Monday, February 27, 2012

ایک شہر، تین اجتماعات

ابھی تقدس سے باہر کے لئے لکھی گئ ایک تحریر کے حوالہ جات کو ایک آخری نظر سے دیکھنا چاہ رہی تھی کہ اس اتوار کے ندیم ایف پراچہ کے مضمون پہ نظر پڑ گئ۔ مضمون مزے کا تھا۔ 
گذشتہ دنوں کراچی میں چند دلچسپ اجتماعات ہوئے۔ ایک  کراچی لٹریچر فیسٹیول،  اسکے متوازی چلنے والا دوسرا دفاع پاکستان کا اجتماع اور تیسرا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کے لئے کیا گیا پہلا اجتماع۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں کیا کہوں، کراچی کے سب سے پوش علاقے ڈیفینس ہاءوسنگ سوسائیٹی کے بھی ایک دور افتادہ  کونے میں منعقدہ کسی تقریب کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسکے منعقد کرنے میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی کوئ ایرا غیرا نتھو خیرا ایسا اس میں  نہ آجائے جس کا ہائ کلاس سے کوئ تعلق نہ ہو، اردو لکھنے پڑھنےوالے اس سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے ، ایسا نہ ہو کہ عام لوگوں کو اس سے کوئ انسپیریشن حاصل ہو جائے یا یہ کہیں واقعی پاکستان میں لٹریچر کو عام نہ کر ڈالے۔ اور صورت حال کچھ ایسی بنی رہتی ہے  کہ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔ وہ تو تقریب کے احوال اردو میں اتنی تفصیل سے نہیں پہنچ پاتے اس لئے لوگوں کو پتہ نہیں چل پاتا کہ اس بہانے کیسے کیسے غیر ملکی ایجنٹ ہمارے یہاں گھوم پھر کر چلے جاتے ہیں۔
دوسرا اجتماع دفاع پاکستان والوں کا تھا۔  
مقام تھا اسکا قائد اعظم کا مزار۔ خدا جانے کیوں چونسٹھ سال کے بعد قائد اعظم کے سر پہ سب سوار ہونے کو تیار ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سب کیا دھرا انہی کا تھا اس لئے مر کر بھی چین نہیں پا سکتے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بہت پاءوں پھیلا کر سو لئے کنج مزار میں۔  ایک کے بعد ایک اجتماع وہیں ہو رہا ہے۔ اب انہیں بھی لگ پتہ گیا ہوگا  بالکل براہ راست کے پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔
دفاع پاکستان کے متعلق میرا خیال تھا کہ جماعۃ الدعوۃ والے کر رہے ہیں۔ جی وہی جماعت جس پہ حکومت کی طرف سے پابندی ہے۔ پھر شہر میں لگے اشتہاروں سے پتہ چلا کہ جماعت اسلامی والے بھی شامل ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ شیخ رشید جیسی سیاسی ہستی  اور اعجاز الحق بھی تشریف لا رہے ہیں۔
اوہ تو یہ آئ ایس آئ والوں کا جلوہ ہے۔ میں نے ہی نہیں بیشتر دیگر لوگوں نے بھی یہی خیال کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم میں کوئ غیر معمولی ذہانت پائ جاتی ہے۔ بلکہ آپ نے اس سکھ کا لطیفہ تو سنا ہوگا جو ایک الماری پہ فدا ہو گیا تھا۔ لیکن دوکاندار اسے دینے کو تیار نہیں تھا کہ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ پھر اسکے بعد وہ کئ دفعہ ہندو ، عیسائ اور مسلمان کے بھیس بدل کر اسکے پاس پہنچا۔ لیکن ہر دفعہ اس نے ایک ہی جواب دیا۔ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ 'او تجھے پتہ کیسے لگ جاتا ہے کہ میں سکھ ہوں'۔ سکھ نے عاجز آکر پوچھا۔ 'تم ہر دفعہ فریج کو الماری کہتے ہو'۔ دوکاندار نے عجز سے جواب دیا۔
دفاع پاکستان میں ہونا کیا تھا وہی پاکستان کے دشمنوں کی آنکھیں پھوڑ دینے کا دعوی، جبکہ یہاں ابھی ہمیں ہی کچھ نظر نہیں آرہا۔ تاریخ سے گن گن کر ان واقعات کے حوالے جن سے خون میں ویسا ہی ابال پیدا ہو جیسا باسی کڑھی میں پیدا ہوتا ہے۔  اور پھر انتقام در انتقام سے انکی بینڈ بجانے کا تہیہ۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم ، یہاں بینڈ سے کیا مراد ہے۔
