Tuesday, June 21, 2011

چھاتی کا کینسر

میں خواتین کے خاص ملبوسات کے اسٹور پہ ایک ساتھی خاتون کے ساتھ موجود تھی۔ جب میری ساتھی خاتون نے مجھے ٹہوکا دیا۔ ان خاتون کو کچھ خاص چیز چاہئیے۔ انہوں نے سرگوشی کی۔ اسکی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ لڑکی عبایہ پہنے ہوئے تھی اور سر پہ سختی سے اسکارف باندھا ہوا تھا۔ لیکن اس چھبیس ستائیس سال کی پیلاہٹ مائل سفید رنگت والی لڑکی کے چہرے پہ نظر پڑتے ہی میری نگاہ اسکی آنکھوں کے گوشوں  میں گم آنسوءووں پہ ٹہر گئ۔
میری چھٹی حس نے کہا ، وہ چھاتی کے کینسر کا شکار ہے۔ اسکی ایک چھاتی کو آپریشن کر کے کاٹ کر نکالا جا چکا ہے ۔ ابھی اسکی کیمو تھراپی یا چل رہی ہے یا حال میں ختم ہوئ ہے۔ جسکی وجہ سے اسکے سر کے سارے بال جھڑ چکے ہیں اس لئے اس نے اتنی سختی سے اسکارف لپیٹ رکھا ہے۔
یہ سب باتیں،  پلک جھپکتے میں  میرے ذہن میں آگئے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ میں اس بارے میں تفصیل سے پڑھ چکی ہوں جو معلومات مجھے حاصل ہوتی ہیں انہیں یاد رکھتی ہوں۔ جبکہ میری ساتھی خاتون کو اس بارے میں اتنا علم نہیں تھا  اس لئے وہ سمجھیں کہ وہ لڑکی اپنے جسم کی ساخت کو بہتر بنانے کے لئے کوئ خاص قسم کا زیر جامہ چاہتی ہے۔
ہم دونوں، اپنے علم کی بنیاد پہ دو مختلف رائے  پہ پہنچے۔ اس اثناء میں اسٹور کا دروازہ کھلا اور ایک اور لڑکی اندر داخل ہوئ۔ وہ اس لڑکی کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئ اور ایک دم گلے لگ گئ۔  وہ دونوں دوستیں بہت عرصے بعد مل رہی تھیں۔ لیکن اسکے گلے لگتے ہی عبایہ والی لڑکی رونے لگ گئ۔ اسے اسٹول پہ بٹھا کر دوست اس کا احوال پوچھنے لگی۔
یوں انکی ہلکی ہلکی باتوں سے پتہ چلا کہ اس لڑکی کی شادی کو پانچ سال ہوئے ہیں ۔ تیسرے بچے کی پیدائش کے تین مہینے بعد اسے لگا کہ چھاتی میں گٹھلی ہے۔ ڈاکٹر کو دکھایا ٹیسٹس ہوئے اور پتہ چلا کہ اسے چھاتی کا کینسر ہو گیا ہے۔
 وہ نوجوان لڑکی اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنی دوست سے کہہ رہی تھی۔ ابھی تو میرے بچے بہت چھوٹے ہیں۔ حالانکہ وہ خود بھی اس مرض کے لئے چھوٹی تھی۔ پچھلے چھ مہینے میں ، میں چھ خواتین کے بارے میں سن چکی ہوں کہ وہ اس کا شکار ہو گئیں۔
 پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون اس جان لیوا بیماری کا شکار ہوتی ہے۔ لاحق ہونے کی صورت میں کسی ترقی یافتہ ملک کی نسبت جان سے گذرنے کا امکان بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
کسی بھی قسم کا کینسر ہونے کی سب سے بنیادی وجہ زندگی گذارنے کا انداز ہے اور دوسری اہم وجہ خاندان میں  اس مرض کا پایا جانا ہے۔
بریسٹ کینسر جن خواتین میں پائے جانے کا زیادہ امکان ہے وہ یہ ہیں۔
جن کے خاندان میں یہ مرض پہلے کسی کو ہو چکا ہو، ماں اور باپ دونوں کی طرف سے۔ ایک غلط خیال یہ ہے کہ صرف ماں کے خاندان میں  پایا جائے تو ہی امکان ہوتا ہے۔
وراثتی طور پہ ہی منتقل نہیں ہوتا۔ بلکہ  دیگر خواتین بھی زیادہ رسک پہ ہوتی ہیں۔ ان میں وہ جو بے اولاد ہوں۔ یا جنکے بچے تیس سال کی عمر کے بعد ہوئے ہوں۔
جنکے مخصوص ایام کم عمری میں ہی شروع ہو گئے ہوں جیسے دس گیارہ سال کی عمر میں۔
جنکے مخصوص ایام زیادہ عرصے تک چلتے رہے ہو۔ جیسے پچپن سال کی عمر کے بعد بھی۔
سن یاس یعنی ایام بند ہو جانے کے بعد اسکے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس طرح نوجوان خواتین کے مقابلے میں زیادہ عمر کی خواتین زیادہ شکار ہوتی ہیں۔
جو خواتین اپنے بچوں کواپنا دودھ نہیں پلاتی ہیں  وہ  زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں۔
وہ خواتین جو شراب نوشی کرتی ہیں۔

