Showing posts with label روشن خیالی. Show all posts
Showing posts with label روشن خیالی. Show all posts

Sunday, March 13, 2011

ساحل کے ساتھ-۷

گذشتہ سے پیوستہ

جب نازنین مجھے آئ لو یو کا جواب بتا چکی تو اس نے ایک زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ محفل میں بے قرار حقے کو اپنے سامنے کیا۔ اسکی نے کواپنے دوپٹے کے آنچل سے صاف کیا۔  اور اپنے ہونٹوں میں دبا لیا۔ پروین شاکر نے کہا تھا کہ
پلکوں سے اسکے پونچھ دوں، میں آج کی تھکن
کل کے سفر میں آج کی گرد سفر نہ جائے
یقیناً یہ کام بھی انہوں نے اپنے دوپٹے سے کیا ہوگا۔
دوپٹے کے یوں تو ہزاروں استعما ل ہیں لیکن  برصغیر میں دوپٹہ بڑا رومانوی کردار رکھتا ہے۔ شاعری ہو، سیاست ہو یا مذہب ہر جگہ دوپٹے کی بڑی جگہ ہے۔



دوپٹہ قاتل چیز ہی نہیں بلکہ اسکی خاطر قتل تک ہو جاتے ہیں۔  یوں تھر کے صحرا میں منہ پہ دوپٹے کا ایک لمبا گھونگھٹ کاڑھے سر پہ پانی کی گگری بلکہ اوپر تلے  دو تین گگریاں رکھے کیٹ واک کی حسیناءووں کو مات دیتیں، پیروں تلے دھنسنے والی ریت پہ مورنی کی طرح چلنے والی سخت جان خواتین ہوں یا شہروں میں دوپٹے کو اپنی آرائیش کا ایک حصہ بنانے والی خواتین۔  ہر ایک دوپٹے سے  قابو کرنا جانتی ہے۔ 
نازنین نے اسکے ساتھ ہی ایک گہرا کش لے کر دھواں چھوڑ دیا۔ یہ دائرے میں گھومتا دھواں جب میرے سامنے کی فضا میں پھیلا تو سچ کہوں کہ میرا بڑی شدت سے دل چاہا کہ میں خود ایک ایسا تجربہ کر کے دیکھوں۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ اس قصبے میں کوئ ہسپتال اور ڈسپینسری نہیں۔ چکرا کر گرنے کی صورت میں باقی لوگوں کو بڑی پریشانی ہوگی۔ اس تجربے کی خواہش کا گلا گھونٹ کر میں نے اس سے کہا۔  اس میں تمباکو ہے ناں؟ اس میں ، اس نے ایک دفعہ پھر بے نیازی سے دھواں چھوڑا۔ اس میں تمباکو، چرس، افیون، اور پتہ نہیں کون کون سے زہر ہوتے ہیں۔ ہم اسے گُڑاکو کہتے ہیں۔
برا ہوتا ہے صحت کے لئے۔ میں نے ناصح بننے کی کوشش کی۔ یہ تو مجھے پتہ تھا کہ نازنین، میرے دل میں نہیں جھانک سکتی۔ سو ناصح بننے کا کردار اخلاقی اعتبار سے سب سے اعلی ، آسان  اور متائثر کن کردار، میں نے ادا کرنے میں ذرا حرج نہیں سمجھا۔
معلوم ہوا کہ اسکا شوہر بھی یہی کہتا ہے۔ مگر وہ کہتا ہے کہ بچے کے لئے اچھا نہیں ہے۔ میں کہتی ہوں جب بچہ ہوگا تو چھوڑ دونگی، اس نے حقے کو ذرا صحیح پوزیشن پہ لاتے ہوئے اس میں اپنا بیان جمع کیا۔ مگر نازنین، میں نے دخل دیا۔ بچے کی پیدائیش کے بعد نہیں بلکہ  اس وقت جب بچہ ماں کے جسم میں زندگی کا آغاز کرتا ہے اس وقت سے یہ اسکے لئے زیادہ برا ہوتا ہے۔ دھواں کچھ دیر کے لئے اسکے منہ میں بند ہو گیا۔ اس نے میرے چہرے پہ آنکھیں روکیں اور جیسے اسے سمجھ میں آگیا کہ اب کیسے مجھے چت کرنا ہے۔ مسکرائ اور گویا ہوئ، مگر مجھے اچھی طرح پتہ ہے ابھی میرے کو کوئ بچہ نہیں ہے۔
