Showing posts with label تابکار شعاعیں،Radiation. Show all posts
Showing posts with label تابکار شعاعیں،Radiation. Show all posts

Monday, May 31, 2010

تابکاری ایک تعارف-۲

کائنات میں ہر چیز مستحکم حالت یعنی کم توانائ کی حالت میں جانا پسند کرتی ہے اور جا رہی ہے۔ یوں ان  تابکارعناصر کے مرکزے میں یہ خواہش پیدا ہوتی کہ وہ اس زائد توانائ سے چھٹکارا پا کر ایک مستحکم حالت میں چلے جائیں۔

یہ زائد توانائ باردار ذرات یا  شعاعوں کی شکل میں خارج ہوتی ہے یہ شعاعیں ایک خاص کمیت نمبر، ایٹمی نمبر اور چارج کی حامل ہوتی ہیں۔ اور اس طرح تین اقسام کی شعاعیں جنم لیتی ہیں۔
ایلفا شاعیں ؛ جو ہیلیئم کے مرکزے پہ مشتمل ہوتی ہیں۔ اور دو پروٹونز کی وجہ سے دوہرا مثبت چارج رکھتی ہیں، سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اور زیادہ دور تک سفر نہیں کر سکتیں۔۔
بیٹا شعاعیں ؛ الیکٹرون اور اسکے ضد ذرے پوزیٹرون  کے ذرات پہ مشتمل ہوتی ہیں۔ ان دونوں کا وزن ایک ہی ہوتا ہے البتہ چارج اور اسپن کا فرق ہوتا ہے۔ اس طرح یہ دونوں پروٹون سے ہلکے ہوتے ہیں۔ الیکٹرون پہ منفی اور پوزیٹرون پہ مثبت چارج ہونے کی وجہ سے یہ دونوں چارج کی حامل ہو سکتی ہیں۔ یہ ایلفا شعاعوں سے ہلکی ہوتی ہیں اور اس لئے انکے مقابلے میں زیادہ دور تک سفر کر سکتی ہیں اور زیادہ اندر نفوذ کر سکتی ہیں۔
گیما شاعیں؛ خالص توانائ کی شعاعیں ہوتی ہیں۔۔ روشنی رفتار سے سفر کرتی ہیں۔ اور زیادہ توانائ رکھنے کی وجہ سے زیادہ تباہ کن ہوتی ہیں۔ یہ کوئ چارج نہیں رکھتیں۔
ان تینوں کو جن علامتوں سے ظاہر کیا جاتا ہے وہ شعاعوں کی نفوذ پذیری کی تصویر میں موجود ہیں۔ ہم یہاں ٹیکنیکلی اس قابل نہیں کہ انکی علامتیں لکھ سکیں۔
شعاعوں کا یا ذرات کا یہ اخراج تابکاری کہلاتا ہے۔ اور یہ عناصر جو اسکا اخراج کرتے ہیں انہیں تابکار عناصر کہتے ہیں۔ یہ اس وقت تک توانائ کا اخراج کرتے ہیں جب تک کسی مستحکم مرکز میں تبدیل نہ ہو جائیں۔ یہ مندرجہ بالا شاعوں میں سے کسی ایک یا مختلف طرح کی شعاعیں ایک وقت میں خارج کر سکتے ہیں اس طرح انکے ایٹمی نمبر اور ایٹمی کمیت نمبرتبدیل ہو جاتا ہے اور وہ ایک اورعنصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو اپنے مدری عنصر سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ شعاعیں، تابکار شعاعیں بھی کہلاتی ہیں۔