Showing posts with label معیشت. Show all posts
Showing posts with label معیشت. Show all posts

Wednesday, May 2, 2012

سڑک سے سڑک تک

پرانے زمانے میں کہاوت تھی کہ ایک مرد کی قوت کمائ اسکے گھر کے عورتوں کے سونے کے زیورات سے پتہ چلتی ہے۔ شاید خواتین نے مشہور کر رکھی ہو تاکہ ان کے مرد انہیں خوب سونے کے زیورات بنا کر دیں لیکن کسی ملک کی خوشحالی کی داستان اسکی سڑکیں سب سے پہلے سناتی ہیں۔
میں نے جب بارہ دن پہلے استنبول کی سڑک پہ پاءوں رکھا تو دور تک سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پہ ٹیولپس کے رنگ برنگے پھول لہرا رہے تھے۔ اس منظر نے مجھے مسحور کر دیا تھا۔ میرے شہر میں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اب کس پھول کا موسم ہے۔ اس شہر کے باسیوں کی خوش قسمتی پہ رشک آیا۔  پھولوں کا سنگھار ہی کافی نہیں۔ سڑکیں صاف ستھری ہیں۔ کم از کم ترکوں کو یہ پتہ ہے کہ کچرا کیا ہوتا ہے اور اسے کہاں ہونا چاہئیے۔ 
جب گاڑی نے پہئیے گھمائے تو میں نے دیکھا کہ روڈ پہ جتنی گاڑیاں ہیں شاید ہی ان میں کوئ خستہ حال گاڑی ہو۔ رکشے جیسی سستی سواری، یہاں لوگ نہیں جانتے کیا ہوتی ہے۔ کسی کو چنگ چی رکشہ چائینا سے منگا کر اپنا کاروبار جمانے کا خیال نہیں آیا۔ بسیں یہاں بھی چلتی ہیں لیکن بسوں کی چھتوں پہ لوگ ندارد۔ منی بسوں کا وجود نہیں، جتنی بسیں ہیں سب بڑی، صاف اور چمکیلی۔
جو ٹرام میں نے دس سال پہلے دیکھی تھی وہ اب بھی چل رہی ہے اتنی ہی صاف۔ کہیں پان کے نشانات نہیں،  لوگ پان کے بجائے شراب کا نشہ کرتے ہیں۔ اس نشے میں کچھ تھوکنا نہیں ہوتا بلکہ نشے کو اور زیادہ خوب صورت کر دیا جاتا ہے۔
انطالیہ ائیر پورٹ سے ہمیں دو سو کلو میٹر کے فاصلے پہ ایک قصبے میں جانا تھا۔ ترکی کے ایک بڑے شہر سے لیکر اس چھوٹے سے قصبے تک ہمیں کوئ گدھا گاڑی، اونٹ گاڑی، رکشہ، چنگ چی رکشہ، منی بس حتی کہ ایف ایکس جیسی چھوٹی گاڑیاں بھی نظر نہ آئیں۔
استنبول میں چار دنوں کے دوران چار فقیر نظر آئے جبکہ انطالیہ میں ایک جگہ ایک فقیر دیکھا۔ وہاں بھی سگنل بند ہونے پہ خواتین اور لڑکے پھول بیچتے نظر آتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک پہ بھی مجھے شبہ نہیں ہوا کہ وہ سڑک کنارے کھڑے کار والوں سے جسم فروشی کے معاہدے کر رہا ہے۔ ایسا ہر گز نہیں کہ وہاں یہ کام نہیں ہوتا مگر اس طرح نہیں۔
انطالیہ سے دو سو کلو یٹر کے فاصلے  پہ موجود قصبہ، کاش ایک چھوٹا سا پہاڑی قصبہ ہے۔ یہاں نوجوانوں کے پاس موٹر سائکلز دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ خواتین بھی چلاتی ہیں۔  اس لئے کہ پہاڑی پر پیچ  راستوں پہ یہ خاصی مددگار رہتی ہیں بالخصوص جب کسی ایک شخص کو سفر کرنا ہو۔
ترکی کا گروتھ ریٹ پچھلے دس سالوں میں پانچ سے چھ فی صد رہا ہے اور مجھے کاغذ پہ لکھی اس تحریر پہ یقین ہے۔ دس سال پہلے نیلی مسجد، آیہ صفیاء، یا انکے درمیان موجود زیر زمین حوض کے لئے مجھے سڑک کنارے قطار نہیں لگانی پڑی تھی۔ لیکن اس دفعہ اتنی لمبی قطاریں موجود تھیں کہ آیہ صفیاء کے اندر داخل ہونے میں ہی ایک گھنٹہ لگ جاتا۔ پچھلے دس سالوں میں سیاحت میں ترکی خاصے آگے گیا ہے۔ اسکی وجہ ترکی کا سیاحوں کے لئے دوستانہ ماحول ہے۔  خاص طور پہ خواتین سیاحوں کے لئے محفوظ ماحول ہے جس کا میں اپنے ملک  کا باشندہ ہونے کے باوجود تصور نہیں کر سکتی۔
یہاں آتے جاتے ہوئے بعض اوقات مجھے انتہائ رش میں پھنسنا پڑ گیا مگر ارادتاً تو کیا کسی مرد کا غلطی سے بھی ہاتھ نہیں لگا۔ واپس آنے کےاگلے دن میں کراچی میں  سڑک کے کنارے لگے سبزی بازار میں شام کے وقت موجود تھی اور سوچ رہی تھی کہ سڑک پہ چلتے ہوئے اپنے آپکو سمیٹنا کیا صرف ایک خاتون کا فرض ہے۔
ترکی کی ایک اہم صنعت گاڑیوں کی تیاری ہے جس کی بیرون ملک خاصی مانگ  ہے آمدنی کے اہم ذرائع میں یہ بھی شامل ہے۔
