Wednesday, May 26, 2010

انکار یا فرار

گوگل سرچ انجن نے انیس سو چھیانوے میں کام کرنا شروع کیا۔ اس تحریر کو پڑھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات سے واقف ہوگی کہ اس سے پہلے معمولی سی بات کو جاننے کے لئے لائبریریوں کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ اور اگر وہاں متعلقہ مواد موجود نہ ہو تو کسی بھی سنی سنائ بات سے آگے بات بڑھ نہ پاتی تھی۔ اس نئ ٹیکنیک نے دنیا میں معلومات کی ترسیل کا انداز ہی بدل دیا۔ اور آج دنیا کے کسی حصے میں کیا ہو رہا ہے اسکا علم صرف چند سیکنڈز میں ہمارے پاس ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح سے یہ علم عام انسان کی فلاح کے لئےکام آرہا ہے وہاں شر پسند بھی اسکے مناسب استعمال کے طریقے ڈھونڈھتے رہتے ہیں یوں طبل جنگ اب  میدان جنگ میں نہیں بلکہ ایک ایسے مجازی میدان جنگ میں بھی ہو سکتا ہے جہاں ہمارا حریف دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اسکی سواری کے ماہر نہیں تو یہ ممکن ہے کہ ہم آگے بڑھنے سے پیشتر خود ہی ناکام ہو جائیں۔ اور نتیجے میں میدان بلا مقابلہ ہمارے حریف کے ہاتھ رہے۔
لیکن نہیں ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہم اس ٹیکنیک کو استعمال کرنے سے انکار کر دیں اور نتیجے میں رضاکارانہ طور پہ یہ میدان اپنے حریف کے حوالے کر کے خود بغلیں بجائیں۔
ٹیکنالوجی کی  اس ترقی سے ملکوں کے سیاسی معاملات میں دوسری طاقتوں کے نفوذ و اثر کا امکان زیادہ بڑھ گیا۔ اور ایسا بھی ہوا کہ مختلف ممالک میں انکی دسترس پہ پابندی لگائ گئ۔ جیسے فیس بک پہ پابندی۔ اب تک پانچ ممالک اس پہ پابندی لگا چکے ہیں۔ ان میں چین، ایران، شام، ویتنام اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان کے علاوہ باقی تمام ممالک نے مختلف اوقات میں اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی عناصر کے اثر کو کم کرنے کے لئے یہ انتہائ قدم اٹھایا۔
  چین وہ واحد ملک ہے جہاں  سن دو ہزارنو میں لگائ جانیوالی فیس بک پہ پابندی آج بھی موجود ہے۔ چین کی آبادی اس وقت سوا ارب کے قریب ہے۔ اس پابندی سے چین میں ایک عام انٹر نیٹ صارف کے متائثر نہ ہونے کی وجوہات میں جو چیزیں اہم ہیں وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی خود انحصاری ہے۔ وہ انٹر نیٹ کے سلسلے میں اپنا انفرا اسٹرکچر رکھتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ چین میں چینی زبان کی ترویج ہے یوں بیرونی ذرائع جو کہ زیادہ تر انگریزی میں ہوتے ہیں وہاں زیادہ پذیرائ حاصل نہیں کر پائے۔ اس سب کے باوجود آزاد ذرائع کہتے ہیں کہ پروکسی سرور کے ذریعے فیس بک تک رسائ حاصل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد چین میں اب بھی فیس بک سے مستفید ہو رہی ہے۔ اور یوں فیس بک کو اس سلسلے میں کوئ بہت زیادہ نقصان نہیں ہے۔

دنیا بھر میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت انٹر نیٹ استعمال کر ہی ہے۔ اگر ہم اپنے ملک میں ہی دیکھیں تو اس وقت اسے استعمال کرنے والوں میں نوجوان ہی زیادہ شامل ہیں۔ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے مختلف حصوں کو نوجوانوں نے ہی ترتیب دیا۔ یوں ثابت ہو گیا کہ ہر عہد اپنے نوجوانوں کا ہوتا ہے۔

مارک ایلیئٹ زکربرگ، نیویارک میں انیس سو چھیاسی میں پیدا ہوا۔ نسلاً یہودی اور مذہباً دہریہ ہے۔ فیس بک کے بانیوں میں سے ایک ہے۔ شاید اسی وجہ سے مسلمان فیس بک کو یہودیوں کی سازش قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے مایہ ناز کرکٹر عمران خان نے ایک یہودی النسل خاتون کو  مسلمان کر کے شادی کی۔ اس طرح یہودیوں سے بننے والے تعلقات کے نتیجے میں انکے کینسر کے لئے قائم ہسپتال کو کافی ڈونیشنز ان ذرائع سے ملیں۔ لیکن اسے یہودیوں کی سازش نہیں سمجھا جاتا۔ اس وقت مارک کی ذاتی جائداد کی مالیت چار ارب امریکی ڈالر ہے۔ اسکے دیگر ساتھیوں میں شامل ہیں، ایڈوآرڈو سیورن ، ڈسٹن ماسکووٹس، کرس ہیوز، یہ سب لوگ اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے نوجوان ہیں۔

انیس سو اٹھتر میں پیدا ہونے والا اسٹیون شی چن، آٹھ سال کی عمر میں تائیوان سے ہجرت کر کے امریکہ پہنچا۔ پےپل میں دوران ملازمت  اسکی ملاقات چیڈ ہرلے اور جاوید کریم سے ہوئ اور یوں سن  ۲۰۰۵ میں یو ٹیوب وجود میں آئ۔
چیڈ ہرلے، امریکہ میں انیس سو چھتّر میں پیدا ہوا۔ جاوید کریم، انیس انّاسی میں جرمنی میں پیدا ہوا۔ اسکے والد کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا جو جرمنی میں ایک تحقیقداں کے طور پہ کام کر رہا تھے۔ جبکہ اسکی ماں ایک جرمن سائینسداں تھی۔
جب یوٹیوب کو گوگل کے حوالے کیا گیا تو اسٹیون کو تین سو پچاس ملین امریکی ڈالر مالیت کے شیئرز ملے۔ چیڈ ہرلے کو تین سو چھبیس ملین امریکی ڈالر اور جاوید کریم کے حصے میں چونسٹھ ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے شیئرز آئے۔

