Monday, June 27, 2011

ایسے کیوں؟

آج کا دن کوئ پوسٹ لکھنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اگلے سات آٹھ دن کے لئے مصروفیات کا تناسب کچھ نکل آیا ہے کہ بلاگ کی طرف زیادہ نظر نہ ہو پائے۔ بہر حال، اطلاع ملی کہ مکی صاحب نے اپنے بلاگ کو سیارہ سے الگ کرنے کی درخواست کی ہے۔ کیوں کی ہے ، یہ وہ بہتر جانتے ہونگے۔ لیکن میں اپنی ذاتی حیثیت میں انکے اس فعل سے مطمئن نہیں۔
کوئ آئیڈیئل معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں سب ایک جیسی سوچ رکھتے ہوں۔ ایک مقولہ ہے کہ جہاں سب ایک جیسی سوچ رکھتے ہوں وہاں کسی کے پاس کرنے کو کچھ خاص نہیں ہوتا۔ دنیا میں وہی معاشرے ترقی کی طرف جاتے ہیں اور مثبت  طرز زندگی کی طرف گامزن ہوتے ہیں جہاں تنوع ہوتا ہے۔ انسانوں کا، بنیادی فکرات کا اور بنیادی اعمال و کردار کا۔
اگر ایک خاص سوچ کسی معاشرے پہ طاری کر دی جائے تو ایک شدت پسندی کو جنم دیتی ہے۔  اس شدت پسندی کو قابو میں رکھنے کے لئے اسکی مخالف قوت کا موجود رہنا ضروری ہے اور معاشرے کی ایک قوت کو مہمیز رکھنے کے لئے دوسری  مخالف قوت کو حاضر رہنا چاہئیے۔
جمہوریت کی ساری خوبی یہی ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو آواز اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے جو آمریت یا مارشل لاء میں نہیں ہوتی۔
اگر آج ہمارے ملک میں عدم برداشت کا رویہ اپنے عروج پہ ہے تو اسکی جڑیں ضیاء الحق کی اس گیارہ سالہ حکومت میں ملتی ہیں جب پاکستان کے بد ترین مارشل لاء میں ایک نظرئیے کو پروان چڑھانے کے لئے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے گئے۔ اسکے نتیجے میں دوسرا مخالف گروہ ختم کر دیا گیا یا خاموش کرا دیا گیا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ نہ لوگوں میں علم ہے، نہ برداشت، ترقی تو دور۔ ترقی اور فلاحی ریاست ایک مبہم خواب کے سوا کچھ نہیں۔ ہم معاشی اور معاشرتی سطح پہ دن بہ دن تنزلی کا شکار ہیں۔
ہم مسلسل آمریت کے زیر سایہ رہنے سے مزاجاً خود بھی آمر ہو چکے ہیں۔ رہی سہی کسر، متعارف کرائے گئے جذبہ جہاد نے پوری کی اور اب ہماری اکثریت میں یہ اہلیت ہے کہ وہ ظلم میں ہٹلر اور چنگیز خاں کو بھی مات دے دے۔
ہماری ایک پوری نسل نہیں جانتی کہ اسکے باہر کی دنیا میں کیا ہوتا ہے، اس دنیا میں کیسی کیسی ثقافتیں، مذاہب موجود ہیں۔ اور اسی دنیا میں کیسے کیسے ممالک ہیں جہاں مختلف النوع مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں مگر سکھ چین کے ساتھ، زندگی میں آگے کی سمت چلے جا رہے ہیں۔
عدم برداشت کا رویہ آخر کیسے ختم ہوگا؟ ایسے کہ لوگوں کو اپنے مخالف کی بات سننے کی عادت پڑے۔ ایسے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ کوئ پھنّے خان نہیں ہیں۔ دنیا میں عظیم لوگ انکے مذہب، فرقے، ذات ، برادری، نسل اور لسان سے الگ ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ وہ سب اسی دنیا کے دسترخوان سے اپنا روزی روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ایسے کہ انہیں معلوم ہو کہ وہ خود کتنے حقیر ہو چکے ہیں۔ جس سوچ پہ انہوں نے اپنے آپکو کھڑا کیا ہے وہ حضرت سلیمان کی وہ دیمک کھائ ہوئ لاٹھی بن چکی ہے۔ کہ جب گرے گی تو پتہ چلے گا کہ وہ مر چکے ہیں۔
بلاگستان کی اکثریت، اس پاکستانی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو خود کچھ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ سوائے دوسروں پہ کیچڑ اچھالنے کہ وہ بھی مذہب کے نام پہ۔ دیکھنے کو انکی زندگیاں بھی ان مسائل سے بھری پڑی ہوئ ہیں جن سے ایک عام پاکستانی دوچار ہے۔ مگر اسے حل کرنے کی طرف تو دور انکا تذکرہ تک کرنے میں انکی دلچسپی نہیں۔ ان کا غم اگر ہے تو یہ کہ ہمارے ملک میں ہم جنس پرست کیا کیر رہے ہیں؟ یہ ہم جنس پرستی ایک علاقے کی ثقافت کا سینکڑوں برس سے حصہ ہے مگر اس پہ روشن خیال کا نام لے کر ماتم کرنے میں ایک عجیب مزہ آتا ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ اس علاقے میں خواتین کو حقیر بنائے جانے سے ہم جنس پرستی کے مسئلے نے وہاں شدت پکڑی ہے۔
یہی لوگ ، یہ نہیں جاننا نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عورتوں کی ایک بڑی تعداد اوسٹیو پوریسس کی وجہ معذوری کا شکار ہو رہی ہے ، بچے پولیو کی وجہ سے معذور ہو رہے ہیں۔ دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں پاکستان ان آخری ممالک میں شامل ہے جہاں مرنے والوں بچوں کی تعداد سب زیادہ ہے۔ یہ سوچ کر انہیں اپنے اوپر شرمندگی نہیں ہوتی کہ پاکستان کے ایک دیہات میں ایک عورت اپنی چھاتی کا زخم چھپائے چھپائے پھرتی رہی، شرم کی وجہ سے حتی کہ اسکی چھاتی کینسر کی وجہ سے پھٹ گئ ۔ تشویشناک بات یہ نہیں ہے کہ ایک پچاس سالہ عورت کو اسکے دس سال کے بچے کے سامنے برہنہ گلیوں میں پھرایا گیا۔ انکے نزدیک انکے ملک کی اہم اور تشویشناک خبر یہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ کسی جگہ  منافقوں کے پیدا کردہ نام نہاد مجاہدین کو متوقع تباہی پھیلانے میں متوقع کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو پائ۔
ہم جنس پرستی کیا ہے؟ قدرتی طریقوں سے منہ موڑ کر ایسی طرز کو اختیار کرنا، جس میں نسل انسانی کو کوئ فائدہ نہیں۔ جس سے نسل انسانی آگے  نہیں بڑھتی۔ ایک ایسی بے سمت عیاشی جس سے بدلے میں کوئ مثبت چیز نہیں بر آمد ہوتی۔
فدائیوں اور نام نہاد مجاہدین کی فتح کی دعائیں مانگنا بھی فکراً ہم جنس پرستی سے الگ چیز نہیں۔ قدرتی طرز زندگی سے انحراف۔ ایسے عمل کا حصہ بننا جس میں نسل انسانی کی ہماری پاکستانی نسل کی بقاء نہیں تباہی ہے۔
یہ ہے ہماری موجودہ نسل کی اکثریت جو اس وقت اس بلاگستان کا حصہ ہے۔
اس عالم میں اگر کوئ اس روش سے ہٹ کر بات کہنا چاہ رہا ہے تو اسے اختیار ملنا چاہئیے۔ اسے اپنا اختیار استعمال کرنا چاہئیے۔ ہم سب کی تربیت ہونی چاہئیے کہ ہم ایکدوسرے کی غلط ترین بات کو سنیں ، اسے برداشت کریں۔ اس پہ سوچیں اور ہمیں نہیں پسند تو تو آگے بڑھ جائیں۔ ہمیں اب لوگوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کو دبانے سے روکنے کی کوشش میں حصہ ڈالنا پڑے گا۔ اس لئے نہیں کہ ہم بعیّنہ وہی خیالات رکھتے ہیں جیسے کہ وہ رکھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ ہم ایک متوازن معاشرے کے طور پہ پنپ سکیں۔
توازن، کسی ایک قوت کے حاوی ہونے میں نہیں۔ توازن تمام قوتوں کے ایک ساتھ موجود رہنے سے پتہ چلتا ہے۔ کم از کم کائینات اپنے مظاہر میں یہی کہتی نظر آتی ہے۔




