تم ہر غلیظ کام کرنے کو تیار رہتی ہو۔ اس لئے بار بار بیمار پڑتی ہو'۔ میں نے ڈاکٹر کے پاس واپس آتے ہوئے ایک دفعہ پھر مشعل کو صفائ کی اہمیت کے بارے میں بتانا چاہا۔ وہ اے سی کے ایکدم نزدیک ہو کر اس سے آنے والی ہوا کے سامنے منہ کھول کر بیٹھی ہوئ تھیں۔ 'اب دیکھو، کھانسی ہو رہی ہے تمہیں اور تم اے سی کے سامنے منہ کھول کر بیٹھی ہوئ ہو'۔
میری اس بات پہ وہ ذرا پیچھے ہو کر بیٹھ گئیں۔ 'تم سُوں سُوں کر رہی ہو ناں۔ تمہاری ناک دوبارہ بہنا شروع ہو گئ ہے۔ مگر تمہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا'۔ میں نے انہیں ناک سکوڑتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ جواب ملا 'ناک تھوڑی بہہ رہی ہے۔ میں تو ہوا سونگھ رہی ہوں۔ اس لئے سُوں سُوں کر رہی ہوں'۔ پھر انہوں نے اپنے موءقف مضبوطی پیدا کرنے کے لئے مصنوعی سُوں سُوں کی آواز نکالی۔
نو مور گھپلا۔ اب تم خاموشی سے ہاتھ سے ناک صاف کروگی۔ ٹشو لو فوراً''۔ ٹریفک اتنا ابتر ہو رہا تھا کہ میں نے اپنی توجہ روڈ پہ کر لی۔ گاڑی میں خاموشی ہو گئ۔
مشعل کو لگا کہ میں ناراض ہو گئ ہوں۔ 'ماما، کیا میں ایک اچھی بچی ہوں'۔ انہوں نے میرے جذبات کا اندازہ لگانے کے لئے ایک آزمودہ جملہ بولا۔ ماما کیا کہہ سکتی ہیں۔ در حقیقت ایک چار سالہ بچے کی اس بات پہ دنیا کی کوئ بھی ماں کیا کہہ سکتی ہے۔ میں نے بھی جذباتی جواب دیا۔ 'بالکل، آپ ایک اچھی بچی ہیں ، مگر کبھی کبھی گھپلا کرتی ہیں'۔ 'کیا اللہ میاں مجھے گناہ دیں گے۔ وہ میرے ہاتھ پہ زخم لگا دیں گے۔ پھر میں آپکو کیسے چھو سکوں گی'۔ اگر ایک طرف اللہ میاں ہوں اور دوسری طرف مسلمان ماں تو وہ کیا کرے گی؟
میں نے فوراً اللہ میاں کا دفاع کیا۔ 'نہیں وہ بچوں کو گناہ نہیں دیتے'۔ 'پھر وہ بچوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں'۔ ہمم، میں نے ایک گاڑی کو اوور ٹیک کیا۔ اسکے پیچھے کافی دیر سے پھنسے ہوئے تھے۔ 'بچوں کی ماما کو کہتے ہیں کہ بچوں کا سمجھا دیں'۔ ' کیا سمجھا دیں؟'۔ 'یہی کہ بچوں کو اپنی ماما کی بات سننی چاہئیے اور جیسا وہ کہیں ویسا ہی کرنا چاہئیے'۔ 'کیا میں آپکی بات سنتی ہوں'۔ انہوں نے تجاہل عارفانہ سے پوچھا۔ 'آپ بتائیے آپ میری بات سنتی ہیں؟'۔ میں نے سوال کیا۔ وہ خاموش ہو گئیں۔ 'سوری ماما، میں آئیندہ آپکی ہر بات سنونگی ۔ جیسا آپ کہیں گی میں ویسا ہی کرونگی'۔ ہمم'۔ ایسے وعدے روز ہی ہوتے ہیں۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔
'تو کیا آپ یہ اللہ میاں کو بتا دیں گی؟'۔' ہاں میں انہیں بتا دونگی'۔ 'کیا اللہ میاں آپکی بات سنتے ہیں'۔ 'ہاں وہ ماما کی بات سنتے ہیں'۔ اور آپ سے بات بھی کرتے ہیں'۔ 'ہاں وہ ماما کو بتاتے ہیں کہ بچوں کو کیا بتانا ہے'۔ میرے اوپر ایک پیغمبرانہ سرشاری طاری ہو گئ۔ گاڑی میں ایک دفعہ پھر خاموشی۔
ماما، میں دادا جی کو بہت مِس کرتی ہوں'۔ ایسے جذباتی ڈائیلاگز بولنے میں وہ بہت ماہر ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب کارٹونز دیکھنے کا اثر ہے۔ مگر کارٹونز تو آجکل سب بچے دیکھتے ہیں۔ انکے یہاں پریکٹیکل ایپلیکیشن زیادہ ہے۔ 'ماما، میں انہیں بہت لو کرتی ہوں'۔ 'ہاں مجھے معلوم ہے'۔ میں نے فضا میں خطرے کی بو سونگھی، میرے لئے کوئ ٹریپ کوئ چاہِ خس تیار ہو رہا ہے۔ 'ماما، آئ پرامس میں آپکی ہر بات مانونگی۔ آپ اللہ میاں سے کہیں وہ دادا جی کو واپس کر دیں'۔
ساری الہامی فضا، دھڑ دھڑ دھڑام ہو گئ۔ گربہ کشتن روز اول۔ اچھا تو یہ وجہ ہے کہ جھوٹی نبوت کے دعویدار مرد اتنے زیادہ اور انکے مقابلے میں عورتیں برائے نام۔ عورتوں کی ابتدائ آزمائیش انکے بچے کرتے ہیں۔ میں نے گھر کے آگے گاڑی روکتے ہوئے سوچا۔ توبہ میری۔
دل سے نکال دیجئیے احساس پیغمبری
مرجائیے، الہام کا دعوی نہ کیجئیے

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)