گوگل ویب بیسڈ سرچ انجن کی بنیاد دو پی ایچ ڈی کرنے والے اسٹوڈنٹس نے انیس سو چھیانوے میں رکھی۔ یہ انکا پی ایچ ڈی کا پروجیکٹ تھا۔ جسکا مقصد ایک یونیورسل ڈیجیٹل لائبریری کا قیام تھا۔ یہ دو طالب علم تھے لارنس اور سرجے۔ لارنس لیری پیج انیس سو تہتر میں امریکہ میں پیدا ہوا۔ اسکا ساتھی سرجے برن بھی انیس سو تہتر میں،  روس میں پیدا ہوا اور چھ سال کی عمر میں امریکہ ہجرت کر گیا۔ فوربس کے مطابق وہ دونوں اس وقت دنیا کے چوبیسویں امیرترین اشخاص ہیں۔ اور انکی ذاتی دولت کا شمار ساڑھے سترہ ارب امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ یہ دولت انکے پاس اپنے پروجیکٹ میں کامیاب ہونے کی صورت میں آئ جسکا نتیجہ آج ہم گوگل کی صورت دیکھتے ہیں۔
ان نوجوانوں نے نہ صرف  اپنی صلاحیتوں کو بہترین طور پہ استعمال کیا، دولت کمائ بلکہ آج کی دنیا میں انسانی ترقی اور تاریخ کا رخ اور رفتار موڑ دی۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہیں یہ قوت حاصل ہے کہ وہ آجکی دنیا پہ اثر انداز ہو سکیں۔
اب ہم اپنے یہاں ستر اور اسّی کی دھائ میں پیدا ہونے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں ۔ کیا واقعی انہیں ان نوجوانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ جنکا تذکرہ میں نے اس طویل تحریر میں کیا ہے۔ یہ جو موجودہ رویہ ہمیں اپنے نوجوانوں کا نظر آتا ہے۔ یہ کسی احساس محرومی کی وجہ سے ہے، احساس ذمہ داری سے بھاگنے کی وجہ سے ہے یا مقابلے کی فضا میں فرار حاصل کرنے کی وجہ سے ہے۔

35 comments:

  1. میں پیدا تو مذکورہ عشرے میں ہی ہوا تھا
    لیکن کسی نے مجھے پی ایچ ڈی کرا کے ان چیلنجوں کے لیے تیار نہیں کیا
    نہیں تو میں ضرور آج کسی پوگل شوگل نامی ڈیٹنگ سائیٹ کا اونر ہوتا
    اور میرا شمار بھی دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں کہیں ہوتا
    سنجیدہ تبصرہ کروں تو فیر وہی سیاست کا رونا رونا پڑے گا
    اور میرا تان تو عطاالرحمان پہ آ کے ٹوٹے گی
    اس لیے اب کیا بار بار ایک ہی بات کہنی
    ہماری قوم کا المیہ عوام یا سیاستدان نہیں
    ہماری اجتماعی ذہنی نا پختگی ہے
    جہاں دور رس سوچ بھی اگلی نسل کے جوان ہونے پر اس کے لیے ایک مکان کا ابھی سے انتظام ہے
    بس
    ہن مینوں رون ای دیو

    ReplyDelete
  2. ابھی تک نراضگی ختم نی ہوئی؟

    ReplyDelete
  3. عنیقہ صاحبہ انسان دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک جو اپنی ہر ناکامی کا سہرا کسی نا کسی کے سر باندھتے ہیں وہ چاہے قسمت ہو کسی دوسرے مذہب کا ماننے والا ہو یا کوءی رقیب یا قانونی گرفت وغیرہ وغیرہ۔ دوسرے وہ جو ہر ناکامی کو کامیابی کی سیڑھی سمجھتے ہوئے بس آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں بلکہ ناکامی سے سیکھتے ہیں۔ اس وقت بحیثیت قوم ہم اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرکے انہیں درست کرنے کے بجائے انتہاءی درجے کی نرگسیت میں مبتلا ادھر ادھر الزام تراشیوں میں مشغول ہیں اور اس کا نتیجہ مزید پستیوں کے علاہ کچھ نہیں ملے گا۔ ملک سے ٹیلنٹ کا انخلا ہوتا رہے گا اور ہم اسی چکر میں پڑے رہیں گے کہ گوگل کا بانی یہودی ہے یا عیسائی۔ اور یوٹیوب کی ایسی کی تیسی۔

