکستان سے الگ نہ ہوجائے۔ پھر پاکستان کے  یہ چھوٹے چھوٹے لوگ کیوں سزائیں بھگتتے ہیں اس لئے کہ وہ کسی نواب خاندان سے نہیں۔ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ پولیس اور عدالت کا نظام ہی ختم کر کے اس عذاب سے جان چھڑائیں۔
طالبان سے مذاکرات کر کے انکے مطالبات پہ غور ہونا چاہئیے۔ وہ کس لئے؟ کیونکہ ملک میں امن اسی طرح قائم ہو سکتا ہے کہ جنونیوں سے بھی خوشگوار تعلقات رکھے جائیں۔
ادھر کل زرداری صاحب  کو تاحیات صدر منتخب کیا جائے گا۔ وہ کیوں بھئ؟ کیونکہ اگر وہ پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے تو جئے سندھ والے تو سندھ کو پاکستان سے الگ کر کے لے جائیں گے۔ 
یہ پاکستان کیا کاغذ پہ ایک نقشے کا نام ہے؟ 
پاکستان کیا کسی قرارداد کا نام ہے؟
پاکستان کیا کسی نظرئیے کا نام ہے؟
پاکستان کیا ایک کرکٹ ٹیم کا نام ہے؟
حقیقت کچھ یوں نظر آتی ہے کہ یہاں کے حکمرانوں کو، سرداروں کو، جاگیرداروں کو، نوابوں کو اگر اسکے چھوٹے چھوٹے حصے بنا کر  وہاں کا والی وارث بنادیا جائے تو نہ صرف یہ اسے اپنی خوش قسمتی جانیں گے بلکہ انکے زیر سایہ آنے والے عوام بھی اس نشے میں کئ نسلیں زمین پہ رینگ کر گذار لیں گے۔
آخر ہم یوم پاکستان کیوں مناتے ہیں؟ جبکہ ہم پاکستان پہ یقین نہیں رکھتے۔
جب ہم الگ ہو جائیں گے تو کس حصے کا نام پاکستان ہوگا اور کیا وہاں یوم پاکستان منایا جائے گا؟
اور  اب آخری سوال وہ کیا چیز ہے جو پاکستان کو جوڑ کر رکھ سکتی ہے؟ دائیں بازو والے شاید ایک دفعہ پھر اسکاجواب مذہب دیں لیکن میرے خیال میں شاید ایٹم بم۔ کیونکہ الگ ہوتے ہوئے  ان قوتوں کو یہ بھی تو سوچنا پڑے گا کہ آخر ایٹم بم کس کے حصے میں جائے گا۔ 

Friday, September 30, 2011

وہ دیکھو

کبھی کبھی موضوعات میں قرعہ اندازی کرنی پڑتی ہے۔ آج تین موضوع ذہن میں تھے۔ لیکن فال آل پارٹیز کانفرنس کے نام نکلی۔ ایک شاعر نے کہا تھا کہ اسکا چہرہ ہے کہ حافظ کی بیاض، ایسے چہرے سے کوئ فال نکالی جائے۔  سو جس کانفرنس میں ہماری پیاری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر موجود ہوں۔ اسی سے کوئ فال نکالنی چاہئیے تھی۔  سب منتظر بھی رہے۔ سنتے ہیں کہ چھ گھنٹے سے زائد کا ٹائم لگا اس فال کو نکالنے میں۔
اسکی وجہ باخبر ذرائع کے مطابق یہ تھی کہ تقریباً ساٹھ رکنی اس کانفرنس میں جب بھی کوئ فال نکالی جاتی۔ اس پہ مندوبین کا متفق ہونا مشکل ہوتا۔ اس میں ہمارے فارسی شاعرحافظ صاحب یا حنا ربانی کھر کا کوئ قصور نہیں، نہ ہی شرکاء کا۔ اصل میں خستہ حال بیاض کا پرنٹ صحیح نہ تھا۔ جیسے ہی صفحہ پلٹو،ٹوٹنے لگتا۔ ارادہ انہیں جہنم رسید کرنے کا، صفحہ دیوان کا۔ اس لئے یہ دقّت پیدا ہوئ۔
اب جو فال نکلی ہے اسکا مطلب بھی لوگ ایکدوسرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں۔ حافظ صاحب تو آکر بتانے سے رہے۔ یہ الگ بات کہ کوئ روحانی شخصیت ان سے یہ راز اگلوا لے۔  مردوں کو بلانے کے روحانی طریقے بھی ہوتے ہیں جس میں وہ خاموشی سے اٹھ آتے ہیں ہمیشہ گڑا مردہ کھود کر نہیں نکالتے۔ شرط یہ ہوتی ہے کہ مردے کو واپس بھیجنے کا وظیفہ بھی آنا چاہئیے۔ توقع ہے کہ یا تو ہمارے امریکی مہربان یہ وظیفہ جانتے ہونگے یا پھر ہمارے سالار۔ واپس کس کا مردہ جائے گا، وہی جو آیا تھا۔ آپ سمجھے حافظ صاحب کا، نہیں انکا صرف دیوان کام کا ہے۔
حافظ صاحب کو مرے ہوئے سات سو سال ہو رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں اپنا دیوان اب یاد بھی ہوگا کہ نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سن کر ہی بھونچکا رہ جائیں کہ حسین چہروں کو چھوڑ کر لوگ انکے دیوان سے یہ کام لیتے ہیں۔ حافظ صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں رکتی ہوں، ہم دراصل آل پارٹیز کانفرنس پہ بات کر رہے تھے۔ یہ حافظ صاحب خدا جانے کیوں آگئے۔
قوم کو اس کانفرنس سے بڑی امیدیں تھیں۔ خود ہم بھی کچن کی چھریاں تیز کر کے بیٹھے تھے۔ جبکہ ادھر لاکھوں سیلاب زدگان کہہ رہے تھے کہ ان چھریوں کی میخیں بنوا لو جن میں ہمارے خیمے گڑ جائیں گے۔ لیکن ہم نے کہا نہیں۔ ہم اس موقع پہ فوج کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اور سارا دن اقبال اور فیض کو حفظ کرتے رہے۔ جنگ کے دنوں میں قوم کے عظیم سپوت سامنے آتے ہیں اور امن کے دنوں میں بدترین۔ اگر عظیم بننے کا ایک موقعہ ہاتھ لگ رہا ہے تو بہتی گنگا میں ہاتھ کیوں نہ ڈالیں۔
ادھر  دائیں بازو والے بھی نعرہ ء تکبیر کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ مرگ انبوہ جشنے دارد۔ سنا ہے پرنٹنگ پریس میں کفار سے جنگ کے نعرے تک پرنٹ ہو چکے تھے کہ اس دفعہ تو ہوا ہی ہوا۔ ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق۔


لیکن کانفرنس ختم ہو گئ۔ اب سب ایکدوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کانفرنس کی متفقہ قرارداد کا مطلب کیا ہے؟ آیا اس سے امریکہ خوفزدہ ہوگا یا نہیں۔  اپنا اپنا ہوتا  ہے۔ کیا طالبان کو منایا جارہا ہے یا امریکہ کو۔  یہ کیا بات ہوئ، کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ۔ اگر امریکہ سے جنگ نہ کی تو پھر کیا جیا۔ خوشحال پاکستانی کیسے جنگ لڑنے کی ہمت کر سکتے ہیں، فوج کو بس اتنا ہی ڈرامہ مقصود تھا، اب ڈالرز صراط مستقیم پہ چلیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
کوئ میری رائے جاننا چاہتا ہے۔ غالب کہہ گئے ہیں کہ آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں۔ اور میر کی تقلید میں یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ شعر کی تشریح سے پہلے سارے استعارے سمجھنا ضروری ہیں۔ اس میں باغ سے غالباً امریکہ  مراد ہے اور گل سے کون ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم۔ یوں تشریح کا سبق تو بند ہوا۔
  گھر کے ایک  پرانے کیسٹ پلیئر سے بچ رہ جانے والی واحد کیسٹ بر آمد ہوئ۔ لگا کر دیکھا تو بج بھی رہی تھی۔ رفیع کے گانے ہیں۔ ایک پرانا گانا بھی ہے۔ کچھ گانے جب بھی بجتے ہیں انکی آب و تاب میں کمی نہیں آتی۔ تال ایسا میل کرتا ہے کہ ہر زمانے کے لئے زندہ، ہر نسل کے لئے کار آمد۔ بعض سیاسی گانے بھی یہی تاثیر رکھتے ہیں۔ جب بجتے ہیں نئ امید اور پرانے نتائج لاتے ہیں۔ یہ گانا انکی نذر جو اعلان جنگ کے منتظر رہے۔


 

Sunday, September 25, 2011

قصہ ایک گرم دن کا

ابھی ہمیں وہاں پہنچے کچھ دن  ہوئے تھے کہ ٹورنٹو میں ایسی گرمی پڑی کہ کہ ڈاءون ٹاءون یعنی وہاں کا آئ آئ چندریگر روڈ سنسان ہو گیا۔ نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ یہ سناٹا اس خوف کی وجہ سے تھا جو وہاں کے محکمہء موسمیات نے پھیلایا تھا۔ اس میں چنداں حیرت نہیں ہونی چاہئیے کہ وہاں یہ کام محکمہ ء موسمیات کرتا ہے۔  نہ معلوم کیوں وہاں کے محکمہء موسمیات کی موسم کے بارے میں خبریں ایک دم درست نکل آتی ہیں۔ لگتا ہے کوئ بڑا پہنچا ہوا پیر پکڑ رکھا ہے انہوں نے۔
خوف کے طاری ہونے کی وجہ یہ  ہے کہ مسلسل آسائیشوں میں رہنے  اور خوف سے پاک زندگی گذارنے کی وجہ سے ان مغربی ممالک کے لوگوں کے دل بہت چھوٹے اور ہمت بچپن سے ہی بوڑھی ہوتی ہے۔ جب شاہینوں کے بجائے ممولے پیدا ہوں تو یہی ہوا کرتا ہے۔ کندن تو بھٹی میں تپنے کے بعد ہی بنتا ہے۔ جبکہ یہاں لوگوں کی اکثریت مر کر ہی بھٹی کا منہ دیکھ پاتی ہے۔ اس حالت میں جب تمام اعضاء جواب دے چکے ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنا بھی کوئ دیکھنا ہے۔
لیکن رکئِے، ہمارا شاعر کہتا  ہے کہ ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر، ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئ۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج تک کوئ ایسی بیسٹ سیلر بک نہیں دیکھی جو مرنے کے بعد لکھی گئ ہو۔ اس کا اعزاز بھی صرف ہمیں حاصل ہوا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا جیسی تہلکہ آمیز کتاب ہمارے ہی لوگوں نے پیش کی۔ مغرب دیکھ لے روحانیت میں کون بڑھا ہوا ہے وہ کہ ہم۔
اپنے فخر کے قصے دوہرانے کو کئ نسلیں باقی ہیں، اس لئےمیں خلاف طبیعت قصہ مختصر کرتی ہوں۔ ایک ایسی گرمی میں جبکہ ٹورنٹو میں چیلیں تک اپنے گھونسلوں میں ایئر کنڈیشنڈ لگوا چکی تھیں کہ کینیڈا میں بجلی کی بڑی فراوانی ہے اسکی بہتات کی وجہ سے کئ بجلی پیدا کرنے والے اسٹیشنز بند پڑے ہوئے ہیں۔ جب شام کو لُو چلنا بند ہوئ۔ میں نے کچن کا کچرا سمیٹا اور اسے گھر کے باہر موجود ڈرم میں ڈالنے کے لئے آئ۔ 
ان ڈرمز میں پورے ہفتے کچرا جمع کرنا پڑتا ہے۔  کھانے پینے کی چیزیں ایک  الگ ڈرم میں اور کاغذ گلاس قماش کی چیزیں دوسرے ڈرم میں۔ ہر علاقے کی ایک تاریخ ہوتی ہے اس تاریخ کو وہاں سے کچرا اٹھایا جاتا ہے۔ مکینوں کو یہ کچرے کا ڈرم روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پہ رکھنا ہوتا ہے تاکہ کوڑا اٹھانے والا ٹرک بآسانی اسے اٹھا لے۔ مایا کے تین روپ جبکہ کاہلی کے سو روپ ہوتے ہیں جو ایسے ہی ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے اوپر کام کا زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر انتظامیہ آرام سے پڑی مکھیاں مارتی ہیں اور مکھیاں مارنے میں اپنی ان کوششوں کو بیان کرنے سے نہیں چوکتی۔ ڈھٹائ کی بھی حد ہوتی ہے۔ مگرنہیں صاحب، یہاں  بے حیائ ہی نہیں ڈھٹائ کی بھی ساری حدیں پار ہو چکی ہیں۔ اسی لئے تو کمبخت مارے اپنا ویزہ آسانی سے نہیں دیتے کہ ہماری ساری پول پٹی کھل کر دنیا کے سامنے آجائے گی۔
اچھا انکی غیبت ایک طرف۔ میں نے پہلا ڈرم کھولا تو اس میں کاغذ  اور گتے موجود تھے۔ سوچا اسی میں ڈالدوں۔ کاہل قوم کچھ تو کیا کرے اور کچھ نہیں تو کھانے پینے کی چیزوں سے کاغذ، گتے اور ٹن الگ کیا کرے۔ پھر ان بھتّوں کا خیال آِیا جو ایسی تمام سبز سوچوں پہ پابندی لگانے کے لئے موجود ہیں انہیں یہاں فائن کہتے ہیں۔ سو دوسرے ڈرم کو کھولا اور ابھی اس میں ڈالنے کا قصد کیا ہی تھا کہ اعصاب منعکسہ نے ایک زور کا جھٹکا دیا اور ہاتھ کیا میں خود ایک فٹ پیچھے ہٹ گئ۔ ڈرم میں تو کوئ عجیب ساجانور دبک کر بیٹھا ہوا تھا۔


