Monday, May 24, 2010

عام لوگ، خاص باتیں

عدالت کے مشورے پہ مستعفی ہونے والے جمشید دستی دوبارہ الیکشن میں  اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریباً پچپن ہزار عوامی ووٹوں سے جیت کر دوبارہ اسمبلی میں موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں۔ لیکن میرا دل اس پہ بہت کڑھا۔ بہت سارے دیگر لوگوں کو بھی صدمہ ہوا اور انہوں نےبرملا اپنی تحریروں میں اسکا اظہار کیا۔  لیکن عوامی عدالت نے یہ فیصلہ مسترد کر دیا۔ اپنے ایک وکیل ساتھی سے مشورہ لوں کہ اپنے دل کڑھنے کا کیا کروں تو وہ یہی کہیں گے کہ عدالت سے دوبارہ رجوع کریں۔
لیکن میں  ایسا نہیں کر رہی ، اسکی بہت ساری ٹیکنیکل وجوہات ہں جنکا آپکو اندازہ ہوگا۔ اور اس طرح میں بھی  تماش بینوں میں شامل ہوں۔ میں ان تماش بینوں میں بھی شامل ہوں جو ایک بلاگر  کی کراچی پریس کلب میں شامت آتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ انہوں نے توہین عدالت کی اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں عدالتی فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئیے تھا۔
ہمارے ایک اور ساتھی نے اس امرپہ افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں لبرل مسلمان زیادہ ہو گئے ہیں۔ ابھی کل ہی میری سوفٹ ویئر ہائوس میں کام کرنے والے ایک شخص سے بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے جو شخص ہمارے یہاں کلین شیو اور پینٹ شرٹ میں ملبوس آیا تھآ۔ آج وہ ایک بالشت کی داڑھی، سر پہ ٹوپی گھٹنوں سے نیچی جبہ نما قمیض اور ٹخنوں سے اوپر شلوار کے ساتھ موجود ہے۔ انکے بقول یہ صرف ایک شخص نہیں بلکہ میرے آفس میں اب ستر فی صد لوگ اس سے ملتے جلتے حلئیے میں ہیں جو نہیں ہیں وہ اندر سے ایسے ہی  ہیں جیسا کہ یہ اصحاب ظاہری طور پہ ہیں۔
انکے اس بیان سے تو لگتا ہے کہ یہ تائثر صحیح نہیں ہے کہ لبرل مسلمان بڑھ رہے ہیں۔ 
مزید انہوں نے کہا کہ لیکن اس ظاہری حلئے کی تبدیلی اور بعض موضوعات میں اپنے شدت پسند نطریات کے علاوہ ان میں وہ ہر برائ موجود ہے جو ایک نالائق، کم محنتی قوم کے افراد میں ہوتی ہے۔  ان میں جو صاحب نوے ہزار روپے ماہانہ لے رہے ہیں انہوں نے امریکہ میں مقیم ہمارے ایک پاکستانی مسلمان کلائینٹ کو جو پروجیکٹ تیار کر کے دیا ۔ اس میں کلائینٹ نے دو چار غلطیاں نکالیں ان صاحب نے دن بھر بیٹھ کر انہیں صحیح کیا اور شام کو اس کلائینٹ کو ای میل کیا کہ ہم نے اس پروجیکٹ کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے اس میں ایسی کوئ غلطی نہیں ہے وہ اسے دوبار دیکھے۔ یہ ایک جھوٹ تھا انہوں نے اس غلطی کو درست کیا تھا لیکن سچ کا اعتماد دینے والے اس ظاہری حلئے سے قطع نظر انہوں نے بلا جواز جھوٹ بولا۔ انکے افسر مجاز ان تمام لوگوں کی ایسی غلطیوں اور نااہلیوں کے لئے ڈھال بنے رہتے ہیں کیونکہ انکے رحجانات ملتے جلے ہیں۔ اور نتیجے میں ہماری کمپنی  چھ سال  پہلے جو معیار رکھتی تھی اب اسکا پچاس فی صد بھی نہیں رہا ہے۔
میں ایک عام پاکستانی مسلمان انٹر نیٹ یوزر سے پوچھتی ہوں کسی مسلم ملک میں یہ پابندی نہیںلگائ گئ۔ آپکا کیا خیال ہے یہاں کیوں ہے۔ جواب ملتا ہے کسی اور مسلم ملک میں صدر زرداری نہیں ہے۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ لیکن آپکا یہ بیان جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ بھاڑ میں جائے ایسی جمہوریت۔ لیکن میں اسکے بھاڑ میں جانے سے پہلے ہی اسکی راہ میں دیوار بن جاتی ہوں۔ اگر جمہوریت سے آپکو مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے ہیں تو اسکا علاج ہے مور ڈیموکریسی، سمجھے آپ۔ مور ڈیموکریسی۔ دو جوتوں کی کمی تھی ورنہ اسکے بیچ میں مجھے سیج دیتے۔ مور ڈیمو کریسی۔