    ReplyDelete
  4. ڈفر صاحب، آپ دئے گئے لنک میں سے کسی پہ نہیں گئے۔ ورنہ آپکو اندازہ ہوتا کہ گوگل کے ان دو حضرات کے علاوہ باقی سب لوگ گریجوایشن کر رہے تھے۔ جب انہوں نے یہ کیا۔ حقیقتاً فیس بک اور یوٹیب تو بس اپنے دل کی بات دوسروں تک پہنچانے کے خیال سے شروع کی گئیں۔ وہ دوسرے بھی کو، اپنے دوست یا کلاس فیلوز۔ لیکن اس پہ کام کرتے ہی انہیں اندازہ ہوا کہ یہ تو بہت کام کی چیز بن سکتی ہے۔
    اس طرح ان چیزوں کے لئے پی ایچ ڈی کی نہیں بلکہ دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ پہلی چیز ایک ایسا دماغ جو ہر چیز تہس نہس کرنے کے علاوہ بھی کچھ سوچے اور دوسری بڑی چیز سرمایہ ہے۔
    پہلی چیز کے لئے یہ سبکی ذمہ داری ہے کہ وہ محض مرنے کے بعد کیا ہوگا ہی نہ دیکھیں بلکہ اس زندگی میں کیا ہو رہا ہے اس پہ بھی سوچیں۔
    سرمائے کے لئے میں نے سرچ کی کہ آخر ان لوگوں نے سرمایہ کہاں سے حاصل کیا۔
    اسکی صورت یہ بنتی ہے کہ اگر کسی پروجیکٹ میں جان ہو تو سرمایہ وینچر کیپیٹیلسٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے بعد میں یہ پروجیکٹ اپنے تئیں سرمایہ حاصل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
    اگر کوئ معاشیات کی زبان سمجھ سکتا ہے تو وہ اس موضوع پہ بہتر لکھ سکتا ہے۔
    راشد کامران صاحب، اس وقت پورے شہر کا عالم یہ ہے کہ ہر جگہ بڑے بڑے بینر لگے ہیں کہ انٹر نیٹ بند کیا جائے۔ ہمارے شعیب صفدر صاحب کے خیال میں یہ عدالتی فیصلہ ہے اور اسکے خلاف بولنا توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا۔ لیکن سب ہی یہ بات شاید بھول گئے ہیں کہ عدالتی فیسلے میں متعلقہ لنک کو بند کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ نہ کہ پوری سائیٹ یا تمام انٹر نیٹ۔
    اب جو انہوں نے پورے شہر میں یہ بینر لگائے ہیں تو یہ سب آجکے نوجوان ہی ہونگے جنہوں نے یہ رضاکارانہ خدمت انجام دی ہوگی۔ مجھے یقین ہے ان میں سے ننانوے فی صد کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ اسے ہم صحیح طریقے سے کیسے استعمال کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو سارا دن ہاتھ میں موبائل فون پہ ایس ایم ایس کرتے رہتے ہیں۔
    اب ان نوجوانوں سے کہوں کہ یہ ہیں تمہاری عمر کے لڑکے جو مغرب میں یہ کر رہے ہیں تمہیں معلوم ہے یہ ہیں وہ لوگ جو دنیا ]پہ چھا جائیں گے۔ یہآپ نہیں ہیں۔ آپکی زندگی ان نعروں کے پیچھے بھاگتے گذرے گی جنکے مطلب بھی آپکو نہیں پتہ۔

    ReplyDelete
  5. دفر صاحب، یہ وینچر کیپیٹیلسٹ ہے۔ اور ہاں میری ناراضگی اپنی جگہ موجود ہے۔

    ReplyDelete
  6. دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے مایہ ناز کرکٹر عمران خان نے ایک یہودی النسل خاتون کو مسلمان کر کے شادی کی۔ اس طرح یہودیوں سے بننے والے تعلقات کے نتیجے میں انکے کینسر کے لئے قائم ہسپتال کو کافی ڈونیشنز ان ذرائع سے ملیں۔ لیکن اسے یہودیوں کی سازش نہیں سمجھا جاتا۔

    میں اس سے بھی زیادہ دلچسپ امر بتاوں؟ ٹکا ٹکا چندہ ﴿بھتہ﴾ جعمہ کر کے باہر بھیجا جاتا ہے اور اس کو سازش نہٰں بلکہ حق سمجھا جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  7. تو فیر نراضگی کی وجہ کیا ہے؟

    ReplyDelete
  8. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 27, 2010 at 11:36 AM

    آپکی تھیم (ناولٹی یا ایسا ویسا کچھ اور بھی) " تخیل کے پر ہوتے ہیں اور کوئی اسکی اڑان کو نہیں روک سکتا " بلا شبہ اس آرٹیکل کے ساتھ میچ تو کرتی ہے مگر اسی کے ساتھ فورسڈ گائیڈنس والی ریکوائرمنٹ کے مینڈیٹری ہونے کو آپ خود ہی آبجیکٹیولی ایکسپلین کریں تو بہتر ہوگا ۔

    ReplyDelete
  9. مجھے خوشی ہوتی جب میں اس قسم کی تحاریر پڑھتا ہوں کیونکہ یہ مجھے امید دلاتی ہیں اس طرح کے خیالات اور سوچ ضرور انشاءاللہ ہماری آنے والی نسل کو منتقل ہوں گے اور اس خطے جسے پاکستان کہتے ہیں میں بسنے والا ہجوم ایک قوم بن کر انکار کا انقلاب لائے گ جو ملّا ملٹری اتحاد سے حقیقی آزادی کا فرمان ہوگا۔

    ReplyDelete
  10. This comment has been removed by a blog administrator.

    ReplyDelete
  11. ہیلو ہائے، سوال تو میں نے آپ پہ چھوڑا اور آپ مجھے دوبارہ اس میں ڈالنا چاہ رہے ہیں۔ کیوں بھئ کیوں؟
    میں نے تو اس عرصے میں پیدا ہونے والی نسل پہ ایک الزام لگایا ہے۔ انہیں چاہئیے کہ وہ اسے غلط ثابت کر دکھائیں۔ کم ازکم ڈفر صاحب نے اپنی صفائ تو پیش کی۔ باقی سب بھی بتائیں۔
    اگر یہ سب باتیں غلط ہیں تو کیوں ہیں؟

    ReplyDelete
  12. ڈفر اینڈ بدتمیز بھائیو۔۔۔۔کچھ بھی سہی یہ تحریر اچھی اور معلو ماتی ھے صرف اردو پڑھ سکنے والوں کیلئے۔میں اس سے پہلے اسی موضوع کی تحریر انگلش میں ڈکشنری دیکھ دیکھ کر پڑھنے کی کوشش کر چکا ھوں۔لیکن کچھ پلے نہیں پڑھا۔مجھے تو خوشی ھوئی یہ تحریر پڑھ کر میرے لئے معلوماتی تحریر ھے۔
    آپ لوگ شرارت کیوں کرتے ھو۔عنیقہ شکریہ اس تحریر کیلئے۔