یہاں گلہریاں بڑی چھلانگیں لگاتی پھرتی ہیں وہ بھی خوب بڑی بڑی۔ لیکن یہ جانور گلہری سے بڑا تھا۔ بلی یہ ہو نہیں سکتی کیونکہ یہاں بلی اور کتے  کو وہ آزادی نہیں جو ہم نے انہیں دے رکھی ہے۔ بعضے حاسدی تو کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں ایوان حکومت تک میں بٹھا رکھا ہے۔ ویسے یہ قومیں ان جانوروں سے محبت کے بڑے دعوے کرتی ہیں۔ اب کیا کہیں ایسے کھُلے جھوٹ پہ تو تُف بھیجنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔
اچھا تو وہ جانور بلی بھی نہیں تھا، پھر دھیان آیا کہ رات ہی کوئ بتا رہا تھا کہ جلا ہوئے پزا  ڈرم کے اوپر رکھ دیں یہاں ایک رکون آتا ہے رات کو وہ کھالے گا۔ یہ رکون تھا اور اسی چکر میں آیا، اس کا شاید توازن خراب ہوا اور وہ اس میں گر گیا۔ ڈرم خاصہ بڑا تھا اس لئے وہ باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے کینیڈا میں بیٹھ کر اپنی سازشی فطرت کو تسکین دینے کے لئے  پوری پاکستانی ذہانت اس واقعے کو سمجھنے میں لگائ۔ امریکہ کا ہاتھ اس میں ہو تو ہو طالبان کا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس واقعے میں نہ اب تک کوئ مرا نہ اسکی ذمہ داری انہوں نے لی ۔ امریکہ کے پڑوس میں رہتے ہوئے امریکہ مخالف جذبات کو کچلا تو ہمیں صرف ایک ہی بات سمجھ میں آئ کہ رکون کو ان حالات سے نبٹنے کی تربیت کما حقہ نہیں دی گئ۔ 
اس سے اچھے تو ہمارے آزاد کتے بلیاں ہیں۔ ایسی تربیت ہے کہ اول تو دن کے وقت روڈ کراس نہیں کرتے رات کو کرتے ہیں۔ اور رات کو بھی خاصی احتیاط سے کام لیتے ہیں یوں وہ بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں جس رفتار سے ہم۔ سڑک پہ ہفتہ دس دن میں کسی بلی یا کتے کی سو بار کی کچلی لاش نظر آئے تو ہم اسے ایکسیڈنٹ کہتے ہیں۔ حادثہ نہیں۔ حادثے کی پرورش میں وقت برسوں لگاتا ہے جبکہ ایکسیڈنٹ فی الفور ہو جاتا ہے۔ یہاں کیمسٹری کا ایک قانون یاد آرہا ہے۔ لیکن ہم اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ رکون کی تربیت کیمسٹری پڑھانے سے نہیں شروع ہو سکتی۔
ہم نے فوراً گھر کے اندر داخل ہو کر ڈرم میں رکون کی موجودگی کا اسی طرح اعلان کیا جس طرح مسجد سے  گمشدہ بچہ ملنے کی اطلاع دی جاتی ہے یعنی گلا پھاڑ کر۔ اندر موجود، پہلے کے پاکستانی اور اب کے کینیڈیئنز میں ایک سراسیمگی پھیل گئ۔ اب کیا ہوگا؟
اب تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ خمار گندم ہی نہیں ہوتا ہر جگہ کی گندم کے اور بھی اثرات ہوتے ہیں جو طبیعتوں پہ انداز ہوتے ہیں اور اس ادا سے کہ گویا ہمیشہ سے ایسے ہی تھے۔ دروازہ بند کر دیا آپ نے، رکون جارحیت پسند ہوتے ہیں؟ خاتون خانہ نے ہمیں  اطلاع دی یعنی کہ ایک پاکستانی کو۔ اسے ہم نے اپنے اوپر یعنی پاکستان پہ حملہ سمجھا۔   'ڈرم کا دروازہ؟ نہیں کیا، رکون بہت بد حال ہو رہا  تھا، میرا تو خیال ہے کی چالیس ڈگری میں ڈرم کے اندر بیک ہو چکا ہے اس نے توایک مسکین سی نظر کی یہ بتانے کو کہ وہ زندہ ہے اور دوبارہ منہ دبا لیا'۔ ہو سکتا ہے کہ اپنے سامنے ایک پاکستانی جارح کو دیکھ کراسکا  یہ حشر ہوا ہو۔ کیونکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ رکون کو اپنا سبز پاسپورٹ دکھانے کا ہمیں ذرا خیال تک نہیں آیا تھا۔
نہیں گھر کا دروازہ؟ 'گھر کا دروازہ، کیوں نہ کھلا چھوڑ دیں ہمیں معلوم ہے اس وقت رکون امریکہ بنا ہوا ہے۔ اس کے پاس نہ طاقت ہے نہ وقت  کہ وہ کھلے دروازوں کو جھانکنے کی زحمت کرے۔ قیامت،  سمجھتی ہیں آپ، قیامت کا دن۔ آج ٹورنٹو میں اڑتیس ڈگری درجہ ء حرارت تھا وہ بھی اڑتالیس سال کے بعد۔ اور آج ہر کینیڈیئن نے جو ٹورنٹو میں رہتا ہے کم از کم اڑتیس دفعہ یہ جملہ کہا ہوگا، کتنی گرمی ہے، اٹس ٹو ہاٹ۔ یہ ہے تو اڑتیس ڈگری لیکن محکمہ ء موسمیات نے کہا ہے کہ مرطوب نہ ہونے کی وجہ اڑتالیس ڈگری محسوس ہو گا'۔ میں نے ایک کراچی والے نے اس میں جتنی حقارت ڈال سکتا تھا ڈال کر کہا۔ 
ہم نے آج تک گرمی کو یا تو درجہ ء حرارت میں ناپا یا محسوس کیا۔ کبھی بیان کوبڑھاوا دینے کے لئے ان دونوں کا اختلاط نہیں کروایا۔ ہمیشہ ہر سال تاریخی گرمیوں سے نبٹنے کے بعد ہم نے فخر کیا کہ دیکھا اسے بھی گذار آئے۔ یہ نہیں کہ پہلے سے بے سدھ پڑ گئے محکمہ ء موسمیات پہ۔
طے یہ پایا کہ صاحب خانہ کے آنے کا انتظار کیا جائے۔ اگر اس وقت تک رکون نکلنے میں کامیاب نہ ہوا تو صاحب خانہ کو معلوم ہے کہ گھر میں ایک بڑا ڈنڈا کہاں ہے وہ اس سے ڈرم کو ٹیڑھا کر دیں گے اور اس طرح رکون کے بھاگنے کی کچھ سبیل پیدا ہو گی۔
کچھ منٹ گذرے ہونگے کہ وہ آگئے۔ ڈرم ٹیڑھا ہوا اور رکون اس میں سے اس طرح نکل بھاگا کہ تمام تماشائ یہ منظر دیکھنے کی کوشش ہی کرتے رہ گئے۔
گھر میں کچھ سکون ہوا۔ پورے ٹورنٹو میں یہ واحد گھر تھا جہان ایک دن میں دو مصیبتیں نازل ہوئیں۔ ایک گرمی اور دوسرے رکون۔
اب ہم جادو ٹی و ی پہ بیٹھے وطن عزیز میں اینکرز کی پھیلائ گرمی کا زور دیکھ رہے تھے کہ ایک عزیزہ کی آمد ہوئ۔ بچوں نے انہیں دروازے پہ ہی آج کے دلچسپ قصے کی رننگ کمنٹری سنا ڈالی۔ جائے ایکسیڈنٹ کا معائینہ بھی کر وا ڈالا۔ واقعات کی ترتیب اور گہرائ کو جان کر جب وہ گھر میں داخل ہوئ تو پھٹ پڑیں۔
یہ آپ لوگوں نے کیا کیا؟ رکون کو بھگا دیا؟ تو پھر ہم کیا کرتے؟ میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ '۹۱۱ پہ اطلاع کرتے ناں اور ٹی وی والوں کو فون کر دیتے۔ وہ آتے اس سارے واقعے کی فوٹیج بنتی اور اس وقت ہم یہ جادو دیکھنے کے بجائے' انہوں نے  ٹی وی پہ نظر آنے والے پاکستانی چہروں کو بغض سے دیکھتے ہوئے کہا۔ 'ہم اس وقت ٹی وی پہ اپنی فوٹیج دیکھ رہے ہوتے ۔ ہم کیا اس وقت پورا ٹورنٹو اسے دیکھ رہا ہوتا کہ ہم نے کس ذمہ داری سے ایک رکون کی جان بچائ. لوکل میڈیا پہ تاریخی گرمی کے بعد یہ دوسری سب سے بڑی خبر ہوتی جو مسلسل دوہرائ جارہی ہوتی'۔
ہاں، ہم نے سوچا بات تو ٹھیک ہے۔ اس رکون کو تو اب تک یاد بھی نہ ہوگا کہ کہ ہم نے اسکی جان بچائ۔ رکون تو رکون ہاتھی بھی ایسی انسانی نوازشیں یاد نہیں رکھتا جبکہ کہتے ہیں کہ ہاتھی کی یادداشت بڑی اچھی ہوتی ہے۔ ہمارے سیاستداں تک یاد نہیں رکھتے کہ کون انہیں مسند اقتدار پہ لے کر آیا۔ یہ فوٹیج بنتی تو کم از کم لوگوں کو تو یاد رہتا، کینیڈا کے لوگوں کو۔
پھر یہاں وطن میں چینلز کی بھرمار ہے مگر آج تک کسی پہ بھولے سے بھی ہماری باری نہیں آئ۔ مرنے والوں کی ہی باری آتی ہے یا مارنے والوں کی ہم چونکہ کسی میں شامل نہیں اس لئے محروم ہیں۔ آنکھ ایک نہیں کجلوٹیاں نو نو۔
لیکن عین اسی لمحے ہمیں کینیڈیئن میڈیا کی غربت اور عسرت پہ افسوس ہوا۔ انکے نظام  اور سیاستدانوں کی کاہلی  اور عاقبت نا اندیشی پہ حیرت بھی ہوئ۔ میڈیا، ریاست کے پانچویں ستون کو انہوں نے رکونزکے متعلق خبریں بنانے پہ لگایا ہوا ہے۔ چھی چھی۔ استغفراللہ۔
ان سے تو ہم ہی اچھے انسانوں  کو انسانوں کے پیچھے اور حیوانوں کو حیوانوں کے پیچھے ہی لگایا ہوا ہے کبھی کبھی حیوان انسان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ تو یہ انکا پاگل پن ہوتا ہے میرا مطلب انسان کا کہ وہ حیوان کے سامنے آتا کیوں ہے۔ لیکن کیا  کبھی ایسا سنا کہ انسان حیوان کے پیچھے۔ ایک انسان کی یہ تذلیل صرف انہی ملکوں میں ممکن ہے۔ بس یہ سر زمین ایسے ہی اوٹ پٹانگ واقعات کی زمین ہے اس لئے لوگ کہتے ہیں کہ ایک بار دیکھا ہے دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے۔   

