Showing posts with label maudoodi. Show all posts
Showing posts with label maudoodi. Show all posts

Saturday, August 1, 2009

مشرف تو ہے ناں

جب میں کہتی ہوں کہ مجھے مودودی صاحب کی تفہیم القرآن بے حد پسند ہے اور انکی کتاب جس پر کچھ لوگ خاصے چیں بہ جبیں ہوتے ہیں، خلافت اور ملوکیت، وہ مجھے خاصی زبر دست کتاب لگتی ہے۔ تو سب لوگ تو نہیں لیکن زیادہ تر لوگ مجھے جماعت اسلامی کا بندہ سمجھیں گے۔ وہ لوگ جو بہ نفس نفیس میرے ساتھ موجود ہونگے حیرت سے کہیں گے کہ آپ حلئیے سے تو بالکل جماعتی نہیں لگتیں۔ پھر بھی ایسا ہے۔ ارے جناب ، جماعت یوں، جماعت ووں۔ مجھے انکی بات پہ مسکرانا پڑتا ہےکہ تھوڑی دیر بعد وہ مجھے کسی اور چیز کی اصلیت سے واقف کرا رہے ہونگے یا ہونگیں۔
جب میرے منہ سے نکل جاتا ہے کہ ایم کیو ایم کے وجود میں آنے کی بالکل ٹھوس وجوہات ہیں اور اگر یہ ضیا الحق کے زمانے میں وجود میں نہ آتیں تو شہید بے نظیر، یا آپکے نواز شریف کے زمانے میں آجاتی۔ ان وجوہات کو ختم کئیے بغیر اسے پیدا ہونے سے کوئ نہیں روک سکتا تھا۔ یہ سنتے ہی احباب مجھے طعنے دینے لگیں کہ یہ ہیں وہ جو یہاں آکر نواب بنے بیٹھے ہیں۔ یہ بات کہتے ہوئے یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ اگر کچھ لوگ نواب بنے بیٹھے ہیں تو انہوں نے اسی سرزمین پر بھوکے رہ کر کر لالٹین کی مدھم روشنی میں دن رات محنت کرکے اپنے شب وروز کو سنوارا ہے۔ انہیں لیموں کے چھلکوں سے مندروں کی گھنٹیاں صاف کرنے کے منظر دکھائ دیتے ہیں۔ حالانکہ جو وہاں رہتے ہیں ان میں سے کسی کو میں نے گھنٹے اور گھنٹیاں صاف کرتے نہیں دیکھا۔ البتہ یہاں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کے لئے جوتے صاف کرتے اور گھنٹیاں بجاتے ضرور دیکھا ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی ان باتوں پر مجھے فوراً سماج دشمن عناصر میں ڈالکر غدار وطن میں شامل کر دیا جائے گا۔ کیونکہ اس ارض پاک کی محبت میں گھلنے والے اور اس کی بلندی سرفرازی میں اپنے خون کو پسینہ بنانے کی سعادت صرف انہیں حاصل ہے۔
اگر میں مروجہ مذہبی اصولوں سے اختلاف کروں جنہیں میں سمجھتی ہوں کہ ایک خاص طبقے نے لوگوں کو مذہب سے متنفر کرانے اور اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے تشکیل دیا ہے تو لوگ میرے عقائد کی تحقیق پر لگ جاتے ہیں۔اور جناب میرےسائنس سے متعلق اس تھیسیس کو جسکے متعلق میں آپ سب لوگوں کو کچھ بتانا ضروری نہیں سمجھتی اسے کھوج نکالتے ہیں اور اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ اسکے آغاز پر بسماللہ اور ایک قرآنی آیت کا حوالہ بمعہ ترجمہ کیسے موجود ہے یہ تھیسس ملک سے باہر ایک جرمن اور ایک جاپانی سائنسدان کے پاس اس غرض سے گیا کہ وہ تصدیق کر دیں کہ اس تھیسس کو پی ایچ ڈی کی ڈگری مل سکتی ہے ہا نہیں۔ یہ باہر کے غیر مسلم عقائد کے سائنسدان بھی اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ بھلا سائنس کے تھیسس پر اپنے عقائد کا لیبل کیوں چسپاں کیا جاتا ہے۔ تو انہیں شنید ہوں کہ ایسے مواقع پر کام میں لانے کے لئیے جب خدا سے زیادہ بندوں کو اسکی ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے انکی اس انتھک محنت کا شکریہ، میں خود بھی بھول گئ تھی کہ اس میں کتنے صفحے ہیں۔ آپ تو تجسس، تحیر اور تہمت سبھی مراحل سے شادمانی سے گذر گئے۔
اگر میں معاشرے میں موجود ناانصافیوں کو خواتین اور بچوں کے حوالے سے بیان کرنا چاہوں تو میری تحریر کو مشرف کی پھیلائ ہوئ بےحیائیوں اور آزدی اظہار رائے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ مشرف سے پہلے عصمت چغتائ، بانو قدسیہ، ممتاز مفتی اور اسی قبیل کے دوسرے لکھنے والوں کے نام ان لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوجاتے ہیں۔ اب جب کہ وہ لوگ مزید لکھنے کے قابل نہیں رہے تو ہماری بیان کی سرزمین کو بنجر ہوجانا چاہئیے یا پھر ان موضوعات پر سوائے مردوں کے کسی اور کو لکھنے کی اجازت نہیں۔ کیونکہ وہ بے حد حیا دار طریقے سے لگتے ہیں اور اسے پڑھ کر نہ صرف جذبہ ء مسلمانی تازہ ہوتا ہے بلکہ بڑا مزہ آتا ہے۔خاص طور پر نفسانی مزہ۔

