Wednesday, May 19, 2010

تربوز اور محبوب

نظیر اکبر آبادی، اردو شاعری میں عوامی شاعر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ اتنے عوامی ہیں کہ انکی کلیات مرتب کرنے والے مولانا صاحب کو اس میں کئ اشعار میں خالی جگہ یا ڈیش ڈیش لکھنا پڑا۔ خیر یہ زمانہء قدیم کے مولانا صاحب تھے کیونکہ اسکا پہلا ایڈیشن انیس سو اکیاون کا ہے۔ اس بیان کے بعد امید ہے کہ انکی کلیات کو 'کچھ نوجوانوں'  میں  خاصی پذیرائ ملے گی۔
لیکن نظیر اکبر آبادی کی شاعری کی اہمیت جو مجھے نظر آتی ہے وہ الفاظ کا بے پناہ استعمال ہے۔ایسی ایسی ردیفیں اور قافئیے استعمال کئے گئے ہیں کہ ان کی زبان دانی پہ رشک آتا ہے۔ اس طرح بیت بازی سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس میں اپنے حریف کو چت کرنے کے لئے کافی اشعار مل جائیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔ ساتھ ہی ساتھ موضوعات کا تنوع بھی بھرپور ہے۔ عام زندگی کے بے پناہ موضوعات کا احاطہ انہوں نے کیا ہے۔
انکی اس کلیات سے منتخب اشعار پھر کبھی سہی۔ آج موسم کی مناسبت سے انکی ایک  نظم ملی۔ اسکا نام ہے تربوز۔ تربوز کا یہ احسان ہی کم نہیں ہے کہ جب تک گرمیوں کی سوغات آم نہیں آجاتے یہ اپنے گلابی رس سے ہمارا دل ٹھنڈا کرتے  ہیں۔
آئیے پڑھتے ہیں، نظم 'تربوز' کے چند بند۔

 کیوں نہ ہو سبز زمرد کے برابر تربوز
کرتا ہے خشک کلیجے کے تئیںتر تربوز
دل کی گرمی کو نکالے ہے یہ اکثر تربوز
جس طرف دیکھئیے بہتر سے ہے بہتر تربوز
اب تو بازار میں بکتے ہیں سراسر تربوز

مجھ سے کل یار نے منگوایا جو دے کر پیسہ
اس میں ٹاکی جو لگائ تو کچّا نکلا
دیکھ تیوری کو چڑھا ہو کے غضب طیش میں آ
کچھ نہ بن آیا تو پھر گھور کے یہ کہنا لگا
کیوں بے لایا ہے اٹھا کر یہ مرا سر تربوز

جب کہا میں نے میاں یہ تو نہیں ہے کچا
اور کچّا ہے تو میں پیٹ میں بیٹھا تو نہ تھا
اسکے سنتے ہی غضب ہو کے وہ لال انگارا
لاٹھی پاٹی جو نہ پائ تو پھر آخر جھنجھلا
کھینچ مارا مرے سینے  پہ اٹھا کر تربوز

پیار سے جب ہے وہ تربوز کبھی منگواتا
چھلکا اسکا مجھے ٹوپی کی طرح دے ہے پہنا
اور یہ کہتا ہے کہ پھینکا تو چکھاءوں گا مزہ
کیا کہوں یارو میں اس شوخ کے ڈر کا مارا
دو دو دن رکھے ہوئے پھرتا ہوں سر پہ تربوز

حوالہ جات؛
کلیات نظیر، مولانا عبدالباری صاحب آسی نے مرتب و مدون کیا، پبلشر، مکتبہ ء شعر و ادب لاہور۔

9 comments:

  1. بظیر اکبرابادی عوامی شاعر تھے-- کسی تذکر نگاروں نے انکا زکر نہی کیا- میلون، تہوارون کا خوب ذکر کیا ھے

    ReplyDelete
  2. جی ہاں زین صاحب ، نظیر اکبر آبادی کو تنقید نگار اہمیت نہیں دیتے تھے کہ عوامی شاعری کرتے ہیں۔ لیکن قدرت کے بارے میں انہوں نے اتنا کچھ لکھا کہ اب انہیں اردو شاعری کا ویلیئم ورڈز ورتھ کہا جانے لگا۔

    ReplyDelete
  3. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 20, 2010 at 12:24 AM

    بڑوں کو کہتے سنا ہے کہ کسی کی مانو اس وقت جب تلک خود سے پرکھ نہ لو ۔ شاعروں اور ادیبوں کے مزاج تو یوں بھی ایکنامکس اور کئی دوسرے فیکٹرز کے تحت تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ کسی حد تک آپ کی باتوں کے درست ہونے کے امکانات تو ہیں مگر چونکہ آپنے پوری نظم بھی پوسٹ نہیں کی اسلئے محترم شاعر کی انسٹنٹینیس آبجیکٹیویٹی کا اندازہ لگانا بھی مشکل کام ہے ۔

    ReplyDelete
  4. پوسٹ برائے تربوز کا بہت شکریہ ، کیا خوب انداز ہے کہ

    کیا کہوں یارو میں اس شوخ کے ڈر کا مارا
    دو دو دن رکھے ہوئے پھرتا ہوں سر پہ تربوز

    واہ واہ

    ReplyDelete
  5. ہیلو ہائے، یہ آپ سبجیکٹیوٹی سے نکلتے ہیں تو اوبجیکٹیویٹی میں چلے جاتے ہیں۔ اے فلسفی، عوامی آدمی فلسفی نہیں ہوتا۔ یہ اعزاز صرف اقبال کے حصے میں آیا تھا۔
    پوری نظم اتنی لمبی ہے کہ آپ اسے پڑھنے کے بجائے تربوز پہننا پسند کرتے ۔

    ReplyDelete
  6. عدنان مسعود، نظیر اکبر آبادی کی طرف سے میں شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اس سلسلے میں انکی فنی خرابی تو آپکے علم میں ہوگی

    ReplyDelete
  7. ہلو ہائے، تصحیح کر لیں، عوامی شاعر فلسفی نہیں ہوتا۔

    ReplyDelete
  8. اتنی گرماگرمی کے بعد آپکو تربوز کی خوب سوجھی!
    :)
    نظیر اکبر آبادی کی پہلی نظم جو اپنے بچپن میں پڑھی وہ آدمی نامہ تھی بس جب سے اج تک ان کے سحر میں ڈوبے ہوئے ہیں رہی گالیوں کی بات تو شائد حد سے زیادہ حساس آدمی تھوڑا کوڑا ہوجاتا ہے!

    ReplyDelete
  9. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 21, 2010 at 11:51 AM

    ہماری اوقات کہاں کہ فلاسفر کہلوانے کے لائق ہوتے ۔
    آبجیکیٹیو کہتے کہتے آپ بھی بلا دماغ کہہ ہی گئے ۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