    ReplyDelete
  13. ہمارے نوجوان احساسں محرومئ کا شکار ھے ، ہم نے پہلے پیپسی اور کوکا کولا کا باہیکاٹ کیا جی اسلامی کولا بنائ اہک بار پینے کے بعد دوسرئ بار پینا بھی کسی نے گوارا نہیں کیا ،،، جو نوجوان اج اتی بڑکہ مار رہے ھے
    ان کے لیے یہ لنک کافی ھے،،
    http://www.bbc.co.uk/urdu/sport/2010/05/100522_everest_climber.shtml

    ReplyDelete
  14. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 27, 2010 at 5:14 PM

    آپ کے آرٹیکل سے تو مجھے نہیں لگا کہ مجھے آپکے کسی سوال کا جواب دینا ہے ۔

    "اب ہم اپنے یہاں ستر اور اسّی کی دھائی میں پیدا ہونے والے لوگوں کو دیکھتے ہیں ۔ کیا واقعی انہیں ان نوجوانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا۔ جنکا تذکرہ میں نے اس طویل تحریر میں کیا ہے۔"
    اس سوال کا مناسب جواب ان لوگوں کو دینا ہے جن لوگوں کو آپ کے خیال میں ہماری قوم کے لوگوں کو تیار کرنا تھا ۔اگر وہ لوگ اس کام میں آپکو ناکام لگتے ہیں تو پھر آبجیکیٹیو سولیوشن آپ ہی کو پروپوز کرنا ہے ۔
    " یہ جو موجودہ رویہ ہمیں اپنے نوجوانوں کا نظر آتا ہے۔ یہ کسی احساس محرومی کی وجہ سے ہے، احساس ذمہ داری سے بھاگنے کی وجہ سے ہے یا مقابلے کی فضا میں فرار حاصل کرنے کی وجہ سے ہے۔"
    اب کوئی نارمل چیز آپکو ہی ایبنارمل لگ رہی ہے تو ایکبار پھر آبجیکیٹیو سولیوشن آپ ہی کو پروپوز کرنا ہے ۔

    آپنے جو نئے سوالات اٹھائے ہیں انکو بھی باری باری دیکھ لیتے ہیں ۔

    "سوال تو میں نے آپ پہ چھوڑا اور آپ مجھے دوبارہ اس میں ڈالنا چاہ رہے ہیں۔ کیوں بھئی کیوں؟"
    یہ تو بلا وجہ ٹریپ کرنے والی غیر مناسب سی بات لگتی ہے ۔
    "میں نے تو اس عرصے میں پیدا ہونے والی نسل پہ ایک الزام لگایا ہے۔ انہیں چاہئیے کہ وہ اسے غلط ثابت کر دکھائیں۔ کم ازکم ڈفر صاحب نے اپنی صفائ تو پیش کی۔ باقی سب بھی بتائیں۔"
    میرے تبصرے میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جسکیلئے مجھے اپنے اور ایک نسل کے بارے ایکپلینیشن دینے کی ضرورت پڑے ۔
    "اگر یہ سب باتیں غلط ہیں تو کیوں ہیں؟"
    یہ تو آپ ہی ذیادہ بہتر جانتی ہونگی اور اس بات کا بھی آبجیکیٹیو سولیوشن آپ ہی کو پروپوز کرنا ہے ۔

    ReplyDelete
  15. چلیں بھئی میں تو قائل ہوگیا کہ میری سوچ غلط تھی،اب کون کون مرد میداں اس بے ہودگی کا مقابلہ کرنے نکل رہا ہے یہ دیکھنا ہوگا؟؟؟؟
    ویسے ہماری تو ساری دہائیاں جاہل اور دہشت گرد تیار کرنے میں نکل گئی ہیں تو اب کیا کریں؟؟؟؟

    ReplyDelete
  16. احساس محرومی بھی ہے احساس کمتری بھی اور زمہ داریوں سے جان چھڑانے کی نسل در نسل پرانی عادت بھی!

    ReplyDelete
  17. بہت ھی معلوماتی مضمون ہے -- اسکو تو کسی اخبار کا سانئسی کالم ہونا چاہے--

    ReplyDelete
  18. ہیلو ہائے، ایک شعر ذہن میں آیاہے وہ آپکی نذر ہے،
    سمجھ سمجھ کے جو نہ سمجھے
    میری سمجھ میں وہ نا سمجھ ہے۔
    مجھے نا سمجھ ، سمجھ کر نظر انداز کر دیں۔
    اور ہاں یہ جو میرے بلاگ کی تھیم ہے ، اس بے چاری کا مقصد بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ سوچ کو پابند نہیں کیا جا سکتا اس لئے اپنی سوچ پہ پہرا نہ بٹھائیں۔
    شکریہ عبدالعزیز صاحب، عمران خان والے جملے کے ساتھ اسے کوئ اخبار نہیں چھاپے گا۔ اسے نکالنا پڑے گا۔
    :)
    شکریہ خورشید آزاد صاحب اور یاسر صاحب۔
    عبداللہ ، آپ نے تو قائل ہو کر جان چھڑا لی۔
    ڈفر صاحب، آپکو عطا الرحمن صاحب سے کیا شکائیتیں ہیں؟
    سچا پاکستانی، مجھے امید ہے کہ کوئ بھی آپکے دئیے ہوئے لنک پہ نہیں گیا ہوگا۔ لیکن میں سب سے درخواست ضرور کرونگی کہ وہ اس لنک کو ضرور دیکھیں۔

