Tuesday, May 4, 2010

کون سے بانی ء پاکستان

اردشیر کاوسجی جی شاید اس وقت پاکستان کے معمرترین کالم نگار ہونگے۔ انیس سو چوبیس میں پیدا ہونے والے اس بزرگ کالم نگار کو قائد اعظم کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا کہ انکے خاندان کے ان سے دوستانہ مراسم تھے۔ انکا ایک حالیہ مضمون پڑھنے کے لئے حاضر ہے۔  صاف پڑھنے کے لئے اس مضمون پہ کلک کیجئیے۔ یا اس لنک پہ جائیے۔



ar

29 comments:

  1. ہمارے یہاں ایک طبقہ ایسا ہے، جو ملک میں موجود ہر برائی کو یہودیوں کی چال، مکاری اور دھوکے بازی گردانتا ہے۔ جبکہ دوسرا طبقہ ملک میں رائج اسلامی قوانین کو علماء کی دھونس، دباو اور ہڈدھرمی قرار دیتا ہے۔
    معلوم نہیں ان میں سے دائیں بازو کونسا ہے اور بائیں کونسا، لیکن یہ درست ہے کہ دونوں اپنی جگہ غلط فہمی کا شکار ہیں۔

    ReplyDelete
  2. ھندوستان کا جب دستور تیار ھوا - اوسی وقت جاگیرداری اور زمین داری کو ختم کردیا گیا-- بہت دکھ کی بات ہے کہ اقلیتون کے آزادانہ حق کو حزب کردیا گیا-- جسطرح "گستاخ رسول" کا قانون کیوجہ سے اقلیون کو غیر محفوظ کیا-- آج باکیستان دھشد گردی نام نہاد الزام سے دوچار ہے-- پہلے پراگراف سے یون لگا ہے کہ کسی افریقی ملک کا تذکرہ ہے-- مین بحیث مسلمان ھم ملا کی لنترانی سے محفوظ نہی ہین-- مدرسہ کے فارغ اور سڑکون پر انے والے جہلا سے ھم بھی نالاں ہین-- چاھے تو اپ میرا کامنٹ رد کرسکتےہو

    ReplyDelete
  3. ذين خان صاحب پاکستان دہشت گردی کا نام نہاد الزام کا شکار ہے بات پلے نہيں پڑی آج بھی ہمارا ايک برادر امريکہ ميں گاڑی ميں بم رکھنے کے الزام ميں پکڑا گيا ہے

    ReplyDelete
  4. "جبکہ دوسرا طبقہ ملک میں رائج اسلامی قوانین کو علماء کی دھونس، دباو اور ہڈدھرمی قرار دیتا ہے۔"

    اسميں کيا شک ہے؟ جب سے نام نہاد اسلامائيزيشن کا آغاز ہوا تب سے اس زمانہ جاہليت کی ابتدا ہوئي ہے جس ميں آجکل ہم رہ رہے ہيں-

    ReplyDelete
  5. ہزاروں لوگوں کا خود کش حملہ آوروں کے ہاتھوں مر جانا، غلط فہمی نہیں ہو سکتی۔
    لاکھوں لوگوں کا اپنے گھروں کو چھوڑ کر بے گھر ہو جانا غلط فہمی نہیں ہو سکتی۔
    ملک میں حدود آرڈیننس جیسے کالے قوانین کسی سیکولر حکومت کی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔
    اور ابھی آگے جو آنے والا ہے وہ بھی کوئ غلط فہمی نہیں بلکہ بقائمی و ہوش و حواس کی جانے والی کوششیں ہونگیں۔ اسکے لئے دور جانے کی ضرورت نہیں اسی بلاگنگ کی دنیا میں جھانک لیں۔

    ReplyDelete
  6. خودکش حملوں کی وجہ آئینی ترمیم یا کوئی اسلامی قانون کو سمجھنا غلط فہمی ہے۔ لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہوجانے کی وجہ آئین یا قرارداد مقاصد کو قرار دینا بھی غلط فہمی ہے۔ اور حدود آڑڈیننس کو 'عین اسلامی' سمجھنا بھی غلط فہمی ہے۔

    ہمیں اب جمہوریت اور آئین کی دوغلی پالیسی سے باہر آجانا چاہیے۔ صرف اس بات پر مصر رہنا کہ حدود آرڈیننس غلط ہے اور حقوق نسواں بل درست تو یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ یا تو دونوں قوانین کو آئین کا حصہ سمجھیں یا پھر دونوں کو آمریت کا قانون سمجھیں۔ جب جب اسمبلی سے کوئی قرارداد پاس ہو تو اسے ماننا چاہیے تاقتیکہ وہ کسی دوسرے قانون کے منافی نا ہو تو۔ کسی پر دباو ڈالنے کا بہانہ تراشنا یا پھر سیاسی ساکھ کو سنبھلنے کی لالچ قرار دینا یک طرفہ نظریہ ہے۔ ایسا آئین کی تمام ترامیم میں ہوا ہے، صرف آٹھویں یا اٹھارویں میں نہیں۔

