Showing posts with label مرض. Show all posts
Showing posts with label مرض. Show all posts

Monday, September 24, 2012

ریبیز اور اسکا عالمی دن

ایک عام خیال یہ ہے کہ ریبیز نامی بیماری صرف کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ لیکن اور بھی بہت سے گرم خون والے جانور ہیں جن سے یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ ان میں  گھوڑے، بندر، لومڑی، رکون، نیولا، بھیڑیا، بلیاں، خرگوش اور چمگادڑ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ جی ہاں انکے کاٹنے سے بھی انسان ریبیز کا شکار ہو سکتا ہے۔ ریبیز ایسا مرض ہے جو ریبیز سے متائثر جانوروں سے انسان میں منتقل ہوتا ہے۔ اسکے جراثیم جانور کے تھوک میں یا اعصاب میں ہوتے ہیں۔ انسان سے انسان میں اگرچہ یہ ممکن نہیں لیکن ٹرانسپلانٹ سرجری کے بعد بعض لوگوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ یعنی ایک ریبیز سے متائثر شخص کا کوئ عضو اگر غیر متائثر شخص کو لگا دیں تو اسے ہو سکتی ہے۔


اس طرح،  پہلے جانور کو ریبیز ہوتی ہے اور پھر وہ اس قابل ہوتا ہے کہ انسان میں منتقل کر سکے۔ اس لئے ہر کتے کے کاٹنے سے ریبیز نہیں ہوتا بلکہ صرف اس کتے کے کاٹنے سے ہوتا ہے جو اس مرض میں مبتلا ہو۔
اس مرض کا پہلا دستاویزی ثبوت، دو سو قبل از مسیح میں ملتا ہے۔ جہاں ایک کتے کے کاٹے سے مرض کی علامات ظاہر ہوئیں۔  اٹھرہویں صدی سے پہلے تحقیق کے لئے جانور کی زبان کاٹ کر محفوظ کر لی جاتی تھی۔ یہ بعد میں معلوم ہوا کہ درحقیقت اسکے جراثیم دماغی خلیات میں ہوتے ہیں زبان میں نہیں۔
دنیا بھر میں ہر سال تقریباً پچپن ہزار امواتیں ریبیز کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ جنکی اکثریت ایشیاء اور افریقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ ستانوے فی صد ریبیز کے کیسز ، کتے کے کاٹنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
ریبیز لاطینی زبان کا لفظ ہے جسکا مطلب ہے پاگل پن۔ کیونکہ یہ مرض جب اپنی انتہائ حالت پر پہنچتا ہے تو مریض جنونی حرکتیں کرنے لگتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ اس مرض کا وائرس دماغ پہ اثر انداز ہوتا ہے اور اس میں سوجن پیدا کر دیتا ہے۔ مرض جب اس شدت پہ پہنچ جائے تو مریض چند دنوں کے اندر ختم ہوجاتا ہے۔
یہ وائرس دماغی اعصاب کے ذریعے سفر کرتا ہوا دماغ تک پہنچتا ہے۔ یوں کاٹے جانے والے مقام سے فاصلے کی بنیاد پہ اس مرض کے ظاہر ہونے میں اتنا وقت لگتا ہے۔ یہ مقام جتنا دماغ سے قریب ہوگا اور جتنا زیادہ کاٹنے کا زخم گہرا اور بڑا ہوگا اتنا جلد مرض کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ اور اس طرح چند دنوں سے لیکر چند مہینوں میں مرض کی علامتیں ظاہر ہو سکتی ہیں۔
مرض ظاہر ہونے کی کم سے کم مدت چار دن اور زیادہ سے زیادہ مدت چھ سال ریکارڈ کی جا چکی ہے۔
علامتیں  ظاہر ہونےسے پہلے اگر حفاظتی ٹیکے لے لئے جائیں تو مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں  وائرس کے دماغ میں پہنچ جانے کی صورت میں یا علامات ظاہر ہونے کے بعد یہ ٹیکے یا کوئ اور دوا کام نہیں کرتی۔

