Showing posts with label آزادی. Show all posts
Showing posts with label آزادی. Show all posts

Saturday, September 22, 2012

کیا واقعی؟

اب کچھ بھی لکھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ رسول اللہ پہ بنائے جانے والی فلم کے متعلق میرا کیا خیال ہے۔
 ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں کسی بھی قسم کا فضول مواد نیٹ پہ ڈالنا کسی بھی شخص کے لئے کوئ مشکل کام نہیں۔ اسکی مثال وہ فحش مواد ہے جو خود مغربی معاشرے کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں۔
ہمارے یہاں اس فلم کے اوپر غم غصے کا ہونا بجا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام  کے پیغمبر، کوئ تصوراتی شخصیت نہیں ہیں۔ انکی یہی خوبی جہاں ایک مسلمان کے لئے بے حد کشش کا باعث بنتی ہے وہاں نہ ماننے والوں کے لئے تنازعوں کا کھڑا کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔
میرے نزدیک یہ فلم  آزادی ء اظہار رائے کے ضمن میں نہیں آتی بلکہ اسکا تعلق ہیٹ میٹیریئل یعنی نفرت انگیز مواد سے ہے۔  سو اس سلسلے میں مسلمانوں کا یہ مطالبہ اپنی جگہ درست ہے کہ اسے نیٹ پہ سے ہٹایا جائے کیونکہ یہ مسلم دنیا سے نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ اور جب تک اسے نیٹ پہ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ مسلم دنیا یہ تسلیم کرنے میں حق بجانب رہے گی کہ یہ نفرت انگیز مواد ، مسلم دنیا کو مشتعل کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔
مسلم دنیا  اس سلسلے میں کیا کر سکتی ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔ ایک اجتماعی حل تو یہ ہے  کہ تمام مسلم ممالک کو اس سلسلے میں متحد ہو کر کسی ایسے بین الاقوامی قانون کے لئے کوشش کرنی چاہئیے جس سے اس قسم کے نفرت انگیز مواد کا پھیلاءو ممکن نہ رہے۔ 
لیکن اس سے پہلے ہمیں بحیثیئت پاکستانی خود سے بھی پوچھنا چاہئِے کہ کیا ہم دوسرے مذاہب کی تکریم کرتے ہیں۔ کیا ہم دوسرے انسانوں کو یہ آزادی دیتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب پہ جیسے دل چاہے عمل کریں۔
کل میری نظر ایک مضمون پہ سے گذری جو کسی مغربی لکھاری کا لکھا ہوا تھا اور انہوں نے اس میں بے شمار چیزیں گنوائیں جو مسلمان ، غیر مسلموں کے لئے کہتے ہیں اور جو نفرت انگیز مواد میں شامل ہونا چاہئیے۔ جب ہم دل آزاری کے اس مرحلے سے بغیر کسی قباحت کے گذر جاتے ہیں تو اپنی باری میں پہ ہم کیوں پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رسول کی تکریم ہو تو ہمیں اپنے اعمال کی بھی نگہداشت کرنی چاہئیے۔

ON CHRISTIANS Hasan Rahimpur Azghadi of the Iranian Supreme Council for Cultural Revolution: Christianity is “a reeking corpse, on which you have to constantly pour eau de cologne and perfume, and wash it in order to keep it clean.”http://www.memritv.org/clip/en/1528.htm — July 20, 2007.

Sheik Al-Khatib al-Baghdadi: It is permissible to spill the blood of the Iraqi Christians — and a duty to wage jihad against them.http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/0/5200.htm — April 14, 2011.

Abd al-Aziz Fawzan al-Fawzan, a Saudi professor of Islamic law, calls for “positive hatred” of Christians. Al-Majd TV (Saudi Arabia),http://www.memritv.org/clip/en/992.htm — Dec. 16, 2005.

ON SHIITES The Egyptian Cleric Muhammad Hussein Yaaqub: “Muslim Brotherhood Presidential Candidate Mohamed Morsi told me that the Shiites are more dangerous to Islam than the Jews.” www.memritv.org/clip/en/3466.htm — June 13, 2012.

The Egyptian Cleric Mazen al-Sirsawi: “If Allah had not created the Shiites as human beings, they would have been donkeys.” http://www.memritv.org/clip/en/3101.htm — Aug. 7, 2011.

The Sipah-e-Sahaba Pakistan video series: “The Shiite is a Nasl [Race/Offspring] of Jews.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6208.htm — March 21, 2012.

ON JEWS Article on the Muslim Brotherhood’s Web site praises jihad against America and the Jews: “The Descendants of Apes and Pigs.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6656.htm — Sept. 7, 2012.

The Pakistani cleric Muhammad Raza Saqib Mustafai: “When the Jews are wiped out, the world would be purified and the sun of peace would rise on the entire world.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6557.htm — Aug. 1, 2012.

Dr. Ismail Ali Muhammad, a senior Al-Azhar scholar: The Jews, “a source of evil and harm in all human societies.” http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6086.htm— Feb. 14, 2012.

ON SUFIS A shrine venerating a Sufi Muslim saint in Libya has been partly destroyed, the latest in a series of attacks blamed on ultraconservative Salafi Islamists.http://www.bbc.co.uk/news/world-africa-19380083 — Aug. 26, 2012.


