Monday, May 3, 2010

وہ، میں اور مئ

یہی وہ دن تھے جب اک دوسرے کو پایا تھا
ہماری سالگرہ ٹھیک اب کے ماہ میں ہے
فی الحال میں اپنے بلاگ کی سالگرہ کی بات نہیں کر رہی۔ یہ مہینہ میری زندگی میں ایک اہم تبدیلی کا باعث بنا۔ وہی تبدیلی جس کے لئے اکثر لوگ اپنی ہتھیلی پھیلا کر دست شناس کے آگے کر دیتے ہیں کہ نام کا پہلا حرف بتادیں اور یہ کہ خاندان میں ہوگی یا خاندان سے باہر۔ یا یہ گاتے پھرتے ہیں کہ زندگی اپنی گذر جائے گی آرام کے ساتھ اب میرا نام بھی آئے گا تیرے نام کے ساتھ۔ یہ تو بعد میں عقدہ کھلتا ہے کہ صرف ناموں کا ساتھ رکھنا ہی بات نہیں بلکہ مقامات جد وجہد اسکے علاوہ ہیں۔
 میرے شوہر اور میری پہلی ملاقات، جیسا کہ کراچی میں طریقہ رائج الوقت ہے ایک ڈرائنگ روم میں ہوئ۔ لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ چپ چپ کھڑے ہو ضرور کوئ بات ہے، پہلی ملاقات ہے یہ پہلی ملاقات ہے۔ اسکی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ میں سمجھی تھی کہ لڑکا ساتھ میں نہیں آیا اور یہ باقی خاندان والے ہیں۔ اس ملاقات کے آخر میں جب انکا مجھ سے تفصیلی تعارف کرایا گیا تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔
خیر، شادی سے پہلے ہماری خاصی ساری ملاقاتیں گھر کے اندر ہوئیں۔ اسکا مقصد میری طرف سے قطعاً یہ نہیں تھا کہ میں انہیں مزید جان لوں، کیونکہ اس سال فروری میں، میں نے خدا کو گواہ بنا کر عالم طیش میں کہا کہ اب جو بھی پہلا پروپوزل آئیگا میں اسے بغیر چھانے پھٹکے اور سوچے سمجھے ہاں کر دونگی چاہے وہ کوئ بھی ہو۔ اب خدا سے کئے اس وعدے کی لاج بھی تو رکھنی تھی۔ میرے اس جملے کی آزمائش صرف پچیس دن بعد ہی  فہوالمطلوب ہو گئ۔ اور میں نے اس پہ ثابت قدمی دکھائ اور آج تک دکھا رہی ہوں۔
:)
اسکی وجہ نجومی یہ بتاتے ہیں کہ قائد اعظم، سوہنی اور میرا برج ایک ہے اور اسکی بنیادی خاصیت ہے مستقل مزاجی۔ اماں کا خیال ہے کہ انکی اعلی تربیت ہے، احباب کا خیال ہے کہ شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے، کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میری قسمت اچھی ہے  اور میں سمجھتی ہوں کہ میں خود کافی اچھی ہوں لیکن----------- اچھوں کے ساتھ۔
تو بات یہ بنی کہ
چاہئیے اچھوں کا جتنا چاہئیے
وہ اگر چاہِیں تو پھر کیا چاہئیے
قسمت کی خوبی دیکھئیے کہ در محبوب پہ مجھ سے پہلے رقیب نے دستک دی۔ اور میری رقیب صاحبہ میری قانونی آمد سے پہلے ہماری زندگی میں گھس آئیں۔ بقول ہماری بزرگ پڑوسن کے انہوں نے تو اپنی گاڑی سے نکاح کیا ہوا ہے۔  تو میری یہ رقیب ایک رینج روور ہے۔ انہیں اگر خوش کرنا ہو تو گاڑی کی شان میں ایک تعریفی جملہ کہہ دیں۔ اگر وقت اور معاشیات کا اندازہ لگائیں تو رقیب کو مجھ پہ ایک واضح برتری حاصل ہے۔ لیکن ایسے موقعوں پہ میں ایکدم اسی طرح رہتی ہوں جیسے صوفی راہ سلوک کی منازل پہ۔ حتی کہ کسی کو یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہونی چاہئیے کہ میرا تعلق ملامتی فرقے سے ہے۔
