Showing posts with label کیمیکل کامبی نیشنز. Show all posts
Showing posts with label کیمیکل کامبی نیشنز. Show all posts

Thursday, August 26, 2010

کیمیکل کامبی نیشنز-۲

  گذشتہ سے پیوستہ

مستقل تناسب کا قانون
 Law of definite proportion or constant composition

شیکسپیئر نے کہا تھا کہ گلاب کو کسی بھی نام سے پکارو گلاب ہی رہے گا۔ کیمیا داں جوزف پراءوسٹ نے بھی ایک اس سے ملتی جلتی بات کہی۔ جسے مستقل تناسب کے قانون کا نام دے دیا گیا۔
اس قانون کے تحت ایک کیمیائ مرکب میں موجود عناصر کی مقدار ہمیشہ یکساں رہتی ہے چاہے اسے کسی بھی کیمیائ طریقے سے تیار کیا جائے۔
مثلاً کاربن ڈائ آکسائیڈ کے فارمولے میں ایک کاربن  کا مالیکیول اور دو آکسیجن کے مالیکیول ہوتے ہیں۔ ایک کاربن کےایٹم کا وزن تقریباً 12 اور ایک آکسیجن کے ایٹم کا وزن تقریباً سولہ ہوتا ہے۔ اس فارمولے میں آکسیجن کے دو ایٹم ہیں تو اسکی مقدار 32 ہے۔



کاربن ڈائ آکسائید گیس کو مختلف طریقوں سے تیار کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔
   کیلشیئم کاربونیٹ پہ تیزاب کے عمل سے

کاربن کو آکسیجن کی موجودگی میں جلانے سے

اوپر بیان کردہ طریقوں سے حاصل شدہ گیس کا جب تجزیہ کیا جائے تو اس میں کاربن اور آکسیجن کی مقداری نسبت وہی نکلتی ہے جو ہم بیان کر چکے ہیں یعنی 3:8۔

کاربن کے دو آکسائیڈز ہوتے ہیں۔ ایک میں کاربن اور آکسیجن کی مقداری نسبت  3:8 اور دوسرے میں 3:4 ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دوسرے مرکب میں آکسیجن کی مقدار پہلے والے کی نسبت آدھی ہے۔ یعنی یہ کاربن مونو آکسائیڈ کا فارمولا ہے۔ اور کاربن مونو آکسائیڈ کی مقداری نسبت اس قانون کے تحت ہمیشہ 3:4 ہوگی، چاہے ہم اسے کسی بھی طریقے سے تیار کریں۔
اب اس قانون کے ساتھ ایک مسئلہ بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ یہ ہمیشہ صحیح ثابت نہیں ہوتا۔ اسکی وجہ مختلف عناصر کے مختلف آئسوٹوپس کا ہونا ہے۔ آئیسو ٹوپس جیسا کہ ہم جانتے ہیں۔ ایک ہی عنصر کے ایسے ایٹم ہوتے ہیں جو اس سے وزن میں مختلف ہوتے ہیں۔ وزن میں اس اختلاف کی وجہ سے یہ کمیتی تناسب یکساں نہیں رہ پاتا۔
مرکبات کی ایک جماعت جنہیں نان اسٹیکیئومیٹرک کمپاءونڈز کہتے ہیں وہ بھی اس اصول پہ پورے نہیں اترتے۔ کیونکہ ان میں عناصر ایک خاص نسبت میں ملنے کے بجائے دو مقداروں کی درمیان رینج میں ملتے ہیں۔ جیسے فیرس آکسائیڈ کا  فارمولا نیچے دی گئ شکل کے حساب سے 'اے؛ ہونا چاہئیے، لیکن یہ 'بی' کے قریب ہوتا ہے وجہ اسکی اسکے مالیکیولز کی کرسٹل جالی میں  ترتیب ہے۔

فیرس آکسائیڈ کی کرسٹل جالی میں ترتیب

کرسٹل جالی میں ممکنات

جاری ہے

Tuesday, August 24, 2010

کیمیکل کامبی نیشنز-۱

جب مرکبات آپس میں تعامل میں کرتے ہیں تو انکا یہ عمل چند قوانین کے ماتحت ہوتا ہے۔ یہ قوانین 'کیمیکل کامبی نیشنز' کہلاتے ہیں۔  بنیادی طور پہ یہ چار قوانین ہیں جو کسی تعامل کے ہونے  میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ درج ذیل ہیں

