Thursday, October 20, 2011

ضرب المثل اشعار

 گفتگو ہو کہ تحریر ، اسی وقت مزہ دیتی ہے جب اس میں تشبیہات، استعارات، روزمرہ، محاورے، کہاوتیں اور ضرب الامثال روانی سے اور مناسب مقامات پہ استعمال کئیے جائیں۔ ورنہ پھر اچھی بھلی بات بھی  واعظ کا وعظ لگنے لگتی ہے۔  دور حاضر کا ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی گفتگو میں الفاظ کامحدود علم رکھنے کی وجہ سے انہیں کئ طرح سے استعمال نہیں کر پاتے جبکہ باقی چیزیں تو جیسے ختم ہی ہو گئ ہیں۔ اس لئے  گفتگو سننے کا مزہ جاتا رہا اور اب ہر ایک اپنی لگی بندھی سناتا ہے۔
مجھے یاد ہے ایک تحریر میں، میں نے مولوی مدن کی مثال استعمال کی تو ایک طبقہ بڑا ناراض ہوا کہ مولوی صاحب کا مذاق اڑایا ہے آپ نے۔ حالانکہ یہ اردو کا ایک محاورہ ہے وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ اور یہ جس شعر سے آیا ہے وہ آپکو نیچے ملے گا۔
آپ خود حساب لگا سکتے ہیں کہ سارا دن میں آپ کتنی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، کتنے محاورے یا استعارے یا اشعار سے اسکی زینت کرتے ہیں۔
ایک کتاب ہاتھ لگی جس کا نام ہے اردو کے ضرب المثل اشعار اسکی تالیف کی ہے جناب محمد شمس الحق نے اور اسے چھاپا ہے ادارہ ء یادگار غالب نے کراچی سے۔
ضرب المثل اشعار یعنی ایسے اشعار جنکی شہرت ایسی بڑھی کہ مثال کے لئے استعمال ہونے لگے۔  اس کتاب میں ان اشعار کی تعداد تقریباً ہزار کے قریب ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ کتاب کے حصے کر دئیے گئے ہیں۔ پہلے حصے میں وہ سارے اشعار ہیں جنکے شعراء کے نام معلوم ہیں، دوسرے حصے میں وہ جو ایک سے زائد شعراء سے منسلک کئے جاتے ہیں، تیسرے میں جنکے خالق کا نام معلوم نہیں اور آخیر میں وہ جن کا ایک ہی مصرعہ معلوم ہے۔
اب یہاں اس کتاب سے میں نے چند شعر نکالے ہیں۔ بہت زیادہ مشہور اشعار کو شامل نہیں کیا۔ جب تک آپ اس کتاب کو نہیں خرید پاتے اس انتخاب سے محظوظ ہوں۔


در پے ہے عیب جُو ترے، حاتم تو غم نہ کر           دشمن ہے عیب جُو تو خدا عیب پوش ہے     شاہ حاتم

فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں         اس زندگی میں اب کوئ کیا کیا کیا کرے       سودا

جو کہ ظالم ہو وہ ہرگز پھولتا پھلتا نہیں         سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کبھو  شمشیر کا     سودا

دن کٹا، جس طرح کٹا لیکن            رات کٹتی نظر نہیں آتی     سید محمد اثر

تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب          اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا        میر تقی میر

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میر         پھر ملیں گے اگر خدا لایا      میر تقی میر

 میرے سنگ مزار پر فرہاد          رکھ کے تیشہ کہے ہے، یا استاد        میر تقی میر

شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں          عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے        میر تقی میر

بہت کچھ ہے کرو میر بس          کہ اللہ بس اور باقی ہوس          میر تقی میر

مر گیا کوہ کن اسی غم میں           آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل ہے         میر تقی میر

یا تنگ نہ کر ناصح ناداں، مجھے اتنا          یا چل کے دکھا دے ، دہن ایسا، کمر ایسی            مہتاب رائے تاباں

ٹوٹا  کعبہ کون سی جائے غم ہے شیخ           کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا       قائم چاند پوری

کی فرشتوں کی راہ ابر نے بند         جو گنہ کیجئیے ثواب ہے آج     میر سوز

ہشیار یار جانی، یہ دشت ہے ٹھگوں کا           یہاں ٹک نگاہ چوکی اور مال دوستوں کا         نظیر اکبر آبادی

پڑے بھنکتے ہیں لاکھوں دانا، کروڑوں پنڈت، ہزاروں سیانے      
جو خوب دیکھا تو یار آخر، خدا کی باتیں خدا ہی جانے           نظیر اکبر آبادی

