Showing posts with label ادب. Show all posts
Showing posts with label ادب. Show all posts

Saturday, September 8, 2012

شاعر کا پروگرام

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے ایک نہایت غیر انقلابی حرکت کی یعنی کہ مر گئے۔ یہ جملہ پڑھ کر ایک زیر لب مسکراہٹ ابھری اور نظر آگے بڑھ گئ۔  خواجہ احمد عباس نے یہ تحریر جوش صاحب کے متلعق لکھی اور مزے کی تحریر ہے۔  لکھتے ہیں کہ انکی شاعری  اور انکی ذات میں اتنا جوش، جوانی اور تازگی تھی کہ لگتا تھا کہ وہ اپنا برا چاہنے والوں کو مار کر مریں گے۔
شاید اس لئے کہ جوش صاحب نے ایک دفعہ دعا مانگی کی کہ
معشوق کہے کہ آپ ہمارے ہیں بزرگ
وہ دن ہمیں یارب نہ دکھانا ہر گز
بڑے لوگوں کی باتیں بڑی۔ انکا تذکرہ بھی کریں تو بات میں خود بخود گلاب کھلتے ہیں۔ اپنی شعر گوئ کے بارے میں جوش کا خیال تھا کہ شاعری نے خود میرا پیچھا کیا اور نو برس کی عمر میں پکڑ لیا۔ عاشق تھے لیکن انسان دوست زیادہ تھے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
کہتا ہے کون پھول سے رغبت نہ چاہئیے
کانٹے سے بھی مگر تجھے نفرت نہ چاہئیے
نثر میں اس خیال کو اس طرح ادا کرتے ہیں کہ ' ایک مدت سے میرے سینے میں انسان کے باپ یعنی حضرت آدم کا دل دھڑک رہا ہے'۔ ویسے سنتے ہیں کہ جناب مولانا مودودی انکے ہم نشیں  رہے ہیں۔
:)
یہ ساری تمہید، جوش صاحب کی ایک نظم پڑھانے کے لئے باندھی۔ میں نے یہ نظم اس وقت پڑھی جب آنرز فرسٹ ایئر کی طالب علم تھی۔ شعبہ ء کیمیاء سے ایک سالانہ رسالہ نکلا جس میں یہ شامل تھی۔ اسکے بعد وہ رسالہ شاید دوبارہ نہیں نکلا۔
نظم کا نام ہے 'پروگرام'۔ آئیے پڑھتے ہیں۔
 
پروگرام
اے شخص ، اگر جوش کو تو ڈھونڈھنا چاہے
وہ پچھلے پہر حلقہ ء عرفاں میں ملے گا
اور صبح کو وہ ناظر نظارہ قدرت
طرف چمن و صحن بیاباں میں ملے گا
اور دن کو وہ سرگشتہ ء اسرار و معانی
شہرِ ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا
اور شام کو وہ مرد خدا رند خرابات
رحمت کدہ ء بادہ فروشاں میں ملے گا
اور رات کو وہ خلوتی ء کاکل و رخسار
بزم طرب و کوچہ ء خوباں میں ملے گا
اور ہوگا کوئ جبر تووہ بندہ ء مجبور
مردے کی طرح کلبہ ء احزاں میں ملے گا

واہ واہ، بہت خوب۔

Tuesday, June 5, 2012

حتی کہ جانور بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب انسان ، جبر سے گھبرا جاتا ہے تو علامتوں کا سہارا لیتا ہے۔ یہ علامتیں جانوروں سے لے کر مظاہر قدرت، کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ لیکن ان میں معنوں کا ایک جہاں بند ہوتا ہے۔ 
جبر کے زمانے میں یہ عام ہے لیکن آزادی کے زمانے میں یہ علامتیں تخیل کی اڑان بن جاتی ہیں جیسے بچوں کو ایسی کہانیاں سنانا جن میں جانوروں کو کردار بنا کر اخلاقی نصیحتیں منتقل کی جاتی ہے۔ اور بچے  بالکل حیران نہیں ہوتے کہ جانوروں کی مائیں بھی انہیں چیزیں گم کرنے پہ ڈانٹتی ہیں۔ انہیں بھی اسکول جانا پڑتا ہے، ریچھ بھی چوری کر کے شہد کھاتا ہے، کوے کو چڑیا اپنے گھونسلے سے جلتی ہوئ لکڑی مار کر بھگا دیتی ہے، لومڑی کیسے چالاکی سے شیر کو کنوئیں میں گرا دیتی ہے اور کچھوا ، خرگوش سے کیسے جیت جاتا ہے۔ بچوں کو یہ کہانیاں اسی لئے پسند ہوتی ہیں۔ یہ سوچنے کے لئے کہ  حتی کہ جانور بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حتی کہ جانور بھی، یہ جملہ بچپن کی حدوں میں ہی گونجتا نہیں رہ جاتا بڑے بھی بعض اوقات یہ سوچتے ہیں  اور پھر تحقیق بھی کرتے ہیں کہ وہ کیا افعال ہیں جن میں جانور انسانوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔  اس طرح سے وہ انسانوں میں اخلاقیات کا ارتقاء تلاش کرتے ہیں۔
میرے بچپن میں پڑوسن نے مرغیاں پالی ہوئ تھیں اور فرصت میں وہ پوری تفصیل سے بتاتیں کہ ان مرغیوں کا آپس میں کیا تعلق یا رشتہ بنتا ہے۔ کون کس کی پھوپھی اور چاچی ہے۔ اس سے مجھے تسلی رہتی کہ دنیا میں دراصل وہی نظام جاری ساری ہے جو ہم انسانوں میں ہے یہ وحدت کا احساس بچوں کو ماحول سے جڑا رکھنا میں بڑا کار آمد ہوتا۔ اور پھر وقت کے ساتھ کایا کلپ ہوتی ہے اور تمام بنیادی احساسات کی جگہ کس طرح حقیقتیں اپنا حصہ بنا لیتی ہیں یہ ایک دلچسپ کہانی لگتی ہے۔
 بعض مذاہب جو جنموں کی کہانی سناتے ہیں، ان میں یہ تصور تک بھی ہے کہ انسان اپنے اعمال کی بنیاد پہ اگلے جنم میں کسی جانور کے روپ میں بھی آ سکتا ہے۔ اعمال کو ہم ایک طرف رکھ دیتے ہیں اگر ہم اپنی موجودہ خصوصیات کی بناء پہ کسی جانور سے اپنی مماثلت جاننا چاہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کھیل کھیلیں۔ بس کھیل ہی ہے عقیدے کی جنگ لڑنے نہ بیٹھ جائیے گا۔  

ہم سوچتے ہیں کہ کیا جانوروں کے خاندان ہوتے ہیں؟
جی ہاں بعض جانور اپنا پورا سماجی ڈھانچہ رکھتے ہیں۔ مثلاً ڈولفنز کے بچوں کی دیکھ بھال تین چار مادائیں مل کر کرتی ہیں اور وہ ماں کی مددگار ہوتی ہیں ایسے ہی جیسے انسانوں میں مشترکہ خاندانی نظام میں ہوتا ہے بلکہ نانیاں اور خالائیں بھی اس عمل میں حصہ لیتی ہیں۔ حتی کہ گاءوں دیہاتوں میں محلے دار خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ ہاتھی کے بچوں کو بھی سب ہاتھی مل جل کر سنبھالتے ہیں۔ 
چیونٹی اور شہد کی مکھی تو اس سلسلے میں مثالی منظم معاشرہ رکھتی ہیں کہ ہر ایک کو اپنے فرائض پتہ ہوتے ہیں۔ ان دونوں جنسوں کے معاشرے کی سب سے لاڈلی رکن عام طور پہ  ملکہ ہوتی ہے۔ شہد کی مکھیوں کی ملکہ اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ وہ کن انڈوں کو سہے گی۔ فرٹیلائزڈ انڈوں سے مادہ مکھیاں پیدا ہوتی ہیں اور غیر فرٹیلائزڈ انڈوں سے نر پیدا ہوتے ہیں۔ نر کا سوائے ملاپ کرنے کے اور کوئ کام نہیں ہوتا۔  نر مکھیاں ملاپ کے فوراً بعد مر جاتی ہیں۔ ملکہ انڈے دینے کا فرض سنبھالتی ہے اور باقی مادہ مکھیاں شہد بنانے اور چھتے کو محفوظ رکھنے کا کام انجام دیتی ہیں۔ اس طرح چھتے کا کنٹرول مادہ مکھیوں کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ اور یوں یہ ایک مدر سری نظام قرار پاتا ہے۔
جانوروں کو خوش ہوتے تو دیکھا ہی ہوگا۔ جب وہ چہچہاتے ہیں، گاتے ہیں یا اچھلتے کودتے ہیں ایکدوسرے کو کریال کرتے ہیں۔ لیکن کیا جانور اداس بھی ہوتے ہیں۔  جانور بھی اس مشکل سے دوچار ہوتے ہیں بالخصوص جب انکا قریبی ساتھی نہ رہے یا انکا پالنے والا گذر جائے۔  بعض اوقات وہ اتنے اداس ہوتے ہیں کہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ حتی کہ جاں سے گذر جاتے ہیں۔
 پرندوں کا گانا گاتے تو سب ہی نے سنا ہوگا، اپنی مادہ کو لبھانے کے لئے وہ تان سین بن جاتے ہیں۔ حتی کہ سمندر کی تہوں میں ڈولفنز اور سمندر ہی میں دنیا کا سب سے بڑا ممالیہ جانور وہیل بھی گیت گاتا ہے۔ بعض جانور تو حتی کہ انسانوں کی  موسیقی سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جی ہاں مارمو سیٹ بندر اور پانڈا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ موسیقی میں تبدیلی کو فوراً محسوس کر لیتے ہیں۔

انسانی طرز زندگی تیزی سے تبدیل ہو چلا ہے سو اب یوگا کرتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جانور یوگا کرتے ہیں؟ کچھ منچلوں کا خیال ہے کہ جانور بھی یوگا کرتے ہیں اس کے لئے انہوں نے کچھ تصویری ثبوت اکٹھا کئے ہیں۔ میں تو یہ تصاویر دیکھ کر یہ سوچتی ہوں کہ کہیں انسانوں نے جانوروں سے تو یوگا نہیں سیکھا۔ کیونکہ یوگا کی تاریخ خاصی قدیم ہے اتنی ہی جتنی ان مذاہب کی جو الہامی نہیں بلکہ مظاہر قدرت سے مسحور ہونے والے انسانوں نے انہیں جنم دیا۔

 کیا جانوروں میں بھی روشن خیال اور روایت پسند جانور ہوتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ یہ نظریاتی فرق ان میں بھی پیدا ہو چلا ہے مثلاً  گائے، اونٹ اور بکری اب تک انہی روایات پہ قائم ہیں البتہ یہ کہ انہوں نے دوسرے جانوروں کو اس قسم کی تبلیغ نہیں شروع کی کہ کولہو کا بیل بنے رہنا عین منصب حیوانی ہے۔ اسکی وجہ شاید یہ ہو کہ انکی پہنچ فیس بک تک آسان نہیں۔ انسان انہیں اتنا پسماندہ سمجھتے ہیں کہ اپنے کمپیوٹر کے پاس انہیں پھٹکنے نہیں دیتے۔ مرغی کی روایت پسندی نیچے دی گئ تصویر سے واضح ہے کہ سرتاج کرسی پہ بیٹھے ہیں اور وہ اپنی محبت کا ثبوت اپنے دئے گئے انڈوں کی صورت پیش کر رہی ہے۔