    ReplyDelete
  7. "خودکش حملوں کی وجہ آئینی ترمیم یا کوئی اسلامی قانون کو سمجھنا غلط فہمی ہے۔ لاکھوں لوگوں کے بے گھر ہوجانے کی وجہ آئین یا قرارداد مقاصد کو قرار دینا بھی غلط فہمی ہے۔ اور حدود آڑڈیننس کو 'عین اسلامی' سمجھنا بھی غلط فہمی ہے۔"

    جناب آپ يہ نام نہاد اسلامی قوانين اور قرارداد مقاصد اپنے پاس رکھيئے اور ہميں معاف رکھئے- ان ميں سے کوئی ايک بھی قائداعظم، معاف کيجيئے آپکے مطابق کافراعظم، کی زندگی ميں نہيں بلکہ مولويوں کو کھلانے پلانے کے ليئے بعد ميں منظور کيئے گيئے- جب ساری دنيا انکے بغير ترقی کرچکی تو ہم بھی کرليں گے-

    ReplyDelete
  8. "ہمیں اب جمہوریت اور آئین کی دوغلی پالیسی سے باہر آجانا چاہیے۔ صرف اس بات پر مصر رہنا کہ حدود آرڈیننس غلط ہے اور حقوق نسواں بل درست تو یہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ یا تو دونوں قوانین کو آئین کا حصہ سمجھیں یا پھر دونوں کو آمریت کا قانون سمجھیں۔ "

    حدود آرڈیننس غلط ہے اور حقوق نسواں بل درست- اب اگر مجبور عوام سے پوچھے بغير قانون بنائے جائيں تو عوام کا کيا قصور-

    ReplyDelete
  9. خود کش حملوں کی وجہ کوئ آءینی ترمیم یا آئین نہیں ہے بلکہ یہ تحریک پاکستان کی بنیاد سے ہٹنے کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں۔
    حدود آرڈیننس، وہ بل ہے جو مذہبی جماعتوں کے دباءو اور انکی منظوری اور حمایت سے آیا۔
    حقوق نسواں کا بل محض آرائشی طور پہ پیش کیا گیا کہ ہم بہت روشن خیال ہیں اور یہ روشن خیالی ہمارے آئین کا حصہ ہے۔ مذہبی جماعتوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ دراصل معاشرے کو مادر پدر آزاد کرنے کی سازش ہے۔
    ورنہ کیا اس حقوق نسواں کے بل کی وجہ سے کوئ تبدیلی آئ۔ کوئ تبدیلی نہیں آئ۔ اس لئے کہ مسلسل باسٹھ سالوں تک لوگوں کے دماغوں کو نمائشی اسلام سے اتنا بھر دیا گیا ہے کہ وہ اب ایک شدت پسندی کی طرف تو جا سکتے ہیں مگر ایک معتدل مزاج اپنانے سے قاصر ہیں۔
    عام زندگی میں، صورت حال کی منافقت اتنی بڑھی ہوئ ہے کہ جو لوگ مجھے اس بات کے طعنے دیتے ہیں کہ ہم نے تو امام غزالی کی کتابیں پڑھی ہیں کیا آپ نے کوئ پڑھی ہے، اور پھر اس بات کو ثابت کرنے میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں کہ عورت اپنی ناقص العقلیت کی بناء پہ نبی نہیں ہو سکتی۔ اس تمام کے بعد جب وہ کچھ لکھتے ہیں سنجیدگی سے تو وہ عورت اور مرد کے مابین عامیانہ عاشقانہ خطوط ہوتے ہیں۔
    آپ محسوس کرنے سے انکار کریں لیکن یہ منافقت اسی وجہ سے ظاہر ہوئ ہے۔
    یہ تو ایک مثال ہے اس طرح کی معاشرتی مثالوں نے معاشرے سے برداشت، توازن ختم کر کے منافقت بھر دی ہے۔ اور یہ منافقت اب پاور شو بنتی جا رہی ہے ۔ ایک شخص کچھ بھی کر لے وہ قابل قبول ٹہرے گا بس اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ سب اس نے مذہب کی محبت میں کیا ہے۔ جسے ہتھیار میسر ہے وہ ہتھیار سے اور جسے جو میسر ہے وہ اس سے اسے ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے۔
    ہم جمہوریت اور آئین کی بات نہیں کررہے، ہم تو انسانی سطح پہ اس رواداری کی بات کرتے ہیں جو ہمارے یہاں مفقود ہے اور ہم سنتے ہیں کہ ہندو تو کچھ کر ہی نہیں سکتے، عظیم صلاحیتیں تو پاکستانی مسلمانوں میں ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے، تو پھر ہم ان سے خوفزدہ کیوں ہیں؟
    آخر اس ساری چیز نے کہاں سے جنم لیا؟

