Showing posts with label بھارت. Show all posts
Showing posts with label بھارت. Show all posts

Tuesday, November 1, 2011

بیٹی یا بیٹا؟

آپکو بیٹی چاہئیے یا بیٹا؟


تمام حیاتیات اپنے آپکو آگے بڑھانے کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتی ہیں۔ جو حیات پسماندہ ہے وہ غیر جنسی طریقے سے اپنی نسل کو بڑھاتی ہے. ان میں عام طور پہ نر اور مادہ کی تخصیص نہیں ہوتی۔ جبکہ اعلی حیاتیات جنسی طریقے سے بڑھاتی ہے اور وہ نر اور مادہ صنفیں رکھتی ہے۔ سائینس کے نزدیک نر اور مادہ کا امتیاز بس اسی لئے ہے۔ کیونکہ جنسی طریقے سے زیادہ مضبوط نسل سامنے آتی ہے۔
انسان کا شمار سائینسی لحاظ سے تو ہوتا ہی اعلی حیات میں ہے بلکہ تمام مذہبی و ادبی ذرائع میں بھی انسان کو فوقیت دی جاتی ہے۔ لیکن جب ہم انسانی سطح پہ آتے ہیں تو یہاں انسان نے اپنے علیحدہ معیارات بنا رکھے ہیں۔ سب سے پہلا فرق تو جنس کی بنیاد پہ آتا ہے۔
ایک جنس دوسری جنس کے ساتھ کیا برتاءو رکھتی ہے اس کی بنیاد پہ ایک معاشرے کے اندر بہت سارے رسوم و رواج اور رجحانات جنم لیتے ہیں۔
مثلا ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں شادیوں پہ لڑکیوں کو دئیے جانے والے جہیزاور دوسری طرف معاشرتی سطح پہ  لڑکیوں کو ہی نہیں انکے والدین کو بھی مختلف رسوم و رواج کے ذریعے  کمتر ہونے کا احساس دلانا ان چیزوں نے مل کر وہ بھیانک شکل اختیار کی کہ لوگوں کو عافیت اس میں نظر آئ کہ ایک لڑکی کو پیدائیش کے فوراً بعد مار دیا جائے۔ جب الٹرا ساءونڈ کی ٹیکنیک  کی مدد سے بچے کی جنس متعین کرنے میں مدد ملنے لگی تو ان بھارتیوں نے اس پہ اظہار گرمجوشی اس طرح  کیا کہ اب پیدائیش کے بعد نہیں بلکہ پیدائیش سے پہلے ہی لڑکیوں سے فراغت پا لی جاتی ہے۔