تو مکی صاحب ، میں تو نہیں سمجھتی کہ آپکو بلاگستان سے علیحدہ ہونے کی ضرورت ہے۔    باقی کچھ لوگوں کا یہاں رد عمل ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام محمد بن قاسم لے کر آیا کیا انکی اس غلط فہمی کی تصحیح ضروری نہیں ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ محمود غزنوی ایک عظیم مسلمان فاتح تھا۔ کیاانکی اس غلط فہمی کی تصحیح ضروری نہیں کہ وہ ایک بہترین جنگجو تھا۔ اور بس۔ 
وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اگر ایک اسلامی ملک بن گیا تو یہاں عورتیں جسم فروشی نہیں کریں گی، لوگ ہم جنس پرست نہیں ہونگے، شراب نہیں پی جائے گی، زنا نہیں ہوگا، جھوٹ نہیں ہوگا،  چوری نہیں ہوگی۔ امن وامان ہوگا، شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے۔ یہاں سے وہاں تک صرف  مسلمان پائیں گے وہ بھی کسی ایک فرقے کے۔  فرقہ واریت پہ جنگ ختم ہو جائے گی۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر لوگوں کے گروہ خدا کا انکار کریں تو اس سے انکا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔ حالانکہ انکاا کرنے والے بھی ہزاروں سال سے موجود ہیں اور ایمان والے بھی اپنے ایمان پہ جمے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب، کمزوری انکے ایمان میں ہے یا مضبوطی انکار کرنے والے کے بیان میں۔ اسکا ایک اور مطلب ہے کیونکہ وہ اپنے ایمان کا دفاع کرنے سے آگاہ نہیں اس لئے انہیں انکار کرنے والے سے ڈر لگتا ہے۔ اسکی ایک اور وجہ ہے وہ اپنے ایمان میں کشش نہیں پیدا کرتے بلکہ ہیبت پیدا کرتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہیبت سے دل مسحور کئے جا سکتے ہیں۔
کیا انہِیں اس چیز پہ مجبور نہ کیا جائے کہ اصل کتابوں کی طرف رجوع کرو۔ اور اپنے ایمان کو مضبوط۔ جو ایمان ایسے ہر کس و ناکس کے بیان پہ ڈول جائے اسے سپلیمنٹس کی بے حد ضرورت ہے۔ اسے یہ معلوم ہونے کی بے حد ضرورت ہے کہ وہ کیوں کمزور ہے اور اسے کیسے مضبوط ہونا ہے۔ اسے معلوم ہونا چاہئیے کہ انکار کرنے والا کیا دلائل رکھتا ہے جسکی بناء پہ وہ اسے، مضبوط ایمان والے کو چت کر دیتا ہے۔ اور مضبوط ایمان کا دعوی کرنے والے یہ کہنے کے علاوہ کچھ نہیں کہہ پاتے کہ اپنا علاج کرائیے۔ حالانکہ  انہیں دوسروں کو یہ مشورہ دینے کی نہیں اپنے علاج کی آپ ضرورت ہے۔ اور انکا علاج اپنے دین سے خود آگہی حاصل کرنے میں ہے جو وہ نہیں کر پاتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ دین اس سلسلے میں خاصہ کڑا ہے۔
کیا انہیں یہ نہیں بتایا جائے کہ جب تک معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا اور معاشی خوشحالی نہیں ہوگی ان میں سے کوئ چیز ختم نہیں ہوگی اور نہ کوئ نئ مثبت چیز جنم لے گی۔  سوائے اسکے کہ ہم منافقین کے گروہ در گروہ تخلیق کریں۔
انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ جب تک انسان زندہ ہے، ان کے خیالات اور زندگی سے انکے مطالبات ایک دوسرے سے الگ رہیں گے۔ یہی اس دنیا کا حسن ہے، آزمائیش ہے،اور مقصود۔
جب ہی  کائینات میں تین قوتیں بر سر پیکار نظر آتی ہیں۔ خدا ، انسان اور شیطان۔ اگر ان میں سے صرف ایک قوت بچ جائے تو کائینات میں نہ نمو ہوگا نہ استحکام۔