 ان لوگوں سے ہٹ کر اتوار کا اخبار اٹھاتی ہوں۔ ڈان، جنگ، ایکسپریس، کسی بھی اخبار میں کوئ ایسا ایسا نامی گرامی کالم نگار یاد نہیں آرہا جسکا اتوار کے اخبار میں اسکے متعلق کوئ مضمون ہو۔ حالانکہ اتوار کے اخبار میں کوئ مضمون آنا بڑا اہم ہوتا ہے۔ یہ سب شاید روشن خیال ہو چکے ہیں، یا یہ سب لبرل مسلمان ہو گئے ہیں۔ اور اصلی تے وڈے اور سُچے مسلمان صرف بلاگنگ اور خاص طور پہ اردو بلاگنگ کی دنیا میں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے روائیتی طریقہ ء کار کو استعمال کرتے ہوئے جلدی سے روشن خیال ، لبرل اور قدامت پسند مسلمانوں کی صف بندی کر کے گنتی کر لی۔ سب پورے ہیں۔ خیر ہے۔ 
یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ اس تمام چیز کے لئے جو ریلیاں منعقد کی گئیں ان میں سولہ ، سترہ کروڑ عوام میں سے، سولہ سو لوگ بھی موجود نہ تھے۔
ہمارے ایک ساتھی نے اپنی تحریر میں مصری علماء کا فتوی لگایا کہ فیس بک حرام ہے۔ کیونکہ اسکی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان طلاقوں کی شرح میں ا ضافہ ہوا ہے۔
ایک اور فتوی انڈین دیو بندی مسلم علماء کی طرف سے جاری ہوا کہ وہ عورتیں جو ان آفسز میں کام کرتی ہیں جہاں مرد بھی ساتھ کام کرتے ہیں ان عورتوں کی کمائ حرام کی کمائ ہے۔ انہیں فی الفور اپنی ملازمتیں چھوڑ دینی چاہئیں۔ انڈیا وہ ملک ہے جہاں تیس فیصد سے بھی زیادہ عوام غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ اور جہاں مسلمان اس وقت ایک اقلیت میں ہیں۔ اس اقلیت میں مسلمان عوام کی اکثریت جنکے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ وہ  نحوست مارے روشن خیال ہیں، لبرل ہیں یا قابل فخر قدامت پسند انہوں نے اس فتوی کے خلاف نکتہ چینی کی اور ان علماء کو یہ کہنا پڑا کہ یہ انہوں نے فتوی نہیں دیا بلکہ کسی کے پوچھنے پہ مشورہ دیا تھا۔
میرا خیال ہے کہ کسی مسئلے کا سامنا کرنے کے لئے محض ایسے فتاوی کو پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس سے آپ اپنے فتووں کی حیثیت خود ہی کم کر دیتے ہیں۔
میرے سوفٹ ویئر ہاءوس والے ساتھی کا کہنا ہے کہ انکے کولیگ نے جو آئ ٹی کے شعبے سے متعلق ہونے کی وجہ سے نوے ہزار ماہانہ کماتے ہیں کہا کہ فیس بک اور دیگر سائیٹس پہ پابندی اس کرپٹ حکومت کا وہ واحد فیصلہ ہے جو مسلم حکومت کا فیصلہ لگتا ہے اور یہ کہ ایک مسلمان کو ہر وقت اپنا دنیاوی فائدہ نہیں اس سے بڑھ کر بھی دیکھنا چاہئیے۔
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اگر اس بندش کے نتیجے میں کمپنی کو پہنچنے والے معاشی نقصان کو انکی تنخواہ میں سے کاٹ لیا جائے تو کیا وہ یہ قربانی دیں گے۔
 میں جواب دیتی ہوں ان سے پوچھیں۔ وہ حیران ہو کر کہتے ہیں ان سے پوچھوں۔ یہ توایسا ہی ہوگا کہ کسی چرچ میں دہریت کی تعلیم دینے لگوں، ہائیڈل پارک میں طالبان کو برا بھلا کہوں، نائن زیرو میں الطاف حسین کو برا کہوں۔ کیا آپ کو یاد نہیں کراچی پریس کلب میں عواب علوی کے ساتھ کیا ہوا؟
وہی جو ایک شہرت کی خواہش رکھنے  والا دوسرے شہرت کی خواہش رکھنے والے کے ساتھ کرتا ہے۔ جبکہ میدان شہرت ایک ہی ہو۔ کسی اور نے لقمہ دیا۔ یقین رکھیں وہ 'کوئ اور'  میں نہیں تھی۔
ہمارے ایک ساتھی کے خیال میں کتنے لوگ انٹر نیٹ استعنمال کرتے ہیں کہ اسکے بند ہونے سے جہالت پھیل جائے گی۔ میرا حسن ظن ہے کہ انہوں نے مذاقاً کہا ہے۔ جنکے مقدر میں جہالت لکھ دی گئ ہے انکے علاوہ پاکستان کی سولہ کروڑ کی آبادی میں پونے دو کروڑ لوگ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ اس چیز کے حق میں ہیں کہ انٹر نیٹ کی تمام سائیٹس پہ پابندی لگا دی جائے تو آپ کتنے لوگوں کو جاہل بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ اسکا اب آپکو علم ہو گیا ہوگا۔  
اب ان ساری باتوں کا یہاں لکھنے کا مقصد ان سب چیزوں کا آموختہ نہ تھا بلکہ اپنے اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے یہ سب بیان کرنا ضروری تھا۔ آگے کی باتیں، آگے کی پوسٹ میں۔