عوام کی مذہب کے نام پہ  سلطان راہی بننے کی لگن دیکھتے ہوئے سیاستداں بھی اس سے کم فائدہ نہیں اٹھاتے۔ کیونکہ مذہب کا نام لے کر کسی کو قتل کر دیں یا کسی کی زمین چھین لیں یا کسی کو قید کرا دیں یہ کوئ مشکل کام نہیں۔ معاشرہ بھی اسے برا نہیں سمجھتا۔ جو اس چکر میں پھنستا ہے اسکی جاں بخشی اس ملک کی سرحدوں کے باہر ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ سو وہ لوگ جو آجکل خواب میں بھی اپنے ہاتھ میں تلوار اور سامنے گستاخ کا سر دیکھتے ہیں انکو بلور صاحب نے پیغام دیا ہے کہ گستاخ فلم بنانے والے کے سر کی قیمت انہوں نے رکھ دی ہے۔ جسے ہو شوق جائے کرے شکار اسے۔ اس طرح صوبہ ء سرحد میں موجود طالبان کو انہوں نے ایک سخت چیلینج دیا ہے۔ دیکھتے ہیں طالبان  کیا زیادہ سخت سزا اس گستاخ کے لئے رکھتے ہیں۔ بلور صاحب سے معذرت کے ساتھ کیا یہ پیغام تشدد، شدت پسندی اور نفرت انگیز جذبات کو ہوا دینے والا نہیں ہے۔
ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ مغربی ممالک میں کئ دہائیوں سے بسنے والے لوگوں کی زندگی کیا ان مغربی لوگوں نے اجیرن کی ہوئ ہے۔ کیا وہ انکے سامنے انکے نبی کی توہین کرتے ہیں۔ مجھے آج تک کوئ ایک شخص مغرب میں ایسا نہیں ملا جس نے مجھ سے میرا مذہب پوچھا ہو یا میرا مذہب جاننے کے بعد کوئ توہین آمیز ریمارک دیا ہو۔
کسی بھی ایسے گستاخ کے سر کی قیمت رکھ کر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں پاگلوں کی کمی نہیں۔ کیا سلمان رشدی کے سر کی قیمت رکھنے کے بعد لوگوں نے مرنے کے ڈر سے گستاخی کرنے کی جراءت نہیں کی؟
مجھے یقین ہے کہ یہ اس سلسلے کا آخری واقعہ نہیں ہوگا جیسا کہ مجھے کارٹونز والے معاملے میں بھی یقین تھا کہ یہ سلسلہ ایسے نہیں رکے گا۔
  اب ہم پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ کل ہمارے یہاں یوم عشق رسول  ایسے منایا گیا کہ لوٹ مار کے واقعات کے ساتھ چھبیس افراد اپنی جان سے گئے۔ یہ وہ بے گناہ ہیں جنہیں کوئ شہید بھی نہیں کہتا۔ مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں نے اس پہ مذمت سے زیادہ اس پہ مذمت کی کہ میڈیا نے پر امن ریلیوں کی کوریج کے بجائے ہنگامے کی کوریج زیادہ کی۔ مجھے جس چیز پہ انتہائ افسوس رہا وہ یہ کہ سوائے فضل الرحمن صاحب کے کسی اور مذہبی تنظیم نے جاں کے زیاں پہ اپنے افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ حتی کہ سوشل میڈیا پہ موجود دائیں بازو کا پروپیگینڈہ کرنے والوں کی اکثریت اس وقت ایسے خاموش ہوئ جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ جیسے یہ واقعہ پاکستان میں نہیں مریخ پہ پیش آیا ہو، جیسے مرنے والے ہمارے ہم مذہب اور ہم وطن نہیں بلکہ کسی جنگل میں شیر اور ہاتھی کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں کچلی ہوئ گھاس تھے۔
آخر یہ کیسے ہوا کہ اتنے لوگ ہلاک ہو گئے؟
ایک اسٹیٹس میری نظر سے فیس بک پہ گذرا۔ جس میں لکھنے والے نے لکھا کہ ریلیاں انتہائ پر امن تھی۔ ان میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے لیکن معاملہ ان جگہوں پہ خراب ہوا جہاں افغان مہاجرین نے ریلیوں میں شرکت کی۔ یہ افغان توڑ پھوڑ اور ہلاکتوں میں شامل تھے۔ اسکے ساتھ ہی اسلام آباد کے ہنگامے کی تصویر تھی۔
تب مجھے یاد آیا کہ بے نظیر کے مرنے پہ کراچی میں ملیر کے علاقے میں سب سے زیادہ ہنگامہ ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ انکے گھروں میں گھس کر نہ صرف لوٹ مار کی گئ بلکہ خواتین کو اٹھا لیا گیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا ذمہ دار افغان مہاجرین کو بتایا۔
ادھر کراچی میں میری آج ایک صاحب سے بات ہوئ جو حافظ قرآن ہیں اور لیاری کے علاقے میں رہتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ عینی گواہ ہیں کہ کل صدر کے علاقے میں جو لوٹ مار اور جلاءو گھیراءو ہوا وہ لیاری کے امن کمیٹی والوں کا کیا دھرا ہے۔  چند سال پہلے بھی کراچی پیپر مارکیٹ میں آگ لگانے کا ذمہ دار امن کمیٹی کو بتایا گیا تھا۔ حتی کہ اس وقت کی جانے والی لوٹ مار کا سامان بعد میں لیاری کے ایک گودام سے بر آمد بھی کیا گیا۔ یہ پیپر مارکیٹ صدر کے ساتھ ہی ہے۔
 میں نے حیران ہو کر ان صاحب سے پوچھا، لیکن میڈیا اس سلسلے میں کچھ نہیں بتا رہا اور امن کمیٹی والوں کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق؟
کہنے لگے، امن کمیتی کی خبریں میڈیا نہیں دے سکتا۔ مزید یہ کہ  یہ سب ایجنسیز یعنی پاکستانی فوج کے ایماء پہ ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام مذہب کے نام پہ بڑھکوں اور قتل و غارت گری سے بھرپور ڈرامہ دیکھ کر اپنا خون گرم رکھے۔ کیونکہ وہ ایک طرف عوام کو مذہب کے نام پہ طیش میں لاتے ہیں اور دوسری طرف امریکہ بہادر کو جتاتے ہیں دیکھا، ہم نے کتنی مصیبتیں جھیل کر آپکو اپنے علاقے میں تحفظ دیا ہوا ہے۔ اور آپ ہمارے لئے کیا کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف فوج بلکہ حکومت کے بھی پو بارہ ہیں۔
سوسائٹی میں وہ جن لوگوں کو استعمال کر سکتے ہیں انہوں نے کیا، ایک طرف افغان ذرائع انکے قابو میں  دوسری طرف کراچی میں جو قوتیں انکے قابو میں ہیں ان سے بھی حتی الامکان کام لیا ہے۔ مذہبی جماعتیں جہاد کے نام پہ انکے قابو میں ایسے آتی ہیں جیسے تر نوالہ۔
مجھے تو انکی بات پہ شبہ ہی تھا یہ تو آئے دن کا معمول ہے کہ جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ اس میں ایجنسیز شامل ہیں۔  لیکن آج صبح جب میں نے کیانی صاحب کا یہ بیان ٹی وی پہ سنا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے تو میں نے سوچا کہ جہاد اور جنگ میں معمولی سا فرق ہے وہ چاہتے تو اوبامہ کی طرح لفظ جنگ استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن در حقیقت اس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا خدا حافظ اور اللہ حافظ میں ہے۔ عوام کو کتنی آسانی سے سمجھ میں آیا کہ اللہ حافظ سے ہی اللہ ہمیں حفاظت دے گا۔ کیونکہ مسلمانوں کے خدا کا نام اللہ ہے۔ خدا تو ہر کس و ناکس کا ہو سکتا ہے۔ ہر کسی کا خدا خاص امت کا خدا کیسے ہو سکتا ہے۔ کیانی صاحب نے بڑا ناپ تول کر بولا۔
یہ پاک فوج ہے جس نے مذہبی شدت پسندی کا بیج بویا، اسکی آبیاری کی، اسے تناور بنایا، اسکے سائے میں بیٹھ کر اپنے لئے گلشن بنائے اور اب بھی اسکا کردار شفافیت سے محروم ہے۔ 
کیا واقعی؟ پاکستانی فوج  اب تک اس نشے کا شکار ہے کہ وہ بوتل کے جن کو جب چاہے گی اندر کر لے گی اور جب چاہے گی باہر کر لے گی۔ وہ جب چاہے گی مولوی صاحب کی خدمات حاصل کرے گی اور جب چاہے گی مولوی صاحب کو ایک طرف کر دے گی۔ کیا مولوی صاحب اتنے ہی بے وقوف ہیں؟

