Saturday, February 18, 2012

اہم تعلیمی مسئلہ، رمضان کی چھٹیاں

فروری کا مہینہ صرف ویلینٹائینز ڈے کا مہینہ نہیں۔ جب کچھ جوڑے سوچتے ہیں کہ انکے آنگن میں بچوں کی صورت پھول کھلیں گے۔ بلکہ ان والدین کے لئے بھی لمحہ ء فکریہ  ہے جن کے بچے موجود ہیں اور انہیں اسکول میں داخلہ چاہئیے۔ جیسے میری بیٹی اب اپنی مونٹیسوری ختم کر کے پہلی جماعت میں جائے گی۔ میرے لئے اہم سوال ہے  کس اسکول میں؟
ابھی مہینہ بھر پہلے میں اپنی بچی کی مونٹیسوری ٹیچر پہ خفا ہوئ کہ یہ کیا طریقہ ہے ایک کے بعد ایک پہاڑے رٹائے جا  رہے ہیں۔ ایک مونٹیسوری کے بچے کے لئے چھ تک پہاڑے یاد کرنا بالکل ضروری نہیں ہے۔  سال کے بارہ مہینوں سے لے کر جانوروں، پھولوں، سبزیوں، پرندوں اور خدا جانے کن کن چیزوں  کے ناموں کے ہجے انگلش اور اردو میں۔ یہ تو زیادتی ہے۔ جواب ملا کیونکہ ماما پارسی اور بی وی ایس میں داخلے کے وقت یہ سب پوچھا جاتا ہے۔  اور پھر وہ پہلی جماعت میں ان بچوں کو جب لے لیں گے تو یہ سب دو سال بعد پڑھائیں گے۔ میں ناراض ہو کر بھی ہنس دی۔ ان سے کوئ نہیں پوچھے گا کہ آپکا پہلی جماعت کا سلیبس کیا ہے اور آپ نے کیوں والدین کو مجبور کیا کہ وہ آپکے داخلہ ٹیسٹ کے لئے اپنے بچوں سے انکا بچپن چھین لیں۔
اچھا وہ والدین کیا کریں جنہیں اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل نہیں کروانا ہے۔ وہ بھیڑ چال میں پھنسے ہوئے سر پکڑے بیٹھے ہیں۔
ان مشنری اسکولوں کی طرف والدین کے بھاگنے کی ایک بنیادی وجہ انکا بہتر طریقہ ء تعلیم اور مناسب فیس ہے۔ کہنے کو ہمارے ملک میں لوگوں کا ایک پسندیدہ مشغلہ اپنے مذہب کی تبلیغ اور جہاد ہے  لیکن تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی اور مناسب فیس جو اسکول دیتے ہیں وہ عیسائ تبلیغیوں کے ہاتھوں چلنے والے اسکول ہیں۔ مذاق؟ میں نہیں کر رہی یہ حقیقت ہے۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں جنریشنز نامی اسکول ہے جو علاقے میں بڑی اچھی شہرت رکھتا ہے۔ ایک وجہ بہتر تعلیمی معیار اور دوسری وجہ اسکول انتظامیہ کا مذہبی رجحان۔ تمام خواتین اساتذہ کا اسکارف پہننا ضروری ہے۔ فیس ہے اس اسکول کی تقریباً دس  ہزار ماہانہ، داخلہ پیکیج تقریباً پچاس ساٹھ  ہزار بنتا ہے۔
جبکہ ماما پارسی، سینٹ جوزف، سینٹ پال، سینٹ لارنس،  بی وی ایس، سینٹ پیٹرکس ان سب اسکولوں کی ماہانہ فیس تین سے چار  ہزار بنتی ہے اور اس بات کا میں آپکو یقین دلادوں کہ جنریشنز کی تعلیمی کارکردگی ان تمام مشنری اسکولوں سے بہتر نہیں ہے سوائے اسکے کہ یہاں پڑھنے کے بعد آپکا بچہ گھر میں یہ اعلان کرے گا کہ امّاں آپ آدھی آستین کی قمیض نہیں پہن سکتیں، یہ غیر اسلامی ہوتا ہے۔
جنریشنز سے ہٹ کر فاءونڈیشن اسکول بھی فیس کی مد میں اس سے زیادہ مطالبات رکھتا ہے۔ ادھر بیکن ہاءوس اور سٹی اسکول بھی اپنی ابتداء آٹھ ہزار سے کرتے ہیں۔ ہر سال ان اسکولوں کی فیس میں دس فی صد اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی اگر ایک بچہ ان اسکولوں سے میٹرک کر رہا ہے تو دس سال بعد اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسکی کتنی فیس ہوگی۔
  مشنری اسکولوں کے لئے اتنی کم فیس میں اتنی معیاری تعلیم اور ڈسپلن پیدا کرنا کیسے ممکن ہو جاتا ہے؟ اس میں بھی کوئ کفار کی سازش سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ ہمارے عمران خان بھی جب ایک تعلیمی ادارہ بناتے ہیں تو اسکی فیس کم رکھنا ممکن نہیں ہو پاتا۔