34 comments:

  1. آپ بلاگرز خصوصا اردو بلاگرز کی واٹ لگانا کب بند کریں گی؟ :) ۔
    حالانکہ آپ کا مقولہ ہے کہ آپ کسی کی "اصلاح" نہیں کرنا چاہتیں، اس کے باوجود ہم غریبوں پر اتنی نظر؟

    ReplyDelete
  2. جب اردو بلاگرز ہر بات میں، روشن خیال اور لبرل مسلمان کی تسبیح پڑھنا بند کریں گے تب۔ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں، یہ انہیں جاننا چاہئیے۔ اور جیسے جیسے اردو بلاگنگ کا دائرہ بڑھے گا مزید لوگ اس واٹ لگانے کے عمل میں شامل ہوتے جائیں گے۔
    اصلاح تو میں واقعی نہیں کرنا چاہتی اس لئے کہ اصلاح کرنے والی خدا کی ذات ہے میں نہیں۔ میں صرف بیانات کی غلطیاں نوٹ کرواتی ہوں۔ اگر اس سے کسی کی اصلاح ہو جائے تو یہ بھی خدائے بزرگ و برتر کی عنایت ہوگی کہ دلوں میں خیال بھی وہی ڈالتا ہے۔ آپ کو تو شکرادا کرنا چاہئے کہ تصویر کا دوسرا رخ بغیر کوئ محنت کئے سامنے آجاتا ہے ورنہ بہت سارے لوگ بس حیران ہوتے رہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔
    اس لئے ہے آپ پہ یہ نظر۔ غریب کا لفظ ہٹا دیں، آپ پہ نہیں جچتا۔

    ReplyDelete
  3. محترمہ فتوی عربی کا لفظ ہے جس کا مطلب انگریزی میں opinion اور اردو میں رائے نکلتا ہے۔ فتوی فیصلہ نہیں ہوتا ایک عالم کی رائے ہوتی ہے جو وہ سیاق و سباق کو دیکھ کر دیتا ہے اور جو کہ غلط بھی ہوسکتی ہے۔
    میں بھی ساری عمر یہی سمجھتا رہا کہ مولوی کا کہا حرف آخر ہے، فتوی آگیا تو عدالت کا فیصلہ آگیا۔ میری یہ غلطی ذاکر نائیک کی ایک ویڈیو نے سدھاری، جس میں انھوں نے تسلیمہ نسرین کے خلاف قتل کا فتوی دئیے جانے، اس کے بھارت میں پناہ گزین ہونے کے تناظر میں ہونے والے مناظرے میں ایک ہندو عالم کے سوال کا جواب دیا تھا کہ فتوی فیصلہ نہیں رائے ہوتا ہے۔
    وسلام

    ReplyDelete
  4. اتنی جلدی آپ کی پوسٹ آنےکی امید نہیں تھی۔آپ تو پلک جھپکتے ھی آگیئں۔غلطیوں کی تصیح؟ یا غلطیاں گھڑ کر انہیں اچھالنا۔اسے اپنے مقصد کیلئے بہتان باندھنا کہتے ھیں۔اگلی پوسٹ کا کیا موادھو گا۔ابھی سے نظر آرھاھے۔
    گارنٹی کے ساتھ مجھے یقین ھے۔اگلی پوسٹ میں مسلمانوں کو اجڈ ثابت کیا جائے گا۔کیا دیوبندی غیر مسلم علما بھی ھوتے ھیں؟