Friday, June 24, 2011

جلوے کا حلوہ

بدلتے وقت کے ساتھ الفاظ اپنے معنی بدل دیتے ہیں ۔ الفاظ ایکسٹرنل یو ایس بی ہوتے ہیں۔ یہ وہ انسانی عضو ہوتے ہیں  جو جسم کے ساتھ جسمانی طور پہ منسلک نہیں ہوتے۔ سو انسان کی ذہنی سوچ کے ساتھ یہ بھی بظاہر وہی ہوتے ہیں مگر معنوں میں وہ نہیں رہتے۔ مگر عطاءالحق قاسمی صاحب شاید اس سے واقف نہیں۔ اس لئے جب صدر زرداری نواز شریف کو مولوی  نواز شریف کہتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ کیونکہ نواز شریف شراب نہیں پیتے، ڈانس نہیں کر سکتے اور خواتین کے ساتھ تعلقات نہیں بناتے اس لئے زرداری نے انہیں مولوی کہا ہوگا۔ عطاء صاحب الفاظوں سے پیچھے رہ گئے۔ در حقیقت عطاء الحق قاسمی صاحب، حرم کا مطلب بھی بھول گئے ہیں۔ حالانکہ یہ اب تک اپنے اصل معنوں کے ساتھ رائج ہے۔
ڈانس تو پپو سالا بھی نہیں کر سکتا ، لیکن وہ مولوی پپو سالا نہیں کہلاتا۔  شراب پینے والے کہتے ہیں کہ بات شراب نہ پینے میں نہیں  بلکہ پی کر نہ لڑکھڑانے میں ہے۔  اب کیا کیا جائے، وہ بن پئیے ہی  بد مست ہاتھی بنے ہوءے ہیں پی لیں تو خدا جانے کیا حشر ڈھا دیں۔ گمان ہے کہ اکثر لوگوں کو گناہ کرنے پہ عذاب ہوتا ہے اور کچھ کو نہ کرنے پہ۔ خواتین کے متعلق میں کچھ نہیں کہتی۔ ایک انگریز خاتون صحافی نے بہت کچھ کہا ہے مگر سب بکواس ہوگی۔ خواتین ایسی باتیں مردوں کی نفرت میں کہتی ہیں۔ خاص طور پہ گوری عورتیں تو پاکستانی مرد رہ نماءووں کی کم آمیزی کا بدلہ اسی طرح لیتی ہیں۔
صدر زرداری نے اپنے تازہ بیان سے قوم کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے اور لگتا ہے کہ ہر ایک دو تصویریں لے کر بیٹھا ہوا ہے اور مقامات فرق معلوم کر رہا ہے۔ نواز شریف اور مولوی نواز شریف میں۔ حالانکہ آج کل نواز شریف اس حالت میں ہیں کہ مقامات آہ فغاں بآسانی معلوم کئے جا سکتے ہیں۔ مگر یہ تو ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستانی کوئ آسان کام نہیں کرتے۔ اگر قسمت کوئ آسان کام ہمارے اوپر ٹھونس ہی دے تو کوشش کرتے ہیں کہ  اسے پہلے مشکل بنادیا جائے پھر ہم اس سلسلے میں کچھ کریں۔ لوگ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں ہم گھوڑوں میں بحر ظلمات نکالتے ہیں ، اور پھر بھی کوئ نعرہ ہائے تحسین بلند نہ کرے تو اسے گھوڑا بلکہ گدھا بنا دیتے ہیں۔
خیر، تازہ ترین سوال یہ ہے کہ صدر زرداری نے مولوی نواز شریف کا لقب انہیں کیوں دیا؟
کیا اس لئے کہ ایک زمانے میں وہ بڑے ہو کر  وزیر اعظم نہیں امیر المومنین بننا چاہتے تھے۔
اس لئے کہ وہ ہمارے مقدس مقامات پہ اتنا عرصہ گذار چکے ہیں اور وہاں انکے اتنے قلبی تعلقات ہیں کہ انہیں اب مولوی نہ کہا جائے تو اس ناہنجار قوم پہ ہتک عزت کا دعوی کر دینا چاہئیے۔
اس لئے کہ  وہ رائے ونڈ جیسے مقدس مقام کے پہلو میں اپنے فارم ہاءوس میں رہتے ہیں۔ اس فارم ہاءوس کو کچھ بد طینت بادشاہ کا محل کہتے ہیں  جبکہ وہ نہییں جانتے کہ فارم ہاءوس پہ تو ٹیکس بھی واجب نہیں ہوتا۔ اور مولوی صاحب کو بالآخر جنت میں جانا ہے تو دنیا میں کیا وہ جنت کا مزہ چکھ نہیں سکتے۔ جبکہ کسی سُرخے شاعر نے یہ مسئلہ بھی کھڑا کر رکھا ہے کہ
آپکو جنت اور مجھے دوزخ عطا ہوگی
بس اتنی سی بات پہ کیا محشر بپا ہوگی
ایسے عقل کے اندھوں کے لئے تو محشر دنیا میں ہی بپا ہونی چاہئیے۔ یہ ہے نئے مولوی صاحبان کا ایجینڈا بمعہ ایک ڈنڈا۔
 اچھا تو کیا اس لئے کہ وہ مرد مومن مرد حق  مولوی ضیاءالحق کی ان سائینسی کوششوں کا کامیاب نتیجہ ہیں جس میں وہ ایک ماں اور ٹیسٹ ٹیوب کے بغیر ایک نظریاتی اولاد پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انکی اس دانش سے حیران ہو کر بعض ان دیکھی قوتوں کو انکا جہاز فضا میں پھاڑنا پڑا۔ ناکام لوگ ، کامیاب لوگوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھتے ہیں۔
کیا اس لئے کہ وہ اپنے آقائے سیاست کے فلسفے اور باقیات کو کمال صبر اور جراءت سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ اور انکی وفاداری کا ثبوت یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سالمیت تو کیا خود پاکستان کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔
میں ان پیش کئے گئے نظریوں سے کسی طور مطمئن نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئ باتیں ہیں جن پہ کسی کو مولوی کہہ دیا جائے۔ میں تو آج تک مولوی، حلوے وغیرہ سے شغف رکھنے والے اس بے ضرر شخص کو سمجھتی رہی جس سے اگر کوئ خار کھاتا ہے تو وہ بچے جو قرآن ناظرہ کی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اماں مولوی صاحب کو حلوہ بنا کر بھیجتی ہیں اور مولوی صاحب ڈنڈے یا پائپ سے بھی پٹائ لگا دیں تو اماں جان فرط عقیدت سے انکے دست و بازو کو دیکھتی ہیں۔ کیا محنت کی ہے میرے بچے پہ۔ ماں صدقے ، ماں واری۔ اور مزید حلوہ نذر کرتی ہیں۔ مولوی صاحب  اپنی سادگی کے باعث حلوے اور عقیدت سے بہلے رہتے تھے۔ ادھر بچے کے سینے میں انتقام کا ایک الاءو روشن رہتا ہے اور حلوے کی محبت۔ یہ روائیتی مولوی صاحب تھے اور یہی روائیتی مولوی صاحب بنانے کا طریقہ۔
مگر اب لگتا ہے امتداد زمانہ سے مولوی کے معنی تبدیل ہو گئے ہیں۔


سو کچھ کا کہنا ہے کہ بچپن میں مولوی صاحب کے ڈنڈے کو زرداری صاحب اب تک نہیں بھولے۔ اور اس کا تعلق کچھ کچھ اڈیپس کمپلیکس سے ملتا ہے۔ فرائڈ کو کیونکہ مولوی صاحب میسر نہیں تھے اس لئے وہ اسکا کوئ مناسب سا نام نہ رکھ پایا۔ مولوی صاحب کا ڈنڈا، طالب علم کی پیٹھ اور اماں جان کا حلوہ وہ بھی مولوی صاحب کے لئے۔ اس مثلث کے کیا اتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ اس پہ تو ایک فلم بن سکتی ہے۔
کوئ کہہ رہا تھا کہ مولوی اب ایک شخص نہیں کیفیت کا نام ہے. یہ کچھ خاص لوگوں پہ جن میں خاص جینیاتی ریسپٹر ہوتے ہیں کسی بھی وقت طاری ہو سکتی ہے۔ اس وقت آپکو پتہ چلتا ہے کہ ایسے ویسے لوگ کیسے کیسے ہو گئے۔ یہ عجیب اثر ہے کہ اس کیفیت میں  لوگ ہر قسم کی غیر اسلامی حرکات اور سکنات کے لئے اپنے آپکو آمادہ پاتے ہیں۔  لیکن منہ سے اسلام اسلام ہی نکلتا ہے۔
کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ مرد مومن اپنے کامیاب تجربے کے بعد اسکے سائینسی رازوں سے کسی مرد ناداں کو مطلع کر گئے تھے۔ وہی والے جنکے متعلق اقبال بہت عرصہ پہلے با خبر کر چکے تھے کہ مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بے اثر۔ لیکن اس وقت بھی ہماری انٹیلیجنس ایجنسیز کے یہی لچھن تھے۔  اقبال نےخفگی میں کہا بھی کہ تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن۔ انٹیلیجنس والوں نے اسے پیش سے پڑھکر سازشوں کے جال بننا شروع کر دئیے۔ اور اپنے پرائے ہر ایک کے لئے بُن ڈالے۔ آجکل اپنے والے ادھیڑنے کی کوششوں میں ہیں۔ سو اسکے بعد  عام لوگوں میں مولوی کیفیت کو ابھارنا اور پھیلانا  نیت اور فتور نیت کے ساتھ جڑ گیا۔ جب جب نیت میں فتور آئے کوئ شخص تب تب مولوی بن جاتا ہے۔ 
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فوج کے خلاف محاذ آرائ کی وجہ سے انہیں یہ عظیم لقب ملا۔ اگرچہ کہ ہمیں اب تشویش ہو چلی ہے کہ ایک تو طالبان کے لئے نرم گرم جذبہ رکھنے پہ ہی نواز شریف کو لوگوں کے طعنے سننے پڑ رہے تھے اور حالت یہ تھی کہ جب سے تونے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے۔ وہاں نواز شریف نے یقیناً کسی بد خواہ کے کہنے پہ فوج سے اڑنگا لے لیا۔ اگر انہوں نے کبھی دھوبی کے کتے کی زندگی دیکھی ہوتی تو اس  مرحلہء سودوزیاں پہ انہیں سمجھنے کی آسانی بہم ہوتی ہے۔  یہ فارم ہاءوس میں رہنے کا نقصان ہے۔
دوسری طرف وہ لوگ جو  طالبان اور فوج کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے رہے اور بیک وقت ان دونوں کی زلف کے اسیر ہیں اور اس وجہ سے نواز شریف کو بھی عزیز رکھتے تھے۔ اب  انکے لئے مرحلہ ء سخت ہے کسے عزیز رکھیں کس کو مستعفی چاہیں۔  
لیکن بات وہیں آکر رک جاتی ہے کہ یہ تمغہ  نواز شریف کو کیوں دیا گیا ہے۔ نورجہاں یا معین اختر کو کیوں نہیں دیا گیا۔
کچھ اور کھوجی، اسکے تانے بانے پنجابی طالبان کی پنجاب حکومت کے ساتھ خوشگوار تعلقات میں دیکھتے ہیں۔ یہ بری بات ہے۔ حاسدی ہی ایسا کر سکتے ہیں و من شرّ حاسد اذا حسد۔ جذبہ ء مفاہمت کو عام کرنے والے لوگوں کو یہ بات کرنا زیبا نہیں۔
کچھ اور لوگ اسکی وجہ مفتی رانا ثناءاللہ کو گردانتے ہیں۔ یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر۔ اس پہ رانا ثناء اللہ  صاحب کے عقیدت مند مجھ سے ناراض نہ ہو جائیں میں نے انہیں قطعاً بندر نہیں کہا۔ یہ محاورہ بنانے والے کی نیت کی خرابی ہے۔ وہ ہر مسکین کو بندر سمجھانا چاہتا ہے۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک ایسا مفتی جو لوگوں کے واجب القتل ہونے پہ فتوی دینے کو تیار رہتا ہو۔ اور قتل ہو بھی جاتا ہو تو اس کا گرو تو مولوی ہی کہلائے گا۔ زرداری صاحب، سلمان تاثیر کا غم کھائے بیٹھے تھے اور ابھی رانا ثناء اللہ  کے فتوے اور سلمان تاثیر کے قتل کے مابین گتھیاں سلجھ بھی نہ پائں کہ رانا ثناء اللہ نے اس دفعہ بابر اعون کو بھی واجب القتل قرار دے دیا۔ بابر اعوان صاحب کا نہیں معلوم کس کھوہ میں بیٹھے ہیں البتہ رانا ثناء اللہ سنا ہے مونچھوں کی اصلی گھی سے مالش کراتے ہیں۔ مونچھیں ہوں تو رانا ثناء اللہ جیسی ہوں ورنہ نہ ہوں۔
دیکھا آپ نے حلوہ کھانے والے مولوی صاحب، خدا غارت کرے زمانے کی بد چلنی وغیرہ کو کہ  قتل وغیرہ سے بھی پہچانے جانے لگے ہیں۔ حلوے سے اٹھنے والے مولوی صاحب کا خمیر اب خدائ جلوے کے برابر ہو چکا ہے۔ جسکے بارے میں خدا کہتا ہے کہ تاب نہ لا سکو گے ہمارے جلوے کی۔
عطاء الحق قاسمی صاحب، نے آخر میں صدر زرداری کی اس تقریر کو غیر صدارتی قرار دیا ہے۔ میں اس سے اتفاق کرتی ہوں۔ صدر زرداری کو اسکا حل ، حلوے میں نکالنا چاہئیے تھا جلوے میں نہیں۔ ہو سکتا ہے مولوی صاحب کی یادداشت کام کرنے لگ جاتی۔ لیکن ایسا ہوتا تو عطاء الحق قاسمی جیسا سینیئر قلم کار اور مجھ جیسا نو آموز لکھنے والا  کس چیز کے متعلق لکھتے۔  انہی کے دم سے ہیں آباد یہ قلم کے مے خانے۔ یہ مصرعہ ابھی تخلیق کیا ہے۔ میں اسکا دوسرا مصرعہ جوڑتی ہوں۔ آپ حلوہ  سوچئیے اور قسمت میں ہو تو جلوہ۔