Tuesday, August 14, 2012

جن پہ ناز ہے

یہ پوسٹ میں نہیں آپ لکھ رہے ہیں۔ میں ایک حصے دار ہوں۔ کرنا یہ ہے کہ آپ اس میں وہ نام ڈالیں جنہیں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی سطح پہ اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان کے لئے وجہ ء افتخار ہیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میم۔
میم سے آتے ہیں محمد علی جناح۔
عبدالستار ایدھی
حکیم محمد سعید
ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی
گاما پہلوان
نورجہاں
مہدی حسن
جہانگیر خان
صادقین
گل جی
عمران خان
اس وقت جلدی میں یہ نام یاد آئے۔ باقی آپ شامل کریں۔

Friday, March 23, 2012

پاکستان؟

آج جب گھر سے نکلی تو ٹی وی پہ قومی ترانے چل رہے تھے۔ فیس بک پہ لوگ تیئیس مارچ جیسے قومی دن پہ اپنے  جذبات سے فضا کو پرجوش بنائے ہوئے تھے۔  گھر سے باہر نکل کر بس جمعہ بازار تک گئ ، سبزیاں لینے اور یہ طلسم ٹوٹ گیا۔
ہوا یوں کہ جب میں نے امرود والے کے اس دعوے کے رد میں کہ اس نے بقول اسکے بہترین امرود رکھے ہیں۔ ایک بھی داغ دار نہیں ہوگا۔ ایک کے بعد ایک چار داغدار امرود نکال کر واپس رکھے تو بازار ان نعروں کی آواز سے گونج اٹھا جو سڑک سے آرہی تھیں۔ دوکاندار کی داغدار زبان رک گئ اور اسکی توجہ روڈ پہ ہو گئ۔ میں نے بھی مڑ کر دیکھا  بلا کسی خوف کے کہ کوہ قاف میں تو موجود نہیں ہوں۔ ایک کے بعد کئ منی بسیں گذریں جن پہ لوگوں کا ہجوم جئے سندھ نیشنلسٹ پارٹی کے جھنڈے لئے بیٹھا وہ نعرے لگا رہا تھا جنکے مطلب  اور معنی سے وہ خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ مجھے بھی سمجھ نہیں آرہے تھے۔ یہ گاڑیاں شہر کے اس حصے کی طرف سے آرہی تھِں جہاں سندھی بلوچ گوٹھ ہیں۔ یہ وہ عوام ہے جو پیچھے پلٹ کر دیکھ نہیں سکتی۔ اس لئے نہیں کہ پتھر کی بن جائے گی اس لئے کہ اسے پیچھے دیکھنا ہی نہیں آتا۔ دیکھنا تو اسے آگے بھی نہیں آتا۔ جو انکے جدی پشتی رہ نما دکھا دیں وہی دِکھنے لگتا ہے۔
گھر آکر شہر کے حالات جاننے کا تجسس ہوا کہ ایک دوست سے ملنے کا وعدہ تھا۔ معلوم ہوا کہ  سندھ کی آزادی کا مطالبہ رکھنے والی اس ریلی کے شرکاء کی وجہ سے شاہراہ فیصل پہ بد ترین ٹریفک جام ہے۔ اور اس رکے ہوئے ٹریفک میں مسلح افراد نے لوٹ مار شروع کی ہوئ ہے۔
یہ جئے سندھ کی اس سلسلے میں پہلی ریلی نہیں تھی۔ ابھی چار دن پہلے بھی میں انکی ایسی ہی ریلی میں پھنسی اور جہاں جانے کا ارادہ تھا اسے ترک کے واپس آگئ۔
میں نے اپنا گھر سے نکلنے کا خیال منسوخ کیا۔ اور سوچنے لگی کہ ایک طرف بلوچستان میں آزادی کی نام نہاد جنگ سردار لندن، فرانس اور امریکہ میں بیٹھ کر لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف خیبر پختون خواہ میں انتہا پسندوں نے تحریک چلائ ہوئ ہے کہ انکے علاقے کی علاقہ غیر والی حیثیت بحال کر کے اسے حکومت  پاکستان کے رائج قوانین سے نہ صرف نجات دی جائے بلکہ باقی کے ملک میں بھی انکی مرضی کا نظام حکومت لایا جائے۔ جسے وہ شرعی حکومت کا نام دیتے ہیں۔ ادھر خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کی شہہ پہ اچانک جئے سندھ والوں کو سندھ کی آزادی کے نعرے پہ دوبارہ کھڑا کر کے کراچی میں اودھم مچانے کی اجازت دے دی گئ ہے۔ ابھی چند دن پہلے کراچی میں کسی خفیہ ہاتھ نے کراچی کی دیواروں پہ مہاجر صوبے کا مطالبہ بھی لکھنے کی کوشش کی۔  ادھر پنجاب  میں جنوبی پنجاب باقی پنجاب سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ ادھر باقی پنجاب نئے سرے سے مسلمان ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اب ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے۔ یہ ملک یہاں کی بنیادی اقوام کو چاہئیے یا نہیں؟