اب ہم اپنے بنیادی مسئلے کہ طرف واپس آتے ہیں۔ ہمارا بچہ کس اسکول میں جائے گا۔ یہ تمام مشنری اسکول میرے گھر سے اتنے فاصلے پہ ہیں کہ ایک اسکول وین کو اسکول شروع ہونے سے تقریباً سوا گھنٹے پہلے اسے گھر سے لینا ہوگا اور جب وہ اسے گھر واپس چھوڑے گی تو دن کے ساڑھے تین بج رہے ہونگے۔ مجھے اپنی بیٹی اس ساری مشقت کے لئے چھوٹی لگتی ہے۔ میں سوچتی ہوں اس ساری محنت کے بعد بچے کے پاس کتنا وقت بچے گا کہ وہ اپنے ماحول پہ بھی ایک نظر ڈال لےاور یہ جانے کے کتاب اور اسکول سے الگ بھی ایک دنیا اسکے اطراف میں بستی ہے۔
اس سارے بحران کی وجہ حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسی ہے اگر کوئ تعلیمی پالیسی ہے تو۔ ہر سال تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے حکومت کا سر درد پچھلے کئ سالوں سے صرف ایک مسئلہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ رمضان کے پورے مہینے چھٹیاں دی جائیں یا نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال کے بعد اب کوئ نئے رمضان آنا شروع ہوئے ہیں۔ یہی قوم رمضان میں پیٹ پہ پتھر باندھ کر جنگیں لڑتی تھی اور اسی قوم کے منتظمین یہ چاہتے ہیں کہ رمضان میں اب اسکول بند رہیں تاکہ قوم زیادہ خشوع خضوع سے رمضان میں روزے رکھ سکے۔  چونکہ تعلیم کے دیگر معاملات پہ سوچنے کے لئے کچھ نہیں رہا۔ اس لئے اس سال پھر صرف ایک مسئلہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں جولائ میں ہوں یا جون میں۔ کیونکہ رمضان جولائ کے اخیر میں شروع ہو رہے ہیں۔
لوگ پھر بھی  ہم سے پوچھتے ہیں کہ جناب جہادی اور تبلیغی سوچ کیسے علمی سرگرمیوں کو متائثر کر سکتی ہے؟
 ہم والدین حکومت سے یہ سوال نہیں کر سکتے کہ اسکے لئے یہ کیوں ممکن نہیں کہ ہر یونین کونسل میں صرف ایک معیاری اسکول بنا دے جس کی فیس غریب طبقے کے لئے ادائیگی کے قابل ہو۔ جہاں میرٹ پہ داخلہ ہو اور ہر امیر یا غریب کا بچہ صرف میرٹ پہ داخلہ پا سکے۔ جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دینے کے لئے باقاعدگی سے اسکول آ سکیں۔ ہم تو اب یہ عیاشی بھی نہیں چاہ رہے ہیں کہ ہر بچے کو تعلیم دی جائے۔ لیکن جو اپنے آپکو اہل ثابت کر رہے ہیں انکے لئے تو کچھ کیا جائے۔  کچھ کو تو دی جائے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ ابھی ہفتہ بھر پہلے گھر میں صفائ کا کام کرنے والی ماسی نے بتایا کہ اسکا بچہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھتا ہے۔ کتنی مشکل سے اسے اسکول بھیجتی ہوں اور ایک ہفتے سے اسکول میں کوئ پڑھائ نہیں ہوئ کیونکہ کوئ ٹیچر ہی نہیں آرہا۔ یہ کراچی میں واقع گورنمنٹ اسکول کا حال ہے۔ دور دراز کے علاقے تو کسی گنتی میں نہیں جہاں اسکول صرف کاغذ پہ موجود ہیں اورانہیں بھوت اسکول کہا جاتا ہے۔
 سر دست پیٹ بھرے لوگوں اور انتظامیہ دونوں کے نزدیک اہم تعلیمی مسئلہ یہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں رمضان سے  پہلےیا بعد میں۔ جب تک انتظامیہ اس معاملے پہ سوچ و بچار کر کے فارغ ہو  میں اپنے بیلینس کا حساب ایک دفعہ پھر لگاءوں  میری بیٹی کو اس سال پہلی جماعت میں داخلہ لینا ہے۔