Sunday, June 5, 2011

دروغ دروغ

کہتے ہیں جھوٹ کے پاءوں نہیں ہوتے اس لئے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاتا لیکن کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ ایک سچ اپنے تسمے باندھ ہی رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ ساری دنیا کی سیر کر کے آجاتا ہے۔ اب ایمانداری سے بتائیے آپکو کونسا کنکشن پسند آئے گا۔
جھوٹ بولا ، بنایا یا بَکا ہی نہیں جاتا بلکہ پکڑا بھی جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگ اسے گھر پہنچا کر بڑا خوش ہوتے ہیں اور ہرجگہ سینہ پھلائے پھرتے ہیں کہ جھوٹے کو اسکے گھر تک پہنچایا، جھوٹا نہ ہوا محلے کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو گیا۔
خوبصورت لوگ وہ بھی جنس مخالف کے اگر جھوٹ بولیں تو بالکل برا نہیں لگتا۔ خواتین کے معاملے میں جتنی کم عمر ہوں جھوٹ بولتے ہوئے اتنی حسین لگتی ہیں۔ مشرقی خواتین کو ماچو مردوں کا جھوٹ پسند آتا ہے۔ منمناتے ہوئے جھوٹے سے ڈپارٹمنٹ کے پیچھے والی دوکان سے صرف چھولوں کی پلیٹ منگوائ جا سکتی ہے۔ وہ بھی اسی کے خرچے پہ۔
یوں
بولے تو سہی جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب و لہجہ دل آویز بہت ہے
اس ظالم اور اسکے جھوٹ پہ اردو شاعری میں دیوان کے دیوان لکھے جا چکے ہیں۔ جو لگتا ہے کہ سب کے سب جھوٹ کے پلندے ہونگے۔ لیکن شاعر انہیں نسخہ ہائے وفا کہتے ہیں۔
جھوٹ کے پتلے بھی ہوتے ہیں۔ یہ  صرف جھوٹ سے بنے ہوتے ہیں اور جھوٹ کے پل بناتے رہتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہ بولیں تو پیٹ اپھر جائے۔ انکا نہیں پل بنوانے والوں کا۔ یہ دوسروں کو اتنی آسانی سے جھوٹا بناتے ہیں کہ بننے والے کو اپنے جھوٹا ہونے پہ صداقت کا احساس ہوتا ہے۔ انکا نعرہ ہوتا ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ معلوم ہونے لگے۔ ایسے لوگ اچھے درباری موءرخ ثابت ہوتے ہیں۔ اپنے زمانے میں بڑا نام کماتے ہیں۔ مگر بعد کے زمانے کے موءرخ ان سے دشمنی دکھاتے ہیں۔ اس طرح یہ سراب کی مانند مٹ جاتے ہیں۔ یوں ایک جھوٹا موءرخ دوسرے جھوٹے موءرخ کے حق میں سم قاتل ہوتا ہے۔  اس قتل و غارت گری کے بعد  تاریخ کا مضمون پڑھنے میں آسانی بھی ہوتی ہے اور دشواری بھی۔کیوں اس لئے کہ کس کا یقیں کیجئیے کس کا نہ کیجئیے۔ لائے ہیں اسکی بزم سے یار خبر الگ الگ۔  اس لئے ہم کتابوں کے بجائے سینہ بہ سینہ اور منہ بہ منہ چلی آنے والی تاریخ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ سینہ اور منہ وہ جو ہمارے قبیلے کا ہو۔
حیران کن طور پہ، جھوٹ کے دفتر بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک عمر ہم یہی سمجھتے رہے کہ دفتر میں جھوٹ ہوتا ہے۔ دیکھا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا۔ ایسے موقعوں پہ یقین آتا ہے کہ لا علمی کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ آخر کو ہم اس آگ کے دریا کو آگ کا دریا پڑھتے ہوئے پار کر آئے۔
مگر گھبرائیے نہیں جھوٹ ایکدم خالص نہیں ہوتا زیادہ تر باتیں جھوٹ سچ کے زمرے میں آتی ہیں۔ یعنی تھوڑا سا پگلا تھوڑا سیانا۔ اسی میں عافیت ہے۔
کسی زمانے میں  لوگ باگ عاجز تھے کہ جھوٹا مرے نہ شہر پاک ہو۔ بعد میں نہ معلوم وجوہات کی بناء پہ شہر پاک کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں۔  کچھ لوگوں کو اس روایت سے اختلاف ہے کہتے ہیں کہ شہر نہیں ایک ملک تھا اور ایک نہیں سب ہی جھوٹے تھے۔   اللہ کی باتیں اللہ ہی جانے ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جھوٹے کے آگے سچا روتا ہے۔  جہاں سچا روتا ہوا واپس آتا ہے وہاں جھوٹا ہنستا ہوا نکل جاتا ہے۔
اگر آپ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹے کا منہ کالا اور سچے کا بول بالا تو  اس جھوٹ کی ناءو نہیں چل سکتی۔  اس جھوٹ کی پوٹ اس دن کھلے گی جس دن جھوٹا بات بنا لے گا اور پانی میں آگ لگا لے گا۔ اس لئے کہنے والوں نے اڑائ کہ سچے مر گئے جھوٹوں کو تاپ بھی نہ آئ۔ یہاں مرنے والوں سے میری مراد وہ صحافی سلیم شہزاد نہیں ہے، اور جھوٹے کون ہیں اس بارے میں ، میں اشارتاً بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔ جسکو ہو دین و دل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں۔
ہم اور تیری گلی سے سفر، دروغ دروغ
کہاں  دماغ ہمیں اس قدر، دروغ دروغ


وضاحت؛
اس تحریر کی انسپیریشن فیروز اللغات سے حاصل کی گئ، سچی مچی۔

Saturday, May 28, 2011

نیا پاکستان، آدھا طالبان

اگر آپ عنوان دیکھ کر یہاں آئے ہیں تو مایوسی ہوگی۔ میں اس پہ کچھ نہیں لکھ رہی۔ محض دل پشوری ہے۔ جسٹ اے مارکیٹنگ ٹِرک۔ مجھ سے پہلے بھی کچھ لوگ یہ حرکت کر چکے ہیں۔ اس لئے اس میں کوئ تخیل کی پرواز نہیں ہے۔  کوئ وعظ بھی نہیں ہے۔
اور اگر اس عنوان کے سہارے کچھ بھی پڑھنے کے لئے تیار ہیں تو یقین رکھیں کہ آج آپکو کچھ مزے کا پڑھنے کو ملے گا۔ کیونکہ آج جن صفحات میں آپکو شریک کرنا چاہ رہی ہوں۔ وہ منٹو سے متعلق ہیں۔ لکھا ہے اسے منشا یاد صاحب نے ادبی سلسلے دنیا زاد کے  بائیسویں شمارے ،  سیاہ تارہ میں یہ شائع ہوا ہے۔ اسکے ایڈیٹر ہیں جناب ڈاکٹر آصف فرخی۔
یہ مضمون اپنے اسلوب میں مزاح اور طنز رکھتا ہے۔ لیکن جس چیز کی طرف میری توجہ زیادہ گئ۔ وہ منٹو کی ایک معصوم سی فرمائیش ہے ایک چھوٹےسے ایٹم بم کی۔ کس واسطے؟
اب دیکھیں منٹو صاحب نے جس سلاست اور روانی سے یہ فرمائیش کی ہے۔ اگر میں لکھوں تو، زن آزاد، روشن خیال کافر اور پڑھی لکھی جاہل قرار پاءوں۔ اس سے اشارہ سمجھنے والے سمجھ جائیں گے کہ بڑا ادیب  آخر کیسے جنم لیتا ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں کہ انیس سو اسّی سے پہلے کا پاکستان کیا زیادہ ترقی یافتہ تھا۔  ترقی یافتہ تھا یا نہیں، البتہ  اس زمانے میں مرد لکھاریوں کا پسندیدہ موضوع خواتین کا پردہ اورانکے شرعی فرائض  نہیں ہوتے تھے۔
منٹو صاحب کا یہ خط اس میں انگریزی میں موجود ہے۔ اسکے مطابق انہیں ایک چھوٹا سا ایٹم بم چاہئیے ان مردوں کے لئے جو سڑک کے کنارے قدرتی ضرورت سے فارغ ہوتے ہیں۔ اسکے لئے وہ کیا اہتمام کرتے ہیں اسے میں اردو میں ترجمہ نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن اپنے چند نامی گرامی بلاگرز سے جنہیں ان موضوعات سے دلچسپی ہے درخواست کرونگی کہ ایک نظر ادھر بھی۔  اس کا ترجمہ وہ اپنے بلاگ پہ شائع کر سکتے ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی شہرت پہ میں کوئ دعوی نہیں کرونگی۔ اس کا اعجاز منٹو صاحب کو جاتا ہے یا منشا یاد کو۔ میری حیثیت تو محض پیمبر کی سی ہے۔ وہ بھی وہ، جسکے بارے میں شاعر کہتا ہے کہ
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
  آئیے ، پڑھتے ہیں۔
۔



Wednesday, May 25, 2011

شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں

اسی طرح رات کو ٹی وی چلا کر کسی بلاگ پہ تبصرہ لکھ رہی تھی کہ اطلاع ملی  شاہراہ فیصل پہ دھماکہ ہو گیا۔ آدھ گھنٹے بعد معلوم ہوا کہ پی این ایس مہران میں بارہ ، پندرہ دہشت گرد گھس گئے۔ س سے آگے اب ایک دنیا واقف ہے کہ کیا ہوا؟
وہ بارہ پندرہ دہشت گرد جو ایک وقت میں بیس بائیس ہو گئے تھے محض تین نکلے باقی کے سب بھاگ گئے۔ انکی تعداد دو سے لیکر آٹھ تک ہے۔ اربوں روپے مالیت کے قیمتی جہاز تباہ ہوئے۔ دس فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ 
ایک طبقہ خوش ہے کہ  فوج نے پاکستانی عوام کو جس طرح تیس سال پہلے بے وقوف بنا کر ایک جنگ میں دھکیلا، ملک کی ثقافت اور مستقبل کو  داءو پہ لگایا آج اسے خود مزہ چکھنے کو ملا۔ دوسرا طبقہ خوش ہے کہ جس طرح ہمارے مجاہدین کے خلاف مہم چلائ گئ ، انہیں شہید کیا گیا، نتیجے میں اچھا تھپڑ پڑا۔ ایک اور طبقہ خوش ہے کہ کیونکہ لگتا ہے بالآخر ہمیں امریکہ سے دو بدو لڑنے کا موقع ملے گا۔ آہا، کندن بننے کے دن آنے والے ہیں۔ کندن بننے کے بعد یقیناً اقوام عالم میں ہم سونے کے بھاءو تولے جائیں گے۔
یہاں ہمارے کچھ ساتھی ایسے ہیں جو دو سال پہلے اس خیال کے شدید مخالفین میں سے تھے کہ کراچی میں طالبان اپنی جڑیں پھیلا رہے ہیں۔ آج وہ سب خاموش ہیں۔ یہاں ہمارے کچھ ساتھی ایسے بھی ہیں جنہیں پنجابی طالبان کی اصطلاح پہ کف آنے لگتا تھا۔ آج وکی لیکس کہہ رہی ہیں کہ پنجاب میں طالبان کو جمانے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے۔ آج وہ بھی  خاموش ہیں۔
ایسے ہر واقعے کے بعد ٹی وی پہ مبصرین کی ایک بڑی فوج دستیاب ہو جاتی ہے۔
 ایسے ہی ایک ٹاک شو میں ، فوج کے ایک اعلی ریٹائرڈ افسر اتنے جذباتی ہوئے، فرمانے لگے پاکستان کی حفاظت دو قوتیں کر رہی تھیں۔ پھر کچھ سوچ کر انہوں نے اس میں ایک اور قوت کا اضافہ کیا ۔ یہ قوتیں فوج، پٹھان اورخدا ہیں۔  اندازہ ہے کہ آخر میں شامل ہونے والی قوت خدا کی ہوگی۔ لیکن پچھلے دس سال میں فوج اور پٹھان کو لڑا دیا گیا اور اس طرح ملک کے دفاع کو کمزور کر دیا گیا۔ 
چلیں فوج تو پاکستانی انسٹی ٹیوشنز میں شامل ہے۔ لیکن کسی قوم کو جاہل اور معاشی طور پہ کمزور رکھ کر۔ ملک میں بسنے والی دیگر قوموں سے الگ کر کے دین و ملت کی حفاظت پہ معمور کر دینا، کہاں تک درست ہے؟
اگر ہم اس بات کو  من وعن تسلیم کر لیں کہ دہشت گردی کی اس فضا کی ساری جڑ امریکہ ہے۔  تب بھی یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس میں جو لوگ حصہ لیتے ہیں اور استعمال ہوتے ہیں وہ ہمارے ہی لوگ ہیں۔ کیا امریکہ میں ہونے والی کسی دہشت گردی میں کوئ امریکی شامل ہوتا ہے۔ حتی کہ ممبئ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے میں بھی پاکستانی یہاں سے وہاں پہنچے۔ لیکن افسوس، ہمارے یہاں دہشت گردی کے ہر واقعے کوانجام دینے والا ایک پاکستانی ہی ہوتا ہے۔ اسکے باوجود کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں امریکی موجود ہیں یہ فریضہ سر انجام دینے کے لئے انہیں پاکستانی مل جاتے ہیں۔ آج تک کسی خود کش حملے میں کوئ امریکی نہیں پھٹا نہ ہی کوئ انڈین۔
یہ لوگ کیوں ان لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں۔ اسکی دو واضح بنیادی وجوہات ہیں۔ تعلیم کی کمی اور بے روزگاری۔ اسکی تیسری سب سے اہم وجہ ہمارے شمالی علاقہ جات کے عوام کو اس فریب میں مبتلا رکھنا کہ وہ بہادر اور جنگجو ہیں۔ ان پہ دین اور ملک کی کڑی ذمہ داری ہے۔  اس خوبی کے بعد انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، وہ بہادر ہیں بچے کے کان میں اذان سے پہلے گولی کی آواز جاتی ہے۔
کیا ایک قوم بننے کے عمل کے لئے یہی نظریات کارآمد ہوتے ہیں؟ یہ بات ہمیں آدھا پاکستان گنوانے کے بعد بھی سمجھ نہِیں آسکی۔ بنگالیوں کو انکی جسامت اور مذہب کے بارے میں  کے طعنے دینے والے ان سے شکست کھا گئے۔
آزاد علاقوں کے پشتونوں کو ایک پر فریب احساس برتری میں مبتلا کر دیا گیا۔ اور اپنی اس آزادی میں وہ کسی قانون کے پابند نہیں رہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ آزادی کے بعد انہیں پاکستان کی دیگر اقوام کے ساتھ مین اسٹریم میں لانے کی کوششیں غیر محسوس طریقے سے شروع کی جاتیں۔ تاکہ تبدیلی کا عمل آہستگی سے شروع ہو جاتا۔ لیکن کسی نے اس صورت کو تبدیل کرنے میں دلچسپی نہیں لی۔  البتہ انکی اس حالت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ اس طرح کے انہیں  کوئ دور رس  فائدہ نہیں پہنچا۔  حتی کہ جنت تک پہنچے اور پہنچانے کے لئے بھی یہی راستہ استعمال کیا گیا۔
انکی اس آزاد حیثت کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر کے جنگجو وہاں پہنچ کر اکٹھا ہوتے ہیں۔ اسلحہ کا آزادنہ استعمال ، آزادنہ تیاری، اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اگر اس میں کوئ کمی تھی تو وہ عوامی پذیرائ کی۔ وہ ماشااللہ سے پچھلے تیس سالوں کی شبانہ روز محنتوں سے انہیں ایسی ملی کہ ، تیس سال کی داستان تو ایک طرف، پچھلے دس سالوں میں پینتیس ہزار عام پاکستانیوں کے انکے ہاتھوں ختم ہونے کے باوجود ختم نہ ہوئ۔
وہ کہتے ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کروا رہا ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ امریکہ لیبیا میں تو القاعدہ کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے دوسرے ملک میں کیسے اسکے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر ایک ملک میں وہ اسکی مدد کر رہا ہے تو دوسرے ملک میں القاعدہ کے رہنما اس کے دشمن ہونگے۔
آج سے تیس سال پہلے فوج نے امریکہ کا ساتھ دینے کے لئے جہاد کا فلسفہ پھیلایا، اور جہادی کاروبار میں خوب پھلی پھولی، آج سے پندرہ سال پہلے فوج کی سرپرستی میں، امریکہ کی آشیرباد سے طالبان کو افغانستان میں داخل کیا گیا، آج سے دس سال پہلے فوج کی مرضی سے پاکستان امریکہ کی مدد کر کے جنگ کے کاروبار میں شامل ہوا۔ دراصل ہماری فوج اور امریکہ ایک دوسرے کے حلقہ ء اثر میں تین دہائیوں سے چلے آرہے ہیں۔ کس لئے ایک اپنے رسوخ کے لئے دوسرا ڈالرز کے لئے۔ 
اس لئے جب جنرل کیانی نے کہا کہ خوشحالی کے لئے عزت و وقار پہ سودانہیں کریں گے تو مجھے یہ سوچنا پڑا کہ انکا مخاطب فوج کے اعلی عہدے دار ہیں۔ عوام کے پاس نہ خوشحالی ہے نہ عزت اور نہ وقار۔
آج مرنے والا بھی شہید ہے مارنے والا بھی شہید ہے۔ پی این ایس مہران ، کراچی کے واقعے میں  دس شہید فوج کے اور تین شہید دہشت گردوں کے۔ عام پاکستانی  کنفیوز ہے۔ اسے خودکش حملہ آور کا کاز انتہائ نیک لگتا ہے۔ مرنے والوں کا بھی کوئ قصور نہیں۔ یوں شہیدوں کا قافلہ نہ تھمتا ہے نہ رکتا ہے۔