میں نے ہار ماننے کی اداکاری کی۔
اچھا، تم لوگ کتنی عمر سے حقہ پینا شروع کرتے ہو۔ ایک دفعہ پھر نازنین ہنسی۔ اس نے میری بات کا ترجمہ کیا۔ باقی لوگ مسکرائے کچھ تبادلہ ء خیال ہوا۔ پھر وہ ایک لڑکی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی۔ اس نے تو ایک سال کی عمر سے پینا شروع کیا تھا۔ ہمارے یہاں، اس کی کوئ عمرنہیں۔
ایک گھریلو حقہ
 بس مجھے خیال آیا کہ یہی نازنین، کراچی میں جینز اور بغیر آستین کی شرٹ پہنے یہی کام کر رہی ہو تو لوگوں کا ایک گروہ اسے روشن خیالی کے کھاتے میں ڈال کر یہ کہے گا کہ یہ ہے وہ آزادی جو شہر کی روشن خیال عورتیں، مغرب سے مرعوب ہمارے لوگ ہماری عورتوں کے لئے چاہتے ہیں۔ ہماری عورتیں سر عام سگریٹ پیئیں اور دھواں اڑا کر خوش ہوں۔ لیکن یہاں اس مقام پہ یہ ایک روایت ہے، رواج ہے، شغل ہے۔ کوئ برائ نہیں، کوئ مسئلہ نہیں، کوئ روشن خیالی نہیں۔
غذا کا معیاری نہ ہونا، اور تمباکو نوشی شاید وہ چیزیں ہیں جنکی وجہ سے یہ عورتیں اپنی اصل عمر سے کہیں بڑی لگ رہی تھیں۔ اپنی تمام تر کشش کے باوجود، نازنین کا چہرہ اس شادابی سے محروم تھا جو ایک اکیس بائیس سال کی صحت مند لڑکی کے چہرے سے پھوٹتی ہے۔
وہیں رفیق کی بہن بیٹھی تھی۔ جسکا شوہر چار سال پہلے اسے بھائ کے پاس چھوڑ کر چوتھی شادی کر چکا ہے۔ اسکی پہلی دو بیویاں مر چکی ہیں۔  تیسری بیوی، اسکی بہن کا سب سے چھوٹا بیٹا، ایک سال کا ہے۔ چار سال میں اسکے تین اور بچے ہوئے ہیں۔ اس کا مجازی خدا، سال میں ایک دفعہ آکر یہ فریضہ پورا کرتا ہے۔ بچے، رفیق پال رہا ہے۔ یہ ہے وہ بے اختیار مثالی عورت، جس کے مٹنے کے تصور سے روایت پسندوں کو ٹھنڈے پسینے آجاتے ہیں۔
ان لوگوں نے اپنے ہاتھ کے کڑھے ہوئے دوچ دکھائے۔ ان میں سے ایک کی قیمت دس ، پندرہ ہزار ہے، مجھے بتایا گیا۔  یقیناً ہوگی، ان پہ ہاتھ سے باریک کشیدہ کاری ہوئ تھی اور لاتعداد چھوٹے چھوٹے شیشے چمک رہے تھے۔ نازنین کہنے لگی شادی پہ ایسے تیس جوڑے دئیے جاتے ہیں۔ اور سونا بھی ۔ کتنا سونا دیتے ہیں؟ لڑکے کی ماں دیتی ہے، تیس تولے۔ تمہارے یہاں شادی پہ لڑکی کو کیا ملتا ہے؟ اس نے بڑی آن بان سے ان جوڑوں کو تہہ کرتے ہوئے مجھ سے دریافت کیا ۔ 
ہم، میں نے ایک گہری سانس لی۔ ہمارے یہاں، شادی پہ لین دین لڑکی والوں کے لئےبڑی مشکل چیز ہے۔ لڑکی کی ماں صرف لڑکی کو نہیں بلکہ دولہا، اسکے گھر والوں، اسکی بھابیوں اور بہنوئیوں کو بھی کپڑے دیتی ہے، جہیز دیتی ہے، لڑکی کو سونا دیتی ہے، شادی والے دن باراتیوں کو کھانا دیتی ہے۔ یہ سن کر وہ سناٹے میں آگئ ۔ ماتھے پہ بل ڈال کر کہنے لگی۔ یہ سب کچھ لڑکی کی ماں کرتی ہے تو پھر لڑکے کی ماں  کیا کرتی ہے؟ وہ ، جو انکی حیثیت ہوتی ہے وہ کرتے ہیں، حیثیت ہوتی ہے توسونا دیتے ہیں  ورنہ نہیں دیتے، کپڑے دیتے ہیں لیکن انکی تعداد لڑکی والوں سے کم ہی ہوتی ہے، ولیمہ کرتے ہیں، اور نخرے کرتے ہیں۔ نخرہ سمجھتی ہو تم، میں نے اسے پھر چھیڑا۔