امکان زیادہ ہونے کا ایک مطلب یہ ہے کہ ایسی خواتین کو معمولی علامتوں کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہئیے۔ یہ بالکل ضروری نہیں کہ اگر خاندان میں کسی کو ہو چکا ہو تو لازماً دوسری خواتین کو بھی ہوگا ۔  اسی طرح جنکے اولاد نہیں یا جنہوں نے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلایا انہیں ضرور ہوگا۔ انہیں نہیں  بھی ہو سکتا اور اسکو ہو سکتا ہے جس کے ایک درجن بچے ہوں جن میں سے ہر ایک کو اس نے دودھ پلایا ہو۔  جنکے خاندان میں کسی کو کبھی نہیں ہوا انکو بھی ہونے کے امکانات ہوتے ہیں اور اس طرح ایک اور وجہ طرز زندگی نکل آتی ہے۔
آپ کس طرح زندگی گذارتے ہیں اس پہ آپکی صحت کا دارومدار ہوتا ہے۔ بریسٹ کینسر کے سلسلے میں وہ خواتین جو  غذا کو رکھنے کے لئے پلاسٹک کی اشیاء کا استعمال کرتی ہیں زیادہ اس کا شکار ہوسکتی ہیں۔ پانی کی بوتل جو دھوپ میں دیر تک رکھی رہے زہر بن جاتی ہے۔ ان دوکانوں سے جہاں یہ باہر دھوپ میں رکھی ہوتی ہیں لینے سے گریز کریں اور دوکانداروں کو نصیحت کریں کہ پانی کی بوتلوں کو اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء جو پالسٹک پیکنگ میں ہوتی ہیں دھوپ میں نہ رکھیں۔ اسی طرح مائکرو ویو اون میں کھانا گرم کرنے کے لئے پلاسٹک کی اشیاء کا استعمال، ہوٹل سے کھانے یا روٹی لانے کے لئے پلاسٹک کی تھیلوں یا پلاسٹک کے برتن کا استعمال یہ سب ایک خطرہ ہے آپکی صحت کے لئے۔
تنگ زیر جامہ کا استعمال، چھاتیوں میں خون کی ترسیل کو آہستہ کر دیتا ہے۔ جس سے زہریلے مواد کے جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ یاد رہنا چاہئیے کہ خواتین میں تولیدی ہارمون کا سب سے زیادہ ذخیرہ چھاتیوں اور بچہ دانی میں پایا جاتا ہے۔ یہ ہارمون دیگر  زہریلے مرکبات کو بھی آسانی سے دوست بنا لیتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ان میں کینسر کے خلئیے جنم لینے لگتے ہیں۔ صرف چھاتی ہی نہیں اکثر لوگوں کو ازار بند ٹائیٹ باندھنے کی عادت ہوتی ہے یہ بھی کینسر کو جنم دے سکتا ہے۔ کوشش کریں رات کو سوتے وقت ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں۔
ہم وہ ہوتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔ ایک کہاوت ہے۔ لیکن درست ہے۔ سادہ کھانوں کی عادت ڈالیں۔ کھانا جتنا بھونا جاتا ہے، تلا جاتا ہے، بیک کیا جاتا ہے یا کوئلوں پہ سینکا جاتا ہے اتنا اس میں زہریلے مرکبات زیادہ بنتے ہیں۔ یعنی ایسے مرکبات جو کینسر پیدا کر سکتے ہیں۔ 
سادہ کھانا کھائیے، تازہ پھل اور سبزیوں کو اپنی روز کی خوراک کا حصہ بنائیے۔ بازار سے لانے کے بعد سبزی اور پھلوں کو اچھی طرح دھولیں۔ تاکہ ان پہ موجود کیمیائ کھاد اور جراثیم کش ادویات  اچھی طرح صاف ہو جائیں۔

