Showing posts with label عرب. Show all posts
Showing posts with label عرب. Show all posts

Monday, August 27, 2012

مسیار نکاح

اپنے پہلے شوہر کے انتقال کے فوراً بعد وہ سعودی عرب میں ایک طویل عرصہ گذار کر پاکستان واپس آگئیں۔ جب گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ انکی دوسری شادی کو بھی پانچ چھ سال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن انکے شوہر انکے ساتھ نہیں رہتے بلکہ اپنی پہلی مرحوم بیوی کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتے ہیں اور وہ اپنے پہلے شوہر کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی ہیں تو مجھے نہایت اچنبھا ہوا۔
 یہ کیسا میاں بیوی کا تعلق ہے؟ میں نے بالکل پاکستانی ذہن سے سوچا۔ ایک تو یہی بات قابل اعتراض ہے کہ پچاس سال سے اوپر کی خاتون دوسری شادی کرے وہ بھی وہ جسکے پانچ بچے ہوں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہو۔  اور دونوں ساتھ بھی نہ رہیں۔ کیونکہ اگرہمارے  یہاں کوئ خاتون دوسری شادی کرتی ہے تو بنیادی مقصد تحفظ اور پیسہ ہوتا ہے۔
لیکن گھر واپس آ کر میں نے سوچا، کیا شادی محض معاشرتی تحفظ اور معاشی حالات کو مستحکم رکھنے کے لئے کی جاتی ہے؟
 اسکے چند دنوں بعد ایک محفل میں ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی تھیں کہ کسی نے تذکرہ چھیڑ دیا کہ یہ جو سنّی، شیعوں کو متعہ نکاح پہ اتنا برا بھلا کہتے ہیں  یہ اپنے سنّی مسیار نکاح کی بابت کیوں نہیں بات کرتے۔ ایک دفعہ پھر میں نے ہونّق ہو کر پوچھا کہ یہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے؟
 جواب ملا یہ بھی متعہ سے ملتی جلتی چیز ہوتی ہے آپ جا کر نیٹ پہ دیکھ لیں یا اپنے کسی اسکالر سے پوچھیں۔ تس پہ کسی اور نے بتایا کہ ایک صاحب نے کئ اسلامی مدرسوں کو مسیار نکاح کی بابت لکھا کہ انہیں معلومات بہم پہنچائ جائیں لیکن انہیں کہیں سے جواب نہیں ملا۔ اس لئے وہ نہیں جانتے کہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ یہ سنّی نکاح کی ایک قسم ہے جو کچھ شیعہ متعہ نکاح سے مشابہت رکھتی ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس سارے کے بعد میں نے رات گھر واپس آکر نیٹ گردی کی۔ جناب، تو یہ اسلامی نکاح کی ایک قسم ہے۔
 تمام تر مطالعے کے بعد یہ بات سامنے آئ کہ مسیار نکاح اسلام میں حلال ہے۔ نہ صرف مسلمان آپس میں بلکہ اہل کتاب سے بھی کر سکتے ہیں۔ یہ عام نکاح سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟ یہ متعہ نکاح سے کیسے مختلف ہوتا ہے؟
نکاح مسیار، ایسا اسلامی معاہدہء نکاح ہے جس میں ایک خاتون اپنی مرضی سے اپنے بہت سارے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ مثلاً شوہر کے ساتھ رہنا، اگر اسکی ایک سے زائد بیویاں ہیں تو اوقات کی برابر تقسیم، نان نفقہ یعنی شوہر اسے گذر بسر کے لئے کوئ خرچہ نہیں دے گا اگرچہ کہ اسے بھی دونوں فریقین کی مرضی سے معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ رہائش مہیا کرے گا۔ 
 مہر کی رقم فریقین کی مرضی سے طے کی جاتی ہے۔ مہر اسلامی نکاح میں وہ رقم ہے جو لڑکی کو ادا کی جاتی ہے چاہے نکاح کے وقت یا نکاح کے بعد کسی بھی وقت لڑکی کے طلب کرنے پہ۔
یعنی عورت، اپنے والدین کے گھر یا اپنے ذاتی گھر میں رہتی ہے۔ شوہر اس سے ملنے کے لئے جاتا ہے جیسا وقت دونوں فریقین چاہیں منتخب کریں۔
شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے عام طور پہ عورت پالتی ہے۔ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آیا ان بچوں کا باپ کی وراثت پہ حق ہوتا ہے یا نہیں۔
 نکاح کے بعد بیوی اگر ان سب چیزوں کے لئے دعوی کرے تو اسکا دعوی صحیح ہوگا۔ اب اسکا انحصار شوہر پہ ہے کہ وہ اسے نتیجے میں یہ تمام اشیاء دے یا طلاق دے کر چھٹی پائے۔
اس ضمن میں اسلامی علماء کے درمیان اختلاف ہے کچھ اسے اخلاقی طور پہ اچھا نہیں سمجھتے اگرچہ حلال سمجھتے ہیں۔ الالبانی کے نزدیک یہ نکاح اسلامی روح سے متصادم ہے اس لئے ناجائز ہے۔ اسلامی شادی کی روح یہ بیان کی جاتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے سے محبت کریں اور ایکدوسرے سے روحانی خوشی حاصل کریں۔  اگرچہ عملی سطح پہ ہم دیکھتے ہیں کہ محبت کی شادی ہمارے یہاں ایک لعنت سے کم نہیں اور ہم بنیادی طور پہ یہی سمجھتے ہیں کہ اسلامی شادی کا مقصد ایک مرد کی جنسی ضروریات کا حلال طریقے سے پورا ہونا ہے اور عورت محض جنس کا ایک ذریعہ ہے۔ 
 الالبانی کے نزدیک اسکے نتیجے میں ایک خاندان تشکیل نہیں پاتا اور نہ ہی عورت کو تحفظ مل پاتا ہے اور نہ ہی بچے ایک مستحکم خاندان سے آگاہ ہو پاتے ہیں۔ 
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ شادیاں طلاق پہ ختم ہوتی ہیں کیونکہ مرد عام طور پہ یہ شادی اپنی جنسی ضرورت کے لئے کرتا ہے۔
متعہ اور مسیار نکاح میں صرف ایک فرق نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ متعہ ایک مقررہ مدت کے لئے کیا جاتا ہے مدت کے اختتام پہ معاہدے کی تجدید کی جا سکتی ہے۔
 اب فقہے سے ہٹ کر ہم دیکھنا چاہیں گے مسیار نکاح کی ضرورت کیسے وجود میں آئ۔ آج کے زمانے میں یہ عرب ریاستوں بالخصوص سعودی عرب اور مصر میں عام ہے۔ جہاں امیر مرد وقت گذاری کے لئے یہ شادیاں کرتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ بتائ جاتی ہے کہ یہاں عام اسلامی نکاح کے لئے مرد پہ بہت زیادہ معاشی دباءو ہوتا ہے۔
وہ عورتیں جنکی  شادی اس وجہ سے نہیں ہو پارہی ہو کہ کوئ مرد انکی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں مثلاً  بوڑھی یا بیوہ عورتیں یا وہ عورتیں جن پہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہ سب مسیار نکاح سے مستفید ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ اس بات کے امکان زیادہ ہیں کہ یہ مردوں کی زیادہ جنسی آزادی کا باعث بنیں گی اور معاشرے میں خآندانی استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔
یہ عین ممکن ہے کہ یہ نکاح اسلام سے پہلے بھی رائج ہو۔ اسلامی قوانین کی اکثریت عرب کے قبائلی معاشرے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کو اصطلاحی طور پہ تبدیل کیا گیا ہے۔ 
 پاکستان، ہندوستان کے بر عکس عرب میں شادی کے بعد بیوی کو الگ گھر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں مشترکہ خاندانی نظام ہندءووں کے زرعی معاشرے کی وجہ سے آیا جسکا عرب میں کوئ خاص تصور نہیں۔ اگر کوئ پاکستانی، مشترکہ خاندانی نظام کو بہتر سمجھتا ہے تو اسے جان لینا چاہئیے کہ یہ عرب میں نہیں ہوتا۔ اس لئے اسلامی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔
چونکہ اس نکاح کا بنیادی مقصد صرف جنسی ضرورت کو پورا کرنا ہی نظر آتا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جنس کی بڑی اہمیت ہے اور اسے بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ یوں عام اسلامی نکاح کے ساتھ اس قسم کے نکاح کی بھی گنجائش رکھی گئ ہے۔   یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عرب معاشرہ جنس کے معاملے میں اتنا ہی کھلا ہے جتنا کہ مغربی معاشرہ جس کی بے حیائ پہ ہم ہر وقت لعن طعن کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عرب میں یہ باہر گلیوں میں نظر نہِں آتا۔ لیکن گھروں میں یہ اس سے کہیں زیادہ شدید حالت میں موجود ہے۔
قرآن پڑھتے ہوئے بھی میں اکثر سوچتی ہوں کہ جب ایک چھ سال کا عرب بچہ اسے پڑھتا ہوگا تو کیا وہ اسکے معنی نہیں سمجھتا ہوگا قرآن ایک ایسی کتاب جس میں جنس اور شادی کے معاملات کو کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اسکے ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ جب بھی ہمارے یہاں یہ مسئلہ سر اٹھاتا ہے کہ ہائ اسکول یا کالج کی سطح پہ بچوں کو جنس سے آگہی دینا ضروری ہے تو سب سے زیادہ مذہبی حلقے اسکے خلاف شور مچاتے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں؟
آخر ایسا کیوں ہے کہ ویسے تو ہمارے یہاں عرب معاشرتی اقدار کو اسلامی معاشرتی اقدار کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ عرب ثقافت کو اسلامی ثقافت کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔  لیکن جب ان اقدار کی باری آتی ہے جو عرب کے ایک کھلے معاشرے کو پیش کرتے ہیں تو ہم صم بکم ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت ہم عرب معاشرے کو پاکستانی معاشرے سے الگ کیوں سمجھتے ہیں؟

