میں شہر کے وسط میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کرنے کے لئیے گھر سے نکلی تو راستے میں، میں نے نوٹ کیا کہ شہر میں مختلف چو رنگیوں پہ سیمنٹ کے بنے ہوئے ایسے آرائشی ٹاورز مختلف جگہوں پہ لگائے جا رہے ہیں جن پہ اللہ کے ننانوے نام لکھے ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے طارق روڈ کے قریب اللہ کا ایک تعمیری نمونہ لگایا تھا جو اتنا مقبول ہوا کہ کہ میں نے اسے بعد میں متعدد جگہوں پہ حتی کہ گھروں کے داخلی دروازے پہ لگا ہوا دیکھا۔ شہر میں مختلف روڈز پہ دور تک اللہ کے ناموں کی تختیاں جڑی ہیں۔ کیا یہ ان ناموں کی حرمت کا تقاضہ ہے کہ انہیں اس طرح ہر جگہ لگا دیا جائے۔ کیا انکی وجہ سے ہم زیادہ مسلمان نظر آتے ہیں۔ کیا ان نمائشی اشیا کو مستقبل مین انکی جگہ سے ہٹانے پہ اسے اسلام کیخلاف کارروائ نہیں قرار دیا جائےگا۔ کیا ہم ہندوءووں اور عیسائیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے خدا کو یہ روپ دے رہے ہیں۔
ان ٹاورز کو دیکھ کر مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اسلام نے خدا کا جو تصور دیا وہ کوئ ان دیکھی، اور تصور میں نہ آنے والی چیز تھا جسے صرف اسکی صفات سے پہچانا جاتا تھا۔ اور جو سب کا خدا تھا۔ آخر کس جذبے کے تحت اسے اتنا زیادہ وجود دینے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ ہمارے ایمان کی خصوصیت تو غیب پہ ایمان لانا ہے۔
ان ٹاورز کو دیکھ کر مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اسلام نے خدا کا جو تصور دیا وہ کوئ ان دیکھی، اور تصور میں نہ آنے والی چیز تھا جسے صرف اسکی صفات سے پہچانا جاتا تھا۔ اور جو سب کا خدا تھا۔ آخر کس جذبے کے تحت اسے اتنا زیادہ وجود دینے کی کوشش ہو رہی ہے حالانکہ ہمارے ایمان کی خصوصیت تو غیب پہ ایمان لانا ہے۔
میں آگے بڑھتی ہوں اور صدر کےقریب نمائش سے گذرتی ہوں یہاں نمائش کے سگنل پہ کان پڑے آواز نہیں سنائ دے رہی۔ ایک طرف امام بارگاہ ہے جہان سوگ کے دن ختم ہونے کی تیاریاں ہیں۔ اور دوسری طرف ربیع الاول کی تیاریاں عروج پہ۔ نوجوان سر پہ امامہ باندھے ہوئے خانہ ء کعبہ پہ چڑھے کالا کپڑا چڑھا رہے ہیں یہ وہ خانہ ء کعبہ نہیں بلکہ اصل کی نقل ہے۔ اور اسکے بالکل برابر میں ایک خاصہ بڑا نمونہ مسجد نبوی کا بھی رکھا ہے جو روشنی سے جگمگا رہا ہے۔ روڈ پہ دور تک سنی تحریک کے رہ نماءووں کی بڑی بڑی تصویریںآویزاں ہیں۔
مجھے یہ سب دیکھ کر ایک اور منظر یاد آیا کہ فتح مکہ کے بعد رسول خدا خانہ کعبہ میں داخل ہوتے ہیں جہاں ہر قبیلے نے اپنے خدا لا کر رکھے ہوئے ہیں اور اس طرح سے انکی تعداد تین سو ساٹھ تک پہنچ جاتی ہے۔ اور رسول خدا ان بتوں کو توڑتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں۔ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ بے شک باطل مٹنے ہی کے لئیے تھا۔ ہر چیز ختم ہو گئ۔ باقی رہ گیا اللہ کا نام۔، وہی باقی رہ جانیوالا ہے۔
اور لگتا ہے کہ اب ہم پھر سے اس مہم پہ لگ گئے ہیں کہ ان تین سو ساٹھ خداءووں کوجمع کر لیں۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