تیل یا چکنائ کا ستعمال کم کریں۔ تیل یا چکنائ میں زہریلے مرکبات جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ اسے جسم میں زیادہ دیر تک رکھ سکتے ہیں۔ یوں خلیوں کے عمل میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

اپنے وزن کو مقررہ حدوں کے اندر رکھنے کی کوشش کریں۔ سو بیماریوں کی ایک بیماری موٹاپا ہے۔

لائف اسٹائل میں سب سے اہم چیز ورزش ہے۔  اگر ہم ایک ایسی زندگی گذارتے ہیں جس میں حرکت کم ہوتی ہے تو ہمارے جسم کے تمام حصوں تک خون کی ترسیل مناسب نہیں ہو پاتی۔ وہ حصے جہاں خون کی ترسیل آہستہ ہوتی ہے وہاں زہریلے مرکبات کے جمع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ورزش ہمیں یہ فائدہ دیتی ہے کہ جسم کے تمام اعضاء حرکت میں آتے ہیں۔ اور بہتر خون اور آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔
خواتین عام طور پہ سمجھتی ہیں کہ گھریلو امور کو انجام دینا ہی ورزش ہے۔ یہ خیال اتنا درست نہیں ہے۔ ورزش کے نتیجے میں آپکے دل کی دھڑکن بڑھنی چاہئیے۔ اور جسم کے تمام اعضاء کو کام کرنا چاہئیے۔ چھاتی کے کینسر سے بچاءو کے لئے ایسی ورزشیں کیجئیے جسکے نتیجے میں آپکے بازو اور چھاتیوں میں کھنچاءو پیدا ہو۔
خواتین کی ورزش کے حوالے سے ہم کسی اگلی پوسٹ میں بات کریں گے۔
چھاتیوں کی جانچ ہر مہینہ ایام مخصوصہ ختم ہونے کے بعد ایک خاتون خود بھی کر سکتی ہے۔ اسکے لئے چھاتیوں اور اپنی بغل کے غدودوں کو چیک کرنا ہوتا ہے۔ ان میں کسی بھی قسم کی گٹھلی کی موجودگی یا درد کی صورت میں قابل اعتماد ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بیشتر خواتین خاص طور پہ وہ جو شادی شدہ نہیں ہوتیں  بے جا شرم کی وجہ سے اتنا بڑھا لیتی ہیں کہ پھر یہ علاج سے باہر ہو جاتا ہے۔ اگر کینسر کا اثر لمف نوڈز یا ہڈی کے گودے تک بڑھ جائے تو یہ ایک خطرناک حالت ہوتی ہے۔
 چھاتی ایک خطرناک جگہ ہے۔ یہاں ایسٹروجن اور چربی سب سے زیادہ موجود ہونے کی وجہ ایک معمولی عام گٹھلی بھی اگر اسکا علاج نہ کیا جائے تو کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔
چھاتی میں اگر گٹھلی محسوس ہو تو اسکی گرم سینکائ کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ گرم سینکائ جسم کے اندرونی زخم کو کینسر کے زخم میں تبدیل کر سکتی ہے۔  مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر ڈاکٹر میمو گرافی ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دے تو بلا تاخیر کرائیے۔ 
چھاتی میں موجود تمام گٹھلیاں کینسر نہیں ہوتیں۔ اس لئے گٹھلی موجود ہونے کی صورت میںجب تک ٹیسٹس کی رپورٹ نہ آجائیں اور ڈاکٹر کوئ حتمی رائے نہ دے دے۔ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
چھاتی کے کینسر کی تشخیص میمو گرافی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس میں خاص ٹیکنیک کے ذریعے چھاتی کا ایکسرے اور الٹرا ساءونڈ ہوتا ہے۔ اور مٹر جتنے چھوٹے سائز کی گٹھلی کا بھی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ میموگرافی ایک مہنگا ٹیسٹ ہے اسکی فیس تین سے پانچ ہزار روپے تک ہو سکتی ہے۔ ہر جگہ یہ سہولت میسر بھی نہیں ہے۔ پاکستان میں تیزی سے پھیلتے اس جان لیوا مرض کی تشخیص کے لئے اس ٹیسٹ کوجہاں سستا کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں اس امر کی بھی ضروت ہے کہ ایسی موبائل وینز ہوں جو دیہی علاقوں میں جا کر وہیں پہ یہ ٹیسٹ انجام دے سکیں۔
کراچی میں ، میں نے سنا کہ ڈاکٹر شیر شاہ کی زیر نگرانی سول ہسپتال میں ایک ایسی وین بنائ جا چکی ہے۔
کچھ گٹھلیاں ایسی جگہ موجود ہوتی ہے جہاں سے وہ اس ایکسرے میں بھی نہیں آپاتیں۔ لیکن ایسے کیسز بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر حالات میں اس ٹیسٹ سے خاصی مدد مل جاتی ہے۔
