Showing posts with label سیاست. Show all posts
Showing posts with label سیاست. Show all posts

Tuesday, October 9, 2012

مفاد سے آگے

شادی کے کارڈز بانٹنا اور شاپنگ ، اس میں اتنی مصروف رہی کہ مجھے یاد ہی نہ رہا کہ آج آسٹریلیا اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ ہے۔ میں اپنی ساتھی خاتون کو نارتھ ناظم آباد چھوڑنے کے لئے جب فائیو اسٹار کے سگنل پہ پہنچی تو ٹریفک رکا ہوا تھا۔ رات کے سوا دس بج رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شادیوں کی ٹریفک کا رش ہے۔ کیونکہ اس طرف درجنوں شادی ہالز ایک قطار میں موجود ہیں۔ لیکن سگنل کھل کے ہی نہ دے رہا تھا۔
 پندرہ منٹ بعد مجھے فضا میں پاکستان کے جھنڈَے لہراتے نظر آئے اور کچھ لڑکے ادھر ادھر بھاگتے دکھائ دئیے۔  تھوڑی دیر بعد ہماری گاڑی چوک پہ لڑکوں کے ایک ہجوم کے درمیان، دوسری گاڑیوں کے ساتھ پھنسی ہوئ تھی۔ لڑکوں کی تعداد یہی کوئ ایک ڈیڑھ ہزار ہوگی۔ آتشبازی ہو رہی تھی، لڑکے ہارن بجا رہے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ انکے ذہن میں کوئ خاص پروگرام نہیں۔ بس ٹریفک کو روک کر انہیں مزہ آرہا تھا۔ اس اثناء میں ایک لڑکے نے عین گاڑی کے سامنے آکر پستول نکالا اور ہوائ فائرنگ شروع کر دی۔ آج بچ جائیں تو بڑی بات ہے۔ میں نے سوچا، اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا تو اس طرف کا رخ نہ کرتے۔
چالیس منٹ کے اس ہنگامے میں پھنسے رہنے کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ واپسی پہ میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ایک چیز جس نے میری توجہ لی وہ یہ کہ نوجوانوں کے اس منتشر، چارجڈ لیکن بے مقصد ہجوم میں کسی بھی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں تھا۔ صرف پاکستان کے تین چار جھنڈے نظر آئے۔ عجیب یوں لگی کہ اس سے پہلے نوجوان کوئ بھی موقع ہو ایم کیو ایم کا جھنڈا لانا فرض عین سمجھتے تھے۔
یہی نہیں اس سے دو دن بعد جب میں عزیز آباد کے قریبی علاقے میں گئ تو وہاں ایک پارک میں لوگوں کا ہجوم ایک بڑی سی اسکرین پہ میچ دیکھ رہا تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد ہجوم نعرے لگاتا اور جھنڈے لہراتا لیکن یہ جھنڈے صرف پاکستان کے جھنڈے تھے۔
کیا کوئ تصور کر سکتا ہے کہ کراچی میں ایسا ہو گا۔ ایسا کیوں ہوا؟
الیکشن ، مستقبل قریب میں متوقع ہیں۔ اس لئے اکثر لوگوں سے اس حوالے سے بات ہوتی ہے۔ کس جماعت کو ووٹ دینا چاہئیے اور کیوں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سب سیاستداں چور ہیں اس لئے ہم الیکشن والے دن بیلٹ پیپر پر مہر اس طرح لگائیں گے کہ وہ خراب ہو جائے اور کوئ ہماری جگہ جعلی ووٹ نہ ڈال سکے۔
میں نے پوچھا کہ اس سے کیا ہوگا؟ ووٹ کی گنتی ہوگی تو وہ امیدوار جیت جائے گا جسکے سب سے زیادہ ووٹ ہونگے چاہے اسے پانچ سو ووٹ ملیں۔
ایم کو ایم کو اس صورت حال کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟
 اس کی وجوہات اتنی واضح ہیں کہ  عقل و خرد سے عاری شخص بھی بتا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے حامی کو اب ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کوئ فرق نظر نہیں آتا۔  سب چور ہیں ، سب اپنی تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت پہ مفاد پرست طبقے کا قبضہ ہے۔ یہ مفاد پرستی، ذاتی مالی مفاد سے جڑی ہے۔  جب ایم کیو ایم کا نام آتا ہے تو بابر غوری جیسے نام آتے ہیں جو پارٹی میں شامل ہوئے تو کیا تھے اور آج انکی جائدادیں امریکہ میں موجود ہیں۔ 
یوں جاگیرداری اور معاشرے کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والے خود جاگیر داری کے نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان کی ہر دوسری سیاسی جماعت کی طرح، ایم کیو ایم نے بھی اپنے تھنک ٹینک یعنی حلقہ ء دانشوراں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی سیاست کی راہ اپنا لی۔ یہ سیاست کا اگرچہ ایک آسان راستہ ہے لیکن بھونڈا راستہ ہے اور جمہوری روح سے دورہے۔ مفاد پرست طبقہ ایک شخصیت کو خوش کر کے فائدے اٹھاتا ہے۔ اس طرح سے جمہور کی آواز کہیں دور رہ جاتی ہے۔
تنظیم نے جس شخصیت کومرکزی شخصیت کے طور پہ چنا وہ اس ملک کی سرحدوں میں ایک طویل عرصے سے نہیں آیا۔ انہیں یہاں کے بارے میں جو بھی اطلاع ملتی ہے وہ کسی کے ذریعے سے ملتی ہے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ مصطفی کمال کے بنائے ہوئے پلوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کر کے کیا سے کیا کر دیا ہے۔ اڑتی خبریں ملتی ہیں کہ وہ خود ہوش و خرد سے عاری ہو چکے ہیں۔ اور در حقیقت اس وقت تنظیم کو پاکستانی ایجنسیز چلا رہی ہیں۔
اس وقت تنظیم کو لائق اور عالم افراد کے قحط کا سامنا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسے لوگوں کی شمولیت کو دیکھا جانا چاہئیے جو کہ زندگی کے مختلف میدانوں مِن مہارت رکھتے ہوں تاکہ ہمیں امید ہو کہ افراد کا یہ مجموعہ ہمارے مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوگا۔  زیادہ تر افراد جو تنظیم کی سیکولر پالیسی کی وجہ سے اس سے بہتر امیدیں رکھتے تھے اب اس سے دور ہو چکے ہیں۔ اس طرح سے ایم کیو ایم بحیثیئت ایک سیاسی جماعت کراچی کے نوجوانوں کو کوئ مثبت امید ، راستہ اور سرگرمی دینے میں آہستہ آہستہ ناکام ہو رہی ہے۔ اور اسکی یہ ناکامی، نوجوانوں کو دوسری انتہا کی طرف لے جارہی ہے جو کہ مذہبی انتہا پرستی ہے۔
تنظیم کو اس حقیقت کو تسلیم کرکے مثبت سمت میں کام کرنا چاہئیے۔ انہیں اب اس چیز کو بھی تسلیم کرنا چاہئیے کہ محض پیپلز پارٹی سے اچھے تعلقات استوار کر کے یا صدر زرداری کو خوش رکھ کر یہ ممکن ہے کہ وہ آئیندہ الیکشن میں اسمبلی کے اندر اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں، ممکن ہے انہیں مالی مفادات مل جائیں لیکن اس سے وہ عوامی سطح پہ اپنی حیثیئت کم کرتے جا رہے ہیں۔
مجھے اپنے سیاستدانوں کی اس کوتاہ اندیشی پہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ محض اپنے مالی مفاد کو محفوظ کرتے ہوئے اپنے  زیادہ فائدہ مند مستقبل کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے مالی مفاد میں تھوڑی سی کمی لے آئیں اور اسے عوامی فلاح پہ خرچ کریں تو وہ ایک لمبی مدت تک عوامی پذیرائ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور زیادہ کما سکتے ہیں۔
بہر حال، باقی سب سے قطع نظر ایم کیو ایم کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ ایسے ملک میں جہاں سیاست پہ جاگیردار کا سب سے بڑا حق ہے اور جہاں یہ جاگیردار، ملک کی مضبوط طاقت یعنی فوج سے بھی مضبوط روابط رکھتا ہے۔ وہاں وہ اپنی بقاء کی جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں لڑ سکتی۔ لیاری امن کمیٹی، اسکا سب سے بڑا ثبوت ہے۔  جو منظر پہ اچانک ابھری اور اب کراچی کے امن و امان میں اپنا حصہ رکھتی ہے یعنی جب چاہے اس شہر کا امن ہلا سکتی ہے حالانکہ اسکا اثر لیاری سے آگے نہیں۔ 
سو انہیں عوام کے لئے کام کرنا پڑے گا، انہیں ترجیح دینی ہوگی اور تنظیم کو مفاد پرست طبقے سے ہی نہیں شخصی سیاست سے بھی باہر نکالنا ہوگا۔ انہیں دلجمعی سے ایک حلقہ ء دانشوراں قائم کرنا ہوگا جسے سوچ وبچار کی آزادی دینی ہوگی۔ لیکن  اگر وہ ریاستی قوتوں سے ہڈی لے کر اس سے خوش ہیں تو یاد رکھیں کہ کل وہ باہر ہونگے جبکہ دیگر طاقتیں اسی طرح کھیل میں شامل رہیں گی جیسے وہ پچھلے تریسٹھ سال سے ہیں۔