    ReplyDelete
  10. Why Pakistan Produces Jihadists

    http://online.wsj.com/article/SB10001424052748703866704575223832888768098.html?mod=WSJ_hpp_MIDDLENexttoWhatsNewsThird

    ReplyDelete
  11. ہم اس "خودکش" حملہ کو بھول رہے ہیں، جو قائداعظم پر قیام پاکستان سے قبل کیا گیا تھا۔ آج کے اور اس وقت کے حملہ میں فرق صرف ڈنڈے اور بم ہی کا تو ہے۔ اس لیے تحریک پاکستان کی بنیاد سے ہٹنے کی وجہ سے دیگر مسائل پیدا ہوئے ان میں خودکش حملہ شامل نہیں۔ رہی بات آئین کی تو یہ کسی قسم کی بدمعاشی، زور زبردستی کو فروغ نہیں دیتا اور نہ آئیندہ دے سکتا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ہی اس کا مغز قرار داد مقاصد قرار دینا ہے۔ اور بھی بہت سی آئینی ترامیم ایسی ہیں جن پر بحث کی جاسکتی ہے جن سے بے پناہ اجتماعی مسائل نے جنم لیا لیکن حدف تنقید صرف وہی کیوں جو زرہ برابر اسلام سے متعلق ہوں۔

    میرا ماننا ہے کہ دینی و دنیاوی معاملات میں منافقت برتنے والے کسی آئین اور قرداد کے محتاج نہیں ہوتے۔ اس طرح کے لوگ آپ کو سیکولر قوانین کے دائروں میں دیگر معاشرے میں بھی ملیں جو اپنے مذہب کے سامنے کسی اور کی نہیں سنتے۔ اس لیے اس کی ذمہ دار بجائے اس کے کہ ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کے اعمال کو قرار دیں، ہم آئین کا اور خصوصاَ اسلامی شقات بہانہ تراشتے ہیں۔

    ReplyDelete
  12. " حدف تنقید صرف وہی کیوں جو زرہ برابر اسلام سے متعلق ہوں۔"

    کيونکہ يہی سب سے ذيادہ متنازع اور نقصان دہ ثابت ہوئے ہيں- ان قوانين کا تو يہ حال ہے کہ اونٹ رے اونٹ تيری کون سی کل سيدھي- اسلام کے نام پہ لائے گئے قوااين کا فائدہ تو کوئی نظر نہيں آيا البتہ نقصان ہی نقصان ہے-

    ReplyDelete
  13. "میرا ماننا ہے کہ دینی و دنیاوی معاملات میں منافقت برتنے والے کسی آئین اور قرداد کے محتاج نہیں ہوتے۔ "

    ليکن ان قوانين سے ان منافقين کا کام آسان ضرور ہوگيا ہے اسليئے منافقين کو کمزور کرنے کيليئے ان قوانين کا خاتمہ ضروری ہے-

    ReplyDelete
  14. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 6, 2010 at 4:56 PM

    اب تک کہی گئی باتیں کافی امیوزگ سی لگیں ۔لیکن محمداسد صاحب کی بات ( نمبر ایک میں ) بہت مناسب ہے ۔
    "ریاستی امور میں کو ئی شخض ہندو نہیں اور نہ ہی کوئی مسلمان ہے" ۔ اب یہ بات قائد نے کیا کہی بھی ہے یا نہیں اور اگر کہی بھی تو کیا اس بات کا کالم کی باتوں سے کچھ تعلق بھی ہے کہ نہیں ۔ پاک ستان یا صاف ستان کے کانٹسکٹ میں تو یہ بات یوں بھی نہیں جچتی ۔