    ReplyDelete
  19. hi , :)
    i agree with you aniqa.,

    ReplyDelete
  20. محترمہ میں نے جو کہا میں اب بھی اُس پر قائم ہوں۔
    دوئم آپ سے یہ کس نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے صرف وی لنک بند کرنے کو کہا تھا لاہور یائی کورت نے فیس بک ڈومین مکمل بند کرنے کو کہا تھا آپ اپنی بات کی تصدیق کے لئے لنک ھوالہ دیں۔ باقی ویب سائیٹ کی بندش پر میں نے نہ اُس وقت اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا نہ اب کر رہا ہوں۔
    واقعی میں واحد راستی عدالت میں جا کر اس معاملے میں اپنا نقطہ نطر پیش کرنا ہے اور میری معلومات کے مطابق زاہد جمیل صاحب (میدم شاہدہ جمیل کے بیٹے جن کا ذکر میں نے ایک بار اپنے بلاگ پر بھی کیا تھا( اس کیس میں فیس بک کت حامیوں کی طرف سے پیش ہوں گے ابھی کنفرم نہیں مجھے۔ ملاقات ہوئی تو اب پوچھ لوں گا اُن سے۔
    ویسے میں نے فیسلہ نہیں پڑھا لاہور ہائی کورٹ کا۔ مگر جو کچھ نیٹ و اخبارات سے پڑحا ہے اُس کے مطابق ڈومین بند کرنے کا نہ صرف حکم دیا تھا بلکہ پی ٹی اے کے کسی عہدہ دار کو دو گھنٹے میں عدالت بلا کر اس بارے میں مکمل بریفینگ لی تھی۔
    باقی ہمارا نوجوان قابلیت کے اعتبار سے بہت اچھا ہے مگر ایک عجیب سوچ یا معاشی کمزوری کہہ لیں کہ نوکری کو کاروبار پر اہمیت دیتا ہے جبکہ نوکر ہونے سے مالک ہونا بہتر ہے مگر اس کے لئے مالک ہونے کا شعور درکار ہے دوئم افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جو ذرا علم حاصل کر لیتے ہیں وہ زاتی کامیابی کے لئے اس ملک کو چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں اس سوچ کے ساتھ کہ وہاں ہی جا کر سیٹ ہو جاؤ گا اب اس کا کیا کریں۔۔۔۔

    ReplyDelete
  21. بی بی!

    ویسے تو میری رائے کاتعلق آپکی اس تحریر سے سے گزشتہ موضوع سے ہے۔ اور وہاں پہ یہ لکھ بھی دی ہے۔ مگر چونکہ آپکے بلاگ پہ تاز ترین تبصرہ جات جاننے کا آپشن نہیں تو اسے یہاں بھی نقل کردیا ہے تانکہ جو پچھلے صحفات پہ کسی وجہ سے نہ جائے تو اسے پڑھ کر آپکا بیانِ سابق دیکھ لے۔

    قارئین اکرام کی دلچسپی کے لئیے عرض ہے ۔
    "سر قسطہ" یا "سرقوسطہ" کا موجودہ لاطینی میں بگڑا ہو نام
    "zaragoza"
    یعنی "ژراگوثہ" ہے۔ اور ہسپانوی میں "ماہوما" یعنی
    "Mohama"
    سے مراد " محمد" صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ اور ایک وضاحت ضروری ہے کہ مسلم ہسپانیہ کے پورے دورمیں کسی بھی جگہ پہ یا کسی بھی حوالے سے مسلمانوں کی طرف سے للہ تعالٰی یانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یا مذھبی بنیاد پہ بنائی گئی کسی قسم کی کوئی تشبیہہ یا بُت کبھی ہیں بنائی گئی بلکہ اس بارے میں مسلم ہسپانیہ کی تقریباََ ہزار سالہ تاریخ میں مسلمان اس بارے میں بہت حساس رہے ہیں ۔ کیونکہ اُس دور سے لیکر اآج تک ہسپانیہ کی اکثریتی آبادی پہ مشتمل کھیتولک نصرانی فرقہ بائبل کے تمام کرداروں کے مجسمے اور تصاویری بائیبلز کا عام استعمال کرتا آیا ہے ۔ اور مسلمان اس لہر سے بچنے میں بہت حساس رہے ہیں۔

    مولانا شبلی نغمانی کی مشہورِ زمانہ تصنیف "سیرت النبی" صلی اللہ علیہ وسلم کی غالبا چھ جلدیں ہیں۔ جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈوب کر لکھی گئیں ہیں۔ اور مسلمانوں کو اسے ضرور پڑھنا چاہئیے ۔ دل کے در وا ہ ہاجاتے ہیں۔

    خورشید آذاد صاھب سے گزارش ہے کہ ایک بلاگ کی وسعت آپ کے اٹھائے گئے سوالوں کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ مگر پھر بھی گزارش ہے کہ آپ ان آیات اور احادیث کا دوسرے مذاہب سے تقابلی جائزہ کریں تو ایک حقیت واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں ہر بات فطرت کے واضح اصولوں کے تحت ہے جس میں ماضی میں گزرے اور آئیندہ درپیش آنے والے ادوار یا موجودہ دور میں کسی کی ذاتی پسند یا ناپسند ، یا کسی گروہ حلقے قوم یا کسی ملک اسکی ہر دور میں بدلتی سوچ ، رسومات، چلن، اور قوانین یا قاعدوں سے ہم آہنگی یا عدم آہنگی، مطابقت یا عدم مطابقت، اسلام کا مسئلہ نہیں ۔ اسلام ایک الہامی مذھب ہے جس کے اپنے قوانین ہیں جو رہتی دنیا تک بغیر ردوبدل کے قائم رہیں گے ۔ یہ قوانین و شرائط تب بھی ایسی ہی تھیں ۔ جب دنیا میں انسان اس حد تک مادی ترقی نہیں کی تھی اور مشین کا دور نہیں تھا ۔ یہ قوانین آئیندہ بھی بغیر کسی ردوبدل کے اسی طرح رہیں گے جب انسان ساری کائینات کو اپنی ذ ہانت کے بل بوتے پہ تسخیر کر لے گا۔ اسلام ہر دور اور ہر قسم کے عام انسانوں کے لئیے ہے ۔جس نے اسلام کو اپنانا ہے اس پہ اسلام کی ہر بات واضح کر دی گئی ہے۔ اسمیں کسی کی پسند یا ناپسند کو کوئی عمل دخل نہیں خواہ وہ میرے جیسا عام آدمی ہو یا عزت مآب امریکن فرسٹ لیڈی۔ کسی کو اشتناء حاصل نہیں ۔ بالفاظِ دیگر اسلام میں کسی قسم کی منافقت روا نہیں ہر بات واضح ہے۔ اسلام میں سب کے حقوق محفوظ ہیں ۔ وہ مرد ہو یا عورت۔ بچے ہوں یا بوڑھے۔