    ReplyDelete
  5. ہیلو۔ہائے۔اےاواےMay 24, 2010 at 4:19 PM

    خاصی مشکل پہیلی جیسی کوئی بات لگتی ہے اسیلئے اپنا ماننا تو مجبوری ہے کہ اس تمہید کو پریڈکٹ نہ کر پائے ۔ چلیں دیکھتے ہیں کہ یہ تمہید، تمہید بالجواز بھی تھی کہ نہیں اور جو آپکو زیادہ جانتے ہیں انہی سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    ReplyDelete
  6. یہ وہی جمشید دستی ہیں جن کی جعلی ڈگری کیس کے سماعت کےدوران سپریم کورٹ کے ایک جج نے اپنے ریمارکس میں انہیں پوری پارلیمان کے لیے بے عزتی کا سبب قرار دیا تھا۔,,
    مجھے مخدوم امین فہیم کا قومی اسمبلی کا وہ تاریخی جملہ یاد آگیا کہ ’آصف زرداری یاروں کے یار ہیں۔

    ReplyDelete
  7. آپ کی اس پوسٹ کا مقصد کیا ہے؟ جبکہ میدان شہرت ایک ہی ہے۔ روشن خیال اور لبرل کہنے پر اتنا غصہ، ویسے آپ رجعت پسند، شدت پسند وغیرہ جیسے الفاظ اپنی ڈکشنری سے کب نکالیں گی؟

    ReplyDelete
  8. آپ کی اس پوسٹ کا مقصد کیا ہے؟ جبکہ میدان شہرت ایک ہی ہے۔ روشن خیال اور لبرل کہنے پر اتنا غصہ، ویسے آپ رجعت پسند، شدت پسند وغیرہ جیسے الفاظ اپنی ڈکشنری سے کب نکالیں گی؟

    ReplyDelete
  9. جمشید دستی کے جیتنے پر میں برابر کا دکھی ہوں لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ کیا ملک میں ایسا کوئی قانون ہے جو اسے دوبارہ الیکشن سے روکتا تو ایسا بظاہر نظر نہیں آتا کہ اس بار کوئی غیر قانونی عمل ہوا ہے۔ انکی پارٹی کو مسءلہ نہیں، ان کے ووٹرز کو مسءلہ نہیں تو اب وہ ممبر ہیں۔ جیسی عوام ویسا نمائندہ۔

    لبرل مسلمان کی تو مجھے سمجھ نہیں آتی۔۔ تاریخ کا کوءی بھی صفحہ کھول لیں مسلمان لبرل ہی نظر آئے گا۔۔ ڈیڑھ ہزار سال پہلے لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے والوں کے لیے انہیں لڑکیوں کا وراثت میں حصہ لبرل ازم کی انتہا تھی۔۔ آج بھی انسانوں کو جسمانی اور ذہنی زندہ درگور کرنے والوں اور معاشرے کے توہم پرست اور روایت پرستوں کو ایک اچھا مسلمان لبرل ہیں نظر آئے گا۔

    ReplyDelete
  10. دوست، اب میں رائے دوں تو اسکے لئے فتوی کا لفظ اصطلاحاً استعمال نہیں ہو سکتا اور اگر میں یہ استعمال کروں تو اسے طنز کے معنی میں لیا جائے گا۔ اس لئے میری رائے ، رائے ہی رہے گی اور اسے فتوی کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
    یقینی طور پہ فتوی ایک رائے ہے لیکن فتوی دینے کے لئے مخصوص دینی علم اور اس میں ایک خاص درجہ رکھنا ضروری ہے اسکے بغیر ہر عالم بھی فتوی نہیں دے سکتا۔ یہ میری محدود دینی علم اور تاریخ اسلامی سے حاصل کا نتیجہ ہے۔
    اب آپ پھر سے غور کریں کہ فتوی کیا ہے۔
    محمد وقار اعظم، جس دن آپ اپنی ڈکشنری میں شدت پسند کا لفظ ڈالیں گے میں اسی دن ہی اپنی ڈکشنری سے اسے نکال پھینکونگی۔ کیونکہ اسکے بعد میرا کام ختم اور آپکا شروع ہوگا۔
    روشن خیال اور لبرل کہنے پہ مجھے غصہ، نہیں نہیں یہ خبر دشمنوں نے دی ہوگی۔
    گمنام، اگر اگلی پوسٹ میں وہ نہ ہوا جس کی آپ نے پیشن گوئ کی ہے تو کیا آپ اپنا نام بتادیں گے۔ اصلی والا۔

    ReplyDelete
  11. جمشید دستی کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دیا ہے! اس کی کوئی تفصیل بتائیں گی؟؟؟ کیونکہ میرے علم میں ایسا کوئی فیصلہ سپریم کورٹ نے نہیں کیا!!!۔ اب یہ مت کہ دینا کہ میں نے بات کا کوئی اور مطلب لیا ہے!!! :(
    باقی شامت کھاتے ہوئے دیکھنے کے جرم پر بیان نعمان خود آ کر دیں مجھے کیا!!! :(

