Monday, September 12, 2011

پاکستانی سینی میں چین کی چینی

کل صبح بارہ بجے تک میری چائینیز کی کلاس ہے جو بھی کام ہوگا اسکے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ میرے ایک دوست نے اطلاع دی۔ زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ کیا ہوا کسی چائینیز کو اپنا محبوب بنا لیا ہے۔ کیونکہ ہمارے خطے میں مادری زبان کے علاوہ اگر کسی زبان کو لوگ دل سے سیکھنا چاہتے ہیں تو وہ انگریزی ہے نہ کہ چائینیز۔  جواب ملا نہیں چین جا کر کچھ کاروبار کرنے کا ارادہ ہے۔
سو میں  نے ان سے کچھ ابتدائ معلومات لیں۔ کراچی میں چند ایک ادارے ہیں جہاں یہ سکھائ جاتی ہے۔ پانچ چھ استاد ہیں جنہوں نے یہ فریضہ اٹھایا ہوا ہے۔ اور وہ آجکل بڑے مصروف ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد چین سے تعلق رکھتی ہے۔
پھر اس کے بعد کسی اور سے بات ہو رہی تھی۔ پتہ چلا کہ وہ اپنے بچے کو کالج کی تعلیم کے لئے ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ ایک دفعہ پھر حیرانی سے گذرنا پڑا۔ لوگ لندن، کینیڈا، امریکہ بھیجتے ہیں آپ ہانگ کانگ بھیج رہے ہیں۔ جواب ملا، وہ زمانہ گیا جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے آجکل انہوں نے فاختائیں آزاد کر کے اس خطے میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔  چین ، ہانگ کانگ۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں اپنا سرمایہ لگایا، ذہن لگایا۔ لیکن کہنے والے اسے ستم گر کہتے رہے۔ مغربی ممالک نے دہشت سے نبٹنے کے لئے دہشت زدہ پالیسیز بنائیں۔  یوں آج اس واقعے کے دس سال بعد دنیا میں سرمائے  اور اعتماد کے سفر میں ایک واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ یہ مغرب سے مشرق کی طرف چل پڑا ہے۔ مغرب کا عالم یہ ہے کہ یہ اڑی اڑی سی رنگت، یہ کھلے کھلے سے گیسو، تری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ اور مشرق آخر مشرق ہے۔
ان مشرقی ممالک میں اسلامی ممالک شامل نہیں۔ اگر ہم بہت کوشش کریں تو ترکی، ملائیشیا یا انڈونیشیا کا نام لے سکتے ہیں۔ جنکی معیشت بہتر حالت میں ہے۔ ان میں سے ترکی نسبتاً  مضبوط ہے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔
پاکستان کے دگرگوں سیاسی حالات اور حکمرانوں کی عدم دلچسپی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد ختم کیا ہے۔ ایک طرف بجلی کی کمی ہے دوسری طرف شفاف نظام کا رونا۔ بالخصوص کراچی میں کاروبار کو چلانے کے لئے جس اعتماد اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے وہ پچھلے تین سال میں ناپید ہو گیا ہے۔
 ہمارے سرمایہ کار اپنا سرمایہ تیزی سے ملک سے باہر منتقل کر رہے ہیں جیسے ملائیشیا ۔ سرمائے کی اس منتقلی سے ہمارے ملک میں روزگار کے مواقع کم ہونگے اور مہنگائ مزید بڑھے گی۔ جس سے ایک عام انسان جس کا جینا مرنا اسی زمین سے وابستہ ہے متائثر ہوگا بلکہ ہو رہا ہے۔ اس لئے جب کراچی میں کاروباری استحکام کی بات ہوتی ہے تو یہ دراصل ہر گروہ کی بقاء کی بات ہوتی ہے۔
عالمی کساد بازاری میں، امید کی ایک کرن چین میں سرمایہ کاری ہے۔ چین اس وقت معاشی طور پہ مستحکم ہے ایک ابھرتی ہوئ نئ معاشی طاقت۔  میں نگینہ گلی، صدر میں موجود تھی۔ وہاں ایک نگینہ فروش نے بتایا کہ وہ آجکل چین سے نگینے لے کر آ رہا ہے پہلے وہ بنکاک جاتا تھا۔  اس وقت جو چین سے کاروبار کرے وہ فائدے میں ہےاس نے ایک راز مجھ سے شیئر کیا۔ چین چھا رہا ہے۔ انکی تجارتی اور سرمایہ کاری کی پالیسیاں حوصلہ افزاء ہیں۔ ویزہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔ آپکا پاسپورٹ مہینوں قطار میں نہیں پڑا رہتا۔ چند دن لگتے ہیں۔ آپ وہاں آفس لے سکتے ہیں۔ کمپنی کھول سکتے ہیں۔ بس صرف ایک خرابی ہے پاکستانیوں کو چینی زبان نہیں آتی اور چینی کوئ اور زبان نہیں بول سکتے۔ چینی نہ صرف کاروباری ذہانت رکھتے ہیں بلکہ وہ اس میں خاصے چالاک ہیں۔ اس چالاکی سے نبٹنے کے لئے زبان آنا ضروری ہے۔
