Showing posts with label انگریز. Show all posts
Showing posts with label انگریز. Show all posts

Thursday, November 4, 2010

ٹونی بلیئر کی سالی کا مسلماں ہونا

ایک دہرئیے اور ایک خدائے واحد کا یقین رکھنے والے شخص کے درمیان بحث چھڑ گئ۔ گھمسان کا رن چھڑنے کے بعد وہ دونوں اٹھے تو دہریہ خدا کا قائل ہو چکا تھا اور قائیل خدا، دہریہ ہو چکا تھا۔
 اس صورت حال سے ملتا جلتا ایک مصرعہ ہمارے ہاتھ لگا اور ہم آج تک اس کا دوسرا مصرعہ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ مصرعہ کچھ یوں ہے،  ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا۔ کچھ مصرعے جوڑے۔ مثلاً

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کوئ میرے دل سے پوچھے تیرے تیر نیم کش کو
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیء تحریر کا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

 جاتی ہے کوئ کش مکش اندوہ عشق کی
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

عجب واعظ کی دینداری ہے یارب
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

دیکھنا تقریر کی  لذت کہ جو اس نے کہا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کچھ جو سمجھا میرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

کچھ اور بھی اٹکل پچو ہیں لیکن ایک تو یہ پوسٹ طویل ہو جائے گی دوسرے یہ کہ وارث صاحب ہمیں شاعری کے طول و عروض سکھانے کے بجائے دعا کرنے بیٹھ جائیں گے کہ اس حالت میں دعا ہی کام آ سکتی ہے۔ لیکن انکے دل کی تشفی کے لئے یہ واضح کرنا از حد ضروری ہے کہ اس چیز کا ہمیں احساس ہو چلا تھا کہ اس سے معنی و مطالب جتنے پھلیں پھولیں۔ کسی  بھی مجوزہ شعر میں وزن نہیں ہے۔ شاعری کیا ہے بات میں وزن کا ہونا۔ اس لئیے ایک دفعہ پھر اس مصرعے کو ہاتھ میں پکڑے بیٹھے تھے کہ اپنے ایک ساتھی پہ توجہ گئ۔
کیا دیکھتے ہیں کہ کمپیوٹر کے سامنے آنکھیں پھاڑے بیٹھے ہیں۔  اضطراری حالت میں  کبھی ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھتے ہیں، کبھی ایک فرضی داڑھی کو سہلاتے اور درست کرتے ہیں، کبھی کانوں کا مسح کرتے ہیں اور کبھی شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے  ہیں۔ ہر دو افعال کے درمیان مسکراتے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ سب نیکی علامت ہے مگر میرے شیطانی دل میں آئ کہ خاموشی سے انکے پیچھے  پہنچ جاءوں کہ کس سائیٹ سے مستفید ہو رہے ہیں۔  سوچا کہ انکی عمر کا تقاضہ ہے کبھی کبھی کے تصور میں برائ کیا ہے۔ لیکن عین اسی لمحے انہوں نے ہمیں دیکھ لیا۔ اب چونکہ ہم بھی انہیں ہی دیکھ رہے تھے اس لئے مجبوراً پوچھنا پڑا کہ کیا بات ہے بڑے پر جوش نظر آرہے ہیں۔ کہنے لگے، آپکو پتہ ہے ٹونی بلیئر کی سالی مسلمان ہو گئ۔

