Tuesday, May 11, 2010

علامت کا زوال یا زوال کی علامت

آگے پڑھنے سے پہلے نیچے دئیے ہوئے لنک پہ کلک کر لیجئیے۔ اس پوسٹ کے ساتھ یہ موسیقی کا ٹھنڈآ پانی ضروری ہے۔
سانگھڑ شہر کے اطراف میں لیکن اس سے کافی دور ریتیلے پہاڑی ٹیلوں کے درمیان واقع ایک پر سکون گاءووں میں، میں اس وقت ایک چھوٹی سی جھیل کے کنارے پندرہ بیس مقامی لوگوں کے ساتھ موجود تھی۔ سنہری ریت پہ آلتی پالتی مار کے بیٹھے جھیل کی طرف خراماں خراماں گم ہوتی لہروں کی دیکھتی اور پھر اس سولہ سترہ سالہ لڑکے کی ایلومینیئم کا تھآلی پہ تھاپ دیتے ہوئے ہاتھ۔ سارا مجمع ایک ٹرانس میں دوسرے اسی عمر کے لڑکے کو گاتا سن رہا تھا۔ اور وہ اتنے جذبے سے گا رہا تھا کہ اسکے آنسو نکل پڑے۔  جب وہ اس  مصرعے پہ پہنچا  کہ ارے ملا جنازہ پڑھ میں جا نوں میرا خدا جانے۔ تو شاید میں مسکرا دی تھی۔
محفل ختم ہونے پہ وہ میرے پاس آئے تو میں نے ان گمنام فنکاروں کی تعریف کی۔ انہوں نے جواباً اپنے ہاتھ مصافحے کے لئے میری طرف بڑھا دئیے۔ میں نے کچھ سوچا اور انکے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دے دیا۔ سندھ کے دیہاتوں میں رواجاً عورت مرد ہاتھ ملاتے ہیں۔ اور نہ ملانا تحقیر کی  مد میں آتا ہے۔
اس دن میں نے سوچا کہ شہر سے اتنی دور اتنے چھوٹے سے گاءووں میں جہاں کی کل آبادی تیس پینتیس لوگوں پہ مشتمل ہے یہاں بھی مولوی صاحب کے خلاف خیالات کو پذیرائ حاصل ہے۔ کیوں؟
مولوی یا ملا کو مذاق کا نشانہ بنانا یا انکی بات پہ طنز کرنا کوئ تیس چالیس سال پرانی بات نہیں بلکہ یہ ایک رد عمل ہے جسکے نتیجے میں تصوف کی تحریک نے جنم لیا۔ آج سے ہزار سال قبل جب عمر خیام کہتا ہے کہ
کہتے ہیں کہ بہشت اور حور عین ہوگا
وہاں شراب کا پیالہ اور دودھ اور شہد ہوگا
اگر میں نے شراب اور معشوقہ کا لطف اُٹھایا ہے تو کیا خوف ہے
جب آخر کار اسی طرح ہی ہونا ہے۔

تو وہ دراصل اس عمل کا مذاق اڑاتا ہے جو مذہب کو انسان کی روحانی ترقی کے بجائے ، ظاہری عبادت و رسوم ، قاعدے اور قانون میں بند کر کے اپنا اقتدار قائم رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اور جو اسے ایک اعلی انسان بنانے کے بجائے لالچ اور ہوس کے سراب کے پیچھے لئے جا رہا ہے۔  مولوی ازم یا ملا ازم خاص مسلمانوں کو پیش آنیوالا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر مذہب کے ماننے والوں کا اسکا سامنا کرنا پڑا۔
بھگت کبیر، چودہ سو چالیس میں پیدا ہوئے۔ انکی سادہ مگر پراثر شاعری نے لوگوں میں وہ تحرک پیدا کیا کہ ایک الگ مذہبی فرقہ وجود میں آگیا۔ وہ ایک جگہ کہتے ہیں کہ