مرض کی علامات؛
مرض کی ابتدائ علامات میں پہلے مرحلے میں، طبیعت گری سی محسوس ہوتی ہے۔ سر درد اور بخار ہو جاتا ہے آہستہ درد ہونا شروع ہوتا ہے، دوسرے مرحلے میں مریض اشتعال میں آجاتا ہے، غیر معمولی جوش، تناءو اور پانی کا خوف بھی ظاہر ہونے لگتا ہے۔ جانور ہونے کی صورت میں وہ ذرا سی حرکت میں اتنا اشتعال میں آسکتا ہے کہ کاٹ لے۔  مریض عجیب و غریب حرکتیں شروع کر دیتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں، فالج کا اثر ہو سکتا ہے۔ پاگل پن کی علامتوں کے ساتھ مریض کومے میں چلا جاتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے دو سے چند دن کے اندر موت واقع ہوجاتی ہے۔ موت عام طور سے اعضائے تنفس کے کام چھوڑ دینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

بچاءو؛
 ریبیز سے محفوظ رہنے کے لئے، ریبیز پیدا کرنے والے جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد ٹیکے لگوانا ضروری ہیں۔ ریبیز کا موئثر بچاءو یہ ٹیکے ہیں اگر ایک دفعہ علامات ظاہر ہوجائیں تو مریض کو بچانا ممکن نہیں رہتا۔
اگرچہ یہ کہا جاتا ہے کہ جانور کو پکڑ کر اس میں بیماری تشخیص کی جائے اگر وہ ریبیز کا شکار نہیں ہے تو ٹیکے لگوانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن عام طور پہ کتے کے کاٹے کے واقعات آوارہ کتوں کے ہوتے ہیں جو کاٹنے کے بعد بھاگ جاتے ہیں اور انہیں ڈھونڈھ نکالنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر یہ کوئ پالتو کتا ہے اور اسکی ویکسینیشن باقاعدہ ہوتی  ہے تو پھر ریبیز کے امکانات نہیں ہوتے۔
اٹھارہ سو پچاس میں ریبیز سے بچاءو کے ٹیکے وجود میں آئے۔ لوئ پاسچر اور ایمائل روکس کے سر اسکی دریافت کا سہرا جاتا ہے۔  یہ ویکسین متائچرہ جانور کے دماغی خلیات سے بنائ گئ تھی۔ انیس سو سڑسٹھ میں  جدید ویکسین وجود میں آئ۔ یہ نہ صرف سستی ثابت ہوئ بلکہ بنانے کا طریقہ بھی آسان تھا۔  ترقی یافتہ ممالک میں پالتو کتوں کے لئے ویکسینیشن ضروری ہے اس طرح امریکہ میں اب پالتو کتوں کی وجہ سے ریبیز عموماً نہیں ہوتی بلکہ اسکے ہونے کی بنیادی وجہ چمگادڑیں ہیں۔
بچاءو کے لئے جسب ذیل طریقے اختیار کئے جائیں۔
پالتو جانوروں مثلاً کتے، گھوڑے، خرگوش اور بلیوں کی ویکسینیشن کرائ جائے۔
گھریلو جانوروں پہ نظر رکھی جائے کہ وہ کس طرح کا رویہ رکھتے ہیں۔
آوارہ پھرنے والے جانوروں سے دور رہا جائے اور انہیں چھونے سے گریز کیا جائے۔
پاگل کتا نظر آنے کی صورت میں فوراً انتظامیہ کو اطلاع دی جائے۔
اگر ریبیز پیدا کرنے والے جانور کاٹ لیں تو زخم کو فوراً صابن ملے پانی سے اچھی طرح پانچ منٹ تک دھوئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جراثیم دھل جائیں اور جسم میں داخل نہ ہو سکیں۔ اگر ٹنکچر آئیوڈین یا الکوحل موجود ہو تو اس سے بھی دھو لیجئیے۔ جسم کے سوراخوں جیسے منہ اور ناک کے نتھنے اور آنکھوں کو بھی اچھی طرح پانی سے دھو لیں۔   ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔
کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد بچاءو کے لئے ٹیکے لگوانے چاہئیں۔ پہلے  جو ٹیکے استعمال کئے جاتے تھے وہ عام طور پہ چودہ دن تک مسلسل لگانے پڑتے تھے وہ بھی پیٹ میں۔ پیٹ میں موجود چربی کی موٹی تہہ اس ٹیکے کو جسم میں کنٹرولڈ مقدار میں داخل ہونے دیتی تھی۔  لیکن اب زیادہ مءوثر ٹیکے موجود ہیں جنہیں پیٹ میں نہیں لگانا پڑتا بلکہ بازو پہ لگاتے ہیں اور نہ روزانہ بلکہ چودہ دن میں چار دفعہ لگایا جاتا ہے۔ البتہ یہ کہ پیٹ میں لگانے والے ٹیکے سستے پڑتے ہیں۔

