Friday, July 2, 2010

نا معلوم

نواز شریف خانہ ء کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اچانک دل میں شدید تکلیف اٹھی۔ لگا کہ شاید دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ جس وقت انہیں ایمبولینس میں منتقل کیا جا رہا تھا انہوں نے اپنے ایک ایک چاہنے والے سے کہا فوراً لاہور فون کر کے کہو کہ داتا دربار پہ چالیس دیگیں چڑھا دیں۔
یہ ایک لطیفہ ہے جو آپ میں سے بیشتر لوگ برسوں سے سنتے آرہے ہونگے۔ یہ یقیناً اس عقیدت کی مبالغہ آرائ ہے جو اہلیان لاہور داتا دربار سے رکھتے ہیں۔ لیکن اسی دربار میں کل رات ایک خود کش حملہ آور نے جو کسی نا معلوم قومیت کا تھا اور ہم میں سے بیشتر اس خیال کے حامی ہیں کہ اسکا کوئ مذہب نہ تھا۔ اپنے آپکو بم سے اڑا دیا اور ساتھ ہی چالیس سے زائد معصوم، بے گناہ لوگوں کی جو اپنے مسائل کے حل کے لئے یا داتا صاحب کی محبت میں وہاں موجود تھے انہیں بھی خدا کی عطا کردہ بیش قیمت نعمت، زندگی سے محروم کر دیا۔
ابھی ابھی میں ایک پتلی سی کتاب پڑھ کر فارغ ہوئ ہوں جو انیس سو ننانوے میں ادارہ ء معارف اسلامی کی سرپرستی میں شائع ہوئ۔ جس میں مصنف نے سارا زور اس بات پہ دیا کہ خود کشی سیکولر سماج کی پیداوار ہے۔ اور پاکستان میں جہاں کہیں خودکشی ہوتی ہے یہ وہ علاقے ہیں جہاں سیکولیرزم اپنے قدم جما چکا ہے۔ اس کتاب کے دلچسپ اقتباسات پھر کبھی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس واقعے کی مذمت کرنی چاہئیے؟
یہ مذمت حکومت وقت کے خلاف ہونی چائیے؟ پاکستان کے ایک عملی طور پہ اسلامی مملکت نہ ہونے کے خلاف ہونی چاہئیے؟ خود کش حملوں کے خلاف ہونی چاہئیے؟ خود کش حملہ آوروں کے خلاف ہونی چاہئیے؟
نامعلوم خودکش حملہ آوروں کے خلاف ہونی چاہئیے یا معلوم خود کش حملہ آوروں کے خلاف؟
اگر ہم یہ مذمتی بیان نامعلوم خودکش حملہ آوروں کے خلاف کرتے ہیں جنکی قومیت اور مذہب نہیں معلوم، تو کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے آپکو اول درجے کامنافق نہ کہیں؟ 
کیا مذمت کرتے وقت ایسے نامعلوم خود کش حملہ آوروں کا تذکرہ کر کے  ہم مرنے والوں کا اور انکے لواحقین کا مذاق نہیں اڑاتے؟
ان نامعلوم حملہ آوروں کی جنکی کوئ قومیت اور مذہب نہیں ہے مذمت اور مرنے والوں کی تعزیت ہم کب تک کرتے رہیں گے؟
وہ کون سے فضائ، بری اور بحری راستے ہیں جنکے ذریعے یہ خود کش حملہ آور ہمارے ملک میں داخل ہو کر ہمارے شہریوں کو جان سے ختم کر دیتے ہیں؟
 مختلف علاقوں میں جو نام نہاد خود کش حملہ آور تیار کرنے کے کیمپس ہیں اور جہاں سے کچھ انتہائ بے وقوف لوگوں کی اطلاعات کے مطابق  یہ دھڑا دھڑ پھٹنے کے لئے بھیجے جا رہے ہیں کیا وہ سب کچھ بالکل جھوٹ پہ مبنی ہے؟
اور کیا کسی اور قوت نے انسانی کلوننگ کے ذریعے خود کش حملہ آور تیار کرنے کا طریقہ معلوم کر لیا ہے؟ کیا ہم یہ طریقہ اپنے دشمن پہ نہیں لگا سکتے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم خود کش حملہ آور بھیج کر دنیا بھر میں موجود اپنے دشمنوں کا قلع قمع کر دیں تاکہ ہمارے شہری اپنی عبادت گاہوں میں تو سکون سے جا سکیں؟
ان سوالوں کی فہرست خاصی طویل ہوتی جاتی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے بجائے کسی واقعے پہ اپنے تاثرات لکھنے کے میں صرف ذہن میں آنے والے چند سوالات لکھ دیتی ہوں۔ تاکہ ہمارے دیگر لوگ جو زیادہ بہتر طریقے سے کسی مسئلے کو حل کر لیتے ہیں وہ انکے مناسب جوابات دے سکیں۔
کیونکہ یہ سوالات ہیں جنہیں جانے بغیر ہم اپنا دفاع کرنے سے محروم ہیں۔ ایک خود کش حملہ آور کہیں بھی، کسی بھی وقت نمودار ہوگا اور خود جنت حاصل کر کے اپنے پیچھے سینکڑوں لوگوں کی زندگی جہنم بنا جائے گا۔
مذمتی بیانات تو سب ہی ڈال کر اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔ اس وقت یہ مذمت ذرا الگ انداز سے کرتے ہیں۔ جس سے مجھ جیسے کم علم لوگ بھی مستفید ہو سکیں۔ اور انہیں صحیح سے معلوم ہو کے انہیں کیا کرنا ہے۔ مذمت کرنی ہے، تعزیت کرنی ہے، تبرہ کرنا ہے، یا لعنت بھیجنی ہے۔ اور ان سب کا ٹارگٹ کسے بنانا ہے۔
اور ہاں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو خدا پوچھے۔ وہ  ایک نمبر کے دہشت گرد ہیں بس ان میں اوردیگر دہشت گردوں میں  یہ فرق ہے کہ انکے خود کش حملہ آور عام لوگوں کے درمیان نہیں پھٹتے۔ لیکن یہ بھی میں غلط ہی کہتی ہوں یہ دوسرے دہشت گرد ہمارے ملک سے تعلق ہی کہاں رکھتے ہیں۔ یہاں تو صرف ایک ہی طرح کے دہشت گرد ہیں اور وہ ہیں الطاف حسین کے دہشت گرد۔ 


64 comments:

  1. داتا دربار کو فرقہ واریت سے بالاتر ایک غیر متنازعہ مقدس مقام سمجھا جاتا تھا مگر دہشت گردوں نے اس مقدس جگہ کوبھی نہیں بخشا۔ یااللہ دہشت گرد طالبان پرخصوصی عذاب نازل فرما۔آمین

    ReplyDelete
  2. گوروں کے دیس میں‌رہ کر میں نے ایک "برُی" عادت یہ سیکھی ہے کہ انسانوں کی مختلف مذاہب اور اقوام میں‌ تخصیص کم سے کم کی جائے۔ کہ عملی زندگی میں‌ اس سے بیشتر مسائل حل ہو جاتے ہیں‌۔
    لیکن لگتا ہے کہ پاکستان میں یہ فارمولا الٹا ہے۔ بہرحال فارمولا جو بھی لگے۔ اللہ کرے مسائل انجام کو پہنچیں۔

    ReplyDelete
  3. Due to bomb blast in Lahore all blood groups are required in General, Services, Mayo and Ganga Ram Hospital Lahore. Pls donate blood and save life. Pls sms your blood group at 03214002042 or 03074002042 so you can be contacted at the time of emergency to save some one's life -[ via Bilal Javed]

    ReplyDelete
  4. آپ جیسی سمجھدار بلاگر جب قوم پرستی جیس فروعات میں الجھتی ہیں تو کچھ مزہ نہیں آتا ۔ یہ آپ کی سطح نہیں اسے دوسروں کے لئے رہنے دیں ۔

    ReplyDelete
  5. جناب میں تو دانش صاحب کی ولایت کا قایل ہو گیا ہوں انکو سب سے پہلے الہام ہوا ہے کہ حملہ طالبان کی طرف سے تھا ۔۔۔ حضرت آپ سے بیعت ہونا چاہتا ہوں کیا طریقہ کار ہو گا ؟؟؟

    ReplyDelete
  6. ابرار حسینJuly 3, 2010 at 2:17 AM

    پچھلے دنوں خبر پڑھی تھی کہ کراچی میں فرانسیسی انجینیروں کی بس پر حملہ اگوسٹا آبدوزوں کی کرپشن میں کسی تنازے کی وجہ سے تھا۔جب کہ اس وقت کوئی یہ بات سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
    یہاں ایسی تو کوئی بات نہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ گیم کے کھلاڑی واضح نہیں ہیں

    ReplyDelete
  7. اگر ہر وہ آدمی جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہے وہ دوسروں کو درست کرنے اور بغير ثبوت دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی بجائے اپنے قول و فعل اور کردار پر اچھی طرح نظر ڈالے اور اپنے فرائض کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو کچھ اچھا نتيجہ نکل سکتا ہے ۔ طنزيہ تحارير اور لمبے مباحث وقت کے ضياع کے ساتھ منفی عمل بھی ہيں

    ReplyDelete
  8. عثمان، آپ نے گوروں کی جس بری عادت کا حوالہ دیا ہے۔ وہ ان میں اس وجہ سے ہے کہ وہ مذہب اورقومیت کو انسان کے ذاتی معاملات میں گنتے ہیں۔ جبکہ ہمارے یہاں یہ چیز لا دینیت سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ لادین ہیں اس لئیے ایسا کرتے ہیں۔ اور آپکو انکی اس بری عادت کا حوالہ نہیں دینا چاہئیے۔
    پاکستان میں ایسا کرنے کا مطلب، نظریہ ء پاکستان کے خلاف ہونا ہے۔ اس لئیے ایسا ہونا ممکن نہیں۔
    ہمارے سارے مسائل کی جڑ ہی مذہب اور قومیت ہے۔ ہم اس سے ماوراء ہو کر اگر کچھ کر بھی ڈالیں تو باقی سارے ہمیں کھینچ کر پھر وہیں کھڑا کر دیتے ہیں۔ اب اگر میں اس پوسٹ کے ساتھ آخری پیرا نہیں لکھتی تو اس وقت اس سے زیادہ تبصرے ہوتے جس میں ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا گیا ہوتا کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ میں کراچی میں رہتی ہوں۔ سو اگر میں کچھ کہوں تو لازماً مجھے پہلے ان لوگوں کا حساب دینا چاہئیے۔
    لوگوں کی ایک اکثریت روایت پسند مسلمانوں کی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ ان تمام طاقتوں کی حمایت نہ کریں جو انہیں مذہب کے نام پہ نفرت اور قتل و غآرت کی دعوت دیتے ہیں۔ اسی طرح قومیتوں کے چکر میں یہ نا ممن ہے کہ آپ کسی کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ کچھ قومیتوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ اور ہمارا حکومتی نظام اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہم اس حقیقت کو مان کر اپنی پالیسی کو اس حساب سے مرتب نہ کریں۔ اسی وجہ سے مختلف ادوار میں پاکستان کھپے، جاگ پنجابی جاگ، جئیے مہاجر، بلوچ لبریشن فرنٹ، اور پختونخواہ کے نعرے ابھرتے ہیں۔ اور ابھرتے رہیں گے۔ لیکن انہیں بیان کرنے والا قابل مذمت ٹہرے گا۔ سب یہی کہتے رہیں گے کہ عام پاکستانی بڑا محبت کرنے والا ہے۔ جیسے میں عام پاکستانیوں کے درمیان نہیں رہتی۔ عام زندگی میں بھی جب مختلف قومیتوں کا ٹکراءو ہوتا ہے تو یہی طرز فکر ایک دوسرے کے خلاف دل میں بغض اور کینہ جنم دیتی ہے جسکے نتیجے میں ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ ایک شخص دنگ رہ جاتا ہے۔ اسکی وجہ کسی کی ایک شخص کا پس منظر نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ سے دلوں میں رہنے والی کدورتیں ہوتی ہیں۔ جو وہ آڑے وقت میں استعمال کرتے ہیں۔
    صرف آج کے دن سے محض اس بلاگنگ دنیا کے لوگ یہ تہیہ کر لیں کہ وہ ان مذہبی عناصر میں سے کسی ایک کی حمایت میں کچھ نہیں لکھیں گے۔ محض اس ایک قدم سے دیکھیں کیا فرق پڑتا ہے۔ مگر ایسا ہونا ناممکن ہے۔
    ابرار حسین صاحب، کئ دہائیوں سے جاری یہ کھیل کب واضح ہوگا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ ہماری حالت اس فقیر جیسی ہے جو اپنے زخموں کی ہولناکی دکھا کر بھیک اور ہمدردی سمیٹتا رہتا ہے۔ وہ اس زخم سے نجات نہیں پانا چاہتا۔ اور بالآخر وہ زخم ایک ناسور بن کر اسکی جان لے لیتا ہے۔