 انکے مقابلے میں بندروں اور ہاتھیوں میں کچھ روشن خیالی پیدا ہوئ ہے۔ ہاتھی تو اب مصوری تک کرنے لگے ہیں جبکہ بندر  سائینسدانوں کے ساتھ تحقیق میں مصروف  ہے۔ چونکہ پردہ اور خواتین کی تعلیم ان کا مسئلہ کبھی نہیں رہے اور ہم اس سے ناواقف ہیں کہ انکے یہاں مشرق اور مغرب کی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں یا نہیں اس لئے انکی روشن خیالی کے بس یہی معیار نکالے جا سکتے ہیں۔


کیا  جانوروں نے کوئ اخلاقی ترقی کی ہے یا بس انسانوں کی طرح سلسلہء روزوشب میں ہی الجھے ہوئے ہیں؟ بعض عیسائ مبلیغین یقین رکھتے ہیں کہ جانوروں کی بھی روحیں ہوتی ہیں اور انکے لئے بھی ایک جنت ہوگی۔  انکے یقین کی بنیاد ان جانوروں پہ قائم ہے جو ذہین ہوتے ہیں اور اپنی ذہانت کو اپنے مالک کے لے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں جیسا کہ کتّا۔  ہمارے مبلغین تک شاید  یہ خیال ابھی پہنچا نہیں ہے لیکن پہنچ جائے تو وہ کس جانور کو جنت میں پہنچائیں گے؟
میں اس خیال کے حامیوں میں سے نہیں ہوں۔ اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو پھر جناتی مسائل  اٹھ کھڑے ہونگے۔ میرا محتاط خیال ہے کہ اس خیال پہ مجھے بھٹکا ہوا نہیں کہا جائے گا۔ جانوروں کا رد عمل جاننے کی ضرورت نہیں۔ انکا تعلیم کا بجٹ سرے سے رکھا ہی نہیں جاتا۔ 
جانوروں کو احتیاط سے سڑک پار کرتے ہوئے تو اکثر دیکھا ہی ہوگا کہ کیسے پہلے دائیں  دیکھتے ہیں پھر دائیں دیکھتے ہیں  تیزی سے بھاگتے ہوئے روڈ پار کرتے ہیں اور بچ جائیں تو بائیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور پھر منہ اٹھا کر بائیں کو ہی چل دیتے ہیں۔ اللہ تیرا لاکھ شکر ہے لاکھوں جانیاں پائیاں مار سکے نہ کوئ۔ 
کیا جانور ٹیکنالوجی کی ترقی سے متائثر ہوئے ہیں۔ جی ہاں اس کا ثبوت وہ کتیا ہے جو خلاء میں بھیجی گئ یہ جانچنے کے لئے کہ کیا انسان خلاء میں سفر کر سکتا ہے۔  لائیکا نامی یہ کتیا خلاء میں سفر کے آغاز کے چند ہی گھنٹے بعد مر گئ۔ لیکن انسان کے خلاء میں جانے کے لئے راستہ کھول گئ۔ حالانکہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور پھر ہم اس خلاء سے گذر کر ہی آسمانوں تک پہنچیں گے لیکن انسان نجانے کیوں ہوس کا مارا ہے کہ غیب کو غائب ہو کر نہیں دیکھنا چاہتا۔ بہر حال لائیکا اپنے پیچھے  ایک بار پھر یہ سوال چھوڑ گئ کہ کیا جانوروں کے لئے کوئ جنت ہونی چاہئیے؟
  کیا  انٹر نیٹ  ان کے لئے بھی تبدیلی کا باعث بنا ہے؟ جی ہاں حتی کہ جانور بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:) 




نوٹ نمبر ایک: یہ تحریر قطعی بھی ایک علامتی تحریر نہیں ہے۔ اس لئے کوئ انسان کسی بھی قسم کے دل آزار معنی اخذ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اپنی دل آزاری کی صورت میں وہ خود ذمہ دار ہونگے۔

نوٹ نمبر دو: اگر اس تحریر سے کسی جانور کی دل آزاری ہوتی ہے تو اسے یہ جان لینا چاہئیے کہ یہ سب انسانوں کے لئے لکھا گیا ہے اور اسکے پڑھنے کے لئے نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ہی لاحول ولا قوت۔ حتی کہ جانور بھی بلاگ پڑھنے لگے ہیں۔

Monday, April 2, 2012

سنڈریلا

اچھا تو ہوا یوں کہ میں نے اپنی بچی کے لئے بازار سے کافی ساری اردو کی کہانیاں خریدیں۔ لیکن ان سب میں مجھے کچھ مسائل مشترکہ لگے۔ 
الفاظ کے درمیان فاصلہ اتنا کم ہے کہ ایک بچہ جو ابھی اردو سیکھنے کے بالکل ابتدائ مراحل میں ہے اسے انہیں الگ الگ پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے۔
کہانیوں میں غیر ضروری تفصیلات ہیں ۔ جس سے وہ خاصی لمبی ہوجاتی ہیں۔  چھوٹے بچے اگر کہانی بہت لمبی ہو اسے پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
ابتدائ کلاس کے بچوں کے حساب سے کہانیوں کی زبان آسان نہیں ہے۔
کہانیوں میں تسلسل کی کمی لگتی ہے۔
الفاظ کا چناءو کم درجے کا ہے۔ 
یہ تو تھیں ان کہانیوں کی بنیاد  خامیاں۔ اس لئے ایک دن مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں یہ کہانیاں اپنی بچی کے لئے خود لکھوں۔ اس سلسلے میں پہلی کہانی سنڈریلا پہ لکھی ہے۔ یہ ان پیج میں لکھی گئ ہے۔ اس لئے کہ میں اسکے پرنٹس نکال کر جب چاہے کسی کو دے سکوں۔ ورڈ میں فونٹ نوری نستعلیق نہیں آتا۔
 الفاظ کے درمیان فاصلہ رکھا ہے تاکہ بچہ ہر لفظ کو الگ پہچان سکے۔ الفاظ کو غیر ضروری طور پہ جوڑنے سے احتراز کیا گیا ہے۔ مثلاً اسکے کو اس کے لکھا گیا ہے۔ یہ لہانی پہلی جماعت کے حساب سے لکھی گئ ہے۔ کہانی میں کچھ ڈرائنگز نیٹ سے لے کر ڈالی گئ ہیں۔ جب بچہ کہانی سن لے تو اس میں رنگ بھرے۔ میری بچی کو تصویروں میں رنگ بھرنے کا بہت شوق ہے۔ اس لئے میں نے یہ کام کیا۔
بے کار کے خیالات سے پرہیز کیا ہے۔ یعنی یہ نہیں لکھا کہ سوتیلی مائیں تو بس ایسے ہی ہوتی ہیں۔ چاہیں تو روز ایک صفحہ کرائیں ، اور اسکے ساتھ تصویر پہ رنگ بھی کروائیں۔ کہانی سنانے کے بعد اپنے بچے سے کہانی کے متعلق سوالات ضرور پوچھیں۔ اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو اسکے تسلی بخش جوابات دیں۔ جن سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے انکے متعلق یہ نہ کہیں کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئیے۔  انکی عمر کے حساب سے کوئ آسان سا جواب تلاش کریں جو اصل حقائق سے دور نہ ہو۔ اگر وہ سوال نہیں کرتا ، تو اس سے پوچھیں، کوئ سوال؟
چلیں، تو یہ پہلی کہانی ہے ۔ یہ کہانی ایک کلاسک کہانی ہے، سنڈریلا کے متعلق۔ ہم سب نے اپنے بچپن میں سنی۔ اب ہمارے بچوں کی باری ہے۔  پریوں اور کوہ قاف کی دنیا کی کہانیاں نہ صرف بچوں کو پسند آتی ہیں بلکہ یہ انکے تخیل کو مہمیز کرتی ہیں۔ تخیل کی پرواز پہ پھر کبھی گفتگو ا۔ اس وقت سنڈریلا کی روائیتی کہانی اردو میں۔