 

Saturday, September 22, 2012

کیا واقعی؟

اب کچھ بھی لکھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ رسول اللہ پہ بنائے جانے والی فلم کے متعلق میرا کیا خیال ہے۔
 ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں کسی بھی قسم کا فضول مواد نیٹ پہ ڈالنا کسی بھی شخص کے لئے کوئ مشکل کام نہیں۔ اسکی مثال وہ فحش مواد ہے جو خود مغربی معاشرے کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں۔
ہمارے یہاں اس فلم کے اوپر غم غصے کا ہونا بجا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام  کے پیغمبر، کوئ تصوراتی شخصیت نہیں ہیں۔ انکی یہی خوبی جہاں ایک مسلمان کے لئے بے حد کشش کا باعث بنتی ہے وہاں نہ ماننے والوں کے لئے تنازعوں کا کھڑا کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔
میرے نزدیک یہ فلم  آزادی ء اظہار رائے کے ضمن میں نہیں آتی بلکہ اسکا تعلق ہیٹ میٹیریئل یعنی نفرت انگیز مواد سے ہے۔  سو اس سلسلے میں مسلمانوں کا یہ مطالبہ اپنی جگہ درست ہے کہ اسے نیٹ پہ سے ہٹایا جائے کیونکہ یہ مسلم دنیا سے نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ اور جب تک اسے نیٹ پہ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ مسلم دنیا یہ تسلیم کرنے میں حق بجانب رہے گی کہ یہ نفرت انگیز مواد ، مسلم دنیا کو مشتعل کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔
مسلم دنیا  اس سلسلے میں کیا کر سکتی ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔ ایک اجتماعی حل تو یہ ہے  کہ تمام مسلم ممالک کو اس سلسلے میں متحد ہو کر کسی ایسے بین الاقوامی قانون کے لئے کوشش کرنی چاہئیے جس سے اس قسم کے نفرت انگیز مواد کا پھیلاءو ممکن نہ رہے۔ 
لیکن اس سے پہلے ہمیں بحیثیئت پاکستانی خود سے بھی پوچھنا چاہئِے کہ کیا ہم دوسرے مذاہب کی تکریم کرتے ہیں۔ کیا ہم دوسرے انسانوں کو یہ آزادی دیتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب پہ جیسے دل چاہے عمل کریں۔
کل میری نظر ایک مضمون پہ سے گذری جو کسی مغربی لکھاری کا لکھا ہوا تھا اور انہوں نے اس میں بے شمار چیزیں گنوائیں جو مسلمان ، غیر مسلموں کے لئے کہتے ہیں اور جو نفرت انگیز مواد میں شامل ہونا چاہئیے۔ جب ہم دل آزاری کے اس مرحلے سے بغیر کسی قباحت کے گذر جاتے ہیں تو اپنی باری میں پہ ہم کیوں پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رسول کی تکریم ہو تو ہمیں اپنے اعمال کی بھی نگہداشت کرنی چاہئیے۔

ON CHRISTIANS Hasan Rahimpur Azghadi of the Iranian Supreme Council for Cultural Revolution: Christianity is “a reeking corpse, on which you have to constantly pour eau de cologne and perfume, and wash it in order to keep it clean.”http://www.memritv.org/clip/en/1528.htm — July 20, 2007.

Sheik Al-Khatib al-Baghdadi: It is permissible to spill the blood of the Iraqi Christians — and a duty to wage jihad against them.http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/0/5200.htm — April 14, 2011.

Abd al-Aziz Fawzan al-Fawzan, a Saudi professor of Islamic law, calls for “positive hatred” of Christians. Al-Majd TV (Saudi Arabia),http://www.memritv.org/clip/en/992.htm — Dec. 16, 2005.

ON SHIITES The Egyptian Cleric Muhammad Hussein Yaaqub: “Muslim Brotherhood Presidential Candidate Mohamed Morsi told me that the Shiites are more dangerous to Islam than the Jews.” www.memritv.org/clip/en/3466.htm — June 13, 2012.

The Egyptian Cleric Mazen al-Sirsawi: “If Allah had not created the Shiites as human beings, they would have been donkeys.” http://www.memritv.org/clip/en/3101.htm — Aug. 7, 2011.

The Sipah-e-Sahaba Pakistan video series: “The Shiite is a Nasl [Race/Offspring] of Jews.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6208.htm — March 21, 2012.

ON JEWS Article on the Muslim Brotherhood’s Web site praises jihad against America and the Jews: “The Descendants of Apes and Pigs.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6656.htm — Sept. 7, 2012.

The Pakistani cleric Muhammad Raza Saqib Mustafai: “When the Jews are wiped out, the world would be purified and the sun of peace would rise on the entire world.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6557.htm — Aug. 1, 2012.

Dr. Ismail Ali Muhammad, a senior Al-Azhar scholar: The Jews, “a source of evil and harm in all human societies.” http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6086.htm— Feb. 14, 2012.

ON SUFIS A shrine venerating a Sufi Muslim saint in Libya has been partly destroyed, the latest in a series of attacks blamed on ultraconservative Salafi Islamists.http://www.bbc.co.uk/news/world-africa-19380083 — Aug. 26, 2012.


