Showing posts with label میڈیا. Show all posts
Showing posts with label میڈیا. Show all posts

Monday, October 1, 2012

ڈنگ ڈونگ

ہر اچھا اور برا وقت گذر جاتا ہے کل کا دن بھی گذر گیا۔ ایک اور چبھتی ہوئ یاد۔ فیس بک پہ اب تک اسکی  چبھن باقی ہے۔ جب بھی ہم روائیتی حریف کے سامنے ہوتے ہیں دنیا کو لگ پتہ جاتا ہے کہ آج  کیا ہونے والا ہے۔ کسی زمانے میں شیر کی آ٘د کا پتہ رن کے کانپنے سے چلتا تھا۔ کس شیر کی ٘آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے اب یہ کام میڈیا انجام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب روڈ پہ سے گذری تو حیران تھی کہ اتنا چھوٹا شامیانہ لگا کر اور اتنی ساری کرسیاں بچھا کر کس تقریب کا اہتمام ہو رہا ہے۔ نوجوان اب بھی ایم کیو ایم کے اتنے دیوانے ہیں۔ واپسی پہ معمہ حل ہوا،  شامیانے کا سائز اسکرین کے سائز جتنا تھا اور کرسیاں ہی کیا لوگ اسکے چاروں طرف کھڑے تھے۔ 
گھر واپس آکر دیکھا کہ لاءونج کا صوفہ ٹی وی سے ایک نامعقول فاصلے پہ رکھا ہوا ہے اور آگے پیر ٹکانے کے اسٹول رکھے ہوئے ہیں۔ آنکھیں جمی ہیں، میچ چل رہا ہے۔
مجھے تو ٹی ٹوئینٹی میچ  کرکٹ کا ساشے پیکٹ لگتا ہے۔ آخر اسکے لئے گیارہ کھلاڑیوں کی کیا ضرورت ہے؟ یعنی رومال بنانے کے لئے پورا تھان لیں۔ یہ اسی صورت نظر انداز کیا جا سکتا ہے جب فیس بک اور ٹوئٹر بھی ساتھ ساتھ رواں دواں ہوں۔ 
فیس بک سے اندازہ ہوا کہ میچ میں پاکستان کی ہار کا منظر ابھرتے ہوئے ہی کچھ کمزور دل حضرات ٹی وی کے آگے سے اٹھ گئے۔ کچھ نے جائے نماز سنبھالی لیکن میچ کے اختتام پہ کچھ دہرئیے والے کلمات کہتے پائے گئے۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو سوچنا چاہئیے کہ انکی وجہ سے کچھ لوگ دعا اور رب دونوں سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ جسکا عذاب انکے سر پہ ہوگا۔ کچھ خواتین رونے لگ گئیں اور کچھ کے بچوں کی شامت آئ یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر۔ اس دلچسپ صورت حال کی عکاسی کے لئے میں نے کچھ اسٹیٹس چوری کئے ہیں۔ حاضر ہیں۔
Feel like giving two chammats to the team

Kia game on hai? I didnot feel do :(

کوئ بات نہیں، بچہ سمجھ کر جیت دے دی، اگلی باری میں دیکھنا۔
پس ثابت ہوا کہ ٹُلّر ہر واری نہیں چل سکدا۔

اور جیسا کہ میں میچ شروع ہونے سے پہلے کہہ چکا تھا نتیجہ وہی نکلا
 
Chalo toss hu, jeetay or match tum! Baat baraber hoi :)
 
Lo Ji,
Pakistan har gaya.
Allah Hafiz
To boost the performance levels for time being, Pakistani team must presume for time being that they are working in a 3 hour long commercial
Prepare yourself for this song.

Tum Jeeto yaan haaroo
sunooooo
humain tum say piyar ha
 
Shahid Afridi didn't work, lets send Shakeel Afridi with polio drops, and then a drone attack + seal operation on top of that. All over!
 
اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی فراز 
ہم جیتیں تو وارم اپ، وہ جیتیں تو سپر 8 

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں

واہ وا واہ

کس عقیدت سے آئوٹ ھوتے ھیں
ھار جانا ثواب ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ھو جیسے

کیا رحمان ملک پاک بھارت میچ کا سودا کرنے گیا؟ رقم بٹورنے کا اچھا موقع سمجھتے ہوے؟
پاکستانی ٹیم کو کسی کوچ کی نہیں، بلکہ ایک اچھے سائیکیٹریسٹ کی ضرورت ہے۔
اور قارئِن، اس دھلائ سے فارغ ہو کر لوگ ایک دفعہ پھر خداکی طرف رجوع کرتے ہیں۔ کیوں؟ یہ نہیں معلوم۔
I am watching Madni Tv now !!!
میری دلچسپی تو کرکٹ میں اس وقت سے ختم ہو گئ ہے جب سے پاکستان میں کرکٹ کرپشن اپنے عروج پہ پہنچا۔ لیکن اس دفعہ جس چیز کی وجہ سے مجھے بار بار اسکرین کو دیکھنا پڑا۔ وہ ڈنگ ڈونگ کا اشتہار ہے۔ میرے بچپن سے یہ اب میری بیٹی کے بچپن تک آپہنچا۔ جب اشتہار اختتام پہ پہنچتا ہے تو بلی چوہوں کی پٹائ لگانے کے بعد اپنا ڈنگ ڈونگ ببل کا ذخیرہ لیتی ہے اور وہی سونگ گاتی ہے۔ میں سوچتی تھی کہ یہ نہیں پتہ چلتا کہ کون سا سونگ گاتی ہے؟ کچھ عرصے بعد ایک خیال آیا کہ یہ ڈنگ ڈونگ گاتی ہے۔ اب بھی یقین نہیں کہ یہ خِال درست تھا یا غلط۔
 اس میچ کے دوران ڈنگ ڈونگ ببل کا اشتہار پاکستان کی مختلف زبانوں میں آتا رہا۔
اور میں ہر دفعہ کمپیوٹر اسکرین سے نظریں پھیر سنتی کہ یہ اب کون سی علاقائ زبان ہے اور اس میں کیا الفاظ استعمال ہوءے ہیں۔ لیکن کل سے پہلے شاید ہی کبھی شک ہوا ہو کہ یہ اشتہار یا تو یہودیوں نے بنایا ہے یا پھر را کے ایجنٹوں نے۔ ایک مبصر کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کے آءوٹ ہونے پہ یہ اشتہار آیا اور بلی خوشی سے ناچتی پھری۔ بعض حقائق بڑی دیر سے پتہ چلتے ہیں۔


اب پھر ایک سوال ذہن میں ہے۔ اگر بلی نے چوہوں کی پٹائ لگائ اور ڈنگ ڈونگ لے کر اس نے پھر وہی سونگ گایا۔ تو اس دفعہ اس نے کون سا سونگ گایا؟ جواب منتخب کریں۔
۱
ڈنگ ڈونگ
۲
تم جیتو یا ہارو
سنو
ہمیں تم سے پیار ہے
۳
لخ لعنت