    ReplyDelete
  15. اے او اے، آپکی یہ بات کافی امیزنگ لگی کہ قائد اعظم نے یہ بات کہی بھی ہے کہ نہیں۔ یہ بات تو بالکل ریکارڈ میں ہے اور کچھ عرصے پہلے تک اکول کی کتابوں میں انکی یہ تقریر ہوا کرتی تھی۔ جو انہوں نے پاکستان کے قیام سے صرف تیندن پہلے دی تھی۔
    اسکا متن حسب ذیل ہے۔
    There is no other solution. Now what shall we do? Now, if we want to make this great State of Pakistan happy and prosperous, we should wholly and solely concentrate on the well-being of the people, and especially of the masses and the poor. If you will work in co-operation, forgetting the past, burying the hatchet, you are bound to succeed. If you change your past and work together in a spirit that everyone of you, no matter to what community he belongs, no matter what relations he had with you in the past, no matter what is his colour, caste or creed, is first, second and last a citizen of this State with equal rights, privileges, and obligations, there will be no end to the progress you will make. I cannot emphasize it too much. We should begin to work in that spirit and in course of time all these angularities of the majority and minority communities, the Hindu community and the Muslim community, because even as regards Muslims you have Pathans, Punjabis, Shias, Sunnis and so on, and among the Hindus you have Brahmins, Vashnavas, Khatris, also Bengalis, Madrasis and so on, will vanish. Indeed if you ask me, this has been the biggest hindrance in the way of India to attain the freedom and independence and but for this we would have been free people long long ago. No power can hold another nation, and specially a nation of 400 million souls in subjection; nobody could have conquered you, and even if it had happened, nobody could have continued its hold on you for any length of time, but for this. Therefore, we must learn a lesson from this. You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place or worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed that has nothing to do with the business of the State. As you know, history shows that in England, conditions, some time ago, were much worse than those prevailing in India today. The Roman Catholics and the Protestants persecuted each other. Even now there are some States in existence where there are discriminations made and bars imposed against a particular class. Thank God, we are not starting in those days. We are starting in the days where there is no discrimination, no distinction between one community and another, no discrimination between one caste or creed and another. We are starting with this fundamental principle that we are all citizens and equal citizens of one State. The people of England in course of time had to face the realities of the situation and had to discharge the responsibilities and burdens placed upon them by the government of their country and they went through that fire step by step. Today, you might say with justice that Roman Catholics and Protestants do not exist; what exists now is that every man is a citizen, an equal citizen of Great Britain and they are all members of the Nation. Now I think we should keep that in front of us as our ideal and you will find that in course of time Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State. Jinnah, August 11, 1947 – presiding over the constituent assembly.

    ReplyDelete
  16. اپنے انتقال سے صرف چھ مہینے پہلے انہوں نے جو تقریر کی اسکا متن یہ ہے۔
    The constitution of Pakistan has yet to be framed by the Pakistan Constituent Assembly. I do not know what the ultimate shape of this constitution is going to be, but I am sure that it will be of a democratic type, embodying the essential principle of Islam. Today, they are as applicable in actual life as they were 1,300 years ago. Islam and its idealism have taught us democracy. It has taught equality of man, justice and fairplay to everybody. We are the inheritors of these glorious traditions and are fully alive to our responsibilities and obligations as framers of the future constitution of Pakistan. In any case Pakistan is not going to be a theocratic State to be ruled by priests with a divine mission. We have many non-Muslims --Hindus, Christians, and Parsis --but they are all Pakistanis. They will enjoy the same rights and privileges as any other citizens and will play their rightful part in the affairs of Pakistan. Broadcast talk to the people of the United States of America on Pakistan recorded February, 1948.
    جہاں تک اسد صاحب کی بات کا تعلق ہے۔ جب کبھی بھی کسی قانون کو مذہب کی آڑ دی جاتی ہے تو پحر اسکے خلاف کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ این آر او کی مثال سامنے ہے اسے غلط سمجھا گیا اور ہٹا دیا گیا۔
    لیکن اب حدود آرڈیننس پہ آئیے۔ اسکی رو سے زنا بالجبر کی شکار عورت کو اپنے لئے چار عینی گواہ کے ثبوت دینے ہونگے۔ اور نہ فراہم کرنے کی صورت میں وہی قصور وار سمجھی جائے گی۔
    جب اس قانون کو نافذ کیا گیا تو ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکی جسے باپ بیٹا نے اجتماعی زیادتی کا شکار بنایا تھا اسے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ باپ بیٹا تو عدم ثبوت کی بناء پہ رہا ہو گئے لیک چونہ وہ خاتون اسکے نتیجے میں ماں بننے والی تھی اس لئے اس پہ حد جاری ہو گئ۔
    اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کتنی ہی خواتین کو جائدادہتھیانے کے چکر میں حدود قانون کے چکر میں پھنسا کر جیل میں ڈالدیا گیا۔ لیکن اس قانون کے خلاف آواز نہیں اٹھائ جا سکتی تھی کہ یہ تو دین کے خلاف آواز بن جاتی۔ اسی طرح کتنے ہی لوگوں کو زمین اور جائداد ہتھیانے کے چکر میں توہین رسول کے قانون میں الجھایا گیا۔ یہ سب کیوں ہوا۔
    آج بھی۔ جتنی بھی انتہاپسند کارروائیاں ہوتی ہیں انکی مذہبی جماعتیں نہ مذمت کرتی ہیں اور نہ انکے خلاف تحریک چلاتی ہیں بلکہ انکو ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ اور انکے اعمال کی پردہ پوشی میں سب لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شدت پسندی دن بہ دن عروج پہ جا رہی ہے۔

    ReplyDelete
  17. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 6, 2010 at 10:20 PM

    اپنے قائد جیسا، ایسا ویسا کچھ تو نہرو صاحب نے بھی کہا ہوگا ۔ مذہبی بائس کے کارن تقسیم شدہ عوام کیلیلئے جمہیوریت کے خواب نہ صرف عوام اور جمہوریت دونوں کے ساتھ مزاق والی بات ہے ۔ باقی رہ گئی بات سمجھنے والوں کی کہ لعنت بھیجیں یا زیر لب مسکرا دیں ۔

    ReplyDelete
  18. http://nawaiadab.com/khurram/?p=1128&cpage=2#comment-2098

    عنیقہ برائے مہربانی اس موضوع پر بھی کچھ لکھیں!