عوام کی مذہب کے نام پہ  سلطان راہی بننے کی لگن دیکھتے ہوئے سیاستداں بھی اس سے کم فائدہ نہیں اٹھاتے۔ کیونکہ مذہب کا نام لے کر کسی کو قتل کر دیں یا کسی کی زمین چھین لیں یا کسی کو قید کرا دیں یہ کوئ مشکل کام نہیں۔ معاشرہ بھی اسے برا نہیں سمجھتا۔ جو اس چکر میں پھنستا ہے اسکی جاں بخشی اس ملک کی سرحدوں کے باہر ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ سو وہ لوگ جو آجکل خواب میں بھی اپنے ہاتھ میں تلوار اور سامنے گستاخ کا سر دیکھتے ہیں انکو بلور صاحب نے پیغام دیا ہے کہ گستاخ فلم بنانے والے کے سر کی قیمت انہوں نے رکھ دی ہے۔ جسے ہو شوق جائے کرے شکار اسے۔ اس طرح صوبہ ء سرحد میں موجود طالبان کو انہوں نے ایک سخت چیلینج دیا ہے۔ دیکھتے ہیں طالبان  کیا زیادہ سخت سزا اس گستاخ کے لئے رکھتے ہیں۔ بلور صاحب سے معذرت کے ساتھ کیا یہ پیغام تشدد، شدت پسندی اور نفرت انگیز جذبات کو ہوا دینے والا نہیں ہے۔
ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ مغربی ممالک میں کئ دہائیوں سے بسنے والے لوگوں کی زندگی کیا ان مغربی لوگوں نے اجیرن کی ہوئ ہے۔ کیا وہ انکے سامنے انکے نبی کی توہین کرتے ہیں۔ مجھے آج تک کوئ ایک شخص مغرب میں ایسا نہیں ملا جس نے مجھ سے میرا مذہب پوچھا ہو یا میرا مذہب جاننے کے بعد کوئ توہین آمیز ریمارک دیا ہو۔
کسی بھی ایسے گستاخ کے سر کی قیمت رکھ کر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں پاگلوں کی کمی نہیں۔ کیا سلمان رشدی کے سر کی قیمت رکھنے کے بعد لوگوں نے مرنے کے ڈر سے گستاخی کرنے کی جراءت نہیں کی؟
مجھے یقین ہے کہ یہ اس سلسلے کا آخری واقعہ نہیں ہوگا جیسا کہ مجھے کارٹونز والے معاملے میں بھی یقین تھا کہ یہ سلسلہ ایسے نہیں رکے گا۔
  اب ہم پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ کل ہمارے یہاں یوم عشق رسول  ایسے منایا گیا کہ لوٹ مار کے واقعات کے ساتھ چھبیس افراد اپنی جان سے گئے۔ یہ وہ بے گناہ ہیں جنہیں کوئ شہید بھی نہیں کہتا۔ مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں نے اس پہ مذمت سے زیادہ اس پہ مذمت کی کہ میڈیا نے پر امن ریلیوں کی کوریج کے بجائے ہنگامے کی کوریج زیادہ کی۔ مجھے جس چیز پہ انتہائ افسوس رہا وہ یہ کہ سوائے فضل الرحمن صاحب کے کسی اور مذہبی تنظیم نے جاں کے زیاں پہ اپنے افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ حتی کہ سوشل میڈیا پہ موجود دائیں بازو کا پروپیگینڈہ کرنے والوں کی اکثریت اس وقت ایسے خاموش ہوئ جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ جیسے یہ واقعہ پاکستان میں نہیں مریخ پہ پیش آیا ہو، جیسے مرنے والے ہمارے ہم مذہب اور ہم وطن نہیں بلکہ کسی جنگل میں شیر اور ہاتھی کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں کچلی ہوئ گھاس تھے۔
آخر یہ کیسے ہوا کہ اتنے لوگ ہلاک ہو گئے؟
ایک اسٹیٹس میری نظر سے فیس بک پہ گذرا۔ جس میں لکھنے والے نے لکھا کہ ریلیاں انتہائ پر امن تھی۔ ان میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے لیکن معاملہ ان جگہوں پہ خراب ہوا جہاں افغان مہاجرین نے ریلیوں میں شرکت کی۔ یہ افغان توڑ پھوڑ اور ہلاکتوں میں شامل تھے۔ اسکے ساتھ ہی اسلام آباد کے ہنگامے کی تصویر تھی۔
تب مجھے یاد آیا کہ بے نظیر کے مرنے پہ کراچی میں ملیر کے علاقے میں سب سے زیادہ ہنگامہ ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ انکے گھروں میں گھس کر نہ صرف لوٹ مار کی گئ بلکہ خواتین کو اٹھا لیا گیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا ذمہ دار افغان مہاجرین کو بتایا۔
ادھر کراچی میں میری آج ایک صاحب سے بات ہوئ جو حافظ قرآن ہیں اور لیاری کے علاقے میں رہتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ عینی گواہ ہیں کہ کل صدر کے علاقے میں جو لوٹ مار اور جلاءو گھیراءو ہوا وہ لیاری کے امن کمیٹی والوں کا کیا دھرا ہے۔  چند سال پہلے بھی کراچی پیپر مارکیٹ میں آگ لگانے کا ذمہ دار امن کمیٹی کو بتایا گیا تھا۔ حتی کہ اس وقت کی جانے والی لوٹ مار کا سامان بعد میں لیاری کے ایک گودام سے بر آمد بھی کیا گیا۔ یہ پیپر مارکیٹ صدر کے ساتھ ہی ہے۔
 میں نے حیران ہو کر ان صاحب سے پوچھا، لیکن میڈیا اس سلسلے میں کچھ نہیں بتا رہا اور امن کمیٹی والوں کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق؟
کہنے لگے، امن کمیتی کی خبریں میڈیا نہیں دے سکتا۔ مزید یہ کہ  یہ سب ایجنسیز یعنی پاکستانی فوج کے ایماء پہ ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام مذہب کے نام پہ بڑھکوں اور قتل و غارت گری سے بھرپور ڈرامہ دیکھ کر اپنا خون گرم رکھے۔ کیونکہ وہ ایک طرف عوام کو مذہب کے نام پہ طیش میں لاتے ہیں اور دوسری طرف امریکہ بہادر کو جتاتے ہیں دیکھا، ہم نے کتنی مصیبتیں جھیل کر آپکو اپنے علاقے میں تحفظ دیا ہوا ہے۔ اور آپ ہمارے لئے کیا کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف فوج بلکہ حکومت کے بھی پو بارہ ہیں۔
سوسائٹی میں وہ جن لوگوں کو استعمال کر سکتے ہیں انہوں نے کیا، ایک طرف افغان ذرائع انکے قابو میں  دوسری طرف کراچی میں جو قوتیں انکے قابو میں ہیں ان سے بھی حتی الامکان کام لیا ہے۔ مذہبی جماعتیں جہاد کے نام پہ انکے قابو میں ایسے آتی ہیں جیسے تر نوالہ۔
مجھے تو انکی بات پہ شبہ ہی تھا یہ تو آئے دن کا معمول ہے کہ جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ اس میں ایجنسیز شامل ہیں۔  لیکن آج صبح جب میں نے کیانی صاحب کا یہ بیان ٹی وی پہ سنا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے تو میں نے سوچا کہ جہاد اور جنگ میں معمولی سا فرق ہے وہ چاہتے تو اوبامہ کی طرح لفظ جنگ استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن در حقیقت اس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا خدا حافظ اور اللہ حافظ میں ہے۔ عوام کو کتنی آسانی سے سمجھ میں آیا کہ اللہ حافظ سے ہی اللہ ہمیں حفاظت دے گا۔ کیونکہ مسلمانوں کے خدا کا نام اللہ ہے۔ خدا تو ہر کس و ناکس کا ہو سکتا ہے۔ ہر کسی کا خدا خاص امت کا خدا کیسے ہو سکتا ہے۔ کیانی صاحب نے بڑا ناپ تول کر بولا۔
یہ پاک فوج ہے جس نے مذہبی شدت پسندی کا بیج بویا، اسکی آبیاری کی، اسے تناور بنایا، اسکے سائے میں بیٹھ کر اپنے لئے گلشن بنائے اور اب بھی اسکا کردار شفافیت سے محروم ہے۔ 
کیا واقعی؟ پاکستانی فوج  اب تک اس نشے کا شکار ہے کہ وہ بوتل کے جن کو جب چاہے گی اندر کر لے گی اور جب چاہے گی باہر کر لے گی۔ وہ جب چاہے گی مولوی صاحب کی خدمات حاصل کرے گی اور جب چاہے گی مولوی صاحب کو ایک طرف کر دے گی۔ کیا مولوی صاحب اتنے ہی بے وقوف ہیں؟