Saturday, January 28, 2012

چینل کا چورن

چلئیے جناب، اطلاع ملی کہ مایا خان کا مسئلہ اس طرح حل کیا گیا کہ ان سے غیر مشروط معافی نامہ کا کہا گیا جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ سماء چینل کی انتظامیہ نے انہیں الگ کر دیا اور انکا مارننگ شو ختم کر دیا۔ انکی ذمہ داری ختم ہوئ اور اس طرح چینل نے اپنی ساکھ پہ آنچ نہ آنے دی۔
لیکن کیا یہ ایک سنجیدہ حل ہے؟ اور آیا یہ کوئ حل ہے یا مزید ڈرامہ؟
مایا خان کو جس شو کی وجہ سے الگ کیا گیا۔ اسے دیکھتے ہوئے سوالات اس طرح کے بنتے ہیں کہ کیا پاکستان میں میڈیا، پرائویسی قوانین سے واقف ہے؟ کیا لوگوں کے اخلاقی معیار کو متعین کرنا میڈیا کے صحافیوں کی ذمہ داری ہے؟  کیا میڈیائ صحافیوں کا کام خبر بنانا ہے یا خبر کو پہنچانا  ہے؟
دوسرا خیال جو آتا ہے کہ خودچینلز کی اپنی کوئ میڈیا پالیسی ہوتی ہے یا نہں یا یہ کہ چینلز کی کوئ میڈیا پالیسی ہونی چاہئیے یا نہیں؟ یہ سوال میرے ذہن میں اس وقت آیا جب  میں مایا خان ہی کے ایک پروگرام کی کلپس دیکھ رہی تھی جس میں وہ ایک ایسے صاحب کے ساتھ ہیں جن کا دعوی ہے کہ انہیں رسول اللہ کی زیارت ہوئ بلکہ انکے بدن پہ ، حتی کہ بیگم کے پکائ ہوئ روٹیوں پہ بھی کلمہ طیبہ ابھر آتا ہے یہی نہیں بلکہ انہیں غیب سے کچھ تبرکات بھی ملے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں لوگ مذہبی غلو کا شدت سے شکار ہیں ایسے پروگرام پیش کرنا ایک ٹی وی چینل کی کس پالیسی میں آتا ہے۔ سو قارئین، اب یہ جاننے کو دل کرتا ہے کہ کیا میڈیائ صحافی یا اینکر پرسنز ، چینل انتظامیہ کی پالیسی سے الگ کام کرتے ہیں۔ کیا چینل کی انتظامیہ اس وقت تک کاٹھ کا الو بنی رہتی ہے جب تک عوامی شدید رد عمل سامنے نہ آئے؟


  ایک طرف چینل کا دعوی ہے کہ وہ عوامی ایشوز کو سامنے لائیں گے، لوگوں کو شعوری طور پہ بیدار کریں گے دوسری طرف انہی کے چینل سے اس طرح کے شوز آتے ہیں جو لبرل اور روشن خیال ہی نہیں بعض دینی حلقوں کے لئے بھی مسخرے پن سے کم نہیں۔
تو جناب یہ ٹی وی چینلز کیا بیچ رہے ہیں٫ عوام میں بیداری کے لئے جدید دنیا سے واقفیت یا وہی کاروباری نکتہ ء نظر سے عوام میں مشہور عطائ حکیموں کے چورن۔

 

Tuesday, January 24, 2012

میڈیا کے عقاب

سنتے ہیں کہ ضیاء الحق صاحب کے زمانے میں ساحل سمندر پہ جانے والے جوڑوں سے نکاح نامہ طلب کرنے کے لئے وہاں پولیس والے عقاب کی طرح منڈلاتے رہتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ عقاب ناپید ہو جاتا ہے اور روح فنا رہتی ہے۔ مولوی صاحب کے مزے رہتے ہیں کہ دے دھڑا دھڑ نکاح پڑھا رہے ہیں کہ عورت اور مرد کا ایک ساتھ تفریح کے لئے نکاح نامہ ہونا ضروری ہے۔ معاشرے میں میاں بیوی کے علاوہ کوئ رشتہ اور تعلق باقی نہیں رہتا اور جنسیات کے علاوہ کوئ انسانی مسئلہ وجود نہیں رکھتا۔
جب ہم نے جامعہ کراچی میں قدم رکھا تو سنا کہ یہ کام وہاں اسلامی جمعیت طلبہ کے ذمے تھا۔ کہنے والے کہتے کہ وہ تو بھلا ہو آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن  کا جمعیت کے بھائ بندوں کے منہ سے نہ صرف یہ نوالہ چھین لیا بلکہ وہ جو ہر مرد کو مخاطب کرنے سے پہلے بھائ کا لاحقہ یا سابقہ اور خاتون کے نام سے پہلے بہن کہنا فرض عین  ہوا کرتا تھا وہ بھی لغت سے نکل گیا۔  ورنہ عالم یہ تھا کہ ہماری رشتے دار خاتون  اپنے ماموں کے ساتھ یونیورسٹی آنرز میں داخلے کے لئے پہنچیں تو انہیں جمعیت کے اسکواڈ کے سامنے حلفیہ بیان دینا پڑا کہ وہ جس مرد کے ساتھ ہیں وہ انکے ماموں ہیں۔
جماعتی روح جب بیدار ہوتی ہے سینوں میں تو عقابی روح والی کیفیات کیوں طاری ہو جاتی ہیں یہ مجھے نہیں معلوم؟
شاعر کہتا ہے کہ جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے ادھر نکلے۔ شاعر کی اس بات کو میں دماغ کا خلل نہیں سمجھتی۔ پوری طرح سے یقین رکھتی ہوں۔
ضیائ پولیس سے جمعیت میں یہ روح پہنچی، پنجاب یونیورسٹی میں اب تک قائم ہے۔ لیکن جامعہ کراچی سے  جمعیت کا کنٹرول  ختم ہوا۔   اہل ایمان انکے جھنڈے تلے سے نکل کر میڈیا میں آگئے۔ اور شکل کچھ یوں بنی کہ ہرچینل سے عقاب نکلے گا تم کتنے عقاب مارو گے یا خدا جانے تم جتنے عقاب ماروگے۔
مایا خان ان عقابوں میں ایک ہیں۔ ڈیڑھ دو مہینے پہلے میں جیسمین منظور کا ایک شو دیکھ رہی تھیں وہ پولیس لاک اپ میں موجود ایک شخص پہ سخت ناراض ہو رہی تھیں اور غصے میں کہہ رہی تھیں کہ عدالت تمہیں بعد میں سزا دے گی میں تمہیں مار مار کر درست کر دونگی۔ اور میرے جیسا ناظر حیران بیٹھا کہ ایک اینکر پرسن کس طرح ایک پولیس کسٹڈی میں موجود ایک ملزم تک بآسانی رسائ حاصل کر کے اسے درست کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
ہمارا ملک کسی حیرت کدے سے کم نہیں۔ اس لئے ہر تھوڑے دنوں بعد حیرانی کے نئے تجربے سے گذرنا پڑتا ہے۔ اس دفعہ اس ریس میں مایا خان جیت گئیں۔ مجھے انکا شو دیکھنےسے بالکل دلچسپی نہیں۔ فیس بک کی وجہ سے دیکھنا پڑا کہ کیا ہو گیا ہے بھئ۔ 
کیا دیکھتی ہوں کہ دو خواتین ہنستی مسکراتی ایک بینچ پہ بیٹھی ہوئ ہیں۔ ویڈیو کے لنک کو کلک کیا تومیڈیا سے تعلق رکھنے والی خواتین کا ٹولہ جن میں سے کچھ مغربی لباس میں  اپنے مرد ساتھیوں کے ساتھ پارک میں تفریح کے لئے آئے ہوئے جوڑوں کے تعاقب میں یوں سرگرداں  جیسے ہم سانگھڑ کی جھیلوں کے پاس ایک دفعہ مگر مچھ تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ کراچی کے پارکس میں اب تک مگرمچھ نہیں چھوڑے گئے یہ شاید پہلا تجربہ کیا تھا میڈیا کے مگرمچھ چھوڑنے کا۔ وقت انتہائ مناسب، مگرمچھ سرد دنوں میں صبح صبح سرد پانی سے نکل کر ساحل پہ  دھوپ  سے اپنے آپکو سینکتے ہیں۔ ہمارا یہ ٹولہ ملک بے حیائ کی دھوپ میں سنِکنے واے جوڑوں کی تلاش میں تھا۔
پارک میں موجود لوگ ایسے سراسمیہ  کہ جیسے وہ سوئس بینکوں سے اپنا روپیہ نکال کر پارک میں بیٹھے گن رہے تھے۔ یا ایکدوسرے کو خود کش جیکٹس پہنا رہے تھے۔ اسی پہ بس نہیں ہماری اینکر نے ایک نقاب پوش خاتون کو ایسے پکڑ لیا جیسے وہ ان کا پرس چھین کر بھاگی ہو۔
   