یہ بات تو شادی سے پہلے میرے علم میں لائ جاچکی تھی کہ محترم  لینکس اور غالب کی شان میں ہتک برداشت نہیں کرتے۔ آج بھی کمپیوٹر کی فیلڈ میں ہونے والے میرے تمام مصائب کا سہرا ونڈوز کے سر بندھتا ہے اور اسے برا بھلا کہے بغیر میرے کسی بھِی ٹیکنیکل مسئلے کو شرف باریابی عطا نہیں ہوتا۔ 
 اس مہینے کی اہمیت میں میرے شریک حیات کی شخصی خوبیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ جو شخص اپنے گھر کے گیٹ پہ گاڑی کے لئے ہارن بجانے کے بجائے خود گیٹ کھولنے کو ترجیح دے تاکہ محلے والے ڈسٹرب نہ ہوں۔ان سے میری شکائیتیں ایسی ہی ہوتی ہیں کہ کپڑے بستر پہ کیوں چھوڑ دئیے۔
خاصے عقلمند ہیں اور شادی کے فوراً بعد میری تربیت میں ڈرائیونگ کو مرکز نگاہ رکھا۔ اپنی جان چھڑائ اور واہ واہ بھی ہو گئ کہ بیگم کو خود انحصاری کی منزل پہ پہنچا دیا ہے۔ حالانکہ اس میں میری دور اندیشی بھی شامل تھی۔ میں نے  ان حالات سے خاصہ سبق سیکھا جب میں شاپنگ کے لئے دوکان کے اندر بیٹھی ہوتی تھی اور میاں صاحب موبائل فون پہ دوکان کے باہر ٹہل ٹہل کر گفتگو فرما رہے ہوتے تھے۔ تو شوہر صاحب کی ان اداءووں کا خوف نکالنے کے لئے دل سے کراچی کی سڑکوں کا خوف نکالا۔ اور نتیجے میں  اب میں دن ہو یا رات اپنے کسی بھی کام کے سلسلے میں انکی محتاج نہیں۔ ڈرائیونگ آنا، خواتین کے لئے ایک نعمت ہے۔ لیکن یہ یاد رکھیں کہ کبھی اپنے شوہر صاحب سے ڈرائیونگ سیکھنے کی حماقت نہ کریں۔
روشن خیال ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری مستقل مزاجی کا دعوی دھرا کا دھرا رہ جاتا۔ میں نے اپنی پی ایچ ڈی اپنی شادی کے بعد مکمل کی اور اس سلسلے میں مجھے انکا تعاون ہمیشہ حاصل رہا۔ ورنہ یہ تو آپکو اندازہ ہوگا کہ جبری تعاون حاصل کرنا بھی کوئ مشکل کام نہیں، بس یہ کہ دلوں میں بال پڑ جاتے ہیں۔  
اسی وجہ سے مجھے شادی سے پہلے کے دوستوں کی شادی کے بعد چھانٹی نہیں کرنی پڑی اور نہ ہی کسی کی چھٹی۔ نہ ہی پچھلے کسی واقعے کے منہ سے نکل جانے پہ سنسر لگانا پڑا۔
البتہ ایسا ہے کہ پہلے میں راستے کے چھوٹے ہونے کا مطلب یہ لیتی تھی کہ وہ فاصلے میں چھوٹا ہو۔ لیکن جب اپنے میاں موصوف کو کسی جگہ جانے کے آڑے ترچھے راست اختیار کرتے دیکھتی تو ایک دن ان سے پوچھ لیا کہ اس میں کیا اسرار ہے جواب ملا کہ اس راستے میں سگنل کم آتے ہیں اور ٹریفک اتنا نہیں ہوتا۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ ایک سگنل بھی کم آتا ہو یا دو گاڑیاں بھی کم ملیں تو وہ اسی راستے کو اختیار کرتے ہیں۔
اگر ہم دونوں کو کہیں ساتھ جانا ہو تو وقت کی خاصی اہمیت ہوتی ہے۔ اور گفتگو کچھ اس طرح ہوگی۔ سوال، کتنے بجے نکلیں گے، جواب سوا نو بجے۔ سوال، یہ ساڑھے نو بجے نہیں ہو سکتا۔ اس وقت فلاں سگنل پہ رش ہوگا اس میں اتنے منٹ خرچ ہو جائیں گے۔ یا یہ کہ مجھے یہ ایک کام کرنا ہے اس میں اتنے منٹ اتنے سیکنڈز لگ جائیں گے۔ جواب، اچھا تو پھر نو بج کر سترہ منٹ کر لیں۔ سوال، مگر ساڑھے نو بجے میں کیا برائ ہے۔ جواب، نو بج کر سترہ منٹ بیس سیکنڈ، بس اسکے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ نکلتے ہم پونے دس بجے ہیں ، کیونکہ عین وقت پہ بیٹی صاحبہ کو یاد آتا ہے کہ واش روم جانا ہے۔