 علاج؛
کیا ریبیز ہو جانے کے بعد اسکا علاج ممکن ہے؟
ریبیز کے علاج کے لئے کوششیں اور تحقیق  جاری ہے۔ اس سلسلے میں پروٹوکول ترتیب دیا گیا جسکے نتائج حوصلہ افزاء ہیں لیکن واقعی کامیاب نہیں۔ اس طریقے سے اب تک چند افراد کو بچایا جا چکا ہے۔ اس سلسلے میں پہلا کیس ایک بچی کا تھا۔ جین گیز نامی اس بچی کو سن دو ہزار چار میں ایک چمگادڑ نے انگلی پہ معمولی سا کاٹ لیا تھا۔ جسے اس وقت صاف ستھرا کر کے چھوڑ دیا گیا کہ معمولی سا زخم ہے۔ تقریبا ایک مہینے بعد جینا میں بیماری کی علاتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹڑ اسکے اعصابی رد عمل کو دیکھ کر پریشان تھے کہ معمولی بخار سے ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر اسکے گھر والوں کو خیا آیا کہ اسے کچھ دن پہلے چمگادڑ نے کاٹ لیا تھا۔ جینا گیز ریبیز کا شکار ہو چکی تھِ اور اب ٹیکے کا استعمال اسے بچا نہیں سکتا تھا۔ اس لئے ڈاکٹرز نے خاندان والوں کی اجازت سے جینا کو کچھ عرصے کے لئے بے ہوش کر دیا یعنی اسے کومے والی صورت میں لے گئے جہاں دماغ کام کرنا بند کر دیتا ہے اس طرح دماغی خلیات کو تباہ ہونے سے بچایا جا سکتا ہے اسکے بعد جینا کو اینٹی وائرل دوائیں دے کر اسکے جسم کو اس قابل بنایا گیا کہ وہ قدرتی طور پہ ریبیز کے خلاف اینٹی باڈیز بنا سکے۔ چند دنوں کے بعد جب جسم میں اینٹی باڈیز بننے کا عمل شروع ہو گیا تو جینا کو کومے سے واپس لایا گیا۔
جینا کو مکمل طور پہ صحت یاب ہونے میں لمبا عرصہ لگا لیکن وہ اب زندگی کی تمام سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہے سوائے چند ایک کے۔ یہ پروٹوکول  مل واکی پروٹوکول کہلاتا ہے۔ اب تک چار افراد اس طریق علاج سے بچائے جا چکے ہیں۔ ابھی اس پہ تحقیق جاری ہے کہ کیا واقعی اس پروٹووکول سے ہی مریض بچے یا انکے بچنے کی وجوہات کچھ اور ہیں۔