قدرت بڑی منتقم مزاج ہے۔ اور اسکا انتقام بڑا سخت ہوتا ہے۔ آج دو ہزار گیارہ میں بھارت میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں لڑکیوں کی کمی کی وجہ سے  لڑکوں کی شادیاں نہیں ہو پارہی ہیں۔ اسکا ایک حل تو یہ نکالا گیا کہ دوسرے علاقوں سے لڑکیاں خرید کر لے آتے ہیں۔ 
اسکے اپنے معاشرتی مسائل ہوتے ہیں کس طرح یہ انجان بولی اور ثقافت رکھنے والی لڑکیاں ایک اجنبی ماحول اور شوہر کے ساتھ گذارا کرتی ہیں۔ اسکا دوسرا بھیانک حل جو اب سامنے آیا ہے اس میں ایک لڑکی کسی ایک بھائ سے شادی کرتی ہے لیکن  در حقیقت اسے تمام بھائیوں کی بیوی بننا پڑتا ہے۔ یہ ایک حقیقت آجکے بھارت کے کچھ حصوں میں ایک کھلا راز ہے جسے سب جانتے ہیں مگر کوئ نہیں جانتا۔ پانڈءووں کی کہانی کو جنم دینے والی اس زمین پہ مشترکہ بیوی کے تصور کی  آبیاری ہونا کیا مشکل ہے۔
اس مثال سے پتہ چلتا ہے کہ کسطرح ترجیحات ایک معاشرے کے رسوم و رواج بلکہ اسکی روح تک کو متائثر کرتی ہیں۔
لوگوں نے بڑی چھان پھٹک کی، اندازے لگائے کہ کیا کوئ طریقہ ایسا ہے جس سے پتہ چل جائے کہ بیٹا کیسے پیدا ہو۔ میری ایک دوست کی والدہ کا کہنا تھا کہ مرد اگر زیادہ عمر میں شادی کریں تو انکے یہاں بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ خواتین جنکی کمر کولہوں کے مقابلے میں زیادہ پتلی ہوتی ہے انکے یہاں بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں، کچھ اسکا تعلق وراثت سے جوڑتے ہیں۔ جس خاندان میں لڑکے زیادہ ہوں وہاں لڑکے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ مگر آپ اور میں ان سب کے غلط ہونے کی ایک نہیں کئ مثالیں سامنے لے آئیں گے۔
لیکن پھر بھی خیال آتا ہے کہ آخر کوئ تو ایسی بات ضرور ہوگی جسکی بناء پہ انسانی جسم میں موجود ایک زندگی اپنی جنس کا تعین کرتی ہوگی۔ بالکل ایسے ہی جیسے  جسم کے باقی افعال کے لئے خدا نے ایک راستہ متعین کیا ہے اسکے لئے بھی ہوگا تو۔
یہ خواہش کوئ غیر فطری نہیں کہ جہاں اللہ نے بیٹیاں دی ہیں وہاں بیٹا بھی ہو۔ لیکن صرف اسی کو زندگی کا مقصد بنا لینا درست نہیں۔ اب اس سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے غور کرتی ہوں کہ ایسے کون سے جوڑے ہیں جنکے یہاں بیٹے زیادہ ہیں اور ایسے کون سے جوڑے ہیں جنکے یہاں بیٹیاں زیادہ ہیں۔ سوچنے لگی کہ وہ مرد جو اسٹریس کا شکار ہوتے ہیں انکے یہاں بیٹیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
میں نے مرد کو کیوں پکڑا؟ 
اس لئے کہ سائینس مطابق،  بچے کی جنس کا تعین کرنے میں مرد کے کروموسومز فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
ابھی اس سوچ کے لئے مثالیں اکٹھی ہی کر رہی تھی کہ  تین دن بعد ایک مضمون پڑھنے کو ملا۔ جس میں کچھ تحقیق دانوں نے یہ نتائج پیش کئے کہ وہ عورتیں جو اسٹریس کا شکار زیادہ ہوتی ہیں انکے یہاں بیٹیاں ہوتی ہیں۔ یہ انہوں نے اپنی شماریات کا اندازہ بتایا ہے۔ اس مضمون میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا انکے شوہروں کے روئیے کو بھی اس میں شامل رکھا گیا تھا یا نہیں۔
خیر جناب، اب یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ بس ہر وقت مست رہنے سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ یہ کارخانہ ء حیاتیات عورت اور مرد دونوں کو مل کر چلانا ہے۔ اس لئے دونوں کی تعداد کا توازن میں ہونا ضروری ہے۔
ہو سکتا ہے کہ سائینس داں کوشش میں ہوں کہ اس بہانے خواتین حالت حمل میں تناءو کا شکار نہ ہونے کی کوشش کریں۔ اگر آپکے شوہر بیٹے کی شدید خواہش میں آپکو زچ کر کے رکھے ہوئے ہیں تو انہیں یہ تحریر پڑھا دیجئیے۔ ممکن ہے کم از کم بچے کے آنے تک آپ سکون سے رہ پائیں۔

Friday, September 16, 2011

دھتکارا ہوا شاعر

وارننگ؛ یہ تحریر خاصی حد تک ناشائستہ مواد پہ مشتمل ہے۔ صرف شائستہ تحاریر پڑھنے والے اگر اسے پڑھتے ہیں تو مزاج میں پیدا ہونے والی کراہت کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔  حساس طبیعت رکھنے والے اس سے گریز کریں۔