مجھ سے ایک بزرگ نے دریافت کیا کہ یوم پاکستان کیوں منایا جاتا ہے؟ میں نے مطالعہ پاکستان میں برسوں پڑھے ہوئے جواب کو طوطے کی طرح دوہرا دیا۔ اس دن دو قومی نظرئیے کی بنیاد پہ پاکستان بنانے کا مطالبہ ایک قرارداد کی صورت میں مسلمانوں کی طرف سے متفقہ طور پہ پیش کیا گیا تھا۔ پھر پاکستان کا پہلا آئین بھی اسی دن پیش ہوا۔
انہوں نے دریافت کیا لیکن جس دن بنگلہ دیش بنا۔ نہ صرف اس قرارداد سے تعلق رکھنے والا  پاکستان اس دن ختم ہو گیا تھا بلکہ واقعی اگر کوئ دو قومی نظریہ تھا تو وہ بھی اس دن غلط ثابت ہوا۔  رہا آئین تو اس  پہلے کے بعد کئ آئین آئے۔ یہ آئین جسکی بگڑی ہوئ شکل اب موجود ہے۔ جو بھٹو نے بنایا۔ اسے قوم کو دینے کے بعد چوبیس گھنٹوں میں اس میں پہلی ترمیم ہوئ، جو بھٹو ہی نے کی تھی مخالفین کو دبانے کے لئے۔ اس لئے ان دونوں وجوہات کی بناء پہ تو اب اس دن کو بالکل نہیں منانا چاہئیے۔ کیوں مناتے ہو تم لوگ یہ دن؟
کیوں مناتے ہیں ہم یہ دن، کیا اس لئے کہ قومی ترانوں کو گانے کی پریکٹس ہو سکے یا اس لئے کہ اپنی منافقت کی ہم مزید مشق کر سکیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اگلی نسلوں میں اپنی پوری آب و تاب سے منتقل نہ ہو سکے؟
ملک کی سیاسی حالات کی ابتری کا اندازہ لگانے کے لئے مزید اشارے دیکھیں۔ گیلانی صاحب عدالت کے زور دینے پہ بھی سوئس حکومت کو خط لکھنے کے لئے تیار نہیں۔ انکے بقول وہ صدر صاحب کی پیٹھ میں چھرا نہیں مار سکتے۔ یہ نہ کر کے وہ  پاکستان کے سینے میں چھرا مار رہے ہیں اسکا انہیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں بلکہ پرواہ بھی نہیں۔
 اعتزاز احسن جو ججوں کی بحالی تحریک میں آگے آگے ہو رہے تھے۔ جسکی وجہ اب یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ بس مشرف کے لکھے کو مٹانا چاہتے تھے۔ اس کیس میں انہوں نے بھی اپنے ضمیر کی شاید صحیح قیمت وصول کر لی ہے۔ کہتے ہیں عدالت کو گیلانی صاحب کے گدی نشیں ہونے کا تو خیال کرنا چاہئیے۔
یہی نہیں، ادھر برہمداغ بگتی کے اوپر سے سارے مقدمات واپس۔ کیوں جناب؟ اس لئے کہ بلوچستان کہیں پاکستان سے الگ نہ ہوجائے۔ پھر پاکستان کے  یہ چھوٹے چھوٹے لوگ کیوں سزائیں بھگتتے ہیں اس لئے کہ وہ کسی نواب خاندان سے نہیں۔ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ پولیس اور عدالت کا نظام ہی ختم کر کے اس عذاب سے جان چھڑائیں۔
طالبان سے مذاکرات کر کے انکے مطالبات پہ غور ہونا چاہئیے۔ وہ کس لئے؟ کیونکہ ملک میں امن اسی طرح قائم ہو سکتا ہے کہ جنونیوں سے بھی خوشگوار تعلقات رکھے جائیں۔
ادھر کل زرداری صاحب  کو تاحیات صدر منتخب کیا جائے گا۔ وہ کیوں بھئ؟ کیونکہ اگر وہ پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے تو جئے سندھ والے تو سندھ کو پاکستان سے الگ کر کے لے جائیں گے۔ 
یہ پاکستان کیا کاغذ پہ ایک نقشے کا نام ہے؟ 
پاکستان کیا کسی قرارداد کا نام ہے؟
پاکستان کیا کسی نظرئیے کا نام ہے؟
پاکستان کیا ایک کرکٹ ٹیم کا نام ہے؟
حقیقت کچھ یوں نظر آتی ہے کہ یہاں کے حکمرانوں کو، سرداروں کو، جاگیرداروں کو، نوابوں کو اگر اسکے چھوٹے چھوٹے حصے بنا کر  وہاں کا والی وارث بنادیا جائے تو نہ صرف یہ اسے اپنی خوش قسمتی جانیں گے بلکہ انکے زیر سایہ آنے والے عوام بھی اس نشے میں کئ نسلیں زمین پہ رینگ کر گذار لیں گے۔
آخر ہم یوم پاکستان کیوں مناتے ہیں؟ جبکہ ہم پاکستان پہ یقین نہیں رکھتے۔
جب ہم الگ ہو جائیں گے تو کس حصے کا نام پاکستان ہوگا اور کیا وہاں یوم پاکستان منایا جائے گا؟
اور  اب آخری سوال وہ کیا چیز ہے جو پاکستان کو جوڑ کر رکھ سکتی ہے؟ دائیں بازو والے شاید ایک دفعہ پھر اسکاجواب مذہب دیں لیکن میرے خیال میں شاید ایٹم بم۔ کیونکہ الگ ہوتے ہوئے  ان قوتوں کو یہ بھی تو سوچنا پڑے گا کہ آخر ایٹم بم کس کے حصے میں جائے گا۔ 