    ReplyDelete
  9. ان حملوں کے خلاف جمعہ کو اہلِ سنت مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے گئے تھے
    لاہور کی مال روڈ کے تاجران کی تنظیم کے صدر حامد ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے بعد سنیچر کو بھی دینی جماعتوں کی اپیل پر کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
    داتا دربار دھماکوں کے خلاف کراچی میں بھی ہڑتال کی گئی ہے اور صدر، ریگل روڈ اور زیب النساء سٹریٹ سمیت شہر کے بڑے کاروباری مراکز مکمل طور پر بند ہیں۔

    پنجاب اور سندھ کے برعکس صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہڑتال کی اپیل کا اثر دیکھنے کو نہیں ملا ہے اور پشاور سمیت صوبے کے دحگر شہروں میں کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔

    ReplyDelete
  10. عنیقہ- میرے خیال میں آپکی پوسٹ سے بھی اچھا آپ کا تبصرہ ھے -لیکن آپکے اس جملے میں کہ تمام بلاگرز آپکی طرح مذھبی عناصر کی حمایت میں نہ لکھیں کیا اس سوچ کو ھم طالبان والی سوچ نہیں کہیں گے ؟ کیا ھم سب اپنے اپنے نظریہ کے غلام نہیں ھیں ؟ شُکریہ

    ReplyDelete
  11. نواز شریف اتنے ہی شریف اور اصلی سیاست دان ہیں جتنے ان کے سر کے بال۔
    الطاف بھائی کو الزام مت دیں وہ کسی کو کیا کہتے۔وہ کیسے دہشت گرد ھوئےجی؟
    وہ آزاد ماحول میں مادر پدر آزاد معاشرے میں ترقی یافتہ مما لک کی تمام سہولیت سے مجبورا مستفید ھو تے ہیں ۔اور مستفید ھو نے کیلئے محنت مذدوری کرتے ہیں جی۔محنت کئے بغیران سہولیات سے مستفید نہیں ھوا جا سکتا کہ مہنگائی بہت ھوتی ھے ان ترقی یافتہ ممالک میں۔
    اب کبھی کبھار الطاف بھائی ٹیلی فونی خطاب کر لیتے ہیں تو اس میں دہشت گردی والی کیا بات جی؟یہ پٹھان اور پنجابی خوامخواہ جلتے ہیں۔سڑیل کہیں کے۔برائے مہربانی برطانیہ کی قومیت والوں کو آپ لوگ بدنام مت کریں۔

    ReplyDelete
  12. محترمہ کیا خوب بات کہی آپ نے کہ بھائی کے دہشت گرد عام لوگوں کے درمیان تھوڑی پھٹتے ہیں بس انہیں دور سے پھاڑ کر چلے جاتے ہیں۔
    دوسری بات یہ کہ جب آپ تصویر کا صرف اپنی پسند کا حصہ دکھائیں گی تو یار لوگ دوسرے حصے کے بارے میں بھی تو پوچھیں گے نا۔
    اور آخری پیرا تو بس دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے لکھا ہے۔ ویسے اس میں بھی آپ نے ڈنڈی مار ہی دی، ان الفاظ میں وہ کاٹ نہیں جو اوپر کے مضمون میں ہے۔۔۔۔۔
    :D

    ReplyDelete
  13. لاہور میں واقع داتا دربار میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرنی چاہے
    خود کش دھماکہ دیوبند مسالک سے تعلق پنجانی طالبان نے کیے
    لیکن ایک بات اور بھی ھے جناب جو بابا جی اپنی حفاظت کے لیے دوسروں کے محتاج ھو وہ کسی کی کیا مدد کرسکتے ،،

    ReplyDelete
  14. فرقہ واریت ایک المیہ ہے اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے تن آسانی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جہاں پر بھی کوئی دہشت گرد ی کا واقعہ ہوا حاکم وقت نے اسے القائدہ، طالبان، فلاں لشکر، فلاں جماعت، اور فلاں فرقہ پر ڈال کے ہاتھ جھاڑ لئے، کوئی ان سے پوچھے میاں سب مان لیا مگرکوئی ثبوت؟ کسی زمہ دار کو سزا؟ کچھ بھی نہیں، گزشتہ سالوں سے آپ بھی دیکھ رہے ہیں میں بھی۔ یہاں مسجد میں جمعہ کاشنکوف کے سائے تلے، جنازہ پر جامہ تلاشی، امام بارگاہ میں اور چرچ میں بندوق بردار بندے، مگر کسی سیاسی جلسہ میں دھماکہ نہیں ، کسی شادی بیاہ میں دھماکہ نہیں البتہ، مزاروں پر ، مسجدوں میں، مدرسوں میں ضرور ہوتے ہیں۔

    اس سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ کوئی ایسی قوتیں ہیں جو اس ملک میں مذہب اور مذہبیوں کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور کہیں انکا مقصد صرف اہلیان مذہب کو منتشرکرکے ملک میں افراتفری پھیلانا تو نہیں تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کرسکیں، اس میں صرف ملک دشمن قوتوں کو ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اور بھارت، امریکہ ، اسرائیل سے زیادہ کوئی اور بڑا دشمن نہیں،
    جو دوست نما بھی ہیں۔ دوست ہوئے جسکے تم دشمن اسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  15. نواز شریف خانہ ء کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اچانک دل میں شدید تکلیف اٹھی۔ لگا کہ شاید دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ جس وقت انہیں ایمبولینس میں منتقل کیا جا رہا تھا انہوں نے اپنے ایک ایک چاہنے والے سے کہا فوراً لاہور فون کر کے کہو کہ داتا دربار پہ چالیس دیگیں چڑھا دیں۔


    لگتا ھے جی ان صاحب کے سر کی ھریالی بھی داتا دربار پہ دیگیں چڑھا نے کی وجہ سے مجزاتی طور
    ھوئ ھے

    ReplyDelete
  16. یہ رائے جمیل احمد صاحب خان کے تبصروں پہ ہے ۔ جو انہوں نے آپ کی تحریر الٹا سیدھا پہ یعنی سابقہ تحریر پہ لکھے ہیں۔ چونکہ آپ کے بلاگ پہ نئے تبصروں کو جانے جانے کا کوئی طریقہ نہیں ۔ اسلئیے مبادا وہ نہ دیکھ سکھیں اس خدشے کے تحت یہ رائے یہاں لکھ دی ہے ۔ امید ہے آپ محسوس نہیں کریں گی۔

    جمیل احمد خان صاحب!

    بہت ممکن ہے آپ مسلمانوں کی موجودہ حالت پہ اپنے دل میں تڑپ رکھتے ہوں گے مگر مسلمانوں کی تاریخ اور مسلم انڈیا کے محض منفی پہلو کے سوا کوئی بھی مثبت پہلو کا آپ کو علم نہ ہونے پہ آپ کی لاعلمی پہ حیرت ہوتی ہے۔ کہ مسلمانوں کی تاریخ میں آپ کو محض سر سید احمد خاں کے سوا کوئی دوسرا اس قابل نظر نہیں آیا کہ اسکی محنت یا قربانی کو آپ ُ ُقابلِ ذکر“ سمجھیں۔علاوہ ازیں افتخار اجمل بھوپال صاحب کے متعلق آپ کے طرز تخاطب پہ بھی حیرت ہے۔ ایک بات کی وضاحت کرتا جاؤں کہ میرے سمیت کئی لوگوں کو اُن سے بوجوہ کچھ اختلافات رہے ہیں۔ مگر یہ طرزِ تخاطب ،۔۔۔۔ ؟ اللہ اللہ۔

    آپ سے گزارش ہے کہ ایک معمولی سی نظر ہی سہی مسلمانوں کی تاریخ پہ ڈال کر دیکھیں تو آپ کو بہت سے نام نظر آئیں گے ، جن کی صلاحیتوں کی وجہ سےیوروپ اور مغرب بھی کرتا ہے۔

    ایک اور موؤدبانہ گذارش ہے کہ یہ مسلمانوں کی تاریخ کو کھنگالنے کی خواہش کرنا آپ کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ آپ اسے ایک اسدعا سمجھیں۔ کیونکہ کسی معاشرے کے سود و زیاں پہ بہتر لکھنے کے لئیے اسکی تاریخی حقیقت کا جاننا از بس ضروری ہوتا ہے ورنہ ساری مشق کو کارِ بیکار سمجھا جاتا ہے اور آپکی خواہش کے مطابق ذہنوں کو اپیل ہونے کئ بجائے اسکا الٹا اثر ہوتا ہے ۔ اور قاری اسکو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہوئے اسمیں مین میخ نکالتا ہے۔‌

    ReplyDelete
  17. ازراہ کرم درستگی فرمالیں۔
    ۔تصحیح ۔۔۔۔جن کی صلاحیتوں کی وجہ سے انکی خدمات کا اعتراف یوروپ اور مغرب بھی کرتا ہے۔

    ReplyDelete
  18. بی بی!

    ایسا واقعہ کہیں بھی ہو کسی بھی مسلک کے مسلمان کا دل دکھتا ہے مگر شاید کسی نے سہی کہا ہے کہ عقل عیار ہوتی ہے سو بھیس بدل لیتی ہے اسے دلوں کے دُکھنے سے کیا لینا دینا۔

    آپ بات سادہ طریقے سے بھی کر سکتیں تھیں۔ کہ داتا دربار دہماکہ ہوا ۔ بے گناہ مارے گئے۔ اور اسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اور اگر یہ خود کش دہماکے ہیں تو انکے بارے میں پتہ چلایا جائے کہ ایسا کیونکر ہورہا ہے۔ کون سے لوگ اس میں ملوث ہیں اور انھیں فکری اور دنیاوی غذا کہاں سے مہیا ہوتی ہے۔ اس کا سدِ باب کیا جائے اور نائن الیون کے ٹوئن ٹاورز تو کب کے گر چکے مگر اسکا نزلہ مسلمانوں اور خاصکر پاکستان اور خطے کے مسلمانوں پہ کب تک گرتا رہے گا ؟ ۔ پاکستان کا ، امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کودنے سے پہلے تو پاکستان اور دنیا میں دہشت گردی کا یہ عالم نہیں تھا اور پاکستان میں خود کش دہماکوں کا تصور تک محال تھا ۔ خر وہ کونسی طاقتیں ہیں جو پاکستان کو اندرونی طور پہ کمزور کرنے کے در پے ہیں۔ کیا اسمیں کم عقل پاکستانی عناصر کو استعمال کرنے میں بھارت اسرائیل وغیرہ سمیت امریکہ کی المعروف ُ ُ دہشت گردی کے خلاف“ نام نہاد جنگ کا بھی ت ہاتھ نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ نیز جنہیں طالبان اور القاعدہ کا نام دیکر حکومت کے تمام گناہوں کا کفارہ حاصل کر لیا جاتا ہے ۔ کہ چلو جان چھوٹی ۔ کون تحقیق تفتیش میں جان کھپائے۔ سر مل گیا ۔ تصویر بنا لی۔ آخر یہ سارے دہشت گرد جو پکڑے جاتے ہیں۔ انہیں زمین کھا جاتی ہے یا آسمان۔؟ انکے مقدمات انسدادِ دہشت گردی کی کونسی خصوصی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں۔ اور کب اور کہاں انکو قانون کے مطابق قرارِ واقعی سزائیں دی جاتی ہیں۔؟