ایک بات جو مجھے جان کر حیرت ہوئ، وہاں خواتین کا ضبط تولید کے طریقوں میں دلچسپی تھی۔ بچے انہیں چار سے زیادہ نہیں چاہئیں۔ مختلف خواتین نے اس سلسلے میں جو مدد لی اسکے نتائج سے وہ مطمئن نہیں۔ ایک عورت نے کہا، دیکھو میں کتنی موٹی ہو گئ ہوں۔ ان گولیوں کی وجہ سے۔ بہر حال، اس چھوٹے سے قصبے کی ان بند خواتین کا بچوں کی تعداد کے سلسلے میں فکرمند ہونا بھی ایک تبدیلی ہی ہے۔ 
رفیق کی بیوی اور نازنین نے اذان کے ساتھ اٹھ کر عصر کی نماز پڑھی۔ میں نے انہیں مطلع کیا کہ میں رخسانہ اور طیبہ کے گھر جانا چاہتی ہوں۔ کیا وہ میرے ہمراہ ہونگیں۔ نازنین تو میرا ساتھ دینے کو فوراً تیار ہوگئی۔ رفیق کی بیوی کچھ سوچنے لگی۔ میں نے پوچھا کیا تمہارا اس سے جھگڑا ہے۔  مترجم نے بتایا کہ وہ کہہ رہی ہے ایسی کوئ بات نہیں،  ہم انکے یہاں بس کسی تقریب میں جاتے ہیں۔ خیر پھر وہ بھی چلنے کو تیار ہو گئ۔
لیکن نازنین کہنے لگی پہلے میری امی سے تو مل کر جاءو۔ وہ یہیں قریب میں رہتی ہے۔ جب تک میرا ویزہ نہیں آتا۔ میں اسی کے پاس رہونگی۔
ہم اٹھ کھڑے ہوئے۔ تمہارے پاس کوئ چادر نہیں ہے؟ نازنین نے پوچھا۔ نہیں۔ تم جب کراچی سے آتی ہو تو سفر کے دوران بھی چادر نہیں لیتیں؟ نہیں، میں اپنی گاڑی سے آتی ہوں یا جہاز سے، اسکی ضرورت نہیں سمجھتی۔ پھر میں نے اپنے سوتی سوٹ کے دوپٹے کو پھیلا کر اسے دکھایا۔ یہ ڈھائ گز کا دوپٹہ کافی نہیں، وہاں کراچی میں تو بعض خواتین دوپٹہ بھی نہیں اوڑھتیں۔ ہاں ، ہاں میں جانتی ہوں نازنین نے جلدی سے کہا۔ ادھر مسقط میں بھی عورتیں فراکیں بھی پہنتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے کپڑے پہنتی ہیں۔ مجھے ساڑھی بہت پسند ہے میں نے ادھر مسقط میں ساڑھی پہنی تھی، میں وہاں شلوار قمیض بھی پہنتی ہوں۔ مگر یہاں ابا کہتا ہے کہ بلوچی کپڑا پہنو۔ یہ سب سے اچھا ہوتا ہے۔ تمہیں اچھا نہیں لگتا ہمارا لباس۔ میری آواز ابھری، بہت اچھا ہے لیکن بات یہ ہے  اور یوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہانی مختصر۔ ہم رخسانہ کے گھر پہنچے، اور مجھے سمجھ میں آیا کہ رخسانہ، سماجی حیثیت میں ان سے خاصی کم ہے اس لئے شاید انکا آپس میں زیادہ میل جول نہیں ہوگا۔
رخسانہ کے گھر کی کھانا پکانے کی جگہ
