Sunday, May 23, 2010

خوشامد -۲

دل خوشامد سے ہر ایک کا راضی ہے
آدمی جن و پری بھوت بلا راضی ہے
بھائ فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہے
شاہ مسرور غنی شاد گدا راضی ہے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
اپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجئیے
اور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کجیئیے
انبیاء اولیا اور رب کی خوشامد کیجئیے 
اپنے مقدور غرض سبکی خوشامد کیجئیے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
چار دن جسکو خوشامد سے کیا جھک کے سلام
وہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کام
 بڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دام
خوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمام
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
مفلس ادنی و غنی کی بھی خوشامد کیجئِے
یا بخیل اور سخی کی بھی کوشامد کیجیئے
اور جو شیطاں ہو تو اسکی بھی خوشامد کیجیئے
گر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجیئے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
پینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجیئے
ہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجیئے
مست و ہشیار و دوانے کی خوشامد کیجیئے
بھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجیئے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
خوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھِتی ہے
غیر کیا اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہے
ماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا سیتی ہے
نانی دادی بھ خوشامد سے بلا لیتی ہے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
بی بی کہتی ہے میاں آ ترےصدقے جاءوں
ساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاءوں
خالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاءوں
سالی کہتی ہے بھیّا ترے صدقے جاءوں
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
آپڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسے
ڈھونڈھتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسے
آشنا ملتے ہیں اور چاہتے ہیں سب یار اسے
اپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
جو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے انساں 
جو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراں
ہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماں
جس نے یہ بات نکالی ہے میں اسکے قرباں
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
ہم نے ہر دل میں خوشامد کی محبت دیکھی
پیار اخلاص و کرم مہر ومحبت دیکھی
دل بروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھی
عاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھی
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے

اس نظم کے خالق نظیر اکبر آبادی ہیں۔

حوالہ جات؛

کلیات نظیر، مولانا عبدالباری صاحب آسی نے مرتب و مدون کیا، پبلشر، مکتبہ ء شعر و ادب لاہور۔

7 comments:

  1. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 23, 2010 at 10:02 PM

    اگر شاعر صاحب کی ایکسپلیسٹنس کو داد نہیں دی جائے تو ذیادتی ہوگی ۔ ایسی باتیں ہومر (ایچ۔او۔ایم۔ای۔آر) کے دور سے بھی کافی پہلے سے اب تک کافی لوگوں نے کہی ہیں ۔ویسے فرق صرف انداز بیان اور لوکلائیزیشن کا ہے اور بات وہی اقبال صاحب کی "مکڑا اور مکھی" والی ۔

    ReplyDelete
  2. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 23, 2010 at 10:12 PM

    ڈھونڈنے اور سمجھنے کی بات ہے ورنہ عصمت چغتائی صاحبہ نے بھی ایساکچھ ضرور کہا ہوگا ۔ مزید ذیادتی ایسا کہنے میں ہو گی کہ بانو صاحبہ نے ایسی باتیں کہی نہ ہوں ۔

    ReplyDelete
  3. بڑی مزیدار سیریز چل رہی ہے
    تیسری قسط کا انتظار ہے
    :)

    ReplyDelete
  4. ڈفر، آپکو مایوسی ہوگی یہ ختم ہوگئ۔
    اب اس پہ میں خود ہی کچھ تحریر کروں تو کروں۔ لیکن ابھ نہیں۔ ابھی تجربات کر کے لکھونگی۔
    ہیلو ہائے،
    :)
    عصمت چغتائ کا ایسا کوئ مقولہ نظر سے گذرا نہیں۔
    ویسے یہ آپ کرتے کیا ہیں۔ مجھے آپکے مضمون میں دلچسپی ہو رہی ہے۔

    ReplyDelete
  5. واہ نظم واقعی بہت اچھی ہے اور اس بات کی متقاضی ہے کہ میں اپنی پچھلی رائے میں کچھ نظرِ ثانی کروں،کچھ نرمی اختیار کروں ۔ ویسے بھی فطرتاً مجھ پر نظم نثر سے کہیں زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔

    شکریہ اس خوبصورت نظم کا۔

    ReplyDelete
  6. ميرے بارے ميں نظم کہاں سے ملی آپکو

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