    مانا کہ دہشت گردی جیسی ہولناک قابلِ مذمت اور گھناؤنے کھیل کے آخری ایکٹر پاکستانی کم خواندہ یا نیم خواندہ کم سن اور نوجوان ہوتے ہیں ۔ جنہیں کم علمی اور غربت کے ہاتھوں کوئی بھی جنت کی ٹکٹ دکھا کر خرید سکتا ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکے لئیے سرمایہ ۔معلومات۔ تکنیکی مدد اور لاجسٹک اسپورٹ کون مہیاء کرتا ہے۔؟ ہماری ایجینسیاں کس چیز کے بدلے اسقدر فنڈز استعمال کرتی ہیں کہ انہیں معلوم نہ ہو آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں جو ملک میں ننگی دہشت گردی کو روکنے میں ناکام رہی ہیں۔ اگر انہیں علم ہے تو پھر کیا حکومت میں اتنی سیاسی تونائی نہیں کہ وہ اس مسئلے کو حل کر سکے۔؟ نیز اگر اس کے پیچھے بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی ہے تو بھی حکومت کی سردردی ہے۔ کہ وہ امریکہ سے کھُل کر بات کرے کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے یا دوست۔؟ کہ امریکہ بھارت کو بھی عزیز ترین رکھتا ہے اور اسے افغانستان میں ہمارے خلاف کام کرنے کا کھلم کھلا موقع ہی نہیں بلکہ معلومات بھی مہیا کرتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

    بی بی! چونکہ یہ سارا وغیرہ وغیرہ آپکی سردردی نہیں اور نہ ہی آپ کو اس سے سروکار ۔ آپ نے کوئی بھی موقع خالی نہ جانے دینے کو پالیسی سمجھتے ہوئے لگے ہاتھ نواز شریف بیچارے کی خبر لینے کے ساتھ ساتھ بیچارے الطاف بھائی کے دہشت گردوں کو ُ ُ کمتر دہشت گرد“ یا نچلے درجے کے دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو سنی تحریک کے خلاف نشتر پارک جیسے دہماکے نہیں کرتے بلکہ گولی کی دہماکی کرتے ہیں-

    ReplyDelete
  19. Pakistan: The crisis of Punjab -- Guardian Editorial

    No one in Pakistan, let alone Nawaz Sharif, who hopes one day to return to national power, can tolerate a policy of accommodating jihadis, or keep them as backroom allies in the mistaken belief that this is the best way of containing them. After the last two attacks, his brother Shahbaz cannot claim to have the situation under control in the Punjab. It is not and it needs a concerted police and intelligence operation (the army, too, needs to get off the fence) against all jihadis to settle the point of who runs the country's most populous province.

    http://www.guardian.co.uk/commentisfree/2010/jul/03/pakistan-nawaz-sharif-jihad-taliban

    ReplyDelete
  20. میرا مشورہ مانیں اور اپنے بلاگ کا نام شوخی تحریر سے بدل کے
    Anonymous said
    رکھ دیں۔۔

    ReplyDelete
  21. عنیقہ میں محمد ریاض شاھد کی بات کو آگے بڑھاؤں گا کہ آپ کی قیمتی ذھنی انرجی ضائع جا رھی ھے -اگر آپ جدیدسائینسی مضامیں کو اردو کے قالب میں ڈھالیں تو اردو کے ذخیرہ میں اضافہ ھوگا انگلش نہ جاننے والوں کو بھی جدید سائینسی مضا مین پڑھنے کو مل جائیں گے جس سے جہالت اور توہم پرستی دور ھوگی - میں ریاض صاحب کی اس بات سے سو فیصد متفق ھوں کہ آپ جن بکھیڑوں میں پڑرھی ھیں وہ بہت ھی نچلی ذھنی سطح کے ھیں - ھمیں دکھُ ھے کہ ایک اچھا ذھنی اثاثہ یوں برباد ھورھا ھے - ویسے آپکی مرضی آپ بہتر جانتی ھیں-شُکریہ

    ReplyDelete
  22. یاسر صاحب، مگر آپ اپنا مقابلہ الطاف حسین سے کیوں کرتے ہیں۔ یہ انکی اور تمام سیاسی لیڈران کی 'پیشہ ورانہ ذمہ داریاں' ہیں۔
    آپکا مقابلہ مجھ جیسے عام پاکستانی سے ہے ۔ جو ایسے ہر بم دھماکے کے بعد سوچتا ہے کہ اس سرزمین پہ رہتے ہوئے اس دھماکے کا شکار اسکے اپنے بچے اور اسکے اپنے پیارے بھی ہو سکتے ہیں۔ مجھے اپنے بچوں کا اور اپنے پیاروں کا تحفظ چاہئیے اور یہ ہر اس چیز کو جسے میں سمجھتی ہوں کہ وہ انہیں ایک محفوظ ماحول دینے میں رکاوٹ ہے میں اسکے خلاف بولنا اپنا پہلا فرض سمجھتی ہوں۔ جبکہ آپکے احساسات اس سلسلے میں قطعی اس نوعیت کے نہیں ہوتے۔ آپ ایک سیاسی نکتہ ء نظر سے چیزوں کو دیکھتے ہیں اور اسی نظر سے بیان دیتے ہیں۔
    جاوید گوندل صاحب، میرے بلاگ پہ اس وقت سائیڈ بار میں آپکو نئے تبصروں کا آپشن نظر آنا چاہئیے۔ اسے میں کچھ دنوں پہلے ہی ایکٹو کیا ہے۔
    جہاں تک امریکہ کے اس ووقت ساتھ دینے کی بات ہے۔ یہ عمل کوئ اس وقت شروع نہیں ہوا۔ ہمارے آزاد ملک کے پہلے آزاد سربراہ نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ امریکہ کا کیا تھا۔ اسکے بعد امریکہ کے تعاون سے اسلامی نفاذ کے جذبے سے معمور فوجی حکومت نے افغان جہاد امریکہ کے تعاون سے لڑا تھا۔ اس وقت امریکہ ان جہادیوں کا نگہبان تھا اور تمام مذہبی جماعتیں اسکے قصیدہ خوانوں میں شامل تھیں۔ انہیں اس وقت سوچنا چاہئیے تھا کہ پاکستان کو اسکی کیا قیمت دینا ہوگی۔ مگر مذہبی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود تو ہر چیز کا حل جہاد میں تلاش کرتے ہیں لیکن دوسروں کو بات چیت کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اب یہ جہادی نہ صرف ہر جگہ پھیل چکے ہیں بلکہ پاکستانیوں کی اکثریت اس وقت جس طرح جہاد کے جذبے سے لٹھڑی ہوئ ہے ویسی کوئ اوت قوم نہیں۔ چاہے وہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم مملکت انڈونیشیا کے عوام ہی کیوں نہ ہوں۔
    جعفر صاحب۔ نامعلوم قاتلوں، نامعلوم دہشت گردوں اور نامعلوم قوتوں کی شکار قوم کا ایک فرد اس طرح نامعلوم تبصرہ نگاروں سے تنگ ہو، سمجھ میں نہیں آتا۔ جہاں اتنے بہت سارے نامعلوموں کو برداشت کیا ہے انہیں بھی کر لیں۔ انکی وجہ سے آج تک آپ نے یہ تجویز نہیں دی کہ پاکستان کا نام نامعلومستان رکھ دیا جائے۔
    مجھے تو لگتا ہے کہ آپکو جلانے کے لئے وہ اور نامعلوم کا لفظ استعمال کرتے ہیں ورنہ اگر اپنے چار پانچ نام اس طرح کے، جاہل، سنکی، اے ڈبلیو، کے ڈبلیو، جانی پاکستانی وغیرہ رکھ لیں تو انکی شناخت بھی نہ پتہ چلے گی اور آپکو بھی شکایت نہ ہوگی۔ مگر لوگ اسی طرح کے حربوں سے اپنے مخلافین کو زچ کرتے رہتے ہیں۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا۔
    ایم ڈی صاحب، مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے۔ اس میں میری انرجی ضائع نہیں ہوتی۔ حقیقت کے کئ رخ ہوتے ہیں۔ میں ایک عام انسان کی زندگی زیادہ جیتی ہوں۔ یہ تو ہماری عام زندگی کے مشاہدات ہیں۔ ہم سب ملکر کیسے سوچتے ہیں یہی اصل زندگی ہے۔ باقی تو یہ کہ ہماری ایک مبصرہ نے ایک بہت مزے کا تبصرہ کیا تھا، مجھے ہمیشہ یاد رہے گا اور انکا یہ تبصرہ اس تحریر پہ تھا جو کاربن کی بہروپی اشکال کے بارے میں تھا۔
    پڑھئیے،
    کاربن کی بہروپی اشکال پہ سترہ تبصرے اور اپنی بہروپی اشکال پہ بیاسی۔
    یہ بیاسی تبصرے جو شاید اب سو کے قریب ہو گئے ہیں، حامد میر پہ لکھے جانے والی ایک پوسٹ کے متعلق تھے۔ اب آپ بتائیں لوگ زیادہ کس میں دلچسپی لیتے ہیں۔ میں تو پھر ان بلاگرز میں ہوں جو ہر قسم کے موضوعات کو جگہ دیتے ہیں۔ اور میں نہیں ہر شخص جو ذرا بھی پڑھنے لکھنے کا عادی ہو وہ ہر چیز میں ہی دلچسپی لیتا ہے۔ سر سید نے بھی سائینس ، مذہب اور سماجی مسائل سمیت بہت سارے موضوعات پہ لکھا۔
    میرا خیال ہے ریاض شاہد صاحب نے کچھ اور کہا ہے۔ وہ یہ تو نہیں چاہتے کہ میں صرف سائینس پہ لکھوں۔ مجھے یقین ہے وہ ایسا نہیں چاہتے۔