Monday, February 27, 2012

ایک شہر، تین اجتماعات

ابھی تقدس سے باہر کے لئے لکھی گئ ایک تحریر کے حوالہ جات کو ایک آخری نظر سے دیکھنا چاہ رہی تھی کہ اس اتوار کے ندیم ایف پراچہ کے مضمون پہ نظر پڑ گئ۔ مضمون مزے کا تھا۔ 
گذشتہ دنوں کراچی میں چند دلچسپ اجتماعات ہوئے۔ ایک  کراچی لٹریچر فیسٹیول،  اسکے متوازی چلنے والا دوسرا دفاع پاکستان کا اجتماع اور تیسرا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کے لئے کیا گیا پہلا اجتماع۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں کیا کہوں، کراچی کے سب سے پوش علاقے ڈیفینس ہاءوسنگ سوسائیٹی کے بھی ایک دور افتادہ  کونے میں منعقدہ کسی تقریب کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسکے منعقد کرنے میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی کوئ ایرا غیرا نتھو خیرا ایسا اس میں  نہ آجائے جس کا ہائ کلاس سے کوئ تعلق نہ ہو، اردو لکھنے پڑھنےوالے اس سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے ، ایسا نہ ہو کہ عام لوگوں کو اس سے کوئ انسپیریشن حاصل ہو جائے یا یہ کہیں واقعی پاکستان میں لٹریچر کو عام نہ کر ڈالے۔ اور صورت حال کچھ ایسی بنی رہتی ہے  کہ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔ وہ تو تقریب کے احوال اردو میں اتنی تفصیل سے نہیں پہنچ پاتے اس لئے لوگوں کو پتہ نہیں چل پاتا کہ اس بہانے کیسے کیسے غیر ملکی ایجنٹ ہمارے یہاں گھوم پھر کر چلے جاتے ہیں۔
دوسرا اجتماع دفاع پاکستان والوں کا تھا۔  
مقام تھا اسکا قائد اعظم کا مزار۔ خدا جانے کیوں چونسٹھ سال کے بعد قائد اعظم کے سر پہ سب سوار ہونے کو تیار ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سب کیا دھرا انہی کا تھا اس لئے مر کر بھی چین نہیں پا سکتے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بہت پاءوں پھیلا کر سو لئے کنج مزار میں۔  ایک کے بعد ایک اجتماع وہیں ہو رہا ہے۔ اب انہیں بھی لگ پتہ گیا ہوگا  بالکل براہ راست کے پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔
دفاع پاکستان کے متعلق میرا خیال تھا کہ جماعۃ الدعوۃ والے کر رہے ہیں۔ جی وہی جماعت جس پہ حکومت کی طرف سے پابندی ہے۔ پھر شہر میں لگے اشتہاروں سے پتہ چلا کہ جماعت اسلامی والے بھی شامل ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ شیخ رشید جیسی سیاسی ہستی  اور اعجاز الحق بھی تشریف لا رہے ہیں۔
اوہ تو یہ آئ ایس آئ والوں کا جلوہ ہے۔ میں نے ہی نہیں بیشتر دیگر لوگوں نے بھی یہی خیال کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم میں کوئ غیر معمولی ذہانت پائ جاتی ہے۔ بلکہ آپ نے اس سکھ کا لطیفہ تو سنا ہوگا جو ایک الماری پہ فدا ہو گیا تھا۔ لیکن دوکاندار اسے دینے کو تیار نہیں تھا کہ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ پھر اسکے بعد وہ کئ دفعہ ہندو ، عیسائ اور مسلمان کے بھیس بدل کر اسکے پاس پہنچا۔ لیکن ہر دفعہ اس نے ایک ہی جواب دیا۔ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ 'او تجھے پتہ کیسے لگ جاتا ہے کہ میں سکھ ہوں'۔ سکھ نے عاجز آکر پوچھا۔ 'تم ہر دفعہ فریج کو الماری کہتے ہو'۔ دوکاندار نے عجز سے جواب دیا۔
دفاع پاکستان میں ہونا کیا تھا وہی پاکستان کے دشمنوں کی آنکھیں پھوڑ دینے کا دعوی، جبکہ یہاں ابھی ہمیں ہی کچھ نظر نہیں آرہا۔ تاریخ سے گن گن کر ان واقعات کے حوالے جن سے خون میں ویسا ہی ابال پیدا ہو جیسا باسی کڑھی میں پیدا ہوتا ہے۔  اور پھر انتقام در انتقام سے انکی بینڈ بجانے کا تہیہ۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم ، یہاں بینڈ سے کیا مراد ہے۔
اس اجتماع میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، اسکی وجہ یہ تھی کہ لٹریچر فیسٹیول والوں کے مقابلے میں دفاع پاکستان والوں کو اپنے پیغام کے عام ہونے کا کوئ خوف نہ تھا۔ حالانکہ انکا پیغام سنا ہے کہ حرف بحرف نفرت کا پیغام تھا۔ لیکن اسے سننے کے لئے لوگ ون ڈی، ٹو کے اور ڈبلیو گیارہ جیسی بسوں سے بآسانی پہنچ سکتے تھے۔ حتی کہ جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے وہ بھی اس جگہ سے اسے سنے بغیر نہیں گذر سکتے تھے۔ تقریریں کرنے والے اور سننے والے انگریزی نہیں اردو میں رواں تھے۔ کیونکہ انکی دل سے خواہش تھی کہ وہ جس جذبے سے بول رہے ہیں وہ جذبہ انکے سامعین کے رگ و ریشے میں اتر جائے اور جب جلسہ ختم ہو تو یہاں موجود ہر شخص ایک مرد مجاہد ہو۔ موسیقی سے اجتناب کیا گیا اور صرف اپنی بغلیں اور دوسروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پہ ہی اکتفا کیا گیا۔ 
سب سے اہم بات یہ تھی کہ جلسے کی پوری کارروائ میں ایک بھی خاتون موجود نہ تھی۔ دفاع جیسا اہم موضوع خواتین کی سمجھ میں کیا خاک آئے گا۔ انہیں تو اپنے دفاع کے لئے بھی بچاءو بچاءو کا نعرہ بلند کرنا پڑتا ہے۔ پھر اللہ کا کوئ بندہ انکا دفاع کرتا ہے یہ الگ بات کے اللہ ہی کا ایک اور بندہ انہیں مورچہ بند ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔ یوں اگر خواتین کے دفاع کی بات ہو رہی ہو تو بھی کہانی آخیر میں دو مردوں کے درمیان جنگ کی صورت بن جاتی ہے۔
قسمت کی یہ ستم ظریفی کراچی جیسے ظالم شہر میں ہی نظر آسکتی ہے کہ کہاں تو ایک مقام پہ خون کی ندیاں بہائ جا رہی تھیں کہاں اسی مقام پہ ایک ہفتے بعد بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔  میں تو بھنگڑے جیسا محتاط لفظ استعمال کر رہی ہوں لیکن لوگوں کے خیال میں اس کے لئے درست لفظ مجرا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مرد اگر مجرا کر رہے تو بھی کبھی وہ محفل سماع جیسا نیک نام حاصل کرتا ہے، کبھی جدید موسیقی جیسے راک اینڈ رول کہلاتا ہے  یا کبھی شغل اور لوک ڈانس  وغیرہ کہلاتا ہے مثلاً خٹک ڈانس، بھنگڑا۔ اً لیکن خواتین اگر شغلاً بھی ہاتھ پیر ، کولہے ہلا لیں مثلاً لڈی بھی ڈال لیں تو اسے مجرے جیسا پُر شوق نام کیوں دیا جاتا ہے؟
اچھا بہر حال ناقدین کی نظر میں خواتین کا مجرا کرایا گیا ۔ کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ وہ بھی ننگے سر۔ یعنی اگر سر پہ دوپٹہ ہوتا تو اتنا مکروہ نہ ہوتا۔
بہر حال جلسہ کیوں کہ خواتین سے متعلق تھا اس لئے جو رنگینی اس میں نہ ہوتی وہ کم ہوتی کہ وجود زن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ۔ دفاع پاکستان کے خون کے دھبے دھونے کے لئے یا یہ کہ منتظمین نے دفاع پاکستان والوں کے سینے پہ مونگ دلنے کے لئے خواتین کو اسی مقام پہ چوڑیاں بیچیں، پہنائیں اور مہندیاں بھی لگوائیں۔
پونے دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر کی خواتین کی توجہ حاصل کرنا ایک  نئے رجحان یا تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیاں اس بات پہ متفق ہوتی ہوں کہ  ملک کے بعض حصوں میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ اس میں مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئ والے بلکہ اے این پی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہاں خواتین کی بحیثیت ووٹر آءو بھگت ہونا اانکے لئے خاصہ پر جوش ہے۔
خواتین کے مسائل کے حوالے سے اگرچہ کچھ زیادہ نہیں کہا گیا۔  جلسہ کراچی میں ہوا تھا اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے جو مختلف صنعتوں میں نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ گھریلو صنعتیں بھی چلا رہی ہیں۔ انکے مسائل بھی اسی حساب سے ہیں۔  بہر حال ہم اس آواز میں شامل ہیں  کہ خواتین پہ تیزاب پھینکنے والوں کے لئے سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونی چاہئیے۔
اچھا تو ان تین اجتماعات کے بعد میں کیا سوچ رہی ہوں؟ بس یہ کہ خواتین اور مرد وں کے دلوں تک پہنچنے کے لئے کتنے مختلف راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ کیا کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے یہ دونوں راستے بیک وقت اختیار کرنا ممکن ہے؟

Thursday, October 20, 2011

ضرب المثل اشعار

 گفتگو ہو کہ تحریر ، اسی وقت مزہ دیتی ہے جب اس میں تشبیہات، استعارات، روزمرہ، محاورے، کہاوتیں اور ضرب الامثال روانی سے اور مناسب مقامات پہ استعمال کئیے جائیں۔ ورنہ پھر اچھی بھلی بات بھی  واعظ کا وعظ لگنے لگتی ہے۔  دور حاضر کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی گفتگو میں الفاظ کامحدود علم رکھنے کی وجہ سے انہیں کئ طرح سے استعمال نہیں کر پاتے جبکہ باقی چیزیں تو جیسے ختم ہی ہو گئ ہیں۔ اس لئے  گفتگو سننے کا مزہ جاتا رہا اور اب ہر ایک اپنی لگی بندھی سناتا ہے۔
مجھے یاد ہے ایک تحریر میں، میں نے مولوی مدن کی مثال استعمال کی تو ایک طبقہ بڑا ناراض ہوا کہ مولوی صاحب کا مذاق اڑایا ہے آپ نے۔ حالانکہ یہ اردو کا ایک محاورہ ہے وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ اور یہ جس شعر سے آیا ہے وہ آپکو نیچے ملے گا۔
آپ خود حساب لگا سکتے ہیں کہ سارا دن میں آپ کتنی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، کتنے محاورے یا استعارے یا اشعار سے اسکی زینت کرتے ہیں۔
ایک کتاب ہاتھ لگی جس کا نام ہے اردو کے ضرب المثل اشعار اسکی تالیف کی ہے جناب محمد شمس الحق نے اور اسے چھاپا ہے ادارہ ء یادگار غالب نے کراچی سے۔
ضرب المثل اشعار یعنی ایسے اشعار جنکی شہرت ایسی بڑھی کہ مثال کے لئے استعمال ہونے لگے۔  اس کتاب میں ان اشعار کی تعداد تقریباً ہزار کے قریب ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ کتاب کے حصے کر دئیے گئے ہیں۔ پہلے حصے میں وہ سارے اشعار ہیں جنکے شعراء کے نام معلوم ہیں، دوسرے حصے میں وہ جو ایک سے زائد شعراء سے منسلک کئے جاتے ہیں، تیسرے میں جنکے خالق کا نام معلوم نہیں اور آخیر میں وہ جن کا ایک ہی مصرعہ معلوم ہے۔
اب یہاں اس کتاب سے میں نے چند شعر نکالے ہیں۔ بہت زیادہ مشہور اشعار کو شامل نہیں کیا۔ جب تک آپ اس کتاب کو نہیں خرید پاتے اس انتخاب سے محظوظ ہوں۔


در پے ہے عیب جُو ترے، حاتم تو غم نہ کر           دشمن ہے عیب جُو تو خدا عیب پوش ہے     شاہ حاتم

فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں         اس زندگی میں اب کوئ کیا کیا کیا کرے       سودا

جو کہ ظالم ہو وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیں         سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کبھو  شمشیر کا     سودا

دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن            رات کٹتی نظر نہیں آتی     سید محمد اثر

تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب          اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا        میر تقی میر

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر         پھر ملیں گے اگر خدا لایا      میر تقی میر

 میرے سنگ مزار پر فرہاد          رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد        میر تقی میر

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں          عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے        میر تقی میر

بہت کچھ ہے کرو میر بس          کہ اللہ بس اور باقی ہوس          میر تقی میر

مر گیا کوہ کن اسی غم میں           آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل ہے         میر تقی میر

یا تنگ نہ کر ناصح ناداں، مجھے اتنا          یا چل کے دکھا دے ، دہن ایسا، کمر ایسی            مہتاب رائے تاباں

ٹوٹا  کعبہ کون سی جائے غم ہے شیخ           کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا       قائم چاند پوری

کی فرشتوں کی راہ ابر نے بند         جو گنہ کیجئیے ثواب ہے آج     میر سوز

ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا           یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا         نظیر اکبر آبادی

پڑے بھنکتے ہیں لاکھوں دانا، کروڑوں پنڈت، ہزاروں سیانے      
جو خوب دیکھا تو یار آخر، خدا کی باتیں خدا ہی جانے           نظیر اکبر آبادی

ٹک ساتھ ہو حسرت دل مرحوم سے نکلے         عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے       فدوی عظیم آبادی

رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید      کھاری پانی سے دال گلتی نہیں      قدرت اللہ قدرت

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھالیا      پھر اس چمن میں بوم بسے یا ہما رہے        مصحفی

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائ سن کی سی           مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی        انشا

اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا      جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر        شاہ نصیر

آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈھتا تیری محفل میں رہ گیا        آتش

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجئیے دہن بگڑا          آتش

مشاق درد عشق جگر بھی ہے، دل بھی ہے     کھاءوں کدھر کی چوٹ، بچاءوں کدھر کی چوٹ    آتش

فصل بہار آئ، پیو صوفیو شراب    بس ہو چکی نماز، مصلّا اٹھائیے    آتش

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں     کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا        ذوق

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن          کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر     ذوق

اسی لئے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے ہیں    اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کاررواں ہو کر     خواجہ وزیر