Wednesday, April 11, 2012

زندہ رشوت، مردہ بخشش

ہمارے 'محبوب صدر' نے  جب بن بلائے مہمان کے طور پہ بھارت جانے کا قصد کیا تو  دشمنوں نے جو اللہ کے کرم سے انکے کم نہیں، جس میں انکی شکل کا کم اور عقل کا حصہ زیادہ نظر آتا ہے۔  ان پہ الزام لگایا کہ وہ بھارت سے کوئ خفیہ ڈیل کرنے جا رہے ہیں۔
اگرچہ انہوں نے بار بار کہا کہ انکے اس دورے کا مقصد اجمیر شریف کی زیارت کے علاوہ کچھ نہیں ، جہاں وہ اپنی بیگم کی منت پوری کریں گے۔ ارے جناب، تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں اور یہ سیاستداں بھینگے کی۔ جس طرف کی دکھاتے ہیں اس طرف مقصود نہیں ہوتا۔ 
 ڈرانے والے تو انہیں کئ بار ڈرا چکے ہیں کہ مرنے والوں کا اتنا تذکرہ اچھا شگن نہیں۔ اگر مرنے والے نے بھی انہیں اس شدت سے یاد کیا تو  اس ملک کا، پیپلز پارٹی کا اور ننھے بلاول کا کیا ہوگا۔ لیکن  زرداری صاحب  بھی اپنے نام کے ایک ہی ہیں۔ ایک دفعہ ٹھان لی تو بس انڈیا جا کر ہی دم لیا۔ یہی نہیں جتنا لمبا دورہ مقصود تھا اتنا ہی رکھا اس میں وطن میں سو سے زائد فوجیوں کی سیاچن حادثے میں ہلاکت بھی رخنہ نہ ڈال سکی۔ وہ جانتے ہیں موت کا ایک دن مقرر ہے اور اجمیر شریف وہی جاتا ہے جسکا بلاوا آتا ہے۔
اسکی وجہ کچھ دل جلے یہ بتاتے ہیں کہ اب انکے مسائل کا حل نہ سپریم کورٹ کے پاس ہے نہ سوئس بینکوں کے پاس ، اب اگر انکے مسائل کا حل کسی عالم گوگیا پاشا کے پاس ہی ہے۔  بڑے لوگوں کی باتیں بڑی۔ اگر انکو کوئ بتا دے کہ آپ کسی کار کے حادثے میں کریں گے تو وہ دعا کریں گے کہ لیموزین جیسے ماڈل کی نئ کار ہو۔
اس لئے ملکی روحانی باباءوں کو انہوں نے بنظر حقارت  بھی نہ دیکھا۔  حتی کہ ہمارے ملک میں جہاں مزاروں اور مجاوروں کی کمی نہیں۔ وہ خود ایک سیاسی خاندان کے مجاور ہیں، انکے وزیر اعظم ایک روحانی خاندان کے مجاور۔ ہر دو خاندان کی سیاسی اور روحانی طاقت اتنی زیادہ ہے کہ مخالفین ایڑی چوٹی کا زور لگا دینے کے باوجود انکی شہرت میں کوئ کمی نہ لا سکے۔ مزاروں کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ زندہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
خیر، اس سب کے باوجود قرعہ ءفال اجمیر والوں کے نام کیوں نکلی؟
 محبوب صدر کا کہنا ہے کہ بیوی کی منت پوری کرنے آئے ہیں۔ ایک ایسے نازک وقت میں جب کہ ملک کا ملک انکے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے وہ پرائے دیس میں کیوں فاختائیں اڑا رہے ہیں اسکا جواب تو خلیل خاں ہی دے سکتے ہیں یا وہ۔ فی الوقت تو ان کے ہم وطن ااس ایک کروڑ ڈالر یعنی تقریباً نوے کروڑ کی رقم پہ طعنہ زن ہیں جو انہوں نے اجمیر کے مزار کے نام کی ہے۔ اگر یہ رقم وہ وطن میں ان زندہ لوگوں کے نام کر دیتے جن پہ دن بہ دن انکی ناکام طرز حکومت کی وجہ سے زندگی کے دروازے بند ہو رہے ہیں تو شاید انہیں اجمیر شریف جانے کی ضرورت پیش نہ ہوتی جو زندہ لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں انہیں مُردوں سے مدد نہیں چاہئیے ہوتی ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مرنے کے بعد انہیں پاکستان میں شاید دو گز زمین نہ ملے، اس لئے اپنے لئے اجمیر میں بعد از مرگ زمین ان پیسوں کے عیوض بک کرائ ہے۔ تاکہ اس مجاور کا مزار وہاں بنے۔  ارے نہیں صاحب،  زمین نے کوئ گناہ ثواب کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا۔ سبھی اس کے کنوئیں میں جاتے ہیں۔ خاک وہیں پہنچتی ہے جہاں کا خمیر ہوتا ہے۔ کیا چشتی صاحب انکی ہمراہی قبول فرمائیں گے؟
یہ اجمیر والے بزرگ معین الدین چشتی  جو ہیں انہوں نے کاہے کو انہیں بلاوا بھیجا  اسکا بھی اندازہ نہیں۔  لوگوں کا اندازہ ہے کہ اللہ والوں کی بھی شاناں ہوتی ہیں۔ جسے نواز دیں۔ بس ایسی ہی باتوں سے اللہ والوں سے دل ہٹ سا جاتا ہے۔ خیر ایک معتقد نے بتایا کہ کچھ دنوں کے لئے ملک کو نحوست سے پاک کرنے کے لئے چشتی صاحب نے ایسا کیا باقی دنوں کے لئے کیوں نہیں کیا، ان مخصوص دنوں میں کیا بات تھی؟
کیا اجمیر کے مزار میں قیام پذیر چشتی صاحب، زرداری صاحب کا یہ دان قبول کر لیں گے یا انکے منہ پہ دے ماریں گے۔ اسکا نتیجہ بھی وقت ہی بتائے گا۔
ابھی یہ نہیں معلوم کہ زرداری صاحب نے یہ پیسے اپنی ذاتی جیب سے دئیے ہیں یا ہمارے ٹیکس سے۔ اگر ہمارے ٹیکس سے دئیے ہیں تو کم از کم مجھے احتجاج کا حق حاصل ہے۔ میں نے انہیں ٹیکس کی صورت میں یہ رقم اس مقصد کے لئے نہیں دی تھی۔
ہمارے شہزادے بلاول بھی والد صاحب کے ہمراہ تھے۔ سنا ہے کہ وہاں کے شہزادے راہول گاندھی کو انہوں نے اپنی سلطنت آنے کی دعوت دی ہے۔ انہیں آنا بھی چاہئیے یہ دیکھنے کے لئے ہم پاکستانی کتنے بڑے دل کے مالک ہیں کہ اپنے بچے مار کر دوسروں کے مزاروں پہ چڑھاوے چڑھاتے ہیں اس لئے کہ ہم منت کی صورت میں کئے جانے والے وعدے سے نہیں پھر سکتے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ووٹ کی صورت میں کئے گئے وعدے اوراعلی عہدے پہ لئے گئے حلف کی ہماری نظر میں کوئ اہمیت نہیں ہوتی۔
 بس یونہی خیال آرہا ہے، سیاست میں تصوف تو ہوتی ہے کیا تصوف میں سیاست ہوتی ہے؟ کیا معین الدین چشتی صاحب رشوت لیتے ہیں؟
  