جبکہ ہمارے یہاں کوشش یہ کی جارتی ہے کہ صنعت کے نام پہ جو کچھ موجود ہے وہ بند ہو جائے۔ کوئ سرمایہ کار غلطی سے بھی پاکستان کا رخ نہ کرے۔ آنے والی خواتین کو ہم پردے اور چہار دیواری کے سبق پڑھائیں۔ کیا سیاح، کیا سرمایہ کار، کوئ اس ملک کا رخ کرتے ہوئے بھی گھبرائے۔  ہم محض دوسرے ملکوں کی اشیاء کے سیلز مین بن کر رہ جائیں۔ چائینا کی چیزیں بیچیں ، وہاں سے جنریٹر اور یو پی ایس اور بیٹریاں لائیں کیونکہ حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے سے قاصر ہے، ہماری گارمنٹس  فیکٹریاں بنگلہ دیش روانہ ہو جائیں،  ہم  اپنی مقامی صنعتیں بند کریں اور انڈیا کی چیزیں فروخت کریں۔ ہم اپنا خام مال باہر بھیج دیں ، لیکن اپنے ملک کے کاریگر کو اپنی کاریگری دکھانے کا موقع نہ دیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا سرمایہ کار اب چین، بنگلہ دیش، انڈیا  اور ملائیشیاء کی طرف دیکھ رہا ہے۔
صنعتوں کے بند ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس طرح چیزوں کا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونے کی وجہ انکا مہنگا ہونا ہی نہیں ہے بلکہ قوت خرید کا کم ہونا بھی ہے۔
ترکی  نے پچھلے سالوں میں سینٹرل ایشیاء کی ریاستوں سے تیل کے معاہدے بھی کئے ہیں جن سے اسے خاصہ معاشی استحکام حاصل ہوا ہے جبکہ ہمارا ایران کے ساتھ گیس کا معاہدہ بھی برسوں لٹکا رہا۔
استنبول سے روانہ ہوتے وقت میں نے اپنے ہم سفر سے پوچھا کہ کیا ترکی میں گھر خریدنے کی اجازت ہے۔ جواب ملا ہاں بالکل خرید سکتی ہیں۔ کیا آپ لینا چاہتی ہیں؟ ہاں، سرمایہ ہو تو، میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ اور یہ چیز عنقا ہے ہمارے پاس۔ ترکی نے مجھے اپنا سرمایہ لگانے کو تیار کر لیا۔ 
میں بارہ دن کے بعد واپس استنبول ائیر پورٹ میں جہاز میں بیٹھی ٹیک آف کا انتظار کر رہی تھی کہ میں نے دیکھا ہمارے آگے ایک کے بعد ایک چھ جہاز رن وے پہ داخل ہوئے اور اڑ گئے۔ چھٹے نمبر پہ جب ہمارا جہاز اڑنے والی جگہ پہ پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے آنے والے جہازوں پہ نظر کی جہاں تک نظر نے ساتھ دیا سات جہاز نظر آئے جو ہمارے پیچھے رینگ رہے تھے۔ اور انہیں ہمارے بعد باری باری فضا میں تتلیوں کی طرح اڑنا تھا۔ یعنی ہر تین منٹ بعد اس رن وے سے ایک جہاز اڑ رہا تھا۔ یہ ایک مصروف ائیر پورٹ ہے۔ جتنا مصروف ائیر پورٹ ہے اتنا  ہی زیادہ آمدنی کا باعث ہوگا۔ 
استنبول ائیر پورٹ پہ نجانے کتنے جہاز بھی موجود تھے جب ہم نے استنبول سے پرواز کی۔  نیچے نظر کی  تو شہر کی جگمگاہٹ دیکھ کر یہ بتا سکتی تھی کہ استنبول شہر کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ کتنے پل ہیں جو یوروپ والے حصے کو اس حصے سے ملاتے ہیں جو ایشیاء میں ہے۔
صبح پانچ بجے جب جہاز کراچی کی حدوں میں داخل ہوا تو میں اوپر سے دیکھ کر بتا سکتی تھی کہ اس وقت شہر کے کن حصوں میں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ جہاز نے کراچی ائیر پورٹ پہ لینڈ کیا۔ یہاں چھ جہاز کھڑے نظر آئے۔ ائیر پورٹ پہ سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف ہمارا جہاز حرکت میں تھا۔ اندر داخل ہوئے تو ایک بے رونق ، زرد فضا جس میں گرم جوشی یا حرکت نام کو نہیں۔
باہر نکلے تو زرد چہروں کے بچوں کا ہجوم ، اتنے ہی پیلے چہروں والی خواتین سروں  سے دوپٹہ سختی سے لپیٹے، آنے والے مسافروں میں اپنوں کو تلاش کر رہی تھی۔  میرے آگے سات سے نو سال کی عمر کی تین بچیاں برقعہ پہنے جا رہی تھیں۔ جن کے زرد چہروں کو نورانی کہہ کر انکے رشتے دار صدقے واری ہو رہے تھے۔ ہمارے پیچھے ایک خاندان عمرہ کر کے لوٹ رہا تھا۔  ائیر پورٹ کے احاطے میں جا بجا استعمال کی ہوئ اشیاء کے کارٹنز یا ریپرز ادھر ادھر پڑے ہوئے تھے۔ دو غیر ملکی گورے اپنے سامان کی ٹرالی کو دھکا دے کر اس ڈھلواں پہ چڑھانے کی سخت کوشش میں تھے جو کناروں سے ٹوٹی ہوئ تھی۔ سڑک کی وہی حالت تھی جو بحیثیت مجموعی ہمارے ملک کی ہے۔
سڑک پہ مجھے خیال آیا کہ ابھی دوپہر کو اس سڑک پہ سب سے زیادہ ہجوم موٹر سائکل والوں کا ہوگا۔ شہر میں ٹرانسپورٹ مافیا کی وجہ سے کئ دہائیوں سے کوئ بھی حکومت ٹرانسپورٹ کا کوئ متبادل نظام لانے میں ناکام رہی ہے۔ اس مافیا کے کرتا دھرتا ہماری اسمبلیوں کا حصہ بھی ہوتے ہیں اس لئے کوئ بھی حکومت اس معاملے کو زیر غور لانے میں بھی دلچسپی ظاہر نہیں کرتی۔  لوگوں نے چائینا سے درآمد کی ہوئ سستی موٹر سائیکل میں اپنی مشکل کا حل نکالا ہے۔ حکومت اس سے خوش معلوم ہوتی ہے کہ اس سے اسے جنرل سیلز ٹیکس کے علاوہ دیگر ٹیکسز بھی مل رہے ہونگے۔ 