Thursday, February 23, 2012

بلوچستان؛ سرادر کی فوج یا فوج کی سرداری

 امریکیوں نے آزاد بلوچستان کے لئے اپنی سینیٹ میں ایک قرارداد پاس کی۔ وجہ یہ ہے کہ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے وہ ہیں، سارے جہاں کا درد انکے جگر میں ہے۔ اسکی دوسری وجہ یہ ہے کہ جنگ ہو یا دوسرے ممالک کے حصے بخرے کرنے کا معاملہ یہ دونوں ہی مشغلے انہیں بھاتے ہیں۔ انکے جنگی بحری بیڑے سمندروں پہ حاضر رہتے ہیں اور انکے مقاصد میں آسانی پیدا کرنے والے صحافی اور سیاستداں اپنی زمینوں میں سرنگیں بنائے انکے منتظر۔
بی بی سی اردو سروس میں وسعت اللہ خان صاحب کا ایک مضمون بلوچستان کے متعلق پڑھ رہی تھی۔  جسے پڑھ کر مجھ جیسے پاکستانی کو لگتا ہے کہ یا تو باغی بلوچ سرداروں نے املا کرایا ہے یا پھر امریکی کانگریس مین نے اپنی قرارداد کے ساتھ اس قسم کے مضامین بھی نتھی کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ بلوچستان کے ساتھ سیاسی غلطیاں اور زیادتیاں ہوئ ہیں لیکن کیا ان سیاسی غلطیوں اور زیادتیوں میں وہ سردار شامل نہیں جو آج آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔
پچھلے چونسٹھ سال میں اگر حکومت پاکستان کی ملی بھگت سے بلوچستان میں سڑکوں کا جال نہیں بچھا، انگریزی میڈیم اسکول نہیں بنائے گئے، ہسپتال قائم نہیں ہوئے تو کیا پچھلے چونسٹھ سال میں  مری، بگتی اور مینگل سردار اس جہد مسلسل میں اپنی جانیں گنواتے رہے کہ انکے ہم قوموں کو یہ زندگی کی سہولیات مل جائیں۔ یہ بات سوچتے ہوئے بھی ہمیں شرمندگی ہوتی ہے کہ آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کرنے والے یہ سردار آزادی صرف اپنے لئے چاہتے ہیں۔ اور اسکے لئے انہوں نے کیا امریکہ اور کیا لندن ہر جگہ ان لابیز سے گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے جو انکے مقاصد تک انہیں پہنچا سکیں۔
یہ سب سردار ااور انکی نسلیں پاکستان ہی نہیں پاکستان سے باہر بھی عیاشی کرتی رہیں اور رونا اس بات کا رہا کہ بلوچستان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے۔ جس بلوچ کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اس سے کیا مینگل، کیا بگتی اور کیا مری ان سب سرداروں میں سے کسے دلچسپی ہے؟
ان لوگوں کی دلچسپی اگر کسی چیز میں ہے تو وہ یہ کہ بلوچستان میں قدرتی دولت کے جو بھی ذخائر ہیں اسکی آمدنی ان میں اس طرح تقسیم  ہو جائے کہ  کسی اور کے حصے میں آنے نہ پائے۔ یہ 'کسی اور' جسے وہ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں ہر وہ شخص ہوتا ہے جو بلوچ نہیں ہے۔ دوسری قومیتوں کا خوف پیدا کر کے اپنے خوفزدہ لوگوں کو کس چیز سے خوفزدہ کرتے ہیں۔  کیا ایک عام بلوچ کو اس بات سے ڈرنا چاہئیے کہ وہ اپنے سردار کی گولی کھا کر بے گناہ مرنے کے اعزاز سے محروم ہوگا اور فوج کی گولی سے مارا جائے گا۔ فوج کی گولی سے مرنا حرام موت اور سردار کی گولی سے مرنا رتبہ ء عالی ہے۔
اختر مینگل صاحب جو اس وقت کسی ترقی یافتہ ملک میں بیٹھے گلچھرے اڑا رہے ہونگے کیا انکے منصوبوں میں کبھی بلوچستان میں سڑک بنانے، اسکول بنانے اور ہسپتال بنانے کے منصوبے شامل رہے۔ کیا انکے مطالبات میں کبھی یہ چیز شامل رہی کہ انکے صوبے کے عوام کو یہ سہولیات دی جائیں۔ نواب بگتی کے پوتے براہمداغ بگتی فرماتے ہیں کہ آزاد بلوچستان ایک اٹل حقیقت ہے۔ ذرا وہی اپنے دادا کے بلوچوں پہ احسان گنوا دیں۔ کوئ ایک اسکول، کوئ ایک روڈ، کوئ ایک ہسپتال ، کوئ ایک  عوامی فلاح کا کام جو ایڈوینچر کے شوقین انکے دادا نے بلوچوں کو عظیم قوم بنانے کے لئے انجام دیا۔  بخدا، مجھ جیسا ہر پاکستانی ان سے نا آشنا ہے۔ چلیں وسعت اللہ خان صاحب ہی بتا دیں کہ سرداروں نے اپنی قوم پہ جو احسانات کئے یا کرنے کی کوشش کی۔ جسکی بنیاد پہ آج بلوچ قوم کو انکے پیچھے کھڑے ہو کر آزاد بلوچستان کی جنگ لڑنی چاہئیے۔ جی وسعت اللہ خان صاحب، ہم سب ان کارہائے نمایاں کو جاننے کے لئے بے تاب ہیں۔