اس سارے واقعے کے بعد جس چیز سے مجھے شدید تکلیف پہنچی وہ لیفٹیننٹ یاسر عباس کی والدہ کی حکومت سے یہ درخواست کہ انکے شہید بیٹے کو نشان حیدر دیا جائے۔
یہ صحیح ہے کہ نوجوان اکلوتے بیٹے کی موت والدین کے لئے ایک بڑا سانحہ ہوتی ہے۔ لیکن ایک ایسے واقعے میں جس میں مزید نو لوگ شہید ہوئے ہیں جد وجہد کرتے ہوئےآخر وہ بھی تو کسی کے بیٹے ہیں۔ یاسر عباس شہید کا خاندان فوج کے اعلی افسران کے لوگوں پہ مشتمل ہے۔ انہیں معلوم ہوگا کہ اس راستے میں یہ کڑے امتحان آتے ہیں۔ پھر ایسی کم بات کیوں کی؟ مجھے نجانے کیوں یقین سا ہے کہ انکی والدہ کو کسی اور نے یہ درخواست کرنے کے لئے کہا ہے۔ ایک ماں کا دل اتنا چھوٹا اور خود غرض نہیں ہو سکتا کہ وہ صرف اپنے بیٹے کے بارے میں سوچے۔
ابھی اس واقعے کی انکوئری نہیں ہوئ۔ ہم تک جو میڈیا کے ذریعے اطلاعات پہنچی ہیں۔ اگر ان سب کو درست تسلیم کیا جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ اس میں فوج کے اعلی افسران کی کوتاہی شامل نہیں، اس واقعے کا باعث انکی کوتاہ اندیشی  اور نکما پن نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم سمجھ رہے ہیں اسکے بر عکس انہوں نے  دہشت گردوں کو ناکام کر دیا۔ اور انہیں لعنت ملامت کرنے کے بجائے انکا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے۔  اسکے بعد بھی اگر نشان حیدر کا مستحق کوئ شخص نظر آتا ہے تو ایک کرنل کا بیٹا یاسر عباس شہید نہیں بلکہ وہ رینجراہلکار خلیل ہے جس نے یہ جان کر بھی کہ دہشت گرد کے ہاتھوں میں گرینیڈ موجود ہیں اسے اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا۔
کیا ہم اسکی اس قربانی اور جوانمردی سے اس لئے گریز کریں کہ وہ اعلی  دولت مند خاندان سے تعلق نہیں رکھتا اور اپنی حیثیت میں کم رینک پہ تھا۔
شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں۔ مگر اسے اب رکنا چاہئیے، شہادت سے پہلے مقام بصیرت پہ۔




Wednesday, April 13, 2011

الم نشرح

ایم کیو ایم  کے پنجاب میں جلسہ کرنے کے بارے میں مختلف قیاسات جاری تھے۔ میں اتوار بازار میں سبزی لے رہی تھی جب دو دوکانداروں کو جوش و خروش سے اس پہ  بات کرتے سنا کہ آج دیکھو پنجاب میں کیا ہوتا ہے۔ دماغ پہ زور ڈالا ، پنجاب میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے جس سے کراچی کے سبزی فروشوں کو دلچسپی ہو۔
جلسہ ہو گیا۔ اس بارے میں بھی مختلف خیالات ہیں۔ کچھ کے نزدیک ناکام تھا اور کچھ اسے کامیاب کہتے ہیں۔ ناکام کہنے والوں کے نزدیک اس میں لوگوں کی تعداد اتنی نہ تھی اور کامیاب کہنے والوں کے نزدیک اس جلسے سے ایم کیو ایم نے اپنی آواز تو پنجاب تک پہنچا دی ہے اور دوسرا یہ کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں اپنے علاقوں میں محدود ہوتی جارہی ہیں اور وفاق کی ترجمانی کرنے کے بجائے لسانی طبقوں کی نمائمندگی کرتی ہوئ نظر آتی ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے کہ ایم کیو ایم اپنی جنم بھومی سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے دوسری سیاسی جماعتوں کے بر عکس  لسانی سیاست سے آغاز کیا تھا۔
میں اس جلسے کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی میں ایم کیو ایم کی اس حالیہ سرگرمی میں کوئ خاص دلچسپی رکھتی ہوں ۔ لیکن بحیثیت ایک  پاکستانی میں یہ ضرور جاننا چاہتی ہوں کہ ایم کیو ایم نے اپنے اس جلسے میں ایسی کون سی کشش  اپنے نئے متوقع ووٹروں کے لئے رکھی ہے جس سے وہ اپنے پرانے نظام کے پرانے گھاگ اور لسانی طور پہ قریب رہ نماءووں کو چھوڑ کر انکے پیچھے ہو لیں۔
سیاسی پارٹیاں ایسی کشش اپنے منشور کے ذریعے پیش کرتی ہیں۔
 پارٹی مینیفیسٹو یا منشور ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جس کی بد قسمتی سے ہمارے یہاں کوئ شناخت نہیں۔ ہماری سیاست، پارٹی منشور کے گرد گھومنے کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ سیاست کی اس طرز کی بناء پہ ہم جمہوریت کی اصل روح سے اب تک دور ہیں اور اس چلن پہ ہمیشہ دور رہیں گے۔
عوام کے ذہن کو چند رہ نماءووں کی شخصیت کا اسیر بنا لیا جاتا ہے اور اسکے بعد عوام کے  لئے ہر دروازہ بند اور رہنماءووں کے لئے ہر دروازہ کھلتا جاتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں یہ چلن شاید ذوالفقار علی بھٹو کی 'شہادت' کے بعد زیادہ واضح طور پہ شروع ہوا۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کی شخصیت  مرکز بنی رہی۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس واضح طور پہ ایک منصوبہ موجود نہ تھا کہ نئ مملکت کس طرح کام کرے گی۔ قائد اعظم موجود تھے۔  نئ مملکت کے قیام کے تقریباً تیرہ ماہ بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور اسکے ساتھ ہی ہمارا شیرازہ بکھرگیا۔
آج کے پاکستان میں ہم اس بات سے واقف نہیں کہ مختلف پارٹیز کے منشور کیا ہیں۔ لیکن ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس پارٹی کا کون سا شخص وہ طوطا ہے جس میں پارٹی کی جان ہے۔
یہ پیپلز پارٹی ہے۔ اسکے سربراہ زرداری ہیں جو سب پہ بھاری ہیں۔ انکا پلہ بھاری ہے کیونکہ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے جسکا فیصلہ ہم آسانی سے نہیں کر سکتے انکے پچھلے تمام بڑے رہنما شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہید رہنماءووں کے مزار پہ نئ سیاسی امنگیں رکھنے والے آشیرباد کے لئے حاضریاں دیتے ہیں۔ عوام اپنے ازلی مسائل کے حل کے لئے ان مزاروں پہ حاضر ہوتے ہیں شاید انہیں یاد دلاتے ہیں کہ کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ میرا اندازہ تو کہتا ہے کہ مردہ لوگ اپنے جسم کے ساتھ اپنی یادداشت بھی بھلا دیتے ہیں۔ لیکن اس بات کے لئے میرے پاس  کوئ ثبوت نہیں۔ وہ شاید یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ  جو مسائل اپنی زندگی میں حل نہیں کر سکے اسکے لئے اب آپکے پاس وقت ہوگا اب ذرا کوشش کر لیں۔ اس سے بہرحال ایک بات ثابت ہوتی ہے، عوام موت کے بعد کی زندگی پہ یقین رکھتے ہیں جبکہ رہ نما نہیں رکھتے۔
یہ مسلم لیگ ہے، اسکے اتنے ٹکڑے ہیں اوریہاں، وہاں، جہاں، تہاں گرے ہوئے ہیں کہ انہیں بھی شخصیات کی وجہ سے پہچانا جاسکتا ہے منشور کی وجہ سے نہیں۔ یہ مسلم لیگ نون ہے اسے پہلے ابا جی چلایا کرتے تھے آجکل سعودی حکومت کے تعاون سے چل رہی ہے۔ خوف خدا کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے اس لئے پنجاب کی مڈل کلاس جو کہ مذہبی رجحان زیادہ رکھتی ہے انکی طرف مائل ہے۔ رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعات کی برکت سے یہ جماعت اب تک پاکستان میں جمہوریت کا عمل سازگار رکھنے کی کوششوں میں سرگرداں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار بحسن و خوبی ادا کر رہی ہے یہ جماعت  اپنے دو شریف بھائیوں کے اتحاد کا اعلی نمونہ پیش کرتی ہے۔ اس لئے ان سے امیدیں لگانے میں اتحاد پاکستان کی امید نظر آتی  ہے۔
یہ مسلم لیگ قاف ہے۔ پہلے اسے مشرف کی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ پھر مشرف کو اڑنگا لگا کر گرانے والی جماعت سمجھا گیا، پھرقاتل لیگ کے نام سے مشہور ہوئ۔ آجکل نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ اسکی پہچان الہی خاندان کے دو سپوت ہیں۔ مشاہد حسین صاحب نے بڑی کوشش کی کہ انکا نام بھی ہوجائے، لیکن انکی گوری رنگت اور اچھے خاصے نین نقش کے باوجود دلہن وہی جو پیا من بھائے۔ ہر کسی کو خدا ایسی سحر انگیز شخصیت نہیں دیتا کہ لوگوں کا دماغ ماءوف ہو جائے۔ یہ امتحان بھی کسی کسی کا ہوتا ہے۔
یہ مسلم لیگ فنکشنل ہے، اسکے اس نام کی وجہ شاید پیر پگارا صاحب کی ذات ہے۔ اسّی سال کی عمر میں انکے سب سے چھوٹے جڑواں بچوں کی عمریں شاید پانچ چھ سال ہیں اس لئے اس کا نام فنکشنل رکھا گیا ہے۔ اپنے مریدوں کو جب زیارت کا موقع دیتے ہیں تو دیدار کا ٹیکس لیتے ہیں۔ مرید تحفوں سے لدے پھدے آتے ہیں اور دعاءووں سے سر سبز جاتے ہیں۔ اپنے بنیادی مسائل کو وہ پیر صاحب کی کرامت سے خدا کا لکھا سمجھ کر آسانی سے جھیل جاتے ہیں۔ جبکہ پیر صاحب نئے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ مرید پیج پگارا کے نعرے لگاتے ہیں۔
یہ اے این پی ہے۔ کسی زمانے میں بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں میں شامل تھی آج اسمگلرز اور مافیا کے مفاد کی نگرانی کرتی ہے۔  انکے پاس باچہ خان کی یادوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ سب اسمگلرز اور مافیا سمیٹ لے گئے۔ افسوس، باچہ خان شہید نہ ہوئے۔ اب انکی تصویر کسی رقّت آمیز نعرے کے بغیر استعمال ہوتی ہے۔
یہ تحریک انصاف ہے، سنا ہے کہ پنجاب کے نوجوانوں میں مقبول ہونے والی جماعت ہے۔ اگرچہ کہ اسکے لیڈر پنجاب یونیورسٹی میں پنجاب کے نوجوانوں کے ہاتھوں دھوکے سے پٹ گئے۔ لیکن  پھر بھی اپنی والدہ کی یاد میں بنائے جانے والے ہسپتال کو کامیابی سے چلانے اور کرکٹ میں پاکستان کو ایک دفعہ ورلڈ کپ دلانے کے احسان میں ان سے یہ مضبوط امید کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کی سیاست کا بھی نقشہ بدل دیں گے۔ انکا منشور تو دور انکی جماعت کے کسی اور عہدے دار سے بھی ہم واقف نہیں۔ عمران خان کی سحر انگیز شخصیت نے کسی اور کو سامنے آنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
یہ ایم کیو ایم ہے، کراچی میں مڈل کلاس کی نمائیندہ جماعت۔ یہ پہلے مہاجر قومی مومنٹ تھی۔ اسکے وجود میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ اس مملکت خداداد  کے جتنے بھی فرزند زمین تھے وہ وقتاً فوقتاً اپنی اپنی باری پہ یہ کہہ چکے تھے اور کہتے ہیں  کہ یہ ہم تھے جنہوں نے ان مہاجروں کو پاکستان میں جگہ دی، پناہ دی، احسان کیا۔ ان سب کو یہ یاد دلانے کے لئے کہ پاکستان اپنے وجود میں آنے سے پہلے ہندوستان تھا۔ اور اسے پاکستان بنانے کے لئے ایک لمبی جنگ لڑی گئ۔ ان علاقوں میں جہاں پاکستان نہیں بنا۔ تو اس بھولی بسری یادداشت کا ایک حصہ اس جماعت کی شکل میں آگیا۔  جب اسلحے، دنگے فساد اور طاقت میں یہ جماعت پاکستان کے دیگر فرزند زمین کے برابر آ گئ تو اب یہ چکر شروع ہوا کہ یہ تو لسانی جماعت ہے اور ہم تو سیاست کے ڈگری ہولڈرز۔  ایک دفعہ پھر اس جماعت کے مہاجروں نے قربانی دی اور اسکا نام متحدہ رکھنے پہ متحد ہو گئے۔ مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوا۔ فریقین کے درمیان اب جھگڑا اس بات کا اٹھ کھڑا ہوا کہ نشانہ کس کا اچھا ہے۔ استاد کا یا شاگرد کا۔
اس جماعت کے اس نعرے سے مجھے بالکل تکلیف نہیں ہوتی کہ جفا کروگے، جفا کریں گے، وفا کروگے، وفا کریں گے، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ کیونکہ سماجی سائینسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ انسان سماجی جانور ہے۔  لیکن جب میں یہ نعرہ دیکھتی ہوں کہ ہم کو منزل نہیں رہنما چاہئیے۔ تو پھر یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ اتنے وزن  کا نہیں چاہئیے۔ بات میں وزن ہونا چاہئیے، لیڈر میں نہیں۔ دوسرے یہ کہ جب تقریر کرے تو یہ فرق واضح ہونا چاہئیے کہ کوئ شیعہ ذاکر وعظ کر رہا ہے یا پاکستان میں انقلاب کی بات ہورہی ہے۔ تقریر کے درمیان دو جملوں میں اتنا لمبا وقفہ ہوتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں قدرتی ضرورت سے فارغ ہونے گئے تھے۔ مجھے امید ہونے لگتی ہے اگلے جملے تک انقلاب برپا ہو چکا ہوگا۔ اس لئے فوراً رفو چکر ہو جاتی ہوں۔ ہمیشہ اگلے دن کے اخبار سے تقریر کا متن پتہ چلتا ہے۔  یوں دستک انقلاب، صرف الطاف پہ میں راضی نہیں۔ خیر،  آجکل انہیں بھی نعرہ انقلاب لگانے سے فرصت نہیں۔ انقلاب کیسے آئے گا اسکی کیا ترجیحات ہونگیں ، اس سے ہم لا علم ہیں۔
اچھا، یہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں ہیں، ان کی خوشش قسمتی یہ ہے کہ انہیں منشور بنانے کی قطعاً کوئ ضرورت نہیں انکا منشور صرف اسلام ہے۔ بجلی کی کمی ہو، تعلیم کا بحران ہو، بے روزگاری ہو،، عوام کے لئے کسی صحت پالیسی کی عدم موجودگی، فضائ آلودگی، سیلاب و زلزلہ، پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئ فحاشی، پاکستانی مردوں کا لمحہ ء فکر و پریشانی،    پاکستانی خواتین کا کاروکاری میں مرنا ہو  یا ایک بڑی تعداد کا چھاتی کے کینسر سے مرنا ہر مسئلے کا ایک جواب۔ الحمد للہ ہم نے ماضی میں بھی، ماشاللہ سے حال میں بھی اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ صرف اسلام ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ الحمد للہ، غیرت مند مسلمان ہمارے ساتھ ہیں۔
خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے وطن عزیز میں صرف طالبان ایسے ہیں جن کے منشور سے ہمیں آگہی حاصل ہے یعنی ہم تو دھماکے سے مر جائیں گے صنم تجھ کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ یہ وہ ہیں جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔ انکی اس ادا پہ ایک طبقہ نثار ہے۔ لیکن ایک دفعہ پھر خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے طالبان اس سیاسی عمل پہ یقین نہیں رکھتے جسکے لئے منشور کی ضرورت پڑے۔
یہ سب باتیں آپکو پہلے سے پتہ ہونگیں۔ اپنے اپنے رجحان کے باعث کچھ کم ، کچھ زیادہ۔ لیکن اس مختصر جائزے کے بعد یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہوتی کہ پاکستانی عوام کے بھولپن کی وجہ سے شخصیات کا تسلط قائم ہے اور اس طرح وہ چیز جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئ سیاسی پارٹی عوام کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا اسٹرٹجی اپنانا چاہتی ہے اسکی طرف جانے سے ان پارٹیز کی بچت ہو جاتی ہے۔
 ایسے ہی آج خیال آیا کہ کہ پارٹیز تو منشور بتانے سے قاصر ہیں کیوں نہ ہم عوام ہی ایک منشور ترتیب دے ڈالیں اور انکے حضور پیش کریں کہ جناب سوئیمبر رچانے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہمیں کیا چاہئیے۔ اس لئے شروع کرتے ہیں خدا کے با برکت نام سے۔  ایک دو تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, March 27, 2011