25 comments:

  1. مجھے بھی اپنے بیٹے کے سلسلے میں اسی دبدھا کا سامنا ہے ۔ اس کا ایک ہی علاج سمجھ میں آتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ بندہ اپنا سکول کھول لے ۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. اسکول سے اچھا کاروبار اور کوئ نہیں۔ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی اسی میں ممکن ہے۔
      لیکن کاروباری نکتے سے ہٹ جائیں تو کمیونٹی کی بنیاد پہ لوگوں کو اسکول چلانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ کیونکہ اس سے بچوں کو سستی اور معیاری تعلیم ملنے کے امکان ہیں۔ اگر ایک مشنری اسکول تین ہزار روپے ماہانہ میں اچھی تعلیم دے سکتا ہے تووالدین کوشش کر کے اس فیس کی شرح دو ہزار تک لے جا سکتے ہیں۔ بالخصوص وہ والدین جو پڑھے لکھے ہیں وہ تدریسی عمل میں شامل ہوں۔ کمیونٹی بنیاد پہ چلنے والے اسکول نو پرافٹ نو لوس پہ ہوں تو فیس کم رکھنے میں کیا مشکل ہوگی۔ مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ جگہ کا ہے۔

      Delete
  2. میرے لئے یہ حیران کن ہے کہ مناسب فیس تین سے چار ہزار ہوتی ہے۔ جبکہ میں اب تک 500 تک کو مناسب سمجھ رہا تھا۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. پانچ سو روپے فیس تو اب کراچی کے مضافات میں کسی گلی محلے کے اسکول کی فیس ہی ہوگی، جہاں اساتذہ کی تنخواہ بھی اسی سطح پہ ہوگی کہ وہ اسی محلے میں کہیں رہتے ہونگے اور انکی اپنی تعلیم واجبی سی ہوگی۔ کم از کم میرے اطراف میں ایسا کوئ اسکول نہیں جہاں پانچ سو روپے فیس ہو۔
      اس لئے آپکا حیران ہونا جائز ہے۔

      Delete
  3. مجھے آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے ۔ مشنری سکولوں میں مسلمانوں کے بچے تو تعلم پا سکتے ہیں مگر مسلمانوں کے ایک فرقہ کے سکول مِن دوسرے فرقہ کے بچے داخل نہیں کرائے جاتے ۔سوچنے والی بات ہے ۔
    پاکستان میں سب سے بہترین کاروبار سکول و کالج کھولنا ہے ۔ دن دوگنی رات چوگنی ترقی ۔ہمارے سبھی قائدین فراڈ ہیں ۔ وڈیرے جاگیردار پر الزام ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں سکول کالج نہیں بننے دیتا ۔ مگر جو پورے ملک کا تعلیمی نظام برباد کر رہے ہیں پچھلے چونسٹھ سالوں سے ان کو کندھوں سے اترنے نہیں دیا جاتا ۔
    ویسے مجھے یقین ہے آپ بھی میری طرح کڑھتی رہتی ہوں گی ۔کیونکہ لکھ کر بھڑاس نکالنے کے سوا ہمارے پاس کوئی دوسرا کام نہیں ۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ عیسائ مبلغین کے ہاتھوں چلنے والے اسکولوں میں عیسائیت کی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ حکومت پاکستان کے منظور شدہ سلیبس کے مطابق اسلامیات اور ناظرہ قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
      دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈسپلن ان اسکولوں کا بہت زیادہ بہتر ہوتا ہے اگر تعلقات کی بنیاد پہ داخلے ہوتے بھی ہیں تو انکی شرح انتہائ کم ہے۔
      اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ عیسائ مبلغین میں مسلمان مبلغین سے زیادہ برداشت پائ جاتی ہے اور انکی اخلاقی حالت ہم سے زیادہ بہتر ہے۔