 مہمانداری کی پہلی نشانی حقہ سامنے لایا گیا۔ دونوں خواتین نے اس حقے کی نے  پہ اپنا دوپٹہ لپیٹ کر پیا ایک اور امتیازی رویہ۔ مزید تواضع ہوئ، اورنج شربت کے چار گلاس اور ایک پلیٹ  بھر کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھالیہ سپاری۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے اسے پانی کی بوتل دکھائ۔ میں اسکے علاوہ کوئ اور پانی پیءونگی تو بیمار پڑ جائونگی۔ یہاں تو کوئ ڈاکٹر بھی نہیں۔ اس لئے شربت نہیں پی سکتی۔ نازنین نے میرے اس مسئلے کو سمجھا اور گردن ہلا کر کہا۔ ادھر میری بہن  مسقط سے آتی ہے تو وہ بھی یہ پانی نہیں پیتی۔ بوتل کا پیتی ہے۔ 
دیکھیں، بالکل معمولی تعلیم اور ایک ذرا باہر کی دنیا دیکھنے سے اسکی شعوری پہنچ کتنی بدل گئ تھی۔ میں نے سوچا۔
 رخصت ہونے لگے  تو پلیٹ  میں بھری سپاریاں دونوں مہمان خواتین نے آپس میں بانٹ لیں۔ اور ہم باہر نکل آئے۔ جہاں مشعل ایک گوادری بچی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے، بچوں کے ایک جلوس کی قیادت کر رہی تھی۔  اس جلوس کو باریک مٹی کی دھول نے اپنی لپیٹ میں لیا ہو تھا۔ ہمارا مستقبل، تمام نفرتوں سے، طبقاتی فرق سے بے نیاز آزادی کے مزے لوٹ رہا تھا۔

 بچے اس نامعلوم ابدیت سے جب یہاں آتے ہیں تو خالی ہوتے ہیں اور ابدیت کا مظہر ہوتے ہیں۔ دنیا انہیں محدودیت سے آگاہ کراتی ہے۔ وتایو فقیر نے کہا کہ دوزخ میں کوئ آگ نہیں ہم اپنے حصے کی آگ اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ دنیا میں یہ آگ کہاں سے آتی ہے؟
رات سب کاموں سے فارغ ہو کر، کمپیوٹر پہ تصاویر لوڈ کرتے ہوئے، میں نے سمندر کی آواز کو دل لگا کر سنا۔ ہمارے اور اس آواز کے درمیان صرف ایک رات کا ساتھ اور تھا۔ رات جوتاریکی کی علامت ہے در حقیقت اپنے اندر خدائ خوبی رکھتی ہے۔ یہ ہر فرق کو اندھیرے کی شفقت سے مٹا کراپنے دامن میں پناہ دیتی ہے ہررنگ  مٹ جاتا ہے اور صرف حدیں باقی رہ جاتی ہیں۔ شاید اس لئے رب کائنات نے رات کی عبادت میں خود کو چھپا دیا۔ تاریک رات، دن سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔ یہ ہمیں روشنی کی اہمیت سمجھاتی ہے، یہ ہمیں دعا کے انداز سکھاتی ہے، ملاقات کے آداب بتاتی ہے، یہ بے سکونی کو سکون سمجھاتی ہے اور سکون کو شورش، یہ راز رکھنا بتاتی ہے اور راز کھوجنا بھی، یہ پگھلنا سکھاتی اور پگھلانا بھی ۔
مجھ کو پانا ہے تو ہر لمحہ مجھے طلب نہ کر
رات کے پچھلے پہر مانگ دعا ہوں میں بھی

جاری ہے

Sunday, January 23, 2011

ازموں کی دھند یا دھندہ

ستمبر کی ستمگر گرمی کے دن، میں منی بس میں خواتین کے رش کے درمیان گھسی خدا سے اس دعا کی قبولیت کی منتظرکہ اپنا بس اسٹاپ جلدی سے آجائے۔ اچانک کانوں میں قرآن کی تلاوت کی آواز ٹکراتی ہے۔ دیکھتی ہوں ایک کونے میں ایک حجاب دار برقعے میں ملبوس خاتون  کے برابر ایک چھ سات سال کا بچہ سیپارہ کھولے بیٹھا ہے اور پڑھ رہا ہے وہ خاتون اسکی تصحیح کراتی جاتی ہیں۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد اس بچے کی چھٹی ہوتی ہے اور اسکے فوراً بعد وہ خاتون اپنے پڑوس میں بیٹھی ہوئ خاتون سے مخاطب ہوتی ہیں۔