پارکس میں اکثر ایسے جوڑے نظر آتے ہیں۔ انکی اکثریت لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ اشرافیہ کے بچوں کو حجاب پہن کر اپنے آپکو چھپانے سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ انکے لئے زیادہ پر تعیش جگہیں موجود ہیں۔ وہ ان عوامی پارکس میں کیا کریں گے۔ مڈل کلاس بچے زیادہ تر مخلوط اداروں میں پڑھتے ہیں انہیں میل ملاقات کے لئے پارکس میں وقت ضائع کرنے کی فرصت نہیں۔ لے دے کر لوئر مڈل کلاس بچ جاتی ہے۔ بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ میڈیا کے ان شکاریوں کو اسی وجہ سےاتنی ہمت ہوئ۔ ورنہ یہ سب خواتین و مرد اپنے سے بڑے لوگوں کے جائز اور ناجائز لو افیئرز سے خوب اچھی طرح واقف ہوتے ہیں مگر انکے سامنے انکی وہی حالت ہوتی ہے جس کے لئے مناسب لفظ استعمال کرنے کے لئے منا بھائ ایم بی بی ایس والے کی ٹپوری لغت کی مدد لینی پڑے گی۔
خیر، اس ٹولے میں اگر کسی شخص کی کمی مجھے محسوس ہوئ تو ایک مولوی صاحب کی تھی۔ اگر وہ ساتھ ہوتے اور گپ شپ لگاتے جوڑوں کو وہیں پکڑ کر  نکاح پڑھا دیتے تو یہ منظر نہ صرف ڈرامے کے کلائمیکس پہ پہنچ جاتا بلکہ  والدین خود ہی آئیندہ کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھا لیتے۔  یوں کہ پسند کی شادی ہمارے والدین کے لئے ایک تازیانے سے کم نہیں ہوتی۔ چاہے اپنے بچوں کی شادی اپنی  پسند سے کروانے کے لئے وہ ایک مرد کو چالیس سال کا کر دیں۔ یا لڑکی کی شادی اسکی عمر سے دگنے، جاہل مرد سے کر دیں۔
شادی ہمارے یہاں ایک رومانی تعلق نہیں بلکہ ایک  جسمانی  اور کاروباری تعلق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے اصل فریق شادی کرنے والے مرد عورت نہیں والدین ہوتے ہیں۔
ادھر خدائ نظام میں بڑی خرابیاں ہیں، مثلاً خدا ایک بے حس اور عاقبت نا اندیش کاریگر کی طرح اپنے کوزے پہ انسان تخلیق کئے جا رہا ہے وہ یہ تک خیال نہیں کرتا کہ اماں کو کترینہ کیف اور مادھوری جیسی بہو چاہئیے۔ آنے والے انسان کے بچے خوبصورت ہونے چاہئیے۔ وہ خود جمیل ہے لیکن جمال کو محفوظ کرنے کے منصوبے نہیں بناتا۔  سو جو لڑکیاں حسن کے اس معیار پہ پوری نہیں اترتیں لیکن انسانی تقاضوں کی وجہ سے چاہتی ہیں کہ انہیں بھی صنف مخالف کا ساتھ نصیب ہو وہ کیا کریں۔ وہ لڑکیاں کیا کریں؟ جنکے والدین کے پاس دینے کے لئے لمبا چوڑا جہیز نہیں ہے، وہ لڑکیاں کیا کریں؟ وہ لڑکے کیا کریں جو اپنے جبلی تقاضوں سے مجبور صنف مخالف کے پیچھے بھاگتے پھر رہے ہیں مگر والدین کو ابھی انکا صحیح بھاءو نہیں مل پا رہا۔  معاشرتی سطح پہ اتنے بڑے انسانی مسئلے کو اس وقت کوئ سمجھنا نہیں چاہتا۔
سو اگر اس غیر فطری ماحول میں نوجوان یہ نہ کریں تو کیا کریں؟
 میری یادداشت میں ایک ذاتی واقعہ ہے جس میں ایک باپ کو جب اسکے لڑکے کی شکایت کی گئ کہ وہ کس طرح ہماری بیٹی کو آتے جاتے چھیڑتا ہے اور اس سے اس لڑکی کی ریپوٹیشن خراب ہو رہی ہے اور اسکی شادی میں مسئلہ ہو جائے گا تو اسی شام کو لڑکے کے ابا اپنے لڑکے اور قاضی کو لے کر انکے گھر پہنچے۔ اور اپنے بیٹے سے آٹھ سال بڑی لڑکی کو گھر کے کپڑوں میں شادی کر کے اپنے گھر لے آئے۔ انکا بیٹا اس وقت بی کام کر رہا تھا۔ آج اس خوشحال  جوڑے کے تین بچے ہیں۔
والدین جو خود اپنے آپکو کسی بھی اخلاقی سدھار سے ماوراء سمجھتے ہیں وہ کس بل بوتے پہ اپنی اولاد کو سدھار سکتے ہیں۔  وہ کیسے یہ نعرہ بلند کر سکتے ہیں کہ والدین کو دھوکا نہ دو۔ آپ اپنی اولادوں کو، اپنی نسلوں کو دھوکا دے رہے ہیں جناب آپ کو بھی دھوکا ہی ملے گا۔
ادھر، میڈیا جو خود کسی اخلاقی پابندی کا اپنے آپکو ذمہ دار نہیں سمجھتا اور پروگرام کی ریٹنگ کے لئے ہر گری ہوئ حرکت کرنے کو تیار ہے۔ اگر اسکے نمائیندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ لوگوں کو درست کرنے کا ٹھیکا لے کر خدائ فوجدار بن جائیں تو عوام تو ان سے کہیں زیادہ مضبوط اور تعداد میں زیادہ ہیں وہ کیوں نہ انہیں درست کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ 
اگر کیمرہ کریو کے ساتھ موجود اس ٹولے کے آگے چند نوجوان آ کر کھڑے ہوجاتے کہ یہ کیا بے حیائ ہے کہ خواتین ٹی شرٹ اور ٹراءوژرز جیسے مغربی لباس میں پارک میں مردوں کے ساتھ  سر عام بھاگتی پھر رہی ہیں تو کیا ہوتا؟ مجھے تو مزہ آتا، اگرچہ کہ مجھے انکے اس لباس سے کوئ تکلیف نہیں ہوتی۔ لیکن ایسے دو رُخے لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہئیے۔ آپکے لئے ہر چیز جائز اور صحیح لیکن اپنے آپ سے کمزور شخص کو دبانے کا کوئ موقع آپ ضائع نہ جانے دیں اور بنیں بڑے کردار والے مبلغ اور مصلح۔
وقتی فائدہ اور دور اندیشی میں یہی فرق ہے۔ دور اندیشی کہتی ہے کہ کوئ بھی ایسا قدم کیوں اٹھاءو جو خود پہ پڑے تو سہا نہ جائے۔ وقتی فائدہ کہتا ہے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لو کل کی کل دیکھی جائے گی۔
لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی نے کل کو آنے سے روک دیا ہے، یہاں ہر گذرا ہوا دن، ہر آنے والا دن ہر چیز آج بن گئ ہے۔آج سے نکل پائیں گے تو کل دیکھیں گے۔ پچیس سال پہلے کی ضیائ پولیس، اب میڈیا پہ آ گئ ہے۔ نگاہ منتظر ہے کہ جمیل اور جمیلہ اب کیا راستہ چنیں گے؟