دنیا بھر میں ریبیز سے آگہی کا عالمی دن اٹھائیس ستمبر کو منایا جاتا ہے۔  اس حوالے سے یہ تحریر معلومات عامہ کے لئے ہے۔
 
   

Tuesday, June 21, 2011

چھاتی کا کینسر

میں خواتین کے خاص ملبوسات کے اسٹور پہ ایک ساتھی خاتون کے ساتھ موجود تھی۔ جب میری ساتھی خاتون نے مجھے ٹہوکا دیا۔ ان خاتون کو کچھ خاص چیز چاہئیے۔ انہوں نے سرگوشی کی۔ اسکی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ لڑکی عبایہ پہنے ہوئے تھی اور سر پہ سختی سے اسکارف باندھا ہوا تھا۔ لیکن اس چھبیس ستائیس سال کی پیلاہٹ مائل سفید رنگت والی لڑکی کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی میری نگاہ اسکی آنکھوں کے گوشوں  میں گم آنسوءووں پہ ٹہر گئ۔
میری چھٹی حس نے کہا ، وہ چھاتی کے کینسر کا شکار ہے۔ اسکی ایک چھاتی کو آپریشن کر کے کاٹ کر نکالا جا چکا ہے ۔ ابھی اسکی کیمو تھراپی یا چل رہی ہے یا حال میں ختم ہوئ ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے سر کے سارے بال جھڑ چکے ہیں اس لئے اس نے اتنی سختی سے اسکارف لپیٹ رکھا ہے۔
یہ سب باتیں،  پلک جھپکتے میں  میرے ذہن میں آگئے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ میں اس بارے میں تفصیل سے پڑھ چکی ہوں جو معلومات مجھے حاصل ہوتی ہیں انہیں یاد رکھتی ہوں۔ جبکہ میری ساتھی خاتون کو اس بارے میں اتنا علم نہیں تھا  اس لئے وہ سمجھیں کہ وہ لڑکی اپنے جسم کی ساخت کو بہتر بنانے کے لئے کوئ خاص قسم کا زیر جامہ چاہتی ہے۔
ہم دونوں، اپنے علم کی بنیاد پہ دو مختلف رائے  پہ پہنچے۔ اس اثناء میں اسٹور کا دروازہ کھلا اور ایک اور لڑکی اندر داخل ہوئ۔ وہ اس لڑکی کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئ اور ایک دم گلے لگ گئ۔  وہ دونوں دوستیں بہت عرصے بعد مل رہی تھیں۔ لیکن اسکے گلے لگتے ہی عبایہ والی لڑکی رونے لگ گئ۔ اسے اسٹول پہ بٹھا کر دوست اس کا احوال پوچھنے لگی۔
یوں انکی ہلکی ہلکی باتوں سے پتہ چلا کہ اس لڑکی کی شادی کو پانچ سال ہوئے ہیں ۔ تیسرے بچے کی پیدائش کے تین مہینے بعد اسے لگا کہ چھاتی میں گٹھلی ہے۔ ڈاکٹر کو دکھایا ٹیسٹس ہوئے اور پتہ چلا کہ اسے چھاتی کا کینسر ہو گیا ہے۔
 وہ نوجوان لڑکی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنی دوست سے کہہ رہی تھی۔ ابھی تو میرے بچے بہت چھوٹے ہیں۔ حالانکہ وہ خود بھی اس مرض کے لئے چھوٹی تھی۔ پچھلے چھ مہینے میں ، میں چھ خواتین کے بارے میں سن چکی ہوں کہ وہ اس کا شکار ہو گئیں۔
 پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوتی ہے۔ لاحق ہونے کی صورت میں کسی ترقی یافتہ ملک کی نسبت جان سے گذرنے کا امکان بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
کسی بھی قسم کا کینسر ہونے کی سب سے بنیادی وجہ زندگی گذارنے کا انداز ہے اور دوسری اہم وجہ خاندان میں  اس مرض کا پایا جانا ہے۔
بریسٹ کینسر جن خواتین میں پائے جانے کا زیادہ امکان ہے وہ یہ ہیں۔
جن کے خاندان میں یہ مرض پہلے کسی کو ہو چکا ہو، ماں اور باپ دونوں کی طرف سے۔ ایک غلط خیال یہ ہے کہ صرف ماں کے خاندان میں  پایا جائے تو ہی امکان ہوتا ہے۔
وراثتی طور پہ ہی منتقل نہیں ہوتا۔ بلکہ  دیگر خواتین بھی زیادہ رسک پہ ہوتی ہیں۔ ان میں وہ جو بے اولاد ہوں۔ یا جنکے بچے تیس سال کی عمر کے بعد ہوئے ہوں۔
جنکے مخصوص ایام کم عمری میں ہی شروع ہو گئے ہوں جیسے دس گیارہ سال کی عمر میں۔
جنکے مخصوص ایام زیادہ عرصے تک چلتے رہے ہو۔ جیسے پچپن سال کی عمر کے بعد بھی۔
سن یاس یعنی ایام بند ہو جانے کے بعد اسکے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس طرح نوجوان خواتین کے مقابلے میں زیادہ عمر کی خواتین زیادہ شکار ہوتی ہیں۔
جو خواتین اپنے بچوں کواپنا دودھ نہیں پلاتی ہیں  وہ  زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں۔
وہ خواتین جو شراب نوشی کرتی ہیں۔