پینتالیس سال کے بعد احتیاطاً میمو گرافی کرا لینی چاہئیے۔ وہ خواتین جو سن یاس میں داخل ہو چکی ہیں انہیں ۔ میموگرافی کرانی چاہئیے۔ تاکہ اس قسم کی کسی صورت حال کو ابتداء ہی میں پکڑا جا سکے۔
مرض اگر زیادہ پھیل گیا ہو تو سی ٹی اسکیننگ بھی کی جاتی ہے۔ تاکہ مزید متاثرہ حصوں کی تفصیلات سامنے آجائیں۔ اس کا درست مشورہ ایک ڈاکٹر ہی دے سکتا ہے۔
ایک دفعہ گٹھلی کا مقام پتہ چل جائے تو اسکی حتمی تشخیص کے لئے بائیوپسی کی جاتی ہے۔ اسکے لئے گٹھلی میں سرنج داخل کر کے تھوڑا سا مواد حاصل کرتے ہیں جسے بعد ازاں کینسر سیلز کی موجودگی معلوم کرنے کے لئے چیک کیا جاتا ہے۔ یہ نیڈل بائیوپسی بھی کہلاتی ہے۔ اسکے علاوہ اوپن بائیوپسی بھی کی جاتی ہے۔
اسکے علاج کا انحصار مرض کی شدت اور مریض کی حالت پہ ہوتا ہے۔ اگر مرض ابتدائ حالت میں ہو تو ریڈیو تھراپی یعنی شعاعوں کے ذریعے علاج،  کیمو تھراپی یعنی دواءوں کے ذریعے علاج  یا لمپیکٹومی یعنی گٹھلی کو آپریشن کے ذریعے الگ کردیتے ہیں۔ زیادہ محفوظ صورت حال میں رہنے کے لئے بعض اوقات  میسٹیکٹومی یعنی متائثرہ حصے کو مکمل طور پہ کاٹ کر الگ کر دینے  سے مرض سے چھٹی حاصل کی جا سکتی ہے۔  بعض اوقات دو مختلف طریقے ایک ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ بعد کے مراحل میں داخل ہو جائے تو مریض کا عرصہ ء حیات ہی بڑھانے کی کوشش کی  جا سکتی ہے۔
کیمو تھراپی یا ریڈیو تھراپی کے ذیلی اثرات خاصے شدید ہوتے ہیں۔ اسکے لئے پہلے سے ذہنی طور پہ مریض اور گھر والوں کو تیار رہنا چاہئیے۔
علاج کے لئے ایک ڈاکٹر جو بھی مشورہ دے بہتر ہے کہ اسے شروع کرنے سے پہلے کسی اور ڈاکٹر سے بھی مشورہ لے لیا جائے۔ صرف بریسٹ کینسر ہی نہیں بلکہ کسی بھی سنگین مرض میں ایک سے زائد ڈاکٹر سے مشورہ ایک مریض کا حق ہے۔ 
جن مریضوں کی چھاتی الگ کر دی جائے انکے لئے یہ خاصہ مورال کم کر دینے والا سانحہ ہوتا ہے۔ عورت کی ظاہری خوب صورتی میں اسکی ظاہری ساخت کو ہر معاشرے میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ چھاتی کاٹ کر الگ کر دینے کی صورت میں  ایک عورت کی ظاہری خوبصورتی اس سے خاصی متائثر ہوتی ہے۔  بعض آپریشن کے ذریعے چھاتی کی ساخت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ اسکے علاوہ اب ایسے زیر جامے موجود ہیں جو دیکھنے  میں اسکی ظاہری شخصیت کو کم نہیں کرتے۔ لیکن بہر حال اسکا نفسیاتی اثر رہتا ہے۔
کسی بھی قسم کے کینسر کے مریض کو ہماری توجہ، محبت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔  ایک عورت جب اس سانحے سے گذرتی ہے تو اسکا خاصہ امکان ہوتا ہے کہ اس کا جیون ساتھی اس سے منہ موڑ جائے، علاج کا خرچہ گھرانے پہ بوجھ بن جاتا ہے۔ خاص طور پہ ہمارے معاشرے میں جہاں عورتیں معاشی طور پہ خود کفیل نہیں ہوتیں اور اپنے تمام مسائل اور وسائل کے لئے اپنے گھر والوں کی طرف دیکھتی ہیں۔  خواتین کو اس نظام میں وہ اہمیت حاصل نہیں جو ایک مرد کو حاصل ہوتا ہے تو ایک بیمار ، اور جسمانی ساخت سے محروم عورت کا یہ مہنگا علاج کروانے کی ہمت بھی ہر کسی میں نہیں ہو پاتی۔
یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض کے ڈپریشن سے دیگر لوگ گھبرا جائیں اور وہ بھی حوصلہ چھوڑ دیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اس صورت حال سے نبٹنے کے لئے رضاکاروں کے گروپ ہوتے ہیں یا ہسپتال ہی میں ایسے یونٹ ہوتے ہیں جہاں مریض اور اس  کے اہل خانہ کی بھی نفسیاتی  تربیت ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات جاننا ضروری ہے کہ بریسٹ کینسر کا شکار، مرد بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان میں اسکی شرح غیر معمولی طور پہ کم ہوتی ہے۔
چھاتی کے کینسر کی مریض عورت کو  بھی توجہ، محبت اور حوصلہ چاہئیے ہوتا ہے۔ اسے بے جا شرم  کی وجہ سے اس سے محروم نہ کریں۔