9 comments:

  1. خالد حمیدJune 27, 2011 at 12:26 PM

    کیا خوب ہیں پیمانے تیرے

    ReplyDelete
  2. عنیقہ صاحبہ آپ نے فرمایاکہ
    ۔
    (بلاگستان کی اکثریت، اس پاکستانی نسل سے تعلق رکھتی ہے جو خود کچھ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ سوائے دوسروں پہ کیچڑاچھالنے کہ وہ بھی مذہب کے نام )
    ۔
    میں بھی اس بات پر آپکے ساتھ متفق ہوں کہ بلا وجہ مذہب کے نام پر کیچڑ اُچھالنا اچھی بات نہیں ہے۔
    ۔
    ۔
    ۔
    (فدائیوں اور نام نہاد مجاہدین کی فتح کی دعائیں مانگنا بھی فکراً ہم جنس پرستی سے الگ چیز نہیں۔ قدرتی طرز زندگی سے انحراف)
    ۔
    لیکن محترمہ یہ دعائیں لوگ اس وقت مانگتے ہیں جب انکے معاشرے کو بھی غیر فطری طریقہ اختیار کرنے کی طرف ورغلایا جائے۔ نا تو وہ غیر فطری طریقہ(ہم جنس پرستی) کی طرف دعوت دیتے ، نا ہی لوگ فدائین کی دعائیں مانگتے۔غیر فطری عمل کا رد عمل بھی اُسی جیسا ہوگا۔
    ۔
    ۔
    ۔
    (یہ ہے ہماری موجودہ نسل کی اکثریت جو اس وقت اس بلاگستان کا حصہ ہے۔ )
    ۔
    جو کہ غیر فطری طریقے کی سخت ترین مخالفت کر رہی ہے۔
    ۔
    ۔

