Showing posts with label City Nazim Karachi. Show all posts
Showing posts with label City Nazim Karachi. Show all posts

Thursday, September 10, 2009

جناب میئر

حالانکہ میں اپنی ایک اہم  پوسٹ کے لئے مواد اکٹھا کر رہی تھی لیکن کل جب میری نظر اتفاق سے ایک ویڈیو پر پڑی تو میں رک گئ۔میں عام طور سے ویڈیو دیکھنے سے اجتناب برتتی ہوں لیکن اسے دیکھنا پڑا کہ یہ ہمارے شہر کہ ایک محنتی میئر کاچہرہ لئیے ہوئے تھی۔
جناب مئیر، ہم سب آپ پر بڑا فخر کرتے ہیں۔ اس ویڈیو پہ نظر آنے والے واقعات کے پس منظر سے الگ میں تو صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اب تک جو کچھ بھی کیا اس شہر کے مکینوں کے لئے کیا۔ اس لئے بھی کیا کہ اس سے آپ موجودہ اور آنیوالے لوگوں کے لئے ایک مثال قائم کر دیں۔ اور اس لئے بھی کہ قدرت نے آپکو یہ موقع فراہم کیا کہ آپ اس شہر اور اسکے رہنے والوں کو ان سہولیات کے قریب لے آئیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ مگر ہوا یوں کہ آفیشل ورک میں دن رات الجھے رہنے کی وجہ سے آپ یہ بھول گئے کہ آپ اسوقت اپنے آفس میں  کسی عہدیدار کو اسکی ناہلیت کا احساس نہیں دلارہے ہیں بلکہ ان غریب عورتوں سے بات کر رہے ہیں جن سے یہ شہر، یہ ملک  بھرا ہوا ہے۔ مصائب اور مسائل میں پھنسےہوئے یہ لوگ بس اسی طرح چیخ سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپکے پاس بڑے غصے والے مان میں آئیں ہوں کہ یہی ہے وہ شخص جس کو ہم اپنا غصہ دکھائیں گے تو وہ اسکی لاج رکھے گا۔
کچھ عرصہ پہلے صدر میں میری گاڑی پارکنگ میں سے اٹھالی گئ۔ جبکہ باقی سب گاڑیاں وہان اسی طرح موجود تھی۔ جب میں وہاں پہنچی کہ میری گاڑی کو کیوں اٹھا لیا گیا ہے تو جواب ملا کہ نو پارکنگ ایریا میں کھڑی تھی اس لئے۔ میں شدید گرمی سے ویسے ہی بے حال تھی مجھے شدید غصہ آیا۔ وہاں ایک میل دور تک کہیں نو پارکنگ کا بورڈ یا سائن تک نہ تھااور باقی دس گاڑیاں وہاں کیوں چھوڑ دی گئیں۔ میں نے اس وقت اپنے دھان پان وجود میں سے پوری آواز نکالی اور کہا کہ فوراً میری گاڑی ریلیز کریں ورنہ میں ابھی یہاں سے سیدھے مصطفے کمال کے پاس جا کر پوچھونگی کہ کراچی میں کون سا پارکنگ کا قانون چل رہا ہے۔ آپ جانتے ہیں میں نے ایسا کیوں کہا ۔ کیوں کہ مجھے امید تھی کہ آپ کے آفس میں میری اس بات کو  اور اس دلیل کو ضرور سنا جائیگا چاہے صرف میرا دل رکھنے کو۔
بہت ممکن ہے کہ ان خواتین کو آپکا امیج بگاڑنے کے لئے بھیجا گیا ہو۔ لیکن پھر آپ اس طرح کے ٹریپ میں کیوں آگئے۔ اس معاملے سے نبٹنے کے اور بہت سے مدبرانہ طریقے ہو سکتے تھے۔ آپکو اپنے ذاتی عملے کو جو آپکے ساتھ ہر وقت رہتا ہے اسکی ٹریننگ کروانی چاہئیے تاکہ ہجوم میں کس شخص کو آپکے پاس آنا ہے وہ اسے مانیٹر کر سکے۔ دوسر ایسے ماہرین بھی آپ کے ساتھ ہونے چاہئیں جو کہ ایسے لوگوں کو منظر سے بغیر کسی افراتفری کے ہٹانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ جب آپکا سامنا ہی دن رات عوام کے مسائل سے رہتا ہے تو انکو سنبھالنے کا طریقہ بھی آپکو آنا چاہئیے۔
یہ بالکل کوئ دلیل نہیں کہ چونکہ آپ پانچ روپے کے بدلے کسی کو بیس ہزار کی سہولیات دے رہے ہیں تو اسکے ساتھ جس طرح کا سلوک دل چاہے روا رکھیں۔ آج آپکی جو بھی عزت اور مرتبہ ہے وہ انہی لوگوں کی غربت اور کمزوریوں کی وجہ سے ہے۔ اگر یہ لوگ اتنے غریب نہ ہوتے اور اگر ہمارے ملک میں لوگوں کو عرصہ ء دراز سے انکے حقوق سے محروم رکھنے کی سازش نہ کی جا رہی ہوتی تو کیا یہ آپکے پاس آتے۔ اگر یہ پل اور روڈز آج سے دس سال پہلے بنائے گئے ہوتے تو انکا کوئ بھی کریڈٹ آپکو نہ ملتا۔ اب جب کہ قدرت نے آپ کو لوگوں کے دل جیتنے کے موقع سےنوازا ہے تو اسے ضائع نہ کریں۔
چلیں اب بگڑے کو جانیں دیں ، کسی بھی صحیح کام کو کرنے کا  کوئ آخری وقت نہیں ہوتا۔ میں نے سوچا کہ اگر آپکی جگہ میں میئر ہوتی تو ایسے واقعے کے پیش آنے کے بعد میں کیا کرتی جس میں میرے عملے کی ہوسکتا ہے کہ کوتاہی بھی شامل ہو۔ میرا خیال ہے کہ میں ایک پریس کانفرنس کرتی اور اس میں ان خواتین سے اسکی معافی مانگ لیتی  اپنے اس سخت روئیے کی جو میں نے ایک دنیا کے سامنے ان سے برتا۔ کبھی کبھی پیچھے ہٹ جانے سے ہم بہت آگے نکل آتے ہیں۔