    ReplyDelete
  12. ڈاڑھی داڑھی ہے بریک نہیں کہ جھوٹ بولنے اور ڈانس کرنے سے روکے۔ داڑھی رکھنے والا جب تک یہ نہیں کہتا کہ میری داڑھی کا مطلب یہ ہے کہ میں سچا ہوں اور میری ہر بات ٹھیک ہے جب تک داڑھی یا کسی کی داڑھی کو الزام دینا بے وقوفی ہے
    اور سوری کیا میں نے لفظ "بے وقوفی" استعمال کر دیا
    اینی ویز
    گرُو کے گروں پہ اتنی جلدی عمل کی توقع نہیں تھی
    کم از کم آپ سے
    ;)

    ReplyDelete
  13. " میری یہ غلطی ذاکر نائیک کی ایک ویڈیو نے سدھاری، جس میں انھوں نے تسلیمہ نسرین کے خلاف قتل کا فتوی دئیے جانے، اس کے بھارت میں پناہ گزین ہونے کے تناظر میں ہونے والے مناظرے میں ایک ہندو عالم کے سوال کا جواب دیا تھا کہ فتوی فیصلہ نہیں رائے ہوتا ہے۔"

    دوست, آپکی ذاکر نائيک کے اس فتوی (رائے) کے بارے ميں کيا رائے (فتوي) ہے؟

    http://www.youtube.com/watch?v=ZMAZR8YIhxI

    ReplyDelete
  14. ”کیا دیوبندی غیر مسلم علما بھی ھوتے ھیں؟”

    آپ يہ ديکھ کے خود بتائيں دیوبندی غیر مسلم ہوتے ہيں يا نہيں؛

    http://www.youtube.com/watch?v=0sw6Qyqjh04

    ReplyDelete
  15. ہور کجھ۔۔۔۔
    مجھے تو آپ یقینا اب روشن خیال اور لبرل مسلمان کے زمرے میں شمار کرتی ہوں گی
    یا ابھی تک قدامت پسند ہی ہوں؟؟؟
    تازہ پوسٹوں کے بعد بھی؟؟؟
    ضرور بتائیے گا۔۔۔
    :D

    ReplyDelete
  16. اگر تو کسی نے کسی موضوع پر طبع آزمائی کرنی ہے تو اسے پہلے دوسرے لوگوں کی آرا بیان کرنی ہوتی ہے اور کوئی ناول بات نہ کر پانے کی صورت میں اپنے زاتی تجربات کی بات پر دوسرے لوگوں کی آرا کا کمپیریژن کرنا ہوتا ہے ۔جہاں تک کنکلوژن کی بات ہے سبجیکٹیو ہو ناولٹی گارنٹیڈ اور اگر آبجیکٹیو ہو تو بس ہاں میں ہاں ملانے والی بات ہی ہوگی ۔ کنکلوژن ہی کے زور بنا ایبسٹریکٹ ہی ایبسٹریکٹ کہلانے کے لائق ہوتا ہے ۔وگرنہ تو وہی ایبسٹریکٹ اور ویسا ہی ہاں میں ہاں ملانے والا کنکلوژن اور سب کچھ ٹھس پروگرام ۔

    ReplyDelete
  17. محترم شعیب صفدر صاحب،یہ ایک لنک ہے اسے دیکھئیے گا اور اسکا اردو ترجمہ کر دیں۔
    http://www.defence.pk/forums/national-political-issues/51860-jamshed-dasti-resigns-holding-fake-degree.html
    اس سارے سے نومان کا کیا تعلق۔ اس چیز کو کئ انگلش بلاگرز نے لکھا بلکہ جن پہ بیتی انہوں ے بھی لکھا۔ تو آپ نومان کو طیش دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    مکرمی و محترمی ڈفر صاحب، میں تو سمجھ رہی تھی کہ وہ گروں والی پوسٹ میں کچھ حصہ مجھ سے متائثر ہو کر بھی لکھا گیا ہے۔
    میں، حقیر تو روز اول سے ان موضوعات پہ لکھ رہی ہوں لیکن ڈیئر سر ، آپ نے اسکا اب نوٹس لیا۔ یقیناً اس میں میرا ہی قصور ہوگا۔
    اور یہ آپ نے کیا ظاہری سی بات کہہ دی۔ ڈانس تو خٹک ڈانس بھی ہوتا ہے۔ بہت سارے ڈانس ایسے ہوتے ہیں جس میں تلوار بھِ ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ڈانس کو رقص بھی کہا جاتا ہے۔ رقص موت کا بھی ہوتا ہے۔ اور رقص جب اپنے عروج پہ پہنچتا ہے تو زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔
    میں نادان، صرف یہ لکھنے کی کشش کر رہی تھی کہ یہ کہنا کہ بزعم خود قدامت پسند گنتی کے رہ گئے ہیں اور جو ہیں وہ سب لبرل ہوتے جا رہے ہیں۔ صحیح نہیں ہے۔ قدامت پسندوں کی تعداد میں دن دوگنی رات چوگنی اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ نئے سرے سے مسلمان ہونے والے لوگ چند موضوعات پہ شدت پسند نظریہ اپنانے، چند کلموں کو دوہرانے اور ظاہری حلئیے میں کچھ تبدیلیاں لانے کو ایک بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ البتہ عام زندگی کو برتنے میں انکے اندر کوئ تبدیلی نہیں آئ۔ تو منافقت کی اس شکل نے چیزوں کو اتنا خلط ملط کر دیا ہے کہ اب چیزوں کو ایکدوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں رہا۔