ٹک ساتھ ہو حسرت دل مرحوم سے نکلے         عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے       فدوی عظیم آبادی

رکھ نہ آنسو سے وصل کی امید      کھاری پانی سے دال گلتی نہیں      قدرت اللہ قدرت

بلبل نے آشیانہ چمن سے اٹھالیا      پھر اس چمن میں بوم بسے یا ہما رہے        مصحفی

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائ سن کی سی           مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی        انشا

اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا      جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر        شاہ نصیر

آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈھتا تیری محفل میں رہ گیا        آتش

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجئیے دہن بگڑا          آتش

مشاق درد عشق جگر بھی ہے، دل بھی ہے     کھاءوں کدھر کی چوٹ، بچاءوں کدھر کی چوٹ    آتش

فصل بہار آئ، پیو صوفیو شراب    بس ہو چکی نماز، مصلّا اٹھائیے    آتش

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں     کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا        ذوق

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن          کون جائے ذوق پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر     ذوق

اسی لئے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے ہیں    اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کاررواں ہو کر     خواجہ وزیر

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل        کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا        غالب

غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے     ایسا بھی کوئ ہے کہ سب اچھا کہیں جسے    غالب

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے     بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے      غالب

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد         پر طبیعت ادھر نہیں آتی     غالب

گو واں نہیں ، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں         کعبے سے ان بتوں کو نسبت ہے دور کی       غالب

دام و در اپنے پاس کہاں      چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں         غالب

کوچہ ء عشق کی راہیں کوئ ہم سے پوچھے       خضر کیا جانیں غریب، اگلے زمانے والے         وزیر علی صبا

اذاں دی کعبے میں، ناقوس دیر میں پھونکا        کہاں کہاں ترا عاشق تجھے پکار آیا              محمد رضا برق

الجھا ہے پاءوں یار کا زلف دراز میں    لو آپ  اپنے دام میں صیاد آ گیا         مومن

شب ہجر میں کیا ہجوم بلا ہے      زباں تھک گئ مرحبا کہتے کہتے      مومن

لگا رہا ہوں مضامین نو کے انبار      خبر کرو میرے خرمن کے خوشہ چینوں کو         میر انیس

نسیم دہلوی، ہم موجد باب فصاحت ہیں       کوئ اردو کو کیا سمجھے گا جیسا ہم سمجھتے ہیں         اصغر علی خاں فہیم

وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زہد کی    میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے         شیفتہ

ہر چند سیر کی ہے بہت تم نے شیفتہ        پر مے کدے میں بھی کبھی تشریف لائیے          شیفتہ

فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ        بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لئے        شیفتہ

کیا لطف، جو غیر پردہ کھولے     جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے     دیا شنکر نسیم

دینا وہ اسکا ساغر مے یاد ہےنظام       منہ پھیر کر اُدھر کو، ادھر کو بڑھا کے ہاتھ        نظام رام پوری

گرہ سے کچھ نہیں جاتا، پی بھی لے زاہد    ملے جو مفت تو قاضی کو بھی حرام نہیں          امیر مینائ

وہ جب چلے تو قیامت بپا تھی چار طرف        ٹہر گئے تو زمانے کو انقلاب نہ تھا     داغ

دی موء ذن نے شب وصل اذاں پچھلی رات          ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا         داغ
               
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں     ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں           داغ

پان بن بن کے مری جان کہاں جاتے ہیں         یہ مرے قتل کے سامان کہاں جاتے ہیں    ظہیر الدین ظہیر

ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو          راست گوئ میں ہے رسوائ بہت          حالی

دیکھا کئے وہ مست نگاہوں سے بار بار    جب تک شراب آئے کئ دور ہو گئے     شاد عظیم آبادی

خلاف شرع شیخ تھوکتا بھی نہیں    مگر اندھیرے اجالے میں چوکتا بھی نہیں  اکبر الہ آبادی

دیکھ آءو مریض فرقت کو  رسم دنیا بھی ہے، ثواب بھی ہے           حسن بریلوی

تمہیں چاہوں، تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں   
   مرا دل پھیر دو، مجھ سے یہ جھگڑا ہو نہیں سکتا   مضطر خیر آبادی

افسوس، بے شمار سخن ہائے گفتنی         خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے        آزاد انصاری

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے      بندہ پرور جائیے، اچھا ، خفا ہو جائیے         حسرت موہانی

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں     یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری        اقبال

اقبال بڑا اپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے    گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا      اقبال

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف      ورنہ میں بھی جانتا ہوں کہ عافیت ساحل میں ہے     وحشت کلکتوی