روزانہ بڑھتی ہوئ تیل کی قیمتوں کی وجہ منی بسز کے کرائے اب عام انسان کی پہنچ سے دور ہو رہے ہیں اسکا حل لوگوں نے چنگ چی رکشے میں نکالا ہے۔ جس فاصلے کے لئے منی بس پندرہ روپے لیتی ہے اس سے زیادہ فاصلے کے لئے چنگ چی دس روپے لیتا ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں ایک شخص کا روزانہ دو بسیں، ایک طرف کے فاصلے کے لئے بدلنا کوئ خاص بات نہیں۔  منی بس کے بجائے چنگ چی سہی۔ لیکن ٹرانسپورٹ کے ذرائع جتنے چھوٹے ہوتے جاتے ہیں ٹریفک اتنا زیادہ بے ہنگم ہوتا جاتا ہے۔
جو لوگ یہ بھی افورڈ نہیں کر سکتے وہ سائکل چلاتے ہیں۔ اسکے باوجود سڑک پہ کوئ خاتون سائیکل یا موٹر سائکل چلاتے نظر نہیں آئے گی۔ سڑک بتاتی ہے کہ خواتین اور مرد میں کتنا فرق ہے۔ 
غریب آدمی سامان ڈھونے کے لئے گدھا گاڑی استعمال کرتا ہے۔ یوں جب سگنل بند ہوتا ہے تو ہمارے ملک کی جی ڈی پی کی شرح دیکھنے کے لئے وزیر اقتصادیات کا بیان پڑھنا ضروری نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ تعداد لش پش کرتی فور وہیل گاڑیوں کی  یا حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی صاف ستھری بڑی گاڑیوں کی نہیں بلکہ دو پہیوں کی سواری ہوتی ہے۔ اس لئے جب  وہ یہ  فرماتے ہیں کہ اس سال پاکستان کا گروتھ ریٹ چار فیصد رہا اور اگلے سال چھ فی صد ہونے کی امید ہے تو انکے اس بیان پہ نظر ڈالنے کا بھی دل نہیں چاہتا۔ نجانے وہ کس پاکستان کی گروتھ ریٹ کی بات کرتے ہیں۔ اگر ہمارے پاکستان کی تو جھوٹے کا منہ کالا۔
تو جناب، سڑک، کسی بھی ملک کی سڑک اسکی خوشحالی کی داستان سناتی ہے۔اسکے سیاستدانوں کے جھوٹ سچ بتاتی ہے، اسکے لوگوں کی ترجیحات بتاتی ہے، اسکے لوگوں کا اخلاق بتاتی ہے۔ سڑک کسی ملک  کا، کسی شہر کا آئینہ ہوتی ہے۔ یقین نہیں آتا تو کچھ دیر کو اپنے شہر کی سڑک کے کنارے کھڑے ہوجائیں۔

Monday, September 12, 2011

پاکستانی سینی میں چین کی چینی

کل صبح بارہ بجے تک میری چائینیز کی کلاس ہے جو بھی کام ہوگا اسکے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ میرے ایک دوست نے اطلاع دی۔ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ کیا ہوا کسی چائینیز کو اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ کیونکہ ہمارے خطے میں مادری زبان کے علاوہ اگر کسی زبان کو لوگ دل سے سیکھنا چاہتے ہیں تو وہ انگریزی ہے نہ کہ چائینیز۔  جواب ملا نہیں چین جا کر کچھ کاروبار کرنے کا ارادہ ہے۔
سو میں  نے ان سے کچھ ابتدائ معلومات لیں۔ کراچی میں چند ایک ادارے ہیں جہاں یہ سکھائ جاتی ہے۔ پانچ چھ استاد ہیں جنہوں نے یہ فریضہ اٹھایا ہوا ہے۔ اور وہ آجکل بڑے مصروف ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد چین سے تعلق رکھتی ہے۔
پھر اس کے بعد کسی اور سے بات ہو رہی تھی۔ پتہ چلا کہ وہ اپنے بچے کو کالج کی تعلیم کے لئے ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر حیرانی سے گذرنا پڑا۔ لوگ لندن، کینیڈا، امریکہ بھیجتے ہیں آپ ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ جواب ملا، وہ زمانہ گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے آجکل انہوں نے فاختائیں آزاد کر کے اس خطے میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔  چین ، ہانگ کانگ۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں اپنا سرمایہ لگایا، ذہن لگایا۔ لیکن کہنے والے اسے ستم گر کہتے رہے۔ مغربی ممالک نے دہشت سے نبٹنے کے لئے دہشت زدہ پالیسیز بنائیں۔  یوں آج اس واقعے کے دس سال بعد دنیا میں سرمائے  اور اعتماد کے سفر میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ یہ مغرب سے مشرق کی طرف چل پڑا ہے۔ مغرب کا عالم یہ ہے کہ یہ اڑی اڑی سی رنگت، یہ کھلے کھلے سے گیسو، تری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ اور مشرق آخر مشرق ہے۔
ان مشرقی ممالک میں اسلامی ممالک شامل نہیں۔ اگر ہم بہت کوشش کریں تو ترکی، ملائیشیا یا انڈونیشیا کا نام لے سکتے ہیں۔ جنکی معیشت بہتر حالت میں ہے۔ ان میں سے ترکی نسبتاً  مضبوط ہے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔
پاکستان کے دگرگوں سیاسی حالات اور حکمرانوں کی عدم دلچسپی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کیا ہے۔ ایک طرف بجلی کی کمی ہے دوسری طرف شفاف نظام کا رونا۔ بالخصوص کراچی میں کاروبار کو چلانے کے لئے جس اعتماد اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے وہ پچھلے تین سال میں ناپید ہو گیا ہے۔
 ہمارے سرمایہ کار اپنا سرمایہ تیزی سے ملک سے باہر منتقل کر رہے ہیں جیسے ملائیشیا ۔ سرمائے کی اس منتقلی سے ہمارے ملک میں روزگار کے مواقع کم ہونگے اور مہنگائ مزید بڑھے گی۔ جس سے ایک عام انسان جس کا جینا مرنا اسی زمین سے وابستہ ہے متائثر ہوگا بلکہ ہو رہا ہے۔ اس لئے جب کراچی میں کاروباری استحکام کی بات ہوتی ہے تو یہ دراصل ہر گروہ کی بقاء کی بات ہوتی ہے۔
عالمی کساد بازاری میں، امید کی ایک کرن چین میں سرمایہ کاری ہے۔ چین اس وقت معاشی طور پہ مستحکم ہے ایک ابھرتی ہوئ نئ معاشی طاقت۔  میں نگینہ گلی، صدر میں موجود تھی۔ وہاں ایک نگینہ فروش نے بتایا کہ وہ آجکل چین سے نگینے لے کر آ رہا ہے پہلے وہ بنکاک جاتا تھا۔  اس وقت جو چین سے کاروبار کرے وہ فائدے میں ہےاس نے ایک راز مجھ سے شیئر کیا۔ چین چھا رہا ہے۔ انکی تجارتی اور سرمایہ کاری کی پالیسیاں حوصلہ افزاء ہیں۔ ویزہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔ آپکا پاسپورٹ مہینوں قطار میں نہیں پڑا رہتا۔ چند دن لگتے ہیں۔ آپ وہاں آفس لے سکتے ہیں۔ کمپنی کھول سکتے ہیں۔ بس صرف ایک خرابی ہے پاکستانیوں کو چینی زبان نہیں آتی اور چینی کوئ اور زبان نہیں بول سکتے۔ چینی نہ صرف کاروباری ذہانت رکھتے ہیں بلکہ وہ اس میں خاصے چالاک ہیں۔ اس چالاکی سے نبٹنے کے لئے زبان آنا ضروری ہے۔
آپکو بچپن میں سنی ہوئ وہ کہانیاں یاد ہیں جس کا مرکزی خیال اس نکتے کے گرد گھومتا  ہے کہ زمین کے نیچے دفن خزانے کسی ایک جگہ نہیں رہتے یہ چلتے رہتے ہیں اور آواز دیتے ہیں ہم یہاں ہیں۔ انکی آواز پہ  دھیان دینے والا اور انہیں سمجھنے والا انہیں حاصل کر لیتا ہے۔ یہی حال زمین کے اوپر موجود خزانوں کا ہے۔ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں مزید سرمایہ ہوتا ہے اور جہاں یہ گردش کی حالت میں رہے۔ مایا کو مایا ملے کر کے لمبے ہاتھ، حرکت میں برکت ہے۔
اب اس سارے قصے سے کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کے صوبے سندھ میں اسی مستقبل کا ویژن رکھتے ہوئے اسے تمام اسکولوں میں سال دو ہزار تیرہ سے چھٹی کلاس سے لازمی مضمون کے طور پہ پڑھایا جائے گا۔ یاد رہے اسی کی دہائ میں مرد مومن کے ویژن پہ اسکولوں میں عربی زبان بھی پڑھانے کی کوشش کی گئ تھی۔
  اس حکومتی فیصلے کے بارے میں لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ  کیا اسے بھی اسی طرح سکھایا جائے گا جس طرح صوبے میں اردو، انگریزی یا سندھی زبانیں سکھائ جاتی ہیں۔ جو اول تو سکھائ نہیں جاتیں بلکہ پڑھائ جاتی ہیں۔ دوئم جہاں جہاں پڑھائ جاتی ہیں وہاں مقصد امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے ساری زندگی اردو پڑھنے والوں کو اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتی، انگریزی کے چند مضامین اور خطوط یاد ہوتے ہیں اور سندھی رسم الخط سے نقطوں کی وجہ سے آشنائ ہو جاتی ہے۔ یہ سندھی زبان، صوبے کے اسکولوں میں پانچ سال تک لازمی پڑھائ جاتی ہے۔
پھر یہ کہ چینی زبان سکھانے کے لئے اساتذہ کہاں سے آئیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لئے چین سے اساتذہ لئے جائیں گے۔ اور پاکستان میں بھی اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔ یقیناً ان چینی اساتذہ کوجان کا تحفظ دینے پہ بھی حکومت کو  وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔ ادھرسال بھر کے عرصے میں کیا تربیت کے بعد ایسے ماہر اساتذہ تیار کر لئے جائیں گے جو دوسروں کو زبان سکھانے کے قابل ہوں۔ یہاں کچھ لوگ ہو سکتا ہے کہ کچھ اس قسم کے ڈائیلاگ بولنا چاہیں کہ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل۔ جس سے میں اپنے ہم وطنوں کی حد تک اتفاق نہیں کرتی۔ جو محض ڈائلاگز بول کر ہر پیچیدہ صورت حال سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ یوں مسائل اپنی جگہ رہتے ہیں اور کاغذ کے پلندے وزن حاصل کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ڈائیلاگز نہیں ٹھوس عمل چاہئیے۔