اس اجتماع میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، اسکی وجہ یہ تھی کہ لٹریچر فیسٹیول والوں کے مقابلے میں دفاع پاکستان والوں کو اپنے پیغام کے عام ہونے کا کوئ خوف نہ تھا۔ حالانکہ انکا پیغام سنا ہے کہ حرف بحرف نفرت کا پیغام تھا۔ لیکن اسے سننے کے لئے لوگ ون ڈی، ٹو کے اور ڈبلیو گیارہ جیسی بسوں سے بآسانی پہنچ سکتے تھے۔ حتی کہ جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے وہ بھی اس جگہ سے اسے سنے بغیر نہیں گذر سکتے تھے۔ تقریریں کرنے والے اور سننے والے انگریزی نہیں اردو میں رواں تھے۔ کیونکہ انکی دل سے خواہش تھی کہ وہ جس جذبے سے بول رہے ہیں وہ جذبہ انکے سامعین کے رگ و ریشے میں اتر جائے اور جب جلسہ ختم ہو تو یہاں موجود ہر شخص ایک مرد مجاہد ہو۔ موسیقی سے اجتناب کیا گیا اور صرف اپنی بغلیں اور دوسروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پہ ہی اکتفا کیا گیا۔ 
سب سے اہم بات یہ تھی کہ جلسے کی پوری کارروائ میں ایک بھی خاتون موجود نہ تھی۔ دفاع جیسا اہم موضوع خواتین کی سمجھ میں کیا خاک آئے گا۔ انہیں تو اپنے دفاع کے لئے بھی بچاءو بچاءو کا نعرہ بلند کرنا پڑتا ہے۔ پھر اللہ کا کوئ بندہ انکا دفاع کرتا ہے یہ الگ بات کے اللہ ہی کا ایک اور بندہ انہیں مورچہ بند ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔ یوں اگر خواتین کے دفاع کی بات ہو رہی ہو تو بھی کہانی آخیر میں دو مردوں کے درمیان جنگ کی صورت بن جاتی ہے۔
قسمت کی یہ ستم ظریفی کراچی جیسے ظالم شہر میں ہی نظر آسکتی ہے کہ کہاں تو ایک مقام پہ خون کی ندیاں بہائ جا رہی تھیں کہاں اسی مقام پہ ایک ہفتے بعد بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔  میں تو بھنگڑے جیسا محتاط لفظ استعمال کر رہی ہوں لیکن لوگوں کے خیال میں اس کے لئے درست لفظ مجرا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مرد اگر مجرا کر رہے تو بھی کبھی وہ محفل سماع جیسا نیک نام حاصل کرتا ہے، کبھی جدید موسیقی جیسے راک اینڈ رول کہلاتا ہے  یا کبھی شغل اور لوک ڈانس  وغیرہ کہلاتا ہے مثلاً خٹک ڈانس، بھنگڑا۔ اً لیکن خواتین اگر شغلاً بھی ہاتھ پیر ، کولہے ہلا لیں مثلاً لڈی بھی ڈال لیں تو اسے مجرے جیسا پُر شوق نام کیوں دیا جاتا ہے؟
اچھا بہر حال ناقدین کی نظر میں خواتین کا مجرا کرایا گیا ۔ کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ وہ بھی ننگے سر۔ یعنی اگر سر پہ دوپٹہ ہوتا تو اتنا مکروہ نہ ہوتا۔
بہر حال جلسہ کیوں کہ خواتین سے متعلق تھا اس لئے جو رنگینی اس میں نہ ہوتی وہ کم ہوتی کہ وجود زن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ۔ دفاع پاکستان کے خون کے دھبے دھونے کے لئے یا یہ کہ منتظمین نے دفاع پاکستان والوں کے سینے پہ مونگ دلنے کے لئے خواتین کو اسی مقام پہ چوڑیاں بیچیں، پہنائیں اور مہندیاں بھی لگوائیں۔
پونے دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر کی خواتین کی توجہ حاصل کرنا ایک  نئے رجحان یا تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیاں اس بات پہ متفق ہوتی ہوں کہ  ملک کے بعض حصوں میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ اس میں مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئ والے بلکہ اے این پی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہاں خواتین کی بحیثیت ووٹر آءو بھگت ہونا اانکے لئے خاصہ پر جوش ہے۔
خواتین کے مسائل کے حوالے سے اگرچہ کچھ زیادہ نہیں کہا گیا۔  جلسہ کراچی میں ہوا تھا اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے جو مختلف صنعتوں میں نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ گھریلو صنعتیں بھی چلا رہی ہیں۔ انکے مسائل بھی اسی حساب سے ہیں۔  بہر حال ہم اس آواز میں شامل ہیں  کہ خواتین پہ تیزاب پھینکنے والوں کے لئے سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونی چاہئیے۔
اچھا تو ان تین اجتماعات کے بعد میں کیا سوچ رہی ہوں؟ بس یہ کہ خواتین اور مرد وں کے دلوں تک پہنچنے کے لئے کتنے مختلف راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ کیا کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے یہ دونوں راستے بیک وقت اختیار کرنا ممکن ہے؟