آگے سے ہٹ جا


جس شدت سے پاکستانی تیس مارچ کے منتظر ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ پاکستان کم از کم تیس مارچ تک اپنی سالمیت کی جنگ پہ کوئ سودا نہیں کرے گا۔ اوراس دوران آپکو شاید ہی یہ جملہ سننے کو ملے کہ پاکستان بس اب ٹوٹنے ہی والا ہے۔
مختلف کاروبار حیات ماند پڑ گئے ہیں۔ اور شاعر کہتا ہے
عشق کچھ پڑ گیا ہے ٹھنڈا سا
آج کل امتحان ہے پیارے
سن رہے ہیں کہ سیمی فائنل والے دن آدھی چھٹی ہوگی۔ اور یہ بھی کہ اس دن لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔ اتنی خوش خبریوں کے بعد ہماری ایک بزرگ خاتون کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سیمی فائنل جیت جانا چاہئیے۔ کیوں؟ کیونکہ، انہوں نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا،  پھر فائنل والے دن بھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی۔
اسکی وجہ تیس مارچ کو دو ازلی دشمنوں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا میچ ہے جو کانٹے کا ہو یا نہ ہو کانٹوں پہ ضرور ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے میچ کی دو اہم خصوصیات ہیں۔
اول ہارجانے کے بعد  افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ہاتھ ایٹم بم چلانے والے بٹن پہ کیوں نہیں۔ جیت جانے کے بعد بھی یہی افسوس ہوتا ہے۔ دوم میچ سے پہلے، دوران اور ہار جیت کے بعد، جہادی روح  جوانوں میں بیدار رہتی ہے۔ بغیر کسی زائد خرچے کے۔
اب کھیل میں دو ہی چیزیں ہو سکتی ہیں یا تو ہم جیتیں گے۔ اور ہر پاکستانی فتح کے نشے میں چور گانا گائے گا ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے۔ آگے سے ہٹ جا۔ یا پھر میرے منہ میں خاک ہم ہار جائیں گے تو اسکے بعد میں تو را کا ایجنٹ قرار ہی پاءونگی لیکن شاہد آفریدی تیرا کیا ہوگا میرے پٹھان۔  گو طالبان نے ابھی تک کرکٹ کو غیر اسلامی نہیں قرار دیا۔ لیکن اسلامی یا غیر اسلامی ہر دو صورت میں وہ سینے پہ بم باندھ کر پھرنے والے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں اور بالخصوص پاکستان میں ورلڈ کپ  کا مقابلہ ایک مرض کی صورت پھیل جاتا ہے سو جو اس کھیل میں دلچسپی نہیں لینے کا دعوی کرتے وہ بھی اسکور پوچھتے نظر آتے ہیں۔ اس حالت میں مریض خود سے، رشتے داروں سے، دوستوں سے حتی کہ محبوب سے بھی شرط لگانے کو تیار رہتا ہے۔
یہ ایک وائرل مرض ہے اپنا سائیکل ختم ہونے پہ ختم ہو جاتا ہے لیکن اختتام کے بعد صورت زیادہ سنگین ہو جاتی ہے اور اکثر مریض واہی تباہی بکنے لگتے ہیں۔

کچھ بیانات کی پیشن گوئ ہم بھی کر رہے ہیں۔
غیرت مند پاکستانیوں نے ہندوءوں کو انکی سر زمین پہ شکست دے دی۔
اللہ نے مسلمانوں کو ہندءووں کی سر زمین پہ سرخ رو کیا۔
سترہ کروڑ عوام کی دعائیں رنگ لائیں۔ 
دودھ پینے والے گوشت کھانے والوں سے کیسے جیت سکتے ہیں۔
جیت کی صورت میں انڈینز کو اسلامی انتہا پسندوں  کے  حملوں کا ڈر تھا۔
سٹے باز کھلاڑیوں کو نکالنے کے بعد ٹیم اپنی فارم میں واپس۔
سینے پُھلا دئیے ہمارے شیروں نے۔
ریمنڈ ڈیوس کی رہائ کی ڈیل میں پاکستان کو جتانا شامل تھا۔
بمبئ کے مسلمان انڈر ورلڈ ڈان داءود ابرہیم نے میچ کو مسلمانوں کے حق میں فکس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
زرداری نے میچ پہ پیسے لگائے تھےکیسے ہار سکتے تھے ۔
 اس تاریخی فتح کے موقع پہ ہمیں عافیہ صدیقی اور انکے بچوں کو نہیں بھولنا چاہئیے۔ عافیہ تیری عظمت کو سلام۔
بلوچستان اور وزیرستان میں امن کے لئے کرکٹ کے میدان قائم کئیے جائیں۔
انقلاب آوے ہی آوے، عمران خان تم جیو ہزاروں سال۔

ہارنے کی صورت میں زیادہ مزے کے ڈائیلاگ ہونگے۔
یہ کھلاڑی ہیں ہی ,**********۔ ان ستاروں کی جگہ پہ مناسب الفاظ کے لئے ہمارے کچھ بلاگرز یا مبصرین مدد کر سکتے ہیں۔
پیسے کھائے ہیں۔ کس نے؟ پچاس فی صد لوگ، کھلاڑیوں نے۔ پچاس فی صد لوگ زرداری نے یا حکومت نے۔
بال ٹھاکرے کی دہشت ہو گئ تھی ہمارے کھلاڑیوں پہ،  یہ سٹے باز چوہے ہیں۔
جب تک اسلامی شریعت نافذ نہیں ہوگی، سترہ کروڑ دعاءووں میں کوئ اثر نہیں ہوگا۔ ہم اسی طرح ہندءووں سے ، عیسائیوں سے یہودیوں سے شکست کھاتے رہیں گے۔
اس میں سی آئ اے والوں کا ہاتھ ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کو سینتالیس دن تک جیل میں رکھا اس کا انتقام لیا ہے۔
اس میں را اور موساد کے ایجنٹ شامل ہیں۔
وینا ملک کا انتقام ہے، اس نے انڈیئینز بُکیز سے ملی بھگت کر کے قوم سے انتقام لیا ہے۔ اسکے خلاف کارروائ کی جائے۔
ہارپ ٹیکنالوجی کی مدد سے پچ کا موڈ تبدیل کر دیا گیا، جب پاکستان کھیلا اس وقت ہوا میں نمی  بڑھا دی گئ یا گھٹا دی گئ۔
کھلاڑیوں کو ہپنا ٹائز کر دیا گیا۔
کھلاڑیوں پہ یا کھیل کے میدان پہ جادو کیا گیا تھا۔ میں نے خود دیکھا کہ ہندو کھلاڑی کچھ بد بدا رہے تھے۔ ہندو تو ویسے بھی جادو ٹونے میں کمال رکھتے ہیں۔ جادو برحق ہے۔
طالبان کو چاہئیے کہ اب کرکٹ کے میدانوں کو اڑانا شروع کر دیں۔
موہالی کے میدان میں رکھا ہی اس لئے گیا تھا کہ پاکستانیوں کا جیتنا محال ہو جائے۔
امریکہ کا ہاتھ ہے، امریکہ اگلا ورلڈ کپ اپنے یہاں رکھنا چاہتا ہے۔
بے غیرت پاکستانیوں، تمہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بد دعا لگی ہے۔ تم کیا ورلڈ کپ جیتوگے۔
انقلاب، آوے ہی آوے۔
ایسی منحوس قوم کیا انقلاب لائے گی پہلے اپنی کرکٹ میں توانقلاب لے آئے۔ انکی تو یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکی تو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹوئٹر پہ کچھ اس طرح کی ٹوئٹس ہونگیں۔
ہندوءوں پہ لعنت ہو
مسلمانوں پہ لعنت ہو
حکومت پہ لعنت ہو
زرداری پہ لعنت ہو
لعنت سے رسول اللہ نے منع فرمایا۔
جماعتیوں پہ لعنت ہو
لبرلز پہ لعنت ہو
آج دو قومی نظریہ ثابت ہو گیا۔
آج دو قومی نظریہ موہالی کے میدان میں دفن ہو گیا۔

سو قارئین، پاکستانیوں کی خوبی یہ ہے کہ خدا پرست ہی نہیں خدائ خصوصیات بھی رکھتے ہیں یعنی
ہو گئے خوش تو فرشتوں سے کرائے سجدے
آگئے طیش میں تو فردوس میں رہنے نہ دیا