    ReplyDelete
  23. یاسر صاحب، مگر آپ اپنا مقابلہ الطاف حسین سے کیوں کرتے ہیں۔ یہ انکی اور تمام سیاسی لیڈران کی 'پیشہ ورانہ ذمہ داریاں' ہیں۔
    آپکا مقابلہ مجھ جیسے عام پاکستانی سے ہے ۔ جو ایسے ہر بم دھماکے کے بعد سوچتا ہے کہ اس سرزمین پہ رہتے ہوئے اس دھماکے کا شکار اسکے اپنے بچے اور اسکے اپنے پیارے بھی ہو سکتے ہیں۔ مجھے اپنے بچوں کا اور اپنے پیاروں کا تحفظ چاہئیے اور یہ ہر اس چیز کو جسے میں سمجھتی ہوں کہ وہ انہیں ایک محفوظ ماحول دینے میں رکاوٹ ہے میں اسکے خلاف بولنا اپنا پہلا فرض سمجھتی ہوں۔ جبکہ آپکے احساسات اس سلسلے میں قطعی اس نوعیت کے نہیں ہوتے۔ آپ ایک سیاسی نکتہ ء نظر سے چیزوں کو دیکھتے ہیں اور اسی نظر سے بیان دیتے ہیں۔
    جاوید گوندل صاحب، میرے بلاگ پہ اس وقت سائیڈ بار میں آپکو نئے تبصروں کا آپشن نظر آنا چاہئیے۔ اسے میں کچھ دنوں پہلے ہی ایکٹو کیا ہے۔
    جہاں تک امریکہ کے اس ووقت ساتھ دینے کی بات ہے۔ یہ عمل کوئ اس وقت شروع نہیں ہوا۔ ہمارے آزاد ملک کے پہلے آزاد سربراہ نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ امریکہ کا کیا تھا۔ اسکے بعد امریکہ کے تعاون سے اسلامی نفاذ کے جذبے سے معمور فوجی حکومت نے افغان جہاد امریکہ کے تعاون سے لڑا تھا۔ اس وقت امریکہ ان جہادیوں کا نگہبان تھا اور تمام مذہبی جماعتیں اسکے قصیدہ خوانوں میں شامل تھیں۔ انہیں اس وقت سوچنا چاہئیے تھا کہ پاکستان کو اسکی کیا قیمت دینا ہوگی۔ مگر مذہبی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود تو ہر چیز کا حل جہاد میں تلاش کرتے ہیں لیکن دوسروں کو بات چیت کا راستہ دکھاتے ہیں۔ اب یہ جہادی نہ صرف ہر جگہ پھیل چکے ہیں بلکہ پاکستانیوں کی اکثریت اس وقت جس طرح جہاد کے جذبے سے لٹھڑی ہوئ ہے ویسی کوئ اوت قوم نہیں۔ چاہے وہ دنیا کی سب سے بڑی مسلم مملکت انڈونیشیا کے عوام ہی کیوں نہ ہوں۔
    جعفر صاحب۔ نامعلوم قاتلوں، نامعلوم دہشت گردوں اور نامعلوم قوتوں کی شکار قوم کا ایک فرد اس طرح نامعلوم تبصرہ نگاروں سے تنگ ہو، سمجھ میں نہیں آتا۔ جہاں اتنے بہت سارے نامعلوموں کو برداشت کیا ہے انہیں بھی کر لیں۔ انکی وجہ سے آج تک آپ نے یہ تجویز نہیں دی کہ پاکستان کا نام نامعلومستان رکھ دیا جائے۔
    مجھے تو لگتا ہے کہ آپکو جلانے کے لئے وہ اور نامعلوم کا لفظ استعمال کرتے ہیں ورنہ اگر اپنے چار پانچ نام اس طرح کے، جاہل، سنکی، اے ڈبلیو، کے ڈبلیو، جانی پاکستانی وغیرہ رکھ لیں تو انکی شناخت بھی نہ پتہ چلے گی اور آپکو بھی شکایت نہ ہوگی۔ مگر لوگ اسی طرح کے حربوں سے اپنے مخلافین کو زچ کرتے رہتے ہیں۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا۔
    ایم ڈی صاحب، مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے۔ اس میں میری انرجی ضائع نہیں ہوتی۔ حقیقت کے کئ رخ ہوتے ہیں۔ میں ایک عام انسان کی زندگی زیادہ جیتی ہوں۔ یہ تو ہماری عام زندگی کے مشاہدات ہیں۔ ہم سب ملکر کیسے سوچتے ہیں یہی اصل زندگی ہے۔ باقی تو یہ کہ ہماری ایک مبصرہ نے ایک بہت مزے کا تبصرہ کیا تھا، مجھے ہمیشہ یاد رہے گا اور انکا یہ تبصرہ اس تحریر پہ تھا جو کاربن کی بہروپی اشکال کے بارے میں تھا۔
    پڑھئیے،
    کاربن کی بہروپی اشکال پہ سترہ تبصرے اور اپنی بہروپی اشکال پہ بیاسی۔
    یہ بیاسی تبصرے جو شاید اب سو کے قریب ہو گئے ہیں، حامد میر پہ لکھے جانے والی ایک پوسٹ کے متعلق تھے۔ اب آپ بتائیں لوگ زیادہ کس میں دلچسپی لیتے ہیں۔ میں تو پھر ان بلاگرز میں ہوں جو ہر قسم کے موضوعات کو جگہ دیتے ہیں۔ اور میں نہیں ہر شخص جو ذرا بھی پڑھنے لکھنے کا عادی ہو وہ ہر چیز میں ہی دلچسپی لیتا ہے۔ سر سید نے بھی سائینس ، مذہب اور سماجی مسائل سمیت بہت سارے موضوعات پہ لکھا۔
    میرا خیال ہے ریاض شاہد صاحب نے کچھ اور کہا ہے۔ وہ یہ تو نہیں چاہتے کہ میں صرف سائینس پہ لکھوں۔ مجھے یقین ہے وہ ایسا نہیں چاہتے۔

    ReplyDelete
  24. یاسر صاحب، مگر آپ اپنا مقابلہ الطاف حسین سے کیوں کرتے ہیں۔ یہ انکی اور تمام سیاسی لیڈران کی 'پیشہ ورانہ ذمہ داریاں' ہیں۔
    آپکا مقابلہ مجھ جیسے عام پاکستانی سے ہے ۔ جو ایسے ہر بم دھماکے کے بعد سوچتا ہے کہ اس سرزمین پہ رہتے ہوئے اس دھماکے کا شکار اسکے اپنے بچے اور اسکے اپنے پیارے بھی ہو سکتے ہیں۔ مجھے اپنے بچوں کا اور اپنے پیاروں کا تحفظ چاہئیے اور یہ ہر اس چیز کو جسے میں سمجھتی ہوں کہ وہ انہیں ایک محفوظ ماحول دینے میں رکاوٹ ہے میں اسکے خلاف بولنا اپنا پہلا فرض سمجھتی ہوں۔ جبکہ آپکے احساسات اس سلسلے میں قطعی اس نوعیت کے نہیں ہوتے۔ آپ ایک سیاسی نکتہ ء نظر سے چیزوں کو دیکھتے ہیں اور اسی نظر سے بیان دیتے ہیں۔




    افوہ!!!۔بی بی میرے اس سیاسی نکتے کی وضاحت کر دیں تو نوازش ھو گی۔
    آپ کا نکتہ نظر تو سب کو نظر آ رہا ھے۔
    آپ کے پیارے پاکستان میں رہتے ہیں تو میرے پیارے جہنم میں رھتے ہیں کیا؟آپ کا کیا خیال ھے میں نے اپنے بچپن کو پردیس میں اپنی زندگی کو اچھی سہولیات دینے کیلئے گذارا ھے؟یا اس وقت بھی اپنے لئے پر دیس کاٹ رہا ھوں؟آپ ایسا کریں جتنا کچھ آپ سیا سی ذمہ داریاں نبانے والوں کو دیتی ہیں انہیں ایک ماہ مت بھیجئےمجھے دے دیں میں پاکستان کے مسائلستان میں باقی زندگی گذاروں گا۔اور وعدہ کرتا ھوں۔نسلی لسانی تعصب سے پاک مسلکی لڑائی جھگڑے کے بغیر باقی زندگی پاکستانیوں اور انسانوں کی بہتری کیلئے وقف کر دوں گا(ویسے ابھی بھی یہی کچھ کر رہا ھوں)۔ویسے آپ کے پیارے ہیں کتنے؟میرے پیارے تو پورے پاکستان کے پاکستانی ہیں ۔ عظیم قائدالطاف حسین اگر سیاسی ذمہ داریاں نبا رہا ھے تو میں اپنے انسانی فرائض نبا رہا ھوں۔
    آپ نے شائد کتا مکھی تو دیکھی ھوگی جو کاہل کتے کا طواف کر رہی ھوتی ھے۔تو بی بی وہ کتا جوھے وہ اپنے لئے جیتا ھےیا بہت ھوا تو اپنے بلونگڑوں کیلے !!۔اس لئے کتا مکھی ہی اس کے آس پاس ھوتی ھے۔پردیسی انسان کاہل کتے کی طرح صرف اپنے لئے نہیں جیتااس لئے پردیسی کے پاس کتا مکھیاں نہیں ہوتی اپنے پیارے ھوتے ہیں جنہیں بہتر اور محفوظ زندگی پردیسی دینا چاہتا ھے۔اس لئے پردیس کی جیل کاٹتا ھے اگر پردیسی کے پیاروں کو تحفط نہیں ملتا اور ان کے لئے خطرہ محسوس کرتا ہے تو بڑا بے چین ھوتا ھےکہ زندگی انہی کیلئے جی رہا ھوتا ھے۔پردیس میں پردیسی کے پاس ہر زبان کے دیسی ھوتے ہیں جن سے وہ اپنا حال دل کہتا اور سنتا ھے۔تو پردیسی ان دیسیوں کے مسائل میں اور اپنے مسائل میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا اور نہ ان سے کسی قسم کا لسانی تعصب محسوس کرتا ھے۔صرف محبت ھوتی ان پردیسی دیسیوں سے۔جب ہم دیس کی محبت کا دعوی کر کے اپنے پیاروں کے مستقبل کے تحفظ کا نعرہ مار کر لسانی تعصب کرنے والے دانشوروں کی ذہنی پس ماندگی دیکھتے ہیں تو دکھ ھوتا ھے۔ذاتی مفاد کیلئے ہی جیتے نظر آتی ہیں۔
    ویسے ایک چینی نے اسی طرح کی بلاگنگ کر کے آسٹریلیا کی شہریت لی تھی کہ دیکھیں اتنے چھوٹے دل کے ہیں چائینیز ذرا سی ھتک برداشت نہیں ھوتی ان سے اور ثبوت یہ بلاگ کے تبصرے ہیں۔
    بحر حال ہم آپ کی حب الوطنی یا مسلمانی پر شک تو نہیں کر سکتے جی۔

    ReplyDelete
  25. عنیقہ- میں آپکی بات سے سو فیصد متفق ہوں سائنسی بلاگ آپکو زیادہ تبصرے مہیا نہی کریں گے -میرا مطلب بلکل بھی یہ نہیں تھا کہ آپ صرف سائینس پر لکھیں اگر میں اسطرح کہوں تو میری سوچ اورطالبان کی سوچ میں کیا فرق رہ جائے گا- میرا آخری جملہ اسطرح تھا کہ" آپکی مرضی ھے آپ بہتر جانتی ھیں " جب آپکی مرضی آگئی تو( صرف) سائینس پر لکھنے والی بات تو ختم ہوگئی کیا خیال ھے آپکا ؟ شُکریہ

    ReplyDelete
  26. آپ بھی بڑی متعصب ہیں، دیکھیں نہ تحریر کا آغاز نواز شریف سے کیا اور ٹیگز میں نواز شریف کا ذکر ہی نہیں لکھا، بلکہ بلکہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے ساتھ خود کش بمبار لکھ دیا۔

    ReplyDelete
  27. انگلستان کے چالی چیپٹن، ہندوستان کے نانا پاٹیکر اور پاکستان کے رنگیلا کے بعد اگر واقعی کسی کو اداکار کہا جاسکتا ہے تو وہ جناب الطاف حسین ہی ہوں گے۔ موصوف کی اداکاری کا میں بچپن سے قائل ہوں۔ 1991 میں جب میں پانچ برس کا تھا تو پہلی دفعہ الطاف حسین کو سنا اور اتنا متاثر ہوا کہ پھر کبھی کارٹون دیکھنے کا دل چاہتا تو وی سی پی پر الطاف بھائی کے ریکارڈیڈ بیانات چلا لیا کرتا تھا۔ سچ پوچھئے تو میں انکے فکر و دانش سے لبریز بیانات سے اتنا محضوض ہوتا تھا جتنا لوگ عمر شریف کے کے بکرا قسطوں پر دیکھ کر بھی نہیں ہوتے۔