ہمارے درمیان جھڑپوں کا باعث منٹوں اور سیکنڈز کے پیچیدہ حساب کتاب کے علاوہ جارج بش کی فارن پالیسی پہ ہم دونوں کا اختلاف، انکی شرٹس جو کہ باریک سوراخ ہونے کے بعد زیادہ قیمتی ہوجاتی ہیں ان میں میرا انگلی ڈال کر مزید بڑا کرنے کی ناکام کوشش کرنا، اور اسی طرح کے مزید نکات ہیں۔
تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ شوہر صاحب کے جن کپڑوں سے آپ عاجز ہیں، انکے ڈسٹر بنا لیں یا خاموشی سے انکی چھٹی کر دیں۔ بہشتی زیور کی خواتین کی طرح اجازت لینے کے چکر میں مت پڑ جائیے گا ورنہ جواب ملے گا صرف شرٹس کے پیچھے کیوں پڑی رہتی ہیں اور بھی چیزیں ہیں جن سے زندگی میں تبدیلی آ سکتی ہے خاصی نمایاں۔ اور ہاں یہاں میں اپنی پیاری بہنوں سے گذارش کرونگی کہ خدا کے لئے شادی سے پہلے بہشتی زیور مت پڑھئیے گا۔
اگرمیں موڈ میں ہوں تو کوئ بھی قصہ سناءووں ، بڑی توجہ سے سنتے ہیں اور اسکے ختم ہونے کے بعد اپنے کمپیوٹر پہ سے ایک منٹ کے بعد نظر اٹھا کر انتہائ ذمہ داری سےفرمائیں گے ہاں توکیا کہہ رہی تھیں آپ؟  ہماری اماءووں کے زمانے میں اخبار اور ٹی وی شہروں کو مصروف رکتے تھے اور آج کے شوہر حضرات کمپیوٹرمیں گم رہتے ہیں۔   چونکہ میں ایک تابعدار بیوی نہیں ہوں۔ اگر جواباً میں اسی روئیے کا مظاہرہ کروں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ کس دنیا میں رہتیں ہیں آپ۔ اب میں اپنی بات بالکل نہیں دہرا رہا۔ اپنے اوپر میرے حملوں کے جوابات انتہائ حاضر دماغی سے دیتے ہیں اور اگر ذرا بھی شکست کاشبہ ہو تو زیر لب مسکراہٹ سے کام چلائیں گے مگرکچھ بول کر نہیں دیں گے۔
جیسا کہ کچھ دانشواران نے لکھا ہے کہ ایک اچھے شوہر کو شادی کی سالگرہ اور بیوی کی سالگرہ کا دن نہیں بھولنا چاہئیے تو اس طرح وہ ایک بے حد اچھے شوہر ثابت ہوتے ہیں۔
باقی یہ کہ پہننے والے کو پتہ ہوتا  ہے کہ جوتا کہاں سے کاٹ رہا ہے ۔
اب یہاں سے ان خواتین کی دل پشوری کا حصہ شروع ہوتا ہے جو یہ پرچار کرتی ہیں کہ اچھی عورتیں وہی ہوتی ہیں جو اپنے مرد سے چار قدم پیچھے چلتی ہوں۔ یہاں میرا قصور نہیں ہے۔ میں بھی انہی اچھی عورتوں میں شامل ہونا چاہتی ہوں مگر یہ ہیں کہ شامل نہیں ہونے دیتے، ہمیشہ اپنے ساتھ لے لیتے ہیں اور آگے ہو جاءووں تو بڑا خوش ہوتے ہیں۔ کچھ خواتین اس بات پہ آہ بھرتی ہیں کہ ہماری اماں تو اپنے شوہر کا نام نہیں لیتیں۔ لیکن تف ہے ان آجکل کی عورتوں پہ، معاشرے سے اخلاقیات اور ادب احترام کا دیوالیہ ہی نکال دیا۔ میری بیٹی کی آمد تک مجھے انکو کسی طرح تو بلانا ہی تھا کہ ہم زنان خانے مردان خانے میں نہیں بلکہ ایک ہی گھر میں، ایک ہی کمرے میں رہتے تھے اس لئے آسانی اختیار کرتے ہوئے میں نے انہیں انکے نام سے بلانا شروع کر دیا۔ بیٹی صاحبہ کی آمد تک نام لینے کی ایسی بری عادت پڑ گئ تھی کہ جیسی منہ لگی کافر کی لت لگ جائے۔ یوں ارے سنئے مشعل کے ابا کی جگہ انکا نام آگیا۔ سو  میں بھی ان خواتین میں شامل ہوں جو معاشرتی اقدار اور روایات اور ادب و احترام کے خاتمے کو شہہ دینے والے ہیں۔
اب میں اس پوسٹ کے ساتھ اپنے تمام شادی شدہ بلاگر ساتھیوں کو ٹیگ کرتی ہوں کہ وہ ایک پوسٹ اپنی یا اپنے شریک حیات کے نام کریں۔