کیا آپ مسلمان ہیں؟ وہ خاتون اس حملے کے لئےتیار نہ تھیں ایک شش و پنج میں انکے حجاب دار چہرے کو پڑھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ جی ہاں میں مسلمان ہوں۔ فرمایا، سچ سچ، پورے یقین سے بتائیے کیا آپ مسلمان ہیں؟ جی ہاں الحمد للہ میں مسلمان ہوں۔ تو پھر، حجاب والی خاتون نے کہا ، آپ نے ناخن کیوں بڑھائے ہوئے ہیں اور نیل پالش کیوں لگائ ہوئ ہے۔ مسلمان عورت کو اس طرح نہیں کرنا چاہئیے۔ وہ خاتون انہیں ہکا بکا دیکھتی رہیں۔ پھر انہوں نے ان سے کہا وعدہ کیجئیے کہ ابھی آپ گھر جا کر اپنے ناخن کاٹ کر نیل پالش صاف کر لیں گی۔
وہ کہنے لگیں لیکن آپ کا اس سے کیا تعلق؟ جواب،  دوسروں کو برائ سے روکنا چاہئیے۔ ایک مسلمان کو دوسروں کو برائ سے روکنا چاہئیے۔ وعدہ کریں، آپ مجھ سے وعدہ کریں۔ آپ میری بہت اچھی بہن ہیں میں آپکی بہت اچھی دوست ہوں مجھ سے اللہ کے نام پہ  وعدہ کریں کہ آپ گھر جا کر جو میں نے کہا وہی کریں گی۔ کہیئے ہاں ایسا ہی کریں گی۔ یہ بات انہوں نے اتنے تسلسل سے کہی کہ ان دوسری خاتون نے کہا اچھا، میں ایسا ہی کرونگی۔
بس رکی اور وہ حجاب دار خاتون اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اتر گئیں۔ وہ دوسری خاتون میری دوست تھیں۔
اگلے دن انکے ناخن کٹے ہوئے اور صاف تھے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا چلیں آپ نہ صرف  مسلمان ہو گئیں بلکہ کاسمیٹکس کا خرچہ بھی بچا۔ انہوں نے مجھے حیرانی سے دیکھا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ گھر جاتے ہی کاٹ دونگی اور صاف کر لونگی۔ گھر آتے ہی میں نے پہلا کام یہی کیا۔ میں نے ان سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ اب ساری زندگی ناخن نہیں بڑھاءونگی یا نیل پالش نہیں لگاءونگی۔ میری مسکراہٹ معدوم ہو گئ۔
یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان دونوں میں، مجھے کون بہتر لگا۔ اس نے جس نے وعدے کی پاسداری کی یا وہ حجاب دار خاتون جو نمود و نمائش کی دلدادہ نظر آئیں اور انہوں نے محض ایک معمولی چیز پہ اگلے شخص کا ایمان جانچنا شروع کر دیا۔ 
  ناخن بڑھانا یا اسے نیل پالش سے رنگنا، اس کا مسلمان ہونے سے کوئ تعلق نہیں۔  میراروشن خیال ذہن کہتا ہے کہ نیل پالش سے وضو نہیں ہوتا۔ اس لئے نماز ادا کرنے میں مسئلہ ہوگا۔ سو اگر کوئ خاتون اس حالت میں ہو کہ اس پہ نماز ساقط ہو جائے تو وہ نیل پالش لگا سکتی ہے۔ یا اگر وہ یہ اہتمام کر سکتی ہے کہ ہر نماز سے پہلے نیل پالش ہٹا لے تو کوئ قباحت نہیں۔ اسی طرح ناخن بڑھانا صحت اور صفائ کے اصولوں سے تعلق رکھتا ہے۔
میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ ایک چھ سات سال کے بچے کو دوران سفر اپنے ماحول اور ارد گرد کی دنیا میں دلچسپی لینے کے بجائے تلاوت قرآن میں مصروف رکھنا شدت پسندی کے سوا کچھ نہیں۔
 میری اس طرح کی تحاریر پڑھ کر ایک روایت پسند صاحب کسی اور فورم پہ جاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس عورت کو جب چار شوہر کرنا پڑیں گے تو اسے پتہ چلے گا کہ روشن خیالی کیا ہوتی ہے۔ اُس روشن خیال مرد کی بیٹی جب ہر روز ایک نیا بوائے فرینڈ پکڑ کر گھر لائے گی تو پتہ چلے گا کہ روشن خیالی کیا ہوتی ہے۔ ہم خیال پیٹھ ٹھونکتے ہیں کیا اعلی ارشاد ہے۔
میں انکے اس روئیے کوبھی شدت پسندی میں ڈالتی ہوں۔ ایک ایسی شدت پسندی جو حقائق اور مسائل کو منطقی نظر سے دیکھنے کے بجائے اپنے ثقافتی پس منظر یا وراثتی پس منظر سے نہ صرف دیکھنا چاہتی ہے بلکہ اسکے خلاف کسی بھی خیال کو بزور طاقت یا زبان ایکدم ختم کر دینا چاہتی ہے۔ چاہے وہ اس شخص کو ذاتی سطح پہ جانتے بھی نہ ہوں۔ لیکن وہ اس سے ذاتی انتقام کے خواہش مند ہیں۔
   یہاں سے میں اس سوال کے جواب میں اپنا حصہ ڈلنا چاہونگی کہ روشن خیالی یا شدت پسندی کو میں کیسے لیتی ہوں۔
روشن خیالی کا الٹ روایت پسندی ہے۔ مگر مطلق روایت پسندی کوئ چیز نہیں اگر ایسا ہوتا تو ہم اب بھی غاروں میں رہتے۔ دنیا یوں نہیں ہوتی، جیسی اب ہے۔
ہمارے بزرگ لال اینٹوں کے پکے مکانات میں رہتے تھے ہم کنکریٹ اور سیمنٹ کے بنے مکانات میں رہتے ہیں۔ ہمارے پرکھ ہل چلاتے تھے ہم ٹریکٹر چلاتے ہِیں، ہمارے آبائ گھر ہوتے تھے جہاں نسلیں پلتی تھیں۔  آج ہم ٹک کر ایک ملک میں نہیں رہ پاتے، ہمارے گھروں میں صحن ضرور ہوتا تھا مگر آج صحن ہونا ایک عیاشی ہے۔ محض پچاس برس پہلے کی دنیا دیکھئیے اور آج کی،  روایات ہی نہیں رہن سہن ، طور طریقے اور اقدار سب تبدیل ہو گیا ہے۔
یہ تبدیلیاں یوں لگتا ہے کہ خاموشی سے آتی ہیں مگر دراصل یہ انسانوں کی ضرورت کی وجہ سے آتی ہیں۔ ضرورت اگر شدید ہو تو تبدیلی میں بھی شدت ہوتی ہے۔ 
تبدیلی مختلف الخیال گروہوں کے آپس میں ملنے سے بھی آتی ہے۔ ایک گروہ جب دوسرے گروہ کو زیادہ خوشحال یا آسان زندگی گذارتے دیکھتا ہے  تو شعوری یا لاشعوری طور پہ  تبدیلیوں کو اپنانے لگتا ہے۔
تبدیلی اگر خاموشی یا ہمواری سے آئے تو معاشرے کے بنیادی اجزاء اپنی جگہ باقی رہتے ہیں۔ لیکن یہی تبدیلی اگر اچانک آئے تو بہت ساری چیزیں کھو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے جیسے زلزلہ آجائےتو کیا ہوگا؟ بالخصوص اگر رات کے وقت آجائے تو ہم زیادہ نقصان سے دوچار ہونگے۔