نہ جانے میرا صاحب کیسا ہے
مسجد بھیتر ملا پکارے کیا تیرا صاحب بہرا ہے
چینوٹی کے پگ نیر باجے تو بھی سنتا ہے
پنڈت ہو کے آسن مارے لمبی مالا جپتا ہے
انتر تیرے کپٹ کترنی سو بھی صاحب لکھتا ہے

 ان جملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسجد کا ملا ہو یا لمبی مالا جپنے والا پنڈت، یہ ایک ہی چیز کا استعارہ ہیں۔
 نظیر اکبر آبادی ایک جگہ مولوی صاحب کی اس ساری محنت کو کس چیز سے تعبیر کرتے ہیں ذرا دیکھیں تو

جنت کے لئے شیخ جو کرتا ہے عبادت
کی غور جو ظاہر میں تو مزدور کی سوجھی
میر تقی میر کا کہنا ہے کہ
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا، رات کو تھا مے خانے میں
جبہ، خرقہ، کرتا، ٹوپی، مستی میں انعام کیا
یہ تو شیخ صاحب کا ایک پہلو ہے اسی کو غالب یوں بیان کرتے ہیں۔

کہاں مے خانے کا دروازہ ، غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
اور پھر واعظ کے انہیں برا بھلا کہنے پہ ذرا برا نہیں مانتے بلکہ یوں فرما دیتے ہیں کہ

غالب، برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئ ہے کہ، سب اچھا کہیں جسے؟

اور اس شعر میں اکبر الہ آبادی کس سے مخاطب ہیں

کعبے سے جو بت نکلے بھی تو کیا، کعبہ ہی گیا جب دل سے نکل
افسوس کہ بت ہم سے چھٹے، قبضے سے خدا کا گھر بھی گیا

حکیم الامّت علامہ اقبال، اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ کرتا کوئ اس بندہ ء گستاخ کا منہ بند۔ ملا کے دین کی تعریف یوں کی۔ دین ملا فساد فی سبیل اللہ۔ انہوں نے ملاءووں اور مولویوں کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ نیچے میں صرف بال جبریل کے شروع کے تیس صفحوں کا انتخاب دے رہی ہوں۔

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی؟

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گل گوں
مسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پاژند
کہتا ہوںّ وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
کلیم بو ذر و دلق اویس و چادر زہرا

اے مسلماں، اپنے دل سے پوچھ، ملا سے نہ پوچھ
ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

 حکیم الامّت سے نکلیں تو نجانے اور کتنے لوگ ہونگے جو اس علامت کی تعمیریں گرانے کی کوشش کرتے رہے۔ اور اسی لئے شاید حمایت علی شاعر سوال کرتے ہیں

  تمام گنبد و مینار و منبر و محراب
فقیہہ شہر کی املاک کے سوا کیا ہے
صادقین پاکستان کے ایک نامور خطاط، ایک شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ایک نقشہ کھینچا ہے کہ
مسند پہ کتاب دین رکھی تھی، اک پیر
اخلاق پہ کر رہا تھا کب سے تقریر
پھر میں نے بھی مسند کو وہیں سے کاٹا
مسند کے نیچے تھی جہاں ننگی تصویر

 اب ان تمام مختلف  شخصیات پہ سے گذرنے کے بعد،  جو اس وقت میرے ذہن میں آئیں، احساس ہوتا ہے کہ ملا، مولوی، واعظ یا شیخ یہ سب الفاظ علامت ہیں، مذہبی منافقت، جبر، اور ظاہر پرستی کی۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اب سے نہیں، مسلمانوں میں تو کم از کم  پچھلے ہزار سال سے مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہوگا کیا، تو اقبال کہتے ہیں کہ

مرید سادہ تو رو رو کے ہو گیا تائب
خدا کرے کہ ملے شیخ کو بھی یہ توفیق


15 comments:

  1. Slightly releted;

    Blasphemy laws: the root of Pakistani extremism

    The failed Times Square bombing raises important questions.