    ReplyDelete
  19. عبداللہ، میرا خیال ہے کہ میں اس پہ پہلے بھی لکھ چکی ہوں۔ اگر اس مخصوص مسئلے یعنی حلالے کے بارے میں مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں ۔ تو ایک تو یہ کافی شعی سا مسئلہ ہے۔ جسکا دل چاہے اپنی شریعت کے حساب سے جس پہ وہ عمل کرتا ہے اختیار کر لے۔ مجھ سے کوئ مشورہ کرے کہ ایسا ہو گیا ہے کیا کیا جائے تو میرا مشورہ سخت ہوگا اور وہ یہ کہ جس نے آپکے ساتھ اتنا ظلم کیا کہ ایک دفعہ تین طلاقیں دیں۔ اسکے پاس حلالہ کر کے واپس جانے کی ضرورت نہیں۔ اپنی زندگی کا بوجھ خود اٹھائیں اور اگر اس پہ قادر نہیں تو کسی مناسب شخص سے دوسری شادی کر لیں مگر نو حلالہ۔
    مجھے لگتا ہے کہ جو انسانی فطرت ہے اور جو ہمارے مردوں کی فطرت ہے تو پھر وہ اپنی ایسی حلالہ کی ہوئ بیویوں کو وہ عزت نہیں دے پائیں گے جس کی وہ حقدار ہونگیں۔ اور بعد میں پھر اس قسم کے مسئلے کھڑے ہونگے۔ تو ایک دفعہ دل کڑا کر کے سخت فیصلہ کر لینا چاہءیے۔

    ReplyDelete
  20. اگر حدود آرڈیننس سے متعلق آپ کے تبصرہ کو درست سمجھ بھی لیا جائے تو بہت بہتر عمل ہوتا کہ اگر اس قانون کو ختم کرنے کی بات کرنے کے بجائے بہتر یعنی انہینس کیا جائے۔

    حدود آرڈیننس اور توہین رسالت پر اکثر یہ الزام لگتا رہتا ہے کہ اس کا غلط استعمال ہوتا رہا ہے اس لیے اس کا خاتمہ ضروری ہے۔ لیکن کسی بھی قانون کے غلط ہونے کے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اس کا استعمال غلط ہو۔ اور بھی دیگر قوانین ایسے ہیں، مثلاَ صوبہ یا ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا قانون، صدر کو نوٹیفیشکن کا اختیار وغیرہ بھی کئی بار غلط استعمال ہوا اور اس سے کہیں زیادہ نقصان بھی ہوا۔

    اس لیے عرض صرف اتنی ہے کہ مکمل قانون کو لپیٹ کر کچرے میں پھینک دیے جانے سے بہتر ہے کہ اس میں بہتری لائی جائے اور اس کے غلط استعمال کو ہر ممکن ذریعے سے روکا جائے۔ بجائے اس کے کہ اس کو ختم کرنے کی بات کی جائے۔

    ایک اور چیز کاروکاری بھی ہے۔ (اس کے بارے میں اپنے بلاگ پر تفصیل سے لکھنے کا ارادہ ہے) اس کے خلاف بھی قانون سازی موجود ہے، کاروکاری کو کسی آئینی ترمیم سے تحفظ نہیں دیا گیا اور نہ ہی کسی مذہبی و سیاسی جماعت نے اس کی حمایت کی، لیکن اب بھی وہ گاوں دیہاتوں میں عام ہے بلکہ جائیداد اور جہیز کی لالچ کا سب سے زیادہ شکار اسی روایت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ قانون کی موجودگی کسی خرابی کو بڑھاوا دیتی ہے میرے خیال میں مناسب نہیں۔

    ہر ہر جماعت کے ہیروز مختلف ہوسکتے ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کی واحد وجہ بھی مذہب نہیں بلکہ دیگر کئی وجوہات بھی ہیں۔ سوائے چند غیر مقبول جماعتوں کے شاید ہی کوئی جماعت ہو جو ملک میں حالیہ دہشت گردی کی مذمت نہ کرتی ہو۔ فرق صرف مذمت کی شدت کا ہے جو کہ بہرحال سبھی کے درمیان کے کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔

    ReplyDelete
  21. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 6, 2010 at 11:56 PM

    اچھی بھلی قائد کی باتیں ہو رہی تھیں ۔ امیوزمنٹ تھیم پھر واپس آگئی ۔ناجانے کس نالائق شاعرہ نے کہا ہے ۔
    جلایا بھی اسنے اور سچ مچ بھی جلایا اسنے ۔ کبھی موڈ کے بہانے اور کبھی امید کے بہانے ۔