امکان زیادہ ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ایسی خواتین کو معمولی علامتوں کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہئیے۔ یہ بالکل ضروری نہیں کہ اگر خاندان میں کسی کو ہو چکا ہو تو لازماً دوسری خواتین کو بھی ہوگا ۔  اسی طرح جنکے اولاد نہیں یا جنہوں نے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلایا انہیں ضرور ہوگا۔ انہیں نہیں  بھی ہو سکتا اور اسکو ہو سکتا ہے جس کے ایک درجن بچے ہوں جن میں سے ہر ایک کو اس نے دودھ پلایا ہو۔  جنکے خاندان میں کسی کو کبھی نہیں ہوا انکو بھی ہونے کے امکانات ہوتے ہیں اور اس طرح ایک اور وجہ طرز زندگی نکل آتی ہے۔
آپ کس طرح زندگی گذارتے ہیں اس پہ آپکی صحت کا دارومدار ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر کے سلسلے میں وہ خواتین جو  غذا کو رکھنے کے لئے پلاسٹک کی اشیاء کا استعمال کرتی ہیں زیادہ اس کا شکار ہوسکتی ہیں۔ پانی کی بوتل جو دھوپ میں دیر تک رکھی رہے زہر بن جاتی ہے۔ ان دوکانوں سے جہاں یہ باہر دھوپ میں رکھی ہوتی ہیں لینے سے گریز کریں اور دوکانداروں کو نصیحت کریں کہ پانی کی بوتلوں کو اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء جو پالسٹک پیکنگ میں ہوتی ہیں دھوپ میں نہ رکھیں۔ اسی طرح مائکرو ویو اون میں کھانا گرم کرنے کے لئے پلاسٹک کی اشیاء کا استعمال، ہوٹل سے کھانے یا روٹی لانے کے لئے پلاسٹک کی تھیلوں یا پلاسٹک کے برتن کا استعمال یہ سب ایک خطرہ ہے آپکی صحت کے لئے۔
تنگ زیر جامہ کا استعمال، چھاتیوں میں خون کی ترسیل کو آہستہ کر دیتا ہے۔ جس سے زہریلے مواد کے جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ یاد رہنا چاہئیے کہ خواتین میں تولیدی ہارمون کا سب سے زیادہ ذخیرہ چھاتیوں اور بچہ دانی میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہارمون دیگر  زہریلے مرکبات کو بھی آسانی سے دوست بنا لیتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ان میں کینسر کے خلئیے جنم لینے لگتے ہیں۔ صرف چھاتی ہی نہیں اکثر لوگوں کو ازار بند ٹائیٹ باندھنے کی عادت ہوتی ہے یہ بھی کینسر کو جنم دے سکتا ہے۔ کوشش کریں رات کو سوتے وقت ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں۔
ہم وہ ہوتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے۔ لیکن درست ہے۔ سادہ کھانوں کی عادت ڈالیں۔ کھانا جتنا بھونا جاتا ہے، تلا جاتا ہے، بیک کیا جاتا ہے یا کوئلوں پہ سینکا جاتا ہے اتنا اس میں زہریلے مرکبات زیادہ بنتے ہیں۔ یعنی ایسے مرکبات جو کینسر پیدا کر سکتے ہیں۔ 
سادہ کھانا کھائیے، تازہ پھل اور سبزیوں کو اپنی روز کی خوراک کا حصہ بنائیے۔ بازار سے لانے کے بعد سبزی اور پھلوں کو اچھی طرح دھولیں۔ تاکہ ان پہ موجود کیمیائ کھاد اور جراثیم کش ادویات  اچھی طرح صاف ہو جائیں۔

