ستمبر کی ستمگر گرمی کے دن، میں منی بس میں خواتین کے رش کے درمیان گھسی خدا سے اس دعا کی قبولیت کی منتظرکہ اپنا بس اسٹاپ جلدی سے آجائے۔ اچانک کانوں میں قرآن کی تلاوت کی آواز ٹکراتی ہے۔ دیکھتی ہوں ایک کونے میں ایک حجاب دار برقعے میں ملبوس خاتون کے برابر ایک چھ سات سال کا بچہ سیپارہ کھولے بیٹھا ہے اور پڑھ رہا ہے وہ خاتون اسکی تصحیح کراتی جاتی ہیں۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد اس بچے کی چھٹی ہوتی ہے اور اسکے فوراً بعد وہ خاتون اپنے پڑوس میں بیٹھی ہوئ خاتون سے مخاطب ہوتی ہیں۔
کیا آپ مسلمان ہیں؟ وہ خاتون اس حملے کے لئےتیار نہ تھیں ایک شش و پنج میں انکے حجاب دار چہرے کو پڑھنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ جی ہاں میں مسلمان ہوں۔ فرمایا، سچ سچ، پورے یقین سے بتائیے کیا آپ مسلمان ہیں؟ جی ہاں الحمد للہ میں مسلمان ہوں۔ تو پھر، حجاب والی خاتون نے کہا ، آپ نے ناخن کیوں بڑھائے ہوئے ہیں اور نیل پالش کیوں لگائ ہوئ ہے۔ مسلمان عورت کو اس طرح نہیں کرنا چاہئیے۔ وہ خاتون انہیں ہکا بکا دیکھتی رہیں۔ پھر انہوں نے ان سے کہا وعدہ کیجئیے کہ ابھی آپ گھر جا کر اپنے ناخن کاٹ کر نیل پالش صاف کر لیں گی۔
وہ کہنے لگیں لیکن آپ کا اس سے کیا تعلق؟ جواب، دوسروں کو برائ سے روکنا چاہئیے۔ ایک مسلمان کو دوسروں کو برائ سے روکنا چاہئیے۔ وعدہ کریں، آپ مجھ سے وعدہ کریں۔ آپ میری بہت اچھی بہن ہیں میں آپکی بہت اچھی دوست ہوں مجھ سے اللہ کے نام پہ وعدہ کریں کہ آپ گھر جا کر جو میں نے کہا وہی کریں گی۔ کہیئے ہاں ایسا ہی کریں گی۔ یہ بات انہوں نے اتنے تسلسل سے کہی کہ ان دوسری خاتون نے کہا اچھا، میں ایسا ہی کرونگی۔
بس رکی اور وہ حجاب دار خاتون اپنے بچے کا ہاتھ پکڑ کر نیچے اتر گئیں۔ وہ دوسری خاتون میری دوست تھیں۔
اگلے دن انکے ناخن کٹے ہوئے اور صاف تھے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا چلیں آپ نہ صرف مسلمان ہو گئیں بلکہ کاسمیٹکس کا خرچہ بھی بچا۔ انہوں نے مجھے حیرانی سے دیکھا۔ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ گھر جاتے ہی کاٹ دونگی اور صاف کر لونگی۔ گھر آتے ہی میں نے پہلا کام یہی کیا۔ میں نے ان سے یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ اب ساری زندگی ناخن نہیں بڑھاءونگی یا نیل پالش نہیں لگاءونگی۔ میری مسکراہٹ معدوم ہو گئ۔
یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان دونوں میں، مجھے کون بہتر لگا۔ اس نے جس نے وعدے کی پاسداری کی یا وہ حجاب دار خاتون جو نمود و نمائش کی دلدادہ نظر آئیں اور انہوں نے محض ایک معمولی چیز پہ اگلے شخص کا ایمان جانچنا شروع کر دیا۔