    ReplyDelete
  22. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 7, 2010 at 12:10 AM

    چلیں جی اگر ایسا ہی ہے تو ایسے ہی سہی ۔
    ہمارے ہی کیا دیگر دوسرے بہت سارے معاشروں میں غریب اور عورت خود اپنے آپ ہی کیلئے مسئلے کھڑے کرنے کا کارن ہیں ۔ جہاں تک غریب بیچارے کی بات ہے کون سا غریب غربت کا جشن مناتا ہے ۔ اگر وہ کمپلین کرے تو پاگل، ناشکرا، لعنتی اور اینرجی ڈیفیشنٹ ۔نارمل ہو تو ادھر اودھر کی کہانی جدھر مرضی فٹ کرکے سنادو ۔ کم پیسوں میں مزدوری کراؤ اور امید کی کہانی سے شانت کردو یا دنیاوی خوابوں سے مطمعن کردو ۔ عورت کو جلاؤ یا سچ مچ جلا دو ۔ اجی لعنت بھیجو یا امیوزڈ ہو وو ۔ سب چلتا ہے ہیاں بھی اوں ویاں بھی ۔

    ReplyDelete
  23. اقتباس
    سوائے چند غیر مقبول جماعتوں کے شاید ہی کوئی جماعت ہو جو ملک میں حالیہ دہشت گردی کی مذمت نہ کرتی ہو۔

    تبصرہ
    اسد صاحب امید ہے اس تبصرہ پر آپ غور فرمائیں گے یا پھر غیر مقبول جماعت کی وہ تعریف بھی سامنے لائیں جس کی رو سے آپ نے جماعتوں کی درجہ بندی کی ہے کیونکہ کئی مقبول جماعتیں ہمیشہ دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ہی کوشاں نظر آئی ہیں بشمول ان کے ہمدردوں کے۔

    ReplyDelete
  24. تبصرے دیکھتا ھی رہا کچھ کہنے کی ہمت نہ ھوئی۔لیکن سمجھ نہیں آئی یہ قائد سے حلالے حرامے کی طرف بات کیوں نکل گئی۔اور آخر میں مقبول و غیر مقبول جماعتاں!!!ہ بحر حال عام بندے کیلئے دلچسپ چیزیں ھیں۔

    ReplyDelete
  25. دو دن پہلے کے اخبار میں خبر ہے اور کل تصویر بھی کہ طالبان کے زیر اثر علاقے میں تین افراد کے چوی کے الزام میں ہاتھ کاٹ دئیے گئے۔
    کیونہ چوری کی اسلامی سزا ہاتھ کاٹنا ہے۔
    کل کے ہی اخبار میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک طالبہ کو تصویریں لینے پہ ایک لڑکے نے نہ صرف اسے منع کیا بلکہ ہاتھوں اور لاتوں سے اسکی پٹائ لگادی، وجہ اس نے یہ بتائ کہ اسلام میں تصویریں لینا حرام ہے۔
    پاکستان ان ممالک میں سر فہرست ہے جہاں معاشرتی و مذہبی برداشت سب سے کم ہے۔
    دنیا بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے کسی نہ کسی طرح سے پاکستان سے ملتے ہیں۔
    عام زندگی میں ہر وقت ماشااللہ، جزاک اللہ اور الحمد للہ سننے کے بعد پاکستان ان ممالک میں سر فہرست آتا ہے جہاں گوگل سرچ پہ فحش سائیٹس سب سے زیادہ دیکھیں جاتی ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں گلی سے گذرتا ایک دم انجان آدمی ہو یا آپکے آفس میں کام کرنے والا کوئ ساتھی یہ کہنے سے نہیں چوکتا کہ دوپٹہ سر سے پہننا چاہءیے۔
    اگر اسکے پیچھے مذہب کا غلط استعمال نہیں ہے تو پھر آئیے ہم سب مل کر پھر سے سوچیں کہ یہ سب کیا ہے۔

    ReplyDelete
  26. @ راشد کامران

    میرے نزدیک وہ جماعتیں جو کم از کم ایک دہائی سے صرف الیکشن کمیشن کی فہرست تک محدود ہیں مثلاَ مہاجر قومی موومنٹ اور بلوچستان کی چند لسانی جماعتیں جن کا موجودہ حالات میں بھی کوئی کلیدی کردار نظر نہیں آتا، انہیں غیر مقبول ہی کہا جاسکتا ہے۔ رہی بات دہشت گردوں کی پشت پناہی کے الزامات کی تو میں آپ سے سب سے پہلے والا تبصرہ پڑھنے کی گزارش کروں گا۔