    گمنام، چونکہ یہ خبر میں نے انڈین ذریعے سے اٹھآئ ہے تو یہ ایسی ہی رہنے دیا۔
    جعفر، اتنا کچھ ہونے پہ بھی آپکو نہیں پتہ چلا کہ میں نے آپکو کیا سمجھا۔
    ضرور بتا دیا۔ اب؟؟؟

    ReplyDelete
  18. کیونجی، تو آپ نے اس ناول نام نام پہ کیوں زور آزمائ کی اب سمجھ میں آیا۔
    میری کوئ ایسی پوسٹ آپکی نظر سے گذری جس میں ، میں نے کسی قسم کا ایسا اعلان کیا ہو کہ حضرات و خواتین ہشیار، اردو بلاگنگ کی دنیا میں ایک ایسے بلاگ کی آمد جہاں صرف ناول خیالات پیش کئیے جائیں گے۔
    آپ بھول رہے ہیں میں ہوں پاکستانی۔ مرے پیارے قاری، مجھے افسوس ے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپکو ایسے ہی ٹھسے پروگراموں پہ گذارا کرنا پڑےگا۔

    ReplyDelete
  19. کیوں۔نہیں۔جیMay 25, 2010 at 11:18 AM

    بیکار کی ہی مارا ماری میں ہی تو اس دنیا کی خوبصورتی ہے اور یقینا ٹھسے پروگراموں کا بھی اپنا ہی مزا ہوتا ہے ۔

    ReplyDelete
  20. لوگ کیوں ایسا نہیں کرتے سے کوئی غرض نہیں ۔غرض تو اس سے ہے کہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں ۔
    پیور ریسرچ کی بات کی تھی اور ناول یا ناولٹی کا دیسی ترجمہ تو نہیں پوچھا تھا ۔

    ReplyDelete
  21. Before the verdict, when the court gave him time to resign, Dasti expressed his willingness for the same.
    دیکھ لیں سپریم کورٹ نے نا اہل قرار نہیں دیا بلکہ وجی تنازعہ ختم ہونے کی وجہ سے کیس ختم ہوا کہ جس جعلی ڈگری پر الیکن لڑا اُس سے دست برداری کے بعد کیس ختم اگر سپریم کورٹ فیصلہ دے دیتی تو جناب الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے۔ لہذا جملہ ٹھیک کر لیں کہ سپریم کعرٹ نے نااہل قرار نہیں دیا تھا۔
    آپ کو یہ بات ہضم نہیں ہو گی مجھے معلوم ہے مگر کیا کریں مجھے بھی علم کیمیا کی سمجھ نہیں آتی۔
    اگر سپریم کورٹ اُسے ناہل قرار دیتی تو آئین کی دفعہ 62 (g) کے تحت وہ قومی اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑ سکتا تھا۔۔۔۔

    کیا سمجھی آپ؟؟؟

    ReplyDelete
  22. روشن خیال اور لبرل مسلمان ,قدامت پسند شدت پسند اور فیس بک وغیرہ پیٹ بھرے لوگوں کی باتے ھے ،اگر عام بچارے پاکستانی سے پوچھے تو وہ کہیے گا ،، سانو کی ،

    ReplyDelete
  23. جمشید دستی کے دوبارہ منتخب ہونے پر تو مجھے بھی بہت دکھ ہوا اور یہ دکھ اس بات کا نہیں تھا کہ وہ دوبارہ منتخب ہوگئے بلکہ دکھ یہ تھا کہ جن لوگوں نے سب کچھ جانتے بوجھتے اُنہیں پھر منتخب کرلیااُن سے کوئی کیا اُمید رکھ سکتا ہے۔

    رہی بات آپ کی آنے والی پوسٹ کی تو اس کے بارے میں کیا کہوں کہ آپ کی تمہید میں کوئی نئی بات نہیں ہے یہ وہی جنگ ہے جو آپ اپنی دانست میں شدت پسندوں کے خلاف بڑی شدت سے لڑ رہی ہیں۔ لیکن میری رائے میں شدت پسندی کو شدت پسندی سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کے لئے معتدل رویّا ہی کام آئے گا۔

    ReplyDelete
  24. شعیب صفدر ، محترمی، یہ جو آپ نے آخری لائن لکںی ہے۔ اس سے پہلے جج صاحب کی لائن ہے اور یہ دونوں مل کر اس طرح پس منظر بناتے ہیں کہ،
    Justice Tariq Pervez said, ‘You cannot contest the by-elections if the court delivers verdict against you.’