    ReplyDelete
  22. دلچسپ امر یہ ہے کہ ہمارے مایہ ناز کرکٹر عمران خان نے ایک یہودی النسل خاتون کو مسلمان کر کے شادی کی۔ اس طرح یہودیوں سے بننے والے تعلقات کے نتیجے میں انکے کینسر کے لئے قائم ہسپتال کو کافی ڈونیشنز ان ذرائع سے ملیں۔ لیکن اسے یہودیوں کی سازش نہیں سمجھا جاتا۔
    جناب فیر تو جی یہ ہسپتال بھی حرام ھے اور اَمدانی بھی ،،،،

    ReplyDelete
  23. بہت اچھی اور سچی تحریر ہے۔ نوجوانوں کے موجودہ رویّے میں آپ کی بتائی ہوئی تینوں چیزیں ہی کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہیں۔ یعنی احساس محرومی، احساس ذمہ داری اور مقابلے کی فضا میں فرار ۔

    اس کے علاوہ اُن کی تعلیم و تربیت اور اندازِ تعلیم و تربیت اس معاملے میں بے حد اہم ہے۔ ہماری اکثریت چونکہ معاشی طور پر مستحکم نہیں ہے اس لئے ہم اپنے بچوں کو تیار ہی اس طرح کرتے ہیں کہ وہ بڑے ہوتے ہیں معاشی بدحالی کے خلاف جنگ میں ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں ۔ یہاں تعلیم کا مطلب نوکری کا حصول ہے اور ڈگریوں کا مطلب محض فارمیلیٹی، کہ نوکری کے لئے ڈگری کا ہونا ضروری ہے۔

    پھر ہم لوگوں کی تنگ اور متعصبانہ سوچ بھی ان بچوں کو ورثہ میں ملتی ہے ، وہ اسے ساری زندگی اپنے ساتھ لگا کر رکھتے ہیں اور آنے والی نسل کو منتقل کر دیتے ہیں اور اس طرح ہمیں اس بات کا موقع مل جاتا ہے کہ ہم اپنی ناکامیوں کو کسی نہ کسی کے سر منڈ دیں ۔ ہم اگر مسلمان ہیں تو ہماری ناکامیوں کی وجہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ اگر ہم اردو بولنے والے ہیں تو پنجاب اور اسٹیبلشمینٹ اس کام کے لئے حاضر ہیں۔ اگر ہم پنجابی ہیں تو سندھ اور کراچی والے حاضر ہیں غرض یہ کہ ہم سب نے کسی نہ کسی کو ظالم ٹہھرا لیا اور خودکو مظلوم ثابت کرکے ہر قسم کے احتساب سے بری کر لیا۔

    اگر ہم سب اپنے آپ کو پاکستانی سمجھنے لگیں تو پھر ہمیں اپنے لئے اور پاکستان کے لئے کام کرنا پڑے گا اور اپنی ناکامیوں پر اپنی ہی طرف دیکھنا پڑے گا شاید اسی لئے ہم لوگ چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کربیٹھے ہیں اور بے حد مطمئن ہیں۔

    کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے نوجوانوں کی نظر میں پاکستان کا امیج بہتر کریں اور جس طرح "آئی اون کراچی" کی تھیم کراچی میں لائی گئی ہے اسی طرح "آئی اون پاکستان" کی تھیم لائی جائے تاکہ ہمارے نوجوان اپنے ملک پاکستان کو اپنا سمجھیں پاکستان سے محبت کریں ۔ مجھے اُمید ہے کہ یہاں سے ہمارے نوجوان کو وہ اسپائریشن ملے گی کہ وہ کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔

    ReplyDelete
  24. چلیئے اب خوش ہو جائیے نوجوانوں نے آپکی آواز سن لی ہے!

    http://www.dw-world.de/dw/article/0,,5626538,00.html?maca=urd-rss-urd-all-1497-rdf