    @ عنیقہ ناز
    طالبان کے ادھورے آئین اور پاکستان کے مکمل آئین میں فرق سب کے سامنے موجود ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ اس لیے ان دونوں کا موازنہ کرنا ہی فضول ہے۔
    رہی بات اسلامیک یونیورسٹی کی تو یہ خبر صرف ایک لڑکے کے بارے میں ہے، جبکہ وہاں کئی سو لڑکے اور لڑکیاں پڑھتے ہیں انہیں تو تصویر لینے پر اعتراض نہیں۔ اس لڑکے کا رویا بالکل غلط قرار دینا اپنی جگہ لیکن ہمیں اجتماعی نوعیت پر موجود اچھائیوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ ایک لڑکے کی وجہ سے پوری یونیورسٹی کے طلبہ پر عدم برداشت کا الزام درست نہیں۔

    میں آپ کی اس بات سے بالکل متفق ہوں کہ فحش ویب سائٹس کا تناسب یہاں بڑھتا جارہا ہے لیکن اس میں مذہب کا قطعاَ کوئی قصور نہیں۔ مذہب تو ان تمام اخلاقی برائیوں کو ختم کرنے پر زور دیتا ہے۔ اگر میں آج ان تمام ویب سائٹس پر پابندی کا مطالبہ کروں اور کہوں کہ یہ خلاف اسلام ہیں تو بتائیے کتنے لوگ ہوں گے جو میرے شانہ بشانہ چلیں گے اور کتنے ایسے جو 'بیک ورڈ' کہ کر طنز کا نشانہ بنائیں گے۔

    خواتین کو زدوکوب کیے جانے کے واقعات میں بھی مذہب کے استعمال کی مخالفت کرنا چاہوں گا، کیوں کہ اسلام شرم و حیاء کی تعلیم دیتا ہے نہ کہ فحاشی کی۔ میرا دماغ تو اس کا قصور وار ان چینلوں کو قرار دیتا ہے جو جنس مخالف سے 'چپکنے' کا جذبہ ابھارتا ہے۔ چاہے وہ فلم کی صورت میں ہو، اشتہار کی صورت میں یا ناچ گانے کی صورت میں۔

    ReplyDelete
  27. تو پہلے تبصرے اور آخری کو ملا کر دیکھا جائے تو پی ایم ایل نون ، جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے تمام گروپ مین اسٹریم جماعتیں ہی کہلائیں گی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ان جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف کبھی دوٹوک رویہ نہیں اپنایا ہے۔۔ بلکہ ہمیشہ ہی مبہم بیانات سے خدا اور صنم دونوں کو راضی رکھنے کی کوشش ہی کی ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ تمام جماعتیں دہشت گردی کی مذمت کرتی ہیں درست نہیں اگر واقعی ایسا ہوتا تو کہ معاملہ ان نہج پر پہنچ ہی نہیں سکتا تھا۔