Wednesday, April 4, 2012

تقدس سے باہر-۵

 گذشتہ سے پیوستہ

مکہ کو جو عزت حاصل تھی  وہ کعبے کی وجہ سے تھی۔ اور فوٹون سمجھتا ہے کہ  آج بھی انکی عزت اور تقدس کی وجہ وہی ہے۔ ورنہ اس میں غلط کیا ہے کہ

پڑھتا ہوں تو کہتی ہے یہ خالق کی کتاب
ہے مثل ِ یہودی یہ سعودی بھی عذاب
اس قوم کے بارے میں قمر کیا لکھئے
کعبے کی کمائ سے جو پیتی ہو شراب

 قریش کا خاندان اسکی وجہ سے عرب پہ حکومت کرتا تھا۔ اور ہمسائیگان خدا، بلکہ آل اللہ یعنی خاندان الہی کہلاتے تھے۔انکی عزت کی وجہ یہ تھی کہ وہ کعبہ کے مجاور اور کلیہ بردار تھے۔  اس تعلق سے قریش کا کاروبار پھیلتا گیا۔ یہاں تک کے متعدد محکمے اور بڑے بڑے مناصب قائم کئے گئے۔ اسی وجہ سے خاندان بنو امیہ اور بنو ہاشم  ایکدوسرے کے حریف تھے اور اسلام آنے کے بعد بھی مختلف مواقع پہ ان دونوں قبائل کے اس جدی پشتی رجحان کی وجہ سے فساد ہوئے۔
اس پس منظر میں قریش نے دین اسلام کی مخالفت کی اسکی وجوہات کچھ اس طرح سامنے آتی ہیں۔
اسلام انکے آبائ دین کے خلاف تھا۔ تند خو قوموں کا مزاج ہوتا ہے کہ انکی مخالفت زبانی مخالفت نہیں ہوتی۔ اس لئے انہوں نے ہر طرح کا ظلم روا رکھا۔
اس تسلسل میں آگے دیکھیں تو دوسرا سبب یہ تھا کہ مختلف خداءووں اور کعبے پہ ان کے حق ملکیت کا ایک طلسم قائم تھا جس سے قریش کی عظمت، اقتدار اور عالمگیر اثر کا قائم تھا۔ اسلام کے ساتھ اسکے ختم ہونے کا اندیشہ تھا۔  اس لئے جس کو زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اس  نے زیادہ مخالفت کی۔ یہ تو ہم آجکی سیاست میں بھی دیکھتے ہیں۔
ابو لہب رءوسائے قریش میں شامل تھا۔ اسکے علاوہ بھی  اسلام کےنمایاں  دشمنوں میں رءوسائے قریش نمایاں  نظر آتے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ نبوت کا منصب اگر کسی کو ملنا ہی ٹہرا تو اسکے حقدار مکہ یا طائف کا کوئ رئیس ہونا چاہئیے تھا۔
اسکے علاوہ ریاست کے منتظم کے ساتھ دولت اور اولاد کا ہونا ضروری ہے۔ یہ خیال کیا جاتا رہا کہ جس شخص کے اولاد نہ ہو اسے آخرت میں برکت نہیں مل سکتی۔  اولاد سے مرد کسی شخص کے لڑکے۔ اس لحاظ سے رسول اللہ دونوں اوصاف سے خالی تھے۔ تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ منتظم بن جائیں۔
ایک اور وجہ جو بیان کی جاتی ہے وہ قریش کی عیسائیوں سے بڑی نفرت تھی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ حبش کا جو بادشاہ کعبے کو ڈھانے آیا تھا وہ عیسائ تھا۔  ادھر اسلام اور نصرانیت میں کافی چیزیں مشترک ہیں اس لئے قریش کو خیال ہوا کہ محمد یہاں عیسائیت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ایک اور سبب خاندانی رقابت تھا۔ عتبہ بن ابی معیط جو آپکا سب سے بڑا دشمن تھا اور جس نے نماز کی حالت میں آپ پہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈالی تھی، اموی تھا۔ رسول اللہ کا تعلق بنو ہاشم سے تھا۔ ابو جہل کی ایک تقریر سے اس دشمنی کا پتہ چلتا ہے ایک دفعہ اخنسا بن شریق نے ابو جہل سے رسول اللہ کے بارے میں رائے پوچھی تو اس نے کہا
ہم اور آل بنو ہاشم ہمیشہ حریف رہے۔ انہوں نے مہمانداریاں کیں تو ہم نے بھی کیں، انہوں نے خون بہا دئیے تو ہم نے بھی دئیے۔ انہوں نے فیاضیاں کیں تو ہم نے  ان سے بڑھ کر کیں۔ یہاں تک جب ہم نے انکے کاندھے سے کاندھا ملا دیا تو اب بنو ہاشم پیغمبری کے دعویدار ہیں۔ خدا کی قسم ہم اس پیغمبر پہ ہرگز ایمان نہیں لا سکتے۔
سب سے بڑا سبب یہ بھی تھا کہ رسول اللہ بت پرستی کی برائیوں کے ساتھ انکی کرپشن سے بھی پردہ اٹھاتے جاتے جو انہیں اپنی شہنشاہی کی توہین لگتا۔ مثلاً ابو لہب نے حرم کعبہ کی ملکیت میں سونے کا ایک ہرن تھا اسے نکال کر بیچ ڈالا تھا۔ رءوسائے عرب کی اکثریت جھوٹ بولتی تھی اور یہ دیگر بد اخلاقیوں کا بھی اسی شدت سے شکار تھے۔
کرپشن اور معاشرتی نا انصافی نے معاشرے میں شدید مایوسی پھیلائ ہوئ تھی اور نچلا طبقہ بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہوئے بھی موجود  نہیں تھا۔
ایک سوال یہ بھی اٹحتا ہے کہ آخر قریش نے ابتداء ہی میں رسول اللہ کو ختم کر کے ان سے نجات کیوں نہیں پالی۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ قریش مسلسل جنگوں میں تباہ ہو چکے تھے۔ کیونکہ کوئ بھی لڑائ کسی ایک گروہ تک محدود نہ رہتی نہ ایک نسل تک۔  جب تک اس کا بدلہ نہ لیا جاتا  انتقام کی آگ بجھ نہ پاتی۔ رسول اللہ کے ساتھ ایسا کرنے کی صورت میں پھر ایسی جنگ چھڑ جاتی۔
معاشرہ ویسے ہی غرباء کے لئے سخت تھا۔ رسول اللہ کے اعلان نبوت کے جواب میں ان غرباء اور کمزوروں کی بڑی تعداد نے انکی طرف رخ کیا۔ قریش نے ان پہ سخت مظالم کی انتہا کر دی۔  عالم یہ تھا کہ ابو جہل نے اپنی کنیزحضرت بسینہ کو اتنا مارا کہ انکی آنکھیں جاتی رہیں۔ اسی طرح کے مظالم دیگر غلاموں اور کنیزوں پہ توڑے گئے۔ لیکن پھر بھی انہوں نے رسول اللہ کا ساتھ نہ چھوڑا۔
فوٹون سوچتا ہے کوئ اپنی آخری امید کا جسے اس پہ یقین ہو، اعتماد ہو کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا۔
ان سب حالات کے مطالعے کے بعد فوٹون یہ دیکھتا ہے کہ مجموعی طور پہ عرب کے حالات اس نہج کے تھے ک ان میں کسی مصلح کا اٹھنا ضروری ہو گیا تھا۔ اور اس موقع پہ رسول اللہ نے بڑی حکمت سے اس قوم کو نئ سمت دی۔

جاری ہے
نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جس کتاب سے مدد لی گئ ہے وہ مولانا شبلی نعمانی کی  سیرت النبی ہے۔ اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب۔

شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
  

Monday, March 5, 2012

تقدس سے باہر-۴



ایک انتہائ پسماندہ اور غریب معاشرے میں رسول اللہ نے جنم لیا۔ دنیا جنہیں محمد کے نام سے جانتی ہے۔ خود انکے ابتدائ حالات خاصے مخدوش رہے۔ انکا تعلق بنو ہاشم کے قبیلے سے تھا جو قریش میں افضل قبیلہ سمجھا جاتا تھا لیکن عبدالمطلب کے انتقال کے بعد انکے حالات بھی بہتر نہ رہے۔
 والد کا انتقال آپکی پیدائش سے پہلے ہو گیا۔ عرب روایات کے تحت آپکی پرورش ماں سے الگ ایک دیہاتی علاقے میں ہوئ۔ چھ سات سال کی عمر میں والدہ کے پاس پہنچے لیکن چند مہینوں کے بعد انکا بھی انتقال ہو گیا۔ دادا نے کفالت سنبھالی لیکن جلد ہی وہ بھی داغ مفارقت دے گئے لیکن اپنے بیٹے ابو طالب کو بھتیجے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے گئے۔ عبدالمطلب کے انتقال کے بعد حالات تبدیل ہوئے بنو ہاشم کے رتبے میں کمی آگئ اور حریف خاندان بنو امیہ حاوی آگیا۔
دس بارہ برس کی عمر میں آپ بکریاںچرایا کرتے تھے۔ جو کہ عربوں کا اہم پیشہ تھا۔ تقریباً بارہ برس کی عمر میں اپنے چچا  ابو طالب کے ساتھ تجارت کا سفر کیا۔
اس سفر میں وہ واقعہ پیش آیا جسے مختلف راویوں نے بیان کیا ہے۔ یہ عیسائ راہب بحیرہ سے ملنے کا واقعہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بحیرہ نے آپکی نبوت کی پیشن گوئ کی تھی۔ یوروپین موءرخین کا کہنا ہے کہ یہاں سے محمد نے مذہب کے حقائق و اسرار سیکھے۔ اور ان بنیادی نکات پہ اسلام کی بنیاد رکھی۔ شبلی تو اس واقعے کے پیش ہونے کے بارے میں بھی شک رکھتے ہیں۔
بہر حال یہ بات تو ثابت ہے کہ تجارت کی غرض سے آپ نے کافی ممالک کے دورے کئے اور مختلف طرز معاشرت کا نہ صرف ذاتی تجربہ کیا بلکہ لوگوں سے معلومات بھی لیں۔ فوٹون کے خیال میں  آپ جیسے ذہین شخص نے ان تمام معاشروں  کے تناظر میں اپنے معاشرے کو  دیکھا ہو گا اور یہ اندازلگایا ہوگا کہ انکے معاشرے کی تنزلی کے اسباب کیا ہیں۔
دعوی ء نبوت سے پہلے آپکے معمولات میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ایک پہاڑی غار میں تنہا وقت گذارنے کا عمل شامل تھا۔ ایک مغربی مءورخ اسے اس  طرح بیان کرتا ہے۔
سفر و حضر میں ہر جگہ محمد کے دل میں ہزاروں سوال پیدا ہوتے تھے۔ میں کیا ہوں؟ یہ غیر متناہی عالم کیا ہے؟ نبوت کیا شے ہے؟ میں کن چیزوں کا اعتقاد کروں؟ کیا کوہ حرا کی چٹانیں، کوہ طور کی سر بفلک چوٹیاں، کھنڈر میدانکسی نے ان سوالوں کا جواب دیا۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ گنبد گرداں گردش لیل و نہار، چمکتے ہوئے ستارے، برستے ہوئے بادل کوئ ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکا۔
اس ساری فکر کو  ہم اپنے مذہب کے لحاظ سے دیکھیں تو عبادت جیسی چیز تک محدود کر دیتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ نبوت جیسی پر اسرار طاقت اللہ نے آپکو دینے سے پہلے سے عبادت کا عادی بنایا۔ جبکہ فوٹون جیسا غیر مذہبی شخص  اسے انکی دانش سے منسلک کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ انہوں نے اس تمام عرصے میں یکسو ہو کر سوچ و بچار کی کہ وہ اپنی قوم کو اس جہالت اور غربت سے کیسے نکالیں۔
بطور نبی آپ اپنی قوم کو حضرت موسی کی طرح لے کرکسی اور ملک نکل جاتے یا حضرت عیسی کی طرح صرف تبلیغ پر اکتفا کرتے۔ لیکن آپکو عرب کی بہتری کے لئے، عرب میں رہ کر  کام کرنا تھا ااور اسکے لئے تدبراور تدریج کی ضرورت تھی۔
انکے اس تفکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب کا انسان کی نفسیات اور اعمال پہ گہرا اثر ہوتا ہے اور مذہبی نظریات کے ذریعے اسے سدھانا آسان ہوتا ہے۔ خاس طور پہ اگر اسے یہ ترغیب دی جائَ کہ اچھے اعمال کا مرنے کے بعد اچھا ہو گا اور برے اعمال کے نتیجے میں مرنے کے بعد برا نتیجہ ہوگا۔ مرنے کے بعد ایک ابدی زندگی ہے جس میں انسان اپنے اعمال کے نتائج بھگتے گا۔ یہی نہیں بلکہ ایک ایسا مذہب جو کسی ایک نکتے کے گرد گھومتا ہو وہ انسانوں کو زیادہ متحد کر سکتا ہے یوں توحید کا نظریہ، شرک کے نظرئیے پہ حاوی ہوجاتا ہے۔ کئ خداءووں کے بجائے ایک خدا انسانوں کو ایکدوسرے کے قریب کر سکتا ہے۔ شرک کی ہر طرح سے مذمت کی گئ اور توحید کو ہر طریقے سے مضبوط بنانے کے لَئے جدو جہد کی گئ۔ شرک کی مذمت اور توحید کی مضبوطی کے ساتھ ہی عرب کو اس بات کے لئے تیار کیا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے پرانے رسم و رواج کی زنجیریں توڑ ڈالے۔ اور مذہب اس سلسلے میں سب سے کڑا امتحان ہوتا ہے۔ اس لئے پہلی کاری ضرب مذہبی نظریات پہ لگی۔
 فوٹون اپنے خیال کی تصدیق کے لئے دیکھتا ہے  کہ جب رسول اللہ اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں تو اس میں جو لوگ ابتداء میں داخل ہوتے ہیں  ان میں ایک امر مشترک تھا کہ وہ قریش کے مناصب اعظم میں سے کوئ منصب نہ رکھتے تھے۔  اس معاشرے کے غریب اور پسے ہوئے لوگ تھے جنکی معاشرے میں کوئ حیثیت نہ تھی۔ مثلا عمار، خباب، ابو فکیہہ، صہیب وغیرہ کو دولت و جاہ کے دربار میں جگہ نہیں مل سکتی تھی۔ اس بناء پہ رسول اللہ کا مذاق اڑایا جاتا کہ یہ ہیں انکے ماننے والے۔ قریش کے رئیس ہنس کر کہتے
یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم لوگوں کو چھوڑ کر احسان کیا ہے۔ سورہ انعام ۱
اہل قریش کے نزدیک انکا افلاس انکی تحقیر کا باعث تھا جبکہ اسی کی وجہ سے وہ حلقہ ء اسلام میں سب سے پہلے داخل ہوئے۔ انکو یہ ڈر نہ تھا کہ اگر اسلام میں داخل ہو گئے تو کوئ منصب جاتا رہے گا۔ ان کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ تھا اگر وہ جیت جاتے تو معاشرے میں انکی حیثت قائم ہوجاتی ورنہ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور بنا دئیے جاتے۔


جاری ہے ۔

نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جن کتب سے مدد لی گئ ہے وہ یہ ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی، اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم جسکے پبلشر ہیں المکتبہ السلفیہ لاہ


شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
الرحیق المختوم یہاں سے ڈاءونلوڈ کریں۔۔

Saturday, February 11, 2012

تقدس سے باہر-۳


عرب معاشرہ اس وقت بنیادی طور پہ جن مسائل کا شکار تھا وہ معاشرتی اور معاشی دونوں تھے۔
معاشرتی مسائل دراصل معاشی حالات کی دین تھے یا جیسا کہ قبائلی نظام کا خاصہ ہوتا ہے انسان کی آزاد روی کو روکنے کے لئے وہ شخصی بت تراشتی ہے اور عام انسان کی قدر کم کرتی ہے۔ یہ قبائلی معاشرہ جیسا کہ دنیا کے بیشتر حصوں میں رواج ہے مرد کی سربراہی میں چلتا تھا۔ ایسے میں اگر عورت کی کوئ حیثیت متعین ہوتی تھی تو وہ بھی مرد کی نسبت سے۔ اور مرد سے اسکا ایک تعلق مسلم سمجھا جاتا ہے وہ ہے جنسی تعلق۔
سو اس عرب معاشرے میں عورت کی حیثیت جنس کے گرد گھومتی تھی۔  اگر اسے کچھ قبائل میں عزت حاصل تھی تو اسکی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسکی طرف مرد کا جنسی التفات زیادہ ہوتا تھا۔  یوں قبائل کے درمیان اگر عورت کی وجہ سے جنگ بپا ہوجاتی تو اسی کی وجہ سے امن بھی قائم ہوجاتا۔
طبقہ ء اشرافیہ میں عورت کے لئے ضروری تھا کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہ کرے۔   اسکے علاوہ جنسی تعلق کے جو طریقے رائج تھے وہ نہ صرف آجکے اسلامی معاشرے میں زنا کی ضمن میں آتے ہیں بلکہ انکا مقصد بھی عیاشی یا جنس تک سستے طریقے سے پہنچنے کے علاوہ کچھ نہیں لگتا۔
عورت اپنے مرد کی جاگیر تصور کی جاتی یہی وجہ ہے کہ جنگ میں ہارنے والے فریق کی عورتیں فاتح قوم کے حرم میں داخل کی جاتیں۔ باپ کے مرنے پہ ماں بیٹے کی ملکیت تصور ہوتی۔
یہ تو آزاد عورتوں کا حال تھا۔  عرب قبائلی نظام میں لونڈیوں اور غلاموں کا رواج بھی تھا۔ لونڈی صرف گھریلو امور میں مددگار نہ ہوتی بلکہ چونکہ اسکی حیثیت ایک فروخت شدہ انسان کی ہوتی اس لئے مالک جب چاہے اس سے جنسی تعلق قائم کر لیتا۔ پیدا ہونے والی اولاد کا مرتبہ آزاد عورت سے پیدا ہونے والی اولاد کے مقابلے میں  کم ہوتا۔ اس سب کے بعد مالک جب چاہے اسے کسی بھی نئے مالک کے حوالے کر سکتا تھا۔