تیل یا چکنائ کا ستعمال کم کریں۔ تیل یا چکنائ میں زہریلے مرکبات جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اسے جسم میں زیادہ دیر تک رکھ سکتے ہیں۔ یوں خلیوں کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

اپنے وزن کو مقررہ حدوں کے اندر رکھنے کی کوشش کریں۔ سو بیماریوں کی ایک بیماری موٹاپا ہے۔

لائف اسٹائل میں سب سے اہم چیز ورزش ہے۔  اگر ہم ایک ایسی زندگی گذارتے ہیں جس میں حرکت کم ہوتی ہے تو ہمارے جسم کے تمام حصوں تک خون کی ترسیل مناسب نہیں ہو پاتی۔ وہ حصے جہاں خون کی ترسیل آہستہ ہوتی ہے وہاں زہریلے مرکبات کے جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ورزش ہمیں یہ فائدہ دیتی ہے کہ جسم کے تمام اعضاء حرکت میں آتے ہیں۔ اور بہتر خون اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔
خواتین عام طور پہ سمجھتی ہیں کہ گھریلو امور کو انجام دینا ہی ورزش ہے۔ یہ خیال اتنا درست نہیں ہے۔ ورزش کے نتیجے میں آپکے دل کی دھڑکن بڑھنی چاہئیے۔ اور جسم کے تمام اعضاء کو کام کرنا چاہئیے۔ چھاتی کے کینسر سے بچاءو کے لئے ایسی ورزشیں کیجئیے جسکے نتیجے میں آپکے بازو اور چھاتیوں میں کھنچاءو پیدا ہو۔
خواتین کی ورزش کے حوالے سے ہم کسی اگلی پوسٹ میں بات کریں گے۔
چھاتیوں کی جانچ ہر مہینہ ایام مخصوصہ ختم ہونے کے بعد ایک خاتون خود بھی کر سکتی ہے۔ اسکے لئے چھاتیوں اور اپنی بغل کے غدودوں کو چیک کرنا ہوتا ہے۔ ان میں کسی بھی قسم کی گٹھلی کی موجودگی یا درد کی صورت میں قابل اعتماد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بیشتر خواتین خاص طور پہ وہ جو شادی شدہ نہیں ہوتیں  بے جا شرم کی وجہ سے اتنا بڑھا لیتی ہیں کہ پھر یہ علاج سے باہر ہو جاتا ہے۔ اگر کینسر کا اثر لمف نوڈز یا ہڈی کے گودے تک بڑھ جائے تو یہ ایک خطرناک حالت ہوتی ہے۔
 چھاتی ایک خطرناک جگہ ہے۔ یہاں ایسٹروجن اور چربی سب سے زیادہ موجود ہونے کی وجہ ایک معمولی عام گٹھلی بھی اگر اسکا علاج نہ کیا جائے تو کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔
چھاتی میں اگر گٹھلی محسوس ہو تو اسکی گرم سینکائ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ گرم سینکائ جسم کے اندرونی زخم کو کینسر کے زخم میں تبدیل کر سکتی ہے۔  مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر ڈاکٹر میمو گرافی ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دے تو بلا تاخیر کرائیے۔ 
چھاتی میں موجود تمام گٹھلیاں کینسر نہیں ہوتیں۔ اس لئے گٹھلی موجود ہونے کی صورت میںجب تک ٹیسٹس کی رپورٹ نہ آجائیں اور ڈاکٹر کوئ حتمی رائے نہ دے دے۔ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
