Sunday, December 11, 2011

بچوں سے بڑوں تک

میری بچی نے جیسے ہی سامنے پڑا ہوا کھلونا اٹھایا اسکی ہم عمر میزبان بچی نے لپک کر اسکے ہاتھ سے لینے کی کوشش کی۔ یہ دیکھ کرمشعل نے اس پہ اپنی گرفت اور سخت کر دی۔ 'مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے میں اس سے کھیلونگی'۔ اس نے احتجاج کیا۔ میزبان بچی نے کہا نہیں یہ میرا ہے۔ میں اس سے کھیلتی ہوں ۔ ماں نے کہا وہ تمہارے گھر مہمان آئ ہے تھوڑی دیر میں چلی جائے گی۔ تم اسکے ساتھ کھیل لو لیکن بچی نے یہ تسلیم نہیں کر کے دیا۔ میں نے مشعل کو سمجھایا کہ یہ تمہارا نہیں ہے اسکا ہے۔ واپس رکھ دو۔ لیکن اسے یہ بات نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ سامنے اتنے سارے کھلونے موجود ہیں تو وہ کیسے ان میں سے کسی کو ہاتھ نہیں لگا سکتی۔
یہ سب کچھ ترقی یافتہ،  پہلی دنیا کے اس حصے میں ہو رہا تھا جہاں ٹی وی پروگرامز میں یہ نصیحت بچوں کو ہی نہیں والدین کو بھی بار بار کی جاتی ہے کہ شیئر کرو، شیئر کرنے کی عادت ڈالیں۔ چاہے وہ بارنی شو ہو یا ڈورا دی ایکسپلورر۔ 
 صرف یہی ایک گھر نہیں،  بلکہ ہم وہاں رہتے ہوئے جس گھر میں بھی گئے وہاں بچوں کا کم و بیش یہی رویہ تھا۔ گھروں میں ہر طرح کے کھلونوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا لیکن میزبان بچے کو یہ فکر کہ آنے والا مہمان بچہ کہیں اسکے کھلونوں سے کھیلنے نہ لگے۔ اکثر بچے اس کے لئے مار پیٹ پہ آمادہ۔ وہ کھیلنے سے زیادہ اس باتکے لئے فکر مند تھے کہ نیا آنے والا بچہ کہیں انکی چیزوں پہ قابض نہ ہو جائے۔ چیزیں انکے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسکے چند مہینے بعد ہم پاکستان میں گوادر جیسی پسماندہ جگہ پہ موجود تھے۔ نیم دیہاتی سا علاقہ جہاں بچے سارا سارا دن گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں ایک دوسرے کے گھروں میں ٹہلتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم چلتا کہ یہ حقیقتاً کس بچے کا گھر ہے۔  انکی دنیا میں  بہت محدود تعداد میں کھلونے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پہ میں نے یہاں یہ گردان نہیں سنی کہ یہ میرا ہے۔
در حقیقت کسی بچے کو اسکی فکر ہی نہیں تھی کہ کیا میرا ہے۔ وہ صرف کھیلنا چاہتے ہیں آزادی سے، گھر میں، گلیوں میں، سمندر کنارے، مٹی سے، پانی سے، دوسرے بچوں سے۔
مگر دونوں جگہ کے  بڑے اپنے بچوں سے اتنے مختلف کیوں ہیں؟

4 comments:

  1. mindset بنیادی
    کا فرق ہے دونوں جگہوں کے بچوں کے
    بیچ۔ انتہائی آسودہ معاشرے اور انتہائی کمیابی میں زندگی گزارنے والوں کی
    mental wiring
    بالکل مختلف طور پر ہوئی ہوئی ہے۔ کیسے اور کیوں۔۔۔یہ شاید پوری طرح سے واضح نہیں کیا جا سکتا۔





    ۔

    ReplyDelete
  2. گوادر کے بچوں کی ملکیت میں وہی قیمتی کھلونے دے دیں جو پہلی دنیا کے بچوں کی ملکیت میں تھے۔از سرنو مشاہدہ کریں۔ نتائج وہی نکلیں گے جو پہلی دنیا میں دیکھے گئے۔

    پہلی دنیا کے بڑوں کے مابین ان کے اثاثے اور وسائل غیر منصفانہ تقسیم کریں۔ از سرنو مشاہدہ کریں۔ نتائج وہی نکلیں گے جو تیسری دنیا میں دیکھے گئے۔

    ReplyDelete
  3. عثمان، بچوں کو چیزوں کے قیمتی ہونے سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ ایک بچہ انکے گھر میں لگے ہوئ پائن کے درزخت کے کونز اٹھا لے انکے لئے وہی زمین پہ پڑا ہوا بے مصرف کون ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہ کس کی ملکیت میں جائے گا، آنے والے نئے بچے کے پاس یا انکے پاس۔
    میرے خیال سے اسکی دیگر وجوہات بھی ہیں مثلا ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کو بگاڑ کی حد تک انفرادی حیثت میں پالنا۔ میرا بچہ یہ نہیں کھاتا، یہ پسند کرتا ہے، اسے یہاں جانا پسند ہے ، یہاں جانا بالکل پسند نہیں، یہ کپڑے پسند کرتا ہے۔ اکثر والدین اپنے بچوں کے آگے ایک دم بے بس لگتے ہیں۔
    جبکہ دوسری قسم کے بچے وہ ہوتے ہیں جو ایک ہجوم کے ساتھ پل رہے ہیں۔ انکی انفرادی پسند یا نا پسند کی کوئ خاص حیثیت نہی ہے۔ گھر میں آلو گوشت پکا ہے بچے کو بھی وہی کھانا ہے۔ سب شادی میں جا رہے ہیں بچے کو بھی وہی جانا ہے۔ محض ایک بچے کو خوش کرنے کی کواش میں سب نہیں لگے ہوتے۔ بچے کو کبھی ایک چیز ملتی ہے اور کبھی نہیں ملتی، کبھی اسکی پسند پوری ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی۔ اس سے بڑا فرق پڑتا ہے۔

    ReplyDelete
  4. بچوں کی نفسیات اور رویے پر اب ایک ماں سے کیا تکرار کریں۔
    رجوع ہی میں عافیت ہے۔
    (:

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ کسی اور بلاگ پہ کئے گئے تبصرے اگر یہاں تحریر کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے تو انتظار کریں اور جب اس سے ملتا جلتا موضوع یہاں نظر آئے تو ضرور لکھیں۔ غیر متعلقہ تحاریر کے ساتھ یہ تبصرے اپنی اہمیت نہیں رکھتے۔
والدین کا دیا نام پسند نہیں تو کسی اور نام سے تبصرہ کر دیں۔ اگر نام رکھنے میں دشواری ہو تو مدد کے لئے پکارئیے۔ ہم حاضر ہیں۔
جو لوگ فحش الفاظ استعمال کئے بغیر اپنا مدعا نہیں بیان کر سکتے انہیں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں انکا ایسا تبصرہ یہاں کبھی نہیں آئے گا۔ شکریہ