آپکو بچپن میں سنی ہوئ وہ کہانیاں یاد ہیں جس کا مرکزی خیال اس نکتے کے گرد گھومتا  ہے کہ زمین کے نیچے دفن خزانے کسی ایک جگہ نہیں رہتے یہ چلتے رہتے ہیں اور آواز دیتے ہیں ہم یہاں ہیں۔ انکی آواز پہ  دھیان دینے والا اور انہیں سمجھنے والا انہیں حاصل کر لیتا ہے۔ یہی حال زمین کے اوپر موجود خزانوں کا ہے۔ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں مزید سرمایہ ہوتا ہے اور جہاں یہ گردش کی حالت میں رہے۔ مایا کو مایا ملے کر کے لمبے ہاتھ، حرکت میں برکت ہے۔
اب اس سارے قصے سے کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کے صوبے سندھ میں اسی مستقبل کا ویژن رکھتے ہوئے اسے تمام اسکولوں میں سال دو ہزار تیرہ سے چھٹی کلاس سے لازمی مضمون کے طور پہ پڑھایا جائے گا۔ یاد رہے اسی کی دہائ میں مرد مومن کے ویژن پہ اسکولوں میں عربی زبان بھی پڑھانے کی کوشش کی گئ تھی۔
  اس حکومتی فیصلے کے بارے میں لوگوں کی رائے مختلف ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ  کیا اسے بھی اسی طرح سکھایا جائے گا جس طرح صوبے میں اردو، انگریزی یا سندھی زبانیں سکھائ جاتی ہیں۔ جو اول تو سکھائ نہیں جاتیں بلکہ پڑھائ جاتی ہیں۔ دوئم جہاں جہاں پڑھائ جاتی ہیں وہاں مقصد امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس لئے ساری زندگی اردو پڑھنے والوں کو اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتی، انگریزی کے چند مضامین اور خطوط یاد ہوتے ہیں اور سندھی رسم الخط سے نقطوں کی وجہ سے آشنائ ہو جاتی ہے۔ یہ سندھی زبان، صوبے کے اسکولوں میں پانچ سال تک لازمی پڑھائ جاتی ہے۔
پھر یہ کہ چینی زبان سکھانے کے لئے اساتذہ کہاں سے آئیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے لئے چین سے اساتذہ لئے جائیں گے۔ اور پاکستان میں بھی اساتذہ کو تربیت دی جائے گی۔ یقیناً ان چینی اساتذہ کوجان کا تحفظ دینے پہ بھی حکومت کو  وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔ ادھرسال بھر کے عرصے میں کیا تربیت کے بعد ایسے ماہر اساتذہ تیار کر لئے جائیں گے جو دوسروں کو زبان سکھانے کے قابل ہوں۔ یہاں کچھ لوگ ہو سکتا ہے کہ کچھ اس قسم کے ڈائیلاگ بولنا چاہیں کہ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل۔ جس سے میں اپنے ہم وطنوں کی حد تک اتفاق نہیں کرتی۔ جو محض ڈائلاگز بول کر ہر پیچیدہ صورت حال سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔ یوں مسائل اپنی جگہ رہتے ہیں اور کاغذ کے پلندے وزن حاصل کرتے رہتے ہیں۔ یہاں ڈائیلاگز نہیں ٹھوس عمل چاہئیے۔
مزید یہ کہ کیا تمام طالب علموں کے لئے چینی زبان سیکھنے کا کوئ فائدہ واقعی  ہے بھی یا نہیں۔ اسکا جواب میں آپ پہ چھوڑتی ہوں۔
میں اپنے پالیسی سازوں کے شر پسند ذہن سے سوچوں  تو یہ کہتا ہے کہ اس میں بھی سرمائے کی منتقلی کا چکر ہے۔ بس یہ کہ مشرق یا مغرب میں جانے کے بجائے یہ کچھ حکومتی اراکین کی جیب کا رخ کرے گا۔ اور وہ یہ کہہ کر فارغ ہونگے، ٹک دیکھ لیا، دل شاد کیا، خوش وقت ہوئے اور چل نکلے۔