Monday, February 27, 2012

ایک شہر، تین اجتماعات

ابھی تقدس سے باہر کے لئے لکھی گئ ایک تحریر کے حوالہ جات کو ایک آخری نظر سے دیکھنا چاہ رہی تھی کہ اس اتوار کے ندیم ایف پراچہ کے مضمون پہ نظر پڑ گئ۔ مضمون مزے کا تھا۔ 
گذشتہ دنوں کراچی میں چند دلچسپ اجتماعات ہوئے۔ ایک  کراچی لٹریچر فیسٹیول،  اسکے متوازی چلنے والا دوسرا دفاع پاکستان کا اجتماع اور تیسرا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کے لئے کیا گیا پہلا اجتماع۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں کیا کہوں، کراچی کے سب سے پوش علاقے ڈیفینس ہاءوسنگ سوسائیٹی کے بھی ایک دور افتادہ  کونے میں منعقدہ کسی تقریب کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسکے منعقد کرنے میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی کوئ ایرا غیرا نتھو خیرا ایسا اس میں  نہ آجائے جس کا ہائ کلاس سے کوئ تعلق نہ ہو، اردو لکھنے پڑھنےوالے اس سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے ، ایسا نہ ہو کہ عام لوگوں کو اس سے کوئ انسپیریشن حاصل ہو جائے یا یہ کہیں واقعی پاکستان میں لٹریچر کو عام نہ کر ڈالے۔ اور صورت حال کچھ ایسی بنی رہتی ہے  کہ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔ وہ تو تقریب کے احوال اردو میں اتنی تفصیل سے نہیں پہنچ پاتے اس لئے لوگوں کو پتہ نہیں چل پاتا کہ اس بہانے کیسے کیسے غیر ملکی ایجنٹ ہمارے یہاں گھوم پھر کر چلے جاتے ہیں۔
دوسرا اجتماع دفاع پاکستان والوں کا تھا۔  
مقام تھا اسکا قائد اعظم کا مزار۔ خدا جانے کیوں چونسٹھ سال کے بعد قائد اعظم کے سر پہ سب سوار ہونے کو تیار ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سب کیا دھرا انہی کا تھا اس لئے مر کر بھی چین نہیں پا سکتے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بہت پاءوں پھیلا کر سو لئے کنج مزار میں۔  ایک کے بعد ایک اجتماع وہیں ہو رہا ہے۔ اب انہیں بھی لگ پتہ گیا ہوگا  بالکل براہ راست کے پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔
دفاع پاکستان کے متعلق میرا خیال تھا کہ جماعۃ الدعوۃ والے کر رہے ہیں۔ جی وہی جماعت جس پہ حکومت کی طرف سے پابندی ہے۔ پھر شہر میں لگے اشتہاروں سے پتہ چلا کہ جماعت اسلامی والے بھی شامل ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ شیخ رشید جیسی سیاسی ہستی  اور اعجاز الحق بھی تشریف لا رہے ہیں۔
اوہ تو یہ آئ ایس آئ والوں کا جلوہ ہے۔ میں نے ہی نہیں بیشتر دیگر لوگوں نے بھی یہی خیال کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم میں کوئ غیر معمولی ذہانت پائ جاتی ہے۔ بلکہ آپ نے اس سکھ کا لطیفہ تو سنا ہوگا جو ایک الماری پہ فدا ہو گیا تھا۔ لیکن دوکاندار اسے دینے کو تیار نہیں تھا کہ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ پھر اسکے بعد وہ کئ دفعہ ہندو ، عیسائ اور مسلمان کے بھیس بدل کر اسکے پاس پہنچا۔ لیکن ہر دفعہ اس نے ایک ہی جواب دیا۔ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ 'او تجھے پتہ کیسے لگ جاتا ہے کہ میں سکھ ہوں'۔ سکھ نے عاجز آکر پوچھا۔ 'تم ہر دفعہ فریج کو الماری کہتے ہو'۔ دوکاندار نے عجز سے جواب دیا۔
دفاع پاکستان میں ہونا کیا تھا وہی پاکستان کے دشمنوں کی آنکھیں پھوڑ دینے کا دعوی، جبکہ یہاں ابھی ہمیں ہی کچھ نظر نہیں آرہا۔ تاریخ سے گن گن کر ان واقعات کے حوالے جن سے خون میں ویسا ہی ابال پیدا ہو جیسا باسی کڑھی میں پیدا ہوتا ہے۔  اور پھر انتقام در انتقام سے انکی بینڈ بجانے کا تہیہ۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم ، یہاں بینڈ سے کیا مراد ہے۔
اس اجتماع میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، اسکی وجہ یہ تھی کہ لٹریچر فیسٹیول والوں کے مقابلے میں دفاع پاکستان والوں کو اپنے پیغام کے عام ہونے کا کوئ خوف نہ تھا۔ حالانکہ انکا پیغام سنا ہے کہ حرف بحرف نفرت کا پیغام تھا۔ لیکن اسے سننے کے لئے لوگ ون ڈی، ٹو کے اور ڈبلیو گیارہ جیسی بسوں سے بآسانی پہنچ سکتے تھے۔ حتی کہ جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے وہ بھی اس جگہ سے اسے سنے بغیر نہیں گذر سکتے تھے۔ تقریریں کرنے والے اور سننے والے انگریزی نہیں اردو میں رواں تھے۔ کیونکہ انکی دل سے خواہش تھی کہ وہ جس جذبے سے بول رہے ہیں وہ جذبہ انکے سامعین کے رگ و ریشے میں اتر جائے اور جب جلسہ ختم ہو تو یہاں موجود ہر شخص ایک مرد مجاہد ہو۔ موسیقی سے اجتناب کیا گیا اور صرف اپنی بغلیں اور دوسروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پہ ہی اکتفا کیا گیا۔ 
سب سے اہم بات یہ تھی کہ جلسے کی پوری کارروائ میں ایک بھی خاتون موجود نہ تھی۔ دفاع جیسا اہم موضوع خواتین کی سمجھ میں کیا خاک آئے گا۔ انہیں تو اپنے دفاع کے لئے بھی بچاءو بچاءو کا نعرہ بلند کرنا پڑتا ہے۔ پھر اللہ کا کوئ بندہ انکا دفاع کرتا ہے یہ الگ بات کے اللہ ہی کا ایک اور بندہ انہیں مورچہ بند ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔ یوں اگر خواتین کے دفاع کی بات ہو رہی ہو تو بھی کہانی آخیر میں دو مردوں کے درمیان جنگ کی صورت بن جاتی ہے۔
قسمت کی یہ ستم ظریفی کراچی جیسے ظالم شہر میں ہی نظر آسکتی ہے کہ کہاں تو ایک مقام پہ خون کی ندیاں بہائ جا رہی تھیں کہاں اسی مقام پہ ایک ہفتے بعد بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔  میں تو بھنگڑے جیسا محتاط لفظ استعمال کر رہی ہوں لیکن لوگوں کے خیال میں اس کے لئے درست لفظ مجرا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مرد اگر مجرا کر رہے تو بھی کبھی وہ محفل سماع جیسا نیک نام حاصل کرتا ہے، کبھی جدید موسیقی جیسے راک اینڈ رول کہلاتا ہے  یا کبھی شغل اور لوک ڈانس  وغیرہ کہلاتا ہے مثلاً خٹک ڈانس، بھنگڑا۔ اً لیکن خواتین اگر شغلاً بھی ہاتھ پیر ، کولہے ہلا لیں مثلاً لڈی بھی ڈال لیں تو اسے مجرے جیسا پُر شوق نام کیوں دیا جاتا ہے؟
اچھا بہر حال ناقدین کی نظر میں خواتین کا مجرا کرایا گیا ۔ کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ وہ بھی ننگے سر۔ یعنی اگر سر پہ دوپٹہ ہوتا تو اتنا مکروہ نہ ہوتا۔
بہر حال جلسہ کیوں کہ خواتین سے متعلق تھا اس لئے جو رنگینی اس میں نہ ہوتی وہ کم ہوتی کہ وجود زن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ۔ دفاع پاکستان کے خون کے دھبے دھونے کے لئے یا یہ کہ منتظمین نے دفاع پاکستان والوں کے سینے پہ مونگ دلنے کے لئے خواتین کو اسی مقام پہ چوڑیاں بیچیں، پہنائیں اور مہندیاں بھی لگوائیں۔
پونے دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر کی خواتین کی توجہ حاصل کرنا ایک  نئے رجحان یا تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیاں اس بات پہ متفق ہوتی ہوں کہ  ملک کے بعض حصوں میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ اس میں مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئ والے بلکہ اے این پی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہاں خواتین کی بحیثیت ووٹر آءو بھگت ہونا اانکے لئے خاصہ پر جوش ہے۔
خواتین کے مسائل کے حوالے سے اگرچہ کچھ زیادہ نہیں کہا گیا۔  جلسہ کراچی میں ہوا تھا اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے جو مختلف صنعتوں میں نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ گھریلو صنعتیں بھی چلا رہی ہیں۔ انکے مسائل بھی اسی حساب سے ہیں۔  بہر حال ہم اس آواز میں شامل ہیں  کہ خواتین پہ تیزاب پھینکنے والوں کے لئے سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونی چاہئیے۔
اچھا تو ان تین اجتماعات کے بعد میں کیا سوچ رہی ہوں؟ بس یہ کہ خواتین اور مرد وں کے دلوں تک پہنچنے کے لئے کتنے مختلف راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ کیا کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے یہ دونوں راستے بیک وقت اختیار کرنا ممکن ہے؟