    ویسے ان دنوں میرے ماموں الطاف حسین صاحب کے بہت قریب تھے لیکن بعد میں ناجانے انکو کیا ہوا کہ تبلیغی جماعت میں چلے گئے، خیر تبلیغ کے علاوہ اور کہیں کا سوچتے تو قبر بھیج دئیے جاتے۔ میری والدہ بھی ابتدا میں ایم کیو ایم کی مہاجر سوچ کی حامی تھیں 1988، 1990 اور 1992 انہوں نے ایم کیو ایم کو بڑے شوق و زوق سے ووٹ دیا التبہ میرے والد عجیب تھے کہ وہ کبھی الطاف حسین سے راضی نہ ہوئے۔ وہ 1978/9 میں جامعہ کراچی سے ایم انگریزی ادب کررہے تھے، یہ اے پی ایم ایس او کے نئے نئے دن تھے۔ انہوں نے سلیم شہزاد اور الطاف حسین کے معمولات کو قریب سے دیکھا تھا۔ اسی لئے کم از کم دو بار مرحوم "خالد بن ولید" جو چٹاگانگ، مشرقی پاکستان میں میرے والد کے اسکول فیلو تھے کے زریعے الطاف بھائی کے خیر سگالی کے بیانات اور پارٹی میں شمولیت کی دعوت کو وہ اپنی جوتے کی نوک کے نیچے رکھ چکے تھے۔ والد گرامی کا جنوری 2009 میں برضائے الہی انتقال ہوا تو پھوپھی محترمہ جن کے بڑے صاحبزادے ایم کیو ایم آمریکہ کے اہم ذمہ دار ہیں کو الطاف بھائی کا تعزیتی فون آیا، مجھے ایک بھی ایک لانگ ڈسٹینس تعزیتی فون کال کی پیش کش کی گئی لیکن میں نے اس غم کے موقع پر کسی مزاحیہ اداکار کی خدمت حاصل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کی سزا واٹر بورڈ میں سن کوٹے پر میری نوکری کی فائل کو مصطفی بھائی کے کسی بھائی نے ریجیکٹ کرکے دیا۔ حالانکہ مصطفی بھائی ملائشیہ کے راستے لندن فرار سے قبل ہمارے محلے (سیکڑت2/3، نارتھ کراچی) میں ہی رہتے تھے۔ میرے چچا کے پٹروس والا مکان ان ہی کا تھا اور خوب آنا جانا لگا رہتا تھا۔ وہ ان دنوں رات بر جاگتے اور سن بھر سوتے تھے اور گھر کا خرچہ بہوں کی کمائی پر چلتا تھا۔ مصطفی بھائی سمیت محلے کے کئی بھائی لوگوں کو 1992 اور 1993/96 آپریشن کے دوران پولیس کی پولیس گردی سے بچانے کے لئے میرے والد اور حمید انکل نے اپنے سرکاری اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا۔ مصطفی کمال سے یاد آیا کہ یوکے جاکر پارٹی کے خرچے (زکوۃ و صدقات) سے ایم بی کرنے سے پہلے میرے چھوٹے ابو یعنی چچا جو تنظیم اسلامی سے وابستہ ہیں، مصطفی بھائی کی محبت کا کچھ یوں شکار ہوئے کہ بقرعید میں قربانی کی کھال نہ دینے کے جرم میں کنپٹی پر ٹیٹی رکھنے جانے کے اثرات کا تجربہ ہوا۔ بروقت اگر میرے والد اور پھوپھی زاد بھائی کو نہ پا چلتا تو نہ جانے کیا ہوتا۔

    ReplyDelete
  28. انگلستان کے چالی چیپٹن، ہندوستان کے نانا پاٹیکر اور پاکستان کے رنگیلا کے بعد اگر واقعی کسی کو اداکار کہا جاسکتا ہے تو وہ جناب الطاف حسین ہی ہوں گے۔ موصوف کی اداکاری کا میں بچپن سے قائل ہوں۔ 1991 میں جب میں پانچ برس کا تھا تو پہلی دفعہ الطاف حسین کو سنا اور اتنا متاثر ہوا کہ پھر کبھی کارٹون دیکھنے کا دل چاہتا تو وی سی پی پر الطاف بھائی کے ریکارڈیڈ بیانات چلا لیا کرتا تھا۔ سچ پوچھئے تو میں انکے فکر و دانش سے لبریز بیانات سے اتنا محضوض ہوتا تھا جتنا لوگ عمر شریف کے کے بکرا قسطوں پر دیکھ کر بھی نہیں ہوتے۔

    ویسے ان دنوں میرے ماموں الطاف حسین صاحب کے بہت قریب تھے لیکن بعد میں ناجانے انکو کیا ہوا کہ تبلیغی جماعت میں چلے گئے، خیر تبلیغ کے علاوہ اور کہیں کا سوچتے تو قبر بھیج دئیے جاتے۔ میری والدہ بھی ابتدا میں ایم کیو ایم کی مہاجر سوچ کی حامی تھیں 1988، 1990 اور 1992 انہوں نے ایم کیو ایم کو بڑے شوق و زوق سے ووٹ دیا التبہ میرے والد عجیب تھے کہ وہ کبھی الطاف حسین سے راضی نہ ہوئے۔ وہ 1978/9 میں جامعہ کراچی سے ایم انگریزی ادب کررہے تھے، یہ اے پی ایم ایس او کے نئے نئے دن تھے۔ انہوں نے سلیم شہزاد اور الطاف حسین کے معمولات کو قریب سے دیکھا تھا۔ اسی لئے کم از کم دو بار مرحوم "خالد بن ولید" جو چٹاگانگ، مشرقی پاکستان میں میرے والد کے اسکول فیلو تھے کے زریعے الطاف بھائی کے خیر سگالی کے بیانات اور پارٹی میں شمولیت کی دعوت کو وہ اپنی جوتے کی نوک کے نیچے رکھ چکے تھے۔ والد گرامی کا جنوری 2009 میں برضائے الہی انتقال ہوا تو پھوپھی محترمہ جن کے بڑے صاحبزادے ایم کیو ایم آمریکہ کے اہم ذمہ دار ہیں کو الطاف بھائی کا تعزیتی فون آیا، مجھے ایک بھی ایک لانگ ڈسٹینس تعزیتی فون کال کی پیش کش کی گئی لیکن میں نے اس غم کے موقع پر کسی مزاحیہ اداکار کی خدمت حاصل کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کی سزا واٹر بورڈ میں سن کوٹے پر میری نوکری کی فائل کو مصطفی بھائی کے کسی بھائی نے ریجیکٹ کرکے دیا۔ حالانکہ مصطفی بھائی ملائشیہ کے راستے لندن فرار سے قبل ہمارے محلے (سیکڑت2/3، نارتھ کراچی) میں ہی رہتے تھے۔ میرے چچا کے پٹروس والا مکان ان ہی کا تھا اور خوب آنا جانا لگا رہتا تھا۔ وہ ان دنوں رات بر جاگتے اور سن بھر سوتے تھے اور گھر کا خرچہ بہوں کی کمائی پر چلتا تھا۔ مصطفی بھائی سمیت محلے کے کئی بھائی لوگوں کو 1992 اور 1993/96 آپریشن کے دوران پولیس کی پولیس گردی سے بچانے کے لئے میرے والد اور حمید انکل نے اپنے سرکاری اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا۔ مصطفی کمال سے یاد آیا کہ یوکے جاکر پارٹی کے خرچے (زکوۃ و صدقات) سے ایم بی کرنے سے پہلے میرے چھوٹے ابو یعنی چچا جو تنظیم اسلامی سے وابستہ ہیں، مصطفی بھائی کی محبت کا کچھ یوں شکار ہوئے کہ بقرعید میں قربانی کی کھال نہ دینے کے جرم میں کنپٹی پر ٹیٹی رکھنے جانے کے اثرات کا تجربہ ہوا۔ بروقت اگر میرے والد اور پھوپھی زاد بھائی کو نہ پا چلتا تو نہ جانے کیا ہوتا۔

    ReplyDelete
  29. یار یہ کاشف نصیر صاحب بھی بڑے متعصب، تنگ نظر، بنیاد پرست، جاہل، دقیانوسی، عقل کے اندھے اور ایسے ہی ساری دوسری خصوصیات کے مالک ہیں۔۔۔
    اتنے نیک، پرپیز گار، پاک لوگوں پر ایسے الزامات۔۔
    توبہ میری یا اللہ
    توبہ
    اے اللہ تو کاشف نصیر کو ہدایت دے
    نہیں تو ایک ٹی ٹی کی گولی دے۔۔۔
    آمین

    ReplyDelete
  30. کاشف نصیر۔۔
    آپ کا بیان کافی دلچسپ ہے۔ اور خاص طور پر میرے جیسے بندے کے لئے جو کراچی کی سیاست کے بارے میں‌کچھ ذیادہ نہیں جانتا۔۔کافی حیرت انگیز ہے۔
    امید ہے کہ آپ کے مشاہدات آپ کے بلاگ پر پڑھنے کو ملتے رہیں‌گے۔

    ReplyDelete
  31. لاہور میں واقع داتا دربار میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرنی چاہے
    خود کش دھماکہ دیوبند مسالک سے تعلق پنجانی طالبان نے کیے

    پورا پاکستان اور میرا جی پورا یقین ھے ان خود کش حملہ میں دیوبند مسالک سے تعلق جماعت اسلامی ملوث ھے ،،

    ReplyDelete
  32. This comment has been removed by a blog administrator.

    ReplyDelete
  33. ،کاشف،نصیر بھائ جی میرا بھی یہ ہی خیال ھے،،

    ReplyDelete
  34. اؤں تم سب پاگل ھؤ ، ھر جگہ پنجابی طالبان ھی نظر اتے ھیں ،

    ReplyDelete
  35. نواز شریف خانہ ء کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ اچانک دل میں شدید تکلیف اٹھی۔ لگا کہ شاید دل کا دورہ پڑنے والا ہے۔ جس وقت انہیں ایمبولینس میں منتقل کیا جا رہا تھا انہوں نے اپنے ایک ایک چاہنے والے سے کہا فوراً لاہور فون کر کے کہو کہ داتا دربار پہ چالیس دیگیں چڑھا دیں۔


    لگتا ھے جی ان صاحب کے سر کی ھریالی بھی داتا دربار پہ دیگیں چڑھا نے کی وجہ سے مجزاتی طور
    ھوئ ھے

    ReplyDelete
  36. اوئے سارےپاکستانیوں اور پنجابیوں اور جماعتیوں اور خوامخواہیوں کو یہی بلاگ ملا تبصروں کیلئے؟

    ReplyDelete
  37. کسی صاحب دل نے میرے نام سے آخری تبصرہ کیا ہے۔۔۔
    ویسے تو انداز سے پتہ چل جاتا ہے کہ کون سا بندہ چولیں ماررہا ہے۔۔
    پھر بھی احتیاطا لکھ دیا ہے کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔۔
    آئی پی ایڈریس چیک کریں جی عنیقہ بی بی اس محترم ہستی کا۔۔۔
    کل کو کوئی واہی تباہی میرے نام سے لکھ گئے تو مشکل ہوجائے گی۔۔۔

    ReplyDelete
  38. عنیقہ ناز صاحبہ سے گزارش ہے کہ اس صفحے پر دیوبندیوں پر الزام کے حوالے سے ایک تبصرہ میرے نام سے شائع پوا ہے، یہ کسی اوچھے شخص کی حرکت معلوم ہوتی ہے۔ اس کو فوری طور پر ڈیلیٹ کریں۔ یہ حرکت بلکل بھی مناسب نہیں۔

    ReplyDelete
  39. کاشف نصیر بڑی محنت کی ہے سو کالڈ ایم کیو ایم کے پول کھولنے میں،اب یہ بھی بتادو کہ جہنم میں کونسی جگہ پسند کروگے ان جھوٹی کہانیوں کے بدلے میں! :)
    ویسے یہ تمھاری ہی تحریر ہے نا؟؟؟

    http://smkashif.blog.com/2010/02/11/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d8%b3%db%92-%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%a7-%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82/
    تمھاری ان کہانیوں پر صرف کوئیں کے مینڈک ہی یقین کرسکیں گے،باقی وہ لوگ جو آنکھیں اور کان کھلے رکھتے ہیں ،انہیں الٹا تمھارے بارے میں شبہ ہوسکتا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھی ہونے کی حیثیت سے تم اس ایجینڈے پر عمل کررہے ہو کہ کسی طرح ان دہشت گردوں سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جائے اور ایک مشترکہ دشمن ایم کیو ایم پر لگادی جائے!
    کہتے خود کو کراچی کا ہو مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا!

    لیکن ایک بات ہے، خود کو خوب پہچانتے ہو ،
    اس تعارف کے بعد ان تبصروں کی سمجھ آتی ہے! :)
    ۔بس یہ سمجھ لیجئے کہ اس نکمے کو جو زندگی کے تئیس برس مکمل کرچکاہے، ابھی تک بچپن کے کھیل سے خود شناسائی اور خود اگاہی کی فرصت ہی نہیں ملی۔ اس لئے مجھے نہیں معلوم کے میں کون ہوں۔البتہ لوگ مجھے اپنے والد کی شخصیت کے سحر میں گرفتار متکبر صاحبزادہ، بہنوں کاوارفتہ بھائی،ماں کاڈرپوک لاڈلا، نانانانی کی کل متاع، دوستوں کا ملال، محبوب کا جمال، زبان و بیان اور صحافت و مذہب کا طالب علم،عشق و وفا کے راستے کا ایک پیادہ مسافر، اتنہا پسند، خوامخوا کا نقاد ،کٹھ ملا، نفسیاتی مریض،پاگل دیوانہ ، پکاو اور ناجانے کیا کیا بتاتے ہیں۔
    http://smkashif.blog.com/2010/06/22/%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%88%d9%86-%db%81%d9%88%da%ba/#comments
    لو تم بھی کیا یاد کرو گے تمھارے بلاگ کی مشہوری کروادی ہے تاکہ جو دوسروں کے لیئے مرہم بیچتے ہیں وہ اپنے مرہم کے لیئے تم سے رجوع کرسکیں! :)

    ویسے سی سی پی او لاہور اسلم ترین کی آج کی پریس کانفرنس تو تم نے دیکھ ہی لی ہوگی اور یہ بھی پتہ چل گیا ہوگا کہ اصل دہشتگرد کون ہیں اور کہاں ہیں!!!!!!!