بشکریہ محمد ریاض شاہد، انکی ایک پوسٹ میں اس طرف توجہ دلائ گئ۔
 

34 comments:

  1. آپکي ذاتی زندگی کے بارے ميں جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی اچھا کواپريشن چل رہا ہے يہی تو خصوصيت ميں نے ذکر کری تھی کلاس سسٹم ميں جيو اور جينے دو جسکی مثال آپ دونوں ہيں حقيقت يہی ہے کہ مرد چاہے تو اپنے رويہ سے گھر کو جنت بنا دے يا جہنم ، جبکہ ان کی يا ان کی اماں کے انتخاب کی داد نہ دينا بھی ذيادتی ہو گی عقلمند آدمی ہيں آپ کے وہ اور خوش قسمت بھی ، دوسری صورت ميں تو ابھی تک سونا فی تولہ کا ماہوار ريٹ خوب ياد ہوتا ان کو

    ReplyDelete
  2. یعنی وہ جو کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے انہیں یہ بھی کہنا چاہیئے کہ ہر کامیاب عورت کے پیچھے ایک سمجھدار مرد کا ہاتھ ہوتا ہے،زور کس پر ہو سمجھدار پر، :)

    ReplyDelete
  3. اور ہاں آپکو اور آپکے میاں جی کو شادی کی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو،ہر آنے والا دن ذہنی ہم آہنگی میں اضافہ فرمائےآمین
    اسماء جیو اور جینے دو والی بات آپکو پڑھے لکھے اپر مڈل کلاس میں عام ملے گی،خصوصا کراچی میں!

    ReplyDelete
  4. خوب میں سمجھا آپ بھول چکی ہوں گی یاپھر ایک جنتی بی بی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں این آر او عطا کر دیا ہوگامگر اب میں خواتین کی دانشمندی کا قائل ہوگیا ہوں کیونکہ پوسٹ کے ٹائم ٹیبل سے لگتا ہے کہ یہ اصل میں ایک ایف آئی آر ہے جس میں مدعا علیہ کے لئے ایک قیمتی تحفے کے عوض مقدمہ ختم کرنے کا واضح عندیہ موجود ہے ۔ اچھا ہے انہیں بھی معلوم پڑ جائے کہ زرد بلاگنگ کے پھیر میں آئے ہوئے انسان کو اپنی جیب اچھی طرح ہلکی کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ملتا ۔

    ReplyDelete
  5. شادی کی سالگرہ مبارک قبول فرمائے

    ReplyDelete
  6. آپ کو ازدواجی زندگی کا ایک اور سال مبارک ہو۔ دعا ہے کہ آپ کی زندگی اسی طرح خوشگوار یادوں کا مجموعہ بنی رہے۔ آمین