    ReplyDelete
  3. ۔
    (اس عالم میں اگر کوئ اس روش سے ہٹ کر بات کہنا چاہ رہا ہے تو اسے اختیار ملنا چاہئیے۔ اسے اپنا اختیار استعمال کرنا چاہئیے۔ ہم سب کی تربیت ہونی چاہئیے کہ ہم ایکدوسرے کی غلط ترین بات کو سنیں )
    ۔
    بشرطہ کہ وہ ٹھوس دلیل کے ساتھ ہو ۔اور پھر اسکے جواب کو سننے کا تحمل بھی ہو۔ بلا وجہ اور بغیر ثبوت کی بات نہ سننی چاہئے اور نا ہی اسکو برداشت کیا جاسکتا ہے ، لھذا مکمل اور ٹھوس دلیل کے ساتھ بات ہو تو بالکل رواداری کی مثال بن جائیں گے۔بے تکی بات یا بغیر دلیل کی صرف کاپی پیسٹ یا فلسفیوں کے ان سوالات کو بار بار بلاوجہ دھرانا کہ جن کے جوابات صدیوں قبل دئے گئے ہیں اور جوابات سے صرف نظر کرکے صرف اپنی انا کی تسکین کیلئے بار بار بغیر دلیل کے سوالات دھرانا کہاں کا انصاف ہے۔
    ۔
    ۔
    ۔
    (ان کا غم اگر ہے تو یہ کہ ہمارے ملک میں ہم جنس پرست کیا کیر رہے ہیں؟ )
    ۔
    ظاہر ہے اس بات کا غم ہمیں ضرور ہے۔اگر ایک بندہ خود گندگی میں رہنے کا عادی ہے تو اسکو یہ حق حاصل نہیں کہ دوسرے لوگوں کو بھی فلاح ، ترقی اور اعتدال پسندی کے نام پر ورغلا کر اسی گندگی میں لائے۔اور اگر یہ اسکا حق ہے تو میں یہ ضرور کہونگا کہ پھر ایک ہیروئنچی اور ڈاکو کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ لوگوں کو اپنے پیشے اور بری عادت کی طرف ورغلائے ۔

    گھر مین اگر کاکروچ نظر آجائے تو سب اسکو مارنے اور نکالنے کیلئے لپکتے ہیں ،کیوں ظاہر ہے ایک گندا کیڑا ہے۔حالانکہ اسکی ایک الگ دنیا ہے جہاں انکے خاندانوں کے خاندان رہتے ہین لیکن اسکو وہی رہنا چاہیے، ناکہ ہمارے دائننگ روم یا بیڈ روم میں۔ اسی طرح یہ ہم جنس پرست گندے لوگ جن کی زندگیاں ان کاکروچوں سے بھی بری اور گندی ہے تو انکو اپنے معاشرے میں اور اپنے علاقوں میں رہنا چاہئے ۔دوسرے علاقوں کو گندا کرنے کی قطعا انکو اجازت نہیں ۔ابلیس کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں رہنے کی جگہ دی ہے لیکن مسلمانوں کو سکھایا ہے کہ کس طرح اسکی شر سے بچنا ہے، اسی طرح ابلیس کی شیطانی کارندوں کی بھی مثال ہے۔
    ۔
    ۔
    ۔
    (مگر اس پہ روشن خیال کا نام لے کر ماتم کرنے میں ایک عجیب مزہ آتا ہے )
    ۔
    ظاہر ہے کہ انکی آو بھگت اور انکی گندی خبریں تک پہنچانے کا ٹھیکہ ان روشن خیال این جی اوز اور میڈیا نے جو لیا ہوا ہے۔
    ۔
    ۔
    ۔
    (اس علاقے میں خواتین کو حقیر بنائے جانے سے ہم جنس پرستی کے مسئلے نے وہاں شدت پکڑی ہے )
    ۔
    اور روشن خیالوں نے بجائے اسکے کہ انکے معاشرت مسائل حل کرتے الٹاجلتی پر تیل کا کام کرکے انکو یہ مکروہ پیشہ اپنانے میں اور حوصلہ دیا ہے۔
    شرم انکو مگر نہیں آتی۔
    ۔
    ۔
    ۔
    (بچے پولیو کی وجہ سے معذور ہو رہے ہیں )
    ۔
    معذور کیوں نہ ہو جب پولیو کے نام پر جنسی ادویات پر مشتمل قطرے انکو پلائے جاتے ہوں ۔اب عوام کو کیا پتہ کہ یہ پولو کے نام پر کوئی اور چیز ہے۔محترمہ کئی ممالک میں ورلڈ ہیلتھ کے ان قطروں پر پابندی ہے۔اس بارے میں یہ کالم موجود ہے
    http://darveshkhurasani.wordpress.com/2011/03/29/65/
    ۔
    ۔
    ۔