تو اس میں اتنا خوش ہونے کی کیا بات ہے لگ رہا ہے کہ آپکی ہونے والی  سالی آپکے ہاتھ پہ  مشرف بہ اسلام ہوئ ہیں۔ اس بات پہ انکا چہرہ لال ہو گیا اور باچھیں کھل گئیں فوری طور پہ تو یہی سمجھ آیا کہ ایک مشرقی، کنوارے مرد کو سالی کے تذکرے پہ اسی طرح حیا کا مظاہرہ کرنا چاہئیے۔
  کہنے لگے، انشاللہ، ہمارے اعمال درست رہے تو خدا ہمیں بھی کسی ایسی نیکی کی توفیق دے گا۔ جی ہاں، میں سمجھ رہی ہوں۔ اس بہانے آپ کسی گوری خاتون سے شادی کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے آپ ٹونی بلیئر سے ایک میٹنگ کر لیں باہمی دلچسپی کے  امور پہ گفت و شنید کے لئے۔ بارے آپکے علم میں آجائے کہ وہ کون سی نیکی ٹونی بلیئر نے کی کہ اسکے نتیجے میں اتنی نیک سالی انہیں ملی۔
مذاق بنا رہی ہیں آپ میرا،  اہل کتاب خاتون سے تو مسلمان مرد کا شادی کرنا جائز ہے۔ اہل کتاب کا مسلمان مرد سے شادی کرنا جائز ہے تو مسلمان مرد انہیں مسلمان کیوں کرتے ہیں، میں ہنسی۔ آپکے عمران خان نے بھی جمائمہ خان کو مسلمان کر کے شادی کی تھی۔ پھر انکی علیحدگی ہو گئ اور وہ خاتون ایک مغربی خاتون کی طرح اپنے شب و روز اپنے وطن میں گذارنے لگیں۔ عمران خان یا انکی بیگم  کے تذکرے پہ وہ ایکدم لال ٹماٹر ہوئے۔ دیکھیں، وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ کوئ شخص مسلمان ہونے کے بعد اپنے شب و روز کیسے گذارتا ہے یہ آپکا سر درد نہیں ہے۔ خاص طور پہ کسی نو مسلم اہل کتاب خاتون کے متعلق اس طرح بات کرنا تو اخلاقی طور پہ کوئ اچھی بات نہیں۔ پھر وہ اٹھے اور دراز سے چھری نکالی۔  میں نے چستی سے اپنے اور دروازے کے درمیان ، انکے اور دروازے کے درمیان اور پھر اپنے اور انکے درمیان فاصلے کو نظروں سے ناپا اور سوچا کہ تمام فاصلے انتہائ مناسب ہیں اور اگر میں ذرا بھی جسمانی پھرتی سے کام لوں تو فرشتوں کے حساب سود زیاں والے انٹرویو سے جلدی سامنا ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔
اس لئے ایک دفعہ پھر ہمت کڑی کر کے  اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کیا۔ یہ بتائیے کہ ایک نو مسلم اہل کتاب خاتون کو جب آپ تمام رعائیتیں دینے کو تیار ہیں تو کئ اور جدی پشتی مسلمان خواتین کو جو مشرقی روایات کی خاصی حد تک علمبردارہیں کیوں ہر وقت اسلام کے دائرے سے باہر کرنے پہ  کمر بستہ رہتے ہیں یہی سلوک آپکا جدی پشتی مسلمان مردوں کے ساتھ بھی ہے۔ آخر کیوں؟
جواباً وہ چھری کی نوک پہ سیب کی ایک قاش پھنسا کر میرے ذرا قریب آ گئے۔  ایسے ہی جدی پشتی مسلمانوں نے مسلمانوں کی عزت کا جنازہ نکال ڈالا ہے۔ اب ان جیسے روشن خیال ڈھیٹ دیکھ لیں پاسباں ملیں گے کعبے کو صنم خانے سے۔ پھر سیب کی اس قاش کو کچر کچر چبانے لگے۔ 
میرا تو خیال ہے کہ آجکل کے حالات دیکھتے ہوئے ٹونی بلیئر کی سالی کا مسلمان ہونا ہی اسکے روشن خیال اور ڈھیٹ ہونے کا ثبوت ہے۔ میں نے اپنے دوپٹے کے پلو کو  تفکر میں مروڑا۔  لیکن پھر اچانک ہی  میرے منہ سے ایک ہلکی پر جوش چیخ نکلی۔ واءو، یوریکا شعر مکمل ہو گیا۔
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے بھائ میاں
ہم ہوئے کافر تو وہ کافر مسلماں ہو گیا

انہوں نے مجھے ترس کھانے والی نگاہوں سے دیکھا۔ اور جا کر اس خبر کو دوسرے جدی پشتیوں کو اس طعنے کے ساتھ فارورڈ کرنے لگے کہ  بے حیا ، شرم کر۔
-
-
-