Thursday, May 5, 2011

آج یا کبھی نہیں؟

کل پہلی دفعہ جیو چینل پہ کامران خان کی زبانی سنا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستانی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ آج یا کبھی نہیں۔ 
یہ وہی چینل ہے جو انتہا پسندوں کو ہیرو بنانے کا شاید ہی کوئ لمحہ ضائع جانے دیتا ہو۔ ایک طرف امن کی آشا اور دوسری طرف انتہا پسندوں کی بھاشا۔ میڈیا نے انتہا پسندی کو پھیلانے میں بڑی سرگرمی سے کام کیا۔ اور اب وہی اپنے اوپر لگے اس دھبے کو دھو سکتے ہیں۔
خیر، دیر آید درست آید۔ کامران خان کہتے ہیں کہ اب ہمیں سوچنا چاہئیے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی بڑی کارروائ ہوتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دہشت گرد کا تعلق یا تو پاکستان سے ہوتا ہے یا پھر وہ پاکستان سے پکڑا جاتا ہے۔
اسکی وجہ بالکل سامنے ہے اور وہ یہ کہ دنیا بھر میں پائے جانے والے سینتالیس کے قریب اسلامی ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پہ عوام ان انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی حمایت کے لئے کمر بستہ ہے۔ یقین نہ ہو تو پچھلے چار مہینے کی بلاگستان کی پوسٹس اٹھا کر دیکھ لیں۔ خاص طور پہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد تحاریر اور انکے تبصرے۔
ہر دہشت گرد اور انتہا پسند ہمارا ہیرو۔ ہم اسکے پیش کئے گئے نظرئے پہ جان دینے اور لینے کو بے قرار۔ جب وہ بم مار کر درجنوں لوگوں کو ایک ساتھ موت کی نیند سلا دیتا ہے تو اول ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ ہمارے ہیرو کے کسی ساتھی نے کیا ہوگا یقیناً کسی نے اسے پھنسایا ہوگا۔ اور اگر دنیا کے دباءو پہ ہم یقین کر لیں تو ہم انا لللہ پڑھ کر دعا کرتے ہیں کہ  اللہ اسکی مغفرت کرے۔ جب وہ کسی کو قتل کر کے سرخرو ہوتا ہے تو ہم اس کا مقدمہ لڑ کر اسے رہا کرانے کو بےتاب۔ جب وہ کسی اور ملک میں گرفتار ہو تو ہم سجدے میں  کہ خدا کوئ چمتکار دکھائے اور وہ رہا ہو جائے۔ آخر کسی دہشت گرد اور انتہا پسند کو کیا چاہئیے۔  یہی عقیدت اور غیر مشروط محبت و وفاداری۔ جس میں دُھت ہمیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ تین سال میں تین ہزار سے زائد پاکستانی امریکیوں کے ہاتھوں نہیں انہی 'محبوبوں' کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوئے۔ ہمارے مستقبل کے متوقع حکمراں عمران خان بھی ڈرون حملوں کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مگر ان خود کش بمبار کے لئے کوئ ریلی نہیں نکالتے۔
لیکن دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ آئیے اسکے لئے ایک کہانی کے آخری دو صفحات پڑھتے ہیں۔ کہانی کے لکھنے والے ہیں ڈاکٹر شیر شاہ سید۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے ایک مایہ ناز گائیناکولوجسٹ  ہی نہیں ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے پاکستانی خواتین کی فلاح بہبود کے لئے اپنی زندگی کو ایک مشن بنایا ہوا ہے۔ اگر عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال  بنانے اور چلانے پہ پاکستان کی حکمرانی پیش کی جا سکتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر شیر شاہ بھی اسکے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔
انکی گوناگوں خوبیوں میں ایک خوبی ایک اچھا ادیب ہونا بھی ہے۔ انکی کہانیوں کے کئ مجموعے منظر عام پہ آچکے ہیں۔ یہ صفحات  انکے تازہ ترین مجموعے 'دل نے کہا نہیں' کی کہانی  'نفرت کی تصویر'  سے لی گئے ہیں۔
ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا ہے کہ اس مجموعے کی تمام کہانیاں حقائق سے جڑی ہوئ ہیں۔ اور نرا فکشن نہیں ہیں۔ تمام کہانیاں ہمارے آجکے پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کتاب کے پبلشر ہیں شہر زاد اور قیمت ہے دو سو روپے۔
یہ دو صفحات حاضر خدمت ہیں۔
بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر کو کلک کریں۔
 