اس وقت بھی بلوچستان کی صورت حال کا نقشہ ایسا کھینچا جاتا ہے جیسا کہ بنگلہ دیش کا سقوط کے وقت تھا۔ حالانکہ بنگلہ دیش اور بلوچستان اور بنگلہ دیش میں ایک واضح فرق موجود ہے اور وہ یہ کہ بنگلہ دیش میں آزادی کے لئے عوامی شعور موجود تھا اور انہیں معلوم تھا کہ انہیں آزادی کے بعد کیا کرنا ہے۔ بلوچستان میں عوام اس بات سے واقف ہی نہیں کہ انسان شعور رکھتا ہے۔ انکی بڑی تعداد گٹکے اور چرس کے کے نشے میں گم ہے۔  یہی نہیں بنگالی ، بنگالی قومیت کا مضبوط تصور رکھتے تھے، انکی زبان اور ادب موجود تھا۔  بلوچستان میں بلوچ قومیت کا تصور ہی چند سرداروں تک محدود ہے جو کہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اپنی مٹی یا اپنے لوگوں سے وفاداری کی جنگ انہیں کیا معلوم۔ بھلا کوئ کیڑے مکوڑوں کی خود مختاری کے لئے لڑتا ہے۔ 
دوسری ظالمانہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تو پشتون ہیں۔ پھر یہاں کی آبادی کا دوسرا بڑا حصہ ان قبائل سے تعلق رکھتا ہے جو لاسی کہلاتے ہیں اور اپنی بنیاد میں یہ سندھی بلوچ ہیں۔ اسکے بعد یہاں پنجابیوں کی باری آتی ہے جو کہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایک ایسے بلوچستان کو کس آزاد ملک میں تخلیق کیا جائے گا۔
اچھا ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ یہ خود غرض، ظالم سردار عوامی حمایت کے ساتھ آزاد بلوچستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. کیونکہ فوج نے ان کو آزادی سے محروم کر رکھا ہے۔  تو انکے آزاد ملک کا انتظام کون چلائے گا۔ وہ کیڑے مکوڑے تو نہیں چلا پائیں گے جو انہوں نے پچھلے چونسٹھ سالوں میں اپنی غلامی کے کوکون میں محفوظ کر کے اپنی بادشاہت کی تسکین کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ پھر یقیناً یہ امریکی سینیٹرز یا لندن کے صحافی آکر ہی انکی مدد کریں گے۔ ایک دفعہ پھر قدرتی دولت میں انہیں ساجھے دار بنانا پڑے گا۔ تو اب کیا مسئلہ ہے؟
مجھ جیسے پاکستانیوں کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ سردار اپنی رعایا پہ زندگی تنگ کر دے انہیں انسان تسلیم کرنے سے انکار کر دے، انکے خاندان کے خاندان ختم کر دے تو کوئ نکتہ ء اعتراض نہیں ابھرتا۔ کوئ اللہ کا بندہ نہیں کہتا کہ انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے اور ان زمینی فرعونوں کے خلاف کارروائ کی جائے۔ لیکن جب سیاسی بساط پہ چالیں چلی جاتی ہیں , فوج یا حکومتی ایسے رد عمل پہ امریکی کانگریس مین قرار دادیں پاس کرتے ہیں تو کیا مینگل، کیا بگتی اور کیا وسعت اللہ خان سب ہی ایک آواز ہو جاتے ہیں۔ 
جس طرح پاکستانیوں کو کسی چیز سے نفرت دلانے کے لِئے ایک ہی نعرہ کافی ہے کہ یہ امریکیوں نے کیا ہے اسی طرح یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان سے باہر ایک حلقہ صرف یہ نعرہ لگانے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ یہ ظلم پاکستانی فوج کا کام ہے۔ کیا ان دو انتہائ صورتوں کے درمیان پاکستانی عوام کے لئے کوئ امید موجود ہے؟