9 comments:

  1. طلکففدجگجدفلکگدھفلدجگفججھفدلجگہف

    یہ میں نے کوئی کاڑے باڑے نئیں مارے جی۔
    یہ میں نے آپ کو نستعلیق چینی کرائی ہے۔
    چیک کریں اور نمبر دیں۔

    ReplyDelete
  2. اس میں چ کی شدید کمی ہے۔ میرا نہیں خیال چیچنی زبان میں ف آواز اتنی استعمال ہوتی ہے۔ یہ نستعلیق ف کی بولی لگ رہی ہے جو ہمارے یہاں پہلے کبھی استعمال کی جاتی تھی۔

    ReplyDelete
  3. او جی یہ چیچنی نئیں ، چینی زبان ہے۔ پاک چین ددستی کے پیش نظر اس میں چینی کچھ زیادہ ہی استعمال ہوگئی ہے۔ اس لئے بوجہ مٹھاس دانت اور ہونٹ چمٹ چمٹ کر ف کی آواز نکال رہے ہیں۔
    اب نمبروں کے ساتھ سٹار بھی دیں۔

    ReplyDelete
  4. اس کا خرچ بھی چین سے آنے والی امداد سے اٹھایا جائے گا۔ چین امداد بلکہ قرض دے کر احسان بھی کرے گا اور فائدہ بھی سمیٹے گا زبان کے فروغ کی صورت میں۔ یہ ترقی یافتہ ممالک کا وہی ہتھیار ہے کہ قرضہ دو تو شرط بھی لگاؤ کہ ہمارا ملک ہی منصوبہ مکمل کرنے کا اہل ہوگا۔

    ReplyDelete
  5. اقتباس
    طرف چل پڑا ہے۔ مغرب کا عالم یہ ہے کہ یہ اڑی اڑی سی رنگت، یہ کھلے کھلے سے گیسو، تری صبح کہہ رہی ہے تیری رات کا فسانہ اور مشرق آخر مشرق ہے۔
    ان مشرقی ممالک میں اسلامی ممالک شامل نہیں۔ اگر ہم بہت کوشش کریں تو ترکی، ملائیشیا یا انڈونیشیا کا نام لے سکتے ہیں۔ جنکی معیشت بہتر حالت میں ہے۔ ان میں سے ترکی نسبتاً مضبوط ہے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھتا ہے

    تبصرہ
    آپ اس پر نظر ثانی کریں اور ٹائم میگزین میں کچھ عرصے پہلے شائع ہونے والی تاریخی عرب ہند شاہراہ ریشم کی نشاۃ ثانیہ پر بھی ایک نظر ڈالیں تو شاید آپ کو دو کے علاوہ تمام اسلامی ممالک اس لسٹ میں نظر آئیں گے۔۔ بلکہ یو اے ای اور قطر کو چھوٹا بچہ سمجھ کر باہر نا کریں۔۔

    ReplyDelete
  6. راشد کامران صاحب، ہمم تو نشاۃ ثانیہ شروع ہو گیا اور ہمیں خبر ہی نہ ہوئ۔

    ReplyDelete
  7. چینی بولنا مشکل نہیں ملاحظہ ہو
    گن شو فو چی پاکان وو تھااااا و چہ۔۔۔ شےشے شے شے

    ReplyDelete
  8. عطاء رفیع صاحب، اس کا مطلب کیا ہے اور آپ چائینیز پڑھانا کیوں نہیں شروع کر دیتے ۔ اس وقت تو اس سے پیسے بنانے کا بڑا موقع ہے۔
    عثمان، کس بات پہ اسٹار، بہانے بنانے پہ۔ چلیں دے دیتے ہیں کیونکہ میں نے چیک کیا ف بولنے کے لئے دانت اور ہونٹ ملتے ہیں۔
    :)

    ReplyDelete
  9. اگر آپ نے پڑھتی ہو ۔۔۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