ناخن بڑھانا یا اسے نیل پالش سے رنگنا، اس کا مسلمان ہونے سے کوئ تعلق نہیں۔ میراروشن خیال ذہن کہتا ہے کہ نیل پالش سے وضو نہیں ہوتا۔ اس لئے نماز ادا کرنے میں مسئلہ ہوگا۔ سو اگر کوئ خاتون اس حالت میں ہو کہ اس پہ نماز ساقط ہو جائے تو وہ نیل پالش لگا سکتی ہے۔ یا اگر وہ یہ اہتمام کر سکتی ہے کہ ہر نماز سے پہلے نیل پالش ہٹا لے تو کوئ قباحت نہیں۔ اسی طرح ناخن بڑھانا صحت اور صفائ کے اصولوں سے تعلق رکھتا ہے۔
میں یہ بھی سوچتی ہوں کہ ایک چھ سات سال کے بچے کو دوران سفر اپنے ماحول اور ارد گرد کی دنیا میں دلچسپی لینے کے بجائے تلاوت قرآن میں مصروف رکھنا شدت پسندی کے سوا کچھ نہیں۔
میری اس طرح کی تحاریر پڑھ کر ایک روایت پسند صاحب کسی اور فورم پہ جاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس عورت کو جب چار شوہر کرنا پڑیں گے تو اسے پتہ چلے گا کہ روشن خیالی کیا ہوتی ہے۔ اُس روشن خیال مرد کی بیٹی جب ہر روز ایک نیا بوائے فرینڈ پکڑ کر گھر لائے گی تو پتہ چلے گا کہ روشن خیالی کیا ہوتی ہے۔ ہم خیال پیٹھ ٹھونکتے ہیں کیا اعلی ارشاد ہے۔
میں انکے اس روئیے کوبھی شدت پسندی میں ڈالتی ہوں۔ ایک ایسی شدت پسندی جو حقائق اور مسائل کو منطقی نظر سے دیکھنے کے بجائے اپنے ثقافتی پس منظر یا وراثتی پس منظر سے نہ صرف دیکھنا چاہتی ہے بلکہ اسکے خلاف کسی بھی خیال کو بزور طاقت یا زبان ایکدم ختم کر دینا چاہتی ہے۔ چاہے وہ اس شخص کو ذاتی سطح پہ جانتے بھی نہ ہوں۔ لیکن وہ اس سے ذاتی انتقام کے خواہش مند ہیں۔
یہاں سے میں اس سوال کے جواب میں اپنا حصہ ڈلنا چاہونگی کہ روشن خیالی یا شدت پسندی کو میں کیسے لیتی ہوں۔
روشن خیالی کا الٹ روایت پسندی ہے۔ مگر مطلق روایت پسندی کوئ چیز نہیں اگر ایسا ہوتا تو ہم اب بھی غاروں میں رہتے۔ دنیا یوں نہیں ہوتی، جیسی اب ہے۔
ہمارے بزرگ لال اینٹوں کے پکے مکانات میں رہتے تھے ہم کنکریٹ اور سیمنٹ کے بنے مکانات میں رہتے ہیں۔ ہمارے پرکھ ہل چلاتے تھے ہم ٹریکٹر چلاتے ہِیں، ہمارے آبائ گھر ہوتے تھے جہاں نسلیں پلتی تھیں۔ آج ہم ٹک کر ایک ملک میں نہیں رہ پاتے، ہمارے گھروں میں صحن ضرور ہوتا تھا مگر آج صحن ہونا ایک عیاشی ہے۔ محض پچاس برس پہلے کی دنیا دیکھئیے اور آج کی، روایات ہی نہیں رہن سہن ، طور طریقے اور اقدار سب تبدیل ہو گیا ہے۔
یہ تبدیلیاں یوں لگتا ہے کہ خاموشی سے آتی ہیں مگر دراصل یہ انسانوں کی ضرورت کی وجہ سے آتی ہیں۔ ضرورت اگر شدید ہو تو تبدیلی میں بھی شدت ہوتی ہے۔
تبدیلی مختلف الخیال گروہوں کے آپس میں ملنے سے بھی آتی ہے۔ ایک گروہ جب دوسرے گروہ کو زیادہ خوشحال یا آسان زندگی گذارتے دیکھتا ہے تو شعوری یا لاشعوری طور پہ تبدیلیوں کو اپنانے لگتا ہے۔
تبدیلی اگر خاموشی یا ہمواری سے آئے تو معاشرے کے بنیادی اجزاء اپنی جگہ باقی رہتے ہیں۔ لیکن یہی تبدیلی اگر اچانک آئے تو بہت ساری چیزیں کھو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے جیسے زلزلہ آجائےتو کیا ہوگا؟ بالخصوص اگر رات کے وقت آجائے تو ہم زیادہ نقصان سے دوچار ہونگے۔