Friday, April 29, 2011

روایت ہے کہ

ٹی وی چینلز کی سرفنگ کرتے ہوئے میرا ہاتھ ایک چینل کے لئے رک گیا۔ یہاں پہ اینکر پرسن مختاراں مائ کے ساتھ موجود تھے ۔ وہی مختاراں مائ جو اجتماعی زنا کا شکار ہوئ، جس کا مقدمہ تقریباً نو سال چلا اور بالآخر سوائے ایک ملزم کے باقی سب با عزت بری ہو گئے۔
اینکر پرسن نے اپنی بات کے آغاز میں اپنی مثال دی کہ وہ خود کتنا چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف تھے انہوں نے کتنے ہی پروگراموں میں انکے خلاف بات کی لیکن جب وہ عدالت سے انصاف مانگنے گئے تو انہیں انصاف ملا۔ اس لئے مختاراں مائ کے سلسلے میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اسکے ساتھ انصاف نہیں ہوا۔
لیجئیے جناب، میں اپنی مثال دوں کہ میں نے پاکستان میں اعلی سطح تک کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کی، کامیاب ہوئ اور اس طرح یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں تعلیم کے سلسلے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ یہ سب پروپیگینڈہ ہے۔
جس وقت میں یہ سب کہونگی، میرے سامنے گوادر کے ساحل کے ساتھ رہنے والی نازنین، پاکستان کی لاکھوں عورتوں کا جلوس لے کر دھرنا مار کر بیٹھ جائے گی اور کہے گی کتنی جھوٹی ہو تم اور خود غرض۔ صرف اپنی دنیا میں رہتی ہو۔ میں کراچی سے سینکڑوں میل دور رہنے والی نیم خواندہ لڑکی سے ڈر جاتی ہوں۔
اس معاملے میں, جس میں لقمان مبشر خاصی وسعت قلب رکھتے ہیں میرا دل اتنا سا ہے۔ لقمان مبشر اپنے دیگر مہمانوں کے ساتھ مصروف بہ عمل جو اپنی زبان اور علم کے مظاہرے سے ہی لگ رہے تھے کہ کیا اپروچ رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب کا اصرار اس بات پہ رہا کہ اس کا تو میڈیکل ہی آٹھ دن بعد ہوا۔ اگر اس کا میڈیکل آٹھ دن بعد ہوا تو یہ کس کی کوتاہی تھی، یہ سوال کرنے والا ان سے کوئ نہ تھا۔ زنا بالجبر کے کیسز میں  بر وقت میڈیکل کی سب سے زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔
یہ سب این جی اوز کا کھیل ہے مظفر گڑھ میں اتنی بڑی تعداد میں این جی اوز کھل گئ ہیں۔ ان سے یہ سوال نہیں کیا گیا کہ اتنی بڑی تعداد میں این جی اوز کراچی میں کیوں نہیں ہیں۔ اس قسم کے جرائم شہروں سے زیادہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں کیوں  ہوتے ہیں، یہ بھی نہیں معلوم۔ تین روایت پسند مرد، کئ روائیتیں۔
اگلے دن میں پھر اسی کام میں مصروف ثناء بُچہ کو پکڑ لیتی ہوں۔ یہاں کچھ کام کی گفتگو جاری ہے۔ کیا اسکی وجہ یہ ہے  کہ ثناء بُچہ نے اپنا ہوم ورک محنت سے کیا اور کچھ کام کے لوگوں سے کام کی بات نکلوانے میں کامیاب ہو گئیں یا  یہ کہ اینکر پرسن ایک خاتون ہیں پاکستان کی ایک ماڈرن خاتون ، کسے معلوم؟
اس گفتگو سے ایک عام آدمی کو پتہ چلتا ہے کہ در حقیقت ہمارے یہاں جرم ہونے کے بعد تحقیقی پہلے مرحلے یعنی ایف آئ آر سے لیکر شواہد جمع کرنے تک کا کام نا اہل لوگوں کے پاس ہے۔
عدالتیں شواہد پہ کام کرتی ہیں انہیں مادی ثبوت چاہئیے ہوتے ہیں۔ اور کسی مجرم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پولیس کے محکمے کو شواہد اکٹھا کرنے ہوتے ہیں۔ اور استغاثہ انہیں ثبوت کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ اگر شواہد اور ثبوت موجود نہیں ہیں تو آپ پہ جو گذرا اسکی کوئ اوقات نہیں چاہے اسکی وجہ سے آپ کی زندگی ختم ہو جائے۔
یہ کوئ پہلا کیس نہیں جسے ثبوت اور شواہد کے ناکافی ہونے کی بناء پہ اس نتیجے کا سامنا کرنا پڑا ہو یہاں نامی گرامی دہشتگردوں سے لے کر، غبن کرنے والے، کرپشن میں شامل افسران اور طبقہ ء اشرافیہ سے لے کر مافیاز کے  کرتا دھرتا تک یہی طریقے آزماتے ہیں۔ ایف آئ آر کو ہی اس طرح درج کیا جاتا ہے کہ انصاف کم سے کم ہو پائے۔ اور با اثر شخص یا تو بچ نکلے یا پھر اسے کم سے کم نقصان پہنچے۔
یہ سب کوئ راز کی بات نہیں، ان سے ہمارا سابقہ پڑتا ہی رہتا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی میں اس حیرانی سے گذرتا ہے کہ فلاں شخص کیسے قانونی سزا سے بچ گیا۔
دوسری طرف ہم جب اس مقدمے کی نوعیت دیکھتے ہیں تو یہ زنا بالجبر کے گرد گھومتا ہے۔ زنا بالجبر طاقت کے مظاہرے سے منسلک جرم ہے۔ پاکستانی معاشرہ ایک پدر سری معاشرہ ہے۔ اسکے بڑے حصے میں خواتین کسی مرد کی جاگیر کا حصہ ہیں۔ اگر دو مردوں کے درمیان طاقت کا کھیل چل پڑے تو اسکی سزا ان مردوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے حصے میں زیادہ آ تی ہے۔ یوں ونی ، کارو کاری سے لیکر پنچایت اس بات کا اختیار رکھتی ہے کہ کسی عورت کو ایسی سزا بھی دے ڈالے۔ کسی مرد سے تعلق رکھنے والی خواتین کی یہ بے حرمتی سب سے بڑی ذلت سمجھی جاتی ہے، نتیجتاً جو اسے کرے گا وہ زیادہ طاقتور ٹہرے گا۔