اس وارننگ کے بعد میں خود کو اخلاقی طور پہ آزاد سمجھتی ہوں اور موضوع کی طرف آتی ہوں ۔ یہ ایک ایسے شاعر کے متعلق ہے جس نے اپنی شاعری کے لئے ایک نہایت دھتکارا ہوا موضوع چنا، جس پہ شاعر تو کجا عام افراد بھی اشاروں کنایوں میں ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کے معیاری ادب میں اسکے لئے کوئ جگہ نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اردو کے اس شاعر کو شاعرانہ خوبیاں رکھنے کے باوجود آج شاید ہی کوئ جانتا ہو۔ انکے اشعار زیادہ تر سینہ بہ سینہ چلے آنے والے اشعار ہیں۔
  جب ، میں نے جاننا چاہا کہ انکا کوئ  دیوان موجود ہے تو معلوم ہوا کہ امریکہ کی واشنگٹن ڈی سی کی لائبریری میں اسکا ایک نسخہ موجود ہے۔ یہ جان کر کہ امریکہ کی ایک لائبریری میں انکے دیوان کا ایک  نسخہ موجود ہے آتش شوق بھڑک اٹھی۔ میں نے کوشش کی کہ کوئ اس نسخے کی نقل کروا کر وہاں سے لے آئے۔ لیکن ہوا یوں کہ مجھے کراچی میں ہی انکے دو مختلف دیوان مل گئے۔ جو کہ بھارت میں شائع ہوئے۔
برازیات کا یہ شاعر شیخ باقر علی یا جعفر علی قصبہ رودلی کا رہنے والا چرکین تخلص کرتا تھا اور اسی نام سے مشہور ہوا۔ چرکین کا کیا مطلب ہے اسکے لئے اردو کی کوئ بہتر لغت دیکھئیے۔
 اس سے آپکی وسعت الفاظ بہتر ہوگی۔
:)
مرزا قادر بخش صابر انکے بارے میں لکھتے ہیں کہ 
چرکین تخلص ایک شخص ظریف، شوخ مزاج، ساکن لکھنوء کا۔ وہ ہمیشہ سخن پاکیزہ کا دامن نجاست معنوی سے آلودہ رکھتا ۔ یعنی مضامین بول و بزار  اس طرح شعر میں باندھتا کہ زمین سخن کو گُوہ گڑھیا بنا دیتا۔ اسکی قوت شامہ یک قلم باطل ہو گئ تھی کہ اس غلاظت سے بے دماغ نہ ہوتا تھا۔ انصاف تو یہ ہے کہ ابیات میں ہر چند گوہ اچھالتا اور کاغذ کے ہر گوشے میں پیشاب کی نالی بہاتا تھا لیکن کوئ لطیف مزاج اس سے دماغ بند نہ کرتا تھا اور کوئ پاکیزہ طبع اس سے گھن نہ کھاتا تھا۔ گویا بحر شعر نے اس نجاست کو بہا دیا تھا۔
شرط سلیقہ ہے ہراک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے

انکے بارے میں خاصی کہانیاں مشہورہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میاں چرکین بہت بلند پایہ شاعر تھے۔ کلام بہت عمدہ اور پاکیزہ ہوتا تھا۔ مگر لوگ آپکا کلام چرا کر اپنے نام سے پڑھا کرتے تھے۔ جسکی وجہ سے میاں چرکین نے عاجز آ کر اپنی شاعری کا رنگ بدل دیا اور ایسے اشعار کہنے لگے جس میں گندگی کا ذکر ضرور ہوتا۔ لیکن اس کلام میں بھی تمام شاعرانہ صفات بدرجہ ء اتم موجود ہوتی تھیں۔ یہ بہرحال ایک کہانی ہی ہے مکمل صداقت نہیں۔ شاعرانہ خوبیوں کے لئے کچھ نمونہ ء کلام حاضر ہے۔