Thursday, November 17, 2011

لبیک یا کپتان

ضیاء الحق کے دور میں جلا وطنی اختیار کرنے والی پیپلز پارٹی کی رہنما خاتون جب انیس سو اٹھّاسی میں وطن واپس آرہی تھیں تو پاکستان میں یہ نعرہ گونج رہا تھا۔ بے نظیر آئے گی انقلاب لائے گی۔ جس وقت بے نظیر نے لاہور ائیر پورٹ پہ قدم رکھا۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی جو نعرہ لگا رہی تھی۔ بے نظیر آئ ہے انقلاب لائ ہے۔ بے نظیر آئیں، دو دفعہ حکمرانی پہ فائز ہوئیں، اور اس دنیا سے چلی بھی گئیں۔ انقلاب نہ آنا تھا نہ آیا۔ نعرے لگوانے والے اپنا اپنا حصہ لے کر الگ ہوئے اور نعرہ لگانے والے پھر ایک کنارے بیٹھ گئے کہ کب انکی ضرورت دوبارہ پڑتی ہے۔
وطن عزیز میں ایک دفعہ پھر اسی قسم کے نعروں کا زور ہے۔ اس دفعہ انقلاب کے ان نعروں کے لئے عمران خان کا نام تجویز کیا گیا ہے۔ اسکی وجوہات پہ بھی لوگوں کلو غور کرنا چاہئیے۔ لیکن جب دعوت دیا ہوا, انقلاب سر پہ کھڑا ہو تو ان باتوں کا ہوش کہاں رہتا ہے۔
عمران خان کے لاہور میں ہونے والے جلسے کے بعد انکے حامیوں نے اور اس نادیدہ ہاتھ کے کھلاڑیوں نے جو اقتدار کا ہما اپنے پاس رکھتا ہے انکی تحریک کو اگر وہ کوئ ہے  تحریک پاکستان سے اور انکی شخصیت کو قائد اعظم اور بھٹو سے تشبیہہ دینا شروع کر دی ہے۔
ابھی بھی خیر ہے کہ اسے دنیا کی سب سے بڑی انقلابی تحریک ، تحریک اسلام سے نہیں ملایا گیا۔ 'آ رینکنگ آف دی موسٹ انفلوئینشل پرسن ان دا ہسٹری' کو ترتیب دیتے ہئے جب مائیکل ہارٹ رسول اللہ کو پہلا نمبر دیتا ہے تو وہ انہیں نبی کی حیثیت س نہیں ایک انسان کی حیثیت سے دیکھتا۔ دنیا کے سو اہم با اثر افراد میں شامل ہمارے نبی، اپنے پیروکاروں کے لئے کوئ مثال نہ بن سکے۔ کیونکہ انکی ذہانت، ، بصیرت ، انتظامی صلاحیتیں سب ماورائ طاقت کے سامنے ماند پڑ گئیں۔ انکی ذات عقیدت کے غلاف میں ایسی لپیٹی گئ کہ اب انکا پیروکار انکے لئے کسی کی جان تو لے سکتا ہے۔ لیکن انکی تحریک کی فلاسفی کو سمجھنے کو تیار نہیں۔
اس متنازعہ موضوع کو ہم ایک طرف رکھتے ہیں۔
اور صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس وقت جن شخصیات اور تحاریک کا تذکرہ جوش و خروش سے لیا جا رہا ہے کیا وہ اتنی کامیاب رہیں۔ کہ ہم امید کریں کہ انکی طرز پہ جو تحاریک چلائ جائیں گی وہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہونگیں۔
تحریک پاکستان کا مقصد، کیا مسلمانوں کے لئے محض ایک علیحدہ ریاست بنانا تھا یا مسلمانوں کی ایک ایسی فلاحی ریاست بنانا مقصود تھا جہاں ملک کا ہر شہری اپنے بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پہ حاصل کر سکے۔ اگر محض ریاست بنانا مقصد تھا تو یہ تحریک پاکستان کے قیام کے ساتھ ختم ہو جانی چاہئیے تھی۔ لیکن یہ بات صحیح نہ ہوگی کیونکہ تحریک کے دوران عوام سے کچھ وعدے بھی کئیے گئے تھے۔ جن پہ پاکستان بننے کے بعد ، انکی سمت میں کام کرنے سے ہی عمل ہو سکتا تھا۔
جس طرح میں عمران خان کی لاہور والی تقریر میں تاریخی اعلانات کا انتظار کرتی رہی مگر تقریر ختم ہو جانے کے بعد بھی وہ سامنے نہ آسکے۔ اسی طرح قیام پاکستان کے فوراً بعد قوم نے بھی مسلم لیگی رہنماءووں بالخصوص قائد اعظم سے تاریخی اعلانات کی توقع رکھی ہو گی مگر وہ سامنے نہ آسکے۔ انہوں نے اس تاریخی موقع پہ اگر کچھ کہا تو قوم اب اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
یہ بھی قائد اعظم کی بد قسمتی یا ناکامی ہے کہ انہیں بانی ء پاکستان کا خطاب تو دیا جاتا ہے لیکن انکی شخصیت کے اکثر پہلو نہ صرف عوام سے چھپائے جاتے ہیں بلکہ انکے ارشادات تک کو حذف کا جاتا ہے۔   کیا مصطفی کمال پاشا اتا ترک کے ساتھ ترک ایسا ہی کرتے ہیں۔ قائد اعظم بحیثیت بانی ء پاکستان ، پاکستانیوں کے خیال و فکر پہ اتنا رسوخ بھی نہیں رکھتے جتنا کہ گاندھی، ہندوستانیوں پہ رکھتے ہیں۔  
کیا قائد اعظم ایک ناکام سیاستداں یا ایک ناکام حاکم یا ایک ناکام رہ نماء  اعلی ثابت ہوئے؟
تقسیم ہندوستان کے فوراً بعد جواہر لال نہرو کی سربراہی میں ہندوستان میں زمینداری نظام ختم کرنے کا انقلابی فیصلہ کیا گیا۔  ہم کسی بھی ایسے فیصلے سے محروم رہے۔ کیونکہ لیگی رہنماءووں کا مقصد پاکستان کا حصول ہر قیمت پہ  تھا انہوں نے مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مذہب کو استعمال کیا، پھر مغربی پاکستان میں زمینداری نظام بہت مضبوط تھا سو انہوں نے جاگیرداروں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ان سے بھی ڈیل کی، ادھر نارتھ انڈیا کے لوگ جو سب سے زیادہ بے تاب تھے ان کے نوابوں کو بھی ایک آسرا دیا۔ بھان متی کے کنبے میں عملی اقدامات کے لئے گنجائش ہی نہیں بچی تھی۔
وہ بس شدت سےایک علیحدہ ملک چاہتے تھے مگر انکے پاس اس ملک کو چلانے کے لئے کوئ حکمت عملی پہلے سے موجود نہ تھی۔ انہیں یہ تک معلوم نہ تھا کہ جب پاکستان وجود میں آجائے گا تو انہیں سویت بلاک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ہونگے یا امریکن مفادات کو دیکھنا ہوگا۔
کیا قائد اعظم ایک کامیاب رہنما رہے؟
کیا جو وعدہ انہوں نے کیا اسے پورا کر دکھایا؟ 
نہیں۔ سوائے یہ کہ حکومت سازی کا حق مسلمانوں کے چند گروہوں کے پاس آگیا، ہندوستانی عام مسلمان ۔ پاکستانی عام مسلمان کہلایا، وہ کسی انقلابی تبدیلی سے نا آشنا رہا۔
اب پاکستان کی دوسری کرشماتی شخصیت پہ بات کرتے ہیں جن سے عمران خان کو ملایا جا رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، ایک ذہین تعلیم یافتہ انسان جو عمران خان کے بر عکس سیاست کے ایوانوں میں خاصی جدو جہد کے بعد مقام اعلی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ بنیادی طور پہ سوشلسٹ نظریات سے متائثر تھے اس لئے انہوں نے ملک کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اسلامی سوشلزم کا نعرہ بلند کیا۔
لیکن جب انہیں لگا کہ اقتدار کا ہما انکے سر پہ بیٹھنے کے بجائے کہیں اور کا رخ کر رہا ہے تو انہوں نے صبر سے کام لینے کے بجائے، ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ بلند کیا۔
اسٹیبلشمنٹ نے انکا ساتھ دیا۔ یہ وہ اسٹیبلشمنٹ تھی جومغربی پاکستان کی حکمرانی چاہتی تھی۔ کیوں؟ اسکی وجوہات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ دیگر اور حقائق کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ شاید اس بات کے لئے راضی نہ تھی کہ  معمولی جسامت اور شکل و صورت کے بنگالی ان پہ حکومت کریں۔
