Friday, May 20, 2011

نو مور گھپلا

تم ہر غلیظ کام کرنے کو تیار رہتی ہو۔ اس لئے بار بار بیمار پڑتی ہو'۔ میں نے ڈاکٹر کے پاس واپس آتے ہوئے ایک دفعہ پھر مشعل کو صفائ کی اہمیت کے بارے میں بتانا چاہا۔ وہ اے سی کے ایکدم نزدیک ہو کر اس  سے آنے والی ہوا کے سامنے منہ کھول کر بیٹھی ہوئ تھیں۔ 'اب دیکھو، کھانسی ہو رہی ہے تمہیں اور تم اے سی کے سامنے منہ کھول کر بیٹھی ہوئ ہو'۔
میری اس بات پہ وہ ذرا پیچھے ہو کر بیٹھ گئیں۔ 'تم سُوں سُوں کر رہی ہو ناں۔ تمہاری ناک دوبارہ بہنا شروع ہو گئ ہے۔ مگر تمہیں کچھ سمجھ میں نہیں آتا'۔ میں نے انہیں ناک سکوڑتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ جواب ملا 'ناک تھوڑی بہہ رہی ہے۔ میں تو ہوا سونگھ رہی ہوں۔ اس لئے سُوں سُوں کر رہی ہوں'۔ پھر انہوں نے اپنے موءقف مضبوطی پیدا کرنے کے لئے مصنوعی سُوں سُوں کی آواز نکالی۔
 نو مور گھپلا۔  اب تم خاموشی سے ہاتھ سے ناک صاف کروگی۔ ٹشو لو فوراً''۔ ٹریفک اتنا ابتر ہو رہا تھا کہ میں نے اپنی توجہ روڈ پہ کر لی۔ گاڑی میں خاموشی ہو گئ۔
مشعل کو لگا کہ میں ناراض ہو گئ ہوں۔ 'ماما، کیا میں ایک اچھی بچی ہوں'۔ انہوں نے میرے جذبات کا اندازہ لگانے کے لئے ایک آزمودہ جملہ بولا۔ ماما کیا کہہ سکتی ہیں۔ در حقیقت ایک چار سالہ بچے کی اس بات پہ دنیا کی کوئ بھی ماں کیا کہہ سکتی ہے۔ میں نے بھی جذباتی جواب دیا۔ 'بالکل، آپ ایک اچھی بچی ہیں ، مگر کبھی کبھی گھپلا کرتی ہیں'۔ 'کیا اللہ میاں مجھے گناہ دیں گے۔ وہ میرے ہاتھ پہ زخم لگا دیں گے۔ پھر میں آپکو کیسے چھو سکوں گی'۔  اگر ایک طرف اللہ میاں ہوں اور دوسری طرف مسلمان ماں تو وہ کیا کرے گی؟
میں نے فوراً اللہ میاں کا دفاع کیا۔ 'نہیں وہ بچوں کو گناہ نہیں دیتے'۔ 'پھر وہ بچوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں'۔  ہمم، میں نے ایک گاڑی کو اوور ٹیک کیا۔ اسکے پیچھے کافی دیر سے پھنسے ہوئے تھے۔ 'بچوں کی ماما کو کہتے ہیں کہ بچوں کا سمجھا دیں'۔ ' کیا سمجھا دیں؟'۔ 'یہی کہ بچوں کو اپنی ماما کی بات سننی چاہئیے اور جیسا وہ کہیں ویسا ہی کرنا چاہئیے'۔ 'کیا میں آپکی بات سنتی ہوں'۔ انہوں نے تجاہل عارفانہ سے پوچھا۔ 'آپ بتائیے آپ میری بات سنتی ہیں؟'۔ میں نے سوال کیا۔  وہ خاموش ہو گئیں۔ 'سوری ماما، میں آئیندہ آپکی ہر بات سنونگی ۔ جیسا آپ کہیں گی میں ویسا ہی کرونگی'۔ ہمم'۔ ایسے وعدے روز ہی ہوتے ہیں۔ مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔ 
'تو کیا آپ یہ اللہ میاں کو بتا دیں گی؟'۔' ہاں میں انہیں بتا دونگی'۔ 'کیا اللہ میاں آپکی بات سنتے ہیں'۔ 'ہاں وہ ماما کی بات سنتے ہیں'۔ اور آپ سے بات بھی کرتے ہیں'۔ 'ہاں وہ ماما کو بتاتے ہیں کہ بچوں کو کیا بتانا ہے'۔ میرے اوپر ایک پیغمبرانہ سرشاری طاری ہو گئ۔  گاڑی میں ایک دفعہ پھر خاموشی۔ 
ماما،  میں دادا جی کو بہت مِس کرتی ہوں'۔ ایسے جذباتی ڈائیلاگز بولنے میں وہ بہت ماہر ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب کارٹونز دیکھنے کا اثر ہے۔ مگر کارٹونز تو آجکل سب بچے دیکھتے ہیں۔ انکے یہاں پریکٹیکل ایپلیکیشن زیادہ ہے۔ 'ماما، میں انہیں بہت لو کرتی ہوں'۔ 'ہاں مجھے معلوم ہے'۔ میں نے فضا میں خطرے کی بو سونگھی، میرے لئے کوئ ٹریپ کوئ چاہِ خس تیار ہو رہا ہے۔ 'ماما، آئ پرامس میں آپکی ہر بات مانونگی۔ آپ اللہ میاں سے کہیں وہ دادا جی  کو واپس کر دیں'۔
ساری الہامی فضا، دھڑ دھڑ دھڑام ہو گئ۔ گربہ کشتن روز اول۔ اچھا تو یہ وجہ ہے کہ جھوٹی نبوت کے دعویدار مرد اتنے زیادہ اور  انکے مقابلے میں عورتیں برائے نام۔ عورتوں کی ابتدائ  آزمائیش انکے  بچے کرتے ہیں۔ میں نے گھر کے آگے گاڑی روکتے ہوئے سوچا۔ توبہ میری۔
دل سے نکال دیجئیے احساس پیغمبری
مرجائیے، الہام کا دعوی نہ کیجئیے