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل        کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا        غالب

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے     ایسا بھی کوئ ہے کہ سب اچھا کہیں جسے    غالب

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے     بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے      غالب

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد         پر طبیعت ادھر نہیں آتی     غالب

گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں         کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی       غالب

دام و در اپنے پاس کہاں      چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں         غالب

کوچہ ء عشق کی راہیں کوئ ہم سے پوچھے       خضر کیا جانیں غریب، اگلے زمانے والے         وزیر علی صبا

اذاں دی کعبے میں، ناقوس دیر میں پھونکا        کہاں کہاں ترا عاشق تجھے پکار آیا              محمد رضا برق

الجھا ہے پاءوں یار کا زلف دراز میں    لو آپ  اپنے دام میں صیاد آ گیا         مومن

شب ہجر میں کیا ہجوم بلا ہے      زباں تھک گئ مرحبا کہتے کہتے      مومن

لگا رہا ہوں مضامین نو کے انبار      خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو         میر انیس

نسیم دہلوی، ہم موجد باب فصاحت ہیں       کوئ اردو کو کیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں         اصغر علی خاں فہیم

وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زہد کی    میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے         شیفتہ

ہر چند سیر کی ہے بہت تم نے شیفتہ        پر مے کدے میں بھی کبھی تشریف لائیے          شیفتہ

فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ        بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لئے        شیفتہ

کیا لطف، جو غیر پردہ کھولے     جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے     دیا شنکر نسیم

دینا وہ اسکا ساغر مے یاد ہےنظام       منہ پھیر کر اُدھر کو، ادھر کو بڑھا کے ہاتھ        نظام رام پوری

گرہ سے کچھ نہیں جاتا، پی بھی لے زاہد    ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں          امیر مینائ

وہ جب چلے تو قیامت بپا تھی چار طرف        ٹہر گئے تو زمانے کو انقلاب نہ تھا     داغ

دی موء ذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات          ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا         داغ
               
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں     ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں           داغ

پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں         یہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں    ظہیر الدین ظہیر

ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو          راست گوئ میں ہے رسوائ بہت          حالی

دیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار    جب تک شراب آئے کئ دور ہو گئے     شاد عظیم آبادی

خلاف شرع شیخ تھوکتا بھی نہیں    مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں  اکبر الہ آبادی

دیکھ آءو مریض فرقت کو  رسم دنیا بھی ہے، ثواب بھی ہے           حسن بریلوی

تمہیں چاہوں، تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں   
   مرا دل پھیر دو، مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا   مضطر خیر آبادی

افسوس، بے شمار سخن ہائے گفتنی         خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے        آزاد انصاری

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے      بندہ پرور جائیے، اچھا ، خفا ہو جائیے         حسرت موہانی

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں     یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری        اقبال

اقبال بڑا اپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے    گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا      اقبال

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف      ورنہ میں بھی جانتا ہوں کہ عافیت ساحل میں ہے     وحشت کلکتوی

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن         بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائ کا       عزیز لکھنوی

بڑی احتیاط طلب ہے وہ ۔ جو شراب ساغر دل میں ہے
 جو چھلک گئ تو چھلک گئ، جو بھری رہی تو بھری رہی    بینظیر شاہ

دیکھ کر ہر درو دیوار کو حیراں ہونا       وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا        عزیز لکھنوی

چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا       چال سے تو کافر پہ سادگی برستی ہے       یگانہ چنگیزی

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا     پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی       مہاراج بہادر برق

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئ      اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئ      عزیز الحسن مجذوب

اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی   یاروں نے کتنی دور بسائ ہیں بستیاں    فراق گو رکھپوری

داور حشر میرا نامہ ء اعمال نہ دیکھ   اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں     محمد دین تاثیر

امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی 'ہاں' بھی اب 'نہیں' معلوم ہوتی ہے   چراغ حسن حسرت

اعتراف اپنی خطاءووں کا میں کرتا ہی چلوں        جانے کس کس کو ملے میری سزا میرے بعد      کرار نوری

وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے    گئے تو کیاتری بزم خیال سے بھی گئے       عزیز حامد مدنی

ایک محبت کافی ہے      باقی عمر اضافی ہے     محبوب خزاں

مری نمازہ جنازہ پڑھی ہے غیروں نے      مرے تھےجن کے لئے، وہ رہے وضو کرتے    آتش

ایسی ضد کا کیا ٹھکانا، اپنا مذہب چھوڑ کر       میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

محبت میں لٹتے ہیں دین اور ایماں         بڑا تیر مارا جوانی لٹا دی

پاپوش میں لگائ کرن آفتاب کی      جو بات کی،  خدا کی قسم لاجواب کی

Sunday, October 16, 2011

جنوبی پنجاب سے ایک کہانی

ادب دنیا کی کسی بھی زبان میں تخلیق ہو اسکی سب سے اہم خوبی یہ ہوتی ہے یا ہونی چاہئیے کہ وہ اپنے عہد کی نمائیندگی کرتا ہے اسکے بغیر ادب مردہ ہے، بے جان ہے، بے اثر ہے اور محض تفریح ہے۔
آجکا پاکستان ، بم، بارود،  بے حسی، افلاس اور شدت پسندی کے دھند میں کچھ اس طرح چھپ گیا ہے کہ یہ دھند اب لکھنے والے ہی ہٹا سکتے ہیں۔ وہ لکھنے والے جو خوفزدہ ہیں۔  لکھنے والا اگر خوف زدہ ہو تو وہ کیا نوید دے سکتا ہے، وہ کیا جدو جہد پیدا کر سکتا ہے، وہ کیا انقلاب لا سکتا ہے، وہ کیا سوچ پیدا کر سکتا ہے۔  لیکن ہم اب بھی پر امید ہے، ہر خوف اپنی انتہا پہ بے خوفی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی موجودہ فضا میں ، پنجاب  میں پیدا ہونے والی تبدیلیاں خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ وہ صوبہ ہے جو پاکستان کی ساٹھ فی صد آبادی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ وراث شاہ، بلھے شاہ، اقبال، فیض، عدم، ثریا ملتانیکر، اقبال بانو، نورجہاں، ملکہ ء پکھراج، احمد ندیم قاسمی، منشا یاد اور نجانے کتنے ہی تخلیق کاروں کو، فنکاروں کو جنم دینے والی یہ زمین تمام تر نا مساعد حالات اور بڑھتی ہوئ شدت پسندی کے باوجود ابھی بھی بنجر نہیں ہوئ۔ اس زمین میں اب بھی ہیر کی بغاوت موجود ہے اور سوہنی کی استقامت۔
گذشتہ دنوں، میری نظر سے محمد اقبال دیوان کی لکھی ہوئ کہانی 'شہر کو سیلاب لے گیا' گذری۔ کہانی جنوبی پنجاب کی معیشت اور معاشرت دونوں سے تعلق رکھتی ہے۔ کہانی انقلاب کے ان نعروں سے تعلق رکھتی ہے جو کبھی مذہبی شدت پسند لگاتے ہیں، کبھی انکے مخالفین لگاتے ہیں، کبھی سیاستدان لگاتے ہیں۔ سب اپنے مفاد کے وقت ان نعروں میں پناہ لیتے ہیں۔ کیا انقلاب نعروں پہ سوار ہو کر آتا ہے؟ جنوبی پنجاب میں انقلاب کے ان نعروں کا پس منظر کیا ہے؟
کہتے ہیں ہر جھگڑے کی بنیاد زر ، زمین یا زن ہوتی ہے۔ اقبال دیوان کی یہ کہانی موجودہ پاکستان میں ان تینوں عوامل کو کس طرح اکٹھا کرتی ہے اسکے لئے آپکو یہ طویل کہانی پڑھنی پڑے گی ۔ جو کہ آصف فرخی صاحب کے مرتب کردہ ادبی پرچے دنیا زاد میں شائع ہوئ ہے۔ اسکے پبلشر ہیں شہرزاد۔ دنیا زاد کے اس حصے کا نام ہے جل دھارا، حصے کا نمبر ہے انتیس۔
کہانی کے کچھ صفحات آپکی دلچسپی کے لئے اسکین کئے ہیں۔  تو آئیے پڑھتے ہیں۔  اس زمین کے نام جس کے باسیوں کے لئے ایک ہی پیغام ہے۔ مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔











نوٹ؛ بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے تصویر پہ کلک کریں۔

اس بلاگ پہ دنیا زاد میں شائع شدہ مزید تحاریر کے لئے یہ لنکس دیکھ سکتے ہیں۔

نیا پاکستان، آدھا طالبان
زر، زمین، زن
خدا، انسان کا ہتھوڑا
ایک ادیب کے مشورے

Friday, September 16, 2011

دھتکارا ہوا شاعر

وارننگ؛ یہ تحریر خاصی حد تک ناشائستہ مواد پہ مشتمل ہے۔ صرف شائستہ تحاریر پڑھنے والے اگر اسے پڑھتے ہیں تو مزاج میں پیدا ہونے والی کراہت کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔  حساس طبیعت رکھنے والے اس سے گریز کریں۔

اس وارننگ کے بعد میں خود کو اخلاقی طور پہ آزاد سمجھتی ہوں اور موضوع کی طرف آتی ہوں ۔ یہ ایک ایسے شاعر کے متعلق ہے جس نے اپنی شاعری کے لئے ایک نہایت دھتکارا ہوا موضوع چنا، جس پہ شاعر تو کجا عام افراد بھی اشاروں کنایوں میں ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کے معیاری ادب میں اسکے لئے کوئ جگہ نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اردو کے اس شاعر کو شاعرانہ خوبیاں رکھنے کے باوجود آج شاید ہی کوئ جانتا ہو۔ انکے اشعار زیادہ تر سینہ بہ سینہ چلے آنے والے اشعار ہیں۔
  جب ، میں نے جاننا چاہا کہ انکا کوئ  دیوان موجود ہے تو معلوم ہوا کہ امریکہ کی واشنگٹن ڈی سی کی لائبریری میں اسکا ایک نسخہ موجود ہے۔ یہ جان کر کہ امریکہ کی ایک لائبریری میں انکے دیوان کا ایک  نسخہ موجود ہے آتش شوق بھڑک اٹھی۔ میں نے کوشش کی کہ کوئ اس نسخے کی نقل کروا کر وہاں سے لے آئے۔ لیکن ہوا یوں کہ مجھے کراچی میں ہی انکے دو مختلف دیوان مل گئے۔ جو کہ بھارت میں شائع ہوئے۔
برازیات کا یہ شاعر شیخ باقر علی یا جعفر علی قصبہ رودلی کا رہنے والا چرکین تخلص کرتا تھا اور اسی نام سے مشہور ہوا۔ چرکین کا کیا مطلب ہے اسکے لئے اردو کی کوئ بہتر لغت دیکھئیے۔
 اس سے آپکی وسعت الفاظ بہتر ہوگی۔
:)
مرزا قادر بخش صابر انکے بارے میں لکھتے ہیں کہ 
چرکین تخلص ایک شخص ظریف، شوخ مزاج، ساکن لکھنوء کا۔ وہ ہمیشہ سخن پاکیزہ کا دامن نجاست معنوی سے آلودہ رکھتا ۔ یعنی مضامین بول و بزار  اس طرح شعر میں باندھتا کہ زمین سخن کو گُوہ گڑھیا بنا دیتا۔ اسکی قوت شامہ یک قلم باطل ہو گئ تھی کہ اس غلاظت سے بے دماغ نہ ہوتا تھا۔ انصاف تو یہ ہے کہ ابیات میں ہر چند گوہ اچھالتا اور کاغذ کے ہر گوشے میں پیشاب کی نالی بہاتا تھا لیکن کوئ لطیف مزاج اس سے دماغ بند نہ کرتا تھا اور کوئ پاکیزہ طبع اس سے گھن نہ کھاتا تھا۔ گویا بحر شعر نے اس نجاست کو بہا دیا تھا۔
شرط سلیقہ ہے ہراک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے

انکے بارے میں خاصی کہانیاں مشہورہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میاں چرکین بہت بلند پایہ شاعر تھے۔ کلام بہت عمدہ اور پاکیزہ ہوتا تھا۔ مگر لوگ آپکا کلام چرا کر اپنے نام سے پڑھا کرتے تھے۔ جسکی وجہ سے میاں چرکین نے عاجز آ کر اپنی شاعری کا رنگ بدل دیا اور ایسے اشعار کہنے لگے جس میں گندگی کا ذکر ضرور ہوتا۔ لیکن اس کلام میں بھی تمام شاعرانہ صفات بدرجہ ء اتم موجود ہوتی تھیں۔ یہ بہرحال ایک کہانی ہی ہے مکمل صداقت نہیں۔ شاعرانہ خوبیوں کے لئے کچھ نمونہ ء کلام حاضر ہے۔

سلسل البول کی مانند رہے ڈاک رواں
اتنے خط لکھوں زمانے سے ہو کاغذ عنقا

رو زو شب ہگنے سے تم اسکے خفا رہتے تھے
مہترو خوش رہو، چرکیں نے وطن چھوڑا ہے

روک کر گھوڑے کو اس نے مری تربت پہ کہا
لید کرنی ہو تو کرلے تُو یہی تھوڑی سی

قبر پہ آکے بھی اس بت نے نہ مُوتا افسوس
کام کچھ اپنے  نہ مرگ شب ہجراں آئ

اپنے ہی سڑے ٹکڑوں پہ کی ہم نے قناعت
چکھا نہ متنجن کسی نواب کے خواں کا

مقصود عالم مقصود جو کہ ایک طرح سے غالب کے شاگرد تھے انہیں چرکین کی نادر ترکیبوں ، الفاظ، فقرے اور محاوروں نے کھینچا ہوگا جو اب نہیں بولی جاتی اور انہوں نے چرکین کے مرنے کے پچیس سال بعد انکا کلام ایک جگہ اکٹھا کر کے اسے دیوان کی شکل دی۔ یوں یہ محفوظ ہوا مگر لوگوں کی لائبریریوں میں نمایاں جگہ نہ پا سکا۔
انکی بولی دیوان خانے یا شائستہ آنگن کی نہیں نالی، کوڑا گھر، سنڈاس، بول و بزار وغیرہ کی ہے۔ بول و بزار کے علاقے کے الفاظ جنکے سلسلے میں لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ انکو چرکین نے اپنے کلام میں محفوظ کیا اور بیت الخلاء کے آداب کی ایک اہم دستاویز چھوڑی۔
چرکین نے بول و بزار کے مضامین کے لئے سوقیانہ یا کوئ خراب زبان نہیں لکھی۔انکا کلام معیاری اردو میں ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو اس زمانے میں آتش، ناسخ اور مصحفی وغیرہ کی تھی۔ایک ایک مصرعہ تراشا ہوا، شعر میں چستی اور زائد یا بھرتی کے الفاظ سے پاک مضامین آلودہ لیکن کلام میں غضب کی روانی ہے۔ چرکین کے کلام کو بلا تعصب، صبر اور برداشت سے پڑھے بغیر انکے فن کی قدر نہیں جانی سکتی۔ 
بقول اردو کے مایہ ناز ادیب شمس الرحمن فاروقی، اگر کلام کے ذریعے جنسی لذت پیدا کرنے یا حاصل کرنے کی شرط کو اہم قرار دیں تو چرکین کا کوئ شعر مشکل سے فحش کہلائے گا۔خلاف تہذیب ہونا اور بات لیکن کوئ شعر ایسا نہیں کہ اسے بچوں یا بہو بیٹیوں کے سامنے پڑھایا نہ جا سکے یا انکے سامنے پڑھا نہ جا سکے۔
لیکن ہمیں پھر بھی کلام کی اس نوعیت پہ حیرت یا تعجب ہوتا ہے۔ کچھ اور لوگوں کو کچھ اور باتوں پہ ہوتا ہے مثلاً بائرن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوالہ منہ میں ڈالنے، چبانے اور حلق سے اتارنے کو اس قدر غیر نفیس فعل سمجھتا تھا کہ کسی عورت کو کچھ کھاتے پیتے نہ دیکھ سکتا تھا۔ جبکہ جرمن ناول نگار پیٹرک سسکنڈ لکھتے ہیں کہ 
میں اپنے بچپن میں یہ سوچ سوچ کر حیران رہ جاتا تھا کہ ناولوں کے کرداروں کو کبھی بیت الخلاء جاتے کیوں نہیں دکھایا جاتا۔ اسی طرح پریوں کے قصے ہوں یا اوپرا، ڈراما ہو یا فلمیں یا پھر بصری آرٹ کی مختلف شکلیں ان میں کسی کو بھی رفع حاجت کی ضرورت کیوں نہیں پیش آتی۔ انسان کی زندگی میں پیشاب یا پاخانے کا عمل جو زندگی کا سب اہم اور انتہائ ضروری معمول ہے وہ آخر آرٹ کی دنیا میں اپنی جگہ کیوں نہیں بنا سکا۔
قادر بخش صابر مزید لکھتے ہیں کہ
اوائل حال میں تو اس نے یہ وضع ہزل سمجھ کر اختیار کی یعنی مذاق میں۔ لیکن رفتہ رفتہ اس قال کو حال بنا لیامدام لباس چرک پہنتا اور ایسی میلی کچیلی وضع رکھتا کہ اجنبی اس کو سچ مچ کا حلال خور سمجھتے۔حق یہ ہے کہ جو ابتداء میں کہتا تھا وہ آخر میں کر دکھایا۔ آخر الامر لال بیگ کی صحبت اور گوگا پیر کی ہم نشینی کے شوق میں شہر کے پاکیزہ مقامات سے بھاگ کر صد ہا آرزو کا ٹوکرا سر پر رکھے ہوئے بہ طریق پا تراب کے جنگل کے کسی کوڑے پر اول منزل کی۔

مزید شعر حاضر ہیں
خیال زلف بتاں میں جو پیچ کھاتے ہیں
مروڑے ہو ہو کے پیچش کے دست آتے ہیں

کسی کے پاد سے اڑتے نہ کنکری دیکھی
اڑائے دیتا ہے چرکیں پہاڑ پھسکی سے

وہ جنتی ہے مرے جو مرض سے دستوں کے
ہے یہ ثواب تو باز آئے اس صواب سے ہم

عبث بدنامیوں کا ٹوکرہ سر پر اٹھانا ہے 
لگانا دل کا بس جھک مارنا اور گُو کا کھانا ہے

چرکین سے کسی نے ایک دفعہ کہا کہ دنیا کے ہر موضوع کوبول و بزار کی زبان میں بیان کر سکتے ہو تو ذرا حضرت علی کی بہادری کو بیان کر دکھاءو۔ شعر ملا۔
رن میں جس دم تیغ کھینچی حیدر کرّار نے 
ہگ دیا دہشت کے مارے لشکر کفار نے
یہ مصرعہ اس طرح بھی ملتا ہے،  ہڑبڑا کر ہگ دیا ، لشکر کفار نے۔

نوٹ اس تحریر کا ماخذ ابرار الحق شاطر گورکھپوری کا مرتب کردہ دیوان چرکین ہے جس میں انہوں نےچرکین کا ادبی پس منظر اور تاریخ بھی دی ہے اور جس کا مقدمہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ۔

Friday, July 8, 2011

خدا ، انسان کا ہتھوڑا

پچھلے دنوں بلاگستان کی دنیا میں تصور خدا پہ گفتگو کچھ لوگوں کے دماغ پہ ہتھوڑا بن کر برس پڑی۔ حالانکہ ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ دل نہ کسی کا توڑو، دل کے اندر رب رہتا ہے۔  دل میں قیام پذیر خدا بڑی مختلف خصوصیات رکھتا ہے۔ یہ رہتا تو دل جیسے مشتبہ مقام پہ ہے ، جہاں ایک آسانی یہ ہے کہ جب ذرا گردن جھکائ دیکھ لیا وہاں یہ خدا انسانی تلون مزاجی سے بھی نبرد آزما رہتا ہے۔  یہ مصروف اور جفاکش خدا تخت دل سے کائینات پہ حکمرانی کرتا ہے اور یہ آسان حکمرانی نہیں ہے۔ 
  لیکن اکثریت کا خدا دماغ میں رہتا ہے۔ ان میں سے وہ الگ ہیں جن پہ عقل پرستوں کا الزام لگتا ہے وہ تصور خدا کی بنیادیں پرکھتے ہیں۔ جو خدا کے وجود کو ڈھونڈھ رہے ہیں ان پہ کوئ قانونی  یا اخلاقی حد جاری کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ سو خدا نے بھی اس سلسلے میں کوئ قانون نہیں بنایا۔
لیکن دوسرا گروہ جس کا خدا اسکے دماغ میں رہتا ہے یہ وہ ہیں جو خدا پہ اپنے پختہ یقین کا دعوی کرتے ہیں۔ لیکن یہ وہ خدا ہے جسے استعمال کرنے کے دماغی جواز ڈھونڈھے جاتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو اپنی دماغی صلاحیتیں دوسروں کے ایمان کو پرکھنے میں لگاتے ہیں۔  سمجھتے ہیں کہ خدا نے انہیں اس عظیم ذمہ داری کے لئے چن لیا ہے۔ یوں کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا۔ اسکی جڑیں کافی دور تک پھیل جاتی ہیں۔ 
دماغ میں قید ہو جانے والا یہ خدا، اپنے اوپر ہونے والی گفتگو سے ڈر جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے منسوب مفادات کی ڈور ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لازماً یہ اسی وقت منصب خدا کے لئے نا اہل قرار پا جاتا ہے۔ اور اگرچہ، اظہار آزادی ء رائے اچھی بات لگتی ہے، لیکن کچھ لوگوں کے اوپر پابندی ہونی چاہئیے کہ وہ خدا کی محبت اور اسکی تبلیغ سے اجتناب کریں۔ یہ خدا کے مثبت وجود کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے۔
آہ، اس مرحلے پہ لگتا ہے کہ  آفاقی قوانین کو ترتیب دینا کتنا مشکل ہے۔ جن انسانوں نے ایسے قوانین ترتیب دئیے انہیں سلام۔ اب یہ ایک الگ ہوم ورک ہے کہ ان آفاقی قوانین  کی فہرست بنائیں جو انسانوں نے ترتیب دئیے۔
فہمیدہ ریاض، اردو کی معروف ادیبہ ہیں۔ ادب کی ترقی پسند صنف کی طرف ان کا جھکاءو ہے۔ انکی تخلیقات، شاعری، افسانوں اور مختلف مضامین کی صورت موجود ہیں۔  تصورخدا اور الہامی نظریات کا پس منظر لئے ہوئے انکی ایک تحریر نظر سے گذری۔ دنیا زاد کے شمارے بعنوان جل دھارا  میں شائع ہوئ۔ اس کہانی کا عنوان میرے ذہن سے اتر گیا۔ اور چونکہ اس وقت میں پاکستان میں موجود نہیں۔اس لئے اسکا عنوان نکالنا ممکن نہیں۔ دنیا زاد کے ایڈیٹر ہیں جناب آصف فرخی اور پبلشر ہیں شہر زاد۔
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکے چند اسکین شدہ صفحات میرے پاس موجود ہیں۔ ان قارئین سے معذرت جو اسکین شدہ صفحات سے گھبراتے ہیں۔ فہمیدہ ریاض کی یہ کہانی بعض ذہنوں پہ ہتھوڑا ثابت ہو سکتی ہے۔ ان سے بھی معذرت۔
بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے تصویر پہ کلک کیجئِے۔