نوٹ؛ اس مضمون کی تیاری میں مختلف ذرائع سے مدد لی گئ ہے۔ پھر بھی کسی قسم کی غلطی کی نشاندہی یا مزید معلومات کے لئے مشکور ہونگی۔


15 comments:

  1. جو خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں وہ ان خواتین کے مقابلے میں جو اپنا دودھ نہیں پلاتیں زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں
    --
    bohat shukria,
    please ooper wala jumla phir sey deikhiey ga , kahin ulata tau nahin likh diya gaya
    ham ney suna tha keh doodh na pilaney wali khawateen zeyada khatrey men hoti hen

    ReplyDelete
  2. جو خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں وہ ان خواتین کے مقابلے میں جو اپنا دودھ نہیں پلاتیں زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں۔???????

    ReplyDelete
  3. بہت ہی عمدہ اور ایک انتہائی سادہ الفاط میں بہت ہی معلوماتی تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ میں ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ کبھی کبھی آپ واقعی کمال کرتی ہیں ۔۔۔۔۔ جزاک اللہ

    ReplyDelete
  4. عنیقہ بہُت کار آمد اور بہترین تحریر ہے اِن دِنوں ہماری فیملی بھی ایک ایسی ہی تکلیف دِہ صُورتِ حال سے گُزر رہی ہے لیکِن یہ بھی شُکر ہے کہ جرمنی میں ہونے کی وجہ سے بر وقت عِلاج شُرُوع ہو کر اب حالات بہتری کی طرف جا رہے ہیں اور نا صِرف گھر والوں کی پُوری سپورٹ حاصِل ہے بلکہ سبھی اُن کا بہُت خیال رکھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو اِس مُوذی مرض سے محفُوظ رکھے اور اپنی امان میں رکھے،،،آمین


    پوسٹ کے لِئے بہُت بہُت شُکریہ،،،

    شاہدہ اکرم

    ReplyDelete
  5. جو خواتین اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں وہ ان خواتین کے مقابلے میں جو اپنا دودھ نہیں پلاتیں زیادہ خطرے میں ہوتی ہیں۔؟؟؟؟
    اسے درست کر لیں۔۔ جو خواتین اور خاصکر وہ خوآتین جو تیس سال کے بعد زچگی کے مراحل سے گزریں ۔ اگر وہ بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہیں تو ان میں بریسٹ کینسر کے امکانات پچاس فیصد کم ہوجاتے ہیں۔ کیک اسکول آف میڈیسن ۔ لاس اینجلس میں۔ ایک ہزار بریسٹ کینسر کی مریضہ اور ایک ہزار پانچ سو صحت مند خواتین پہ اسٹدی کرنے کے بعد مطلوبہ نتائج حاصل کئیے گئے۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپکا موضوع درست ہے مگر آپ نے اسے کچھ تشنہ چھوڑ دیا ہے۔مثلا بریسٹ کینسر میں میمو گرام اور الٹرا ساؤند کے علاوہ "ایم آر آئی" سے بھی ڈیاگنوس کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے صحتمند اور بیمار ٹشوز کا فرق اس سے منسلک کمپیوٹر پہ تصاویر سے دیکھا جاسکتا ہے اور اسکا ریکارڈ آئیندہ کے لئیے ڈی وی ڈی یا کسی میموری اسٹک میں مریض کو دیا جاسکتا ہے کہ مستقبل میں اسطرح کا مسئلہ درپیش آنے پہ یا سالانہ ٹیسٹز میں کہیں بھی اسے دکھا سکے اور اسے محفوظ بھی کیا جاسکتا ہے۔ وغیرہ۔اور سب سے بڑھ کر اس میں جو فائدہ ہوتا ہے۔ وہ اس ڈیاگنوس میں میمو گرام یا میموا گرام کی جدید شکل کمپیوٹر ٹیومو گرافی کی طرح ایم آر آئی میں ایکس ریز کا استعمال نہیں ہوتا۔اسلئیے ایم آر آئی سے وہ خواتین بھی چیک اپ کرواسکتی ہیں جو امید سے ہوں یا جو ماں بننےکے بعد اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہوں۔