سلسل البول کی مانند رہے ڈاک رواں
اتنے خط لکھوں زمانے سے ہو کاغذ عنقا

رو زو شب ہگنے سے تم اسکے خفا رہتے تھے
مہترو خوش رہو، چرکیں نے وطن چھوڑا ہے

روک کر گھوڑے کو اس نے مری تربت پہ کہا
لید کرنی ہو تو کرلے تُو یہی تھوڑی سی

قبر پہ آکے بھی اس بت نے نہ مُوتا افسوس
کام کچھ اپنے  نہ مرگ شب ہجراں آئ

اپنے ہی سڑے ٹکڑوں پہ کی ہم نے قناعت
چکھا نہ متنجن کسی نواب کے خواں کا

مقصود عالم مقصود جو کہ ایک طرح سے غالب کے شاگرد تھے انہیں چرکین کی نادر ترکیبوں ، الفاظ، فقرے اور محاوروں نے کھینچا ہوگا جو اب نہیں بولی جاتی اور انہوں نے چرکین کے مرنے کے پچیس سال بعد انکا کلام ایک جگہ اکٹھا کر کے اسے دیوان کی شکل دی۔ یوں یہ محفوظ ہوا مگر لوگوں کی لائبریریوں میں نمایاں جگہ نہ پا سکا۔
انکی بولی دیوان خانے یا شائستہ آنگن کی نہیں نالی، کوڑا گھر، سنڈاس، بول و بزار وغیرہ کی ہے۔ بول و بزار کے علاقے کے الفاظ جنکے سلسلے میں لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ انکو چرکین نے اپنے کلام میں محفوظ کیا اور بیت الخلاء کے آداب کی ایک اہم دستاویز چھوڑی۔
چرکین نے بول و بزار کے مضامین کے لئے سوقیانہ یا کوئ خراب زبان نہیں لکھی۔انکا کلام معیاری اردو میں ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو اس زمانے میں آتش، ناسخ اور مصحفی وغیرہ کی تھی۔ایک ایک مصرعہ تراشا ہوا، شعر میں چستی اور زائد یا بھرتی کے الفاظ سے پاک مضامین آلودہ لیکن کلام میں غضب کی روانی ہے۔ چرکین کے کلام کو بلا تعصب، صبر اور برداشت سے پڑھے بغیر انکے فن کی قدر نہیں جانی سکتی۔ 
بقول اردو کے مایہ ناز ادیب شمس الرحمن فاروقی، اگر کلام کے ذریعے جنسی لذت پیدا کرنے یا حاصل کرنے کی شرط کو اہم قرار دیں تو چرکین کا کوئ شعر مشکل سے فحش کہلائے گا۔خلاف تہذیب ہونا اور بات لیکن کوئ شعر ایسا نہیں کہ اسے بچوں یا بہو بیٹیوں کے سامنے پڑھایا نہ جا سکے یا انکے سامنے پڑھا نہ جا سکے۔
لیکن ہمیں پھر بھی کلام کی اس نوعیت پہ حیرت یا تعجب ہوتا ہے۔ کچھ اور لوگوں کو کچھ اور باتوں پہ ہوتا ہے مثلاً بائرن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوالہ منہ میں ڈالنے، چبانے اور حلق سے اتارنے کو اس قدر غیر نفیس فعل سمجھتا تھا کہ کسی عورت کو کچھ کھاتے پیتے نہ دیکھ سکتا تھا۔ جبکہ جرمن ناول نگار پیٹرک سسکنڈ لکھتے ہیں کہ 
میں اپنے بچپن میں یہ سوچ سوچ کر حیران رہ جاتا تھا کہ ناولوں کے کرداروں کو کبھی بیت الخلاء جاتے کیوں نہیں دکھایا جاتا۔ اسی طرح پریوں کے قصے ہوں یا اوپرا، ڈراما ہو یا فلمیں یا پھر بصری آرٹ کی مختلف شکلیں ان میں کسی کو بھی رفع حاجت کی ضرورت کیوں نہیں پیش آتی۔ انسان کی زندگی میں پیشاب یا پاخانے کا عمل جو زندگی کا سب اہم اور انتہائ ضروری معمول ہے وہ آخر آرٹ کی دنیا میں اپنی جگہ کیوں نہیں بنا سکا۔
قادر بخش صابر مزید لکھتے ہیں کہ
اوائل حال میں تو اس نے یہ وضع ہزل سمجھ کر اختیار کی یعنی مذاق میں۔ لیکن رفتہ رفتہ اس قال کو حال بنا لیامدام لباس چرک پہنتا اور ایسی میلی کچیلی وضع رکھتا کہ اجنبی اس کو سچ مچ کا حلال خور سمجھتے۔حق یہ ہے کہ جو ابتداء میں کہتا تھا وہ آخر میں کر دکھایا۔ آخر الامر لال بیگ کی صحبت اور گوگا پیر کی ہم نشینی کے شوق میں شہر کے پاکیزہ مقامات سے بھاگ کر صد ہا آرزو کا ٹوکرا سر پر رکھے ہوئے بہ طریق پا تراب کے جنگل کے کسی کوڑے پر اول منزل کی۔