معاشرے میں مرد کی اہمیت مسلم تھی اور اولاد سے مراد بالعموم مرد اولاد ہوتی تھی۔ لڑکیوں کو اولاد تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ اس لئے اگر ایک شخص کی درجن بھر بیٹیاں ہوتیں اور لڑکا نہ ہوتا تو اسے بے اولاد ہی سمجھا جاتا۔ جیسا کہ سورہ کوثر میں اللہ تعالی ، رسول اللہ کو تسلی دیتے ہیں کہ تمہارا دشمن ہی بے اولاد مرے گا۔ حالانکہ اس وقت رسول اللہ کی بیٹیاں موجود تھیں۔ لیکن بیٹے کی وفات پہ رسول اللہ کے غم کو ہلکا کرنے کے لئے یہ الفاظ کہے گئے۔ اگر ہم فوٹون کی نظر سے دیکھیں تو یہ رسول اللہ کی وہ کوشش لگتی ہے جو انہوں نے معاشرے میں خواتین کی حیثیت بلند کرنے کے لئے کی۔ یعنی انسان کا نام اور عزت اولاد کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ اسکے اپنے اعمال اسے اس قابل بناتے ہیں کہ لوگ اسے تا دیر عزت اور احترام سے یاد رکھیں۔ اس لئے قرآن کی زبانی یہ کہا گیا کہ بے شک تمہارا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔ وہ دشمن جو نبی کی اس جدو 
جہد میں رکاوٹ تھے جو وہ اس معاشرے کے گرے پڑے، کمزور انسانوں کے لئے کر رہے تھے۔ 

زیادہ بیٹے زیادہ عزت کا باعث ہوتے کیونکہ قبائلی جنگوں میں وہ لڑنے کے کام آتے تھے۔ زیادہ لڑکے، زیادہ لڑنے والے ہاتھ زیادہ جان کا نذرانہ پیش کرنے والے لوگ۔ جبکہ لڑکیاں اس صورت میں زیادہ کار آمد نہ ہوتیں سوائے اسکے جنگ کے میدان میں مردوں کے حوصلے بڑھانے کے لَئے جنگی گیت گائیں یا زخمی سپاہیوں کی دیکھ ریکھ کر لیں۔ معاشرہ اس قدر زیادہ مرد کے حق میں بڑھا ہوا تھا کہ غیرت کو بنیاد بنا کر بعض قبائل میں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا۔
جنگ ان قبائل کا پسندیدہ مشغلہ تھی اور انکی اقتصادی حالات کی خرابی کا ذمہ دار بھی۔ زراعت اور گلہ بانی دو ممکنہ ذرائع آمدنی تھے۔ عرب کا یہ خطہ زراعت کے حساب سے اتنا زرخیز نہیں تھا کہ اس پہ انحصار کیا جا سکتا۔ اس لئے آمدنی کا بڑا ذریعہ تجارت تھی یا زائرین جو مکہ آیا کرتے تھے۔
جہاں تک صنعتوں کا تعلق ہے عرب اس میدان میں ساری دنیا سے پیچھے تھے۔ اگر کسی جگہ کپڑے کی بنائ یا چمڑے کی دباغت کی ابتدائ صنعتیں پائ جاتی تھیں تو یہ وہی علاقے تھے جو زیادہ جدید تہذیبوں کے قریب واقع تھیں۔ عرب کے اس خطے میں بالکل موجود نہ تھیں۔  خواتین بھی اپنے طور پہ اس معاشی جدو جہد کا حصہ تھیں وہ سوت کاتنے کا کام کرتیں اور آمدنی پیدا کرتیں۔ لیکن تین قابل احترام مہینوں کو چھوڑ کر سال کے نو مہینے جاری رہنے والی جنگ پہ بیشتر آمدنی لٹا دی جاتی اور یوں عام انسان فقر اور فاقے سے باہر نہ نکل پاتا فقر کا عالم یہ تھا کہ پہننے کو کپڑے اور کھانے کو خوراک موجود نہ تھی۔
جنگ اس قدر دلچسپ مشغلہ تھا کہ عربی ادب کا ایک بڑا حصہ اسکے لئے وقف تھا۔ اس میں جنگوں کے حالات سچ جھوٹ ملا کر لکھے جاتے اور اپنے قبائل کے بہادر جنگی لوگوں کی تعریفوں کی شان میں قصیدے کہے جاتے تاکہ قوم میں لڑنے کا جذبہ قائم رہے۔ شعراء کی اس لئے عرب معاشرے میں بڑی حیثیت تھی۔ جنگ کے یہ قصےمغازی کہلاتے تھے۔
یوں اس معاشرے کی جو بنیادی خرابیاں فوٹون کو سمجھ میں آتی ہیں وہ اقتصادی، جنگی اور جنسی افراط و تفریط ہے۔ ان کا 
شرک یا توحید سے کیا تعلق بنتا ہے؟ فوٹون اس پہ سوچتا ہے فوٹون جو اپنے بنیادی نظریات میں ایک لا دین شخص ہے۔


جاری ہے۔

نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جن کتب سے مدد لی گئ ہے وہ یہ ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی، اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم جسکے پبلشر ہیں المکتبہ السلفیہ لاہ


شبلی نعمانی کی سیرت النبی یہاں سے ڈاءونلوڈ کیجئیے۔
الرحیق المختوم یہاں سے ڈاءونلوڈ کریں۔