Monday, May 9, 2011

یاد کا جادو

ہمارے گھر کے مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پہ جنات کا سایہ ہے'۔ 'تو آپ اسے بدل کیوں نہیں دیتے'۔ نجمہ خالہ نے اپنے ماموں کی اس بات کو جیسے کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا۔ 'ارے بھئ، ہمارے دادا کا گھر ہے وہ۔ اب اس میں ہماری چوتھی پشت رہ رہی ہے'۔ ماموں نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی۔ 'ائے چھوڑیں، ہردوسرا شخص کسی بیماری کا شکار ہے ہر تیسرا شخص ذہنی طور پہ بیمار ہے چوتھی پشت رہ رہی ہے۔ پانچویں پشت باقی بچے گی تو رہے گی۔ ہمیں دیکھیں، تیس سال کے عرصے میں چار گھر خریدے اور ان میں رہے پھر بدل دئیے'۔  خالہ نے پرس میں اپنا موبائل فون تلاش کرتے ہوئے کہا۔
'یہ جائیداد کا خریدنا بڑا مشکل کام ہے'۔  ماموں نے جان چھڑانی چاہی۔ 'ماموں آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ میں ایک عورت ہوں، شوہر کے انتقال کو بھی سترہ سال ہو گئے۔ انکے بعد بھی دو گھر میں نے  یکے بعد دیگرے خریدے۔ انہیں تلاش کیا، اس چکر میں اسٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ درجنوں گھر دیکھے۔ پھر جا کر پسند آئے۔ اسکے بعد وہاں جانے سے پہلے انکی مرمت، رنگ و روغن اور ان میں کچھ تبدیلیاں بھی کرائیں۔ یہ سب کام میں نے اکیلے کیا'۔ خالہ نے فخر سے کہا۔ 'کرنے پہ آئے تو انسان کیا نہیں کر سکتا'۔ میں خاموشی سے گفتگو سنتی رہی۔ خیال تھا کہ بات کسی طرح گھوم کر جنات پہ پہنچے گی۔ اور ہم جان سکیں گے کہ اس گھر میں جنات کا کیسے پتہ چلا؟ وہ کیا کرتے ہیں؟ کس نے انہیں دیکھا؟ اور یہ سارے مصائب انکی وجہ سے کیوں ہیں؟؟؟؟؟؟
یہ خالہ ہماری سگی خالہ نہیں۔ بس ہماری اماں سے کچھ بچپن کی دوستی کا تعلق  ہے۔ سو ہمارے بچپن میں بھی ساجھا کر لیا ۔
تو تم بڑی عقلمند سمجھتی ہو اپنے آپکو'۔ ماموں نے ایک بھولپن سے اپنی بھانجی سے کہا۔
اس مرحلے پہ کسی نے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔ 'ہماری اماں کا انتقال ایک سو سات سال کی عمر میں ہوا'۔ ماموں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ بس اب میری باری تھی۔ جنات ہاتھ نہیں آئے تو کیا ہوا عمر کا حساب بھی کچھ کم نہیں۔ 'ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟'  'ہاں آپ لوگوں کو کیسے یقین آ سکتا ہے آپ نے انہیں کہاں دیکھا؟ پھر آجکی نسل کو ایسی باتوں پہ یقین کہاں آتا ہے' 'میں نے انہیں دیکھا تھا۔ اپنے بچپن میں، وہ ایک بہت کام کاجو خاتون تھیں'۔ میں نے نکتہ ء اعتراض کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ 'پہلی دفعہ لکھنوء سے پاکستان آئیں تو گھر بھر کی رضائیاں کھلوا کر بیٹھی ہوئیں تھیں۔ اتنی تندرست اور صحیح تھیں کہ  خود بیٹھی ان میں ڈورے ڈال رہی تھیں یا ڈلوا رہی تھیں۔ میں تو یقین نہیں کر سکتی کہ وہ ایک سو سات سال کی تھیں'۔
ہم ہیں ان کے بیٹے اور بتا رہ ہیں کہ ایک سو سات سال کی تھیں۔ ہم صحیح ہوں گے یا آپ'۔ وہ اپنے دھیمے لہجے میں گویا ہوئے۔