اگر ایک معاشرہ لمبے عرصے تک آہستگی سے ہونے والی تبدیلوں کا خوگر نہ رہے تو پھر تبدیلی زلزلے کی صورت آتی ہے۔
جب بھی کوئ تبدیلی اپنا رستہ بناتی ہے تو اسے پہلے سے بے ہوئے رستے سے الگ ہونا پڑتا ہے چاہے یہ عمل آہستہ ہو یا تیز۔ اسی طرح لا شعوری تبدیلیاں تو بہت بعد میں پتہ چلتی ہیں مگر شعوری تبدیلیوں کے لئے معاشرے کو کڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
یوں انسانوں میں دو بنیادی گروہ پیدا ہو جاتے ہیں ایک وہ جو اسی پرانے طریقے پہ قائم رہنا چاہتا ہے کیونکہ اسے  نئے راستوں کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ نئ چیلینجنگ صورت حال کے سامنے سے ڈرتا ہے۔ دوسری طرف وہ گروہ ہوتا ہے جو اس نئ صورت حال کو آزما کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔اور وہ اس کے لئے مختلف خطرات سے نبردآزما ہونے سے نہیں ڈرتا۔
مطلق روایت پسندی کوئ چیز نہیں۔ آپ میں سے بیشتر لوگ اپنی آبائ زمینوں کو چھوڑ کر نئ زمینوں پہ نئے آشیانے بنائے بیٹھے ہیں۔ آپ میں سے بیشتر لوگ اب اپنے پرکھوں کی زمینوں کو پلٹ کر نہیں جانا چاہتے۔ یہ کوئ بری بات نہیں ۔ انسانوں کو جامد نہیں رکھا گیا۔ یوں جمود کا تعلق روایت پسندی سے بنتا ہے۔
جب ہم  نئ چیزوں سے آشنا ہوتے ہیں تو ہمیں بہت احتیاط  اور تفکر سے کام لینا پڑتا ہے۔ کیونکہ اسی سے ہماری بقاء وابستہ ہوتی ہے۔ 
اگر ہم جنگل میں موجود ہوں اور کسی ایسی طرف موجود ہوں جہاں سے ہمیں اپنا راستہ خود متعین کرنے کی ضرورت پڑے تو ہم اپنے پچھلے تمام تجربات اور آگے پیش آنے والے امکانات کے ساتھ راستہ بناتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ایک ایسی صورت میں، آپ اور میں ساتھ ہوں۔ آپ روایت پسند ہوں اور چاہتے ہوں کہ جو پگڈنڈی  ملی ہوئ ہے اسی پہ چل کر اگر کچھ ملے تو ملے ورنہ خالی ہاتھ رہنا بہتر ہے۔
میں اس چیز پہ راضی نہیں ہوتی اور سوچتی ہوں کہ اب تک زندگی میں جتنا علم اور تجربہ حاصل کیا ہے اسکو استعمال کرتے ہوئے اس سمت بھی دیکھناچاہئیے جسے نہیں دیکھا، لگتا ہے کہ اس طرح ہم پہلے سے بہتر حالت میں ہونگے۔ لیکن نہیں آپ میرے اس خیال کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ پہلے مجھے  پیش آنے والے ممکنہ نتائیج سے ڈراتے ہیں، پھر زبانی کلامی برا بھلا کہتے ہیں،   ہو سکتا ہے کہ دل ہی دل میں دعا بھی کریں کہ ایسے برے حالات سے سابقہ پڑے کہ دماغ ٹھکانے آجائیں۔
اسکی الٹ ایک صورت حال  یہ ہوتی کہ میں  بھی آپکو ممکنہ نتائج  سے ڈراءوں،آپکو  سخت اور سست، ڈرپوک اور بزدل کہوں اور ضد پہ آءوں تو آپکو آپکی حالت پہ چھوڑوں اور خود قصد سفر کر لوں۔