Thursday, February 2, 2012

تقدس سے باہر-۲

گذشتہ سے پیوستہ

اس مقام پہ یہ ضروری لگتا ہے کہ ہم اپنے بنیادی کردار کا کوئ نام رکھ لیں۔ فوٹون کیسا ہے؟ فوٹون دراصل روشنی کے وہ یونٹس ہوتے ہیں جن میں وہ سفر کرتی ہے۔  روحانیت کہتی ہے کہ یہ کائینات روشنی سے بنی ہوئ ہے حتی کہ خدا بھی ایک نور ہے۔
سائینس کہتی ہے کہ انسان ان ستاروں سے بنا ہوا ہے جو اربوں سال پہلے ختم ہو چکے ہیں۔ تو یہ روشنی میں بھی ہوں اور آپ بھی۔
فوٹون، عرب کے اس تعارف کے بعد آگے بڑھتا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ رسول اللہ کی بعثت کے وقت عرب میں رائج مذاہب کون سے تھے اور کیا اسلام ان سب سے الگ کوئ اجنبی دین تھا جو آیا اور چھا گیا۔
عرب میں اس وقت مختلف طرح کے مذہاب رائج تھے۔ بعض قوانین فطرت کو سب کچھ سمجھتے تھےبعض خدا کے قائل تھےلیکن قیامت اور جزا و سزا کے انکار کرنے والے، بعض جزا و سزا کے بھی قائل تھے لیکن نبوت سے انکاری۔ قرآن کے الفاظ میں یہ کیسا رسول ہے کہ کھاتا پیتا ہےاور بازار میں چلتا پھرتا ہے۔ انکا خیال تھا کہ اگر کوئ نبی ہو سکتا ہے تو اسے فرشتہ ہونا چاہئیے تمام حاجات انسانی سے مبرّا۔ فوٹون سمجھتا ہے کہ چونکہ انسان نبی کو ایک خدائ نمائندہ سمجھتا ہے اس لئے وہ اسے انسان اور خدا کے مابین کوئ مخلوق ماننا چاہتا ہے۔
اس طرح سے مختلف قبائل تھے جو مختلف ستاروں اور سیاروں کی پرستش کیا کرتے تھے۔مشہور بتوں کے نام تھے۔ لات، عزّی، منات،ودّ، سواع، یغوث، یعوق۔ سب سے بڑا بت 'ہبل' تھا۔ جو کعبے کی چھت پہ نصب تھا۔ قریش لڑائیوں میں اسکی جے پکارتے تھے۔ جیسے آجکل مسلمان لڑائیوں میں اللہ اکبر یا شیعہ یا علی کہتے ہیں۔ فوٹون کو اس نام پہ ہبل ٹیلی اسکوپ یاد آجاتی ہے۔ لیکن وہ اپنے اس خیال کو جھٹک دیتا ہے۔ جدید دنیا کے یہ آلات خدا نہیں ہیں اگرچہ ہبل ٹیلی اسکوپ کائینات کے عظیم راز کھولتی ہے لیکن وہ انسان کی بس ایک مددگار ہے۔ اسکا خدا نہیں۔ انسان اسکے مشاہدے سے اپنے نتائج اخذ کرتا ہے اور یہ مشین اس میں دخل اندازی نہیں کرتی۔ دیکھا جائے تو ہبل کا بت اس سے بھی کم تر تھا۔ مگر انسانی یقین نے اسے خدا بنا رکھا تھا۔
عرب میں اس بت پرستی کا بانی ایک شخص عمرو بن لحئ کو بتایا جاتا ہے۔ وہ حرم کا متولی تھا۔ اس سے پہلے جرہم حرم کے متولی تھے۔ عمرو نے ان سے لڑ کر انہیں نکال باہر کیا۔
خانہ کعبہ کی عرب سیاست اور معاشرے میں بڑی اہمیت تھی۔ جن قبائل کو اسکے انتظام کے لئے مناسب حاصل تھے دراصل اسکی حکومت ہوتی تھی۔ حج کے لئے آنے والے زائرین کی آمد سے علاقے کے لوگوں کو آ٘مدنی ہوتی تھی۔ آج بھی حج کے لئے آنے والے زائرین سعودی عرب کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہیں۔ اگرچہ بیسویں صدی کے وسط میں تیل کی دریافت نے انکی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ اس وقت اسکے لئے بھی قوانین بنائے ہوئے تھے مثلاً بیرون حرم سے شہر آنے والے اپنا کھانا نہیں لا سکتے تھے۔ کہ اسکا کھانا مذہب کی رو سے درست نہ ہوتا۔ کپڑوں کے لئے یہ کہ  حمس سے کپڑوں کے علاوہ اگر کپڑے نہ ہوں تو طواف برہنہ کرنا پڑتا۔
بہر حال عمرو ایک دفعہ شام گیا وہاں لوگوں کو بتوں کی پوجا ہوتے دیکھی۔ حیران ہوا اور دریافت کیا کہ یہ ماجرا کیا ہے۔ لوگوں نے کہا یہ حاجت روا ہیں، لڑائیوں میں فتح دلاتے ہیں، قحط پڑتا ہے تو پانی برساتے ہیں۔ عمرو حرم کا متولی تھا اور فوٹون کو لگتا ہے کہ خاصہ ذہین بھی اسنے وہاں سے چند بت لئے اور اور کعبے کے آس پاس قائم کئے۔ شاید وہ سمجھتا تھا کہ اس سے کعبے کی اہمیت اور بڑھے گی اور چونکہ وہ کعبے کا متولی ہے اس لئے اسے زیادہ فائدہ ہوگا۔
کعبہ ایک بڑی عبادت گاہ ہونے کی وجہ سے اہمیت رکھتا تھا۔ اسکی اہمیت حضرت ابراہیم سے منسوب ہونے کی وجہ سے بھی تھی۔ وہاں سارے عرب سے قبائل آیا کرتے تھے۔ یہ قبائل جب یہاں حج کو آتے تو واپس جاتے ہوئے حرم کے پتھر اٹھا لیتے۔ ان پتھروں کو با برکت سمجھتے ہوئے ان پہ کعبے میں موجود بتوں کی شکل تراشتے اور انکی عبادت کرتے۔ اس طرح سے بت پرستی یہاں سے نکل کر سارے عرب میں پھیل گئ۔
کیا اللہ اسلام کا متعارف کرایا ہوا معبود  ہے؟
اگرچہ کہ عرب بت پرست تھے۔ لیکن انکے دل سے یہ خیال کبھی نہیں گیا کہ برتر اور عظیم قوت ان سب سے الگ ہے اور وہ ایک ہے۔ تمام مشرک قومیں ایک برتر قوت کا تصور رکھتی ہیں۔ ہندو بھی جسے بھگوان کہتے ہیں وہ کائینات کی سب سے عظیم قوت ہے۔ اس خالق کو وہ اللہ کہتے تھے۔ قرآن انکی اس کیفیت کو اس طرح بیان کرتا ہے
پھر جب یہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ ہی کو خلوص کے ساتھ پکارتے ہیں پھر جب خدا انکو نجات دے کر خشکی کی طرف پہنچا دیتا ہے تو تو شرک کرنے لگتے ہیں [ عنکبوت، ۴]۔
مئورخین کہتے ہیں کہ اللہ جو صفا کے کتبوں میں ہلّہ لکھا ہوا ہے۔ نباتی وہ دیگر باشندگان عرب شمالی کے نام کا ایک جز تھا مثلاً زید اللہی۔۔۔۔۔۔۔۔ نباتی کتبات میں اللہ کا نام ایک علیحدہ معبود کے طور پہ نہیں ملتا۔ لیکن صفا کے کتبات میں ملتا ہے۔ متاخریرین مشرکین مکہ میں اللہ کا نام عام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کانام جو پہلے مختلف معبودوں کے لئے استعمال ہوتا تھا رفتہ رفتہ بعد کے زمانے میں صرف ایک عظیم معبود  کے لئے بطور علم کے مخصوص ہو گیا۔
فوٹون نے سوچا، ارے یہ کیا اللہ نام کا معبود تو پہلے سے موجود تھا۔
نصرانیت یعنی عیسائیت، یہودیّت اور مجوسیت یہ تینوں مذاہب بھی عرب میں ایک خاصی مدت سے موجود تھے۔ عیسائیت اتنی ترقی کر چکی تھی کہ مکہ میں ایسے لوگ موجود تھے جو عبرانی زبان میں انجیل پڑھ سکتے تھے، مثلاً ورقہ بن نوفل جنہوں نے پہلی وحی کے بعدرسول اللہ کی نبوت کی تصدیق کی۔ متعدد ایسے لوگ تھے جنہوں نے ملک شام جا کر اسکی تعلیم پائ تھی۔ یہودیوں کے متعدد قبائل تھے  حتی کہ یہود نے مدینہ پہ قابو پا لیا تھا۔ تورات کی تعلیم کے لئے متعدد درسگاہیں قائم تھیں  جن کو بیت المدارس کہتے تھے۔ قلعہ خیبر کی تمام آبادی یہودی تھی۔
اہل کتاب کی روائیتیں مکہ میں رواج پا چکی تھیں۔ اس لئے قرآن کے وہ واقعات جن میں بنی اسرائیل کا تذکرہ ہوتا کفار انکے متعلق کہتے کہ کوئ یہودی محمد کو یہ سب سکھاتا ہے۔
ان سب کے علاوہ دین ابرہیمی بھی موجود تھا یعنی وہ دین جوتوحید خالص پہ مبنی تھا۔ ایسے صاحب عقل لوگ موجود تھے جو بت پرستی کو ایک برائ سمجھتے تھے اور حق کی تلاش میں تھے۔
ابن اسحق نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ کسی بت کے سالانہ میلتے میں ورقہ بن نوفل، عبداللہ بن حجش، عثمان بن ایحویرث اور زید بن عمرو شریک تھے دفعتاً ان لوگوں کے دل میں خیال آیا کہ یہ کیا بیہودہ پن ہےکہ ہم ایک پتھر کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ جو نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے نہ کسی کا نقصان کر سکتا ہے نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔  اگرچہ اس مرحلے پہ فوٹون ایک لا دین ہونے کے ناطے یہ  سوچتا ہے کہ ایک ان دیکھا واحد خدا بھی تو یہ سب نہیں کرتا پھر وہ لوگ کس خدا کو تلاش کرنا چاہتے تھے؟
یہ چاروں قریش کے خاندان سے تھے۔ ورقہحضرت خدیجہ کے پھوپھی زاد بھائ، زید حضرت عمر کے چچا، عبداللہ حضرت حمزہ کے بھانجے، عثمان عبدالعزی کے پڑ پوتے تھے۔
زید بنعمرو دین ابراہیمی کی تلاش میں شام گئے وہاں یہودیوں اور عیسائ پادریوں سے ملے مگر تسلی نہیں ہوئ۔ دل میں کہا کہ میں دین ابراہیم کا مذہب قبول کرتا ہوں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ نے نبوت سے پہلے حضرت زید کو دیکھا تھا۔ اور ان سے دوستی بھی تھی۔ یہ وہ صاحب تھے کہ جب کوئ اپنی بیٹی کو زندہ دفن کرنے کا ارادہ کرتا تو اس سے بچی کو مانگ لیتے اور خود اسکی پرورش کرتے۔
انکے علاوہ باقی تینوں لوگ عیسائ ہو گئے۔
بعثت رسول کے قریب امیہ بن ابی الصلت نامی طائف کا ایک مشہور رئیس اور شاعر تھا۔ وہ بھی بت پرستی کا شدید مخالف تھا۔ کتابوں میں مذکور ہے کہ امیہ نے آسمانی کتابیں پڑھی ہوئ تھیں اور دین ابراہیمی  اختیار کر لیا تھا۔
امیہ کا دیوان اب بھی موجود ہے۔ وہ غزوہ ء بدر تک زندہ رہا۔ عتبہ جو رئیس مکہ اور امیر معاویہ کا نانا تھا  جب مسلمانوں کے خلاف جنگ میںمارا گیا تو امیہ نے ایک پر درد مرثیہ لکھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وجہ سے امیہ نے اسلام قبول نہیں کیا۔
رسول اللہ کو امیہ کی شاعری پسند تھی اور اسے سنتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، 'امیہ مسلمان ہوتے ہوتے رہ گیا'۔ یہ شاید امیہ کی شاعری میں موجودان نظریات کی وجہ سے تھا جس کی جھلک اسلام کے بنیادی نظریات میں نظر آتی ہے۔ فوٹون نے خیال کیا۔ رسول اللہ پہ تنقید کرنے والے ایک طبقے کا خیال ہے کہ محمد نے اپنے بنیادی نظریات ایسے ہی مقامات سے لئے۔
دین ابراہیمی کو ہی دین حنیفی بھی کہا جاتا ہے۔ کیوں کہا جاتا ہے اسکے بارے میں قطعیت سے نہیں کہا جا سکتا۔  ایک رائے یہ ہے کہ حنیف، حنف سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے انحراف۔ مفسرین کے نزدیک چونکہ بت پرستی سے انحراف ہے اس لئے حنیفی کہلایا۔ ایک اور رائے میں عبرانی اور سریانی زبان میں حنیف کے معنی منافق یا کافر کے ہیں۔  ممکن ہے کہ یہ لقب بت پرستوں نے دیا ہو اور توحید پرستوں نے فخریہ قبول کیا۔
ان کے علاوہ چند لوگ اور تھے جو اس وقت بت پرستی سے منکر ہو چکے تھے۔ اس بناء پہ اہل یوروپ کا کہنا ہے کہ توحید خالص کا تصور اسلام سے پہلے عرب میں موجود تھا۔ شبلی صاحب ایک حیرانی میں پوچھتے ہیں کہ پھر اسلام کے ظہور پہ اتنا ہنگامہ کیوں ہوا؟
فوٹون اس مرحلے پہ سمجھتا ہے کہ توحید خالص کے لئے تحریک چلانے والی سوچ بعثت نبوی سے پہلے پیدا ہو چکی تھی سوال یہ تھا کہ پہلا پتھر کون مارے؟ لیکن فوٹون کے لئیے اہم بات یہ ہے کہ آخر اس تصور کے حق میں تحریک چلانے کی ایسی کیا ضرورت آ پڑی تھی؟ 


نوٹ؛ اس تحریر کی تیاری میں جن کتب سے مدد لی گئ ہے وہ یہ ہیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی کتاب سیرت النبی، اسکے پبلشر ہیں الفیصل ناشران و تاجران کتب اور مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی الرحیق المختوم جسکے پبلشر ہیں المکتبہ السلفیہ لاہور۔