     

Friday, June 17, 2011

زر، زمین، زن

کہتے ہیں  دنیا میں تمام جھگڑوں کا باعث تین چیزیں ہیں۔ زر، زمین اور زن۔ مجھے نہیں معلوم کہ نظریاتی اور مذہبی جھگڑے انکے درمیان کہاں فٹ ہوتے ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ یہ مقولہ، معاشرتی جھگڑوں پہ زیادہ جچتا ہو۔ 
آپ میری اس رائے سے اختلاف کریں یا انکار، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جھگڑے اپنی رفتار سے جاری ہیں اور جاری رہیں گے۔ آج ایک وجہ کو ختم کریں کل کسی اور نام سے اٹھ کھڑے ہونگے۔ اس لئے عقلمند لوگ، پرانے جھگڑے نہیں نبٹاتے۔  یہ جتنے پرانے ہوں، اتنی ہی مہارت سے لٹکائے رکھے جا سکتے ہیں۔ یوں بہت سے لوگوں کی دانش اور مہارت کا سکہ جما رہتا ہے۔ اگر پرانے جھگڑے  فی الفور نبٹا دئیے جائیں۔ تو ہر نئے جھگڑے پہ نئ مہارت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس سے ارتقاء کی رفتار بڑھ جانے کا اندیشہ ہوگا۔ جس سے نئ مخلوقات سامنے آئیں گی۔ وہ دعوی کریں گی کہ یہ  جھگڑا ہمارا ہے اور ہم اسے بہتر طور پہ حل کر سکتے ہیں۔ لیجئیے  پھر نسلی تفاخر کی جگہ بننا مشکل ہو جائے گی۔ اس طرح، معاشرے کے تارو پود بکھر جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔
تارو پود کے بکھرنے  سے ، غریب، ترقی پذیر معاشروں کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔ کیونکہ ان تاروں کے بکھرنے میں  تبدیلی کا کرنٹ بہتا ہے۔ انہیں واپس انہی بنیادوں پہ ایستادہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس سے پرانے جھگڑے مر جاتے ہیں۔ اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے ہیں اب رہائ ملی تو مر جائیں گے۔  اور پود کے متعلق مجھے بھی کچھ اندیشہ ہائے دراز لا حق ہیں۔ پورب جاءو یا پچھم، وہی کرم کے لچھن۔

اس سلسلے کو یہیں فل اسٹاپ لگا کر اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ زر، زمین اور زن۔
پچھلے دنوں میں نے دوتحریریں پڑھیں۔ ایک مصری  ادیب علاء الاسوانی کی کہانی اور دوسرے ایک پاکستانی ادیب محمد اقبال دیوان کی کہانی۔ ایک کے پیچھے مصر  کا پس منظر اور اسکے سیاسی، معاشی و معاشرتی حالات جھانک رہے ہیں اور دوسرے میں پاکستان اپنی انہی تلخ حقیقتوں کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن ان دو تحریروں میں ایک چیز مشترک لگتی ہے وہ مرد کا عورت سے رشتہ۔ اور یوں لگتا ہے دنیا کا  ہر انقلاب ان دونوں کے اس رشتے سے ہو کر گذرتا ہے۔ تو کیا دنیا کا ہر جھگڑا زر، زمین اور زن کے گرد گھومتا ہے۔
میری تو خواہش تھی کہ اقبال دیوان کی کہانی کو پورا ڈال دیتی ہے۔ کہ اس میں آجکا پاکستان جھلکتا ہے۔ لیکن یہ تیس صفحوں پہ مشتمل ہے۔
علاء الاسوانی کی تحریر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ ہے۔ اس لئے دونوں کہانیوں کے کچھ صفحات کے اسکین شدہ حصے ہی مل پائیں گے۔ آج مصری ادیب کو پڑھیں۔ مصر کی تہذیب میں ویسے ہی  بڑی سحر انگیزیاں ہیں اسکے ادیب کا سحر دیکھیں۔ یہ حصہ انکے ناول عمارت یعقوبیان کے  دوسرے باب سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ مترجم ہیں محمد عمر میمن۔  شائع ہوا ہے دنیا زاد میں۔ اب دنیا زاد والوں کو مجھے اپنے ایڈورٹائزنگ سیکشن کاحصہ سمجھنا چاہئیے۔
:)




یہ اسکین شدہ صفحات ہیں۔ بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر پہ کلک کیجئیے۔

Monday, May 16, 2011

ایک ادیب کے مشورے

لکھنا ایک فطری صلاحیت ہے؟
ہو سکتا ہے۔ در حقیقت میں بھی اس چیز پہ یقین رکھتی ہوں کہ انسان کرنے پہ آئے تو کیا نہیں کر سکتا۔ بس یہ کہ اگر آپ فطری رجحان نہیں رکھتے تو آپکو محنت زیادہ کرنی پڑے گی فطرت پہ حاوی ہونے کے لئے۔
لکھنے کی کوشش کریں تو لکھاری بن ہی جاتے ہیں لیکن کیا آپ اچھے لکھاری بن سکتے ہیں۔ 
اگر آپ لکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ آپ میں یہ فطری رجحان موجود ہے۔  اکثر لکھنے والے اس بلاک کا تذکرہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں انکے اندر لکھنے کا محرک نہیں رہتا۔ اگر اسکی وجہ یہ ہے کہ آپ جذباتی طور پہ اپنی توجہ مرکوز نہیں کر پا رہے تو امید ہے کہ اس جذباتی دباءو کے ہٹتے ہی آپ دوبارہ رواں ہونگے بلکہ پہلے سے زیادہ رواں ہونگے۔  اسکی ایک اور وجہ ہے اور وہ یہ کہ ٹوپی میں سے خرگوش نکالنے کے لئے ٹوپی میں خرگوش کا موجود ہونا ضروری ہے۔ یعنی جس طرح شہد کی مکھی پھولوں کا رس جمع کر کے شہد بناتی ہے۔ اب وقت ہے کہ کچھ جمع کیا جائے۔
 لکھنا صرف انگلیوں کا کمال نہیں کہ انگلیاں کرائے پہ بھی لی جا سکتی ہیں۔ اس کا تعلق بصیرت سے ہے بلکہ بصیرت سے زیادہ شہادت سے۔ اس شہادت سے جسکے نتیجے میں آپ یا تو شاہد ہوں یا مشہود، شہید نہیں۔ شہید ہونے کے بعد اگر آپ کچھ لکھیں تو اسکی جہت اتنی الگ ہوگی کہ عام انسان اسے سمجھنے سے قاصر ہوگا۔ اس لئے ہم عزت اور احترام سے شہید کو دفناتے ہیں خود شاہد یا مشہود بنتے ہیں پھر  رمز بھرے بھید لکھتے ہیں  جو حکائیتیں، داستانیں یا شاعری وغیرہ کہلاتے ہیں۔
ہوا یوں کہ آج ایک کتاب تلاش کرتے کرتے ایک اور کتاب ہاتھ آگئ۔ تلاش کا عمل بس اسی وجہ سے آسان نہیں رہتا بلکہ اس میں ایک عجیب اسرار اور رنگینی پیدا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ کچھ اور چیزیں بھی اپنے آپکو تلاش کروالیتی ہیں۔ 
اسے یونہی کھولا تو سامنے  مصری ادیب نجیب المحفوظ کی تحریر موجود تھی۔ ایک اچھا لکھاری کیسے بنا جائے۔ نوجوان ادیبوں کے نام یہ کام کے مشورے ہیں۔  اسے اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا کہ فرصت ملتے ہی اسکین کیا جاوے اور اپنے بلاگ پہ چپکایا جاوے۔
نجیب محفوظ ایک نوبیل انعام یافتہ ادیب ہیں۔ مصر سے تعلق ہے۔ یوں ایک خیال اور آیا کہ ہمارے یہاں اچھے ادیبوں کا کتنا قحط ہے۔ لیکن پھر رّدِ خیال آیا کہ جب محدود زمین اور آسمان کا تعارف ہو تو پرندوں کو اونچی اور وسیع اڑانوں کی عادت بھی تو نہیں رہتی۔
یہ کتاب دراصل ایک ادبی مجموعہ ہے جو ڈاکٹر آصف فرخی ہر سہ ماہی پہ نکالتے ہیں۔ انکے ان ادبی مجموعوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہمیشہ کسی موضوع کا احاطہ کرتے ہیں۔ نام ہے انکے اس سلسلے کا 'دنیا زاد' اور چھاپتے ہیں اسے شہر زاد والے ۔ اس مخصوص مجموعے کا عنوان ہے 'قدیم حسن'۔



Friday, May 13, 2011

لُک آنجن

مکی صاحب کی ایک پوسٹ پڑھی جسکے اخیر میں وہ لکھتے ہیں کہ
ایک بات یقینی ہے کہ میں کسی ” ہستی ” کو تلاش کر کے اس کا شکریہ ضرور ادا کروں گا کہ مچھلی، بندر یا کسی کیڑے کی 
 بجائے میرا ارتقاء انسان کی صورت ہوا
یاد آیا کہ ایک شکریے سے وابستہ  خیال کہیں اور بھی تو کچھ سال پہلے پڑھا تھا۔ آپ کے مطالعے کے لئے حاضر ہے۔ بھولے قارئین یہ نہ سمجھیں کہ یہ مصنف کی آپ  بیتی ہے۔ یقین دلادوں کے جس وقت لکھاری نے یہ لکھا وہ صاحب اولاد نہیں تھا۔ کراچی کے ایک ادبی پرچے میں شائع ہونے والا  فکاہیہ یہ رہا۔
بہتر دیکھنے کے لئے تصویر پہ کلک کیجئے۔



 