اگر ایک معاشرہ لمبے عرصے تک آہستگی سے ہونے والی تبدیلوں کا خوگر نہ رہے تو پھر تبدیلی زلزلے کی صورت آتی ہے۔
جب بھی کوئ تبدیلی اپنا رستہ بناتی ہے تو اسے پہلے سے بے ہوئے رستے سے الگ ہونا پڑتا ہے چاہے یہ عمل آہستہ ہو یا تیز۔ اسی طرح لا شعوری تبدیلیاں تو بہت بعد میں پتہ چلتی ہیں مگر شعوری تبدیلیوں کے لئے معاشرے کو کڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
یوں انسانوں میں دو بنیادی گروہ پیدا ہو جاتے ہیں ایک وہ جو اسی پرانے طریقے پہ قائم رہنا چاہتا ہے کیونکہ اسے نئے راستوں کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ نئ چیلینجنگ صورت حال کے سامنے سے ڈرتا ہے۔ دوسری طرف وہ گروہ ہوتا ہے جو اس نئ صورت حال کو آزما کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔اور وہ اس کے لئے مختلف خطرات سے نبردآزما ہونے سے نہیں ڈرتا۔
مطلق روایت پسندی کوئ چیز نہیں۔ آپ میں سے بیشتر لوگ اپنی آبائ زمینوں کو چھوڑ کر نئ زمینوں پہ نئے آشیانے بنائے بیٹھے ہیں۔ آپ میں سے بیشتر لوگ اب اپنے پرکھوں کی زمینوں کو پلٹ کر نہیں جانا چاہتے۔ یہ کوئ بری بات نہیں ۔ انسانوں کو جامد نہیں رکھا گیا۔ یوں جمود کا تعلق روایت پسندی سے بنتا ہے۔
جب ہم نئ چیزوں سے آشنا ہوتے ہیں تو ہمیں بہت احتیاط اور تفکر سے کام لینا پڑتا ہے۔ کیونکہ اسی سے ہماری بقاء وابستہ ہوتی ہے۔
اگر ہم جنگل میں موجود ہوں اور کسی ایسی طرف موجود ہوں جہاں سے ہمیں اپنا راستہ خود متعین کرنے کی ضرورت پڑے تو ہم اپنے پچھلے تمام تجربات اور آگے پیش آنے والے امکانات کے ساتھ راستہ بناتے ہیں۔ ہو سکتا ہے ایک ایسی صورت میں، آپ اور میں ساتھ ہوں۔ آپ روایت پسند ہوں اور چاہتے ہوں کہ جو پگڈنڈی ملی ہوئ ہے اسی پہ چل کر اگر کچھ ملے تو ملے ورنہ خالی ہاتھ رہنا بہتر ہے۔
میں اس چیز پہ راضی نہیں ہوتی اور سوچتی ہوں کہ اب تک زندگی میں جتنا علم اور تجربہ حاصل کیا ہے اسکو استعمال کرتے ہوئے اس سمت بھی دیکھناچاہئیے جسے نہیں دیکھا، لگتا ہے کہ اس طرح ہم پہلے سے بہتر حالت میں ہونگے۔ لیکن نہیں آپ میرے اس خیال کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ پہلے مجھے پیش آنے والے ممکنہ نتائیج سے ڈراتے ہیں، پھر زبانی کلامی برا بھلا کہتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ دل ہی دل میں دعا بھی کریں کہ ایسے برے حالات سے سابقہ پڑے کہ دماغ ٹھکانے آجائیں۔
اسکی الٹ ایک صورت حال یہ ہوتی کہ میں بھی آپکو ممکنہ نتائج سے ڈراءوں،آپکو سخت اور سست، ڈرپوک اور بزدل کہوں اور ضد پہ آءوں تو آپکو آپکی حالت پہ چھوڑوں اور خود قصد سفر کر لوں۔