    ReplyDelete
  4. ۔
    (یہ سوچ کر انہیں اپنے اوپر شرمندگی نہیں ہوتی کہ پاکستان کے ایک دیہات میں ایک عورت اپنی چھاتی کا زخم چھپائے چھپائے پھرتی رہی، شرم کی وجہ سے حتی کہ اسکی چھاتی کینسر کی وجہ سے پھٹ گئ ۔ )
    ۔
    ہاں ہاں اسطرح کی بہت سے واقعات ہوتے ہیں پتہ ہے کیوں ۔اسلئے کہ ہمارے روشن خیال مسیحاؤں نے خواتین کو صرف جنسی تسکین کیلئے شو کے طور پر استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں، حقیقی تعلیم انکو دیتے ہی نہیں کہ وہ معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرئے۔روشن خیالوں نے کہا ہوا ہے کہ ہسپتال میں آنا ہے تو بے پردہ اور اگر ہوسکے تو ہمارے سامنے ننگی ہی رہنا ۔کیا اس ننگے پن سے مریض صحت مند ہوتا ہے؟

    ایک لیڈی ڈاکٹر نے الٹراساونڈ کیلئے مرد اسسٹنٹ کو بٹایا ہوا ہے۔ایک سرکاری ہسپتال میں عورتوں کی ای سی جی ایک مرد ڈاکٹر کر رہا ہے۔ اور ایک ڈاکٹر نے تو حد ہی کردی، جو عورت اسکے پاس آتی تھی اسکو معائنے کے نام سے الگ کمرے میں لے جاکر علاج کے نام پر زناء کرتا تھا اور پھر اس پر اسکی ویڈیو بھی بنا کر ایک برطانوی این جی او کو فروخت کرتا تھااور اسی روشن خیال ،اعتدال پسنداور ترقی یافتہ برطانوی این جی او کے کہنے پر ہی اس نے یہ کام شروع کیا تھا۔ خوش قسمتی سے طالبان کے ہتھے چڑھ گیا،بس پھر پہچاننے کے قابل بھی نہ تھا۔اسکی تاریک خیال اور انتہاء پسند بیوی کو جب یہ معلومات ملی تو بنیاد پرست بیوی نے لاش کو گھر میں اندر لانے کی بھی اجازت نہیں دی اور کہا کہ کسی گھڑے میں اسکی لاش کو پھینک دو۔

    ان حالات میں یہ بیچاری ہسپتاک میں بے عزت ہونے سے گھر میں مرنا پسند نہیں کرئے گی تو اور کیا کرے گی۔

    مزکورہ بالا واقعات کے بعد مریض عورتیں باقاعدہ ان ہسپتالوں میں پستول لے کر جاتی تھیں کہ مبادا کسی نے ایسی ویسی حرکت کی کوشش کی تو ان کو وہی ڈھیر کر دیا جائے۔