Sunday, February 13, 2011

کافکا کی ایک کہانی

فرانز کافکا میرا پسندیدہ ادیب ہے۔ کیوں پسند ہے؟ اس کا کوئ واضح جواب میرے پاس نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے مجھے چیکو فلیور کی آئس کریم پسند ہے۔ مگر نہیں پتہ کہ کیوں پسند ہے۔ یا بالکل ایسے ہی جیسے میں لوگوں کی مسکرانے کی ادا کو سب سے پہلے محسوس کرتی ہوں معلوم نہیں کیوں۔ 
محمد عاصم بٹ کا کہنا ہے کہ انہیں کافکا اس وقت بھی پسند تھا جب انہوں نے اسے پڑھا نہیں تھا۔ شاید میں بھی کچھ ایسا ہی کہنا چاہوں۔ محمد عاصم بٹ  کون ہیں؟ انہوں نے کافکا کی کہانیوں کا اردو ترجمہ کیا ہے ۔ کہانیوں کے اس مجموعے کو جنگ پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ نام ہے اسکا کافکا کہانیاں۔
 کافکا اٹھارہ سو تراسی میں پراگ، جرمنی میں پیدا ہوا اور انیس سو چوبیس کو ویانا کے نزدیک ایک سینی ٹوریم میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اس نے اپنی کافی تحاریر کو تلف کر دیا۔ مرنے سے پیشتر اس نے اپنے دوست سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اسکی تمام تحاریر کو چاہے وہ مکمل ہوں یا نا مکمل جلا دیا جائے۔ مگر دوست نے اس خواہش کو رد کر دیا اور اسے جو بھی تحریر ملی اسے چھپوا دیا۔ صرف اکتالیس سال عمر پانے والے اس ادیب نے ادب کی دنیا میں انمٹ نشان چھوڑے ہیں۔ 
کافکا کی ایک تحریر آپکے لئے اسکین کی ہے۔ اس تحریر کے انتخاب کی پہلی وجہ اسکا مناسب سائز میں ہونا ہے یعنی محض تین صفحات۔ باقی وجوہات آپ کھنگالئیے۔



Friday, January 21, 2011

تشدد

دیکھیں آپکو یہ نہیں کہنا چاہئیے کہ مارنا پیٹنا اچھا نہیں ہے۔   فرض کریں کہ آپ خواتین پہ ہونے والے تشدد کا تذکرہ کرتی ہیں تو اکثریت اسے ریجیکٹ کر دے گی کہ یہ ہمارے یہاں نہیں ہوتا۔ یا ہم نے تو کبھی کسی کو کرتے نہیں دیکھا۔ کوئ آپکو صحیح جواب نہیں دے گا۔ آپ اسی خیال کو ذرا اور طریقے سے کر سکتی ہیں۔ مثلا کیسے؟ میں نے اپنی آنکھیں اس روشن چہرے والی لڑکی کے چہرے پہ جمائیں۔ جو ایم بی بی ایس کرنے کے بعد فل برائیٹ کے اسکالر شپ پہ امریکہ روانہ ہوئ اور وہاں سے سوشل ہیلتھ سائینس پر ڈگری لے کر لوٹی۔ اور اب پاکستان کے دیہاتوں اور شہروں میں اس حوالے سے مختلف پروجیکٹس پہ کام کر رہی ہے۔ مثلاً آپ ان سے پوچھیں کہ تشدد کیا ہوتا ہے؟
 آپ میری بات سمجھ رہی ہیں ناں۔
 میں خاموشی سے اسکی باتیں سنتی رہی۔ وہ لوگ جو نئ وسعتیں دیکھ کر لوٹتے ہیں انکی باتیں خاموشی سے سننی  چاہئیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری پرانی سرحدیں نئ وسعتوں سے مل پائیں۔
تشدد کیا ہوتا ہے؟ یہ ہے آج کا سوال۔
 میں نے آج کل میں ایک کتاب پڑھی۔ یہ کتاب ابھی حال ہی میں کراچی میں منعقدہ، کتاب میلہ سے لی تھی۔ میں نے اسے خالد جاوید کا ناول سمجھ کر لیا لیکن یہ انکے افسانوں کا مجموعہ نکلا۔ خالد جاوید ایک ہندوستانی ادیب ہیں۔ انکے دو افسانے میں نے پہلے پڑھے تھے اور ان سے کافی متائثر ہوئ۔ مجموعہ پڑھ کر اندازہ ہوا کہ خالد جاوید موت  کے  کہانی کار ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریبا ہر کہانی میں موت کو مختلف انداز سے زندگی سے جوڑا ہے۔ 
مگر یہاں انکی ایک کہانی 'روح میں دانت کا درد' کے چند اقتباسات حاضر ہیں۔ کہانی میں سے اقتباسات کو الگ کرنا خاصہ بے رحمی کا کام ہے، یعنی یہ بھی ایک تشدد ہے۔  یہ اقتباسات ہمارے موضوع تشدد سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہم نفرت کر سکتے ہیں، ہم کسی کو بھی نفرت کا موضوع بنا سکتے ہیں۔ یہ تشدد ہے۔ دانتوں کا کیڑا اندر ہی اندر نہ جانے کون سی سرنگ بنا رہا تھا۔ ایک منہ سے دوسرے منہ تک بدبودار آندہیاں چل رہی تھیں۔ انکے آلودہ جھکڑوں میں کیا کیا  نہ مٹ جائ گا۔ مگر زندہ رہنے کے لئے نفرت کو برداشت کرنا پڑے گا۔

اگر تشدد ہی ہر مسئلے کا حل تھا تو سڑی ہوئ داڑھ نکلوا کر پھینک دینے سے زیادہ اسے سینت سینت کر پیوند لگا لگا کر رکھنا زیادہ معنی خیز تشدد تھا۔
 
یقیناً یہ سب جاہلانہ تھا۔ جہالت، بد ذوقی، نا سمجھی اور بد دماغی، یہ سب کتنی حقیر اور نظر انداز کر دینے کے قابل چیزیں تھیں۔ مگر جب یہ چیزیں تمہاری زندگی میں منظم طریقے سے داخل ہوتی ہیں اور باقاعدگی سے اپنے وجود کا احساس دلاتی ہوئ تمہارے کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی ہو جاتی ہیں تب تشدد اور نفرت کی یہ قسم پیدا ہوتی۔ خطرناک، چالاک اور ٹچا تشدد جو اپنی طرف اٹھی ہوئ ایک خشمگیں آنکھ کا بدلہ بھی دوسرے سے چہرے پر دعا پڑھوا کر لیتا ہے۔
انفرادی اور اجتماعی تشدد الگ الگ  شے نہیں ہیں۔

کبھی کبھی وہ اپنے مرے ہوءوں سے مدد مانگتا۔ اور یقیناً یہ بھی تشدد ہے۔ دنیا جہاں سے ماوراء ان پاک روحوں کو دوبارہ گھسیٹ کر کھینچ کر دنیا میں لانا ان سے دنیا کے کاموں کی مدد لینا انکی روحوں کو شدید کرب اور چڑچڑاہٹ میں مبتلا کر دینے کے علاوہ اور کیا تھا ؟ یہ تشدد کا حصار تھا جو اپنی ماہیت میں دنیا کے رنگ و ریشے میں سما گیا تھا۔

Saturday, September 4, 2010

سر سید احمد خان-تعلیم۔ ۲


سر سید کی تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا۔ بسم اللہ قرآن حکیم سے ہوئ۔ اپنی والدہ اور ایک استانی سے جو انکے خاندان کے بچوں کو پرھاتی تھیں پڑھنا لکھنا سیکھا پھر فارسی اور عربی کی ابتدائ کتابیں پڑھیں۔ گلستان اور بوستان کے مطالعے میں بھی انکی والدہ انکی مدد کرتی رہیں۔ مکتب کی تعلیم میں مولوی حمید الدین انکے اتالیق تھے۔ تعلیمی استعداد پیدا ہونے پہ اپنے ننہیالی تلخصص ریاضی کی طرف آئے۔ پھر آلات رصد کے علوم کی تحصیل کا شوق ہوا۔ پھر اپنے خاندانی حکیم غلام حیدر کے زیر اثر طب میں دلچسپی لینے لگے۔ طب کی ابتدائ کتابیں ان سے پڑھیں اور کچھ عرصے انکی شاگردی میں طبابت کا تجربہ حاصل کیا۔ یہ دلچسپی بھی زیادہ عرصے نہ رہی۔ طبیعت کے رجحان اور افتاد طبع کے مطابق مختلف کتابیں انکے زیر مطالعہ رہیں مگر علم کے کسی خاص شعبے میں کوئ قابل لحاظ قابلیت پیدا کرنے کا خیال نہیں آیا۔ البتہ دہلی کی علمی و ادبی مجلسوں میں بیٹھنے کا موقعہ انہیں اکثر ملتا رہتا تھا۔ اہل علم و ادب سے انکی ملاقات رہتی۔ اس وقت کے مشہور شعراء و ادباء میں مرزا غالب، مفتی صدر الدین خان آزردہ۔ اور امام بخش صہبائ کے ہاں انکا آنا جانا تھا۔
سن  ۱۸۴۶میں انکے عزیز بڑے بھائ سید محمد خان چند روز بیماری میں مبتلا رہ کر وفات پا گئے۔ اس صدمے نے انکے دماغ پہ گہرا اثر ڈالا۔ دنیا کی رنگینیوں سے دل اچاٹ ہو گیا۔انکی کایا ہی پلٹ گئ۔ داڑھی بڑھا لی۔ زہد و تقوی میں مستعد ہو گئے۔ علم کی پیاس ازسر نو عود کر آئ دینی کتب کا کے مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔ لڑکپن میں جو رسائل سرسری پڑھے تھے انہیں دوبارہ غور خوض سے پڑھا۔ مولوی واعظ علی جو دلی کے مشہور واعظ تھے ان سے علم فقہ پر کتابیں پڑھیں۔ مولوی فیض  الحسن سے مقامات حریری اور سبعہ معلقہ کے چند قصیدے سبقاً پڑھے۔ شاہ عبدالعزیز کے بھتیجے اور شاہ رفیع الدین کے خلف الصدق سے حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ پھر انہی سے علوم القراں کی تحصیل کی اور سند لی۔
اس دوران صہبائ، آزردہ اور غالب کے یہاں بھی باقاعدگی سے حاضر ہوتے رہے۔ اور ان سے اکتساب فیض کرتے رہے۔ غالب کے خاندان سے انکے ننہیال کے خاندانی روابط تھے۔ وہ انہیں اپنا چچا کہتے تھے اور غالب ان سے بیٹوں جیسا سلوک کرتے اور شفقت فرماتے۔
تو صاحب، یہ ان لوگوں کے قصوں میں سے ایک کا قصہ ہے جو اپنی جہالت پہ فخر کر کے اسے بیان نہیں کرتے تھے بلکہ اسے کم کرنے کی جدو جہد میں لگے رہتے تھے۔ یہ کہانی ابھی جاری ہے۔