    Before the verdict, when the court gave him time to resign, Dasti expressed his willingness for the same.
    یعنی جسٹس طارق نے جمشید دستی سے کہا کہ اگر کورٹ آپکے خلاف فیصلہ دے تو آپ ضمنی انتخابات نہیں لڑ سکتے۔ فیصلے سے پہلے عدالت نے جمشید دستی کو وقت دیا کہ وہ خود مستعفی ہو جائیں یا پھر عدالت کے فیصلے پہ انہیں نا اہل ہونا پڑیگا۔ آدمی سمجھدار تھے وہ کیا جسکا انہیں اشارہ دیا گیا۔
    آپکی بات صحیح ہے کہ کورٹ نے انہیں واضح طور پہ نا اہل نہیں قرار دیا۔ تو کیا یہ نہ سمجھا جائے کہ کورٹ اس طرح انکی راہ کی روکاوٹ نہیں بننا چاہتی تھی۔ یہ نتیجہ تو پہلے نتیجے سے زیادہ سنگین نہیں ہے۔ یعنی میں آپنی لائن کو تبدیل کرتی ہوں اور یہ کہتی ہوں کہ کورٹ کے مشورے پہ دستی صاحب نے استعفی دے کر الیکشن کڑنے کا فیصلہ کیا۔ آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ منتظر
    عنیقہ ناز

    کیوں نہیں جی، ناں جی، ہاں جی، واہ جی، کیوں نہیں ہاں، نہیں جی، آپکے کتنے نام ہیں۔
    محمد احمدصاحب، آپ تو ناراض لگ رہے۔ ہیں۔

    ReplyDelete
  25. عنیقہ صاحبہ ،

    میں ناراض ہرگز نہیں ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ اردو بلاگنگ کی فضا طعن و تشنیع اور ذاتیات سے نکل کر سنجیدہ بحث اور بحث برائے بہتر نتائج کی ہوجائے ۔

    ایک ممکنہ سوال یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ بات آپ سے کیوں کی جارہی ہے باقی لوگوں سے بھی تو یہ بات کی جاسکتی ہے تو صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ میرا خیال ہے کہ آپ میری بات کو زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہیں۔ اور سمجھانا اُسے ہی چاہیے جو سمجھ سکتا ہو۔ اُمید ہے کوئی بات آپ کو ناگوار نہیں گزری ہوگی۔

    ReplyDelete
  26. واہ جی! کیوں نہیں جی، واہ جی تو وا قعی مس ہو گیا تھا ۔ ابھی اسے استعمال کرنیکی ضرورت محسوس ہوئی تو نہیں تھی، پر کیا کریں جی اب تو اسکی ضرورت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا نا ۔شکریہ

    ReplyDelete
  27. اگر جو بھی لکھ لیں آپ کو معلوم ہونا چاہئے عدالتیں ہر بار ایک موقعہ دیتی ہیں ملزم کو غلطی درست کرنے کی اگر ممکن ہو۔
    مگر اس کے لئے عدالتی نظام کو سمجھنا پڑے گا ۔
    آپ اپنی سمجھ کے مطابق ٹھیک ہیں!

    ReplyDelete
  28. جو بھی لکھیں اُس پر قائم رہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو،

    ReplyDelete
  29. آپکو یہ غلط فہمی کیوں ہوئی کہ کچھ گر آپ سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہیں؟
    کوئی ہنٹ؟
    تو آپ کی نراضگی کی وجہ پوسٹ ہے؟
    فیر کوئی مسلہ نہیں
    میںکچھ اور سمجھ را تھا
    اب میں اپنے بلاگ پہ معافی نامے والی آپکی خواہش پوری کر سکتا ہوں
    :)

    ReplyDelete
  30. وکیل صاحب اتنی اسانی سے نہیں مانے والہ کیوں یہ بھی افتخار محمد چوہدری کی طرح دنیا کو ایک انکھ سے دیکھتے ھے،،
    سپریم کورٹ نے جمشید دستی کو نا اہل قرار دے دیا ہے۔
    لنک یہاں دیکھے

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/03/100325_jamshed_dasti_resigns.shtml

    ReplyDelete
  31. ڈفر یہ سب اس پوسٹ کا قصہ نہیں ہے۔ اور نہ وہ میری خواہش۔ میں بھی کچھ اور سمجھ رہی تھی اس لئے آپ سے کہا تھا۔
    شعیب صفدر صاحب، حاضر ہوں۔
    گمنام آپ بھی واہ جی کی طرح کوئ سیریز پکڑ لیں۔ تاکہ میرا بلاگ محض گمناموں کی وجہ سے بدنام نہ ہو۔ اور باقی لوگ بھی خوش رہیں کہ نام تو ہے، جھوٹا ہی سہی۔