    ReplyDelete
  7. آپ کو شادی کی سالگرہ مبارک ہو۔ ویسے ہم نے اپنے آپ کو بیس سال پہلے چھ مئی کو پابند سلاسل کیا تھا۔یعنی کے بیس سالہ قید کی ہماری بھی سالگرہ ھے۔اور سالگرہ کا تحفہ گھرکے پیچھے ایک کھیت بنا کر دے رہا ہوں۔کی بورڈ پیچ کر تے ھو ئے انگلیوں کے پو رے دکھ رہے ھیں۔اطلاعا عرض ھے کہ ہمیں کسی قسم کا کوئی تحفہ ملنے کی امید نہیں۔سالگرہ کو یا د رکھو تو اچھے شوہر نہیں تو لاپرواہ۔حقوق مرداں کے لئے بھی کچھ کریں جی۔

    ReplyDelete
  8. آپکے میاں تو واقعی لاکھوں میں ایک ہیں کیونکہ ایسا آدمی جو گھر کے گیٹ پہ گاڑی کے لئے ہارن بجانے کے بجائے خود گیٹ کھولنے کو ترجیح دے تاکہ محلے والے ڈسٹرب نہ ہوں حقیقتآ لاکھوں میں ایک ہی دیکھنے کو ملتا ہے.

    ReplyDelete
  9. اسماء،آپ نے صحیح کہا۔ ہمارے معاشرے کے پدری نظام میں مرد کے اوپر اس چیز ی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے متوازن روئے سے کیسے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں۔ اور اسی طرح اگر وہ تبدیلی کے عمل میں حصہ دار بن جائیں تو تبدیلی کا عمل زیادہ آسان اور خوشگوار ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے یہاں مردوں کی اکثریت ایک ذمہ دار مرد کے معنی بالکل غلط لیتی ہے۔ اسی طرح جن عورتوں کے گھر کے مرد حضرات انکے معاون و مددگار ہوتے ہیں انہیں بھی زندگی کی سختیوں کو جھیلنے کے لئے انکے دم قدم ساتھ ہونا چاہئیے۔ اپنی زندگی کے مسائل کو سمجھنا چاہئیے۔ مسائل سے کسی کی ذات اور زندگی مبرا نہیں، کمال یہ ہے کہ انکے ساتھ ایک خوشگوار زندگی کیسے گذاری جائے۔
    عبداللہ، کامیابی کا تو نہیں پتہ لیکن ایک مطمئن اور خوشگوار زندگی کے لئے فرقین کا سمجھدار ہونا بہت ضروری ہے۔ قرآن میں زوجین کو ایکدوسرے کا لباس کہا گیا ہے اور یہ ایک بہت حکمت والی بات ہے۔
    ریاض شاہد صاحب، آپ نے صحیح سمجھا، اس وقت میں نے سوچا کہ تھوڑا سا تو وقت رہتا ہے کیوں نہ انتظار کر لیا جائے۔
    آجکل ویسے شہر سے باہر ہیں۔ اور جہاں ہیں وہاں انٹر نیٹ نہیں ہے۔ دیکھیں کب گذرتے ہیں اس تحریر پہ سے۔ ویسے میرا بلاگ کم ہی پڑھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ میرے اثر میں آنے سے بچنے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔
    ;)

    راشد کامران صاحب،بس خوشگوار یادیں ہی زندگی کی سب سے بڑی دولت ہیں۔
    یاسر صاحب، آپکے حالات جان کر آپ سے ہمدردی ہوئ۔ مردوں کی اکثریت اسی طرح کی ہمدردی کی مستحق ہوتی ہے۔ پھر سوچا کہ مردوں کے لئے کچھ لکھا جائے اور مندرجہ ذیل اقوال تلاش کئے۔ اب دیکھیں ان میں سے کوئ آپکو سمجھ میں اتا ہے یا نہیں۔
    ویسے آپکو بھی شادی کی سالگرہ مبارک ہو۔ سب کچھ کرنے کے بعد اپنی شریک حیات کے پاس جائیے اور وہ جادوئ تین الفاظ کہئیے جو ہر انڈین فلم میں ہوتے ہیں۔ اور پھر آپکو افسوس ہوگا کہ ناحق اپنی انگلیوں کو کھیت بنانے میں تھکایا۔
    :)

    Love is the thing that enables a woman to sing while she mops up the floor after her husband has walked across it in his barn boots.