    ۔مردوں میں اس کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے ۔ خواتیں میں عام طور پہ یہ شرح سو گنا زیادہ ہے ۔ مثلا امریکہ میں دو ہزار دس میں خواتین میں دولاکھ سات ہزار نوے نئے کیس سامنے آئے۔ جنکے مقابلے پہ مردوں کے بریسٹ کینسر کے ایک ہزار نوستر نئے کیس سامنے آئے ۔جبکہ بریسٹ کینسر سے امریکی میں سن دو ہزار دس میں یعنی پچھلے سال بریسٹ کینسر سے خواتین کی انتالیس ہزار آتھ سو چالیس اموات ہوئیں ۔ اور مردوں کی پورے پچھلے سال میں یعنی دوہزار دس میں صرف تین سو نواے اموات امریکہ میں ہوئیں۔

    ۔خواتین کو دو قسم کا بریسٹ کینسر ہوتا ہے ۔ ایک وہ جسے "ڈکٹل " جو ان رگوں میں بنتاہے۔ جو نپل کو دودھ فراہم کرتی ہیں۔ اکثریت خواتین کو یہ کینسر ہوتا ہے۔
    دوسری قسم کو "لبللر" کہا جاتا ہے۔یہ چھاتی کے اندر وہ جگہ ہے جہاں دودھ بنتا ہے اور یہ کینسر خواتین میں عام طور پہلے کی نسبت کافی کم ہوتا ہے۔
    اسکے علاوہ بھی چھاتی کے کسی دوسرے حصے میں بھی کینسر ہوسکتا ہے مگر یہ کبھی کبھار بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔چھاتی کے دوسرے حصوں میں کینسر کی شرح کافی کم ہے۔

    ۔بریسٹ کینسر کے آغاز میں درد یا تکلیف نہیں ہوتی ۔ مگر چند ایک علامتیں ڈیاگنوس میں مدد دیتی ہیں۔ کسی قسم کی گلٹی کو چھاتی یا بغلی طرف محسوس کرنا ۔ ان گلٹیوں کا گول نہ ہونا۔ یا کئی پہلو ہونا۔ نپل سے خون۔ سبزی مائل مادہ۔ یا پیپ وغیرہ خارج ہونا۔ نپل کا اندر دھنس جانا ۔ چھاتی کی جلد پہ مالٹے کے چھلکے کی طرح ننھے ننھے اتار چڑھاؤ یا سوراخ سے ہونا۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ جن مریضوں نے کسی دوسرے کینسر کی وجہ سے ریڈیو تھراپی کروائی ہو ۔ ان میں بریسٹ کینسر کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔
    وہ خواتین جنہوں نے کبھی اسٹروجن وغیرہ سے ہارمون تھراپی کروائی ہو وہ خواتین بھی خطرے کے گروپ میں آتی ہیں۔

    ویسے تو انٹر نیٹ پہ اس بارے تقریبا ہر زبان میں معلومات عام ملتی ہیں ۔ اور بہت سی ویب سائٹس اس بارے ہیں ۔ جن میں جدید ترین ریسرچ کے نتائج بھی بیان کئیے جاتےہیں اور بہت سے ممالک کی وزارت صحت یا انکے کینسر اسٹیٹیوٹس کی ویب سائٹ پہ ہر طرھ کی معلومات ملتی ہیں۔ بہت سی یونیورسٹیز اور دیگر ادارے بھی اپنی تحقیق کی گئی معلومات عام کرتے ہیں مگر ذیل کا لنک اس بارے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے ۔ یہ امریکہ کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہلیتھ کے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ ۔(این سی آئی) کا لنک ہے ۔ اس لنک پہ خواتین کے بریسٹ کینسر کے بارے قابل اعتماد اور جدید ترین معلومات اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں۔ نوٹ۔: اسے پیج در پیج کھولتے چلے جائیں ۔ یعنی اسکے بہت سارے پیجز ہیں۔
    http://www.cancer.gov/cancertopics/wyntk/breast