    ReplyDelete
  25. محمد وقار اعظم، میری بچی تو ابھی صرف تین سال چار مہینے کی ہے۔ لیکن عجب اتفاق ہے کہ میں نے بھی نویں جماعت میں سرت النبی اور الفاروق کا مطالعہ کر لیا تھا۔ میں اس زمانے میں ایک کتابی کیڑا ہوا کرتی تھی۔ کاغذ کا ایک پرزہ میرے گھر سے میرے پڑھے بغیر نہیں گذر سکتا تھا۔ میری خوش قسمتی کہ چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک اسلامیات کے جو استاد ملے انہوں نے اسلامیات کی کتاب کے بجائے قرآن پاک ہاتھ میں تھما دیا۔ انہوں نے ہمیں ایک سال عربی بھی پڑھائ۔ اور یہ ممکن نہ تھا کہ کتاب میں موجود کوئ آیت سیاق و سباق کے بغیر ہمیں رٹآ دی جاتی۔ زیادہ علم ہونے کو پسند کرتے تھے۔ اور میں انکی بہترین اسٹوڈنٹ ہونے کے چکر میں ہر میسر کتاب کو چاٹ کر یاد کر لیتی تھی۔ تاکہ پرچوں میں زیادہ سے معلومات کا اظہار کر سکوں۔ میری دوسری خوش قسمتی کہ جس مدرسے سے قرآن ناظرہ کی تعلیم حاصل کی وہاں جہاد نہیں پڑھایا جاتا تھا بلکہ جو کچھ بھی یا د کرایا جاتا تھا اسکا ترجمہ بھی ضرور یاد کرایا جاتا تھا۔ اس طرح مجھے اس وقت بہت سارا قرآن ترجمے کے ساتھ زبانی یاد تھا۔ اسی مدرسے میں صرف قرآن پاک ہی نہیں پڑھاتے تھے بلکہ اسلامی تعلیمات کا بھی ایک سلیبس تھا جس میں بنیادی عقائد اور مسائل یاد کرائے جاتے تھے۔ خدا کا مجھ پہ یہ کرم رہا کہ اپنے پورے مدرسے کے عرصے میں اپنی کلاس میں سب سے کم عمر ہونے کے باووجود ہمیشہ پہلے نمبر پہ رہی جسکے نتیجے میں مجھے اسلامی تاریخ کے متعلق ہر سمسٹر میں کم از کم چھ کتابیں تحفے میں ملتی تھیں۔ ان سب باتوں کی وجہ سے آٹھویں جماعت کے بعد میں نے کبھی اسلامیات کے نوٹس نہیں بنائے نہ انکا رٹا لگایا پھر بھی گریجوایشن تک نوے فی صد مارکس حاصل کرتی رہی۔
    میرے ابا نےجن کتابوں کو پڑھ کر اپنے تعلیمی مدارج طے کئے وہ انہوں نے سنبھال رکھیں اس طرح جب میں اردو میں جملے پڑھنا سیکھے تو ان کتابوں کی شامت آئ۔ یوں جب میں شبلی نومانی کی سیرت پڑھ رہی تھی تو میں اشوک اور رچرڈ شیر دل کے بارے میں بھی جانتی تھی۔
    میرے والدین کا احسان ہے کہ انہوں نے میرے دل میںدوسرے لوگوں کے لئے، دوسروں مذاہب کے لئے نفرت نہیں پیدا کی اور آپکو شاید یہ سن کر حیرانی ہوگی کہ مجھے آٹھویں جماعت میں دراصل پتہ چلا کہ شیعہ سنی بھی کوئ چیز ہوتے ہیں۔ اس وقت میری عمر کوئ بارہ سال تھی۔
    اسی طرح نویں جماعت میں، معلوم ہوا کہ میرے خاندان کا فقہ حنفی ہے۔
    اتفاق سے جس محلے میں رہتی تھی وہاں ہر کمیونٹی کے لوگ رہتے تھے۔ ان میں قادیانی اور شیعہ اور غیر مسلم بھی شامل ہیں۔ اپنی اعلی تعلیم کے دوران مختلف مذاہب اور ممالک کے لوگوں سے تعلقات رہے اور اس طرح میری زندگی ، میری امی کی سنائ ہوئ کہانیوں سے باہر نکل آئ۔ البتہ میں نے اپنی ماں سے ایک سبق ضرور سیکھا اور وہ ایک محنتی اور ذمہ دار عورت بننے کا اور یہ کہ عورت اپنی صلاحیتوں میں کسی مرد سے کم نہیں۔
    میرے ماں باپ کی زندگی کا ایک عرصہ انڈیا میں گذرا وہ ساٹھ کی دہائ میں علیحدہ علیحدہ پاکستان آئے۔ وہ دونوں مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اور انکی شادی پاکستان میں آنے کے بھی بعد ہی ہوئ۔ اس طرح وہ اپنے ساتھ، اپنی چھوڑی ہوئ جگہوں کی کہانیاں بھی لائے۔ یوں میری زندگی میں مجھے وہ دولت حاصل ہوئ جسے تنوع کہتے ہیں۔
    میں اپنے بچوں کو بھی یہی تنوع کی دولت دینا چاہونگی۔
    اب یہ تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ مجھے اس پہ کوئ اعتراض نہیں کہ وہ سرت النبی کے ساتھ اشوک کے قصے پڑھیں۔ گوتم کی کہانیاں دوہرائیں ۔ یا کرسمس کیک کھائیں۔
    میری اتنی چھوٹی بیٹی کو معلوم ہے کہ اللہ حافظ کے جواب میں اللہ حافظ اور خدا حافظ کے جواب میں خدا حافظ اور گڈ مارننگ کے جواب میں گڈ مارننگ کہنا ہے اسے یہ بھی معلوم ہے کہ چھینک آنے کے بعد الحمد للہ کہنا چاہئیے۔

    ReplyDelete
  26. شعیب صفدر صاحب آپ نے ٹھیک کہا۔ صرف لنک تو عرب امارات اور دیگر مسلم ممالک میں بند ہوا۔ یہ سعادت صرف پاکستان کے حصے میں آئ۔ اس سلسلے میں الجزیرہ کا ایک دلچسپ لنک حاضر ہے۔
    http://english.aljazeera.net/news/2010/05/201051994155758717.html
    اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ڈومین پی ٹی اے نے بند کر دی تھی لیکن پوری سائیٹ بند کرنے کا فیصلہ عالی مقام عدالت کا ہے۔
    آپ بھی فیس بک استعمال کرنے والوں میں سے ہیں۔ اور یہ بھی جانتے ہونگے کہ میں فیس بک پہ مہینے بھر میں چھ اسٹیٹس تبدیل کر لوں تو بڑی بات ہے۔ اپنے ہوم پیج کے علاوہ کسی کی وال پہ جا کتر وقت نہیں لگاتی۔ لیکن یہ کہ خبر رہتی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں کیا ہو رہا ہے۔
    محمد احمد صاحب،ہمم، آئ اون پاکستان۔ کچھ اس طرح کا مطلب سب سے پہلے پاکستان کا نہیں نکلتا۔
    گمنام یہ سوال تو ان لوگوں سے پوچھیں جو کسی چیز کے حرام ہونے کی وجہ یہ لاتے ہیں کہ اسے یہودیوں نے تیار کیا ہے۔
    عمران خان ، کا ہسپتال، بہر حال پاکستان میں لوگوں کے لئے ایک اہم ضرورت تھی۔