قانون بقائے کمیت
law of conservation of mass

مستقل تناسب کا قانون
 law of constant proportion

مختلف تناسب کا قانون
law of multiple proprtions

 متبادل تناسب کا قانون
 law of reciprocal proportions

اب ہم ان قوانین کے کسی تعامل پہ اثرات کو باری باری دیکھتے ہیں۔

  بقائے کمیت کا قانون

قدیم یونانی فلسفے میں کہا جاتا تھا کہ کچھ نہیں سے کچھ نہیں جنم لیتا۔ یعنی عدم سے عدم ہی وجود میں آتا ہے۔ جین فلسفہ کے بانی مہاویرا ہے کہتا ہے کہ کائنات اور اسکے اجزاء مثلاً مادہ نہ ہی پیدا کیا جا سکتے ہیں اور نہ ہی ختم کیا جا سکتے ہیں۔ تیرہویں صدی کے ایرانی عالم ناصر الدین الطوسی کا کہنا تھا کہ ایک مادی جسم مکمل طور پہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ صرف اپنی ماہیئت، حالت، ترکیب،رنگ اور اسی طرح کی دوسری خصوصیات تبدیل کرتا ہےاور ایک دوسرے مرکب میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

بقائے کمیت کا قانون پہلی دفعہ مکمل طور پہ انٹونی لوائزے نے بیان کیا اور اس نے اپنے تجربات سے اسے ثابت کیا۔ اسکی وجہ سے اسے جدید طبیعیات کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ ان تجربات میں اس نے مختلف تعاملات کو دیکھا۔  مثلاً زنگ لگنے کا عمل۔ اس عمل سے پہلےلوہے کے ایک ٹکڑے کو ایک سیلڈ بند ٹیوب میں بند کر کے اس  ٹیوب کا وزن کیا گیا اور زنگ لگنے کے بعد بھی اسکا وزن کیا گیا۔  نتیجہ یہ نکلاکہ ہر دو صورتوں میں وزن برابر تھا۔

یہ قانون کہتا ہے کہ ایک بند نظام میں وقت گذرنے کے ساتھ نظام کی کمیت مستقل رہتی ہے۔ یعنی ایک کیمیائ تعامل اگر کسی بند نظام میں ہو رہا ہو تو مادہ نہ وجود میں آتا ہے اور نہ ختم ہوتا ہے اس طرح مادے کی مقدار وہی رہتی ہے جو تعامل کے آغاز میں ہوتی ہے البتہ مادے کے اجزاء اپنی ترتیب یا ماہیت تبدیل کر لیتے ہیں۔
اس قانون کی وجہ سےکیمیاء کی نئ بنیاد پڑی اور یہ ممکن ہو سکا کہ ری ایکٹنٹس کی مقدار متعین کی جا سکے اور حاصل پروڈکٹس کی مقدار کا پہلے سے اندازہ کیا جا سکے۔  اس طرح سے اسٹیکییئومیٹری یا مقداری کیمیاء کا تصور جنم لے سکا۔
اب ہم اسکی ایک مثال دیکھتے ہیں۔
مثال ؛
  ہائیڈروجن  اور آکسیجن مل کر پانی بناتے ہیں۔ اگر چار گرام ہائیڈروجن استعمال کرنے سے چھتیس گرام پانی بن رہا ہے تو آکسیجن کے کتنے گرام چاہیئِں ہونگے۔ 
سب سے پہلے اس تعامل کی مساوات دیکھتے ہیں۔
 اور پھر پروڈکٹس میں سے جس ری ایکٹنٹ کی مقدار دی ہوئ ہے اسے منفی کر دیں۔ دوسرے متعامل یا ری ایکٹنٹ کی مقدار معلوم ہو جائے گی۔



اس مثال میں جب ہم نے چھتیس گرام جو کہ پروڈکٹ کا وزن ہے اس میں سے ہائیڈروجن کے چار گرام نکال دئیے تو آکسیجن کے بتیس گرام حاصل ہوئے اس طرح سے مساوات میں تیر کے نشان کے دونوں جانب تعامل کے بعد بھی  مقدار گرام میں برابر رہی۔


اسکی ایک  ویڈیو ہے۔



مزید دیکھنے کے لئے ان لنکس پہ جائیں۔


جاری ہے

نوٹ؛ یہ تحریر زینب ضیاء کی فرمائیش پہ لکھی گئ ہے۔ ان سے درخواست ہے کہ مختلف الفاظ کا اردو ترجمہ صحیح کر دیں۔ فی الوقت میرے پاس اردو کی کتاب موجود نہیں ہے۔