14 comments:

  1. مشعل پاکستان کا آنے والا کل ہے، اللہ تمام بچوں کے اپنے حفظ و امان میں رکھیں، آپکی پرورش مثبت جارہی ہے اسے جاری و ساری رکھیں، اللہ مشعل کو حضور پاک صلی علیہ وسلم کا حصیح معنوں میں امتی بنائیں آمین۔

    ReplyDelete
  2. اتنے پیارے دادا جی کیوں نا یاد آئیں گے مشعل کو،
    آپ نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ پھرآپ نے جواب میں کیا کہا

    ReplyDelete
  3. یہ ایک بڑی دلچسپ خبر ہے آپ بھی دیکھیئے،
    مصر میں اخوان المسلمون کا نیا انتخابی نام، ایک مسیحی, پارٹی کا نائب سربراہ
    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,15091488,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf
    میں تو اب یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ بے چارے مذہب پرست اب کیا کہیں گے!
    :)

    ReplyDelete
  4. مصر میں اخوان المسلمون کا نیا انتخابی نام، ایک مسیحی پارٹی کا نائب سربراہ

    اخوان المسلمون کا انتخابی نام فریڈم اور جسٹس پارٹی ہےمصر میں اخوان المسلمون نے آئندہ انتخابات کے حوالے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ الیکشن کے لیے نئے نام کا انتخاب کیا گیا ہے اور پارٹی نے ایک مسیحی دانشور کو نائب سربراہ کے طور پر منتخب کیا ہے۔

    اخوان المسلمون فریڈم اور جسٹس پارٹی کے نام سے مصر میں ہونے والے آئندہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ انتخابات کے تیاریوں کے سلسلے میں پارٹی کو منظم کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس سلسلے میں صرف ایک مسیحی دانشور ہی نہیں بلکہ 100 سے زائد قبطی مسیحی بھی فریڈم اور جسٹس پارٹی کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل ہیں۔ پارٹی کے سرکردہ نمائندے سعد القطانی نے بتایا کہ اس وقت قریب ایک ہزار خواتین بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں۔

    القطانی کے بقول اس وقت ممبران کی تعداد تقریباً نو ہزار تک پہنچ گئی ہے، جس میں 978 خواتین اور 93 قبطی مسیحی ہیں۔
    اخوان المسلمون 17جون سے فریڈم اور جسٹس پارٹی کے نام سے سیاسی سرگرمیاں شروع کر دے گیمسیحی دانشور رفیق حبیب کے انتخاب کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں نائب صدر اس لیے نہیں بنایا گیا ہے کہ وہ ایک کرسچن ہیں بلکہ ایک عظیم دانشور ہونے کے ناطے وہ پارٹی کے لیے ایک سرمائے سے کم نہیں ہوں گے۔

    فریڈم اور جسٹس پارٹی کے سرکردہ نمائندے سعد القطانی نے مزید کہا کہ مصر کی کرسچن آبادی کی پارٹی میں شمولیت یہ ثابت کرتی ہے کہ اخوان المسلمون پر اب تک ہونے والے الزام تراشی بے بنیاد تھی’’ہم قبطی مسیحوں کو مصر کا ایک حصے سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ہمارے بھائی ہیں‘‘۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت مصری باشندوں کی جماعت ہے، ایک عوامی پارٹی ہے۔ اس کی بنیاد اسلامی اصول ہیں۔ ساتھ ہی القطانی نے اعلان کیا کہ 17جون کو پارٹی کو مکمل کرنے کا عمل ختم ہو جائے گا، جس کے بعد باقاعدہ طور پر سیاسی سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔

    ReplyDelete
  5. ایک سوال پر ٹیلی ویژن : کیا اللہ میاں پیغمبروں کی سنتے ہیں یا یہ پیغمبر ہیں جو اللہ میاں کی سنتے ہیں؟

    ReplyDelete
  6. واہ واہ ۔۔
    جب آپ پوسٹ کے ساتھ انصآف کرتی ہیں تو پوسٹ خود چینخ چینخ کر بتاتی ہے۔۔
    بہت خوب اور بہت اعلی۔۔
    اور بلخصوص یہ جملہ
    "اچھا تو یہ وجہ ہے کہ جھوٹی نبوت کے دعویدار مرد اتنے زیادہ اور انکے مقابلے میں عورتیں برائے نام۔ عورتوں کی ابتدائ آزمائیش انکے بچے کرتے ہیں۔ "

    ReplyDelete
  7. عبداللہ، بتانا کیا تھا۔ فوری طور پہ یہی جواب ذہن میں آیا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ اور تھک گئے تھے۔ انکے اندر انرجی کی بہت کمی ہو گئ تھی۔ جب تک انکی انرجی واپس نہیں آتی وہ واپس نہیں آسکتے۔ ااید ہے کہ آئیندہ تین چارسالوں میں انہیں مرنے کی فلاسفی سمجھ آجائے گی اور جب تک دادا جی کے جانے کا غم ہلکا ہو جائے گا۔ ابھی انہیں گئے ہوئے صرف آٹھ ماہ ہوئے ہیں۔
    عثمان، ٹیلی ویژن تو نہیں پیری ویژن ہے۔ یہ ایک غیر متوازن مساوات ہے جس میں اللہ میاں پیغمبر سے مخاطب ہوتے ہیں۔ لیکن شدید ایمرجینسی میں پیغمبر بھی مخاطب ہو سکتا ہے۔ اسکے لئے پیغمبر کو محدود وقت ملتا ہے۔ اس وقت کو عقلمندی سے استعمال کرنے کے لئے اسے زیادہ تر پہلے سے موجود پیغامات سے اپنا لائحہ عمل نکالنا پڑتا ہے۔ یوں ہم چاہیں تو پیغمبر کی زندگی اور مسائل حل کرنے کی اپروچ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

    ReplyDelete
  8. خالد حمیدMay 20, 2011 at 11:39 AM

    بہترین

    ReplyDelete
  9. زبردست۔۔۔ اعلیٰ۔۔۔

    کبھی کبھی نا جانے کیوں۔۔۔ ہر اختلاف بالاءے طاق رکھتے ہوءے آپ کی تحریر کی تعریف کا بہت جی چاہتا ہے۔۔۔

    اور خاص طور پر ہماری پیاری بھتیجی مشعل کا ذکر ہو جس تحریر میں۔۔۔ اس سے نظر نہیں چراءی جا سکتی۔۔۔ مشعل کو پیار۔۔۔

    ReplyDelete
  10. ایک بہت اچھی بات سُنی تھی اسی موضوع پر۔ ہمارے والدین ہر وقت ہمارے ساتھ رہتے ہیں، پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اپنے والدین سے اُداس ہوجاتے ہیں اور انہیں ملنے ان کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک دن ہم بھی اُن سے ملنے ان کے پاس چلے جائیں گے۔

    ReplyDelete
  11. ویسے تو آپ نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اپنے بلاگ کی تھیم کی نوک پلک نہیں سنواریں گی لیکن پھر بھی میرے خیال سے بلاگ ٹیمپلٹ میں دو جگہ مذکورہ کمانڈ کی اشد ضرورت ہے

    direction: rtl;

    Iٰٰٰاس سے ہوگا یہ کہ ایک ہی جملے میں انگریزی اور اردو کے الفاظ لکھنا ممکن ہوجائے گا۔
    اگر ہوسکے تو اس طرف دھیان دیجئے گا۔

    ReplyDelete
  12. اور میرے خیال سے واوین کا مسئلہ بھی سدھر جائے گا۔

    ReplyDelete
  13. بہت خوب۔ اور کارٹون والی بات صد فیصد درست کہی۔۔۔ میں تو اپنے بھتیجوں کے ڈائیلاگ اور باتیں سن کے کبھی کبھی حقیقتاً خاموشی اختیار کر لیتا ہوں۔ اور یہ خدا، گناہ و ثواب، موت۔۔۔یہ تو بچوں کا فیورٹ ٹاپک ہے۔۔!۔

    ReplyDelete
  14. بلا امتیاز صاحب یہاں آپ امتیاز فرما گئے،
    عنیقہ اپنی ہر پوسٹ کے ساتھ انصاف کرتی ہیں،
    اب یہ الگ بات ہےکہ ان میں سے کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوتین اور کچھ لوگوں کے سروں پر سے گزر جاتی ہیں!
    :)

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