    As a U.S. Muslim of Pakistani descent, I have wondered why so many plots against America continue to be hatched in Pakistan. At least nine people with some connection to Pakistan have been charged with terror plots against the United States in the past two years. What is it that accounts for this disturbing trend?

    One can't simply blame Islam. Were that true, Indonesia, the most populous Muslim country, would be the epicenter of terrorist plots against America. But it's not. One can't simply blame fiery rhetoric. Were that true, Iran, the most vocally anti-American of Islamic nations, would be breeding terrorists. But it's not. One can't simply blame illiteracy. Were that true, Ethiopia, ranked 170th in literacy, would be at the forefront of terrorist activities. But it's not. One can't simply blame poverty, either. Were that true, Bangladesh, the poorest of Islamic nations, would be leading the charge against America. But it's not.

    So, what makes Pakistan so uniquely conducive to extremism?

    The answer, I believe, is rather simple. Pakistan proudly prosecutes its own people for a crime that exists in few countries: blasphemy. Section 295-C of Pakistan's penal code, the so-called blasphemy law, states, "Whoever by words, either spoken or written or by visible representation, or by any imputation, innuendo, or insinuation, directly or indirectly, defiles the sacred name of the Holy Prophet Mohammed (PBUH) shall be punished with death, or imprisonment for life, and shall also be liable to fine."

    Link: baltimoresun.com/news/opinion/bs-ed-bomber-pakistan-20100510,0,6374355.story

    ReplyDelete
  2. Blasphemy laws are to Pakistan's extremists what Miracle Gro is to one's home garden.

    The alleged Time Square suspect, Faisal Shahzad, was a 5-year-old Pakistani citizen when these draconian laws were enacted. His generation knows only one way to deal with a difference of opinion in matters of religion: Shoot the opponent.

    ReplyDelete
  3. اے مسلماں، اپنے دل سے پوچھ، ملا سے نہ پوچھ
    ہو گیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم

    ایاک نعبد و ایاک نستعین

    ReplyDelete
  4. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  5. کیا ہی عجیب بات ہے کہ ملا کے پیروکار بھی کم و بیش اسی طرح کی شاعری بزبان انہیں شعراء وغیرہ کے ساتھ اتنی ہی طوالت یا اس سے بھی طویل تحاریر کے ساتھ اس کے بالکل برعکس نتائج برآمد کردکھائیں گے وہ بھی اس دلیل کے ساتھ کے آج ہمارے صاحب ایمان ہونے کا سہرا بھی ہدایت منجانب اللہ بجائے "سعی ملا" کے سر جاتا ہے۔

    ایسے میں بچا کیا صرف مناظرہ اور مباہلہ۔ :)

    ReplyDelete
  6. انتھروپالوجسٹMay 11, 2010 at 10:00 PM

    آپ سے نہیں کہت کے آّ پ بھی پہلے فلاسفی پڑہت ۔
    انتھروپالوجی پڑہت، انتھروپالوجی پڑہت ۔
    دیوتا کرپٹت، کریئٹرز اچھت، پر کریون منافقت ۔
    قوم وی ودھت، وقت بھی گزرے اچھت ۔
    مال آوت، محل بناوت، غلام بھی پالت ۔
    منافقت غائبت، دیوتا اچھت، زوال بھی آوت ۔
    انتھروپالوجی پڑہت، انتھروپالوجی پڑہت ۔
    آپ سے نہیں کہت کے آّ پ بھی پہلے فلاسفی پڑہت ۔