یہ در حقیقت تاریخی جھوٹ ہے کہ بھٹو کی تحریک انقلابی تحریک تھی اور اسے عوامی پذیرائ حاصل تھی۔ کیونکہ جمہوری قواعد میں عوامی پذیرائ مجیب الرحمن کو حاصل تھی۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ نے اسکا ساتھ نہ دیا۔ بنگالی الگ ہو گئے۔
بنگالیوں نے الگ ہونے کے بعد سیکولر بنگلہ دیش کی بنیاد رکھی۔ آج انکی کرنسی کی قیمت ہم سے زیادہ ہے۔ اسکے باوجود کہ وہ ہر کچھ عرصے بعد سیلاب جیسی قدرتی آفت کا شکار ہوتے ہیں۔ پستہ قد، کم صورت بنگالی اپنا استحکام حاصل کرنے میں
کامیاب ہوئے۔
بھٹو کو مغربی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی، سو بنگلہ دیش بننے کے بعد ان سب کو کسی انکوائری کے سامنے حاضر ہونے اور اس سارے واقعے کے وقوع پذیر ہونے کی وجوہات معلوم کرنےکے بجائے انہیں حکومت کرنے کا حق دیا گیا۔
کیا بھٹو ایک کامیاب سیاستداں تھے؟ 
انہوں نے جو نعرہ دیا کیا اسے پورا کر دکھایا؟ 
انہوں نےاسلامی سوشلزم اور روٹی کپڑا مکان کا نعرہ دیا۔ وہ اسے پورا نہیں کر پائے۔ پاکستان کسی بھی انقلابی تبدیلی سے نا آشنا رہا۔ مغربی پاکستان کے جذبے ٹھنڈے ہوئے اور بھٹو اپنے انجام سے دوچار ہوئے۔
پاکستان میں ایک اور تحریک چلی جس نے زبردست عوامی حمایت حاصل کی۔ اور اس نے کراچی شہر کا مزاج ہی بدل دیا۔ لوگوں نے دیوانہ وار اسکے لئے کام کیا۔ وہ ایم کیو ایم کی تحریک تھی۔ لیکن یہ تحریک بھی اسٹیبلشمنٹ کا شکار ہوئ۔ اور اس سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ اب تک پوری نہ ہو سکیں۔
اب انقلاب کا نعرہ ایک دفعہ پھر۔ 
عمران خان کی حالیہ تقریر میں  وہی وعدے اور وہی دعوے جوقیام پاکستان سے اب تک دوہرائے گئے ہیں اسکے علاوہ کیا تھا۔
چند اہم نکات جو مجھے یاد آرہے ہیں۔
ہم پولیس کو غیر سیاسی کریں گے کیسے؟ کیا آپ پاکستانی مزاج سے تعصب کا باہر نکال دیں گے۔  جو کراچی میں لوگ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کے مزاج میں بھی ہے۔ 
مجھے یاد ہے کہ  اسّی کی دہائ میں کراچی کے لوگوں کا شدید مطالبہ تھا کہ پولیس مقامی ہونی چاہئیے۔ اور پنجاب سے پولیس بھرتی کا سلسلہ بند ہونا چاہئیے کیا ایسا ممکن ہوا۔ کیا یہ مذاق نہیں تھا کہ کراچی شہر کی پولیس میں بڑی تعداد پنجاب سے ہو۔ کرپشن کی ایک بڑی وجہ تو یہی بنتی ہے کہ پولیس مقامی نہ ہو۔
دوسرا اہم نکتہ اس تقریر کا، خواتین کی تعلیم ایمرجینسی بنیادوں پہ عام کی جائے گی۔  اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں انکا شرعی حق دیا جائے گا۔
یہ شریعت کے مسائل اسی وقت کھڑے کئے جاتے ہیں جب نیت میں کھوٹ ہو۔ ایک تعلیمیافتہ عورت کے معاشی استحکام کا آپ بندو بست کریں گے یا پاکستانی علماء کی شریعت کے مطابق انہیں ایمرجینسی میں تعلیم دینے کے بعدگھرتک محدود کریں گے۔ کیا ملازمت پیشہ خواتین کے بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ریاستی سطح پہ ادارے قائم کریں گے۔ کیا ایک تعلیم یافتہ عورت کو فیصلہ سازی میں شامل کریں گے یا پھر جنوبی ایشیائ اسلامی شریعت کے مطابق اسے مرد کا تابعدار بنائیں گے؟ کیا ایک عورت کا اپنی پسند کے مرد سے شادی کا اختیار دیں گے یا پھر وہی ولی اور کفو والا مسئلہ چلے گا؟  سو یہ کہنا کہ شرعی حقوق دیں گے یہ کافی مشکوک  بیان ہے۔
سب سے اہم بیان جس پہ انہوں نے زور دیا اور جو انکے مطابق غریب دیہات کے مسائل کی جڑ ہے وہ پٹواری نظام ہے اسے وہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن اصل مسئلہ جسکی طرف سے وہ تجاہل عارفانہ برت رہے ہیں وہ وہی زمینداری نظام ہے جسکے خلاف قاءد اعظم نے بھی بر وقت فیصلہ کرنے سے گریز کیا۔ جب تک کوئ شخص اس نظام کے خلاف نہیں کھڑا ہوگا اسکے انقلاب کا ہر نعرہ جھوٹا ہوگا۔ اس نظام کی جڑیں ہلائے بغیر غریب کی فلاح کی بات کرنا یونہی ہے جیسے کینسر کے مریض کو درد کم کرنے والی دواءووں پہ رکھنا۔ درد کم کرنے کی یہ دوائیں شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے کام کر سکتی ہیں لیکن پاکستان کے لئے نہیں۔
یہ نہیں معلوم کہ ہمارے ملک میں جواہر لال نہرو کون بنے گا۔
دوسری طرف ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اسی اسٹیبلشمنٹ کا ڈالا ہوا دانہ ہیں جو وہ عوام کو سراب کے پیچھے دوڑانے کے لئے ڈالا کرتی ہے۔ ورنہ عمران خان کے جلسے میں نہ انکے لئے شاہی کرسی ہوتی اور نہ مجمعے کے لئے کرسیاں۔ تبدیلی کے سیلاب کی باتیں سنہری کرسیوں پہ بیٹھ کر نہیں کی جاتیں اور نہ اشرافیہ کے لاڈلوں کے ساتھ۔ اور نہ ہی کوئ ایسی جماعت تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے جس میں  ملکی انٹیلیجنس کے نمائندے شامل ہو رہے ہوں۔ کیونکہ اب تک ہم نے یہ نہیں سنا کہ عمران خان کوئ ایسی روحانی طاقت رکھتے ہیں کہ جو انکی جماعت میں شامل ہو جائے اسکی قلبی حالت چشم زدن میں بدل جاتی ہے۔ ابھی تک کسی نے یا شیخ یا عمران کا نعرہ مار کر دھمال نہیں ڈالا۔ کیونکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ یا شیخ کون ہے۔
 اسٹیبلشمنٹ ایسا کیوں کرتی ہے کہ جب عوام حد سے زیادہ تبدیلی کی خواہش کرنے لگتے ہیں وہ انکے سامنے اپنی پسند کے ایک شخص کو کھڑا کر دیتی ہے؟
جواب بالکل سادہ ہے وہ یہ چاہتے ہیں کہ رند کے رند رہیں اور ہاتھ سے جنت بھی نہ جائے۔ انکے مفادات کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور لوگ بھی کچھ عرصے کے لئے مطمئن ہو جائیں کہ ہو رہے گا کچھ نہ کچھ۔ بس اسی نکتے پہ کامیابی سے پچھلے باسٹھ سال سے پاکستان کو چلایا گیا ہے۔
تاریخ کہتی ہے کہ انقلاب کسی کے مفادات کی نگرانی نہیں کرتا۔جو مفادات کی حفاظت کرے وہ چالاکی تو ہو سکتی ہے انقلاب نہیں۔ انقلاب جب آتا ہے تو کمزور طاقتور بن جاتا ہے ، غریب، کو مالداروں کے مال تک رسائ ہوتی ہے۔ انقلاب جب آتا ہے تو ساری دنیا کو عجم یعنی گونگا کہنے والے عرب اسی دنیا کا علم ہر ذریعے سے جمع کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اپنے آپکو کم سمجھتے ہیں جبھی تو اکٹھا کرتے ہیں۔ 
انقلاب کے لئے، کیا عمران خان، جواہر لال نہرو بننے کو تیار ہیں اور پاکستان میں زمینی اصلاحات کریں گے۔ پٹواری نظام کے بجائے کیا وہ کسان کی حق ملکیت کو تسلیم کروائیں گے۔ کیا وہ کمزوروں کے داتا بنیں گے، دیوتا بنیں گے  یا کمزوروں کو طاقتور بنائیں گے تاکہ انکی رسائ اپنے حصے کے مال میں تو ہو۔ اگر نہیں تو ایک دفعہ پھر چہرے بدل کر نظام کو بدلنے کی کوششیں عوام کو مبارک ہوں۔ ہم آپکو لبّیک کہتے ہیں یا کپتان۔ لبّیک یا کپتان۔