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن         بھولتا ہی نہیں عالم تیری انگڑائ کا       عزیز لکھنوی

بڑی احتیاط طلب ہے وہ ۔ جو شراب ساغر دل میں ہے
 جو چھلک گئ تو چھلک گئ، جو بھری رہی تو بھری رہی    بینظیر شاہ

دیکھ کر ہر درو دیوار کو حیراں ہونا       وہ میرا پہلے پہل داخل زنداں ہونا        عزیز لکھنوی

چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا       چال سے تو کافر پہ سادگی برستی ہے       یگانہ چنگیزی

وہ آئے بزم میں اتنا تو برق نے دیکھا     پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی       مہاراج بہادر برق

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئ      اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئ      عزیز الحسن مجذوب

اب یاد رفتگاں کی بھی ہمت نہیں رہی   یاروں نے کتنی دور بسائ ہیں بستیاں    فراق گو رکھپوری

داور حشر میرا نامہ ء اعمال نہ دیکھ   اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں     محمد دین تاثیر

امید وصل نے دھوکے دئیے ہیں اس قدر حسرت
کہ اس کافر کی 'ہاں' بھی اب 'نہیں' معلوم ہوتی ہے   چراغ حسن حسرت

اعتراف اپنی خطاءووں کا میں کرتا ہی چلوں        جانے کس کس کو ملے میری سزا میرے بعد      کرار نوری

وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے    گئے تو کیاتری بزم خیال سے بھی گئے       عزیز حامد مدنی

ایک محبت کافی ہے      باقی عمر اضافی ہے     محبوب خزاں

مری نمازہ جنازہ پڑھی ہے غیروں نے      مرے تھےجن کے لئے، وہ رہے وضو کرتے    آتش

ایسی ضد کا کیا ٹھکانا، اپنا مذہب چھوڑ کر       میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

محبت میں لٹتے ہیں دین اور ایماں         بڑا تیر مارا جوانی لٹا دی

پاپوش میں لگائ کرن آفتاب کی      جو بات کی،  خدا کی قسم لاجواب کی

6 comments:

  1. یہ شعر ویر تو اپنے پلے ناہیں پڑیں جی۔
    مجھے تو فی الوقت ایک گھسٹا پٹا محاوہ ہی یاد آوے ہے۔
    کتے کی موت

    ReplyDelete
  2. خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری ہو جائے
    جبکہ اس شعر کا مصرع ثانی یوں مشہور ہے۔
    کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری مل جائے
    اس شعر کے خالق ‘نواب امین الدولہ مہر‘ ہیں۔

    ایک اور شعر عموماً ایسے سنا اور پڑھا جاتا ہے۔
    نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی
    کہ جیسے خوش نما لگتا ہے ، دیکھو چاند بن گہنے
    اصل شعر کچھ یوں ہے۔
    نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دیوے
    کہ اُس کو بدنما لگتا ہے ، جیسے چاند کو گہنا
    شاعر: شاہ مبارک آرزو

    مشہور شعر جو راجہ رام نرائن نے نواب سراج الدولہ کی وفات پر لکھا تھا۔ ہم نے تو اس کو یوں پڑھا تھا۔
    غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
    دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری؟
    مؤلف کی تحقیق کے مطابق مصرع ثانی یہ ہے۔
    دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزرا؟

    اسی طرح مرزا رفیع سودا کے مشہور شعر
    گل پھینکو ہو اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
    اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی
    میں پہلا مصرعہ یوں بتایا گیا ہے۔
    ‘گل پھینکے ہے عالم کی طرف بلکہ ثمر بھی’

    میر تقی میر کا یہ شعر ہمیشہ یوں ہی پڑھا۔
    سرہانے میر کے آہستہ بولو
    ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے
    جبکہ مؤلف کے مطابق اصل شعر ہے
    سرہانے میر کے کوئی نہ بولو
    ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

    میر ہی کا ایک اور شعر۔
    میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
    اصل متن
    میر کیا سادے ہیں،بیمار ہوئے جس کے سبب
    اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں’

    ‘شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر
    مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا’
    یہ میر کا شعر سمجھا جاتا ہے لیکن صاحبِ تالیف کے مطابق یہ شعر ایک اور شاعر ‘محمدیار خان امیر’ کا ہے اور اصل شعر یوں ہے۔
    شکست و فتح میاں اتفاق ہے ، لیکن
    مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا

    ‘پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھی‘ اس کا مصرع اولیٰ اور شاعر کا نام تو معلوم ہوا ہی، یہ بھی معلوم ہوا کہ اس مصرعے میں بھی الفاظ کی کچھ ترمیم ہو چکی ہے۔
    صاحبِ کتاب کے بقول یہ شعر ایک گمنام شاعر ‘جہاندار شاہ جہاندار’ کا ہے اور اصل میں کچھ یوں ہے۔
    آخر گِل اپنی، صرفِ درِ میکدہ ہوئی
    پہنچے وہاں ہی خاک، جہاں کا خمیر ہو‘

    اسی طرح
    گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ سے
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بَل چلے
    کتاب میں اس شعر کے اصل شاعر کا نام ‘عظیم بیگ عظیم‘ اور اصل شعر یوں نقل کیا گیا ہے۔
    شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثلِ برق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بَل چلے

    ابراہیم ذوق کا شعر
    پھول تو دو دن بہارِ جانفزا دکھلا گئے
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مرجھا گئے
    یوں بیان کیا گیا ہے۔
    کھل کے گل کچھ تو بہار اپنی صبا دکھلا گئے
    حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بِن کھِلے مرجھا گئے

    ‘سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے’ کا پہلا مصرعہ اور شاعر کا نام یوں بیان کیا گیا ہے کہ
    اگر بخشے، زہے قسمت، نہ بخشے تو شکایت کیا
    سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
    شاعر اصغر خان اصغر

    بہادر شاہ ظفر سے منسوب مشہورِ زمانہ غزل ‘نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں، نہ کسی کے دل کا قرار ہوں‘ کو صاحبِ تالیف نے شاعر’جاں نثار حسین اختر’ کے والد ‘مضطر خیر آبادی‘ سے منسوب کیا ہے۔ اور اس غزل کے چار مزید اشعار بھی درج کئے ہیں۔

    میں نہیں نغمۂ جانفزا، کوئی مجھ کو سن کے کرے گا کیا
    میں بڑے بروگ کی ہوں صدا، میں بڑے دکھی کی پکار ہوں
    مرا بخت مجھ سے بچھڑ گیا ، مرا رنگ و روپ بگڑ گیا
    جو خزاں سے باغ اجڑ گیا ، میں اُسی کی فصلِ بہار ہوں
    پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں ، کوئی چار پھول چڑھائے کیوں
    کوئی شمع لا کے جلائے کیوں ، میں وہ بے کسی کا مزار ہوں
    نہ میں مضطر ان کا حبیب ہوں، نہ میں مضطر ان کا رقیب ہوں
    جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں، جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

    ReplyDelete
  3. بہت عمدہ، بہت محنت کی گئی ہے اس تحریر میں۔ اور آپ نے بلکل درست فرمایا ہمارے جیسے معاشرے میں لوگ محض پانچ چھہ سو الفاظوں پر مشتمل گفتگو میں پوری زندگی جی لیتے ہیں، نہ کوئی نیا خیال نہ کوئی نئی سوچ نہ کوئی نیا لفظ، سالوں بعد بھی کسی سے ملو تو الحمدواللہ وہ اس ہی حال میں ملے گا اسکی گفتگو کا محور وہ ہی سب موضوعات ہوتے ہیں جو کے سالوں پہلے تھے، زرا اپنے اپنے دل پر ہاتھہ رکھہ کر خود سے پوچھیں کے کتنے دن ہوگئے آپ لوگوں کو آسمان دیکھے ہوئے؟ اتفاقاَ نظر پڑ جانا الگ بات ہے مگر باقائدہ نیت کر کے ہمارے ہاں لوگ آسمان کی طرف بھی مہینوں نہیں دیکھتے۔ قصور ہم لوگوں کا بھی نہیں شاید کیوں کے اس طرح کی تخلیقی سوچ کے لئیے معاشرہ ہی الگ ہوتا ہے، ہمارے جیسے معاشروں میں انسان صرف ناف کے پیچھے اور ناف کے نیچے تک کی ہی سوچ رکھتا ہے اس سے زیادہ وہ چاہ کر بھی نہیں سوچ سکتا۔

    ReplyDelete
  4. اسرار الحق صاحب ، آپ نے بڑی منحنت سے تبصرہ لکھا۔ اتنی معلومات اور دلچسپی کا شکریہ۔
    فکر پاکستان، آپکا شکریہ، آپکے تبصرے سے بھی ایک محاورہ ملا۔
    عثمان، کتے کی موت کے بخئیے ادھیڑے ہیں آج کسی وقت ڈالنے کی کوشش کریں گے۔
    :)

    ReplyDelete
  5. بہت خوب
    کچھ میرے پہلے پڑھے ہیوئے ہیں

    ReplyDelete
  6. mjhy ya shr chaye apni zukfoon kbal to tum sy nikaly na gye

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