    این آئی سی کا میں ویب سائت پیج ۔ جس پہ ہر قسم کے کینسر کی لیٹیسٹ یعنی جدید ترین معلومات اپ ڈیٹ کی جاتی ہیں۔ اسکا لنک درج زیل ہے۔
    http://www.cancer.gov/

    اللہ آپکو جزائے خیر دے۔

    ReplyDelete
  6. تیزی سے پھیلنے والے اس انتہائی موزی مرض کے بارے میں بڑی مفصل ڈاکیومینٹری تیار کی ہے اپ نے۔ مضمون بہت ہی معلوماتی و مفید ہے۔ ایک جگہ ہمیں ذرا سا مغالطہ ہوا ہے شاید، یا غالباً جفملہ طویل ہونے کے باعث مفہوم الٹا ہو گیا ہے۔ جہاں آپ نے دودھ پلانے والی اور دودھ نہ پلانے والی عورتوں میں خطرے کا موازنہ کیا ہے وہاں کچھ ایسا تاثر ملتا ہے جیسے دودھ نہ پلانے والیاں زیادہ مھفوظ ہوتی ہیں۔ جبکہ اگلے پیراگراف میں اس بات کی تردید ہو جاتی ہے۔

    ReplyDelete
  7. تحریر یقیناً مفید ہے، مگر مجھے خامخواہ ٹینشن ہوکءی ہے...

    ReplyDelete
  8. جیسا کہ آپ سب نے نوٹ کیا اس میں ایک جملے کی غلطی ہے۔ جو بے دھیانی میں ہو گئ ہے۔ مطلوب یہی تھا کہ وہ خواتین جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں انہیں قدرتی تحفظ زیادہ حاصل ہوتا ہے۔
    جاوید گوندل صاحب، ایم آر آئ سے یقیناً مدد ملتی ہے لیکن یہ میمو گفرافی کے مقابلے میں زیادہ مہنگا ٹیسٹ ہے اور پاکستان میں بہت کم ہسپتالوں میں یہ سہولت حاصل ہے۔
    باقی آپ سب کا شکریہ۔

    ReplyDelete
  9. عمدہ مضمون ہے اور بڑی محنت سے لکھا گیا ہے. کوئلہ پر سینکی ہوئی غذا یعنی smoked food سے معدہ یا آنتوں کے سرطان کا خطرہ ہوتا ہے. گرم پلاسٹک سے اخراج ہونے والے اور پانی میں حل ہونے والی بات ابھی تک ثابت نہیں ہوئی. سبزیوں اور پھلوں کے استعمال کا مشورہ اچھا ہے مگر ٹن میں پیک پھل الٹا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں. اسکے علاوہ تازہ سبزیاں جن کو کیڑوں سے بچانے کے لئے زہر کا استعمال کیا گیا ہو یا مصنوئی کھاد کا استعمال بھی سبزیوں کو صحت بخش بنانے کی بجائے نقصان دہ بنا دیتا ہے. چھاتیوں کے کینسر میں مانع حمل ادویات کا بھی بڑا رول ہوتا ہے.اور ہر وہ چیز یا کیمیائی مواد جو بچہ دانی پر اثر انداز ہو یا estrogen یا progesterone کے طبعی اخراج پر اثر انداز ہو چھاتیوں کا کینسر کرا سکتی ہیں.
    ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین میں چھاتیوں کے کینسر کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل ہو اور ایسا ماحول بنایا جائے کہ خواتین کے لئے کسی بھی قسم کی شکایات پر ڈاکٹر سے فوری رابطہ آسان ہو . اس ضمن میں میری تجویز یہ ہے کہ گائنی کی ڈاکٹرز کو بھی چھاتیوں کے کینسر کی تشخیص کے لئے طبّی مہارت بہم پہنچائی جائے تاکہ سرجری کے شعبے میں لیڈی ڈاکٹرز کا فقدان خواتین میں چھاتیوں کے معائنے کے حوالے سے جھجھک اور غیر ضروری تاخیر کا باعٽ نہ بنے.