مزید یہ کہ کیا تمام طالب علموں کے لئے چینی زبان سیکھنے کا کوئ فائدہ واقعی  ہے بھی یا نہیں۔ اسکا جواب میں آپ پہ چھوڑتی ہوں۔
میں اپنے پالیسی سازوں کے شر پسند ذہن سے سوچوں  تو یہ کہتا ہے کہ اس میں بھی سرمائے کی منتقلی کا چکر ہے۔ بس یہ کہ مشرق یا مغرب میں جانے کے بجائے یہ کچھ حکومتی اراکین کی جیب کا رخ کرے گا۔ اور وہ یہ کہہ کر فارغ ہونگے، ٹک دیکھ لیا، دل شاد کیا، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے۔

Monday, August 22, 2011

آتشی شہرکے خاک خیالات

سوال یہ ہے کہ کراچی کی آگ کیسے بجھ سکتی ہے۔ میرے نزدیک اسکے چند حل ہیں جو اتنے آسان ہیں جتنا حلوے کا کھانا۔ اس نازک موقع پہ حلوے کی تاریخ میں جانا صحیح نہیں ہے۔ اس لئے آگے چلتے ہیں۔
پہلے مرحلے میں آپ اخبار پڑھنا چھوڑ دیں اور ٹی وی کی خبروں اور ملکی حالات پہ آنے والے شوز سے اجتناب کریں۔ جب زندگی اتنی ہی بے وقعت ہے تو وقت گذارنے کے لئے کھانے کی تراکیب والے چینلز دیکھیں۔ کسی سیانے نے کہا ہے کہ کچھ نہ کھا کر مرنے سے کچھ کھا کر مرنا بہتر ہے۔ اگر اس صورت کا سامنا کرنا ہی پڑ رہا ہے تو لخت جگر کودوسرے جہاں بھیجنے سے پہلے جگر بھوننے کا طریقہ سیکھ لیجئیے۔
بیشترآگ تو اسی سے بجھ جائے گی۔
اگر ابھی بھی نظر آرہی ہے تو  یہ نظر کا فتور ہے۔ کسی ماہر امراض چشم سے رجوع کریں۔ لیکن ماہر امراض چشم سے ملنے کے لئے جانے سے پہلے اپنی تمام اہم چیزوں کے بارے میں وصیت لکھ دیں۔ اہم دستاویزات کے متعلق گھر والوں کو بتا دیں کہ کہاں رکھی ہیں۔ قرضداروں کے نام اور قرض کی مقدار کسی مناسب جگہ لکھ کر رکھ دیں۔ تاکہ آپکے بعد اسے کوئ وصول کر سکے۔
اگر آپ ایک بلاگر ہیں تو اپنا پاس ورڈ کسی قریبی عزیز کو بتا دیں تاکہ بعد ناگہانی اطلاع کے وہ آپکے متعلق اپ ڈیٹ دے سکے۔ گھورئیے نہیں، سو بار چمن اجڑا، سو بار بہار آئ، دنیا کی سڑی رونق تیری یاد نے بڑھائ، شاعر سے معذرت۔ 
اگر آپ اردو بلاگر ہیں تو اردو سیارہ پہ دعا کے لئے ایک پوسٹ لکھنا نہ بھولئیے گا۔ فیس بک پہ ایک اسٹیٹس کافی ہے۔ ٹوئٹر پہ ٹوئیٹ کرنے سے پرہیز کریں۔ مبادا جو کام گھر سے دس میل دور ہونا ہے وہ گلی کے نکڑ پہ ہو جائے۔
گھر والوں سے کہا سنا معاف کروا لیجئِے۔ اپنے اوپر آیۃ الکرسی کا دم کر لیجئے اور سارے راستے یا حفیظ دوہراتے رہیں۔ مایوسی کفرہے امید رکھیں کہ آپ اپنا چشمہ بنوا کر پہننے کے قابل ہو جائِں گے۔ جس سے آپکو کراچی کی بجھی ہوئ آگ نظر آئے گی۔
اگر آپ مذہبی رجحان رکھتے ہیں تو رمضان کا مقدس مہینہ ہے اعتکاف میں بیٹھ جائیے۔ ابھی تک یہ اطلاع نہیں آئ کہ کسی مسجد سے اغواء کی کوئ واردات ہوئ اور مغوی کسی بوری میں بغیر سر کے پایا گیا۔ اس سے کچھ بد گمانی پالنے والے یہ نہ سمجھیں کہ میں کراچی کے دہشت گردوں کو کوئ نیا خیال دے رہی ہوں۔  آپ مانیں یا نہ مانیں، کراچی میں بحران پیدا کرنے سے پہلے نامعلوم دہشت گرد ہر آئیڈئیے کو خوب اچھی طرح چھان پھٹک چکے ہیں۔ لیکن بے گناہ مرنے پہ آمادہ  افراد اس ساری چھان پھٹک سے ناواقف ہیں اس لئے دہشت گردوں کے ذہن رسا کو پانے تک انہیں اپنے طور پہ یہ ساری مشق کرنی پڑے گی تاکہ اگر مارے جائِں تو کسی گناہ کے عیوض۔
اگر آپ اخبار پڑھنے کی علت سے جان نہیں چھڑانا چاہتے کیونکہ اس میں حکیموں ، ضرورت رشتہ اور ٹیوشن کے اشتہارات بھی آتے ہیں یا آپ ٹی وی کے ٹاک شوز سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ اس سے آپکے ہمیشہ کم رہنے والے بلڈ پریشر کو خاصہ افاقہ رہتا ہے تو کراچی کی آگ بجھانے کے لئے روزانہ صبح اٹھ کر دس سرد آہیں بھرا کریں یہ سرد آہیں اگر اجتماع کی صورت بھری جائیں تو زیادہ بارآور ثابت ہونگیں۔آہ بھرتے وقت سب لوگ ایک قطار میں اس طرح بیٹھیں کہ آمنے سامنے نہ ہوں۔ منہ کو گول کھولیں اور اپنے جسم کی ساری ہوا باہر پھینک دیں۔ دس دفعہ اس طرح کرنے کے بعد ایک نعرہ بلند کریں خس کم جہاں پاک۔ اس طریقے پہ دس منٹ تک عمل کریں۔ عمل کے بعد خاموشی سے اپنے اپنے گھر کی راہ لیں۔