Sunday, October 30, 2011

کرائے کے ٹٹّو

ہمارے ملک میں جیسے ریلیوں کا وبائ مرض پھوٹ پڑا ہے۔ جمعے کے با برکت  دن جناب نواز شریف نے اس سلسلے میں پہلی علامت ظاہر کی۔ یہ با برکت دن منتخب کرنے کی وجہ سے صاحبان کشف نے انکی اگلی منزل جدہ بتائ ہے۔  سبحان اللہ۔
آج عمران خان  ریلیز کا چالیس سالہ ریکارڈ توڑنا چاہتے ہیں ویسے تو اللہ میاں نے انہیں چاندی کا چمچ منہ میں دے کر پیدا کیا ہے اور نزاکت نازنینوں کے بنانے سے نہیں بنتی، خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آہی جاتی ہے۔ ایسے ہی بادشاہ بننے کی خواہش بھی کسی جگر رکھنے والے شخص کے ذہن میں ہی پیدا ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہر دلعزیز شہزادے پہ اس وقت بادشاہت کا نور اترا ہوا ہے۔ ایسا نور جس میں لوگ ان سے یہ تک پوچھنے سے قاصر ہیں کہ زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد آپ کریں گے کیا۔ آپکے منصوبوں کی کچھ تفصیل۔ واللہ علیم و خبیر۔
ادھر الطاف حسین جنہیں ذوالفقار مرزا کے ڈنڈے سے جناب صدر نے ایسا سُدھایا ہے کہ وہ انکے لئے ہر خدمت انجام دینے کو تیار ہیں چاہے انکا ووٹ بینک اسکے خلاف ہو۔ ان کو بھی بر وقت یہ خیال باور کرایا گیا کہ انکی فی الفور 'حکمت عملی' کیا ہونی چاہئیے۔یہ دونوں ریلیز جمہوریت یعنی صدر صاحب کے خلاف سازش ہیں اس لئے ایک ضد ریلی کا بند وبست انکی طرف سے بھی ہے جس میں انہوں نے دینی جماعتوں سے بھی شرکت کی دعوت کی ہے۔ نیکی کے کاموں میں باہم ہو جاءو۔
دینی جماعتیں ابھی ممتاز قادری غازی کو رہا کرانے کی ریلیوں میں مصروف ہیں۔ انکی ریلی کا موضوع ہمیشہ کی طرح ایک ہی ہے نفاذ شریعت۔ یہ جملہ اتنا پر اثر ہے کہ ڈنگی کے مچھر ہوں یا سیلاب، وال اسٹڑیٹ پہ قبضہ ہو یا شعیب ملک کی شادی ہر جگہ کام کرتا ہے۔  اطیعواللہ و اطیعوالرسول۔
ہر ریلی کے مریض کے منہ سے ایک ہی آواز برآمد ہو رہی ہے 'ہاکستان بچاءو۔ جبکہ پاکستان آہستہ آہستہ بدبدا رہا ہے مجھے میرے دوستوں سے بچاءو۔ 
ریلیوں کے جراثیم کس نے پھیلائے ہیں؟ اسکا کیا تدارک ہے؟ اسکا کون سا مریض بچے گا؟ بچ جانے والا مریض ہمارے کسی کام کا ہوگا یا اپنے ڈاکٹر کے اشارے پہ ناچے گا؟
ان تمام سوالوں کے جواب جاننے کے لئے، ایک چالیس روزہ چلّہ کاٹنے کی ضرورت ہے جسکے لئے ایک سنسان جگہ کی چاہئِے۔ اٹھارہ کروڑ آبادی والے ملک میں یہ جگہ کہاں ملے گی۔ اگر لوگوں کے ذہن سے کوئ جگہ اتری ہوئ ہے تو اس پہ، سیلاب، ڈنگی کے مچھر،  مجاہدین یا بیرونی طاقتوں کا قبضہ ہے؟ ہم کیا کریں، کیا ہم بھی کوئ ریلی نکالیں؟ 
ہم عوام کے پاس ریلیاں نکالنے کے ہزار بہانے ہیں مگر ہر دفعہ روپے کا مسئلہ سامنے آجاتا ہے۔ 
جو طاقتیں ان ریلیوں کو منعقد کرانے میں دلچسپی لے رہی ہیں ان سے صرف اتنا کہنا  ہے کہ ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں۔ اجی ، آزما کر تو دیکھئیے ہم بھی جاندار ڈائیلاگز بول سکتے ہیں، آپکی ڈگڈگی پہ آئیٹم رقص پیش کر سکتے ہیں۔ ریلی کیا ریلہ لا سکتے ہیں۔ خدا گواہ ہے ہم بھی قرآن پہ ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتے ہیں کہ کبھی ایک روپئیے کی بھی کرپشن نہیں کی۔ اگر کی تو مرے پہ سو درے۔ ہم بھی پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں اگرچہ کہ اب تک اپنا مال، جان، عزت، گھر، شرافت، علم اور دوسری بے شمار اشیاء بچانے میں ناکام رہے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم پاکستان بچانے میں کامیاب ہونگے۔ انشاءللہ۔
گو کہ ہمیں اکثر یہ بھی خیال آتا ہے کہ ہم کون سا پاکستان بچائیں گے وہ جو قائد اعظم نے بنایا، وہ جو انیس سو اکہتر میں دو ٹکڑے ہوا پھر بھی پاکستان کہلایا، وہ جس نے ایک فلاحی ریاست بننے کے بجائے جہاد کو اپنی معیشت بنایا۔ سر، آپ تو جانتے ہیں کہ یاد ماضی عذاب ہوتا ہے اور اسکا حل حافظہ چھین لینے میں ہی ہے جس میں سنا ہے کہ آپ ماہر ہیں۔
 
یقین کریں عزت مآب، ان سب کرائے کے ٹٹءووں سے ہم کہیں بہتر ٹٹو ثابت ہونگے۔ ہم تعداد میں زیادہ ہیں تو کیا اتنے ہی بے ضرر ہیں جتنی درخت کی چڑیاں یا آنگن کی گئیاں۔ جہاں باندھ دیں گے بندھ جائیں گے اور جدھر کو اڑا دیں اڑ جائیں گے۔ بخدا ہمیں دانہ پانی، ایک چھوٹا سا آسمان اور صحن کے کھونٹے کے علاوہ بس ایک چیز اور چاہئیے۔ آپکے ان چہیتے ٹٹءووں کے لئے ایک اصطبل اتنی دور جہاں سے یہ ہمیں نظر نہ آسکیں۔ و تعز من تشاء تزلّ من تشاء۔