    ReplyDelete
  10. مکی صاحب کی طرح پڑھ کر مجھے بھی ٹینشن ہوگئی ہے کچھ سوالات ذہن میں ہیں لیکن پوچھ نہیں سکتا خاص کر یہاں

    ReplyDelete
  11. ایک بات پُوچھنی تھی عنیقہ کُچھ خواتین کے بچے نہیں ہو تے وجہ اب کُچھ بھی رہی ہو شادی نا ہونا یا شادی ہونے کے بعدبانجھ پن یا بچے ہو کر فوت ہو جاتے ہوں یا اپنا قصُور نا ہوتے ہُوئے بھی بے اولادی،،،،،
    تو کیا اُن کے بھی چانسز ہوتے ہیں ضرُور بتانا،،،

    ReplyDelete
  12. بہت اچھا کيا آپ نے يہ معلوماتی تحرير لکھ کر ۔ ميں نے سرطان [انگريزی ميں کينسر] کے متعلق کئی سال مطالعہ کيا ۔ سرطان سے بچنے کيلئے ايک بڑا سادہ اور جامع اصول ہے کہ مصنوئی غذا اور مصنوئی عادات سے بچا جائے ۔ سادہ غذا کو اپنايا جائے اور قہوہ جسے انگريزی ميں گرين ٹی کہتے ہيں کا وافر استعمال کيا جائے

    ReplyDelete
  13. ڈاکٹر جواد احمد صاحب، گائنی کی تقریباً تمام ڈاکٹرز کو ہاتھ سے تشخیص کرنے کی ٹیکنیک بتائ جاتی ہے وہ اسے استعمال بھی کرتی ہیں۔ لیکن بعض گٹھلیاں اپنی ابتداء میں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ انہیں ہاتھ سے بآسانی محسوس نہِن کیا جا سکتا۔ اگرچہ کہ اس مرحلے پہ اگر ان کا پتہ چل جائے تو علاج خاصہ آسان ہوتا ہے اور کینسر سے بچاءو بھی ممکن ہوتا ہے۔
    کوئلوں پہ یا بہت زیادہ درجہ ء حرارت پہ ڈذا میں خاص طور پہ گوشت میں ایسے مرکبات پیدا ہو جاتے ہیں جنہیں کیمیءاء کی زبان میں پولی سائکلک ایرومیٹچ کمپاءونڈز کہتے ہیں۔ یہ کمپاءونڈز صرف معدہ کا ہی نہیں دیگر اور طرح کے کینسر پیدا کر سکتے ہیں۔
    معلومات کے لئے یہ لنک دیکھیں۔
    http://www.live-in-green.com/health_info/problematic_food/carcinogenic/burnt.html
    خاص طور پہ کوئلوں پہ جو گوشت جل جاتا ہے اسے ہٹا دینا چاہئیے۔
    دیکھیں ایسی حالت جس میں کوئ خاتون کنسیو نہیں کرتی اور اسکا جسم ان ہارمونل تبدیلیوں سے نہیں گذرتا جسلے نتیجے میں جسم میں ہارمونز کی مختلفر سطحیں پیدا ہوتی ہیں اور تولید سے متعلق اعضاء اپنا قدرتی فعل نہیں انجام دے پاتے ان صورتوں میں اسکا امکان زیادہ ہو جاتا ہے۔ چاہے اسکی وجہ کچھ بھی رہی ہو۔
    ایک دفعہ پھر امکان زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ معمولی علامتوں کو بھی نظر انداز نہ کریں۔

    ReplyDelete
  14. ابرارحسینJune 23, 2011 at 2:27 PM

    ہمارے گاوں کی دو خواتین کا انتقال برسٹ کینسر کی وجہ سے پچھلے ہفتے ہی ہوا ہو۔ اور ایک خاتوں کا تو مرنے سے ایک دو دن پہلے سینہ پھٹ گیا تھا ،اور اس کے بارے میں گھر کی خواتین سے جو پتا چلا کہ شرم کی وجہ سے شروع میں علاج ہی نہیں کروایا گیا ،حلانکہ تشخیص ہو گئی تھی۔اور جب علاج شروع کروایا گیا تو اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
    کہیں پڑا تھا کہ تقسیم کے وقت بہت سی خواتین اسلئے بلوائیوں کے ہتھے چڑھ گئی تھیں کیونکہ ان کی پالکیاں نہیں پہنچیں تھیں
    لگتا ہے سوچ میں تبدیلی ابھی تک نہیں آئی

    ReplyDelete
  15. کافی اچھا اور معلوماتی کا لکھا ہے عنیقہ صاحبہ۔
    میرے خیال میں کہنے کو کچھ رہا نہیں ہے کیونکہ جو باتیں کہنی تھی وا پہلے سے ہی دوست حجرات کمنٹس مین کہہ چکے ہیں خاص کر جاوید گوندل صاحب اور ڈاکٹر جواد صاحب نے بھی کافی مفید معلومات دی ہیں۔

    شکریہ

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