مزید شعر حاضر ہیں
خیال زلف بتاں میں جو پیچ کھاتے ہیں
مروڑے ہو ہو کے پیچش کے دست آتے ہیں

کسی کے پاد سے اڑتے نہ کنکری دیکھی
اڑائے دیتا ہے چرکیں پہاڑ پھسکی سے

وہ جنتی ہے مرے جو مرض سے دستوں کے
ہے یہ ثواب تو باز آئے اس صواب سے ہم

عبث بدنامیوں کا ٹوکرہ سر پر اٹھانا ہے 
لگانا دل کا بس جھک مارنا اور گُو کا کھانا ہے

چرکین سے کسی نے ایک دفعہ کہا کہ دنیا کے ہر موضوع کوبول و بزار کی زبان میں بیان کر سکتے ہو تو ذرا حضرت علی کی بہادری کو بیان کر دکھاءو۔ شعر ملا۔
رن میں جس دم تیغ کھینچی حیدر کرّار نے 
ہگ دیا دہشت کے مارے لشکر کفار نے
یہ مصرعہ اس طرح بھی ملتا ہے،  ہڑبڑا کر ہگ دیا ، لشکر کفار نے۔

نوٹ اس تحریر کا ماخذ ابرار الحق شاطر گورکھپوری کا مرتب کردہ دیوان چرکین ہے جس میں انہوں نےچرکین کا ادبی پس منظر اور تاریخ بھی دی ہے اور جس کا مقدمہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ۔