میرے مبصرین کہیں گے۔
مسلمانوں کی اس عظیم فتح پہ تو آپ جیسے لبرلز کو بڑا صدمہ ہوا ہوگا۔
امن کی آشا والے دیکھ لیں ہندءووں نے ہمیں ہرا کر دم لیا۔ کیا جذبہ ء خیر سگالی کے لئے ہار نہیں سکتے تھے۔
کیمسٹری کے چار فارمولے یاد کرنے والوں کو کیا پتہ، کہ ہارپ ٹیکنالوجی موسم تو موسم، انسانی ذہن کو بھی تبدیل کر سکتی ہیں۔ ان لنکس کو اور پڑھو، ہا ہا ہا۔
پاکستان کے بال ٹھاکرے کا تذکرہ نہیں کیا میڈم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابے بولتا کیوں نہیں، پاکستان کا بال ٹھاکرے کون ہے
اپنے شہر کے غنڈوں سے پوچھو۔ 
کس کے پی پی پی، ایم کیو ایم یا اے این پی۔
وہ جو بھتہ لیتے ہیں
اور وہ جو اغواء برائے تاوان کرتے ہیں
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو۔
بکتے ہو، اپنے صوبے کے دہشت گردوں کو دیکھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تعصب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو بلاگستان کی دنیا میں
یہ ڈفر صاحب کے بلاگ پہ ایک نظم ملی ہے یہ ایک سچے انقلابی شاعر سلیم فاروقی نے لکھی ہے۔ انکی وصیت ہے کہ جو اسے پڑھے وہ اسے اپنے بلاگ کی زینت ضرور بنائے ورنہ اس پہ عذاب ہوگا۔ وما علینا الاالبلاغ۔
جب بیانات اس نوعیت پہ پہنچ جائیں تو سمجھ لیجئیے کہ  مریض کو افاقہ ہے۔ اب آپ اپنے روزمرہ کے کام بلا جھجھک جاری رکھ سکتے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ شہر میں گولیوں کے دام بڑھ گئے ہیں اور لوگ انہیں ذخیرہ کرنے میں مصروف ہیں۔ اب اگر پاکستان جیت جاتا ہے تو نقار خانے میں طوطیوں کا کیا کام۔ طوطیوں کو ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑیں گے۔ اور اگر نہیں جیتا تو اگلے چند دن ٹارگٹ کلنگ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ  متوقع ہے۔  کچھ لوگوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ خوف کی وجہ سے گھر میں رہنا ہوگا۔ ٹوئٹر، فیس بک اور بلاگز استعمال کرنا پڑے گا۔ یوں ثابت ہوگا کہ یہ سب ایجادات امت  مسلمہ یعنی پاکستانیوں کے خلاف سازش ہیں۔
۔
۔
۔
۔
اچھا اس ساری واہی تباہی کو ایک طرف رکھیں میں سوچ رہی تھی ورلڈ کپ کون جیتے گا۔ میرے خیال سے سری لنکا یا نیوزی لینڈ۔ کیا کہا پاکستان کیوں نہیں؟ تو پھر لگا لیں ایک شرط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, March 3, 2011

شرمندگی کے بول

حالیہ کچھ سالوں نے ہمیں ٹریجڈیز کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ایک نیا المیہ۔ پاکستان میں اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کو سورج کی روشنی میں قتل کردیا گیا۔ یعنی اب قتل کرنے کے لئے کسی کرامت کی ضرورت نہیں۔ قاتل کو کف آستین اور دامن کے داغ چھپانے کی بھی ضرورت نہیں۔ 
اہل طاقت کے پاس مذمتی بیانات کا وہی پرانا سلسلہ اور اہل فکر کے پاس مستقبل کی پریشان کن تصاویر اور وسوسے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ ہے وہ پاکستان جہاں ایک سال میں تین ہزار کے لگ بھگ لوگ دہشت گردی کے حملوں کا شکار ہوئے اور اڑسٹھ خود کش حملے ہوئے۔ اور اہل طاقت اسی طرح طاقت کی رسہ کشی میں مصروف ہیں۔ کوئ اس آگ اور خون اگلنے والی عفریت کو قابو نہیں کرنا چاہتا۔
شہباز بھٹی کے قتک کے ساتھ ہی مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہو گیا۔ مذہبی علماء نے اس قتل کی حسب معمول مذمت کی اور پھر سے نجانے کتنی لاکھویں دفعہ یہ جملہ دوہرایا گیا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر اس قتل کے تانے بانے امریکہ سے جوڑے۔
 اس دفعہ ہم اس حلقے میں شامل ہیں جو مذہبی علماء سے یہ سوال کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان میں کیا مذہب کو اپنے جنون کے اظہار کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا؟  اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بیرونی طاقتیں ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد پہ فساد کو جنم دینے کی کوشش کر رہی ہیں تو وہ اس بات کی وضاحت بھی کریں کہ اب تک مذہبی انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے لوگوں کے اندر قوت برداشت پیدا کرنے کے لئے کیا کیا؟ انہوں نے مذہبی رواداری پیدا کرنے کی جو عملی کوششیں کی ہیں ان سے ہمیں آگہی کیوں نہیں اور ہم اب تک اسکے ثمر سے کیوں محروم ہیں؟
ایک اور سیاسی نکتہ رکھنے والا گروہ بھی ہے جو اس قتل کی ذمہ داری حکمراں طبقے کی اعلی قیادت پہ ڈالتا ہے۔ کیونکہ اب تک یہ مسئلہ لا ینحل ہے کہ سلمان تاثیر کے باڈی گارڈز میں قادری کی شمولیت کیوں کی گئ جبکہ اسکے خیالات کسی سے چھپے ہوئے نہ تھا۔ دوئم سلمان تاثیر کے قتل کی شہادتیں صحیح قانونی طریقے سے کیوں نہیں جمع کی گئیں۔ 
اب یہی مسئلہ شہباز بھٹی کے قتل کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ قتل کی دھمکیوں کے باوجود قتل کے وقت، سیکیوریٹی انکے پاس موجود نہ تھی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز بھٹی ان لوگوں میں شامل ہیں جو سلمان تاثیر کے قتل کی تفتیش میں دلچسپی لے رہے تھے۔
 اسکے باوجود کہ تحریک طالبان نے اسکی ذمہ داری لی ہے یہ حسب توقع ایسے  پیچیدہ سیاسی قتل میں شامل ہو جائے گا جس کے مجرمین کے بارے میں ہمیں کبھی نہیں پتہ چلتا۔ 

ہردو نکتے سے الگ، اگر پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے، اور اسے کسی بھی مثبت سمت کی طرف لے جانا ہے تو ایک طرف ہمیں  آزادی فکر کو ترویج دینی ہوگی جس کے لئے برداشت بنیادی چیز ہے۔ اس کے لئے مذہبی جماعتوں کو اپنے یوٹوپیا سے باہر آنا ہوگا۔ کیونکہ اسکے بغیر اصل مسائل کو کارپٹ کے نیچے چھپایا جاتا رہے گا۔
دوسرے ہمیں اپنے سیاسی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہوگا جہاں واقعی عوام کی حکومت عوام کے ذریعے سے ہو، جہاں اہل اقتدار، دولت کی ہوس میں اقتدار سے چمٹے نہ رہیں اور ایکدوسرے کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہیں اس طرح کہ انہیں ملکی اور عوامی مفادات کی ذرہ بھر فکر نہ ہو۔ اور جہاں تبدیلی کے لئے فوج کی حمایت درکار نہ ہو۔


شہباز بھٹی، ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔ ہم پاکستان کے کمزورعوام آپکو بچانے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔

Monday, October 11, 2010

فرزند زمین

تین دن پہلے رات کے وقت لیاری ایکسپریس وے سے نیچے اترے اور کراچی پورٹ ٹرسٹ  سے آگے جا کر جو ایک سڑک پہ مڑے تو ایک قطار میں کئ ٹرالرز ایک لمبی لائن میں  کھڑے ہوئے تھے۔ یہ نیٹو کے سپلائ ٹرکس ہیں جنہیں شاید یہاں روک دیا گیا ہے۔ ایک ساتھی نے کہا۔ پاکستان نے نیٹو افواج کی سپلائ لائن بند کر دی ہے۔ اور ہم لوگ حساب لگانے لگے کہ اس وقت کتنے اسطرح کے ٹرالرز کراچی سے پاکستان کی شمالی سرحد تک یا تو سفر میں ہونگے یا اسی طرح کھڑے ہونگے شاید ہزاروں میں۔ یہ قدم پاکستان نے اس وقت اٹھایا ، جب پچھلے ہفتے افغان سرحد کے اس طرف سے پاکستانی سرحد پہ میزائل مارے گئے اور اسکے نتیجے میں تین پاکستانی فوجی مارے گئے۔
سپلائ لائن کے بند ہونے سے ٹرالرز درہ خیبر کے پاس اور بعد میں کوئٹہ میں بھی اکٹھے ہوئے جا رہے تھے۔  کچھ ٹرالرز کو مقامی افراد نے تباہ کر دیا یا جلا دیا۔



یہ کوئ پہلی دفعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ ٹرکس لوٹے جاتے رہے ہیں اور انکا سامان مقامی مارکیٹوں میں فروخت کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک اگرچہ جلانے والوں کا تعلق  طالبان سے بتایا جاتا تھا۔ لیکن  ایک نجی محفل میں ان اطلاعات کی باز گشت بھی سنائ دی کہ آجکل قبائلی سرداروں کے بڑے مزے آئے ہوئے ہیں اور لوٹ مار کے اس عمل میں  فلاں فلاں سردار کی چاندی ہوگئ ۔ یہ سردار خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ طالبان کے نقش قدم پہ وہ بھی روانہ ہوئے اور اس سے پہلے کے طالبان انہیں ہتھیائیں وہ کیوں نہ دام کھرے کریں۔ میں نے سوچا کیا مجھے حیران ہونا چاہئیے؟  یا کہنا چاہئیے کہ جیسے کو تیسا؟ کسی طرح تو خبیث امریکیوں کو نقصان پہنچے اب فرزند زمین یہی طریقہ جانتے ہیں تو یہی سہی۔
 یہ سامان اشیائے خور دو نوش سے لیکر جدید ہتھیاروں تک ہر چیز پہ مشتمل ہے۔  اور سرحدی علاقوں سے لے کر یہ اشیاء کراچی میں بھی دستیاب ہیں۔ چلیں اس بہانے ہمارے لوگوں کو امریکہ کی جدید ترین ٹیکنالوجی اور عیاشی کا سامان ہاتھ آتا ہے۔ برائ کیا ہے۔
لوٹی ہوئ اشیاء کی فروخت کی ایک مارکیٹ

 میں ایک غیر ملکی رپورٹ سے گذر رہی تھی  جس میں یہ اطلاعات موجود تھیں کہ کسطرح نیٹو کے یہ ٹرکس لوٹ مار کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اور انکے سامان سے پاکستانی کس طرح مستفید ہو رہے ہیں۔ اس پہ ہونے والے تبصرے دلچسپ تھے۔ یہ تبصرے جن میں امریکی تبصرہ نگار بھی شامل تھے۔ انکا غضب کا نشانہ پاکستانی عوام اور امریکی حکام دونوں تھے۔ جہاں ایک طرف پاکستانی چور اچکے، بد دیانت ، لوٹ مار کرنے والی  قوم ٹہری وہاں امریکی حکومت بے وقوف ٹہری جو اپنے عوام کی فلاح پہ پیسے خرچ کرنے کے بجائے چوروں کو اپنا اتحادی بنائے ہوئے جنگ کئے جا رہی ہے۔ بقول کئ مبصروں کے اگر جنگ پہ خرچ کئے جانے والے یہ پیسے ملک میں خرچ کئے جائیں تو امریکی عوام اس وقت جس معاشی بحران کا شکار ہیں۔ اس سے بچا جا سکتا ہے۔
اگر ان تبصروں میں سے شناخت اور خبر کا پس منظر ہٹا دیا جائے تو کم و بیش یہی الزامات پاکستانی بھی اپنے امریکی حلیفوں پہ لگاتے ہیں اور کچھ ان سے ملتی جلتی وجوہات کی بناء پہ اپنی حکومت سے عاجز ہیں۔
پاکستان میں ایک حلقے نے حکومت کے اس قدم کو جمہوری حکومت کی طاقت کی فتح قرار دیا۔ ایک اور حلقے نے اسے سپہ سالار پرویز کیانی کے حوصلے سے جوڑا۔ ہر نظر اپنی اپنی روشنی تک جا رہی ہے۔ بہر حال اس تحریر کے پڑھنے تک طورخم کے بارڈر سے یہ پابندی اٹھا لی گئ ہو گی۔
  سرداروں سے متعلق ایک دلچسپ خبر اور ہے۔ معروف بلوچی سردار اکبر بگتی کے بیٹے نے مشرف کو قتل کرنے والے کو ایک ارب روپے کی زمین یعنی ہزار ایکڑ کینال زمین  دینے کا اعلان کیا ہے۔ غالب اور نیک  اندازہ ہے کہ یہ زمین انکی اس وراثت میں سے ہی دی جائے گی جو نسل ہا نسل سے انکی ملکیت ہے۔
چلیں بلوچی عوام سے تو مشرف ہی بھلے، مارے گئے تو اسی بہانے کسی کو سردار کی زمین میں سے ہزار ایکڑ ملیں گے۔ عوام کا کیا ہے وہ  تو دکھاوے کا زخم ہیں جس کے بہانے ہمدردی حاصل کی جاتی رہے اور جسے بوقت ضرورت اپنے اغراض کے لئے سہلا سہلا کر اور مکروہ بنایا  جاتا رہے۔ مشرف کے اس طرح مرنے کے بعد یہ کہنا کتنا قابل فخر ہوگا کہ ایک قابل فخر سردار باپ کے بیٹے نے اپنے باپ کے نام نہاد قاتل سے بدلہ لینے میں پرکھوں کی ہزار ایکڑ زمین کی بھی پرواہ نہیں کی۔
لیکن جن مظلوموں کے خون سے انکے محترم والد کے  اور خود انکے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ ان کا بدلہ لینے کے لئے عوام کس زمین کا دان دیں۔