    When a wife has a good husband it is easily seen in her face.

    Beauty, n: the power by which a woman charms a lover and terrifies a husband.

    My husband and I divorced over religious differences. He thought he was God, and I didn't.

    ReplyDelete
  10. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    شادی کی سالگرہ مبارک ہو۔ اللہ تعالی آپ کی زندگي کوہمیشہ خوش و خرم رکھے۔ آمین ثم آمین
    اورآپکی حالات زںدگی پڑھ کربہت کچھ سمجھنے کوملاکہ عورتیں آخرمردکسطرح کاچاہتی ہیں

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  11. خدا ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔
    تحریر بہت لاجواب ہے۔ لیکن یہ آپ نے تمام شادی شدہ بلاگرز کو ٹیگ کر کے پھنسا دیا ہے۔
    چلیے دیکھتے ہیں اگر ہو سکا تو لکھ ڈالیں گے

    ReplyDelete
  12. اور ہاں یہ جان کر تو بہت خوشی ہوئی کہ محترم لینکس کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرتے :) ۔

    ReplyDelete
  13. ابو شامل، یہ پوسٹ میں نے اپنی شادی کی سالگرہ کی مبارکباد کے لئے نہیں لکھی بلکہ اسی لئے لکھی ہے کہ کچھ توجہ ان لوگوں پہ بھی جو آپکے بالکل قریب ہوتے ہیں۔ تو اس میں 'ہو سکا' کی گنجائش نہیں ہے۔ لوگوں کے نام میں نے اس لئے نہیں ڈالے کہ پھر میں چند ایک کے نہیں بلکہ سبھی کے لکھتی۔ یوں بڑی لمبی فہرست ہو جاتی۔ تو آئیے اس بہانے ہر لکھنے والا اپنے پیچھے رہنے والوں کو سامنے لے آئے۔

    ReplyDelete
  14. جاوید اقبال صاحب، یہاں تو بڑے بڑے مفکرین یہ کہہ کر چلے گئے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ عورتیں کیا چاہتی ہیں۔ لیکن دیکھئیے ایک عورت نے کتنی آسانی سے آپکو سمجھا دیا کہ عورتیں کیا چاہتی ہیں۔
    :)

    ReplyDelete
  15. انتہائی مشقت سے اپنی ناقص انگریجی سے انگلیش میں حقوق مرداں پڑے۔سوچا اپ ایک پونچا بیگم صاحبہ کو بنا کرحکم دیتا ھوں کہ ساڈے پچھے پچھے صفائی کرتی آئیں۔لیکن ایک عدد ڈر ھے کہ جاپانی عورتاں مار دھاڑ کر کے اپنی بات منوا لیتی ھیں۔اورہم تھوڑے مرنجاں مرنج واقع ھوئے ھیں۔اس لئے ہم جیسا ھےایساھی ٹھیک کی بنیاد پر
    اپنے حقوق سے دست بردار ھونے کا اعلان کرتے ھیں۔

    ReplyDelete
  16. یاسر جاپانی بھائی آپنے تو مقابلہ کیئے بغیر ہی میدان چھوڑ دیا!
    ایک بار کوشش تو کرتے اور کچھ نہیں تو اگلی پوسٹ کے لیئے کچھ مواد ہی مل جاتا!
    ؛)

    ReplyDelete
  17. ہون، یہ بات تو مجھے بھی پسند نہیں کہ حریف کے لئے میدان خالی چھوڑ دیا جائے جبکہ میدان بھی صرف ایک ہی ہو۔ اس طرح تو وہ ایک دن آپکو بھی چر جائےگا۔ کم از کم وہ مرحلہ تو آنے دیں کہ ہم تعزیتی پلاءو کھاتے ہوئے یہ کہہ سکیں کہ مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا۔

    ReplyDelete
  18. شادی کی سالگرہ مبارک ہو۔ اللہ تعالی آپ کی زندگي کوہمیشہ خوش و خرم رکھے۔

    ReplyDelete
  19. عنیقہ جی آپ کی یہ پوسٹ اور شاہ رخ خان کی فلم چلتے چلتے بہت ملتی جلتی ھیں،،