Saturday, October 8, 2011

امن اور خواتین

آج کی تازہ خبر اب شام کے سات بجے پرانی ہو چکی ہے مگر فیس بک پہ کسی نے بھی اس بارے میں سانس تک نہیں لی تو مجھے اندازہ ہوا کہ آجکی تازہ خبر پاکستان نہیں پہنچی۔
پہنچ بھی کیسے سکتی ہے اس خبر میں دو نقص ہیں۔ ایک تو یہ خواتین کی کامیابی کی داستانوں میں سے ہے اور دوسرا یہ امن سے بھی تعلق رکھتی ہے۔
پاکستان میں خواتین سے متعلق جو خبرجگہ لیتی ہے وہ کسی مغربی ملک میں چہرے کے حجاب پہ پابندی کی خبر ہوتی ہے۔ اپنی بیٹی کو ناشتہ کراتے ہوئے میں نے یونہی سرسری سی نظر اخبار پہ ڈالی تو بزنس ریکارڈر اور ڈان دونوں کے اولیں صفحے پہ یہ خبر موجود تھی کہ اس سال امن کا نوبل انعام تین خواتین کے حصے میں آیا ہے۔ ان میں دو خواتین ایلن جونسن اور لیماہ گبووی افریقہ کے ملک لائبیریا سے تعلق رکھتی ہیں۔ جبکہ تیسری خاتون نہ صرف عرب ہیں بلکہ مسلم ہیں اور یمن سے تعلق رکھتی ہیں توکل کرمان۔


بہتّر سالہ ایلن جونسن، لائبیریا کی پہلی منتخب جمہوری صدر ہیں۔ لائبیریا، سن انیس سو انّاسی سے خانہ جنگی کا شکار ملک ہے خانہ جنگی جس نے  تقریباً دو لاکھ لوگوں کو نگل لیا۔ دو ہزار تین میں ایلن جونسن کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے حالات میں خاطر خواہ تبدیلی آئ ہے۔
دوسری خاتون،  خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی لیماہ رابرٹا گبووی بھی اسی ملک سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے ملک کی مسلم اور عیسائ خواتین کو متحد کیا تاکہ وہ ملک کے حالات بدلنے کے عمل میں حصہ لے سکیں۔ اس سے پہلے انہوں نے زنا کے خلاف بھی ایک لمبی مہم میں حصہ لیا۔ انکے پانچ بچے ہیں۔ 
عرب خاتون توکل کرمان المخلافی جوکہ یمن کےآمرانہ نظام  کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ انہوں نے صدر عبدالصالح کے خلاف احتجاجات کو منظم کرنے میں بھرپور حصہ لیا۔  انکے تین بچے ہیں۔ نوبل انعام کی کمیٹی کے خیال میں عرب ممالک میں آنے والی تبدیلی کی لہر وہاں کی خواتین کے مرہون منت ہے۔
یہ عرب اور افریقہ سے نکل کر ہم اپنے ملک کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہم بھی تو تیس سال سے جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہماری عورتوں کو کیوں خیال نہیں آتا کہ انکے بچے  محض جنگ کا ایندھن بننے کے لئے پیدا نہیں ہوتے۔  یہ جنگ ہو یا قدرتی آفات سب سے زیادہ مصائب کا شکار کون ہوتا ہے عورت۔ جب گھر کا کمانے والا نہیں رہتا تو ایک جاہل اور معاشی طور پہ کمزور بدحال عورت کو کن اندوہناک حالات سے نہیں گذرنا پڑتا۔ 
ایک عورت جس نے گھر کی چہار دیواری کے علاوہ دنیا ہی نہیں دیکھی ہوتی سیلاب اور زلزلے سے گذرنے کے بعد جب لاوارث ہوتی تو کیسی قیامت اس پہ گذرتی ہے کیا اسکا اندازہ کوئ لگا سکتا ہے۔
ایک عورت کس طرح تڑپ تڑپ کر زچگی کے دوران جان دیتی صرف اس لئے کہ اسے کوئ طبی امداد نہیں دینے والا ہوتا۔
 آخر اسے کیوں نہیں خیال آتا کہ وہ بھی اپنے ملک میں امن  کے قیام اور خوشحالی کی جدو جہد میں حصہ لے سکتی ہے۔ معاشرے کے امن استحکام اور خوشحالی کا مطلب اسکے لئے ایک آسان،  دکھ اور اذیت سے آزاد زندگی ہوتا ہے۔
آخر وہ کب تک اس سماج کے بنے ہوئے ظالمانہ نظام کا حصہ بنی رہے گی؟
آپ نے دیکھا، یہ خواتین جو اپنے بچوں کی ماں بھی ہیں وہ کس طرح اپنے اردگرد کی دنیا کو اپنے بچوں کے لئے محفوظ بنا رہی ہیں۔  آخر ہم کب اس بات پہ جمع ہونگے کہ ہمارے بچوں کو بھی ایک پُر امن معاشرہ نصیب ہو۔ وہ نام نہاد جہاد اور ٹارگٹ کلنگ میں نہ مارے جائیں، انہیں سیلاب کے پانیوں کا کفن نہ نصیب ہو اور نہ اپنے جسموں کو بم سے اڑائیں۔
  اے میرے دیس کی آدھی آبادی تم بھی اپنی بقاء کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔ ہمیں بھی امن چاہئیے۔ ہم بھی جینا چاہتے ہیں۔ ہم بھی اس سرزمین پہ لہلہاتے پھولوں کے درمیان اپنے بچوں کو پھلتے پھولتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں بھی جانوروں جیسے نہیں انسانوں جیسے حقوق چاہئیں۔ ہم بھی اپنے اوپر ظلم کرنے والوں کے لئے سزا چاہتے ہیں۔ آخر ہم ان سب سے دور کیوں رہیں۔
آپ نے دیکھا ، ان عورتوں کے بھی گھر ہیں بچے ہیں، گھریلو زندگی ہے لیکن کیا یہ چیز انکے راستے کی دیورا بنی۔
یقین رکھیں اس ملک میں امن اب خواتین ہی لا سکتی ہیں۔ اور انہیں اسکا حصہ بننا پڑے گا، جان رکھیں آنے والا زمانہ خواتین کی مضبوطی کا زمانہ ہے۔ انہیں اپنی انتظامی صلاحیتوں کو اپنے علم اور زندگی کے عملی تجربات سے نکھارنا ہوگا۔ 
دوسری طرف ہمارے ملک میں بھی امن اورخوشحالی کے تمام منصوبوں میں خواتین کو واضح طور پہ شامل کیا جائے انکی تعداد کو بڑھایا جائے جس میں معاشرے کے ہر طبقے سے خواتین کی نمائیندگی لی جائے۔ تاکہ یوں نہ ہو کہ طبقہ ء اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے مردوں کے اشارے پہ حکومتی نظام کا حصہ بنی رہیں اور انکی حیثیت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہ ہو۔
ہمیں کٹھ پتلیاں نہیں خود اعتماد , جراءت مند اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خواتین اپنی نمائِندگی کے لئے چاہئیں۔ وہ خواتین جو زندگی کی جدو جہد کی جنگ لڑ کر آئ ہوں۔
بہر حال یہ ایک مزے کی خبر ہے۔

Tuesday, May 3, 2011

سمندر سے آگے

ہر دفعہ ریسائکلنگ پہ دل جمعی کے ساتھ یکسو ہو کر کچھ لکھنے بیٹھ ہوتی ہیں۔ حالات حاضرہ میں کچھ ایسی ری سائکلنگ ہوتی ہے کہ دل جمع ہو تو ہو خیالات منتشر ہو جاتے ہیں۔ اور ہر انتشار سے گذرتا لمحہ کہتا ہے یہاں سے پہلے یہاں سے پہلے۔ میں ایک کمزور انسان ہوں ، ابھی کچھ عرصے پہلے تک چالیس کلو اور آجکل بیالیس کلو وزن پہ رہتی ہوں۔ اس صورت میں ہر چھٹانک بھر ترغیب بھی انتشار پھیلا دینے کے لئے کافی ہوتی ہے۔
یوں دن کے ساڑھے بارہ بجے جب پتہ چلا کہ اسامہ بن لا دین اب قصہ ء پارینہ بن چکے ہیں تو ایک مثالی مسلمان کی طرح اختتامیہ کلمہ پڑھنے کے بجائے یہ سوچنے بیٹھ گئ کہ آخر اس لمحہ ء موت کی مہورت کیسے نکالی گئ۔ کیوںکہ اس واقعے میں مقام کی اہمیت اپنی جگہ لیکن وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔
حکومت پاکستان کا ایک کھوکھلا سا دعوی ہے کہ اسے اس آپریشن سے آگہی نہیں تھی۔ ایک معمولی سی ذہنی ورزش بھی اس ڈھول کا پول کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ 
خوش امید لوگ جنہیں اسامہ سے اسلام کی سر بلندی اور مسلمانوں کی فتح کی امیدیں وابستہ تھیں وہ امید کرتے ہیں کہ ابھی کچھ دن گذریں گے اسامہ پھر ایک ویڈیو بیان جاری کر کے اس دعوے کی دھجیاں اڑا دے گا۔
میں ان خوش امیدوں میں نہیں ہوں۔ میرا تو خیال ہے کہ اسامہ  کافی عرصے پہلے مر چکا تھا۔  اب امریکنز اسکی باقیات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ڈی این اے ٹیسٹ سے جب یہ بات پایہ ء ثبوت کو پہنچ چکی تو انہوں نے ایک ڈرامہ اپنی قوم میں جان ڈالنے اور اپنے آپکو فاتح قرار دینے کے لئے انجام دے ڈالا۔ اب ان باقیات کو خاک بنا کر ماءونٹ ایورسٹ پہ اڑایا جائے یا سمندر کے حوالے کیا جائے لیکن اسکی تصاویر اور ویڈیو جاری نہیں کی جا سکتیں۔
اسامہ کے نجانے کب کے انتقال پہ میں نے اب شاعری کرنے کی کوشش کی۔ اساتذہ سے درخواست ہے کہ دل تھام کر پڑھیں اور چاہیں تو اس میں اصلاح کر دیں۔ شاعری میں،  میرے قابل اصلاح ہونے میں اتنے ہی شبہات ہیں جتنے اسامہ کے زندہ یا مردہ ہونے پہ۔ کلام حاضر ہے۔
اسامہ مر گیا لیکن ابھی بھی یاد آتا ہے
وہ ہر بات پہ کہنا کہ یہ ہوگا تو یوں ہوگا