    ReplyDelete
  32. بی بی سی نے خبر لگائی مگر خبر لگانے والا قانونی طور پر غلط ہے۔
    معاملہ یہ ہے کہ کیس یہ تھا کہ نقلی ڈگری کی بیاد پر الیکشن لڑا ہے آیا سیٹ چھورٹے ہو یا کیس پر فیصلہ سنایا جائے؟ اور سیٹ چھوڑ دی لہذا فیصلہ یہ آیا کہ چونکہ نقلی سند کی بیاد پر عہدہ لیا گیا تھا اور اب عہدہ سے استعفی دے دیا ہے اور یوں cause of action م ہو گیا ہے لہذا مقدمہ خارج۔
    اگر کیس میں سزا ہوتی تو مھترم سزا یافتہ ہو جاتے۔ وہ متعفہ ہوَئے تھے بی بی سی یہ خبر لگتا ہے کسی پھرتی کا نتیجہ ہے ورنہ نااہل ہونے کی وجہ سے سیٹ خالی نہیں وئی تھی تکنیکی طور پر۔
    اگر عدالت اپنے فیصلے میں نا اہل قرار دیتی اور عدالتی فیصلہ کی وجہ سے سیت سے ہاتھ دحونا پڑتا تو آءین کے آرٹیکل 62 (G) کے تحت وہ دوبار ہ الیکشن نہیں لڑ سکتا تھا۔
    میں نے کہا نا آپ اپنی سمجھ کے مطابق ٹحیک ہو!!!۔
    میں نے فیصلہ کسی سے مانگ کر پڑھا تھا ملا تو بلاگ پر پوست کر دوں گا!!!۔

    ReplyDelete
  33. اسلام علیکم
    جان کر خوشی ہوئی کہ انٹر نٹ پر اُردو میں کافی ا چھا کام ہو رہا ہے۔اور یہ بھی دیکھ کر خوشی ہوئی کہ خواتین کا ا س میں اہم کردار ہے خصوصی طور پر آپ کا،میں نے بھی ا س
    دریا میں چھلانگ لگائی ہے اُمید ہے آپ لوگ میرے سا تھ بھی تعاون کر یں گے۔جہان تک جمشید دستی کا سوال ہے جب تک ہما رے ملک میں جیالا کلچر ختم نہیں ہو تاایسے ہی ہو تا رہے گا۔
    ۔آپ سب کی خدمت میں حا ل ہی میں میرے سا تھ پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔میں سویڈن سے ڈینمارک بزریعہ ٹرین آ رہا تھا۔وہاں دو یونیورسٹی کے ساتھی مل گئے۔راستے میں پاک تو ستان
    کے ھالات ریر بعش آگئے۔بات نکلی تو پارٹییز پر آگئی۔سب کو تنقید کر نے کے بعد میں جب عوامی نیشنل پا رٹی تک پہنچھاکہ ا سفند یا ر ولی فیلمی سمیت ھملہ ہونے کے بعد بھا گ گئے اور کئی
    ماہ کے بعد پا کستان واپس آئے ۔اس پر وہ صا حب بولے کے آپ کو زیا دہ پتہ ہے یا مجھے ہم اس علا قے کہ ہیں ولی صا ھب وہا ں ہی تھے۔اب ہی آپ سب کو بھی پتہ ہے کہ وہ کس طر ح بھاگ گئے تھے
    لیکن ہم لوگوں میں یہی مسئلہ ہے کہ ہم اپنی لسی کو میٹھا سا بت کرنے کے لئے کچھ بھی کر جا تے ہیں غرض یہ کہ ہم لکیر کہ فقیر ہیں۔

    ReplyDelete
  34. صرف جمشید دستی کا معاملہ نہیں سا ری اسمبلی ہی ریجیکٹ شد ہ ہے لیکن ہم پھر بھی انہی لو گو ں کو ہر دفع منتخب کر تے ہیں۔یہ سب کسی نہ کسی طر ح آپس میں رشتوں میں منسلق ہینا
    لیکن عوام کو جزباتی تقریریں کر کہ لڑ واتے رہتے ہیں۔چند مشالیں بیان کر تا ہوں۔ملک قیو م کا ایک بھائی ن لیگ کا رکن اور بہن ق لیگ کی رکن،با بر اعوان پیپلز پارٹی اور ا ن کا با نجھا شکیل اعوان
    ن لیگ کا رکن۔احمد مختار ایک‌بھائی آرمی دوسرا سا بقہ چیئر مین پی آئی اے۔را نا شناءاللہ کا ایک کزن چیف جسٹس۔گوہر ایوب کی ایک بتھیجی بلو ر خا ندان کی بہو۔لسٹ بہت لمبی ہے جس کو
    جو را جائے تو اندر سے سب ایک ہیں

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