    اب بتائیں عورت کیا کرئے۔آپکے یہ روشن خیال یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کو اس شرط پر نمبر دیتے تھے کہ انکی جنسی خواہش پوری کی جائے،تو خاک لڑکی صحیح طبیبہ بن سکے گی کیونکہ طبیبی کے عہدے تک پہنچنے سے پہلے ہی یہ روحانی اور ذہنی طور پر بیمار ہو چکی ہوتی ہے،بس وہی بیماری یہ اپنی مریضاوں میں بھی دیکھنا چاہتی ہیں ۔لیجئے خبر ملاحظہ کیجئے گا۔
    http://search.jang.com.pk/update_details.asp?nid=115797
    ۔
    ۔
    ۔
    ( انکے نزدیک انکے ملک کی اہم اور تشویشناک خبر یہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ کسی جگہ منافقوں کے پیدا کردہ نام نہاد مجاہدین کو متوقع تباہی پھیلانے میں متوقع کامیابی کیوں حاصل نہیں ہو پائ )
    ۔
    واقعی میرا یہ دلی ارمان ہے کہ اگرہم جنس پرستی پھیلانے والوں کی اس مینگی میں تباہی پھیل جاتی تو اچھا ہوتا۔ڈائننگ روم اور بید روم میں کاکروچوں کا کیا کام ، کوپکس پھر کس کام کے۔کاکروچوں کو گرھوں میں رہنا ہی زیب دیتا ہے نا کہ باہر۔
    ۔
    ۔
    ۔
    ( اور بس۔
    وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اگر ایک اسلامی ملک بن گیا تو یہاں عورتیں جسم فروشی نہیں کریں گی، لوگ ہم جنس پرست نہیں ہونگے، شراب نہیں پی جائے گی، زنا نہیں ہوگا)،
    ۔
    ظاہر ہے آپ کے باپ داداوں نے ملک توڑاہی ان کاموں کیلئے بنایا تھا ۔ انہوں یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا تھا اور اسلام ان چیزوں کا مخالف ہے۔اگرہآپکے داداؤں کو اس بات کا علم ہوتا کہ اس ملک میں یہ بھی ہونا ہے تو شائد آج پاکستان نہ بن پاتا۔
    ۔
    ۔
    ۔
    (حالانکہ انہیں دوسروں کو یہ مشورہ دینے کی نہیں اپنے علاج کی آپ ضرورت ہے۔ اور انکا علاج اپنے دین سے خود آگہی حاصل کرنے میں ہے جو وہ نہیں کر پاتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ دین اس سلسلے میں خاصہ کڑا ہے )
    ۔
    میں اس بات سے متفق ہوں ،ہم اکثر اسی بات کو اسلام ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے ذہن کے مطابق اچھا ہو ، اگر کوئی اسلامی کام ہم سے نہ ہوسکیں تو اسکو اسلام سے ہی نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    دوسری بات یہ کہ موقع بے موقع فتوے دینا بھی اسلام سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔
    میں نے بلاگستان میں دیکھا ہے کہ فورا انسان پر کفر کا فتوی لگا دیتے ہیں حالانکہ وہ امر ایسا نہین ہوگا کہ جس کا منکر کافر ہو۔

    ReplyDelete
  5. اوسٹیو پوریسس کی وجوہات پر کچھ روشنی ڈال ديتيں تو اس کا تعلق دينی جہالت سے کچھ واضح ہو جاتا ۔ کيا اوسٹیو پوریسس کی وجہ يہ نہيں کہ ہم لوگوں نے اپنے کھانے کے طريقے چھوڑ کر جعلی ترقی کی خاطر نقالی کی بھينٹ چڑھ کر اپنی خوراک بدل دی ہے ؟