پیدا ہوا عرب میں رہا امریکہ اور افغان میں
روٹھا جو امریکہ سے تو لڑا پھر جا کے افغان میں
مرنے میں اسکے ایک راز ہے چھپا ہوا
مدفن چنا سمندر کوجو مر گیا پاکستان میں
تم بھی مرے وہ بھی مرا، ہو گیا انصاف پر
ہم کیوں مرے ایسے صنم، ہم تھے وزیرستان میں


ادھر ایک گروہ کا خیال ہے کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تمام فریقوں کے درمیان ڈیل ڈن ہو گئ ہے۔ اسامہ ، امریکہ میں کہیں دنیا کی  جنت کے مزے لے رہے ہونگے ، افغان طالبان اب سکون کا سانس لیں گے دولت بھی ملی ہوگی، امریکہ فاتح کی حیثیت سے سرخرو واپس جائے گا۔ پاکستانی طالبان بھی اپنا حصہ پائیں گے۔ انکے حامی بھی خوش رہیں گے یہ سوچ کر کہ امریکہ جھوٹ کہہ رہا ہے اسامہ زندہ ہے اور اگر مر بھی گیا تو کیا ہوا شہادت کی موت ہوئ، لڑتے ہوئے مرا۔ پاک فوج بھی دامن پہ کوئ داغ نہ خنجر پہ کوئ خوں، ایک مستحکم حالت میں۔ انہوں نے یا آئ ایس آئ نے کچھ نہیں کیا۔ حکومت پاکستان سارے واقعے سے لا علم۔ دائیں بازو کی مذہبی جماعتیں ایک اور مظلوم حاصل کرنے میں کامیاب۔
اس سارے سلسلے میں کون نقصان میں رہا۔ وہ لوگ جنہیں ایک عام انسان کی طرح اولادوں کی شادیاں کر کے ان سے خدمت کرواکے طبعی موت مرنے کی خواہش تھی وہ شہید بالجبر نہیں ہونا چاہتے تھے۔ میں اور اس معاشرے کے وہ  لوگ نقصان میں رہے جو یہاں اقتصادی استحکام اور خوشحالی چاہتے تھے۔ اس لئے کہ وہ دنیا کے کسی بھی سہولت سے آراستہ ملک کے بجائے اپنے ملک میں رہنا چاہتے ہیں۔ جو  اپنے بچوں کے لئے ایک پر امن مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں جہاں وہ سائینس، آرٹ اور انجینئرنگ پڑھیں اور اپنی صلاحیتوں کو اور اپنے آپکو خوف سے آزاد رہ کر جانیں۔ دنیا کی اور قوموں کے سامنے ثابت کریں گے پاکستانی مائیں بھی اپنے بچوں کی شاندار تربیت کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں وہ انکی صلاحیتوں کا اجاگر کرنا جانتی ہیں۔ وہ لڑکیاں نقصان میں رہیں جنکے اسکول اڑائے گے اور جنہیں انسانیت سکھانے کے بجائے نسوانیت سکھانے پہ زور رہا۔ یا وہ لڑکے نقصان میں رہے جنہیں ستاروں پہ کمندیں ڈالنے کے بجائے بموں کی گرد بنا دیا گیا، جنکے دلوں میں امید کی جوت جگانے کے بجائے موت  کے رمز یاد کرائے گئے۔
وہ والدین نقصان میں رہے جنہوں نے اپنے بڑھاپے کے سہاروں کو پھلتے پھولتے دیکھنے  کے بجائے قبر تک پہنچایا۔ اور آج اپنے ویران گھروں میں آسیب کی طرح پھرتے ہیں۔
رسم دنیا یہ ہے کہ جب کوئ مسلمان دنیا سے گذر جائے تو اختتامیہ کلمات کہے جائیں۔  لیکن میں سوچتی ہوں کہ اگر ہر صبح ہم اپنے آپکو کہیں ، اپنے آپ کے لئے اختتامیہ کلمات کہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔  بے شک ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور لوٹ کر اسی کی طرف جانا ہے، تو ہمارے لئے کتنا آسان ہو جائے ہر مسلمان کے واسطے انہیں ادا کرنا۔ چاہے وہ اسامہ ہو یا سلمان تاثیر۔
لیکن ہمیں ایمان تازہ کرنے کی مصروفیت میں اسکی فرصت نہیں۔ خدا کو بھی اسکی فکر نہیں۔ ہم نہیں جانتے، ہمارا مدفن زمین ہو یا سمندر، اس سے آگے کیا ہے؟ صرف یہ معلوم ہے۔  اللہ الصمد۔ اللہ بے نیاز ہے۔ 