      Delete
  4. ماما پارسی ؟
    مزاحیہ نام ہے۔
    کسی بھی مناسب سکول میں ڈال کر باقی کسر ہوم سکولنگ سے پوری کرلیں۔
    کراچی گرائمر وغیرہ کا ذکر آپ نے نہیں کیا۔
    اور کیا وہاں ذہین اور قابل بچوں کے لئے کوئی خصوصی سکول نہیں ہوتے ؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. عثمان، میں کینیڈا سے پاکستان واپس آرہی تھی گھنٹہ بھر کے لئے آنکھ لگی ۔ اٹھ کر دیکھا تو میری بیٹی صاحبہ برابر والی خاتون سے باتوں میں لگی ہوئ تھیں۔ وہ مجھ سے کہنے لگیں ایسے بچوں کی یہاں کینیڈا میں بڑی قدر ہوتی ہے۔ یہ زندگی میں جو کرنا چاہَ آپ اسے روکئیے گا نہیں۔
      یہاں میں بیکن ہاءوس اسکول میں داخلہ کی معلومات کرنے گئ۔ انہوں نے مجھے دو باتیں بتائیں۔ آپکی بیٹی ابھی صرف پانچ سال کی ہے ہم پہلی جماعت میں چھ سال سے زائد عمر کا بچہ لیتے ہیں۔ یعنی جس عمر میں، میں یونورسٹی اسٹوڈنٹ تھی اس عمر میں میری بچی اسکول اسٹوڈنٹ ہوگی۔ دوسری بات انہوں نے مجھے بتائ کہ آپ نے مونٹیسوری کی صرف دو سال کی تعلیم دلائ ہے جبکہ ہمارے یہاں پہلی جماعت میں داخلے کے لئے تین سال کی تعلیم چاہئیے۔ اس سے آپکو پتہ چلے گا کہ اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا کہ بچہ ذہین ہے یا قابل۔ کیونکہ انہوں نے میری بچی سے ملنے کی کوئ ضرورت محسوس نہیں کی۔
      ذہین بچوں کے ساتھ اگر ماں باپ کا پیسہ نہ ہو تو نظام کمی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ رُل کر مایوس ہو جائیں۔ بڑے ہو کر اپنی تمام کوششیں اس بات پہ خرچ کریں کہ باہر کے کسی ملک کی راہ لیں۔ ذہانت ہماری ضرورت نہیں، ہماری ضرورت وہ لوگ ہیں جو صاحب لوگ کی جوتیاں سیدھی کرنا جانتے ہوں۔
      جہاں عام اسکول میسر نہیں وہاں ذہین بچوں کے لئے خصوصی اسکول چہ معنی دارد۔
      مجھے تو پندرہ بیس والدین مل جائیں تو میں تو کمیونٹی بنیاد پہ اسکول کھول لوں۔ جہاں والدین مل کر اپنے بچوں کو پڑھآئیں۔ لیکن اب تک یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ والدین اپنے اوپر اعتماد نہیں رکھتے۔
      کراچی گرامر اسکول اشرافیہ کا اسکول ہے۔ ہم اسکا نام لے کر کیا کریں۔ یہاں عام بچوں کا کیا دخل۔۔

      Delete
  5. اپنے ہاں کی فیسوں کا بتا کر اچھا خاصا شاک لگا دیا آپ نے تو۔
    ایک ہمارے دوست سعودی سے واپس حیدرآباد جا رہے ہیں تو حیدرآباد کے اسکولوں کی کافی چھان بین کر ڈالی تھی پچھلے دنوں۔ اچھے سے اچھا بہترین اسکول کی ماہانہ فیس زیادہ سے زیادہ پانچ تا دس ہزار ہے۔ ایڈمیشن فیس شاید بیس تا پچیس ہزار۔ جبکہ اوسط سے کچھ اوپر والے اسکولوں کی فیس تین تا پانچ ہزار ماہانہ اور اوسط اسکول دیڑھ تا دو ہزار۔ اوسط اسکولوں کی تعلیم کا معیار گذشتہ دس سالوں کی بہ نسبت اب کچھ بہتر ہے۔ جبکہ عام آدمی اوسط سے ذرا نیچے والے اسکول میں بچوں کو پڑھا رہا ہے جہاں ماہانہ فیس پانچ سو تا دیڑھ ہزار کے درمیان ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تو شاید سو یا دو سو روپے فیس ہوگی۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. حیدر آبادی صاحب اس فہرست میں کراچی کے وہ اسکول شامل نہیں جہاں ماہانہ فیس پچیس ہزار روپے ہے۔ اگر دس ہزار روپے فیس ہو تو داخلہ فیس ساٹھ سے ستر ہزار بنتی ہے۔ اندازہ کریں کہ جنکی فیس پچیس ہزار ہے انکی داخلہ فیس کیا ہوگی۔
      یہاں پانچ سو روپے جن اسکولوں کی فیس ہے وہ کراچی سے ملحقہ دیہاتی یا نیم دیہاتی علاقے ہیں۔ یہاں اساتذہ کی اپنی تعلیمی قابلیت ایسی ہوتی ہے کہ میرے جیسے والدین تو گھر میں پڑھا لیں۔ اسکول کا نظام ایسا ہوتا ہے کہ آدھا سلیبس بھی پورے سال میں پورا نہیں ہو پاتا۔
      یہ میں کراچی کا حال بتا رہی ہوں۔ باقی ملک میں ہو سکتا ہے کہ حالات اس سے بہتر ہوں حالانکہ اخبار سے جو اطلاعات ملتی ہیں انکے مطابق اسکول خاغز پہ موجود ہیں اساتذیہ تنخواہ لے رہے ہیں لیکن اسکول نامی کوئ چیز موجود نہیں ہے۔ ادھر بلوچستان کے شہر گوادر کا آنکھوں دیکھا حال یہ ہے کہ بحریہ کے زیر نگرانی چلنے والے اسکول کی فیس چھ سو روپے ہیں۔ اور جب میں نے کاپی چیک کی تو پورے مہینے میں چار صفحے کا کام ہوا تھا۔ اساتذہ کی تعلیمی اہلیت اتنی نہیں کہ وہ پرائمری کی سطح کے بچوں کو پڑھا پائیں۔ جبکہ بلوچستان میں غربت اتنی ہے کہ یہ چھ سو روپے فیس انکے لئے چھ ہزار سے کم نہیں۔ وہیں کے ایک اسکول میں بچیوں کے گورنمنٹ اسکول میں آٹھویں جماعت میں پڑھنے والی لڑکی کو اردو کے سادے جملے نہیں پڑھنا آتے۔ انگریزی اور حساب کی تو بات ہی نہ کریں۔ اسکول میں لڑکیوں کو کشیدہ کاری اور مہندی لگانے کی تربیت دی جاتی ہے۔ میں نے ایک بچی کا حوصلہ بڑھایا کہ چلو یہ تو سکھاتے ہیں۔