چھری واپس دراز میں ، سیب پیٹ میں۔ میں اپنی جگہ محفوظ۔ لیکن یہ کیسی سرگوشی ہے؟
اب بھی وزن پورا نہیں ہوا۔
شاعری کیا ہے بات میں وزن کا پیدا ہونا۔ 
مجھے تو لگتا ہے یہ مصرعہ کسی کی سازش ہے یا بد دعا۔

Monday, September 20, 2010

سر سید سے پہلے

 مشعل کے داد جی کی طبیعت اچھی نہیں۔ اس لئے کچھ تحریر کرنے کا  موڈ نہ ہوا۔ خدا انہیں صحت دے اور ہمارے گھر کی رونق بحال ہو۔ 
تو میں سر سید کی کہانی جاری رکھتی ہوں۔ سر سید پہ مزید تذکرے سے پہلے ہندوستان میں چلنے والی ایک اور تحریک کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ ہندوستان میں ایک عرصے تک حکمرانی تو مسلمانوں کی رہی تھی۔ مگر ہندو انکی رعیت کا ایک بڑا حصہ تھے۔ زوال آیا تو دونوں اسکا شکار ہوئے۔  اٹھارہویں صدی کے ہندوستان میں ذہنی پستی دونوں قوموں پہ طاری تھی۔ لیکن جب انگریزوں کی یلغار نے زور پکڑ لیا تو ہندءووں نے بھانپ لیا کہ کہ اب اس سیلاب کے آگے بند باندھنا مشکل ہےچنانچہ انہوں نے اپنے دفاع کے لئے پسپائ اختیار کی ایک طرف تو انہوں نے اپنے پرانے حکمرانوں یعنی مسلمانوں کی گرتی ہوئ دیواروں کو مزید دھکا دیا اور انگریزوں کا ساتھ دینے پہ آمادہ ہو گئے  اور دوسرےاپنے  سماج کو سدھارنے کے لئے نئ روشنی کو قبول کرنے پہ آمادہ ہو گئے اور ہندوستان میں ایسے اداروں کے قیام کے لئے سر گرم عمل ہوئے جن سے قدامت کے اندھیروں کو مٹایا جا سکے۔ اسکے نتیجے میں برہمو سماج تحریک نے جنم لیا اسکا مقصد ہندو مذہب میں مناسب تبدیلی سے سیاسی بہبود اور سماجی فلاح کی راہ ہموار کرنا تھا۔