Wednesday, September 29, 2010

عظیم بیٹی

گذشتہ چار پانچ دن ایک جمود میں گذر گئے۔ یہ جمود جو ایک خلاء کی وجہ سے پیدا ہوا۔ جسے کوئ نہیں بھر سکتا۔ لیکن اس دوران بہت سارے لوگوں سے ملنا ہوا۔ اور جب فضا میں ایک جمود ہو تو اسے سیاست کے موضوع سے بآسانی توڑا جا سکتا ہے۔   بات گھوم پھر کر شہر کے حالات پہ آجاتی۔ کراچی میں ہنگاموں کا تسلسل کبھی ٹوٹنے نہیں پاتا۔ تازہ ترین جلاءو گھیراءو اس امریکی عدالتی فیصلے کے خلاف ہے جس میں  عافیہ صدیقی کو چھیاسی برس کی سزا سنائ گئ۔ 
 ایک ہی گھر میں لوگوں کےمختلف گروپ ملے۔ جہاں ایک گروپ  کو اس سزا پہ افسوس تھا اور وہ اس عظیم دختر پہ کسی قسم کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتا ہے اور انکی ہر قسم کی مشکوک سرگرمیوں کو ایک سازش قرار دیتا ہے۔ وہاں دوسرا گروہ الزامات میں موجود حقائق سے تو انکار نہیں کرتا البتہ ملنے والی سزا کو جائز قرار نہیں دیتا کہ یہ چوری کے جرم میں سزائے موت ہے۔  ایک تیسرا  جہادی گروپس سے بے زار گروہ بھی موجود تھا جو  قوم کی 'عظیم بیٹی'  بننے کے اس نسخے سے شدید اختلاف رکھتا تھا۔ اس طریقے سے عظمت حاصل کرنے کو بدعت قرار دیتا ہے اور سیاسی جماعتوں کی خوش قسمتی۔  وہ اسے امریکن ایجنٹ سمجھتے ہیں جسے ایک امریکی افسر پہ رائفل تاننے کی سزا نہیں ملی، بلکہ ڈبل کراسنگ کی سزا ملی ہے۔ 
عافیہ صدیقی کو مظلوم مسلم خاتون سمجھنے والوں سے جب انکی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ  اول تو اس سے قطعاً لا علم ہوتے یاپھر اسے بالکل سننا اور سمجھنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے جو کچھ کیا اسلام کی فتح کے لئے کیا۔  اپنے گھر اور بچوں کی قربانی تک دے ڈالی۔ اور تم میں سے کوئ اس وقت تک بھلائ حاصل نہیں کر سکتا جب تک اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان نہ کر دے۔  حوالہ ء قرآن۔

کچھ لوگ سوال کرتے ہیں ایک اچھی خاصی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کرنے والی عورت اس ذہنی بیماری کا کیوں شکار ہوئ۔ جس کے لئے اس نے اپنی ذات ، اپنے والدین اور اپنی اولاد کے برے اور بھلے کا بھی نہیں سوچا۔  حتی کہ اس نے  دوسری شادی بھی ایک مبینہ القاعدہ کارکن سے کی۔ پہلے شوہر سے  تین بچے جو اس وقت واللہ اعلم کہ کہاں کہاں درگور ہو رہے ہیں۔  لیکن لوگوں کا ایک گروہ عافیہ صدیقی کو ایک مثالی مسلم عورت کے روپ میں پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف۔ 
 ایک سوال کسی نے پوچھا، ایک عورت جب اپنے بچوں کو زہر دیتی ہے تو وہ معتوب ٹہرتی ہے لوگ کہتے ہیں کیسی ماں ہے، کیا زمانہ آگیا ہے ماں کو اپنے بچوں سے محبت نہیں رہی۔  مگرایک عورت جب اپنے بچوں کو  باپ اور ماں سے محروم کر کے  انہیں دنیا میں در بدر کر دیتی ہے تو حالات کی اصل نوعیت کو جانے بغیر یہ قابل حمد و ثناء ٹہرتا ہے۔ آخر کیوں؟
ایک اور گروہ یہ کہتا ہے کہ تقریباً ستر کے قریب اسلامی ممالک نے عافیہ کو ملنے والی سزا پہ ایک حرف نفرین نہیں کہا۔ عافیہ پہ جو بھی الزامات ہیں انکا تعلق صرف پاکستان سے نہیں۔ انکے تعلقات القاعدہ جیسی تنظیم سے بتائے جاتے ہیں۔ اس طرح اسکے حامیوں کے نزدیک تو وہ عالم اسلام کی سر بلندی کی جنگ لڑ رہی ہں۔ لیکن اس چیز کا دوسرے مسلم ممالک کو کیوں احساس نہیں۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک نے اس آواز میں اپنی آواز کیوں شامل نہیں کی۔
آج شہر میں ایم کیو ایم عافیہ کے حق میں ایک ریلی نکالی۔ وہ شاید اس راستے سے ان مذہب پرستوں کے دل تک پہنچنا چاہتے ہیں جنہیں ہر چیز کسی مذہبی ایشو کی کوٹنگ میں قابل قبول ہوتی ہے۔ اگرچہ اس سے پہلے بھی انکے نمائیندے فاروق ستارعافیہ کے والدین سے مل چکےہیں اور انکے گھر جا چکے ہیں مگر جب سب عظمت کی اس گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں تو وہ اس سے کیوں محروم رہیں۔ امید ہے ایم کیو ایم کی  اس ریلی کے نتیجے میں شہر میں جو افراتفری پھیلے گی وہ سب کے لئے قابل قبول ہو گی۔
شہر سے گذرتے ہوئے اس سلسلے میں ایک احتجاجی بینر پہ نظر پڑی۔ ڈاٹرز آر ناٹ فار سیل۔  اس وقت پاکستانی قوم کی ایک ہی بیٹی ہے۔ ہر روز جو لاکھوں بیٹیاں بکتی ہیں انکا کوئ پرسان حال نہیں۔

تو جناب، عظیم بیٹی بننے کے لئے اگر حجاب پہن لیا جائے، جہادی تنظیموں کے لئے چندہ بھی جمع کر لیا جائے، انکے خفیہ نیٹ ورکنگ کے لئے فنڈنگ کا بندو بست بھی کر لیا جائے ایسے کہ ساتھ رہنے والے  شوہر کو اور گھر والوں کو سن گن بھی نہ لگے۔ پھر اس شوہر سےعلیحدگی ہو جانے کے بعد کسی القاعدہ کے کارکن سے شادی بھی کر لی جائے۔ اتنا حوصلہ پیدا کر لیا جائے کہ کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت کر لیا جائے۔

 
  لیکن ایک عورت جو اچھے خاصے کریئیر کے ساتھ زندگی گذار کے اپنے پیدا کئے ہوئے بچوں کو ایک پر سکون اور مطمئن زندگی دے سکتی تھی وہ  کتنے عظیم دل کی مالک تھی جو  انکی بر بادی کو اپنے ہاتھوں سے منتخب  سے کرتی ہے۔ کس کاز کے لئے اس نے کم از کم تین لوگوں کو عمر بھر کی اذیت میں مبتلا کیا۔ ایسے میں مجھے تو وہ عورت بہت عظیم لگتی ہے جو اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے لئے جسم فروشی کرتی ہے، لوگوں کی جھڑکیاں سنتی ہے، مگر انہیں خاطر میں نہیں لاتی ۔ کیا محض عظمت کے حصول کے لئے ممتا قربان کر دینا ایک مہنگا سودا نہیں۔


Monday, May 17, 2010

اسلام کے کارٹونز

اگر ایک خاتون ساڑھی پہنے گذر رہی ہو اور اسکا پیٹ نظر آئے تو یہ ایک بہت قابل اعتراض بات ہے۔ ایسی عورت عورت کہلانے کے لائق نہیں چہ جائیکہ مسلمان عورت۔ لیکن یہی عورت جب ایک حیاتیاتی عمل سے گذرتی ہے اور ماں بننے کے عمل میں داخل ہوتی ہے تو یہ بڑی چٹخارےدار بات ہے اور اس پہ ہر طرح کا مذاق کرنا ایک اعلی مذاق ہے۔ اب اسکے پیٹ پہ نظر رکھنا اور محفل میں اسکا مزے لے لے کر تذکرہ کرنا کہ اس میں کیا ہو رہا ہے اس پہ بات کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ساڑھی پہنی ہوئ یا بغیر آستین کی یا نیکر پہنی ہوئ عورت مجسم بے حیائ لگتی ہے اور یہ بھی انکا ایک قدرتی اور بنیادی حق بن جاتا ہے کہ وہ اس پہ جملے کسیں اور اسکا مذاق اڑائیں۔ اور مزے لے لے کر اسکی ان چیزوں کا تذکرہ کریں۔  مانع حمل ادویات اور کنڈومز  اور حمل گرانے کی تراکیب ان سے زیادہ مزے کی کوئ بات ہو سکتی ہے۔ آخر ٹی وی پہ بھی تو ان چیزوں کی تشہیر کی جاتی ہے بس ذرا مزہ نہیں ڈالتے، تو مزہ بھی نہیں آتا۔ اگر یہی اشتہارات ذرا 'مزیدار طریقے ' سے بنائیں جائیں تو دیکھتے ہیں کہ کون کافر ان میں دلچسپی نہیں لیتا۔ پھر وہ اسکا ایک نمونہ خود بنا کر دکھائیں گے۔
  یہ کوئ جاہل اجڈ نہیں ہیں۔ اور نہ ہی بڑے آزاد خیال لوگ ہیں کہ سگار کے ساتھ شراب پی رہے ہوں اور پرائ عورتوں کی کمر میں ہاتھ ڈالکر رقص کر رہے ہوں۔  یہ وہ لوگ ہیں  جو اسلام کی سر بلندی میں اتنے بڑھے ہوئے ہوتے ہیں کہ اپنے علاوہ کوئ مسلمان بھی مشکل سے ملتا ہے۔ آپ انکے سامنے صرف طالبان کا کسی بھی انداز سے منفی تذکرہ کر دیں اور پھر دیکھیں کیسے کف بہتا ہے اور کیسے کشتوں کے پشتے لگتے ہیں اور زبان اور بیان کی کتنی ارزاں صورتیں سامنے آتی ہیں۔ 
لیکن انہیں ارزاں مت کہیں یہ تو اعلی مذاق اور طنز ہے جو کسی کسی کی سمجھ میں آتا ہے۔ یہ سارے 'کسی' ایک جیسے ہیں۔ ایک ہی جسم میں کئ مختلف اور متضاد شخصیات رکھنے والے لوگ۔ لیکن انہیں منافق مت کہیں، یہ تو اس طرح معاشرے کی سدھار کرتے ہیں۔ کیا ہوا ، جو تھوڑا سا نفسانی لطف خود اٹھایا اور دوسروں کو بھی اٹھوانے دیا۔ اعمال کا دارومدار تو نیت پہ ہوتا ہے ناں۔
باقی لوگ چاہے کتنی اچھی نیت کے ساتھ اچھآ کام کریں، انکے دین و مذہب کی چھان بین سے پہلے کچھ کہنا کفر ہے۔ البتہ یہ دنیا کا گھٹیا ترین کام بھی کریں تو واہ، واہ۔ ہاں یہ الگ بات کہ ابھی کوئ روشن خیال اسی  گھٹیا کام کو کر ڈالے جس پہ شیخ صاحب ثواب دارین کما چکے ہوں تو اس پہ کتنی لعنتیں پڑیں اور معاشرہ کس قدر اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہو جائے۔ یوں شیخ کے ہاتھ میں شراب بھی آب زم زم ہو جاتی ہے۔ 
ابھی کچھ دنوں پہلے مجھے فیس بک پہ ایک صاحب کی طرف سے دوستی کی درخواست موصول ہوئ۔ اکثر لوگوں کو ہوتی ہے اور خواتین پہ یہ مہربانی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن اس دوستی کے پیغام کے ساتھ ایک اور پیغام بھی تھا جس کا متن اس طرح تھا کہ پانچوں وقت نماز پڑھتی ہو۔ میرے کچھ مبصروں نے کہا آپ ان سے فقہ کے بارے میں بھی دریافت کر لیتیں کہ کس فقہ کے تحت دوست کے قوانین رکحنا چاہیں گے۔ کچھ کا خیال تھا کہ شاید نمازی کم پڑ گئے ہونگے اس لئے پوچھا۔ کچھ کو یہ فکر لاحق ہو گئ کہ آیا میں واقعی پانچ وقت نماز پڑھتی ہوں یا نہیں۔ 
ایک مسلمان مرد کی ایک خاتون کو دوستی کی یہ درخواست اتنے نیک طریقے سے۔ یہ ایک عجیب سی صورت حال ہے ایسے لوگوں کے لئے ایک طرف اسکا گھر اک طرف میکدہ۔
لطف بھی لینا چاہتے ہیں لگے ہاتھوں ثواب بھی حاصل ہونا چاہئِے۔ سوچتی ہوں ایسے چٹخارے دار اسلام سے کیوں دور رہتے ہیں لوگ۔ ایسے مسلمان بننے کے لئے تو ہم ہر وقت تیار ہیں ۔ لعنت ہو روشن خیالوں پہ، خدا کی مار ان پہ، دوزخی خود دوزخ میں جائیں گے ہم کیوں انکے ساتھ گھسیٹے جاویں۔ طالبان آوے ہی اوے۔ اب آج سے میں اس نئے مسلمان کی حیثیت سے حلف لینا چاہونگی جو رند کا رند رہے اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ تو اب میں بھی اسی طرح کی اعلی مذاق کی حامل تحریروں کی تیاری کرتی ہوں۔ الحمد اللہ، خدا نے مجھے بروقت ایک اعلی مسلمان بننے کا موقع عطا فرما دیا۔ بلکہ سمجھا دیا کہ ایک بہترین اعلی حس مذاق کے ساتھ ایک اسلام کا نام سر بلند کرنے والا مسلمان کیسے بنا جا سکتا ہے۔ اور کیسے میرے اس تبدیل شدہ چولے سے مجھے وفادار ساتھیوں کی ایک قطار ملے گی۔ 
اور ہاں ابھی بیس مئ کو پیغمبر اسلام سے محبت ظاہر کرنے کے لئے ہولوکاسٹ ڈے بھی تو منانا ہے۔ اس میں رسول اللہ کے کارٹون بنانے والی اقوام سے اپنی نفرت ظاہر کرنے کے لئے جواباً پاکستانی مسلمان ہولوکاسٹ ڈے منائیں گے۔ تاکہ انہیں بھی کچھ پتہ چلے کہ ہم ان سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔ انشاءللہ، اس نئے منافقت کے خول کے ساتھ ان میں شامل ہونگی۔ خدا ہمیں اسکا اجر دے۔ نیکی کے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئیے۔ شیطانیت اور ملعونیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دینا چاہئیے۔ وہ دن دور نہیں جب خدا کی مدد ہمارے شامل حال ہوگی۔ اللہ اکبر۔
مگر یہ دل اندر سے ہلکے سے پوچھ رہا ہےکہ مذہب اسلام کے کارٹونز کے خلاف کون سا دن منایا جائے گا اور کب؟