      Delete
  6. آپ نے بہت اہم موضوع پر روشنی ڈالی ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن آپ کی اکثر تحریروں پر تبصرے پڑھ کر سارا مزہ کرکرہ ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔اس تحریر کے باقی مبصرین تو مناسب تھے لیکن آخر میں یہ عثمان صاحب حماقت کا مظاہرہ فرماہی دیا...

    ReplyDelete
    Replies
    1. عثمان کے تبصرے اس بلاگ کا جزو لازمی ہیں جیسے ختمہ فقرے کا جزو لازمی ہوتا ہے۔
      بلاگز پہ آتے جاتے رہیے ، سوشل نیٹ ورکنگ کا سلیقہ سیکھ جائیں گے۔

      Delete
  7. میں تو آپ کی باتیں سن کے بہت حیران ہوں، بجا کہ مشنری سکول زیادہ فیسیں لیتے ہیں لیکن آپ گورنمنٹ کے سکول میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے حق میں نہیں? میں گورنمنٹ کے سکولوں سے تعلیم یافتہ ھوں اور اتنا بھی پرانا نہیں کہ شاہ جی سے موازنہ کیا جائے، لیکن حقیقت یہ ھے کہ میں اپنے ہم عصر مشنری سکولوں سے تعلیم یافتہ لڑکوں کے مد مقابل اچھا کام کر رھا ھوں، میرا مشورہ مانیں تو مہنگے سکولوں کی نسبت چھوٹے سکول ذیادہ فائدہ مند ہیں۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپ نے یہ تحریر غور سے نہیں پڑھی۔ اسکول فیس مشنری اسکول کی اتنی زیادہ نہیں جتنی کہ دیگر نان مشنری اسکول کی ہے۔ جس گورنمنٹ اسکول میں ہفتہ بھر تیچر نہ آتے ہوں وہاں کوئ ذی ہوش شخص کیسے اپنے بچے کو پڑھا سکتا ہے۔ آپ نے اپنی مثال دی ہے میں خود گورنمنٹ اسکول سے پڑھی ہوئ ہوں ۔
      ہر سال کراچی کے میٹرک کے نتائج دیکھیں اور اندازہ کریں کہ کتنا عرصہ گذر چکا ہے کہ کسی گورنمنٹ اسکول نے پوزیشن لی ہو۔ یا کتنے گورنمنٹ اسکول ایسے ہیں جہاں سے اچھے نتائج آتے ہوں یعنی زیادہ طالب علم اچھے گریڈ لیتے ہوں۔
      یہی نہیں میں اپنا ذاتی تجربہ بتاتی ہوں۔ میں نے گورنمنٹ اسکول سے پڑھا۔ ایسے پڑھا کہ پورے ایک سال تک ایک چپراسی ہمارا اسکول چلاتا رہا اور محکمہ ء تعلیم کو خبر نہ ہوئ۔ وہ تو بھلا ہو کہ ایک سائینس کے استاد کی پوسٹنگ ادھر ہوگئ اور انہوں نے بالا ہی بالا اسکے خلاف رپورٹ کی اور ہماری جان اس سے چھڑائ۔ اپنی تعریف کرنے کا شوق نہیں، لیکن انہی سائینس کے استاد کا کہنا تھا کہ یہ لڑکی کسی ڈھنگ کے اسکول میں ہوتی تو خدا جانے کیا کیا کچھ کر پاتی۔ بہت سارے مشنری اسکول میں پڑھنے والوں سے بہت بہتر ہوں لیکن بے شمار وقت بےکار کے کاموں میں ضائع ہوا اور زندگی سے وہ کچھ نہیں مل پایا جو بہتر تعلیم سے مل سکتا تھا۔ اس وقت بھی جو کچھ ہے اس میں غیر معمولی ذاتی محنت بہت زیادہ شامل ہے۔ اس سب کے بعد آج آپکو حیرانی ہو رہی ہے کہ میں اپنی بچی کو گورنمنٹ اسکول میں کیوں نہیں ڈالتی۔ والدین ایک سوراخ سے دوبارہ ڈسا جانا پسند نہیں کرتے۔ بالخصوص جب بات اولاد کی ہو۔
      میری تو اکلوتی اولاد ہے، ذرائع بھی ہیں لیکن ظاہر سی بات ہے کہ جن والدین کے نہیں ہیں انکے متعلق بھی ہمیں سوچنا چاہئیے۔ انکا کیا قصور کہ انکا ذہین اور اہل بچہ قسمت کی یاوری ہو نکل جائے نہیں تو دھکا کھاتا رہے۔