    ReplyDelete
  40. کاشف نصیر صاحب، میرے پاس واقعی بھیانک حقیقتوں کا ایسا اسٹآک موجود ہے جسے بلاگ پہ ضائع کرنا مناسب نہیں۔ آپ انیس سو اکیانوے میں پانچ سال کے تھے اور پیدائش میں اتنی تاخیر کے باعث آپ نے بڑی کلاسک چیزیں مس کر دیں۔آپ کے رشتےدار محض ٹیٹی سے گھبرا گئے۔ ہم نے ایک ہی دن میں اتنے جنازے اٹھتے دیکھے کہ اب اس بات کی اہمیت نہیں کہ ٹی ٹی کان پہ کیسی لگتی ہے۔ کچھ عرصے پہلے ہم ایک رشتے دار کے گھر کے سامنے بیل بجانے سے پہلے ہی دھر لئے گئے۔ ٹی ٹی کے زور پہ۔ آپکی حیرانی کے لئے ہمیں ٹی ٹی پہ رکھنے والے بات چیت سے سرائیکی لگ رہے تھے۔ خیر جب لٹ لٹا کر فرصت پائ اور گھر کے اندر داخل ہوئے تو سب لوگوں کو یقین نہیں آیا۔ انکا خیال تھا کم از کم مجھے کانپنا تو چاہئیے تھا۔ واقعے کے خوف سے۔
    جامعہ کراچی میں جماعتیوں کو اور پی ایس ایف والوں اور اے پی ایم ایس او والوں ان سب کو ایکدوسرے کے پیچھے پستولیں لیکر بھاگتے دیکھا۔ یہ دیکھا کہ جماعتی ایک بلڈنگ پہ اسلحے لیکر فائرنگ کر رہے ہیں اور اے پی ایم ایس او یا پی ایس ایف دوسری بلڈنگ پہ اور ہم پوائینٹس کے ٹرمینل کے پاس بے سہارا انتظار کر رہے ہیں کہ کون خلاصی کرائے گا۔ ابھی کچھ دنوں پہلے ایک صاحب سے بات ہو رہی تھی جنہوں نے خود بتایا کہ کس طرح وہ این ای ڈی میں پی ایس ایف کے نمائندے تھے اور اسلحہ تقسیم کرتے تھے۔ تو کراچی کی حد تک کسی بھی قومیت اور کسی بھی سیاسی پارٹی چاہے وہ جماعت ہو یا سنی تحریک والے یا پیپلز پارٹی یا ایم کیو ایم کسی کو بھی یہ کہنے سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ اسلحے کے بل پہ سیاست نہیں کرتے۔

    اب ان سب باتوں کا داتا صاحب کے مزار پہ دھماکے سے کیا تعلق ہے۔ کیا اسکا مطلب ہے کہ چونکہ جماعت اور دیگر دہشت گرد مذہب کی ڈھال لئے ہوئے ہیں اس لئے انہیں کچھ نہ کہا جائے۔ باقی کی دیگر جماعتیں چونکہ فرزند زمین قسم کے تعلق سے جڑی ہوئ ہیں اس لئے انکے لئے معافی ہے کہ وہ جو چاہے قتل و غارت گری کریں۔ اس سلسلے میں باقی سب لوگوں کو بھی اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئیے۔ پاکستانی سیاست اگر اصولوں پہ چل رہی ہوتی تو آج آپ جعلی ڈگریوں کے قصے نہ سن رہے ہوتے۔ اگر سیاست اتنی پاکدامن قسم کی چیز ہوتی تو کوئ شریف اور اثر و رسوخ سے خالی شخص بھی یہ سوچ پاتا کہ میں اپنے بل بوتے پہ الیکشن لڑوں گا اور اس بات پہ لڑوں گا کہ میں اپنے علاقے کے لوگوں کی ترقی کے لئے بہتر منصوبہ سازی کر سکتا ہوں لیکن ایسا نہیں ہے۔
    ان سب باتوں کے نتیجے میں محض ایک پارٹی کا نام کھینچ لانا اسکا مقصد سوائے اسکے کچھ نہیں لگتا کہ ایک جماعت سے تو تعصب ہے مگر اس سے بڑے جرائم کرنے والی جماعتوں کو اپنے پیار کی وجہ سے معافی ہے۔ اور اس پیار اور محبت کی وجوہات انتہائ عجیب ہیں۔
    اسکا دوسرا مطلب بھی یہ نکلتا ہے کہ طالبان یا انکے حامی لوگوں کے متعلق کراچی ، حیدرآباد کے کسی شخص کو کچھ لکہنے کی ضرورت نہیں۔ باقی بچے ہوئے لوگوں کی اکثریت تو ہے ہی انکی حامی، جبھی تو آج ہر طرف تنگ نظری اور جہالت کا وہ آئیڈئیل عالم ہے جہاں صرف مزید بربادی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
    جہانزیب اشرف، یہ تو آپ نے واقعی باریک بینی سے میرے تحت الشعور کا جائزہ لے ڈالا۔ پسند آیا۔
    :)
    مس ہو گیا۔ ورنہ اس میں آپکے ہیرو کا نام ضرور ہونا چاہئیے۔ ابھی ڈالتی ہوں۔

    ReplyDelete
  41. ویسے اس پوسٹ کی رونق بھی ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے ذکر سے ہی سجی۔
    اب کوئ اور طریقہ لگانا پڑے گا۔

    ReplyDelete
  42. ’دہشگرد گروہ گرفتار‘

    "انہوں نے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں ہارون سعید ، رضوان ، عمیر ، عمر ، عباس اور حاجی جاوید عالم شامل ہیں اور ان کے بقول ان تمام ملزمان کا تعلق لاہور سے ہے جبکہ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔"

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/07/100705_ahmedi_police_claims.shtml

    پنجاب کے بھائی ناراض نہ ہوں؛ بدنام ہونگے تو کيا نام نہ ہوگا

    ReplyDelete
  43. وہ ایک صاحب ہیں وقار اعظم میں نے انہیں اس خبر کا لنک بھیجا تو انہیں ہضم نہیں ہوا ویسے آنے والے دنوں میں ان حضرات کی بد ہضمی کے اچھے خاصے چانسس ہیں!
    خیر تو میں یہ لنک یہاں بھی لگائے دے رہا ہوں!
    :)
    http://www1.voanews.com/urdu/news/lahore-arrests-05July2010-
    97796599.html
    فی الحال وہ جعفر سے بارہ سنگھے کی پسندیدہ خوراک کے بارے میں گفت و شنید فرمارہے ہیں،اب یا تو وہ جعفر کو بارہ سنگھا سمجھ رہے ہیں یا ان کی جون میں کسی قسم کی تبدیلی کے امکان ہیں ویسے جعفر کی پسندیدہ خوراک میں چھتر شامل ہیں!!!!!!

    ReplyDelete
  44. ہممم تو اس پوسٹ کا مقصد بلاگ کی رونق بڑھانا تھا۔۔۔
    اب سمجھا۔۔۔

    ReplyDelete
  45. میرے، وقار اعظم اور چند دیگر بلاگرز کے نام سے گلیز تبصرا جات کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ یہ اردو بلاگرز کے لئے انتہائی شرمناک بات ہے۔ وہ لوگ جو اظہار رائے کو برداشت نہیں کرسکتے، تہزیب و تمدن سے عاری ہیں وہ اس طرح کی حرکتیں کررے ہیں۔ خدا نہ کرے کہ اس میں بلاگرز کمیونٹی کا کوئی فرد ملوث ہو لیکن سنئیر بلاگرز کو اس پر کچھ نہ کچھ ایکشن لینا چاہئے۔ بڑی افسوس کی بات ہے کہ عنیقہ ناز صاحبہ نے بھی اس سنی ان سنی کردی۔

    ReplyDelete
  46. کاشف نصیر صاحب، میں تو اس وقت شدید مصروفیات کا شکار ہوں۔ محض آپکی اس بات کا جواب دینے کے لئے یہ چند لائنیں جلدی جلدی لکھ رہی ہوں کہ آپ نے جس بیان کے متعلق کہا تھا کہ وہ آپ نے نہیں لکھا کسی اور نے لکھا ہے وہ میں نے ہٹا دیا ہے۔
    دوسرے لوگوں کی شناخت استعمال کر کے تبصرہ کرنا، انتہائ غیر اخلاقی حرکت ہے۔ میرا تعلق بالکل بھی کمپیوٹر کی فیلڈ سے نہیں ہے۔ اپنے کام کی حد تک کرنا جانتی ہوں۔ اب اس سلسلے میں اگر باقی لوگ کوئ بھی ایسی ٹیکنک جانتے ہیں جس سے بچاءو ممکن ہے تو مطلع کریں۔ بس موڈریشن لگانے کی بات نہ کریں۔ میں اس چیز کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں کہ کون سا تبصرہ رہنے دوں اور کو نا سا ہٹا دوں۔

    ReplyDelete
  47. عبداللہ صاحب مجھے آپکی بلکل سمجھ نہیں آتی۔ اب اس خبر میں ایسا کیا خاص ہے جو آپ نے اتنی اچھل کود مچائی ہوئی ہے۔ کم از کم چار مختلف بلاگ میں آپ اس لنک کو ایسے پیش کررہے ہیں جیسے مذہبی لوگوں کے خلاف کوئی خزانہ آپکے ہاتھ لگ گیا ہے۔ کیا پکڑے جانے والے میرے اور جعفر صاحب کے رشتہ دار ہیں جو ہم مارے شرم سے اپنا منہ چھپا لیں۔ شرم تو آپ کو بھی آنی چاہئے کہ یہ خبر پاکستانی اخباروں میں بھی چھی تھی لیکن لنک آپ نے آمریکی مقاصد کی آواز کا دیا۔ آمریکی اور برطانوی خبررساں اداروں کی خبروں سے آپ آدھے دیوانے تو ہوچکے ہیں، اور فضول تبصروں سے مزید ہوتے جارہے ہیں۔

    اللہ کے بندے لنک پر مت کھلیں ورنہ ہم اتنے لنک شئیر کریں گے کہ آپ شرمسار ہو کر آپ اردو بلاگستان کا رخ کرنا چھوڑ دیں گے۔ آپ کے بھائی بندوں کی آمریک، بھارت اور اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی جس میں لاکھوں نہیں کڑوڑوں انسان کام آئیں اور جن کو چھٹلانا بھی ممکن نہیں کہ بارے میں آپ کیوں اتنا نہیں اچھلتے، مذہبی لوگوں سے آپکو اتنا پرخاش ہے، کہیں بچپن میں کسی مدرسہ سے پٹ پٹا کے بھاگے تھے۔

    قادیانیوں پر حملے کے حوالے سے آپکی اس مسلسل پریشانی کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ خداناخواستہ آپ بھی کہیں حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم سے بغاوت کرکے مرزا غلام کی گود میں تو نہیں جا بیٹھے ہیں۔

    ReplyDelete
  48. محترمہ صاحبہ یہ کیا بات ہوئی کہ جب 1992 اور 96-1993 میں کراچی میں پولیس اور فوج نے آپریشن کیا تو وہ ریاستی دہشت گردی تھی، با قبائلی مسلمانوں کے خلاف اسی نعرے کے تحط ویسا ہی، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ بھیانک آپریشن ہورہا ہے تو آپکی جماعت مارے خوشی کے دیوانی ہوگئی ہے۔ یہ تعصب نہیں تو اور کیا ہے۔

    دوسری بات یہ کہ میں نے کب جماعتیوں کی ستائش کردی، ہاں سچ یہ ہے کہ تمام تر برائیوں کہ وہ متحدہ سے تو بہتر ہیں۔ اور دوسری بات کہ میں جماعتی نہیں ہوں، جماعت پر تنقیدی مضامین میرے بلاگ پر موجود ہوں۔ میں شعبہ ابلاغ عامہ، جامعہ کراچی کا طالب علم ہوں، وہاں مختلف مواقعوں پر میں نے جماعت کی طرز سیاست پر اتنی تنقید کی ہے کہ جمیعت کے کچھ لڑکے کئی دفعہ میری ٹھکائی کے نکام منصوبے بنا چکے ہیں۔
    میں تو تمام ماورائے عدالت قتل کے ہمیشہ سے مخالف تھا اور ہوں۔ اب آپریشن، ریاستی دہشت گردی اور ماورائے عدالت قتل، چاہے ڈھاکہ و چٹگا گانک میں ہو، کراچی میں ہو، بلوچستان میں ہو، لال مسجد میں ہو یا خیبر پختون خان میں برابر قابل مذمت ہے۔ بات اصول کی ہے۔ تعصب اور عصبیت کی نہیں جو متحدہ، اے این پی اور دیگر قوم پرست جماعتوں میں توٹ توٹ کر بھرا ہوا ہے۔

    ReplyDelete
  49. Militants carrying out *major attacks* belong to Lahore

    LAHORE: Police say a group of militants taken into custody in connection with all major attacks in Lahore and other parts of the country belongs to the provincial metropolis.