سو خیالات کے اس بنیادی فرق سے آپ اور میں ہم سفر نہیں رہتے بلکہ دو علیحدہ راہوں کے راہی بن جاتے ہیں۔
اگر صورت حال اتنی سادہ رہے تو کیا برائ ہے؟
لیکن یہاں کہانی میں ٹوئسٹ آتا ہے اور کہانی لکھنے والا ہم دونوں کے بیچ ایک ایسی چیز ڈال دیتا ہے جس سے ہم دونوں کا مفاد یا زندگی کی بنیادی شرائط وابستہ ہوتی ہیں۔
ہر چیز کہانی نہیں ہوتی اور فکشن کہانی سے زیادہ تلخ اور سنگین ہوتا ہے۔ یوں ہم دونوں کے بیچ ایک نہیں کئ جہتیں نکل آتی ہیں جس کی وجہ سے ہم ایکدوسرے کو دفع دور نہیں کر پاتے۔
جنگل میں ہم ایک دفعہ پھر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
مطلق روایت پسندی کوئ چیز نہیں۔ کسی چیز کو پرانی عینک سے دیکھتے رہنے کے بجائے نئ عینکوں کا استعمال ہو سکتا ہے کہ وہ گوشے سامنے لے آئے جو ہم نے پہلے محسوس نہیں کیئے۔ ہمم، اس بات کا ڈرتو ہوتا ہے کہ نئ عینکوں سے ہمیں جو نظر آئے گا ہو سکتا ہے وہ بہت مہلک ہو۔ لیکن نظر آنا اور چیز ہے اور اس نظر آنے والی چیز کو ذہانت سے اپنے فائدے اپنے استحکام کے لئے استعمال کرنا اور چیز ہے۔ یہی میرے نزدیک روشن خیالی ہے۔ روشن خیالی صرف دیکھنے کے انداز کا نام ہے اس لئے یہ کہنا کہ مطلق روشن خیالی کیا ہوتی ہے لا یعنی بات ہے۔
ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ مطلق لبرلزم یا آزدی کیا ہوتی ہے؟
مطلق لبرلزم اپنا وجود نہیں رکھتا بالکل ایسے ہی جیسے مطلق روایت پسندی اپنا وجود نہیں رکھتی۔ اگر ایک انسان کسی دوسرے انسان کو جب اس کا دل چاہے قتل کر کے کھانا شروع کر دے تو ایسی آزادی کوئ معنی نہیں رکھتی۔
چونکہ میرے اور آپکے بیچ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو مشترکہ ہیں جو ہمیں ایک دوسرے کے اثر سے آزاد نہیں ہونے دیتیں تو ہم مطلق آزادی کا تصور نہیں کر سکتے۔ اسی لئے انسانی معاشروں میں قانون نام کی چیز وجود میں آتی ہے۔ تاکہ ہر شخص آزادی کے مزے سے اس طرح آشنا ہو سکے کہ دوسرے کی آزادی متائثر نہ ہو۔
جب پاکستانی معاشرے میں بنیادی تبدیلیوں کی بات ہوتی ہے اسے کسی طرح لبرلزم سے جوڑ دیا جاتا ہے اور پھر مغرب کی مثالیں پیش کرنا آسان ہوتا ہے۔ پاکستان میں لبرلزم کا وجود نہیں ۔ یہاں معتدل یا موڈریٹ خیالات رکھنے والا طبقہ مٹنے کے مراحل میں ہے اس لئے لبرلزم کا شور مچانے والے اسے صرف فیشن کے طور پہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک ڈراوا ، ایک وہم کہ اگر آپ روایت پسندوں کی پسند پہ نہیں چلتے تو یہ ہے وہ المناک انجام جو سامنے آ ئے گا۔ یوں اصل مسائل مختلف ازموں کی دھند میں لپیٹ دئیے گئے ہیں۔ یہ دھند کچھ لوگوں کا دھندہ چلانے میں خاصی مددگار ہوتی ہے۔ اگر یہ دھند ہٹ جائے تو کچھ دھندے مندے ہو جائیں۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