      Delete
  8. نہ صرف یہ کہ ذہین اور قابل بچوں کے لئے خصوصی سکول ہیں بالکل کسی مخصوص رجحان رکھنے والے بچوں کے لئے بھی خصوصی پروگرام ہیں۔ جس عزیزہ کا ناول دیکھایا تھا وہ اس وقت لبرل آرٹس کے ایک خصوصی پروگرام میں ہیں جو تصنیف اورئینٹیڈ ہے۔ داخلے کے لئے جمع کرائے گئے پورٹفولیو میں امیدواروں کے ہاتھ کا لکھا مسودہ ایک لازمی شرط تھی۔

    یہاں کیمپس میں کراچی گرائمر کے لڑکوں سے اٹھنا بیٹھنا رہا ہے۔ اتنے نکمے طلباء میں نے شائد ہی کبھی دیکھے ہوں۔ پڑھنے کی تیکنیک ان کی وہی تھی جو ٹاٹ کے سکولوں میں ہوسکتی ہے۔ یعنی رٹا۔ ریاضی کے تھیورم تک رٹا لگانے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کے رہنے کا طور طریقہ ایسا تھا کہ سال کے آخر میں ان کے اپنے دوست انھیں روم میٹ رکھنے کو تیار نہ تھے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. اس لئے میں نے انکا تذکرہ نہیں کیا تھا۔ امیروں کے لاڈلے بچے۔ یہاں کراچی میں، میں نے دیکھا ہے کہ کراچی گرامر میں پڑھے ہوئے لوگ اسے بھی ایک اعزازی ڈگری کی طرح استعمال کرتے ہیں۔
      اس قسم کے اداروں میں زور سارا انگریزی سکھانے پہ ہوتا ہے۔

      Delete
  9. ۱۰۰۰۰ہزار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس جناب عالی یہ خاکسار ایک ایسے اسکول کہ بھی جانتا ہے جس کی فیس ۔۔۔۔۔ ذرا دل تھام کر سنیے گا ۸۵۰۰۰ ہزار ہے، بس ذرا اس کے ساتھ ہاسٹل ہے-

    جی ہاں اسی پاکستان میں بلکہ کراچی میں

    ReplyDelete
  10. عنیقہ میرے خیال سے ہر بچے کو کم از کم تین سال تک مونتسسوری پڑھانی چاہیئے. ایک سال سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لکین ہمارا بچہ اپنا بچپن اچھی طرح محسوس کر سکے گا . میں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو تین سال تک مونٹیسوری پڑھائی اور بڑی بیٹی سات سال کی عمر میں پہلی جماعت میں گئی . ماشاللہ وہ اپنی جماعت کی زہین طلبہ ہے اور ان کی عمر کا کوئی ایسا مسلہ نہیں ہے وہ ساڑھے نو سال کی عمر میں چوتھی جماعت میں ہوں گی . چھوٹی بیٹی میری پانچ سال کی ہے اور ماما پارسی اسکول میں بھی چھے سے سات سال کی بیچ کی عمر کے بچوں کو آرام سے داخلہ مل جاتا ہے اس لئےمیں تو انھیں اس سال نہیں اگلے سال پہلی جماعت میںداخل کرواؤں گی . اور جی ہاں میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں کے بچوں پر پڑھائی کا بڑا اضافی بوجھ لاد دیا جاتا ہے. اس کے علاوہ سزا دینے کا رجحان بھی بہت زیادہ ہے میری آپ سے گزارش ہے کے آپ ایک پوسٹ اس حوالے سے بھی لکھیئے گا .