Monday, May 9, 2011

یاد کا جادو

ہمارے گھر کے مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پہ جنات کا سایہ ہے'۔ 'تو آپ اسے بدل کیوں نہیں دیتے'۔ نجمہ خالہ نے اپنے ماموں کی اس بات کو جیسے کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا۔ 'ارے بھئ، ہمارے دادا کا گھر ہے وہ۔ اب اس میں ہماری چوتھی پشت رہ رہی ہے'۔ ماموں نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی۔ 'ائے چھوڑیں، ہردوسرا شخص کسی بیماری کا شکار ہے ہر تیسرا شخص ذہنی طور پہ بیمار ہے چوتھی پشت رہ رہی ہے۔ پانچویں پشت باقی بچے گی تو رہے گی۔ ہمیں دیکھیں، تیس سال کے عرصے میں چار گھر خریدے اور ان میں رہے پھر بدل دئیے'۔  خالہ نے پرس میں اپنا موبائل فون تلاش کرتے ہوئے کہا۔
'یہ جائیداد کا خریدنا بڑا مشکل کام ہے'۔  ماموں نے جان چھڑانی چاہی۔ 'ماموں آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ میں ایک عورت ہوں، شوہر کے انتقال کو بھی سترہ سال ہو گئے۔ انکے بعد بھی دو گھر میں نے  یکے بعد دیگرے خریدے۔ انہیں تلاش کیا، اس چکر میں اسٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ درجنوں گھر دیکھے۔ پھر جا کر پسند آئے۔ اسکے بعد وہاں جانے سے پہلے انکی مرمت، رنگ و روغن اور ان میں کچھ تبدیلیاں بھی کرائیں۔ یہ سب کام میں نے اکیلے کیا'۔ خالہ نے فخر سے کہا۔ 'کرنے پہ آئے تو انسان کیا نہیں کر سکتا'۔ میں خاموشی سے گفتگو سنتی رہی۔ خیال تھا کہ بات کسی طرح گھوم کر جنات پہ پہنچے گی۔ اور ہم جان سکیں گے کہ اس گھر میں جنات کا کیسے پتہ چلا؟ وہ کیا کرتے ہیں؟ کس نے انہیں دیکھا؟ اور یہ سارے مصائب انکی وجہ سے کیوں ہیں؟؟؟؟؟؟
یہ خالہ ہماری سگی خالہ نہیں۔ بس ہماری اماں سے کچھ بچپن کی دوستی کا تعلق  ہے۔ سو ہمارے بچپن میں بھی ساجھا کر لیا ۔
تو تم بڑی عقلمند سمجھتی ہو اپنے آپکو'۔ ماموں نے ایک بھولپن سے اپنی بھانجی سے کہا۔
اس مرحلے پہ کسی نے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔ 'ہماری اماں کا انتقال ایک سو سات سال کی عمر میں ہوا'۔ ماموں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ بس اب میری باری تھی۔ جنات ہاتھ نہیں آئے تو کیا ہوا عمر کا حساب بھی کچھ کم نہیں۔ 'ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟'  'ہاں آپ لوگوں کو کیسے یقین آ سکتا ہے آپ نے انہیں کہاں دیکھا؟ پھر آجکی نسل کو ایسی باتوں پہ یقین کہاں آتا ہے' 'میں نے انہیں دیکھا تھا۔ اپنے بچپن میں، وہ ایک بہت کام کاجو خاتون تھیں'۔ میں نے نکتہ ء اعتراض کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ 'پہلی دفعہ لکھنوء سے پاکستان آئیں تو گھر بھر کی رضائیاں کھلوا کر بیٹھی ہوئیں تھیں۔ اتنی تندرست اور صحیح تھیں کہ  خود بیٹھی ان میں ڈورے ڈال رہی تھیں یا ڈلوا رہی تھیں۔ میں تو یقین نہیں کر سکتی کہ وہ ایک سو سات سال کی تھیں'۔
ہم ہیں ان کے بیٹے اور بتا رہ ہیں کہ ایک سو سات سال کی تھیں۔ ہم صحیح ہوں گے یا آپ'۔ وہ اپنے دھیمے لہجے میں گویا ہوئے۔