    ReplyDelete
  6. درویش خراسانی صاحب، یہ جو ُآ نے الٹرا ساءونڈ کے جو واقعات بیان کئے ہیں۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جائَ کہ خواتین کو الٹرا ساءونڈ نہیں کروانا چاہئیے۔ کراچی کی حد تک تمام ہسپتالوں میں خواتین اسسٹنٹ موجود ہوتی ہیں۔ اگر کسی جگہ ایسے مسائل موجود ہیں تو ان کے لئے یہ کوشش کرنی چاہئیے کہ وہاں خواتین اسسٹنٹس کا تقرر ہو۔ اسکے لئے پہلے ایسی خواتین تیار کرنی پڑیں گی۔ پھر انہیں جاب کرنے کی اجازت دینی پڑے گی۔ تب کہیں جا کر یہ مسئلہ ہوگا۔ اسی طرح اسٹنٹ نے اگر اس بہانے کواتین کے ساتھ زنا کیا ہے تو اسکے لئے آپکو یہ کوشش کرنی ہوگی کہ معاشرے میں ان مردوں کو پکڑا جائے اور انہیں انکے جرم کے مطابق جو سزائیں ہیں وہ دی جائیں۔ افسوس جس نظام کی حمایت آپ کر رہے ہیں وہ ان تمام مسائل کے حل میں دلچسپی نہیںرکھتا۔
    اس لئے آپ نے کسی بھی دلیل سے کام نہیں لیا۔ بلکہ آپ نے محض اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے کہ آپ فدائین اور نام نہاد مجاہدین کے لئے فکر مند ہیں۔ انہِنب اپنے کاز مِن کامیابی ملنی چاہئیے۔
    پاکستان کس لئے بنایا گیا، یہ اپنی جگہ ایک متنازعہ خیال بنا دیا گیا ہے۔ اگر پاکستان اسلامی شرعیت کے نفاذ کے لئے بنا تھا تو اسکا قیام مولانا مودودی کے ہاتھوں ہونا چاہئیے تھا۔ اسکا قیام مسلمانوں کی معاشی اور معاشرتی حالات کی بہتری کے لئے تھا ، اسی لئے ایک کھوجے خاندان سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے اوپر سب نے اپنے اتحاد کا اظہار کیا۔ اسے اپنا رہ نما بنایا۔
    دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلامی قوانین کے اندر ان تمام اخلاقی جرائم کی سزا مقرر ہے اس لئے قوانین بنانے والے یہ سمجھتے ہیونگے کہ یہ جرائم اسلامی معاشرے میں بھی ہونگے۔ حتی کہ یہ سب جرائم عہد نبوی میں بھی ہوتے رہے اور اسکے فوراً بعد بھی۔ ان سب جرائم سے معاشرہ ایک دم پاک نہیں ہو سکتا۔ البتہ یہ کہ انصاف کو فوراً فراہم کیا جائے تاکہ جرائم میں اضافدہ نہ ہو پائے۔ لیکن افسوس آپ سب انصاف کے لئے تو کوشش نہیں کرتے لیکن نام نہاد مجاہدین کی حمایت پہ کمربستہ ہو جاتے ہیں۔
    افتخار اجمل صاحب، یہ سب باتیں تو آُ بھی لکھ سکتے ہیں۔ اپنے محلے کی اپنے خاندان کی۔ دینی جہالت کیا یہ کم نہیں کہ ہر وقت خواتین کی اخلاقیات کو اسلامیات کے مطابق بنانے پہ تقاریر جاری کرنے والوں کو خواتین کے اصل مسائل سے کوئ دلچسپی سرے سے نہیں۔ اگر کوئ خاتون انہیں بتائے تو وہ مردوں سے نفرت کرتی ہے۔ جو مرد ان سے محبت کرتے ہیں انہیں خواتین کے یہ دیگر مسائل کیوں نہیں نظر آتے۔ وہ کیوں نہیں چاہتے کہ یہ مسائل بھی اہمیت پائیں۔
    آپ نے اس بارے میں کچھ تحریر نہیں فرمایا کہ پاکستان میں پچاس سالہ خاتون کو اسکے بیٹے کے سامنے برہنہ پھرانا کس قدر غیر اسلامی اور خدا کے قہر کو آواز دینے والی بات ہے۔ البتہ اگر فرانس میں خواتین کو چہرے کا پردہ کرنے کی اجزت نہیں دی جاتی تو آپ سب نجانے کتنی بار اس چیز کا حوالہ دے چکے ہوتے۔ یہ کیا ہے دینی جہالت، دینی تکبر ، خود فراموشی یا بے حسی۔
    بد تمیز،ایک دفعہ پھر آپکا تبصرہ نہیں آ سکا۔ اردو سیارہ والوں نے آپکو ، اسی تمیز کی وجہ سے بے دخل کر دیا۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ آپ کیوں تبصرہ کرتے ہیں آور اس سے زیادہ حیرانی آُکے دوستوں کی اخلاقی حالت پہ۔ یہاں گمنام تبصروں پہ اعتراض ہے، عبداللہ کے تبصروں پہ اعتراض ہے۔ لیکن آپکے بتصرے وہ سب بڑی خوشدلی سے لگاتے ہیں۔ یہ کون سا معیار اخلاق ہے۔
    ایک ادارے کی انتظامیہ آپ سے تنگ آ کر آپکو باہر کر چکی لیکن پھر بھی کچھ لوگ آپکو جگہ دیتے ہیں اور پھر بھی آپ اپنی اسی تمیز کا بار بار مظاہرہ کرتے ہیں۔ آپ کے تبصرے سے کو نسا اتحاد باہمی کا سبق پھیل سکتا ہے، یہ راز آپ ہی کھول دیں۔
    میں توسب لوگوں کی طرح آپکے تبصرے کو بھی جگہ دوں۔ لیکن آپ اپنی اص شناخت سے تبصرہ کریں اور اسے پوسٹ کرنے سے پہلے اچھی طرح دیکھیں کہ جس اخلاقی معیار کی آپ کسی دوسرے سے ڈیمانڈ کر رہے ہیں اس پہ آپکا تبصرہ پورا اترتا ہے یا نہیں۔
    یہ صرف اس وجہ سے آپکو بھی کچھ صحیح اندازے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ ہمت کرے انسان تو کیا کام ہے مشکل۔

    ReplyDelete
  7. میرا موڈ کچھ آف تھا وہ تو شاکر کا شاہکار پڑھ کر بحال ہوا ہے۔ دہشت گردوں کے دہشتستان سے کوچ کرنا ہی بہتر ہے۔ اور یہ معاشرے کے جینوئن مسائل جو آپ نے گنوائے ہیں ، اس پر غور کرنے کی توقع آپ کن سے رکھ رہی ہیں ؟ ... ان مذہبی للوں سے ؟ یہ نجس طبقہ صرف نجاست ہی پھیلا سکتا ہے۔ گندا کپڑا صفائی کے کام نہیں آتا ، زہر بیماری کا علاج نہیں کرتا۔ ترکی میں کیا ہوا ؟ .. ان مذہبی للوں کو لاتیں مار مار کر نکال باہر کیا اگلوں نے ، بلکہ ترکی کیا .. پوری عہد جدید کی تاریخ اٹھا کردیکھئے۔ ہر ترقی یافتہ ملک نے اپنے ہاں کے ان مذہبی ٹھیکیداروں کو پٹہ ڈل رکھا ہے۔ پاکستان بھی اگر تو ترقی کرے گا تو اس سٹیج سے گزرے کا لیکن اس سے پہلے ناسور کا پکنا ضروری ہے۔ تو انھیں پکنے دیں۔