ایک اورعام صورت یہ ہو سکتی ہے کہ  چونکہ مردوں کی اکثریت کا ذہنی رخ اس طرح متعین کیا جاتا ہے کہ وہ کسی عورت کو اپنے سامنے کوئ چیز نہیں سمجھتے، اس لئے جب کبھی انکی طاقت کسی عورت کے سامنے کم پڑتی نظر آئے تو وہ یہ جرم کرکے اس کا دماغ صحیح کریں۔
روانڈہ، بوسنیا، ویتنام کی جنگوں میں اور دور کیوں جائیں تقسیم ہندوستان اور تقسیم پاکستان  عمل کے دوران طاقت کے اس شو آف کا کئ لاکھ خواتین شکار ہوئ۔ جنگوں میں عورتوں کو یہ اذیت بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ ان کا تھا کھیل خاک میں ہم کو ملا دیا۔
اس لئے ہمیں یہ دیکھ کر حیران نہیں ہونا چاہئیے کہ زنا بالجبر کے واقعات میں ایک اکثریت بالخصوص مردوں کی کیوں خاموش رہتی ہے جبکہ یہ وہی مرد ہوتے ہیں جو عورتوں کے متعلق اپنے انتہا پسند جذبات  کو اپنی غیرت سمجھتے ہیں۔
عدالتیں بھی اسی نظام کے پروردہ مردوں پہ مشتمل ہیں۔ تو اگر ایک طبقہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ خواتین ججز کو ایسے  مقدمات میں شامل رکھا جائے، پولیس  اور عدالتی نظام کی اس تربیت کا انتظام کیا جائے کہ وہ انصاف کے حصول کے لئیے اپنے آپکو ذہنی طور پہ توازن میں رکھ سکیں، وہ کیا غلط کہتا ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں تو ایسے جرائم کو پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرنے کے قابل تک نہیں سمجھا جاتا۔
دنیا کے کتنے ہی آزاد معاشرے سے تعلق رکھنے والی عورت کیوں نہ ہو اسکے لئے اس سے زیادہ تکلیف دہ اور ذلت آمیز چیز کوئ اور نہیں ہو سکتی۔
پاکستان میں ہر آٹھ گھنٹے میں اجتماعی زیادتی کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔  ہونے والے واقعات میں سے تقریباً ستر فی صد رپورٹ نہیں ہوتے۔ شکار ہونے والی لڑکیوں میں سے تینتالیس فی صد کی عمر سولہ سال سے کم ہوتی ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں کسی لڑکی کو جو ہمارے معاشرے سے تعلق رکھتی ہو بآسانی ہراساں کیا جا سکتا ہے اور انہیں خاموش رہنے پہ مجبور کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان  میں رجسٹر کیسز میں سے دو تہائ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا محض یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ وہاں یہ جرائم زیادہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہم کہہ چکے ہیں کہ ستر فی صد واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ اس کا ایک اور مطلب بھی نکالا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں  ایسے جرائم کو رجسٹر کرانے کی شرح زیادہ ہے۔
پاکستان اس حساب سے دنیا کا واحد ملک نہیں ہے۔ ہمارا پڑوسی ملک انڈیا اس میں ہم سے آگے ہے۔ دارالحکومت دہلی میں خواتین سورج ڈوبنے کے بعد گھر سے نہیں نکل سکتیں۔ گلیوں میں  ہوس کے مارے گینگسٹرز کا راج ہوتا ہے۔ وہ بھی پدر سری معاشرہ رکھتے ہیں، وہ بھی فیوڈل سوچ سے آزاد نہیں ہو سکے، انکے یہاں بھی انتہا پسندی اپنے عروج پہ ہے۔ لیکن ہندو مذہب کے بنیادی عقائد کے مطابق عورت کو مرد کی شانتی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ مرد دیوتا ہے عورت  داسی۔ 
 ان میں اور ہم میں نظریاتی فرق ہے جس کی بناء پہ ایک طبقہ کہتا ہے کہ ہم نے یہ ملک حاصل کیا۔ اگر یہ درست ہے تو کیا اس فرق کو ہمارے روئیے میں نہیں نظر آنا چاہئیے۔
ایسا کیوں ہے کہ  دہشت گردی کی جنگ میں مصروف عافیہ صدیقی کے ساتھ ہونے والے جنسی ہراسمنٹ کی تو مذمت کی جائے، اس کی مظلومیت کے تو واسطے دئیے جائیں۔ اسکے بچوں کی تو فکر ہو۔ لیکن اپنے ملک میں، اپنی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے اپنے ہی ملک کی ہم مذہب، ہم زبان  عام گھریلو عورتوں کے تحفظ کی خاطر مناسب قانون سازی کے لئے آواز نہ بلند کی جائے۔ یہ بھی تو قوم کی بیٹیاں ہیں، انکے بچے بھی تو بچے ہوتے ہیں۔ اور کون جانے ان میں سے کس میں واقعی قوم کی عظیم بیٹی بن دکھانے کا حقیقی جذبہ موجود ہو۔ مگر اس سلسلے میں ایک مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے تاکہ ان لوگوں تک کوئ این جی او پہنچے اور پھر یہ کہیں کہ یہ سب تو این جی اوز کا کھیل ہے۔
کوئ معاشرہ اگر اپنے تمام طبقات کے لئے انصاف نہیں چاہے گا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ پنپ سکے، ، خوش حال ہو، مستحکم ہو۔ اسکے ساتھ انصاف کیا جائے۔ نہیں، ایسا ممکن نہیں۔  