سو خیالات کے اس بنیادی فرق سے آپ اور میں  ہم سفر نہیں رہتے بلکہ دو علیحدہ راہوں کے راہی بن جاتے ہیں۔
اگر صورت حال اتنی سادہ رہے تو کیا برائ ہے؟
لیکن یہاں  کہانی میں ٹوئسٹ آتا ہے اور کہانی لکھنے والا ہم دونوں کے بیچ ایک ایسی چیز ڈال دیتا ہے جس سے ہم دونوں کا مفاد یا زندگی کی بنیادی شرائط وابستہ ہوتی ہیں۔
 ہر چیز کہانی نہیں ہوتی اور فکشن کہانی سے زیادہ تلخ اور سنگین ہوتا ہے۔ یوں ہم دونوں کے بیچ ایک نہیں کئ جہتیں نکل آتی ہیں جس کی وجہ سے ہم ایکدوسرے کو دفع دور نہیں کر پاتے۔
جنگل میں ہم ایک دفعہ پھر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
مطلق روایت پسندی کوئ چیز نہیں۔ کسی چیز کو پرانی عینک سے دیکھتے رہنے کے بجائے نئ عینکوں کا استعمال ہو سکتا ہے کہ وہ گوشے سامنے لے آئے جو ہم نے پہلے محسوس نہیں کیئے۔ ہمم، اس بات کا ڈرتو ہوتا ہے  کہ نئ عینکوں سے ہمیں جو نظر آئے گا ہو سکتا ہے وہ بہت مہلک ہو۔ لیکن نظر آنا اور چیز ہے اور اس  نظر آنے والی چیز کو ذہانت سے اپنے فائدے اپنے استحکام کے لئے استعمال کرنا اور چیز ہے۔ یہی میرے نزدیک روشن خیالی ہے۔ روشن خیالی صرف دیکھنے کے انداز کا نام ہے اس لئے یہ کہنا کہ مطلق روشن خیالی کیا ہوتی ہے لا یعنی بات ہے۔
ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ مطلق لبرلزم یا آزدی کیا ہوتی ہے؟
مطلق لبرلزم اپنا وجود نہیں رکھتا بالکل ایسے ہی جیسے مطلق روایت پسندی اپنا وجود نہیں رکھتی۔ اگر ایک انسان کسی دوسرے انسان کو جب اس کا دل چاہے قتل کر کے کھانا شروع کر دے تو  ایسی آزادی کوئ معنی نہیں رکھتی۔
چونکہ میرے اور آپکے بیچ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو مشترکہ ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کے اثر سے آزاد نہیں ہونے دیتیں تو ہم مطلق آزادی کا تصور نہیں کر سکتے۔ اسی لئے انسانی معاشروں میں قانون نام کی چیز وجود میں آتی ہے۔ تاکہ ہر شخص آزادی کے مزے سے اس طرح آشنا ہو سکے کہ دوسرے کی آزادی متائثر نہ ہو۔
جب پاکستانی معاشرے میں بنیادی تبدیلیوں کی بات ہوتی ہے اسے کسی طرح لبرلزم سے جوڑ دیا جاتا ہے اور پھر مغرب کی مثالیں پیش کرنا آسان ہوتا ہے۔ پاکستان میں لبرلزم کا وجود نہیں ۔ یہاں معتدل یا موڈریٹ خیالات رکھنے والا طبقہ مٹنے کے مراحل میں ہے اس لئے لبرلزم کا شور مچانے والے اسے صرف فیشن کے طور پہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک ڈراوا ، ایک وہم  کہ اگر آپ روایت پسندوں کی پسند پہ نہیں چلتے تو یہ ہے وہ المناک انجام جو سامنے آ ئے گا۔ یوں اصل مسائل مختلف ازموں کی دھند میں لپیٹ دئیے گئے ہیں۔ یہ دھند کچھ لوگوں کا دھندہ چلانے میں خاصی مددگار ہوتی ہے۔ اگر یہ دھند ہٹ جائے تو کچھ دھندے مندے ہو جائیں۔