    ReplyDelete
  8. محترمہ اس شدت پسندی کو کیا کہیں گی جس کی خاطر غزوۃ الہند بلاگ کو اردو سیارہ میں شمولیت کے صرف دو دن بعد ہٹا دیا گیا

    اور کون ان سے پوچھے کہ وہ کون ہیں جن کی شکایت پر اسے ہٹایا گیا اور کیا اسے عدم برداشت کے بجائے کوئی خوبصورت سا نام دیا جائے گا

    ظاہر ہے شکایت کے بغیر اس نامعقولیت کے سرزد ہونے کا اس لیے امکان نہیں اگر ہٹانا تھا تو شامل ہی کیوں کیا گیا تھا


    اب کچھ فرمانا پسند کریں گی کہ یہ دوغلہ پن نہیں معاشرے میں عدم برداشت مفقود ہے تو طعنے ہمیں کو کیوں دیے جاتے ہیں

    خود اپنے جیسوں کو بھی تو برداشت کا مشورہ دیں اب دیکھتا ہوں آپ اس پر سیارہ والوں سے اعتراض کرتی ہیں یا خوشی سے بغلیں بجاتی ہیں

    ReplyDelete
  9. عفان بلوچ صاحب، میں نے تو آپکی شاہکار تحریر کی تین لائینیں ہی پڑھیں۔ دراصل آپ ہی تو آجکے پاکستان کی وہ بھیانک صورت ہیں جو عدم برداشت کا اتنا شکار ہے کہ ہر چیز کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ آپ بتائیے کہ آپکے مخالف گروہ آپکو قتل کرنے پہ شادیانے بجاتے ہوں، کمزور اور معصوم لوگوں کو دھماکے سے اڑا کر خوش ہوتے ہوں۔ آپ بیمار پاکستان کی ایک واضح علامت تھے۔ کم از کم میں نے اردو سیارہ سے کوئ شکایت نہیں کی اس سلسلے میں۔ آپکے بیان سے تو پتہ چل رہا تھا کہ پاکستان کتنا بیمار ہو گیا ہے۔ انہوں نے خود ہی سوچا ہوگا کہ یہ تو انتہائ چھوت کا مرض ہے۔ پہلے ہی اسکے نمے نمے مریض یہاں موجود ہیں۔ معاملہ سنگین نہ ہو جائے۔ ایسا نہ ہو کہ الظواہری صاحب اپنے بیانات براہ راست آپکے بلاگ سے دینے لگ جائیں۔ اب وہ ایگریگیٹر چلا رہے ہیں اپنے لئے گلے کا پھندہ نہیں۔
    حالانکہ اگر آپ تسلسل سے چھپتے رہتے تو آپکے جو نمے نمے مریض ہیں وہ بھی بھاگ نکل کھڑے ہوتے۔ اس سے دیکھا جائے تو عمومی طور پہ نقصان ہی ہوا ہے۔ خیر اپنے لئیے دفاعی لائن مرتب کرنا ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ سو وہ آزاد ہیں۔ آُ نے یہ کیوں سمجھا کہ کسی نے شکایت کی ہوگی۔
    لیکن آپ نے اپنی شاہکار تحریریں لکھنے سے پہلے یہ سوچنے کی زحمت ہی نہ کی ہوگی کہ اس سے معاشرے کے کس طبقے کو فائدہ پہنچے گا یا خود آپکو کیا فائدہ ہوگا۔ سو سر منڈاتے ہی اولے پڑے۔
    مجھے تو صرف ایک بات پہ اعتراض ہے کہ نام نہاد مجاہدین کے لئے نعرہ ہائے تحسیسن بلند کرنے والا اپنا نام درست نہیں لکھ سکتا اور دوسروں سے اعلی فضائل کا طلبگار ہے۔ اپنے تئیں اعلی کاز کے لئے کام کرنے والے اعلی فضائل کا مظاہرہ کر نہیں سکتے ، کیا انکا منعقد کردہ نظام ہوگا اور کیا کاز۔
    توبہ کیجئیے، اور اپنی توانائیوں کو بہتر مقصد کے لئے کام لائیے۔ دنیا میں مثبت کام کرنے والوں کی سخت کمی ہے۔ جو آپ کر رہے ہیں وہ تو ہر ایک کرنے پہ تیار رہتا ہے۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