Thursday, July 29, 2010

اسلام آباد فضائ حادثہ

آج کے دن تک آپ میں سے بیشتر لوگ یہ اندوہناک خبر سن چکے ہونگے کہ ائیر بلو کے جہاز کے کریش ہونے کی وجہ سے اس پہ سوار تمام ایک سو باون لوگ ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ لوگ جو اپنے مستقبل کے منصوبے بناتے ہوئے اپنے پیاروں کو خدا حافظ کہہ کر گئے۔ پھر کبھی  لوٹ کر نہ  آئیں گے۔
میں نے پورے دن میں تین دفعہ ٹی وی دیکھنے کی کوشش کی۔ اور ہر دفعہ پانچ منٹ بعد بند کر دیا۔ اس طرح اندوہناک عالم میں مرنے والوں کے خاندانوں کا غم اپنا ہی لگ رہا  ہے مگر میں اس خبر کی خریدار نہیں بننا چاہتی۔ 
جہاز پہاڑ کی چوٹی سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔ اس پہاڑی علاقے میں لوگوں کی باقیات بکھر گئیں جہاں عام طریقے سے پہنچنا مشکل تھا۔ مددگاروں کو اس جگہ تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ بنانا پڑا کہ پہلے سے کوئ راستہ اس پہاڑی پیچیدہ علاقے میں موجود نہ تھا۔ بارش کی وجہ سے پھسلن شدید تھی اورمدد کا پہنچنا مزید مشکل ہو گیا۔
 میڈیا کے وارے نیارے ہو گئے۔ بہت دنوں بعد ایسی خبر ملی جس میں لوگوں کی دلچسپی ہوتی کہ باقی خبروں کہ ہم عادی ہو گئے ہیں۔وارے نیارے کیوں؟  ایک منہ چرانے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ عام لوگوں کو ایسے منظر اپنی طرف کھینچ کر رکھتے ہیں جس میں لوگ رو رہے ہوں، تڑپ رہے ہوں، بے بس نظر آرہے ہوں۔
اگر کاروباری نظر سے دیکھا جائے تو بہت دنوں بعد کسی خود کش حملے کے بجائے کسی اور ذریعے سے اتنے بہت سے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سو میڈیا نے حسب کاروبار اس پہ سارا دن خرچ کر دیا۔ ایک ہی فوٹیج کو بار بار دکھانا، بربادی اور اندوہناکی کو اس جگہ سے دکھانا جہاں سے وہ زیادہ ہولناک لگیں۔ غمزدہ خاندانوں کے گھر پہنچ کر انکے رشتے داروں سے تاءثرات لینے کی کوشش میں سبقت حاصل کرنے میں لگے رہنا۔ حالانکہ ابھی تو انہوں نے مرنے والے کو دیکھا بھی نہیں ہوگا اور شاید ابھی تو وہ یقین کرنے کے مراحل سے گذر رہے ہونگے کہ ایسا ہوا بھی ہے۔ لاشیں نہیں دکھا سکتے تو کیا  شناختی کارڈ تودکھا سکتے ہیں۔ چینلز کے درمیان شناختی کارڈ کی تعداد کا مقابلہ۔
 اس افراتفری میں کسی مددگار کے منہ سے جو نکلا اسے خبر بنا کر نشر کر دیا۔ ایک چینل پہ دی جانے والی خبر کہ ایک خاتون زندہ بچ  گئیں غلط ثابت ہوئ۔ کسی چینل نے فوراً ہی یہ قیاس ظاہر کیا کہ طیارہ نو فلائ زون میں اڑ رہا تھا۔ یعنی حادثہ راکٹ کے لگنے سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ خبر بھی غلط نکلی کیونکہ  جہاز رن وے پہ جگہ نہ ہونے کے باعث فضا میں چکر کاٹ رہا تھا۔  ویسے بھی ایئر پورٹ سے اتنے قریب نو فلائ زون کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ دونوں خبریں تو میں نے دیکھیں۔
ایک بلاگ پہ یہ قیاس تک ظاہر کیا گیا کہ جعلی ڈگریوں کے سلسلے سے توجہ ہٹانے کے لئے شاید یہ حادثہ کیا گیا۔ حادثے ساری دنیا میں ہوتے ہیں اصل بات یہ معلوم کرنا ہوتی ہے کہ  اس میں انسانی لا پرواہی تھی یا کوئ ٹیکنیکل خرابی۔ 
 ایسے حادثوں کے فوراً بعد جن اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مدد کا فوری طور پہ جائے حادثہ تک پہنچنا  اور جہاز میں موجود لوگوں کے بارے میں آگاہ ہونا۔ تاکہ انکے رشتے داراور دوستوں  کومعلوم ہو کہ متعلقہ شخص جہاز میں تھا یا نہیں۔
اس سلسلے میں میڈیا کو کچھ باتوں کا پابند ہونا چاہئیے۔ مثلاً مرنے والوں کی تعداد کا جب تک تصدیق نہ ہوجائے اپنے طور پہ اعلان نہ کریں۔ ایک شدید زخمی بے ہوش شخص اور مردہ جسم کے درمیان ایک اخباری رپورٹر دور سے دیکھ کر کیسے رائے دے سکتا ہے۔ یہ تو ایک ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے۔ اپنی سنسنی خیز خبروں کو کم از کم ایک دن کے لئے تو معطل رکھیں تاکہ وہ جو اس اندوہناک حادثے سے گذرے ہیں وہ اس چیز کو تسلیم کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ہم لاکھ کہیں کہ انکا غم ہمارا غم ہے یہ محض الفاظ ہی رہیں گے کہ جو اس سے گذرتا ہے وہی جانتا ہے اور صبر بھی آتے آتے ہی آتا ہے۔ اس قسم کی خبروں کے دوہرانے کی تعداد اور انکے درمیان وقفے کو بھی مقرر کیا جانا چاہئیے۔ ایک ہی فوٹیج، ایک ہی رپورٹ کو اتنی دفعہ دکھایا جاتا ہے کہ سنجیدہ ترین بات کی بھی اہمیت نہیں رہتی۔ یوں ایک اندوہناک حادثہ بھی زندگی کا روزمرہ بن جاتا ہے۔
اسکے علاوہ ایک ہی خبر کو مرکز توجہ بنا لینا کہاں تک درست ہے۔
 پشاور میں  بارشوں  اورسیلابی ریلوں میں کل سے اب تک ایک سو دس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مگر اس سے آگے ہم نہیں جانتے کہ یہ کون لوگ ہیں انکے اہل خانہ پہ کیا گذری۔ ایسا کیا ہوا کہ اتنے لوگ سیلابی ریلے کا شکار ہوئے۔ کیا سیلابی ریلے سے بچاءو کی کوئ صورت ہے عوام اپنے آپکو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور کیسے اپنے پیاروں کو بچا سکتے ہیں۔  پچھلے ہفتے بلوچستان میں سیلابی ریلوں میں پچاس سے زیادہ افراد مر گئے،متعدد لا پتہ ہو گئے اور ہزاروں بے گھر۔ بچ جانے والےلوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ آخر اس میں انسانی زندگی کا نقصان بھی تو نقصان ہے اور اتنا ہی ہولناک ہے۔ میڈیا کسی خبر کو ترجیحات دینے میں کیا چیزیں سامنے رکھتا ہے؟
کل ہی کے دن کراچی میں ایک گھر کے گر جانے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کےسات لوگ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں مر گئے۔ معلوم نہیں کہ اس طرح کے دھچکے سے گذرنے کے بعد باقی بچ جانے والے لوگ کس حالت میں ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ لوگ اب تک اس مخدوش عمارت میں کیسے رہ رہے تھے ۔ اس حادثے سے کیسے بچا جا سکتا تھا۔ معلومات زیرو۔  ہر سال بارش میں ایک ایسی خبر ضرور آتی ہے۔ جس سے مناسب اقدامت کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔  اسی طرح کراچی میں حالیہ بارشوں میں دو افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے مر گئے۔ ہر موسم برسات میں ایسا بھی ضرور ہوتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ میڈیا کن لوگوں کے مرنے کو اہمیت دیتا ہے اور کن لوگوں کے اہل خانہ کے پیچھے بھاگنے سے انکی قیمت صحیح سے وصول ہوتی ہے؟
لوگ میڈیا کو بے حس قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہم سب کا مجموعی رویہ ہے۔ میڈیا یہ سب چیزیں جنہیں بیچ رہا ہے وہ ہم ہیں۔ ہم ہیں اسکے خریدار۔ 