    ReplyDelete
  28. اسد صاحب، یہ شاید آپکو لگتا ہو کہ ایک دو لوگوں کی بات ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایک لڑکا اور لڑکی سے کوئ بھی راہ چلتا شخص یہ وپچھنے کھڑا ہو جائے کہ آپ دونوں کا کیا تعلق ہے۔ نفسیاتی سطح یہ ہے کہ جمعیت ایک پروفیسر کو مارتی ہے پھر بہاناہ بناتی ہے کہ چونکہ ہم نے امریکہ کے خلاف ریلی نکالی تھی اس لئے ہمارے ساتھ انتقامی کارروائ ہوئ، پھر اس بہانے نے کام نہیں کیا تو بات بنائ کہ کیونکہ ہم نے سیرت النبی پہ جلسہ کیا تھا تو یونورسٹی انتظامیہ کو یہ بات پسند نہیں آئ اور انہوں نے ہمارے طالب علم نکالے، پھر آخری حربہ پروفیسر موصوف کا کردار خراب تھا اور وہ یونورسٹی میں لڑکیوں کی عزتیں خراب کرتے تھے اس لئے انکی پٹائ لگائ۔ در ححقیقت کوئ دن نہیں جاتا کہ ہم اپنے ارد گرد یا دوسرے ذرائع سے کوئ ایسی بات نہ سنیں جو پمارے معاشرے کی دن بہ دن بڑھتی ہوئ تنگ نظری کو ظاہر نہ کرتی ہو۔
    جہاں تک ماحول کی خرابی کا تعلق ہے، انسانی تاریخ میں ایسا کون سا لمحہ نہیں آیا جب یہ آلودہ نہ ہو۔ اخلاقی طور پہ پاک صاف ، پاکیزہ ماحول تو رسول اللہ کے زمانے میں بھی نہیں تھا، جبحی تو ایک عورت زنا کی سزا کے لءے آئ تھی اور حضرت عمر فاروق نے شراب نوشی کی سزا پہ حد جاری کی۔آج لوگ ٹی وی کو الزام دھرتے ہیں۔ کل یہ الزام سینما اور ریڈیو کو دیا جاتا تھا۔ کئ سو سالوں تک کوٹھوں سے وابستہ تہذیب ہماری ثقافت رہی ہے اس وقت اس میں سے کوئ بھی چیز موجود نہ تھی۔ حتی کہ میر اور نظیر کے دور کی داستان پڑھیں تو ہم جنس پرستی بھی بالکل عام ہی بات تھی۔ اسکا خواتنی کے لباس سے کیا تعلق۔ جب خواتین کو انکے گھروں سے پالکیاں لیتیں اور چھوڑتیں تھیں۔ اور ایک عزت دار گھرانے کی عورت کے لئے اسکا ہاتھ نظر آجانا ہی سوہان روح بن جاتا تھآ اس زمانے میں بھی مرد گھروں کی بیویں کے علاوہ داشتائیں رکھتے تھے اور انکے خرچے اٹھاتے تھے۔ مزید تفصیل کے لئے رسوا کا ناول امراءو جان ادا پڑھ لیں تقریباً سو سال پہلے لکھا گیا ہے۔ نہیں تو شمس الرحمن فاروقی کا ناول کئ چاند تھے سر آسماں پڑھ لیجئیے۔
    جن خواتین کی فحاشی کے قصے ہر وقت دہوہرائے جاتے ہیں انکی تعداد پورے معاشرے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
    ویسے کبھی بہشتی زیور بھی اٹھآ کر پڑھئیے گا کہ اس میں کیسی خواتین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے اب ایسی خواتین کا زمانہ نہیں رہا ویسے بھی اس زمانے کے لحاظ سے بھی وہ فیوڈل معاشرے کے لئے موزوں خاتون تو ہو سکتی ہے لیکن آجکے اس زمانے میں جب ہم اس نظام کو توڑنے کی بات کرتے ہیں تو ہم اسے کوئ سپورٹ دینے سے قاصر ہیں۔
    یہ بات بھی صحیح نہیں ہے کہ آپ ان سائیٹس کو بین کرنے کی بات کریں۔ دنیا میںٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے ہم کب تک اسے بین کر سکتے ہیں۔ دنیا اب گلوبل ولیج بن گئ ہے سو یہ کوئ قابل عمل بات نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ ایک ایسے نظام کی ترویج کریں جہاں لوگ اپنے اندر اخلاقی مضبوطی رکھتے ہوں۔ جیسے ایران میں اسلامی قوانین کی موجودگی کے باوجود جسم فروشی ایک مشہور کاروبار ہے اور سعودی عرب میں شراب پہ پابندی کی وجہ سے لوگ اسے گھر میں تیار کرتے ہیں۔ اسی ملک میں عورت کے ڈرائیونگ کرنے پہ پابندی ہے کہ اس سے عورت کا اخلاق خراب ہوتا ہے مرد کا اس پہ کنٹرول نہیں رہتا اور اس طرح سے معاشرے کی اخلاقیات خراب ہوتی ہیں۔دراصل ایک زیادہ اسلام پسند معاشرے کا مطلب عورت کے لئے زیادہ پابندی والا معاشرہ لیا جاتا ہے۔ مگر شیخوں کے حرم کے حرم قائم ہیں کہ کنیزیں رکھنا اسلام میں جائز ہے۔
    اگر ہم اجتماعی نوعیت کی اخلاقیات دیکھیں تو اس معاملے میں تو مغرب ہم پہ فوقیت رکھتا ہے اور اگر میں غلطی سے بھی سڑک پہ پیر رکھدوں تو پورا ٹریفک رک جاتا ہے۔ میں یہ تصور بھی نہیں کر سکتی کہ راستہ چلتے وہاں مجھے کوئ ہاتھ مار دے گا۔ چہ جائیکہ کوئ میری پٹائ لگادے۔ پاکستان سے بہت لڑکیاں باہر جاتی ہیں اکیلے رہتی ہیں اپنی پڑھائیاں کرتی ہیں اور نوکریاں کرتی ہیں ذرا اتنی آزادی سے وہ پاکستان کی حدوں کے اندر رہ کر دکھادیں تو ہم بھی جانیں کہ ہماری اجتماعی اخلاقیات کیا ہیں۔

    ReplyDelete
  29. قائد اعظم کا پاکستان تو اس ہی ختم ہوگیا تھا جب وہ دنیا چھوڑ گئے تھے ۔۔ وہ کچھ عرصہ رہتے تو بنیاد مضبوط ہوتی پاکستان کی لیکن افسوس۔۔۔۔۔ ان کے بعد تو یہ آمروں لٹیروں غداروں کا پاکستان ہے ۔ ہندی میں ایک کہاوت ہے کہ جیسا راجہ ویسی پرجا (رعایا) ۔۔ تو ہمارے ہاں بھی جیسی حکومت ہے ویسی ہی عوام بھی ۔۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