چھاتی کے کینسر کی تشخیص میمو گرافی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس میں خاص ٹیکنیک کے ذریعے چھاتی کا ایکسرے اور الٹرا ساءونڈ ہوتا ہے۔ اور مٹر جتنے چھوٹے سائز کی گٹھلی کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ میموگرافی ایک مہنگا ٹیسٹ ہے اسکی فیس تین سے پانچ ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ ہر جگہ یہ سہولت میسر بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں تیزی سے پھیلتے اس جان لیوا مرض کی تشخیص کے لئے اس ٹیسٹ کوجہاں سستا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں اس امر کی بھی ضروت ہے کہ ایسی موبائل وینز ہوں جو دیہی علاقوں میں جا کر وہیں پہ یہ ٹیسٹ انجام دے سکیں۔
کراچی میں ، میں نے سنا کہ ڈاکٹر شیر شاہ کی زیر نگرانی سول ہسپتال میں ایک ایسی وین بنائ جا چکی ہے۔
کچھ گٹھلیاں ایسی جگہ موجود ہوتی ہے جہاں سے وہ اس ایکسرے میں بھی نہیں آپاتیں۔ لیکن ایسے کیسز بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر حالات میں اس ٹیسٹ سے خاصی مدد مل جاتی ہے۔
پینتالیس سال کے بعد احتیاطاً میمو گرافی کرا لینی چاہئیے۔ وہ خواتین جو سن یاس میں داخل ہو چکی ہیں انہیں ۔ میموگرافی کرانی چاہئیے۔ تاکہ اس قسم کی کسی صورت حال کو ابتداء ہی میں پکڑا جا سکے۔
مرض اگر زیادہ پھیل گیا ہو تو سی ٹی اسکیننگ بھی کی جاتی ہے۔ تاکہ مزید متاثرہ حصوں کی تفصیلات سامنے آجائیں۔ اس کا درست مشورہ ایک ڈاکٹر ہی دے سکتا ہے۔
ایک دفعہ گٹھلی کا مقام پتہ چل جائے تو اسکی حتمی تشخیص کے لئے بائیوپسی کی جاتی ہے۔ اسکے لئے گٹھلی میں سرنج داخل کر کے تھوڑا سا مواد حاصل کرتے ہیں جسے بعد ازاں کینسر سیلز کی موجودگی معلوم کرنے کے لئے چیک کیا جاتا ہے۔ یہ نیڈل بائیوپسی بھی کہلاتی ہے۔ اسکے علاوہ اوپن بائیوپسی بھی کی جاتی ہے۔
اسکے علاج کا انحصار مرض کی شدت اور مریض کی حالت پہ ہوتا ہے۔ اگر مرض ابتدائ حالت میں ہو تو ریڈیو تھراپی یعنی شعاعوں کے ذریعے علاج،  کیمو تھراپی یعنی دواءوں کے ذریعے علاج  یا لمپیکٹومی یعنی گٹھلی کو آپریشن کے ذریعے الگ کردیتے ہیں۔ زیادہ محفوظ صورت حال میں رہنے کے لئے بعض اوقات  میسٹیکٹومی یعنی متائثرہ حصے کو مکمل طور پہ کاٹ کر الگ کر دینے  سے مرض سے چھٹی حاصل کی جا سکتی ہے۔  بعض اوقات دو مختلف طریقے ایک ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ بعد کے مراحل میں داخل ہو جائے تو مریض کا عرصہ ء حیات ہی بڑھانے کی کوشش کی  جا سکتی ہے۔