    ReplyDelete
  7. راشد کامران صاحب، مجھے تو کوئ مناظرہ مقصود نہیں۔ صرف یہ کہنا ہے کہ زوال کی ہر علامت کو جو پچھلے دس ، بیس ، تیس سالوں سے جوڑ دیا جاتا ہے وہ کتنا غلط ہے۔ جہاں ملا کے چاپنے والے ہر زمانے میں رہے ہیں وہیں انکا مذاق اڑانے والے بھی متوازی طور پہ چلتے رہے ہیں بلکہ زیادہ پرانی بات نہیں ایک ہی گھر میں دو متوازی سوچیں چلا کرتی تھیں۔ لیکن اب ہر بات پہ قطعیت کے ساتھ یہ صاد کیا جاتا ہے کہ جدیدیت اور روشن خیالوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔
    انتھرو پولوجسٹ۔ مجھے آپکی زبان پسند آئ۔ اسکی گرامر تھوڑی سی سکھا دیں گے۔

    ReplyDelete
  8. تصحیح کر لیں، جہاں ملا کے چاہنے والے۔

    ReplyDelete
  9. انتھروپالوجسٹMay 12, 2010 at 12:02 AM

    حساسیت کی میچنگ اگنور کرنے کا شکریہ ۔

    ReplyDelete
  10. پاکستانیوں کا مسئلہ دوغلا پن ہے، جذباتیت اور انتہا پسندی ہے۔ اور کوئی مسئلہ نہیں ان کا۔ دین اعتدال کا نام ہے، لیکن یہی ایک چیز بس نہیں ہم میں۔

    ReplyDelete
  11. عارفانہ کلام مجھے سمجھ نہيں آتا عاميانہ البتہ سب سمجھ آتا ہے

    ReplyDelete
  12. انتھروپولوجسٹ، حساسیت کی میچنگ۔
    :)
    یہ پوسٹ میری ان پوسٹوں میں سے ہے جن کے تبصروں سے مجھے بھی کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
    اسماء،آپکا یہ تبصرہ تو جواب میں پوری ایک پوسٹ چاہتا ہے۔ مگر انتظار کرنا پڑیگا۔
    :)

    ReplyDelete
  13. جب ھندوستان پر انگریزون کا اقدار ھوا تب سے ملا کی ضرورت بلکل ختم ھوگئی-- مسلمانون کا جو کچھ بھی مبداء ھو وہ قران ہے-- بی بی اپ تو پی ایچ ڈی ھو-- اپکے لئے کیا اتنا مشکل ہے قران کی تفسیر؟ قران بدو کے لہئے بھی ہے، اور دانشور کے لے بھی-- اجکل تو قران ان لائن ہین-- احادیث کی بخاری اور مسلم شریف بھی-- ھفتہ مین ایک بار ایک ایت ہی کو کوٹ کرین کہ اپ کے دل پر فلان ایت اثر کرگئے-- انشاء اللہ اپ سارا قران بانی کرلوگی-- بھر ملا کی اصلیت اپ پر اشکار ھو جائے گی--

    ReplyDelete
  14. جب ھندوستان پر انگریزون کا اقدار ھوا تب سے ملا کی ضرورت بلکل ختم ھوگئی-- مسلمانون کا جو کچھ بھی مبداء ھو وہ قران ہے-- بی بی اپ تو پی ایچ ڈی ھو-- اپکے لئے کیا اتنا مشکل ہے قران کی تفسیر؟ قران بدو کے لہئے بھی ہے، اور دانشور کے لے بھی-- اجکل تو قران ان لائن ہین-- احادیث کی بخاری اور مسلم شریف بھی-- ھفتہ مین ایک بار ایک ایت ہی کو کوٹ کرین کہ اپ کے دل پر فلان ایت اثر کرگئے-- انشاء اللہ اپ سارا قران بانی کرلوگی-- بھر ملا کی اصلیت اپ پر اشکار ھو جائے گی--

    ReplyDelete
  15. عنیقہ بہت شکریہ اتنی کوبصورے سایٹ دی ، وہ بھی عارفانہ کلام کی ۔ خوش رہو

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