    ReplyDelete
    Replies
    1. عینی اعجاز، آپکو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ ترقی یافتہ ممالک کی اکثریت میں تین سال کی مونٹیسوری کا تصور نہیں ہے۔ کینیڈا، امریکہ آسٹریلیا میں پہلی جماعت سے پہلے صرف ایک سال کا پری اسکول ہوتا ہے اس سے پہلے جو اسکول ہوتے ہیں وہ پلے اسکول کہلاتے ہیں یا ڈے کیئر۔ یہ ان والدین کے لئے ہوتے ہیں جو ملازمت پیشہ ہوتے ہیں اور بچوں کو وقت نہیں دے سکتے۔ یہ حد سے زیادہ مہنگے ہوتے ہیں اور انہیں عام آمدنی والا شخص افورڈ نہیں کر سکتا۔ ادھر کینیڈا میں پری اسکول کے لئے عمر چار ساڑھے چار سال سے شروع ہوتی ہے۔ بچہ تقریباً پانچ سال کا ہوتا ہے تو پہلی جماعت میں جاتا ہے۔
      پری اسکول کا بنیادی مقصد تعلیم نہیں ہوتا بلکہ بچے کو اسکول کے لئے تیار کرنا ہوتا ہے اس جماعت میں برائے نام لکھائ پہ توجہ ہوتی ہے درحقیقت وہ بچے کے اندر کتاب پڑھنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں اور جتنی بھی تعلیمی سرگرمی ہوتی ہے اسکا تعلق کتاب پڑھنے سے ہوتا ہے۔ ٹیچر کہانیوں کی کتابیں پڑھ کر سناتی ہیں بچوں کو اس پہ تبادلہ ء خیال کا موقع دیا جاتا ہے انکی حوصلہ افزائ کی جاتی ہے کہ وہ خود سے کہانیاں بنائیں۔ اور اس طعرح سے بنایدی زور زبان ابیان کی قدرت پہ ہوتا ہے یا تخیل کی تیزی سے۔
      ایک سات سال کا بچہ، ایک پانچ سال کے بچے کی نسبت زیادہ سمجھدار ہوتا ہے اور اسے پڑھانا اور اس سے نتائج لینا آسان کام ہوتا ہے۔ لیکن ایک دس سال کا بچہ اور آسان ہوتا ہے۔ اس لئے زیادہ عمر اگر اس مرحلے پہ ہینڈل کرنا آسان لگتی ہے تو یہ بعد میں مسائل پیدا کرتی ہے۔
      ایک بچہ جو سات سال کی عمر میں پہلی جماعت میں ہوگا وہ لازماً میٹرک کرتے وقت سترہ سال کے لگ بھگ ہوگا۔ ایک ایسی عمر جس میں اس میں ہارمونل ڈیمانڈز سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ ایک عام مشاہدہ کی بات ہے کہ اگر ایک بچہ پندرہ سال کے لگ بھگ میٹرک میں ہو تو اسکی توجہ پڑھائ پہ زیادہ ہوتی ہے وہ والدین کی توقعات کو زیادہ جذبے سے پورا کرنا چاہاتا ہے اور ایک سترہ اٹھارہ سال کا بچہ جو کہ ببچہ نہیں ہوتا صنف مخالف کے بارے میں زیادہ وقت لگاتا ہے۔
      یہی نہیں یہی بچہ جب انٹر کرے گا تو اسکی عمر انیس سال کے قریب ہوگی۔ پاکستان کے لحاظ سے دیکھیں تو وہ عمر جب لڑکیوں کے والدین آنے والے رشتوں پہ غور شروع کر دیتے ہیں اس لحاظ سے یہ لڑکیوں کے لئے انتہائ منفی فیکٹر بن جاتا ہے اگر وہ اس مرحلے سے نکل جائیں تو محض گریجوایشن کرتے کرتے انکی عمر چوبیس پچیس سال ہوگی۔ لڑکا ہو لڑکی اس عمر کے بعد ماسٹرز کرنا ہی مشکل ہو جاتا ہے چہ جائیکہ کوئ یہ تصور کرے کہ ڈاکٹریٹ کرے گا۔
      اس طرح سے میں ذاتی مشاہدے پہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ جو بچے میٹرک پندرہ سے سولہ سال کی عمر میں کر لیں انکے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔
      صرف یہی نہیں بلکہ خدانخواستہ کسی حادثے کی صورت میں وقت ایک ایک ممکنہ حد موجود ہوتی ہے جسکی وجہ سے مختلف ملازمتوں کے لئے امکان کی حد باہر نہیں جاتی۔ مثلا سول سروس کا امتحان اگر کسی وجہ سے ایک وقت میں نہیں دے سکے تو بعد میں دے سکتے ہیں۔
      یہ تو عمر کے بارے میں میرے ذاتی مشاہدات و نظریات ہیں۔
      جہاں تک سزا کا تعلق ہے اس سلسلے میں گورنمنٹ اسکول تو بد نام تھے ہی لیکن بعض پرائیویٹ اسکول بھی ڈسپلن کے نام پہ ایک ٹارچر رکھتے ہیں جس میں سر فہرست نام جس اسکول کا آتا ہے وہ ماما پارسی ہے۔ لوگ یہ کہنے سے نہیں ہچکچاتے کہ انکی بچیاں نفسیاتی مسائل کو شکار ہو جاتی ہیں۔ ڈسپلن کو انسانی حدو٘ں میں ہونا چاہئیے نہ کہ غیر انسانی حدوں میں۔ تعلیم کا مقصد بہتر انسان پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ بہتر روبوٹس کو۔
      سچ بات یہ ہے کہ ماما پارسی سے زیادہ اب تک مجھے کسی اور اسکول کے بارے میں اتنی باتیں سننے کو نہیں ملیں۔

      Delete
  11. بھئی میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ مزاحیہ نام ہے۔
    :)