Wednesday, July 14, 2010

ورنہ

پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرار داد پاس ہوئ جس میں میڈیا کی مذمت کی گئ۔  پنجاب جو ہمارے ملک کی آبادی کا ساٹھ فی صد ہے۔ اس ساٹھ فی صد آبادی کے اقتدار میں موجود نمائندوں نے میڈیا کے روئیے کی مذمت کی ہے۔
کیوں؟ 
اس کی نمایاں وجوہات میں یہ کہ میڈیا نے جعلی ڈگریوں کے ضمن میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔  میڈیا ، حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہے۔ یہ جعلی ڈگریوں اور جمہوریت والا مسئلہ چونکہ عام لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اور نہ یہ انکا 'روزمرہ' ہے۔ تو اس میں عوام کو بھی شامل رکھنے کے لئے ایک وجہ اور بیان کی گئ ہے وہ پارلیمنٹ کی خواتین کے حوالے سے میڈیا میں ایک فضول  ویڈیو کی تشہیر، جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھی۔
یہ اس پنجاب اسمبلی کی قرارداد مذمت ہے جس نے ایک آمر کی حکومت کو گرانے کے لئے میڈیا کی پیٹھ ٹھونکی۔ جس نے لال مسجد کو ایک سانحے میں تبدیل کرنے کے لئے میڈیا کو شاباش کہا۔ اور جس نے انتہا پسند گروہوں کو عوامی ہیرو بنانے میں میڈیا کے تعاون خیر پہ انہیں بھی جنت میں اپنے ساتھیوں میں شامل کہا ہوگا۔
آج پنجاب ، جبکہ سیاسی ماحول کے حساب سے ایک گرم صورت حال میں ہے۔ جناب نواز شریف اور شہباز شریف پہ الزام ہے کہ وہ انتہا پسند گروپوں کی حمایت حاصل کرنے اور انہیں تحفظ دینے میں سرگرم عمل ہیں۔   یہی نہیں بلکہ جھوٹی جعلی ڈگریوں کے بل بوتے پہ سیاسی طاقت حاصل کرنے والے، ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے دعوے دار اور معاشرے کو عدل اور انصاف کی صبح نو کا پیغام دینے والے ہیں۔ یقیناً، میڈیا کو اس چیز کو بے نقاب کرنے اور اس پہ شور وغوغا کرنے پہ، مذمت کا سامنا کرنا چاہئیے۔ 
کیوں؟
اس لئے کہ اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس جمہوریت کو جس کے نتیجے میں ہماری اسمبلیوں میں، ملک کے امیر ترین اشخاص اپنے غلیظ ترین ذہنوں کے ساتھ ہمارے مستقبل کا سہارا لے کراسکی لگامیں تھامتے ہیں۔ جب کہ انہیں  یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارا مستقبل انکے مستقبل سے کتنا الگ ہے۔ کیونکہ وہ اس خزانے پہ جسے ہمارے مستقبل کے تحفظ پہ خرچ ہونا چاہئیے۔ اپنی اور اپنی نسل کے مستقبل کی بقا کے  لئے وقف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے عوام کا فرض ہے کہ وہ اس اقتدار کے مسند پہ براجمان گروہ کی حفاظت کے لئے اپنے مسائل بھول جائے اور اپنے وسائل ان پہ نچھاور کرتا رہے۔ جسکے نتیجے میں، نسل در نسل بادشاہی خاندان جنم لیتے ہیں۔ چند شاہی خاندان آپس میں حکومتی طاقت کو مل بانٹ کر استعمال کرنے کے عمل کو جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔ اور جب انکی یہ پول پٹی کھلنے لگتی ہے تو لازماً اس سے اس جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہر وہ عمل جس سے انکے اثر و رسوخ کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچے، وہ جمہوریت کی راہ میں حائل ہے۔
وہ تمام لوگ جو اس ملک میں عوام کی حاکمیت اعلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ  جمہوریت اسکا نام ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لئے عوام کے ذریعے سے۔  وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس طرح طاقت کے سہارے پہ میڈیا سنسر ہونا چاہئیے؟ کیا کسی کو یہ حق ہونا چاہئیے کہ جب تک اسکے مفادات کے حق میں کوئ چیز جا رہی ہو تو وہ ہر غلط اور صحیح چیز کی حمایت کرتا رہے اور جب اسے اسی طرز عمل سے نقصان پہنچنے لگے تو وہ قرار داد مذمت پاس کرے؟ کیا ہمیں ایک ایسی جمہوریت کی حفاظت کی تگ و دو میں لگا رہنا چاہئیے جو تمام مجرمین کو، جھوٹے اور کرپٹ لوگوں ، نظام کو محض با اثر لوگوں کی بقاء اور انکی نسلوں کی فلاح کے لئے استعمال کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے قوانین بناتا رہے؟
مجھ سے پوچھیں، جوتے پڑنے چاہئیے انہیں۔ ان سب کو۔ اور انہیں ان اسمبلیوں سے گندے انڈوں کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہئیے۔  انہیں وہاں ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے، اپنے مسائل کے حل کے لئے بھیجا ہے اور یہ ہمارا بنیادی حق ہونا چاہئیے کہ وہ اگر ہم سے جھوٹ بولتے ہیں، وہ اپنے ذاتی مفادات کو ہمارے مفادات پہ ترجیح دیتے ہیں، وہ حکومتی مصارف کو ادا کرنے کے لئے ہمارے ٹیکس کی صورت میں جمع کردہ چندے کو اپنی اور اپنے خاندانوں کی عیاشی پہ خرچ کر کے ہمیں دن بہ دن حقیر فقیر بنا کر ہمارا مذاق اڑانے پہ تلے ہوئے ہیں تو ہم اپنی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم ان سے کہہ سکتے ہیں۔ اب بہت ہو گیا، اب دفع ہو جاءو ہمیشہ کے لئے۔ جان چھوڑو ہماری، ورنہ-----------۔