Tuesday, April 19, 2011

تُف ہے

خبر محض خبر نہیں ہوتی۔ ہر خبر اپنے معاشرے کی بہترین عکاس ہوتی ہے۔ جیسے آدم خور خاندان کی خبر۔ رپورٹ کہتی ہے کہ صرف دو تین لوگ نہیں بلکہ پورا خاندان مردہ انسانوں کو کھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ عرصے سے یہ فعل انکے یہاں جاری تھا۔   خاندان کے ایک بچے نے کہا کہ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد میرا باپ میرے جسم کے نازک حصوں کو مجروح کرتا تھا۔ بڑے ہو کر اسے لگا کہ اسکی مردانہ قوت کم ہے سو اس نے مردہ انسانوں کا گوشت کھانا شروع کیا۔ بہر حال  رپورٹ لکھنے والے صحافی کے خیال میں ابھی بھی یہ ایک معمہ ہے کہ وہ مردہ انسانی گوشت کیوں کھاتے تھے اور کیوں انکے ارد گرد کے لوگوں نے اتنے لمبے عرصے سے پولیس کو اسکی رپورٹ نہیں کی۔
 دوسری خبر اپنے بلاگستان سے ملی یہ لڑکیوں کے کنوارے ہونے سے متعلق ہے۔ جیسا کہ مجھے توقع تھی کہ یہاں پہ یہ ، یہ لوگ موجود ہونگے اور یہ تبصرے ہونگے۔ عین وہی ہوا۔ لیکن حیرانی مجھے وہاں موجود دو تبصروں پہ ہوئ۔
ایک عبداللہ نامی مبصر، جنہوں نے ایک دلچسپ سوال رکھا کہ خواتین کے کنوارے ہونے پہ جتنی دلچسپی دکھائ جارہی ہے اتنی مردوں کے کنوارے ہونے کے ٹیسٹ کے بارے میں کیوں نہیں ہے۔  یہ مخصوص قبائلی مزاج کا طبقہ اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ کیونکہ بات ہے سمجھ کی یہ وہی طبقہ ہے جو مردوں کی بے راہروی پہ تو فخر فرماتا ہے اور عورت کے حیادار ہونے پہ زور ڈالتا رہتا ہے۔
تف ہے ایسی ذہنیت پہ اور اسکو پروان چڑھانے والوں پہ۔ اور اگر کوئ منصف خدا موجود ہے تو اسے ایسے لوگوں کو انکے قرار واقعی انجام کا مناسب بندو بست کر کے رکھنا چاہئیے۔
خواتین کے کنوارپن کی شادی کے وقت تصدیق ہونی چاہئیے اور مردوں کی نہیں۔ انہیں چھوٹ ہے  وہ جتنے استعمال شدہ ہوں چاہے جائز یا ناجائز طریقے سے انکا کنوارہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ واہ، جناب واہ ، آپکی انہی اداءوں پہ درے لگانے کو دل کرتا ہے۔
دوسرا تبصرہ ایک ڈاکٹر صاحب کا ہے۔ حیرت ہے انہوں نے کس ادارے سے میڈیکل کی ڈگری لی ہے۔ میں پی ایم اے والوں سے گذارش کروں گی کہ وہ ایسے ڈاکٹرز کو جو مسیحا ہونے کے نام پہ دھبہ ہیں اور جو انسانیت تو دور اپنے علم سے ہی پوری طرح واقف نہیں انہیں اس طرح کی اہم ڈگریاں دینے سے گریز کرے۔
در حقیقت یہ بات کوئ بھی ڈاکٹر بتا سکتا ہے کہ خواتین کےکنوارے ہونے کے لئے جو خصوصیت بتائ جاتی ہے وہ جہالت پہ مبنی ہے اور بعض خواتین میں یہ محض معمولی بھاگ دوڑ سے ختم ہو سکتی ہے۔
 میرے علم میں بھی یہ بات داکٹر شیر شاہ کے ایک مضمون کے حوالے سے آئ جو نہ صرف پاکستان کے مایہ ناز گائناکولوجسٹ ہیں بلکہ دنیا کے ان بہترین سو گائناکولوجسٹس میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی کمیونٹی کی خواتین کی صحت اور ترقی کے لئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
اگر ڈاکٹر شیر شاہ جیسے لوگوں سے دنیا واقف نہ ہوں اور صرف اس بلاگ کے لکھنے والے سے یا اس  پہ تبصرہ کرنے والے مردوں سے ملے ہوں تو انکے نزدیک پاکستان صرف ایسے مردوں پہ مشتمل ہوگا جہاں حیوان رہتے ہیں۔
پردہ ءبکارت یا اس سے منسلکہ تمام متھس، قبائلی اقوام کی خصوصیت ہیں۔ صرف یوروپ کے قبائل ہی نہیں ، عرب کے بیشتر قبائل اور پاکستان کے بھی قبائلی علاقوں میں عورت کو اس امتحان سے گذرنا پڑتا ہے۔
البتہ جیسا کہ قبائلی اقوام کی شان ہوتی ہے مردوں کو نیکی کے کسی ایسے امتحان سے نہیں گذرنا ہوتا۔ وہ خدا کے پاس ایڈوانس میں نیکیاں جمع کرا کے آئے ہوتے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ تم کنوارے ہوں تو جواب ملے گا کہ ہماری مرضی ہم بتائیں یا نہ بتائیں۔ سوال پوچھنے والا البتہ روشن خیال کی گالی سے نوازا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ ان تمام قبائلی علاقوں کے مرد تو ہر طرح کی عیاشی کر سکتے ہیں مگر انکی عورتیں قابل ترحم زندگی گزارتی ہیں۔ وہ اپنے پوشیدہ امراض کے متعلق کسی عورت تک کو بتانے سے گھبراتی ہیں۔ کیا یہ بات قابل ترحم نہیں کہ ایک عورت اپنے پردء بکارت کا آپریشن کرانے بیٹھی ہو تاکہ اسکی قدر و قیمت برقرار رہے چاہے اسکے حصے میں آنے والا مرد دنیا کا اوباش ترین مرد ہو۔
اگر زانی مرد کسی عورت کے حصے میں آتا ہے تو قرآن کی یہ آیت دہرا دی جاتی ہے کہ زانیوں کے لئے زانی۔ حالانکہ زندگی کا ہلکا سا تجربہ رکھنے والے لوگ بی جانتے ہیں کیسی کیسی پردے دار متقی عورتوں کے شوہر کس قدر آوارہ نکلے۔ اور کیسے کیسے متقی مرد عورت کے معاملے میں آزمائے گئے۔ کیا واقعی یہ لوگ تفیہم قرآن سے واقف ہیں؟
  میں اس بلاگ کو پڑھ کر اسکے تبصروں کو جان کر اب تک حیران ہوں کیا جہالت کی کوئ انتہا ہو سکتی ہے۔ کوئ نہیں ہو سکتی۔ نیکی کی انتہا ہو سکتی ہے مگر بدی کی نہیں۔
حضرت عمر کے پاس ایک صاحب آئے اور کہنے لگے کہ میری بیٹی کنواری نہیں ہے اسکی شادی ہونے جارہی ہے کیا میں اسکے ہونے والے شوہر کے علم میں یہ بات لے آءوں۔ آپ نے فرمایا جس بات کا پردی اللہ نے رکھا اسے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ حتی کہ رسول اللہ نے اپنے آخری خطبے میں کہا کہ بچہ جسکے بستر پہ پیدا ہو گا اس کا کہلائے گا۔
صاحب بلاگ کی اس تحریر اور اسکے اعلی تبصروں کی وجہ سے اگر کسی عورت کی زندگی تباہ ہوتی ہے تو یقیناً اسکا گناہ ان سب لوگوں کے سر ہوگا۔ خدا ہمیں انفرادی دین کی اس برتری کے جذبے سے محروم رکھے جو معاشرے کو بدی کا گڑھ بنادیں۔   اللہ ہمیں لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
یہ وہ دعا ہے جو اکثر اشفاق احمد مرحوم مانگا کرتے تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ اسکے سنگین تبصرہ نگاروں میں بابا اشفاق احمد کے چاہنے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ ہائے نام نہاد عاشق، عاشق تو دور صرف انسان ہی بن جائیں تو بہت۔
اور ہاں،  اب ہمیں اس بات پہ تو قطعاً حیران نہیں ہونا چاہئیے کہ اس آدم خور گھرانے کی خبر ایک لمبے عرصے تک کیوں نہیں ہو سکی۔

Friday, January 28, 2011

انقلاب اے انقلاب

تیونس سے بھڑکنے والی آگ کے شعلے مصر تک جا پہنچے۔  تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے مشتعل عوام سے بھاگ کر سعودی عرب میں پناہ لی۔ فرانس نے انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔  ادھر مصر میں ہزاروں لوگوں نے حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاج میں حصہ لیکر ناراضگی کا جمعہ منایا۔ یوں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ہجوم سے نبرد آزما صدر حسنی مبارک نے کرفیو کا نفاذ کر دیا۔
لوگوں کو اس احتجاج کے لئے جمع کرنے میں جدید ٹیکنالوجی نے بڑا حصہ لیا۔ پچھلے دو دنوں میں انٹر نیٹ سرگرمی مصر میں اتنی زیادہ رہی کہ حکومت نے انٹرنیٹ پہ پابندی لگا دی۔ اس سے پہلے سے متائثرکاروباری حلقے کو سخت نقصان پہنچا۔

  دونوں ملکوں میں جو قدر مشترک ہے وہ آمریت کا ایک طویل عرصے تک اقتدار پہ قابض رہنا اور اسے قائم رکھنے کے لئے اپنی قوم کو ہر طرح کے دباءو میں رکھنا،  بد ترین معاشی حالات اور ایک ہی ملک کے اندر مختلف طبقات کے اندر غیر متوازن فرق۔ عوام کو جاہل رکھا جا سکتا ہے مگر بھوکا نہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل یمن اور اردن میں بھی دوہرائے جانے کا امکان ہے اور جلد یا بدیر سعودی عرب بھی اسکی لپیٹ میں آئے گا۔  یوں عرب دنیا ایک بڑی تبدیلی سے دوچار ہونے جا رہی ہے۔  طویل شخصی حکومتوں کے عادی نظام کس نئ سمت میں جائیں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

ان انقلابات کو دیکھ کر پاکستان میں کچھ لوگوں نے یہ امید لگائ ہے کہ شاید ہم بھی ایسے ہی کسی انقلاب کی طرف گامزن  ہونے والے ہوں۔ لیکن کیا عوام کسی انقلاب کی طرف جانے کو تیار ہیں۔  آئیے دیکھتے ہیں یہ ویڈیو۔

Wednesday, January 12, 2011

ایک کتاب اور کچھ اقتباسات-۴

 گذشتہ سے پیوستہ

قاہرہ کو دیکھ کر مایوسی ہوئ۔ میں نے اس کے متعلق سن رکھا تھا کہ دنیا کے بہترین شہروں میں سے ایک شہر ہے لیکن ہندوستان کے اچھے قسم کے  شہروں سے کسی طرح بہتر نہیں پایا۔ فرانسیسی بازار اس کا بہترین حصہ  ہے اور گھنا آباد ہے، شہر کا باقی حصہ پرانا، ٹوٹا پھوٹا اور گندہ تھا۔ نائب السلطنت کی شاہی عمارتیں مصریوں کے نزدیک بہترین عمارتوں میں ہوں تو ہوں مگر میری نظر میں ایسی نہیں ہیں۔ شاہان مغلیہ کی بنائ ہوئ دہلی، آگرہ، اور دیگر مقامات کی عمارتوں کے مقابلے میں بہت گھٹیا ہیں۔ انکی شان و شوکت انکے خوبصورت نقشے اور قابل تعریف تناسب اس زمانے کے بڑے بڑے ماہرین تعمیر کو بھی حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نائیبین سلطنت کے مقبرے ، قلعہ کے اندر نائب السلطنت کا محل اور مسجد ، خود قلعہ اور شہر کا محل بہت شاندار عمارتیں ہیں۔ مسجد خاص طور سے خوبصورت ہے۔ اس کے نقش و نگار بہت عمدہ ہیں۔
سفر کرتے ہوئے اسکندریہ پہنچے۔ کرایہ پر خچر چلانے والے لڑکوں کی سینہ زوری سے بہت لطف اٹھایا۔ میرے دو دوست اول باہر نکلے اور دو لڑکوں کو اشارہ سے بلایا مگر انکے آس پاس اتنے جمع ہو گئے  کہ ان کے لئے کسی خچر پر بھی سوار ہونا مشکل ہو گیا۔ ہر لڑکا قریب کے خچر کو ہٹا کر اپنا خچر بڑھا لاتا۔ ممکن سے ممکن  جو افراتفری ہو سکتی تھی وہ تھی۔ لڑکے الٹی سیدھی انگریزی میں خچروں کی تعریف کرتے 'میرا خچر  انگریزی جانتا ہے۔' 'میرا خچر انگریز سر پٹ بھگاتا ہے'، 'خچر دلکی چال چلتا ہے' ، 'ہندوستانی جانتا ہے'۔

سلطان کی مملکت کے اس حصے کو دیکھ کر  سلطنت کی ترقی کے بارے میں ہمارے اعتماد میں اتنا ہی اضافہ ہوا جتنا عرب کو دیکھ کر کم ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ سر زمین عرب کو مقدس سمجھنے اور اس کے تقدس کو لا دینی اثرات سے محفوظ رکھنے کے علاوہ اس ملک سے اچھی آمدنی کی بھی امید نہیں۔ غالباً اسی وجہ سے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ شریف اور مقامی سردار اپنے اسلاف کے طور طریق پر حکومت کرنے کے لئے آزاد  چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ مختلف خانوادے یا قبائل اب سے دس صدی قبل کے حقوق سے مستفید ہو رہے ہیں۔


جاری ہے