9 comments:

  1. ندیم ایف پراچہ کے کالم کا ای پیپر والا لنک دے ڈالا جس سے پڑھنا دشوار ہے۔
    مناسب لنک یہ ہے

    کلفٹن کراچی ۔۔۔، بہت شوق ہے جی مجھے واں جانے کا۔ باقی شہر سے تو ڈر ہی لگے ہے۔

    ReplyDelete
  2. I wasn't there at KLF, but I do see a bunch of Urdu writers on its website: http://bit.ly/zIXTdD

    ReplyDelete
  3. میں چونکہ خود کراچی لٹریچر فیسٹیول میں نہ شریک ہو سکا اور نہ ہی اسکو زیادہ توجہ دے سکا مصروفیات کی وجہ سے، میں آپ کی راۓ سے نہ اتفاق کر سکتا ہوں نہ اعتراض۔ ہاں اتنا ضرور کہ سکتا کہ آپ کا اندازِ بیان خوب ہے۔ لیکن کافی معتبر لوگوں سے مینے اس اجتماع کی تعریف ہی سنی ہے۔

    غالباً "غیر ملکی ایجنٹ" والی بات آپ نے طنزاً کی ہوگی۔ اگر سنجیدگی سے کہی ہے تو اس سے اتفاق کرنا میرے لئے ناممکن ہے۔ ظاہر ہے کہ غیر ملکیوں سے تعلق رکھنے والی ہر تقریب کو جاسوسی کار روائی نہیں سمجھنا چاہئے۔

    ایک عجیب واقعہ ہے۔ میں جی سی لاہور گیا اور شعبۂ اردو کے چیئر سے ملا۔ ان سے عرض کیا کہ شعبۂ اردو کے تحقیقی مجلہ "تحقیق نامہ" کے ہر شمارے کی ایک کاپی لائبریری آف کانگریس کو بھیجنی چاہئے تاکہ ہم اردو آموز فرنگی بھی پاکستانی تحقیق سے مستفید ہوں۔ ورنہ ہمارے لئے ان تک رسائی حاصل کرنا بہت دشوار ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ "جی آپ کو نہیں معلوم کہ لائبریری آف کانگریس تو ایک جاسوسی ادارہ ہے؟" اس کے جواب میں کچھ کہہ نہیں پایا۔ مایوس ہو کر وہاں سے نکلا۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. جی ہاں، یہ غیر ملکی ایجنٹ والی بات میں نے مذاقاً ہی لکھی ہے۔ اتنے سارے غیر ملکی ہمارے یہاں آئیں، بولیں اور چلے جائیں اور عوام یہ نہ کہے کہ یہ سب ایجنٹ تھے اسکی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اردو صحافت نے اسے اتنی کوریج نہیں دی جتنی کہ انگریزی نے دی۔ کم از کم اب ہر غیر ملکی کو اگر وہ مسلمان نہ ہو اسی نظر سے دیکھتے ہیں۔
      میرا سب سے بنیادی اعتراض اس بات پہ ہے کہ اگر فیسٹیول کے منتظمین واقعی چاہتے ہیں کہ عوام میں لٹریچر کا شعور پھیلے اور ایسے اجتماعات جس میں غیر ملکی لکھنے والے دانشور بھی آتے ہیں تو انہیں عوام تک رسائ بھی دینی چاہئیے نہ کہ آپ اسکا وینو ایک ایسی جگہ رکھ دیں جہاں گاڑی رکھنے والے کو بھی پہنچنے میں دشواری ہو۔ اسکے بعد یہ کہا جائے کہ لوگ دفاع پاکستان کے اجتماع کو ادبی اجتماع پہ ترجیح دیتے ہیں۔

      Delete
    2. This comment has been removed by the author.

      Delete
    3. آپ کا بنیادی اعتراض تو بجا ہے۔ میرے معلومات کے مطابق یہ فیسٹیول ایسی دور دراز جگہ پہ غیر ملکی شریک کاروں کے تحفظ کے لئے اختیار کی گئی تھی۔ لیکن ظاہر ہے اس کا نتیجہ یہی ہوا ہوگا کہ عوام الناس اس سے محروم رہے ہوں گے۔

      آپ کا بلاگ ماشااللہ کافی صاف ستھرا اور منظم بھی ہے اور اس کا اسلوب بھی قابلِ داد ہے۔ اگر تھوڑی بہت اختلافِ راۓ ہو تو گستاخی معاف۔ کیا آپ مجھے اس معیار کے دیگر اردو بلاگوں سے متعارف کر سکتی ہیں؟

      Delete
  4. تحریر برائے شکم بلاگ خوب است
    افتخار

    ReplyDelete
  5. I agree that literary circles in Pakistan are not open to young aspirants.
    Enjoyed your PARWAAZ-E-TAKHAYUL :)

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