    They are involved in recruiting terrorists, planning, gathering information and storing explosives and sophisticated weapons at different places in the city and its outskirts and providing logistic support to other groups.

    Their future plan was to create anarchy in society and unrest among different sects besides carrying out more attacks on important political personalities, sensitive agencies, offices working on law and order and sensitive installations.

    http://www.dawn.com/wps/wcm/connect/dawn-content-library/dawn/the-newspaper/local/lahore/militants-carrying-out-major-attacks-belong-to-lahore-670

    ReplyDelete
  50. پنجاب کی عدالتيں بھی دہشت گردوں سے ملی ہيں؛

    Acquittal of Marriott attack accused challenged

    Challenging the judgment of the ATC-I under section 265-K of criminal procedure code, the government maintained in the appeal that the case was decided without going through full material available against the accused.

    The government said the trial court had decided the case in haste in the absence of the prosecutor as he had been pursuing cases in other anti-terrorism courts. A request of the investigation officer, DSP Altaf Aziz Khattak, for an adjournment was not accepted by the ATC judge, according to the government.

    http://www.dawn.com/wps/wcm/connect/dawn-content-library/dawn/the-newspaper/front-page/16-acquittal-of-marriott-attack-accused-challenged-670-hs-06

    ReplyDelete
  51. مذہب جن کا پیشہ ہے
    مسلہ سارا یہ ہے کہ مولویوں نے حقوق کی جنگ کو اسلام کی جنگ بنادیا ،اور حکومت کرنا جو ایک اتظامی معاملہ ہے ،اسے بھی اسلامی بنا دیا
    امریکا سے لڑائی چین کی بھی ہے اور روس کی بھی پر ان کی لڑائی خالص دنیا کے لیے ہے- اسی طرح امریکا کا جھگڑا نہ مسلم کا ہے نہ کافر کا اس کی اچھی بری پالیسی اس کے اپنے مفاد کے لیے ہے اور ہمارے ملا کو اپنا دین خطرے میں نظر آتا ہے
    اگر کسی ہندو اور مسلمان میں کسی کاروبار میں جھگڑا ہو جائے تو کیا یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہوگی ؟ یہی جھگڑا کشمیر میں ہے اور جھگڑے کی بنیاد حقوق ہیں نہ کہ مذہب – مگر یہ مذہبی انتہا پسندوں نے اپنی دکان چمکانے کے لیہ مذہب کا سہارا لیتے ہیں
    مسلہ مذہب سے نہیں اس کو پیشہ بنانے والوں کا ہے ،حدیثوں میں ہے کے قیامت کے قریب لوگ دین کو پیشہ بنائیں گے ، پر یہ بات کوئی مولوی نہیں کرتا ہے ،قاری ،امام ،جہادی ،مدرسے کا منتظم – سب کے سب ایک پیشے کے طور پر کیے جاتے ہیں ،پھر یہی لوگ چاہتے ہیں کے ان کو حکومت بھی دی جائے یہ صرف مال اور جاہ کی محبت ہے اور دین کا نقاب ہے
    مذہب ان کا پیشہ ہے
    یہ قرآن پڑھتے ہیں اور حفظ کرتے ہیں تا کہ وہ قرآن پڑھا کر پیسے کمائیں
    یہ مدرسے جاتے ہیں اس لیے کہ ایک دن ان کو امام کی نوکری ملے گی اور دو وقت کا کھانا اور گھر مفت ملے گا
    یا صرف اذان دینے پر آدھی تنخوا ملے گی
    اگر مفتی بن گئے تو اور مزے
    اگر یہ بھی نہیں ہو سکے تو ایک مدرسہ کھول لیں اور چندے کے نام پر اپنے گھر کا خرچ چلائیں
    اگر کچھ بھی نہیں آتا تو مذہبی سیاسی جماعت میں چلے جائیں کیوں کہ اس میں نام بھی ہے اور “اسلامی حکومت ” آنے پر وزیر بننے کے چانس بھی
    پر سب سے زیادہ ٹیکا اور مال تو جہادی بننے میں ہے- آگے پیچھے لوگ ،اسلحے کا انبار ،فوجیوں سے تعلق ، دین بھی دنیا بھی
    پر یہ سے کیسے ہوگا ،یہ دکان کیسے چلتی رہے گی ؟؟
    یہ پیشہ ور مولوی اندر سے کھوکھلے ہیں ،ان کے پاس لوگوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں ، یہ مثبت باتیں کیوں نہیں پھیلاتے ؟ یہ ایمان ،اخلاق ،محبت ،رواداری ،حسن سلوک ،امن ،ایک دوسرے کی عزت اور مدد کی ترغیب کیوں نہیں دیتے ؟
    کیوں کہ یہ پیشہ ور مولوی جانتے ہیں کے ان کے پاس کوئی ایسی مثبت باتیں نہیں جو دوسرے کو متاثر کر سکیں اور نہ ہی ان باتوں سے ان کی روزگار چلے گا اور نہ ہی ان کی دکان چمکے گی
    ان کی دکان ،روزگار اور کاروبار صرف اور صرف ایک چیز سے چل رہا ہے وہ ہے “نفرت ”
    نفرت
    یہی ہے ان کی اصل بقا
    نفرت پر لوگوں کو جمع کرنا اور نفرت کی بنیاد پر اپنی دکان چمکانا اور مشھور ہونا ان کا پیشہ ہے
    انڈیا کی نفرت ، شیعہ سے نفرت ،سنی سے نفرت ،امریکا سے نفرت ،بریلوی مخالفت ،فقہ مخالفت ،پریلوی کی بنیاد دیوبندی سے نفرت ،دیوبندی مولوی کی بنیاد بریلوی اور شیعوں سے نفرت ،اہلحدیث کی ساری تقریروں میں حنفیوں کی مذمّت ،شیعوں کی کتابوں میں نفرت .جماعت اسلامی کی دکان امریکا اور اسرایل کی نفرت سے چلتی ہے چاہے ملک میں مسلمان مسلمان کو قتل کرے یہ کتنے ہی اجتمائی زنا کے واقعے ہوں یہ مولوی کچھ نہیں بولتے – بولتے ہیں تو ہزاروں میل دور ہونے والے واقعہ پر جس سے ان کی “مسلمانی ” جاگتی ہو
    نوے فیصد پیشہ ور مولویوں کی بنیاد کسی نہ کسی کی مذمت یا نفرت پر ہے ،اور کچھ نہیں تو ان مولویوں کو “اسلامی نظام ” کی نئی بدعت نے متاثر کر دیا ہے ،روزانہ یہ خواب دیکھتے ہیں کے ایک دن ان کی جماعت کا امیر پاکستان کا امیر المومنین بنا ہوگا اسی بنیاد پر یہ ہر حکومت اور سیاسی جماعت کی مخالفت کرتے ہیں
    ان مولویوں کے پاس بس نفرت ،گولی ،گالی ،غصہ اور سفاکیت ہے ،کیا ان کو دیکھ کر کوئی کہ سکتا ہے کے یہ ایک ایمان والے مومن کی صفات ہیں ؟ کیہ یہ قرآن میں بیان کی گئی “عباد الرحمن ” کی نشانیوں میں سے کسی ایک پر بھی پورے اترتے ہیں ؟
    برصغیر کے کروڑوں لوگ آج جو مسلمان ہیں وہ ایمان اور محبت کے پیغام کو دل سے قبول کرکے مسلمان ہوئے ہیں نہ کہ کسی “اسلامی نظام ” یا کسی کے ڈنڈے کے زور پر ،جب نہ پاکستان تھا ، نہ جہادی نہ پاکستانی “فوج ” اسلام کی حفاظت کے لیے اور اس دور میں اسلام ان بزرگان دین کے ذریے پھلا پھولا
    اسلام دل سے قبول کرنے کا نام ہے ،اس کے فائدے روحانی ہے اور مولوی اس سے دنیا ڈھونڈ رہا ہے اور کاروبار بنا رہا ہے
    حدیث میں ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ آخری زمانے میں دین دنیا کے لیے حاصل کیا جائے گا اور جو یہ لوگ کریں گے ان کی زبان شیریں پر دل بھیڑیے کے ہونگے اور الله ان کو ایسے فتنوں میں مبتلا کرے گا کہ عقل والوں کی عقل دنگ رہ جائے گی

    http://criticalppp.com/archives/18036

    ReplyDelete
  52. کاشف جیسا پھڑپھڑاتا ہوا تمھا را تبصرہ ہے اسے پڑھ کر بس اتنا ہی کہوں گا ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے
    اجی سیاست میں کیا رکھا ہے
    جاؤ کھیلو یہ لو جھنجھنا!!!!!!
    :)
    تھوڑا بڑے ہو جاؤ پھر سیاست سیاست کھیلنا،اور جھوٹ بولنے کی بھی اچھی طرح پریکٹس ہو جائے گی!
    ویسے جماعتیوں سے پٹ لیتے تو شائد دماغ کچھ ٹھکانے آہی چکے ہوتے اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے !
    :)
    اور امریکن اخبار کا لنک لگانے سے میرا ایمان مشکوک ہوجائے گا یہ تو مجھے معلوم ہی نہ تھا مفتی صاحب، اچھا ہوا جناب نے بتادیا اب تو میں بار بار امریکن لنکس لگاؤں گا دیکھنا یہ ہے کہ اس گناہ کے بعد اللہ مجھے بخشے گا یا نہیں!