    ReplyDelete
  27. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 28, 2010 at 7:40 PM

    چلیں آبجیکٹیویٹی نہ سہی آٹو بائیوگرافی ہی سہی ۔ سوال ہمارا اور محمد وقار اعظم صاحب نہ جانے کہاں سے آگئے ۔ ویسے پی ایچ ڈی سے پہلے اتنا کچھ تو دوسروں کو جلانے اور تپانے کیلئے کافی سے بھی کافی زیادہ ہے ۔ اب پی ایچ ڈی تو بغیر آپٹیمائیزیشن کے پاسیبل نہیں تو اس کارن پرنس اور شاسترا کب پڑھی اسکا زکر شائد آپنے مناسب نہیں جانا ۔

    ReplyDelete
  28. ہیلو۔ہائے۔اےاواے

    بھا ئ جی آپ تو ڈنگی بخار بن گے ھو ،،،،

    ReplyDelete
  29. دومین سے مراد میری پوری سائیٹ ہی تھی جناب!!!!۔

    ReplyDelete
  30. عنیقہ صاحبہ!

    سب سے پہلے پاکستان کا مطلب بھی کم و بیش یہی نکلتا ہے لیکن چونکہ جس وقت یہ نعرہ متعارف کرایا گیا اس وقت امریکہ افغانستان پر حملے کے درپے تھا اور اُسے پاکستان سے بہت سی علاقائی سہولتیں درکار تھیں ۔ سو یہ نعرہ بھی اُسی پس منظر میں سامنے آیا ۔ اسی لئے اسے زیادہ پزیرائی نہیں ملی بلکہ اسے ایک سیاسی نعرے سے زیادہ اہمیت ہی نہیں دی گئی ۔

    ReplyDelete
  31. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    عنیقہ نازصاحبہ بہت اچھامضمون آپ نےلکھاہے۔اسکی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ بات وہی ہےکہ نواجون نسل کوکیاملاہے۔کیونکہسیانےکہتےہیں کہ جیسابوؤگےویساہی کاٹوگےسوپاکستانی کاٹ رہےہیں۔

    والسلام
    جاویداقبال

    ReplyDelete
  32. ایک نہایت دلچسپت اور نوجوانوں کی جذباتیت کی حقیق داستان بیان کی آپ نے۔ میرے خیال میں اس تمام معاملہ میں اسی نوے کی پیدائش والے نوجوانوں کے قصور سے زیادہ پچاس ساٹھ کی دہائی کی پیشائش والے ان کے سرپرستوں کا قصور ہے۔ اس بابت اسماء صاحبہ نے اپنے بلاگ پر کافی کچھ تحریر کردیا ہے۔ وہ بھی قابل مطالعہ اور حقیقت پر مبنی ہے۔

    ReplyDelete
  33. اسد صاحب، اس لئے تو میں نے لفظ تیار کیا ہے استعمال کیا ہے۔ لیکن بہر حال اگر ہر آنیوالی نسل اپنے بزرگوں کی اتنی ہی تابع ہو جتنی کہ کچھ معاملات میں ہمارے یہاں کے لوگ ہیں تو کیا ہی بات ہوتی۔ ان سے تو انکے تیار کرنے والے بھی نالاں ہیں، وہ خود بھی خود سے نالاں ہیں، اور دوسروں سے بھی نالاں ہیں۔ تبدیلی کے احساس کو بھی انکو ہی پیدا کرنا ہے کوئ اور آ کر یہ کام نہیں کرے گا۔ یا آپکا خیال ہے کہ کوئ اور آ کر اسے انجام دے گا۔
    اگر وہ سمجھتے ہیں انکے ساتھ یہ یہ کام غلط ہوا تھا تو اب وہ خود اس غلط کام کو نہ کریں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسے اپنے بزرگوں سے بھی زیادہ جوش اور جذبے سے اسے کر رہے ہوتے ہیں۔
    یہ بھی ایک فرار ہی ہے یا انکار ہے۔

    ReplyDelete
  34. آپ نے جن لوگوں کی مثالیں دی ہیں وہ غالبا سب کے سب امریکی ہیں۔ اس سے کم از کم یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ انکی کامیابی میں امریکی شہری ہونا ایک اہم بات ہے۔ ٹیلنٹ تو ساری دنیا میں پایا جاتا ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ دیگر ممالک کے نوجوان وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پاتے جو امریکی نوجون کرتے ہیں؟ اس لیے میں کم از کم اپنی نوجون نسل کو الزام دینا درست نہیں سمجھتا۔ کامیابی کے لیے بہت سے عوامل ضروری ہوتے ہیں اور چونکہ ایسے حالات پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر دوسرے ممالک میں عنقا ہیں، اسلیے وہ کامیاب نہیں ہو پاتے۔
    ویسے جن کامیاب لوگوں کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان میں سے اکثر کے خِالات اوریجنل نہیں تھے بلکہ کہیں نہ کہیں اس جانب پیشرفت ہو رہی تھی۔

    ReplyDelete
  35. سرجے برن کو اگر سرگئی برن لکھیں تو کیسا رہے گا؟ ویسے یہ بھی نسلاً یہودی ہے۔ ایک اور سازش :)

    دوسرا برن اور پیج، دونوں کے پاس ساڑھے سترہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر ہیں :) آپ کی کی تحریر سے اشقال ہو سکتا تھا کہ شاید دونوں کے مشترکہ اثاثے ساڑے سترہ ارب ڈالر کے ہیں :)

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