اگر آپ دس ایسے عام  افراد جمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو مختلف قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے دئیے بغیر پانچ منٹ تک خاموش رہ سکتے ہوں تو امید ہے اسے کامیابی سے کر پائیں گے۔ ورنہ اس سے پہلے ہی آپکے گھر میں دھے پٹاس شروع ہو جائے گی۔ یہ آگ چاہے بجھے یا نہ بجھے، کچھ اور آتش اگلتے ڈریگون سامنے آجائیں گے۔ آپ اپنی زندگی میں ہی جہنم کے نظارے دیکھ لیں گے۔ اس سے ایمان تو مستحکم ہوتا ہے مگر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت ہمارا ممتح نظر کراچی کی آگ ہے جہنم کی نہیں تو اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں عمل کے دوران خاموش رہنا بے حد ضروری ہے۔
اسکے علاوہ لسی کا جگ بنا کر ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔ ٹاک شوز کے درمیان اسکے ہلکے ہلکے گھونٹ لیتے رہیں۔ ایسے لسوڑے حالات پہ تبادلہ خیال سنتے ہوئے لسی ہی سکون دے سکتی ہے۔
اگر آپ کراچی میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کے بارے میں فکرمند ہیں تو یہ جان تو اک دن جانی ہے، اس جاں کے زیاں کا افسوس ہی کیا۔ حق بحقدار رسید۔
اگر آپ کراچی آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ہر راہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گذر کر جاتی ہے۔ کہہ کر اپنے اہل خانہ سے امام ضامن بندھوائیں۔ انسان کو ان حالات میں آنے والے خطرات کا مقابلہ کھلی آنکھوں اور  بند زبان سے کرنا چاہئیے۔ مسلسل زیر لب دعا کریں کہ آپکی باری آنے تک 'نامعلوم' قاتل کے بازو درد کرنے لگیں۔
یہ ' نا معلوم ' قاتل بھی فالتو وقت میں مسکراتے ہونگے کہ زمانے بھر میں رسوا ہوں مگر اے وائے نادانی لوگ کتنی معصومیت سے ہمیں نا معلوم کہہ دیتے ہیں۔ ہم سے اچھے تو اردو شعراء کے قاتل ہیں جنکے نام صرف انہیں نہیں ایک زمانے کو معلوم ہیں۔ اس موقع پہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر کراچی کے محکمہ ء پولیس کی دسترس میں شعراء کے قاتل آجائیں تو وہ بھی نامعلوم ہو جائیں گے۔ یہاں معلوم کرنے والی بات صرف ایک ہے اور وہ یہ کراچی پولیس کی لگامیں کسی کے پاس ہیں یا یہ بے لگام ہے۔
یہ تو کچھ اس خاکسار کے ذہن میں آنے والے خاک خیالات تھے۔ اگر آپ انہیں مذاق سمجھتے ہیں تو  یہ اندازہ لگانے میں کوئ تکلف نہیں کہ آپ ہمالیہ کے پہاڑوں سے کراچی پہ ایک نظر ڈال رہے ہیں۔ ذرا دھیان سے عالی جناب، شہر کراچی سطح سمندر سے صرف چوبیس فٹ بلند ہے۔ اور ہمالیہ سے ہزاروں فٹ نیچا ۔
اتنی بلندی سے جب آپ اس شہر کو دیکھتے ہیں تو سوائے حبیب بینک پلازہ  اور کنارے پہ ہلچل مچاتے سمندر کے اور کچھ نظر میں آتا نہیں۔ سڑک پہ چلتے انسان بیٹری سے چلتے کھلونے نظر آتے ہیں اور انکے گھر ماچس کی ڈبیاں۔
خوامخواہ دل چاہتا ہے کہ کھلونے توڑ کر دیکھیں کہ اسکے اندر کیا چیز اسے چلاتی ہے اور ماچس کی ڈبیاں ہلا کر معلوم کریں کہ اس میں تیلیاں ہیں یا خالی ہیں۔ یہاں تیلیوں سے میری وہی مراد ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ ایک شاعر نے اس خظرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ سے کھیلنا اچھا نہیں فراز،جل جائوگے تو پھر کس سے فریاد کروگے۔ یہاں فراز سے مراد ہر زید بکر ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا آپ سب کو آیۃ الکرسی یاد ہے؟ اور اسکا ترجمہ؟ چلیں اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ بڑا وقت ہے یاد کر لیجیئے۔ کیونکہ اگلے الیکشنز تک کراچی کی آگ جواں ہے اور پیہم ہے۔     

Saturday, August 20, 2011

قبائلی نظام اور معاشی و معاشرتی پسماندگی

سسکاچُوین، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے جو کہ پریری علاقے میں شامل ہے۔ کینیڈا کے دو اور صوبے اس  علاقے میں شامل ہیں جو البرٹا اور مینی ٹوبا ہیں۔ اسکے علاوہ کسی حد تک اس میں برٹش کولمبیا بھی شامل ہے۔ پریری سے ایک جانور یاد آرہا ہے۔  اسے کہتے ہیں پریری ڈاگ۔ لیکن اس پریری علاقے کا اس کتے کے نام کے چوہے نما جانور سے کوئ تعلق نہیں۔  
پریری دراصل ایک گھاس کا نام بھی ہے جو نارتھ امریکہ کے بعض علاقوں میں میں بکثرت پائ جاتی ہے یہ علاقے میدانی علاقے ہیں، زراعت کے لئے مناسب۔ لیکن یہاں معدنیات بھی پائ جاتی ہیں۔ البرٹا، کینیڈا کے امیر ترین صوبوں میں شامل ہے اس لئے کہ یہاں تیل جیسی معدنی دولت کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
