Showing posts with label واقعات. Show all posts
Showing posts with label واقعات. Show all posts

Wednesday, September 28, 2011

روحانی تجربہ

اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کیا کبھی آپکو کوئ روحانی تجربہ ہوا ہے تو ایک پاکستانی مسلمان ہونے کے ناطے آپ میں سے اکثر فورا اپنے ماضِی کو کھنگالیں گے  اور کچھ اس طرح کے خیال ذہن میں آئیں گے کہ کسی بابا، مجذوب یا اللہ والے سے کوئ ایسی ملاقات ہوئ جس میں اس نے کوئ پیشن گوئ کی اور وہ پوری ہو گئ۔ یا اس نے کوئ بات بتائ جو بالکل درست نکلی۔ کیا یہ روحانی تجربہ ہوتا ہے؟
یہ خیال مجھے اس وقت آیا جب میں عمران خان کی کتاب کے اقتباسات پڑھ رہی تھی جو اس اتوار کے روزنامہ ایکسپریس کے میگزین میں موجود ہے۔ جس میں عمران خان کے روحانی تجربات کے عنوان سے ایک تحریر موجود ہے اس میں انہوں نے ایک پیرنی، ایک جھلے بابا اور ایک دو اور شخصیات کا تذکرہ کیا ہے۔ کچھ ایسی پیشنگوئیوں کا جنہیں میں روحانی پیشنگوئ کم اور زندگی کا مشاہدہ زیادہ سمجھتی ہوں۔
مشاہدے کی قوت اگر زندگی کے تجربات کے ساتھ مل جائے تو یہ وجدان کا روپ دھار لیتی ہے جیسے میری والدہ، جنکے بارے میں ہم سب متفق ہیں کہ وہ جو کہہ رہی ہیں وہ ہوجائے گا۔ لیکن اسکے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ روحانی شخصیت ہرگز نہیں ہیں۔ یہ انکی مختلف معاملات سے وابستگی، زندگی کا حاصل اور خاصی مشاہداتی نظر ہے جو انکی باتوں کو صحیح ثابت کر دیتی ہے۔ ورنہ وہ ایک عام خاتون ہیں جو عام لوگوں سے زیادہ محنتی اور معاملہ فہم ہیں۔
یہ روحانی تجربات ہر مذہب  کے ماننے والے کو حاصل ہوتے ہیں۔ عیسائ ، ہندو حتی کہ افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والے نیم وحشی قبائل کو بھی۔ اور اس وجہ سے نفسیات میں ایک میدان ان روحانی تجربات کے لئے بھی کھلا ہے بلکہ نفسیات مذہب اسکے عقائد اور سرگرمیوں کو بھی سائینس کی نظر کھنگالتی ہے۔
البتہ حیرت سے مجھے اس وقت گذرنا پڑتا ہے جب دنیا کی مایہ ناز یونورسٹیز سے پڑھے لکھے اشخاص کو ایسی باتیں کرتے سنتی ہوں۔ مثلاً آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے بے نظیر بھٹو اور عمران خان۔
میرے گھر کی ماسیاں بھی کچھ ایسی روحانی شخصیات کا تذکرہ کرتی ہیں۔ اور اپنی زندگی میں تبدیلی کے لئے انکی طرف دیکھتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو ، اقتدار کے دوام کے لئے ڈنڈے کھانے ایک پیر کے پاس جایا کرتی تھیں، بازو پہ بندھے امام ضامن، بکروں۔ مرغیوں، گائے کے صدقے۔ لیکن جس دن انکو قتل ہونا تھا اس دن کوئ امام ضامن بند نہ باندھ سکا۔


عمران خان کی زندگی میں بقول انکے تبدیلی کا باعث بھی کچھ ایسی شخصیات بن گئیں۔ انکی زندگی میں کس تبدیلی کا باعث بن گئیں۔ یہ مجھے نہیں معلوم۔ کیا یہ تبدیلی کہ وہ خوبصورت خواتین کے ساتھ وقت گذارنے والے پلے بوائے سے بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار شخص بن گئے۔  انہوں نے اپنی شہرت اور دولت کو بہتر طور پہ عقل کے ساتھ استعمال کیا۔ ایسا ہر سمجھ دار شخص کرتا ہے خاص طور پہ گلیمر کی دنیا کا وہ  شخص جو اپنے بڑھاپے کو بھی اپنے شخصی سحر میں مبتلا دیکھتا ہے۔  لیکن کیا انکی بنیادی خصوصیات میں کوئ تبدیلی آئ۔ میرا خیال ہے کہ بنیادی شخصی خواص وہی رہے بس انکی سمت تبدیل ہوئ۔انجلینا جولی اور بل گیٹس یہ سب کچھ بلکہ اس سے زیادہ بغیر کسی روحانی تجربے کے کر رہے ہیں۔ ادھر جنید جمشید بھی کچھ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔ کیا یہ انکی روحانی تبدیلی ہے؟







طبقہ ء امراء اور طبقہ ء غرباء میں کافی باتیں ملتی جلتی ہوتی ہیں، کم از کم روئیے میں بڑی مماثلت ہوتی ہے۔ میں اپنے طور پہ یہ نتیجہ اخذ کرتی ہوں۔
لیکن ایک سوال جو میرے ذہن میں اکثر ابھرتا ہےاور جو میں آپ سے بھی پوچھنا چاہونگی  کہ مافوق الفطرت واقعات کے پیش آئے بغیرکیا کوئ روحانی تجربہ یا کیفیت ممکن نہیں؟ لیکن پہلا سوال وہی ہے کیا آپکو اپنی زندگی میں کوئ روحانی تجربہ ہوا ہے؟