سر سید احمد خان-تعلیم۔ ۱

گذشتہ سے پیوستہ

سر سید کا نام انکے والد کے پیر و مرشد ، شاہ غلام علی نے احمد خان رکھا تھا۔ وہ پیدائیش کے وقت بڑے تندرست اور صحت مند تھے۔ جب انکے نانا نے انہیں پہلی دفعہ دیکھا تو کہا ' یہ تو ہمارے گھر میں جاٹ پیدا ہوا ہے'۔
وہ اپنے بچپن میں شوخ، شرارتی اور مستعد تھے۔ ایک دفعہ اپنے ہمجولی کو مکا دے مارا اس نے ہاتھ پہ روکا تو اسکی انگلی اتر گئ۔ بچپن میں وہ پڑھائ لکھائ میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے، نہ انہوں نے تعلیم کے دوران کسی غیر معمولی ذہانت یا طباعی کا مظاہرہ کیا۔لیکن وہ اپنا سبق باقاعدگی سے یاد کرتے تھے۔ گھر میں پڑھنے لکھنے کا ماحول تھا۔ انکی والدہ اور نانا انکی تدریس اور تعلیم کا خیال رکھتے تھے۔اپنے نانا کے ساتھ کھانے کا تذکرہ سر سید اس طرح کرتے ہیں۔
میرے نانا صبح کا کھانا اندر زنانہ میں کھاتے تھے۔ بچوں کے آگے خالی رکابیاں ہوتی تھیں۔ نانا صاحب ہر ایک بچے سے پوچھتے تھے کہ کون سی چیز کھاءوگے؟ جو کچھ وہ بتاتا وہی چیز چمچے میں لے کر اپنے ہاتھ سے اسکی رکابی میں ڈال دیتے۔ تمام بچے  بہت ادب اور صفائ سے انکے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ سب کو خیال رہتا تھا کہ کوئ چیز گرنے نہ پائے۔ ہاتھ کھانے میں زیادہ نہ بھرے اور نوالہ چبانے کی آواز منہ سے نہ نکلے۔ رات کا کھانا وہ دیوان خانے میں کھاتے تھے ہم سب لڑکے انکے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ہم کو بڑی مشکل پڑتی تھی۔ نہایت سفید چاندنی کا فرش بچھا ہوا ہوتا تھا کسی کے پاءوں کا دھبہ سفید چاندنی پر لگ جاتا تھا تو اسکو بھگا دیتے تھے کہ کتے کے پاءوں کیوں رکھتا ہے۔ روشنائ وغیرہ کا دھبا کسی کے کپڑے پر ہوتا تھا تو اس سے بھی نا خوش ہوتے تھے۔
سر سید میں اظہار بیان کا ایک قدرتی جوہر تھا۔ جو بعد میں انکی شخصیت کا وصف بن کر سامنے آیا۔ اسکا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے۔
سر سید ایک دن اپنے نانا حضور کو سبق سنا رہے تھے کہ اس مصرعے پہ پہنچے۔ طمع را سہ حرف است، ہر سہہ تہی۔
سر سید نے ترجمہ کیا طمع کے تین حرف تینوں خالی۔ وہ خفا ہوئے بولے۔ 'بے پیر، سبق یاد نہیں کرتا۔'۔ سر سید کہتے ہیں مجھے اتنا رنج ہوا کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔  بعد میں خیال آیا کہ است کا ترجمہ نہیں کیا۔ ورنہ فقرہ یوں ہوتا۔ طمع کے تین حرف ہیں تینوں خالی۔ لیکن دیکھا جائے تو سر سید کا بے ساختہ ترجمہ زیادہ رواں، فصیح اور اردو محاورے کے قریب ہے۔

Tuesday, July 27, 2010

ایک شکریہ

بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں صرف جینزاور ماحول کا ہی اثر نہیں ہوتا۔ ان کتابوں کا بھی اثر ہوتا ہے جو انہیں پڑھنے کے لئے میسر آتی ہیں۔ اس طرح سے ہمارے یہاں دہشت گردی، کرپشن اور اخلاقی زبوں حالی کا ایک باعث اگر بچوں کی بڑی تعداد کا اسکول تک نہ پہنچ پانا ہے تو وہیں  بچوں کا بہتر کتابوں تک رسائ نہ ہونا  بھی  ہے یہاں بہتر کتابوں سے میری مراد وہ کتابیں جو بچوں کے تخیلاتی عمل کو جِلا دیتی ہے۔
ہمارے جن اسکولوں میں بچوں کو لائبریری کی سہولت  ہے۔ انکی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوگی. ۔ یوں اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والے لوگ ایک مخصوص نصاب سے آگے شاید ہی کچھ جانتے ہوں۔ نصاب کا بھی اتنا ہی پڑھنا روا ہے جتنا امتحانی نکتہ ء نظر سے ضروری ہو۔ جبکہ ریاست نصاب کو اپنے پس منظر سے تشکیل دینے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔ یوں ایک جنریشن چندر گپت موریہ کو پڑھنے میں کامیاب ہوتی ہے اور دوسری محمد بن قاسم سے تاریخ پاکستان شروع کرتی ہے۔ ایک کی اسلامیات بنیادی اخلاقیات پہ مشتمل ہوتی ہے اور دوسری کی جہاد کے فضائل پہ۔
کتاب پڑھنے کی عادت بچوں میں بچپن سے ہی ڈالنی پڑتی ہے۔  ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں جبکہ والدین کمپیوٹر بچوں کے حوالے کر کے سمجھتے ہیں کہ اس پہ گیمز کھیل کر انکے لاڈلے کوئ غیر معمولی کام کر رہے ہیں، وہاں وہ اپنے بچوں کے اندر مطالعہ کا شوق پیدا کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ کسی سے پوچھیں کہ بچے کتاب پڑھنے میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے جواب ملے گا کہ کمپیوٹر کا  دور ہے صاحب۔ 
دلچسپ بات یہ ہے کہ مغربی معاشرہ جو ٹیکنالوجی میں ہم سے کہیں آگے ہے، وہاں اب تک مطالعے کی عادت ترک نہیں ہوئ۔ ہر اسکول لائبریری رکھتا ہے۔ اسکول کے ٹائم ٹیبل میں لائبریری کے پیریڈز ہوتے ہیں۔ ہر بچے کو ٹارگٹ ملتا ہے کہ اتنی کتابیں پڑھنی ہیں۔اسکول سے باہر نکلیں،  ائیر پورٹ سے لیکر تمام عوامی مقامات پہ  آپ کو لوگ مطالعہ کرتے نظر آئیں گے۔
صاحب حیثیت والدین، کے ایف سی اور مکڈونلڈز قسم کے ریسٹورنٹ سے جنک فوڈ تو بہ رضا و رغبت بچوں کو دلاتے ہیں اور کسی محفل میں فخریہ بتاتے ہیں کہ انکے بچے کون سی جنک فوڈ یا کپڑوں کا کون سا برانڈ پسند کرتے ہیں۔ مگر ایک کتاب خرید کر دینا انہیں پیسے کا زیاں لگتا ہے اور اسکا شاید ہی کوئ تذکرہ ہم کبھی سنتے ہوں۔
یہ سب باتیں مجھے کیوں اس وقت یاد آرہی ہیں؟
ابھی چار پانچ دن دن پہلے مجھے ایک دعوت نامہ ملا۔ جو مسعود احمد برکاتی صاحب کی نونہال کے ادارت کے پچاس سال پورے ہونے پہ ایک اعزازی تقریب کے سلسلے میں تھا۔ میں اس میں شریک ہوئ بمعہ  اپنی بیٹی کے۔ وہ اگرچہ ابھی ساڑھے تین سال کی ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ کتاب کا شوق پیدا کرنا اور ایسی محافل میں جو کتاب لکھنے والے سے اسے تعارف دیں۔ جانا ضروری ہے۔
پاکستان میں بچوں کی ایک بڑی تعداد نونہال پڑھ کر بڑی ہوئ ہے۔ ان میں سے ایک میں بھی ہوں۔ میرے ایک عزیز، اخبارات و رسائل کی ترسیل کا کام کرتے تھے۔ انکی وجہ سے اپنے بچپن میں کراچی کا شاید ہی کوئ اخبار ہو جو میں نے نہ پڑھا ہو اور پاکستان کا شاید ہی کوئ میگزین ہو جو میری نظر سے نہ گذرا ہو۔ اس میں میرا شوق اور انکی مہربانی شامل رہی۔ انکے گھر جانا مجھے پسند تھا کہ میں اس ڈھیر میں گم ہو جاتی تھی جو وہاں جمع ہوتا۔
نونہال، آنکھ مچولی، تعلیم و تربیت اور نجانے کتنے بچوں کے رسالے۔ ان میں نونہال بہت باقاعدگی سے آتا رہا۔ اگرچہ عین اس زمانے میں، میں سسپنس ڈائجسٹ اور نسیم حجازی کے ناول بھی پڑھ لیتی تھی۔ مگر کبھی نونہال کا ناغہ نہیں ہوتا۔ یہ بلا شرکت غیرے ہم بچوں کا رسالہ ہوتا اور یہ بھی نہیں سننا پڑتا کہ بچوں کو بڑوں کے رسالے نہیں پڑھنے چاہئیں۔
بچوں کا ادب لکھنا آسان نہیں۔ پہلے بچوں جیسی حیرت اور تجسس پیدا کریں۔ دنیا کو ایک اجنبی آنکھ سے دیکھیں اور پھر لکھیں۔ بچوں کے ادب کی درجہ بندی بھی بڑوں کے ادب کی طرح کی جا سکتی ہے۔ ان میں سب سے پہلے وہ کہانیاں جو مافوق الفطرت، طلسماتی کرادر رکھتی ہیں اور زمانہ ء قدیم سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں، یہ بچوں میں تصوراتی دنیا سجانے کی اہلیت پیدا کرتی ہیں اور انہیں اخلاقی خوبیاں بھی بتاتی ہیں۔ پھر وہ کہانیاں جو کسی علاقے کی ثقافت کے زیر اثر وجود میں آتی ہیں اور اپنے ماحول، رواج اور جغرافیہ سے روشناس کراتی ہیں۔ پھر انکے موجودہ مسائل سے متعلق کہانیاں۔ کہانیوں سے باہر نکلیں تو مختلف لوگوں کی سوانح حیات اور زندگی کی جدو جہد۔ اور آجکے زمانے پہ نظر کریں تو سائینس اور ٹیکنالوجی کی دنیا۔ اور دنیا کا کوئ ادب شاعری کے بغیر مکمل ہو سکتا ہے کیا۔  تو جناب مزے مزے کی نظمیں۔
ان سب چیزوں کو اگر سستے طریقے سے بچوں تک پہنچانا ہو تو بچوں کے رسائل اسکا ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ نونہال بھی ایک ایسا ہی رسالہ ہے۔ جو حکیم محمد سعید مرحوم کے ادارے ہمدرد کے زیر سایہ شائع ہونا شروع ہوا۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن  کے تعاون سے ہونے والی یہ سادہ سی تقریب پی ایم اے ہاءوس کراچی  میں  منعقد ہوئ۔   اس سادہ سی تقریب نے بچپن کو سامنے لا کھڑا کیا۔ مسعود صاحب کا کہنا تھا کہ کھیل کے میدان میں کھلاڑیوں کو تو پھر بھی تحفے تحائف سے نوازا جاتا ہے۔ کسی میچ کے جیتنے کی صورت میں انہیں لاکھوں روپے ملتے ہیں۔ مگر یہ ادیب ہیں جنہیں ہمارے یہاں اپنی کاوشوں کا کوئ صلہ نہیں ملتا ۔ اور بچوں کے ادیب کو تو ادیب بھی نہیں سمجھا جاتا۔

 انکا کہنا ہے کہ حکمراں طبقہ جس چیز ، قدر یا صلاحیت کو ابھارنا چاہتا ہے وہ علم و ادب نہیں۔ موجودہ صورت حال میں آخر علم کی طرف کوئ کیوں جائے، اور اپنی جان کھپائے۔
انکے الفاظ میں ہمارا معاشرہ اب جرم کش نہیں رہا بلکہ جرم قبول ہو گیا ہے اور اب جرم پروری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
برکاتی صاحب نے پچاس سال، نونہال کی ادارت کی۔ اور اس رسالے کے پڑھنے والے ننھے منے قارئین اب پختہ شخصیات کے روپ میں دنیا کی بساط پہ جانے کہاں کہاں، جہد زندگی سے نبرد آزما ہیں۔ ان لوگوں کے بچپن کو کتاب کی خوشبو سے مہکانے والے اس  شخص کا شکریہ ان سب پہ واجب ہے۔ شکریہ برکاتی صاحب۔