    ReplyDelete
  53. سبحان اللہ بھائی گمنام آپ نے حق بات کی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ حق بات کو ماننے اور سمجھنے والے کتنے ہیں؟؟؟؟؟

    ReplyDelete
  54. گمنام صاحب پہلی بات تو یہ کہ آپ میں اتنی جرت نہیں کہ اپنا نام ظاہر کرسکیں، دوسری چیز مذہب کو پیشہ بنانے کی ہے تو یہ آپ کی سوچ ہے۔ چلئے وہ لوگ مذہب کو پیشہ بنا چکے آپ نے مذہب کے لئے کیا کر لیا۔

    دوسری چیز کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا احمق ہے جو مذہب کو صرف اور صرف افراد کا انفرادی معاملہ قرار دیتا ہے۔ مذہب اسلام خالص اجتماعی مسئلہ ہے، شریعی احکامات قانون خدا ہیں جو صرف انفرادی نہیں ریاستی مسئلہ بھی ہے کیونکہ ان قانین کا بہت بڑا حصہ اجتماعی اور ریاستی نوعیت کے معاملات سے ہے۔ خود محمد عربی صلہ و علیہ وسلم نے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کرکے اور خلافہ راشدین نے خلافت کے ادارے کی داغ بیل ڈال کہ اسلام کے اجتماعی سے بڑھ کر بین القوامی اور عالمگیر سوچ کا اظہاری کیا تھا۔

    صاحب جو لوگ دنیا پرست ہیں، اور موت کے بعد زندگی کے قائل نہیں وہ تو مذہب کو ایک بلا وجہ کی تک قرار دیکر مسترد کردیں گے۔ لیکن جو لوگ حیات بعد از موت کے قائل ہیں، جو اس دنیا کو صرف ایک امتحان کی جگہ سمجھتے ہیں اور یہاں کے ہر معاملے کو آخرت اور جزا و سزا سے جوڑتے ہیں وہ اپنی ریاست کو کس طرح احکام الہی سے مبرا مادر پدر آزاد سمجھ سکتے ہیں۔


    دوسری بات یہ کہ اگر غریب مولوی نہ ہوتا تو آپ بھی شاید کسی مندر میں پوجا کررہے ہوتے۔ فرقہ واریت کی بات آپ نے کی تو جناب اسلام کے نشاۃ ثانیہ کے لئے جو لوگ سرگرم ہیں وہ خالص اسلام کی بات کرتے ہیں، توبہ کی دعوت دیتے ہیں اور احیاء دین کا کام کرتے ہیں۔ لیکن آپ شاید صرف اس دنیا میں رہنے کے لئے ہیں۔ جبکہ مسلمان سمجھتا ہے کہ "وہ بہترین امت ہے اس لئے کہ وہ نکالا گیا ہے لوگوں کو اچھائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لئے" (القرآن) بہت شکریہ

    ReplyDelete
  55. پاکستانی مسلمان جانتے ہیں کہ کچھ خاص مہربان داتا دربار کی بے حرمتی پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہيں جبکہ ان کی تحریروں اور طرز عمل سے دہشت گردوں سے ہمدردی صاف نظر آ رہی ہے۔ عنقریب ان وحشی درندوں، انسانیت کے دشمنوں اور مسلمانوں کے قاتلوں کے ساتھ ساتھ ان مہربانوں کا بھی خاتمہ ہوگا۔
    حضرت علی ہجویری کے مزار مبارک پر ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ اسلامی نقطۂ نظر سے ریاست میں اس طرح کے کسی بھی اقدام کی براہ راست ذمہ داری حکمران پر عائد ہوتی ہے۔ ہزار سال سے اس مزار مبارک کی طرف کسی نے بھی میلی آنکھ سے نہیں دیکھا۔ پنجاب پر سکھ اور انگریز بھی حکمران رہے لیکن اس طرح کا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا۔ وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کے دور میں ہونے والی اس دہشت گردی کا داغ پاکستان مسلم لیگ نواز تمام زندگی دھو نہیں پائے گی۔

    ReplyDelete
  56. ہماری بھی یہی دعا ہے کہ آمریکی، اسرائیلی اور بھارتی دہشت گروں سمیت تمام دہشت گردوں کا صفایا ہو اور افغانستان، پاکستان اور عراق میں مسلمانوں پر آمریکی ریاستی دہشت گردی کے تمام معاونین کا اصلی چہرا لوگوں کے سامنے آئے اور بلاگرز کو تمام دہشت گردی بلشمول ریاستی دہشت گردی کت خلاف آواز اٹھانے کی توفیق ملے۔

    ویسے کچھ خاص مہربان سے آپ کی مثال کس طرف ہے۔ اور ہاں ذمہ داری صرف مسلم لیگ پر ہی نہیں حکمران پیپلز پارٹی اور اقتدار میں شامل تمام جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔

    ReplyDelete
  57. عنیقہ میرا مشورہ مانیں اور کم از کم گمنام تبصرے ہٹا دیں، صرف یہی کرنے سے نظامت کافی بہتر ہو جائے گی ۔
    ویسے آپ کو میرے ہیرو کا کیسے معلوم ہوا؟ بڑی سائیکک نکلیں آپ تو ۔ مستقبل کے بارے میں آپ کی کیا پشین گوئی ہے؟ ۲۰۱۲ میں جیسا یہاں امریکہ میں شور مچا ہے، قیامت آئے گی کہ نہیں؟

    ReplyDelete
  58. جہانزیب اشرف

    عنیقہ میرا مشورہ مانیں اور کم از کم گمنام تبصرے ہٹا دیں، صرف یہی کرنے سے نظامت کافی بہتر ہو جائے گی ۔


    جناب آپ سب ( بڑے بھائ لوگوں ) کو گمنام تبصرے سے کسں بات کا خطرہ ھے؟؟؟؟؟

    ReplyDelete
  59. کاش مولوی حضرات اسلام کی ٹھيکيداری چھوڑ کر اپنی مظلوم رعايا پہ رحم کريں تاکہ فرقہ پرستي، عناد اور شدت پسندی سے پاک معاشرہ وجود ميں آئے اور لوگ ڈائريکٹ اپنی فرياديں اپنے رب سے مانگيں اور اپنے برے بھلے کے ذمہ دار بنيں کيونکہ آخر سب نے اپنی اپنی قبر ميں ہی تو جانا ہے۔ اگر آخرت ميں ان مولويوں سے وابستہ نہيں پڑے گا تو اب بھی ان کے بغير ہم اپنے رب کو تلاش کر سکتے ہيں۔

    ReplyDelete
  60. يوں تو پاکستانی معاشرے کو مزہبی انتہا پسندی کی برين واشنگ ميں سبہی مزہبی جماعتوں نے اپنا حصہ ڈالاہے ليکن جو حصہ جماعت اسلامی کا ہے وہ سب پہ بھاری ہےضیاءالحق اور جماعت اسلامی نےمل کر جس مذہبی دھماکا خيز مواد کی بنياد رکھی تھی اور جس کا راہ ميٹريل پاکستان کے انتہائی قابل احترم صحافيوں نے مہيا کيا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کي طاقت ميں اضافہ کے لیے نومولود آزاد الکٹريک ميڈيا بھی کود پڑا آج پوری طاقت کے ساتھ پھٹ پڑا ہے يہ مودودی کا کمال ہے کے تين سيکولر جماعتوں کی مرکز اور تين صوبوں ميں حکومت ہونے کے باوجود نصاب اور آئينن کو چھڑنے کی جئرت نہيں کر سکتے جماعت کي مدد کے لیےالقاعدہ اور طالبان ديار غير سے برامد ہو چکی ہيں

    ReplyDelete
  61. حکومت پنجاب کی نااہلی پر افسوس صد افسوس۔ دو دن پہلے دربار پر حملے کی اطلاع کے باوجود مجرمانہ غفلت کی گئی۔ وزير قانون رانا کی ابھی تک خاموشی؟ اس دھماکے پر کم ازکم وزير موصوف کو مستعفی ہوجانا چاہيے تھا مگر ہٹ دھرمی کی انتہا کردی ہے۔
    اہلِ تشیع کے امام بارگاہوں اور عزاداری کے جلوسوں پر حملے، اہل سنت کے درباروں، مساجد اور میلاد کی محفلوں پر حملے، احمدیوں کی عبادت گاہوں، عیسائیوں کے گرجا گھروں، سکھوں اور ہندوؤں کی مندروں پر حملے، تعلیمی مراکز، سکول اور یونیورسٹی میں بم حملے، ہسپتال کی ایمرجنسی میں حملے، جنازوں پر حملے۔ غرض کے پورے ملک میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کرنے والے اور ان حملوں کے ذمہ دار نہ صرف اپنے آپ کو صحیح العقیدہ مسلمان کہتے ہیں بلکہ اسلام کے ٹھیکے دار بھی بنتے ہیں۔

    ReplyDelete
  62. پاک فوج کو پہلی دفعہ اصلی تے وڈے دشمن کا سامنا ہے۔ ورنہ تو اب تک پاک فوج ہوم گراونڈ یعنی پنجاب کو چھوڑ کر یعنی کراچی ڈھاکہ اور بلوچستان پشاور میں ہی دہشت گردوں سے لڑتی رہی ہے۔ ویسے یہ بھی عجیب بات ہے کے لاہور یا پنڈی میں حملہ ہوتا ہے تو سب روتے ہیں حالات خراب ہو گئے۔ اگر جس دن رحمان بابا کا مزار گرایا گیا تھا، اسی دن پنجابی فوج اور فیڈرل پنجابی گورنمنٹ جاگ جاتی تو ایسا نہیں ہوتا۔

    ReplyDelete
  63. کاش قوم پرست اور سیکولر لوگ زبان، عصبیت، بے حیائی، اور بے غیرتی کی ٹھیکہ داری چھوڑ کر اپنی مظلوم رعایا پر رحم کریں۔

    ReplyDelete
  64. چار پانچ دن بعد بلاگ ایک نظر ڈالنے کا وقت ملا۔ لوگوں نے تو بہت کچھ لکھ ڈالا۔
    یاسر صاحب، آپ کے اندر تو پاکستانی آئیڈئین سیاستداں بننے کی علامات نظر آرہی ہیں۔ عام طور پہ انکی تقاریر اسی طرح شروع ہوتی ہیں۔ میرے عزیز ہم وطنوں، بھائیوں اور بہنوں۔ اسکے بعد انکی جاءدادیں اور اکاءونٹس سوءس بینکوں میں بنتے ہیں۔
    آپ ذرا بھی فرصٹ پائیں تو یہاں کی سیاست میں ضرور حصہ لیں۔ ایک دفعہ آپکو عوامی حمایت حاص ہو جائے اور آُ کچھ کر کے دکھادیں تو وعدہ ہے کہ مستقبل میں آپکو ہی ووٹ سوبگی۔ فی الحال وعدوں پہ میں نے کسی کو ووٹ نہیں دیا۔
    کاشف نصیر صاحب، میں اس طبقے کے ساتھ ہوں جو یہ سمجھتا ہے کہ اسلام، پاکستان کی مشترکہ اساس تھی جسے سیاسی بنیادوں پہ استعمال کر کے اپنی حیات کا بندو بست جماعت اسلامی نے کیا اور اس طرح اس نے ایک واحد اساس سے بھی پاکستان کو محروم کر دیا۔ جماعت کا یہ گناہ،کسی بھی سیاسی جماعت کے گناہ سے بڑھ کر ہے۔ یہ جماعت تھی جس نے اسلحے اور جہاد کی سیاست شرع کی اسکے لئے آپکو اپنی پیدائش سے قبل کے واقعات کو بھی دیکھنا چاہئیے۔ ہر شخص کو ایک بہتر نظریہ اور فکر اختیار کرنے کے لئے اپنے سے پہلے گذرنے والی تاریخ کو اسی طرح دیکھنا اور محسوس کرنا پڑتا ہے جیسا کہ وہ اپنے موجودہ حالات کو دیکھتا ہے۔
    جہاں تک کسی بھی یہ رویہ ہے ان عناصر کا کہ اپنے آپکو مذہبی سمجھتے ہیں اور دیگر لوگوں کو جو انکے موقف کے خلاف بات کرے ہیں فوراً دنیا پرست قرار دے دیتے ہیں۔ یہی عمل خود کش حملہ آور پہ بھہ لگایا جاتا ہے اور اتنا لگایا جاتا ہے کہ کہ اسے دنیا ہیچ لگتی ہے اور مرنا اور مارنا کوئ عظیم کام۔
    اب اس وقت مجھے صحیح سے یاد نہیں آرہاکہ ایک غیر ملکی وزیر اعظم سے جب کسی نے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی،،، پاکستانیوں کی اکثریت مرنے کے بعد کیا ہوگا کہ غم اور تجسسس میں مبتلا ہے۔ ترقی کے لئے زندہ رہنے کا احساس ضروری ہے۔ میں اس میں اضافہ کرونگی ترقی کے لئے یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ ہماری آئندہ آنے والی نسلیں بھی زندہ رہیں گی اور ہم انسانوں کی نایاب ہو جانے والی نسل میں شامل نہیں ہونگے۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