انکی سب سے بڑی بیٹی یعنی خالہ کی امی کی عمر اس وقت پچھتر سال کے قریب ہے۔  آپکی امی یعنی خالہ کی نانی ، انکی شادی میں نے سنا ہے کہ اس وقت کے مروجہ طریقے کے مطابق چودہ پندہ سال کی عمر میں ہو گئ تھی۔ اب اگر آپکی امی زندہ ہوتیں تو زیادہ سے زیادہ نوے سال کی ہوتیں۔ اب جبکہ انکے انتقال کو پانچ سال ہو گئے ہیں میرا اندازہ ہے کہ انکی عمر پچاسی سال ہوگی'۔ میں نے حساب کتاب کے تیز رفتار گھوڑے دوڑا دئیے۔
یہ تم سے کس نے کہا کہ انکی بیٹی کی عمر اس وقت پچھتر سال ہے۔ وہ میری بہن ہیں۔ مجھ سے پندرہ سال بڑی۔ میں اس وقت پچھتر سال کا ہو چکا ہوں۔ ماموں نے ایک اور اعتراض کیا۔
لیجیئے جناب عمر کا ایک نیا چکر شروع ہوا۔ میں نے کہا خالہ آپکی بھانجی ہیں۔ یہ لوگ سن چونسٹھ میں پاکستان آئے ہیں ۔ خالہ کی امی یعنی آپکی بڑی بہن کہتی ہیں کہ جس وقت وہ یہاں آئیں تو آپ گیارہ بارہ سال کے تھے۔ اب یہ بات تو ہم نے اتنی تسلسل سے سنی ہے کہ  غلط نہیں ہو سکتی' ۔ تائید کے لئے میں نے انکی بھانجی اور بڑی بہن کی طرف دیکھا ان لوگوں نے گردن ہلائ، تائید میں۔' اب آپ بتائیے ، اگر آپ اس وقت پچھتر سال کے ہیں تو سن چونسٹھ میں آپکی عمر، ایک سادہ سے حساب سےپچیس سال کے قریب بنتی ہے۔ پھر تو آپکو ہر چیز  خاصی  یاد ہونی چاہئیے'۔
ماموں ، میری شکل دیکھنے لگے۔ بہن کی ہجرت کے حوالے سے انکا خاکہ زیادہ واضح نہیں تھا۔ یہ بات تو ماننی پڑتی کہ ایک پچیس سال کے شخص کو یہ چیزیں درستی سے یاد ہوں۔ خاص طور پہ اپنی بڑی بہن کے متعلق۔' نہ آپ پچھتر سال کے ہیں اور نہ آپکی امی کا انتقال ایک سو سات کی عمر میں ہوا۔ آپکی عمر اس وقت ساٹھ سال کے قریب ہے، آپکی بڑی بہن پچھتر سال کی اور امی کا انتقال پچاسی سال کی عمر میں ہوا'۔
بڑی عجیب خواتین ہیں آپ۔  یہ کراچی میں گندم کہاں سے آتا ہے؟'۔ یہ کہہ کر ایک بھولپن سے مسکرانے لگے۔ شاید سوچ رہے ہوں کہ عمر رفتہ کا حساب تو بڑا آسان ہے پھر ہم کاہے کو ایک گورکھ دھندے میں پھنسے رہے۔
دو ہفتے بعد میں نے سنا کہ واپس جا رہے ہیں اپنے وطن بھارت۔ 
سوچا ایک دفعہ پھر ملاقات کی جائے۔ ایک دفعہ پھر اسی کمرے میں لیکن اس دفعہ مختلف لوگ بیٹھے تھے۔ گفتگو کچھ ماضی اور مستقبل کے دو نہ چھونے والے دائروں میں گھوم رہی تھی۔ کبھی چھلانگ کر اس طرف کبھی چھلانگ لگا کر اس طرف۔ ایسے میں اسے حال کے کرداروں کی انگلی پکڑنی پڑتی۔ ماموں نے ایک آہ بھری۔ 'پینتالیس سال ہو گئے ہماری بہن کو ادھر آئے تو ہم پہلی دفعہ آنے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھیں آ پاتے ہیں یا نہیں'۔ 'ارے نہیں صاحب، خدا آپکو لمبی عمر دے۔ سنا ہے آپکی والدہ  نے بھی کافی لمبی عمر پائ تھی'۔
اسی بچوں جیسی سادگی سے کہنے لگے، 'جی ہاں ماشاءاللہ ایک سو سات سال کی عمر میں انتقال ہوا انکا'۔
وہ جھوٹ نہیں کہہ رہے تھے۔ یادداشت کے طلسم ہوش رُبا میں کہیں کہیں انسان پتھر کا ہو جاتا ہے۔ نہ اس سے آگے دیکھ پاتا ہے نہ پیچھے۔