اگر میں یہ کہوں کہ جسم فروشی انسانی تاریخ کا سب سے پرانا پیشہ ہے اور یہ پاکستان میں بھی ہر زمانے میں ایک ہی شرح سے موجود رہی جبھی تو منٹو سمیت اردو کے ہر بڑے لکھنے والے نے انکے متعلق لکھا اور یہ دراصل مشرف کی پھیلائ ہوئ بےحیائیوں کا حصہ نہیں ہے۔ تو مجھے فحاشی پھیلانے والوں کا ایجنٹ سمجھ لیا جائے گا۔ اور مشرف کے حصے میں سو گالیاں الگ سے۔

اگر میں کہوں کہ شراب پینے والے بھی ہمارے معاشرے میں ہمیشہ اسی رفتار سے موجود رہیں ہیں۔ حتی کہ ہماری تاریخ کے ایک بڑے نام سید احمد شہید کو کسی غیر مسلم نے شہید نہیں کیا تھا بلکہ جب وہ بالا کوٹ کے علاقے میں اسلامی شریعت نافذ کرنے کے عمل سے گذر رہے تھے تو شراب پر پابندی لگانے کی وجہ سے وہاں پر ایک طبقہ انکے سخت خلاف ہو گیا تھا۔ جس نے انکو ختم کرکے دم لیا تو نہ صرف میرے خلاف حد جاری ہوجائےگی بلکہ شاید یہ خیال کیا جائے گا کہ میرا اس کی خرید و فروخت سے کوئ تعلق ہے۔ مشرف کے حصے میں ہزار گالیاں الگ سے۔
حالانکہ امیر مینائ کہہ گئے ہیں کہ
کیا ہند میں کمی مے و معشوق کی امیر
شیراز جائیے نہ خراسان جائیے

حضرت علی کا ایک مشہور قول ہے کہ یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے۔ مگر نہیں جناب یہ بھی ایک ہمارا عمومی مزاج ہے کہ ہم پہلے کہنے والے کو ایک ٹھپہ لگائیں گے۔ اور پھر درے۔ پھر ایکطرف اسے پھینک کر کہیں گے لو جی میں نےتو اپنے حصے کا کام کردیا۔ اب باقی سب چھتر لگاءو اس لعنتی کوایسے کہ اسکی تشریف کیا اسکی روح تک لال ہو جائے۔ ایسے بدعقیدہ اور مصیبتی لوگ اب تک ہماری صفوں میں گھسے ہمارے ساتھ مکاری کر رہے تھے۔ او جی انکا تو ماضی حال مستقبل یہی ہے۔ مزید گالیاں۔ چونکہ اس وقت مشرف آسانی سے میسر ہے تو ای بہانے لاکھ پھر اس شیطان کو۔۔
اگر میں ان سب صورت حالات سے بچنا چاہتی ہوں تو مجھے ہر وقت اپنی باتوں میں ایک مصنوعی جذبے کو شامل رکھنا چاہئیے۔ مجھےانکی پیشانی پر نظر رکھنی چاہئیے۔ اور اس پہ نمودار ہونے والی لائنوں کے حساب سے اپنے آپ کو ظاہر کرنا چاہئیے۔ کیونکہ وہی تو ہیں سچے اور پکے مسلمان، اور اس ملک کو تا ابد قائم رکھنے والے۔
میں تو سمجھتی ہوں کہ ایک نظام وضع ہونا چاہئیے اور پاسپورٹ کی طرز پر ایک سرٹیفیکیٹ جاری ہونا چاہئیے جس میں لکھا ہو کہ انکے بنیادی مذہبی عقائد اور پاکستان سے انکی محبت کو دیکھ لیا گیا ہے اور یہ تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ ہمارے منظور شدہ عقائد اور محبت کی جانچ سے قریب تر ہیں۔ فی الحال اگلے تین برسوں تک ان میں کسی واضح تبدیلی کے آثار نہیں۔ تین سال بعد حامل سند کو دوبارہ اس جانچ سے گذرنا ہو گا ۔ اس مدت کے بعد یہ بیان مستند نہیں رہے گا۔
کسی پر زیادہ شبہ ہوتو اسے یہ سرٹیفیکیٹ بہت کم مدت کے لئیے دیا جائےاور جو ان پر پورے نہ اتریں انکے لئیے پہلے ہی عرض کیا جا چکا ہے۔
جب تک یہ نہ ہو ہم اپنی زبان صاف کرتے ہیں۔ کیوں لالے کی جان، مشرف تو ہے ناں۔
سید احمد شہید
سید احمد شہید اور افغان