انکی سب سے بڑی بیٹی یعنی خالہ کی امی کی عمر اس وقت پچھتر سال کے قریب ہے۔  آپکی امی یعنی خالہ کی نانی ، انکی شادی میں نے سنا ہے کہ اس وقت کے مروجہ طریقے کے مطابق چودہ پندہ سال کی عمر میں ہو گئ تھی۔ اب اگر آپکی امی زندہ ہوتیں تو زیادہ سے زیادہ نوے سال کی ہوتیں۔ اب جبکہ انکے انتقال کو پانچ سال ہو گئے ہیں میرا اندازہ ہے کہ انکی عمر پچاسی سال ہوگی'۔ میں نے حساب کتاب کے تیز رفتار گھوڑے دوڑا دئیے۔
یہ تم سے کس نے کہا کہ انکی بیٹی کی عمر اس وقت پچھتر سال ہے۔ وہ میری بہن ہیں۔ مجھ سے پندرہ سال بڑی۔ میں اس وقت پچھتر سال کا ہو چکا ہوں۔ ماموں نے ایک اور اعتراض کیا۔
لیجیئے جناب عمر کا ایک نیا چکر شروع ہوا۔ میں نے کہا خالہ آپکی بھانجی ہیں۔ یہ لوگ سن چونسٹھ میں پاکستان آئے ہیں ۔ خالہ کی امی یعنی آپکی بڑی بہن کہتی ہیں کہ جس وقت وہ یہاں آئیں تو آپ گیارہ بارہ سال کے تھے۔ اب یہ بات تو ہم نے اتنی تسلسل سے سنی ہے کہ  غلط نہیں ہو سکتی' ۔ تائید کے لئے میں نے انکی بھانجی اور بڑی بہن کی طرف دیکھا ان لوگوں نے گردن ہلائ، تائید میں۔' اب آپ بتائیے ، اگر آپ اس وقت پچھتر سال کے ہیں تو سن چونسٹھ میں آپکی عمر، ایک سادہ سے حساب سےپچیس سال کے قریب بنتی ہے۔ پھر تو آپکو ہر چیز  خاصی  یاد ہونی چاہئیے'۔
ماموں ، میری شکل دیکھنے لگے۔ بہن کی ہجرت کے حوالے سے انکا خاکہ زیادہ واضح نہیں تھا۔ یہ بات تو ماننی پڑتی کہ ایک پچیس سال کے شخص کو یہ چیزیں درستی سے یاد ہوں۔ خاص طور پہ اپنی بڑی بہن کے متعلق۔' نہ آپ پچھتر سال کے ہیں اور نہ آپکی امی کا انتقال ایک سو سات کی عمر میں ہوا۔ آپکی عمر اس وقت ساٹھ سال کے قریب ہے، آپکی بڑی بہن پچھتر سال کی اور امی کا انتقال پچاسی سال کی عمر میں ہوا'۔
بڑی عجیب خواتین ہیں آپ۔  یہ کراچی میں گندم کہاں سے آتا ہے؟'۔ یہ کہہ کر ایک بھولپن سے مسکرانے لگے۔ شاید سوچ رہے ہوں کہ عمر رفتہ کا حساب تو بڑا آسان ہے پھر ہم کاہے کو ایک گورکھ دھندے میں پھنسے رہے۔
دو ہفتے بعد میں نے سنا کہ واپس جا رہے ہیں اپنے وطن بھارت۔ 
سوچا ایک دفعہ پھر ملاقات کی جائے۔ ایک دفعہ پھر اسی کمرے میں لیکن اس دفعہ مختلف لوگ بیٹھے تھے۔ گفتگو کچھ ماضی اور مستقبل کے دو نہ چھونے والے دائروں میں گھوم رہی تھی۔ کبھی چھلانگ کر اس طرف کبھی چھلانگ لگا کر اس طرف۔ ایسے میں اسے حال کے کرداروں کی انگلی پکڑنی پڑتی۔ ماموں نے ایک آہ بھری۔ 'پینتالیس سال ہو گئے ہماری بہن کو ادھر آئے تو ہم پہلی دفعہ آنے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھیں آ پاتے ہیں یا نہیں'۔ 'ارے نہیں صاحب، خدا آپکو لمبی عمر دے۔ سنا ہے آپکی والدہ  نے بھی کافی لمبی عمر پائ تھی'۔
اسی بچوں جیسی سادگی سے کہنے لگے، 'جی ہاں ماشاءاللہ ایک سو سات سال کی عمر میں انتقال ہوا انکا'۔
وہ جھوٹ نہیں کہہ رہے تھے۔ یادداشت کے طلسم ہوش رُبا میں کہیں کہیں انسان پتھر کا ہو جاتا ہے۔ نہ اس سے آگے دیکھ پاتا ہے نہ پیچھے۔