اس وقت یہ تحریر سسکاچُوین صوبے سے لکھی جارہی ہے اس لئے ہم امیروں کی نہیں غریبوں کی بات کریں گے۔ سسکاچُوین کینیڈا کا ایک غریب صوبہ ہے۔ اتنا غریب ہے کہ ٹورنٹو سے لوگ یہاں آکر رہنا پسند نہیں کرتے۔ اتنا غریب ہے کہ یہاں پہنچ کر آپکو وہ مقامی لوگ اکثرنظر آئیں گے جو کینیڈا کے قدیم باشندے ہیں یعنی ریڈ انڈیئنز۔ اتنا غریب ہے کہ کینیڈیئن امیگریشن حاصل کرنے کے بعد اگر آپ یہاں ایک سال گذار لیں تو اپنے پورے خاندان کو کینیڈا بلا سکتے ہیں۔ یہ لالچ اونٹاریو صوبہ آپکو نہیں دے گا۔ جہاں ٹورنٹو واقع ہے۔
دنیا میں ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے چاہے وہ محبت ہو، نفرت ہو، خوف ہو یا لالچ۔ یہ قیمت ادا کیجئِے یہ جذبات پیدا ہو جائیں گے یہ قیمت ادا کیجئیے یہ جذبات ختم ہو جائیں گے۔ اس طرح ہر چیز کی ایک وجہ بھی ہوتی ہے جو بعض اوقات واضح ہوتی ہے اور بعض اوقات ایسے چھپ جاتی ہے کہ محبت کرنے والے پہ، نفرت کرنے والے پہ، خوف یا لالچ رکھنے والے پہ بھی واضح نہیں ہوتی۔ لیکن سسکاچُوین صوبہ اتنا مشکل نہیں یہاں اسکی وجوہات کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس علاقے میں سال کے چھ مہینے شدید سردی رہتی ہے جس میں زیادہ تر وقت یہاں برفباری  ہوتی ہے اس دوران کچھ اگایا نہیں جا سکتا۔ اس قدرتی حالت سے الگ، یہ ان علاقوں میں بھی شامل ہے جہاں ریڈ انڈیئنز سب سے زیادہ آباد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یوروپ سے کینیڈا ہجرت کرنے والوں نے ان ریڈ انڈیئنز پہ بڑے ظلم ڈھائے اور انہیں اس بیابان علاقے کی طرف دھکیل دیا۔ یہی نہیں انہیں ایسی لتوں میں مبتلا کر دیا جس سے وہ نسل در نسل نجات نہیں پا سکے۔ ان میں سے ایک لت نشہ آور اشیاء کا استعمال ہے۔
 بعض لوگوں کے خیال میں وہ کاہل بھی ہیں اور اپنی حالت تبدیل کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ بعض کا موءقف ہے کہ انہیں جان بوجھ کر پسماندہ رکھا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے انہیں چند نام نہاد سہولتیں دے کر مزید کاہل بنادیا گیا ہے اور ان میں سے کچھ کرنے کی امنگ کو ختم کر دیا گیا۔ بہر حال اطراف میں نظر آنے والے یہ مقامی باشندے دیگر لوگوں کے مقابلے میں پسماندہ سے لگتے ہیں۔
ریڈ انڈیئنز کو انیس سو اسّی کے اوئل  میں سرکاری طور پہ فرسٹ نیشنز کا نام دیا گیا۔ فرسٹ نیشنز میں دیگر اقلیتیں بھی شامل ہیں۔ یہ اصطلاح زیادہ مقبول نہ ہو سکی۔ اسکے بجائے لوگوں نے اپنے قبائل کے نام کو اپنی شناخت بنانے پہ ترجیح دی۔
یہ ریڈ انڈیئنز یہاں اس وقت آکر آباد ہوئے جب کولمبس نے امریکہ دریافت کیا اور وہاں کے مقامی باشندوں کو انڈیئنز کہا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ انڈیا پہنچ گیا ہے۔ ان اقوام کے ظلم سے بچنے کے لئے مقامی باشندے کینیڈا کی طرف ہجرت کر گئے۔
یوروپی اقوام نے جب کینیڈا کا رخ کیا تو ابتداً مقامی باشندوں نے ان کا خاصہ ساتھ دیا۔  لیکن ہوا یہ کہ ان یوروپی اقوام نے اٹھارہویں صدی کے دوران یہاں پائے جانے والی ایک قسم کی بھینس جسے بائ سن کہتے ہیں اسکا بے دریغ شکار کیا۔ 
بائ سن پہ ان مقامی انڈیئنز کا کافی انحصار تھآ۔ وہ نہ صرف اس سے خوراک حاصل کرتے تھے بلکہ اسکی کھال انکے لئے لباس کا ذریعہ تھی۔ 
اندھا دھند شکار کے نتیجے میں یہ جانور اپنے خاتمے کے قریب پہنچ گیا، اس کا سب سے اندوہناک اثر انڈیئنز پہ ہوا اور انہیں شدید ترین قحط سے گذرنا پڑا جسکے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں نے نقل مکانی کی۔  اپنی زمینیں چھوڑیں جس پہ وہ کاشت کاری کرتے تھے اس پہ دیگر اقوام نے قبضہ کر لیا۔
یوروپی اقوام جو کہ اس وقت اپنی حکومت بنا چکے تھے اپنے عدالتی طریقے رائج کر چکے تھے انکا اپنا پولیس کا انتظام تھا۔ یہ سارے انتظامات مقامی انتظامات سے بالکل الگ تھے۔ اس طرح مقامی انتظامات تباہی سے دوچار ہوئے دوسری طرف انہوں نےان انڈیئنز  سے کئ معاہدے کئے۔ لیکن اس سے انکی حالت میں کوئ تبدیلی نہیں آ سکی۔ ان معاہدوں سے تنگ آ کربعض قبائل نے ان معاہدوں پہ دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ اس ساری صورت حال کے بعد انڈیئنز میں احتجاج پیدا ہوا۔ کئ تحریکیں چلیں، انڈیئنز کو دبانے کے لئے ہر طرح کا نسخہ آزمایا گیا جس میں قتل و غارت گری بھی شامل ہے۔