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپکو ماما پیاری سی لگ رہا ہے۔ جبکہ یہ پارسی منیجمنٹ کی وجہ سے شاید اسکا نام ہے۔ کراچی میں لڑکیوں کا ایسا اسکول جہاں داخلہ مل جانے پہ والدین اپنے آپکو اور بچی کو خوش قسمت جانتے ہیں۔

      Delete
  12. يہ وکيل کہاں کے پڑھے ہوئے ہيں؟ ايسے سارے کام پنجاب ميں ہی کيوں ہوتے ہيں؟

    Why do Tehrik-e-Insaf lawyers want to ban the country’s favourite soft drink?
    http://blogs.independent.co.uk/2012/02/21/why-do-pakistani-lawyers-want-to-ban-the-countrys-favourite-soft-drink-a-clue-its-made-by-minorities/

    ReplyDelete
    Replies
    1. محض ان وکیلوں کی تعلیم ہی اہم نہیں۔ انکا معاشرتی ماحول بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ماحول یہ ہے کہ مقابلے کی فضا میں رہ کر جیتنے کا جذبہ پالنے کے بجائے سازشوں کے جال بن کر دوسروں کو اڑنگا دے کر گرا دو۔ یقیناً کسی اور کی پروڈکٹ کو اتنی پذیرائ نہیں مل رہی ہو گی۔ اس لئے یہ شوشہ چھوڑا گیا۔ اقلیت اس لئے آسانی سے نشانہ بن جاتے ہیں کہ اکثریت کو انہیں دبا لینا آسان ہوتا ہے۔ اس سے اکثریت کو ایک نفسیاتی برتری بھی ملتی ہے کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ لیکن اے کاش کے وہ اس برتری کو مثبت مصرف میں لاتے۔

      Delete
  13. بہت خوب تحریر ہے کاش ایسا ہوتا کہ انٹرنیٹ پر پاکستان کے کم از کم بڑے شہروں میں جو اسکولز وغیرہ ہیں ان کے حوالے سے کوئی معلوماتی فورم موجود ہوتا جہاں لوگ اپنے خیالات و تجربات بیان کر سکتے، تاکہ نئے لوگوں و والدین کو اس سلسلے میں بنیادی معلومات مل سکتیں۔
    جہاں تک کرچی میں موجود مشنری اسکولوں کا تعلق ہے اس وقت سینٹ پیٹرک، سینٹ پال وغیرہ کا تو برا حال ہو چکا ہے تعلیمی کارکردگی بہت خراب ہے اور اخلاقی حالات بھی تباہ ہیں، سینٹ مائیکل کلفٹن میں موجود ایک نئے طرز کا مشنری اسکول ہے لیکن اس کی فیس کافی زیادہ ہے اور تعلیم بھی کچھ اتنی زیادہ اچھی نہیں، حیرانی کی بات ہے کہ جنریشنز کا تذکرہ نہ جانے کیوں آپ نے کچھ منفی انداز سے کیا ہے ورنہ تعلیمی کارکردگی میں یہ بہت اسکولوں سے بہت اچھا ہے، ہاں اس کی فیس بہت زیادہ ہے، پھر بیکن ہاوس اور سٹی تو مکمل کمرشل اسکول ہیں جہاں کوئی بنگلہ اچھی لوکیشن پر ان کو مل گیا لو جی کھل گئی ایک عدد نئی برانچ اور بھرتی کر لیے انہوں نے ادھر ادھر سے ٹیچر، اسی لیے ان دونوں اسکولز کی جتنی برانچز ہیں ہی ان میں تعلیم کا معیار مختلف ہے تاہم زیادہ پوش علاقوں میں بالخصوص سٹی کی پی اے ایف چیپٹر برانچ کی اخلاقی حالت مکمل تباہ ہے ایسے ایسے واقعات سنے ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ ماما پارسی و بی وی ایس یہ دونوں اسکولز اپنی اعلی تعلیم و ڈسپلن دونوں کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن جیسا آپ نے اوپر نشاندہی کی کہ ڈسپلن بھی ایک حد میں اچھا لگتا ہےاور کبھی کبھی ان دونوں اسکولز کو ڈسپلن کا ہیضہ ہو جاتا ہے۔ ایک اور اچھا اسکول ہے حبیب پبلک اسکول جس کی خاص بات اچھی تعلم اور کھیلوں کی بہت اچھی فیسیلیٹیز ہیں، بچہ دماغی اور جسمانی دونوں طور پر صحت مند رہتا ہے بس ذرا بچے پر والدین کو نگاہ رکھنا پڑی ہے ورنہ وہ کبھی کبھی کھیل کو پیارا ہوجاتا ہے۔
    کراچی کا ایک اور اسکول بے یو اسکول ہے جس کے بارے میں سنا ہے کہ بچے کی پیدائش سے پہلے ہی وہان بکنگ کروانا پڑتی ہے وااللہ تعالی اعلم

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