    ReplyDelete
  20. آپ کو شادی کی سالگرہ مبارک ہو۔ میری شادی کی سالگرہ جولائی میں ہے، کوشش کرونگا کہ کچھ لکھ سکوں۔
    :)

    ReplyDelete
  21. اور ہاں مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ موصوف غالب کی شان میں کوئی ہتک پسند نہیں کرتے، دل خوش ہو گیا۔
    :)

    ReplyDelete
  22. انیقہ شادی کی سالگرہ مبارک ہو۔
    اللہ کرے خوشیوں میں اضافہ۔

    آپ نے یہ ٹیگ سلسلہ بہت خوب شروع کیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کس میں اتنی ہمت ہے؟؟
    سوچا تھا پہلی ہمت میں کر لوں لیکن پھر اس لیے رک گیا ابھی تو شادی ہوئی ہے سال بھر تو رک جاؤں، یہ میدان اپنے سینئر شادی شہدا کے لیے خالی چھوڑ دیا۔

    ReplyDelete
  23. میری طرف سے بھی شادی کی سالگرہ قبول فرمائین جی
    مجھے تو یہ تحریر بہت پسند آئی
    اور اس بات کی بھی بہت کوشی ہے کہ اس ٹیگ کے جال میں میں ابھی نہیں پھنسنے والا
    :D

    ReplyDelete
  24. ڈفر، یہ میں آپکو بتا دوں کہ آپ سے میں شدید ناراض ہوں۔
    اس لئے ایکدم دل نہیں کرتا کہ آپکے تبصروں کا جواب دوں۔ لیکن شادی کی سالگرہ کی مبارکباد کا شکریہ۔

    ReplyDelete
  25. نہیں پلیز نراض نہ ہوں
    اب میں اتنا باں باں بچہ بھی نہیں کہ مجھے وجہ نہ پتا ہو
    مائی مسٹیک، آئی اپالوجائز
    پلیز معاف کر دیں
    ویسے بھی کسی نے کہا ہے کہ معاف کر دینے والا بہت بڑا ہوتا ہے
    اب یہاں بھی ناراض مت ہو جائیے گا
    یہاں عمر میں بڑا ہونے کی بات نہیں ہو رہی
    ونس اگین آئم سوری جی

    ReplyDelete
  26. ٹھیک ہے میں بڑکپن کا مظاہرہ کرنے کا وعدہ کرتی ہوں۔ آپ اپنا یہ تبصرہ اپنے بلاگ پہ لگا دیں۔

    ReplyDelete
  27. اپنے بلاگ پہ کیوں؟

    ReplyDelete
  28. اس لئیے کہ یہ پوسٹ اب پرانی ہو گئ ہے۔ آپ اپنے بلاگ پہ ڈالیں گے تو سب لوگوں کو پتہ چلے گا ایک ذمہ دار شخص کو کیا کرنا چاہئیے۔ مجھے یقین ہے اس سے لوگوں میں آپکے لئے محبت بڑھے گی۔ یہ بٹر فلائ ایفیکٹ جانتے ہیں آپ؟ ضرور جانتے ہونگے۔

    ReplyDelete
  29. کیا لکھوں؟؟
    کہ عنیقہ جی میرے سے شدید نراض ہیں
    اس لیے میں ان کو منانے کے لیے ان سے معذرت خواہ ہوں؟
    اور نراضگی کی اگزیکٹ وجہ کیا لکھوں گا؟

    ReplyDelete
  30. وکیپیڈیا پہ پڑھ کے آیا ابھی بٹر فلائی افیکٹ کا
    کوئی سائنسی سائنسی سی بات ہے یقینا
    چار پانچ مطلب سمجھ آ رے مجھے تو اس سے
    صحیح مطلب کیا ہے؟

    ReplyDelete
  31. ارے جب ناراضگی کی ایگزیکٹ وجہ معلوم نہیں تو پھر یہ کیوں لکھا کہ میں باں باں کرتا بچہ نئیں۔

    ReplyDelete
  32. میں جو وجہ سمجھ رہا تھا آپ کے جوابوں کے بعد وہ وجہ تو نہیں نکلی
    اب کیا میں باں باں بچہ ہوں؟

    ReplyDelete
  33. یہ کیا سٹار پلس کے نئے سیریل کا پائلٹ سکرپٹ لکھا جارہا ہے؟؟

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