پھر انہیں ضم کرنے کی کوشش یہ کی گئ کہ یوروپی اقوام کا متعارف کرائ ہوئ ثقافت کو اپنانے کے لئے ان پہ زور ڈالا گیا۔ جسے اب وہ کینڈیئن ثقافت کہتے تھے۔  یوروپی النسل لوگ جو کہ اکثریت میں تھے اس طریقے کو صحیح سمجھتے تھے۔ کیونکہ اپنے آپکو وہ ہر لحاظ سے مقامی انڈیئنز سے برتر خیال کرتے تھے۔
ضم کرنے کی ان کوششوں میں ایک انتہائ درجے کی خراب شکل اس وقت پیدا ہوئ۔ جب ان پر یوروپی نظام رکھنے والےاسکولوں میں تعلیم دینے کے لئے قوت کا استعمال ہوا۔اسکے لئے ایسے اسکول قائم کئے گئَ جہاں ان بچوں کو والدین سے الگ رکھا جاتا تھا۔ مبصرین کے نزدیک یہ ان بچوں میں انڈیئن روح کو ختم کرنے کی کوشش تھی۔ 
پابندی عائد کی گئ کہ وہ اپنی زبان نہیں بولیں گے بولنے پہ انہیں سزا ملے گی۔ چونکہ یہ اسکول زیادہ تر مختلف چرچز کے زیر انتظام تھے اس لئے ان پہ یہ پابندی بھی لگائ گئ کہ وہ اپنے بنیادی عقیدے پہ عمل نہیں کریں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ  اسے ثقافتی  اور نسلی قتل کہا جائے گا۔ 
اسکولوں میں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم بڑی تعداد میں جنسی زیادتی کا شکار ہوئے، صفائ کی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ٹی بی جیسا مہلک مرض پھیلا۔ بیسویں صدی کے آغآز میں کینیڈا کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے جذبے نے جنم لیا۔ بالآخر انیس سو ساٹھ میں ان اسکولوں کو بند کر دیا گیا۔ سرکاری طور پہ معافی مانگی گئ۔ اور نئے معاہدے ہوئے۔
انیس ساٹھ میں انڈیئنز کو ووٹ دینے کا حق ملا۔ انیس سو انہتر میں انکی امتیازی حیثت کو ختم کر کے انہیں دیگر کینڈیئنز کے ساتھ ضم کرنے کا ایکٹ سامنے آیا۔
اسکے بعد مقامی انڈیئنز کے مختلف قبائل سے مختلف معاہدوں کی لمبی فہرست ہے ۔ مثلاً آج اکیسویں صدی کے کینیڈا میں کیوبک صوبے کی حکومت نے کری قبائل سے معاہدہ کیا  اور صوبے میں ہائڈرو الیکٹرک ذرائع کو استعمال کرنے پہ کیوبک حکومت کری قبیلے کی حکومت کو تین اعشاریہ چار بلین ڈالر ادا کرے گی۔
اس بات پہ مجھے بلوچستان کے قبائلی سردار یاد آتے ہیں جو حکومت پاکستان سے بلوچستان سے نکلنے والی گیس کی قیمت وصول کرتے ہیں اور اپنے صوبے کی فلاح کے لئے نہیں بلکہ اپنے بچوں اپنی نسل کی فلاح کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اگر اس رقم  کے لین دین میں اونچ نیچ ہو تو وہ اسے بلوچستان کے عوام  سے ظلم قرار دیتے ہیں۔
آجکے کینیڈا میں بھی ان مقامی انڈیئنز یا آجکی زبان میں فرسٹ نیشنز کے مسائل دیگر تمام کینیڈیئنز سے کہیں زیادہ ہیں اور سنگین ہیں۔ یہ شاید ایک لمبے عرصے تک دبائے جانے کا اثر ہے۔ تعلیمی شرح کم اور غربت زیادہ ہےان میں بے روزگاری شرح زیادہ ہے۔ جرائم کی شرح زیادہ ہے، وہ نشہ آور اشیاء کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں۔  مجھے کوئ بتا رہا تھآ کہ برفباری دنوں میں برف میں ملنے والی لاشیں زیادہ تر مقامی انڈیئنز کی ہوتی ہیں جو نشے کی گرمی میں برف میں زیادہ دور تک نکل آتے ہیں اور واپس پہنچنے سے پہلے راستے میں ٹھنڈ کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ 
حالت حمل میں الکوحل کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے پسماندہ  بچوں کی تعداد ان میں کہیں زیادہ ہے۔  اسکے ساتھ خودکشی کا رجحان زیادہ ہے جبکہ جنسی زیادتی کی شرح بھی زیادہ ہے۔
انکا عرصہ ء حیات بھی دیگر کینیڈیئنز کے مقابلے میں کم ہے۔ مردوں میں یہ تقریباً آٹھ سال کم ہے جبکہ خواتین میں ساڑھے پانچ سال کم ہے۔
ان مقامی انڈیئنز کے گینگز اب ایک اور سنگین مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ جو جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ یہ غربت کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ یہ گینگز زیادہ تر ونی پگ اور مینیٹوبا میں پائے جاتے ہیں۔ 
اس تمام صورت کی وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ لا محدود قسم کے اختیارات قبائلی سردار کے پاس ہونے کی وجہ سے وسائل صحیح طور پہ استعمال نہیں ہو پاتے۔ کیا خیال ہے یہی صورت ہمارے  ملک کی نہیں جہاں نظریات کچھ بھی ہوں، عملی طور پہ قبائلی سرداری نظام نافذ ہے ؟
میں نے سسکاچُوین میں کیا کیا؟ یہ جاننے کے لئے اگلی تحریروں کے منتظر رہئیے۔ خدا حافظ  پاکستان۔

Saskatchewn 
Alberta
Manitoba
Quebec
Tribal system