Tuesday, July 20, 2010

آشنائیاں کیا کیا

بنگلہ دیش کبھی پاکستان کا ہی حصہ تھا۔ اور آزادی کی جدو جہد دونوں حصوں کے لئے کی گئ اور دونوں ممالک کے لوگوں نے تاریخی طور پہ حصہ لیا۔ لیکن حالات ایسے رہے کہ مشرقی پاکستان انیس سو اکہتر میں بنگلہ دیش بن گیا۔ اور اس واقعے پہ مسرور اس وقت کی بھارتی رہ نما اندرا گاندھی نے اس دن کہا کہ آج کے دن نظریہ ء پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے۔
اسی بنگلہ دیش سے موصول حالیہ دو خبریں پاکستانی منظر نامے کے لئے اہم ہیں۔
پہلی خبر سیاسی پس منظر رکھتی ہے۔

مولانا مودودی صاحب کی تمام تصنیفات پہ بنگلہ دیش میں پابندی لگا دی گئ ہے۔

اور تقریباً چوبیس ہزار لائبریریوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ انکی کتابیں ہٹادیں۔
وجہ یہ بتائ گئ ہے کہ انکی تصنیفات عسکریت پسندی اور دہشت گردی کی ترویج کرتی ہیں۔ اور یہ کہ انکے نظرئیے پہ چلنے والی جماعت حصول اقتدار کے لئے اسلام کا نام استعمال کرتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے یہ لنک  دیکھ سکتے ہیں۔
یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد نئے ملک نے اپنے آئین کو سیکولر رکھا کہ ملک میں غیر مسلموں کی خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔ لیکن نئ مملکت بننے کے چالیس سال بعد اس پابندی کی کیا ضرورت آ پڑی؟ پچھلےپندرہ بیس سالوں میں بنگلہ دیش میں بھی انتہا پسندی میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ اسکی وجہ؟
ایک اور اہم سوال، کیا اس قسم کی پابندیاں بنیادی حقائق کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں؟
دوسری خبر، معاشرتی حالات سے متعلق ہے۔ اور وہ ہے بنگلہ دیش میں خواتین کو جنسی بنیاد پہ ہراساں کرنے کے واقعات میں شدت۔ اسکی وجہ سے خواتین میں خودکشی کا رجحان بہت زیادہ  بڑھا ہے اور نہ صرف نو عمر لڑکیاں بلکہ انکے والدین بھی بدنامی کے خوف سے ایسا کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس سال اب تک بائیس لڑکیاں اس سلسلے میں خودکشی کر چکی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق اسی طرح کے واقعے میں ایک ٹین ایجر لڑکی کو پٹرول ڈال کر آگ لگا دی گئ۔ کیونکہ اس نے آگ لگانےنے والے کے بھیجے گئےشادی کے رشتے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ لڑکی مر گئ یہ کہہ کر کہ اسے اس حالت تک پہنچانے والے کو ہر ممکن سزا دی جائے۔ یہ خبر ہم میں سے بیشتر  کو سنی سنی سی لگے گی۔ صرف پٹرول کو تیزاب سے بدلنے کی ضرورت ہے۔

ایک خاتون وکیل کے بقول اس طرز عمل نے ہمارے لئے بے پناہ مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ ایک طرف یہ جارحانہ رویہ ہے اور دوسری طرف ان حالات میں والدین اور معاشرہ لڑکیوں میں ہی خامیاں نکالتا ہے اور انہیں مزید دباءو میں رکھتا ہے۔ مثلاً ہنسی کیوں تھیں۔ سر جھکا کر کیوں نہیں چلتیں،   مردوں کے جارحانہ ردعمل  کی وجہ خواتین کی لاپرواہی ہوتی ہے۔  یہ بھی آپکو سنا سنا سا لگے گا۔
ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے تیسرے ملک کے حالات بھی اس سے مختلف نہیں۔
بھارتی فلموں کی آزاد روی سے الگ دہلی جیسے دارالحکومت میں کوئ خاتون رات کو آٹھ بجے کے بعد تنہا نہیں نکل سکتی۔ یہ بات میں نے ایک محفل میں ایک ایسی خاتون سے سنی جو کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں دہلی گئ تھیں۔
ان حالات کو جان کر مجھے تو کراچی ایکدم جنت لگتا یے جہاں خواتین کی اکثریت تعلیمی اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے وابستہ ہے روزانہ خواتین لاکھوں کی تعداد میں اپنے گھروں سے نکلتی ہیں اور اکثر بس اسٹاپس پہ خواتن تنہا کھڑے نظر آتی ہیں۔ اورعمومی طور پہ ایک ایسی ہراساں کر دینے والی صورت نہیں کہ ابا ، بھائ اور شوہر کے حفاظتی حصار کے بغیر کچھ نہ کیا سکے۔
لیکن بنگلہ دیش میں ہونے والے یہ واقعات ہمیں کیوں سنے سنے سے لگتے ہیں؟