تحریک کا جغرافیائ مرکز بنگال اور اس سے مسلکہ علاقہ رہا۔ اس تحریک  کے بانی اونچی ذات کے معزز برہمن ہندو راجہ رام موہن رائے تھے وہ سترہ سو چوہتر میں پیدا ہوئے۔ ان میں قدامت اور جدیدیت کا امتزاج موجود تھا۔ انکا خاندان پانچ پشتوں سے صوبہ ء بنگال میں مغلوں کے ساتھ تعلقات میں رہ چکا تھا۔ وہ ہندوستانی فلسفے کے عالم، سنسکرت، فارسی اور عربی کے ماہر اور ہندءووں اور مسلمانوں کے مشترکہ کلچر کی پیداوار تھے انہوں نے بت پرستی پہ براہ راست اعتراض کیا اور ستی کی رسم کو ممنوع قرار دینے کے لئے اس تحریک کو عملی طور پہ استعمال کیا۔ ستی ہندوءووں کی وہ رسم ہے جس میں بیوی کو اپنے مرے ہوئے شوہر کی لاش کے ساتھ زندہ جل کر مرنا ہوتا تھا۔ سن اٹھارہ سو تہتر میں جب لارڈ ایمبسٹ نے علوم شرقیہ کے فروغ کا منصوبہ بنایا تو انہوں نے اسکی مخالفت کی  کہ یہ وہ علوم ہیں جو یہاں دو ہزار سال پہلے سے رائج ہیں اسکے بر عکس انہوں نے ایک ایسے کالج کی تشکیل پر زور دیا  جس میں یوروپ کے تعلیم یافتہ اور قابل استاد مغربی علوم مثلاً طبیعیات، کیمیا، اور اناٹومی وغیرہ کی تعلیم دیں۔ انکی اس درخواست کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوئ لیکن انکے نئے خیالات کے بیج برگ و ثمر دینے لگے۔ اس تحریک کی اصلاحی کوششوں میں اسکی تعلیمی سرگرمیوں کو اہمیت دی گئ۔ قدامت پسندی کو رفع کرنے کے لئے مغربی سائینس اور انگریزی زبان کی تلقین کی گئ۔
راجہ رام موہن رائے اوائل عمری میں انگریزی اقتدار سے نفرت پہ مائل تھے. پلاسی کی جنگ میں انگریزوں کی کامیابی، انکے آبائ مقام سے ڈورئیے اور ململ کی صنعت کی تباہی، مفلس عوام کی زبوں حالی اور بنگال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار نے انہیں انگریزی حکومت سے نفرت پہ مائل کر دیا تھا۔  تاہم جب انہیں احساس ہوا کہ ہندوستان کے زوال کے اسباب اندرون ملک موجود ہیں تو انہوں نے نئے علوم کی ترویج کے لئے انگریزوں سے مفاہمت پیدا کی۔
انہوں نے اپنے خیالات کی ترویج  اور اشاعت کے لئے اور نئے تصورات کے فروغ کے لئے بنگالی زبان کا پہلا اخبار نکالا اور اس میں ہندوستانی نکتہ نظر پیش کیا۔ یہ اخبار اتنا موئثر ثابت ہوا کہ لارڈ منرو نے  اسکے خلاف اپنے شبہات کا اظہار کیا۔
اگر ساری رعایا ہماری ہم وطن ہوتی تو میں اخباروں کی انتہائ آزادی کو ترجیح دیتا۔ مگر چونکہ وہ ہمارے وطن نہیں اس لئے اس سے زیادہ خطرناک اور کوئ چیز نہِں۔
اسکے علاوہ انہوں نے ایک فارسی اخبار بھی نکالا ۔  اس طرح انہوں انگریز قوم کو مشرق کی عظمت، تہذیب، اور روحانیات سے آگاہی بخشی۔
اس تحریک نے ہندوستان کی مفلسی اور غلامی کو دور کرنے کے لئے مثبت کردار انجام دیا ۔   تحریک میں صرف وہ لوگ شامل ہو سکتے تھے جو خدائے واحد پہ یقین رکھتے ہوں اور بت پرستی سے نفرت کرتے ہوں۔ راجہ رام موہن رائے، اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ راسخ الاعتقاد ہندءووں کی شدید مخالفت کے باوجود اس تحریک نے صرف دو سال کے عرصے میں قدیم ہندو مت سے الگ ہو کر برہمو فرقے کی صورت اختیار کر لی۔ راجہ رام موہن رائے کا  انتقال اٹھارہ سو تینتیس میں ہوا۔
راسخ العقیدہ ہندو اس تحریک کے شدید مخالفین میں سے تھے۔ اسکے رد عمل میں آریہ سماج تحریک پیدا ہوئ جو ہندو مذہب کے احیاء کی تحریک تھی۔ یہ شاید ایک قدرتی رد عمل تھا۔ تمام مذاہب کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ جدیدیت کے مقابلے میں قدامت پسندی کے اس رجحان نے ہندوستانی قومیت کا جذبہ پیدا کیا۔ اور یوں جتنا انگریز حکومت اپنا تسلط مضبوط کرتی گئ اتنا ہی ہندو قدیم مذہب کے احیاء میں سنجیدگی اختیار کرتے گئے اس تحریک نے تدبر کے بجائے جبر اور عقل کے بجائے جوش کو استعمال کیا۔
برہمو سماج کی تحریک اگرچہ کہ بنگال تک ہی محدود رہی لیکن اس  نے ہندءووں کو مسلمانوں سے  سبقت لے جانے کا موقع فراہم کیا۔ کیونکہ مسلمانوں میں اس وقت تک اس چیز کا احساس ہی پیدا نہ ہو سکا تھا کہ وہ کیا عظیم نقصان ہے جس سے وہ دو چار ہونے جا رہے ہیں اور اگر کسی سطح پہ یہ عالم مایوسی میں موجود بھی تھا تو انکو یہ معلوم نہ تھا کہ اس سے بچاءو اور دفاع کس طرح ممکن ہے۔

ماخذ؛
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید، پبلشر انجمن ترقی اردو پاکستان۔