کیمو تھراپی یا ریڈیو تھراپی کے ذیلی اثرات خاصے شدید ہوتے ہیں۔ اسکے لئے پہلے سے ذہنی طور پہ مریض اور گھر والوں کو تیار رہنا چاہئیے۔
علاج کے لئے ایک ڈاکٹر جو بھی مشورہ دے بہتر ہے کہ اسے شروع کرنے سے پہلے کسی اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ لے لیا جائے۔ صرف بریسٹ کینسر ہی نہیں بلکہ کسی بھی سنگین مرض میں ایک سے زائد ڈاکٹر سے مشورہ ایک مریض کا حق ہے۔ 
جن مریضوں کی چھاتی الگ کر دی جائے انکے لئے یہ خاصہ مورال کم کر دینے والا سانحہ ہوتا ہے۔ عورت کی ظاہری خوب صورتی میں اسکی ظاہری ساخت کو ہر معاشرے میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ چھاتی کاٹ کر الگ کر دینے کی صورت میں  ایک عورت کی ظاہری خوبصورتی اس سے خاصی متائثر ہوتی ہے۔  بعض آپریشن کے ذریعے چھاتی کی ساخت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ اب ایسے زیر جامے موجود ہیں جو دیکھنے  میں اسکی ظاہری شخصیت کو کم نہیں کرتے۔ لیکن بہر حال اسکا نفسیاتی اثر رہتا ہے۔
کسی بھی قسم کے کینسر کے مریض کو ہماری توجہ، محبت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔  ایک عورت جب اس سانحے سے گذرتی ہے تو اسکا خاصہ امکان ہوتا ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس سے منہ موڑ جائے، علاج کا خرچہ گھرانے پہ بوجھ بن جاتا ہے۔ خاص طور پہ ہمارے معاشرے میں جہاں عورتیں معاشی طور پہ خود کفیل نہیں ہوتیں اور اپنے تمام مسائل اور وسائل کے لئے اپنے گھر والوں کی طرف دیکھتی ہیں۔  خواتین کو اس نظام میں وہ اہمیت حاصل نہیں جو ایک مرد کو حاصل ہوتا ہے تو ایک بیمار ، اور جسمانی ساخت سے محروم عورت کا یہ مہنگا علاج کروانے کی ہمت بھی ہر کسی میں نہیں ہو پاتی۔
یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض کے ڈپریشن سے دیگر لوگ گھبرا جائیں اور وہ بھی حوصلہ چھوڑ دیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اس صورت حال سے نبٹنے کے لئے رضاکاروں کے گروپ ہوتے ہیں یا ہسپتال ہی میں ایسے یونٹ ہوتے ہیں جہاں مریض اور اس  کے اہل خانہ کی بھی نفسیاتی  تربیت ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ بریسٹ کینسر کا شکار، مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان میں اسکی شرح غیر معمولی طور پہ کم ہوتی ہے۔
چھاتی کے کینسر کی مریض عورت کو  بھی توجہ، محبت اور حوصلہ چاہئیے ہوتا ہے۔ اسے بے جا شرم  کی وجہ سے اس سے محروم نہ کریں۔

نوٹ؛ اس مضمون کی تیاری میں مختلف ذرائع سے مدد لی گئ ہے۔ پھر بھی کسی قسم کی غلطی کی نشاندہی یا مزید معلومات کے لئے مشکور ہونگی۔