Friday, July 9, 2010

محافظ

مظفر گڑھ، میر والا میں دو خواتین جو کہ ماں بیٹی تھیں۔ چودہ افراد نے برہنہ کر کے سر بازار پھرایا اور پھر انکی اچھی طرح پٹائ لگائ۔ ماں کی عمر پچاس کے قریب اور بیٹی کی عمر محض چودہ سال تھی۔
یہ واقعات یا اس سے ملتے جلتے واقعات تیسری دنیا کے غریب ممالک میں پیش آتے رہتے ہیں۔
 اس قسم کا پہلا واقعہ جس نے شہرت حاصل کی ضیاء الحق کے زمانے میں نواب پور میں پیش آیا۔ پچھلے چند سالوں میں اس قسم کے واقعات کی شدت میں اضافہ ہو اہے۔ آخر خواتین کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم دیکھیں تو  بھارت میں بھی ایسے واقعات پیش ہوتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پہ ان ممالک میں جہاں زمینداری کا نظام قائم ہے ہے یا کچھ عرصے پہلے تک قائم تھا۔ خواتین کے ساتھ اس ہتک آمیز سلوک کی بنیادی وجہ انہیں مال مویشی کی طرح جائداد کا حصہ سمجھنا ہوتا ہے۔ جس طرح ایک زمیندار اپنی زمین کے بارے میں، اپنے مویشیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عورتوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور ٹھیک اسی طرح اگر کسی زمیندار کو اسکی زمین پہ کھڑی فصل کو تباہ کر کے نقصان سے دوچار کیا جا سکتا ہے اسی طرح ایک مرد کو زیادہ بہتر طور پہ ذلت سے دوچار کرنے کے لئے انکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی سے لیکر برہنہ پھرانے کے واقعات سمیت تک ہر چیز روا رکھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے کہ مخالف پہ ایسی چوٹ لگتی ہے جس کے عذاب سے وہ ساری زندگی کیا کئ نسلیں نہیں نکل سکتا۔
ہمارے یہاں اسے غیرت اور عزت کے ساتھ وابستہ قرار دیا جاتا ہے اور یوں قبیلے اور خاندان کی عزت کی ضامن عورتیں ہو جاتی ہیں۔ اغوا ہونے والی عورت اگر رہائ بھی پالے تو اسکا احسن انجام موت ٹہرتا ہے کہ اسکی زندگی پورے قبیلے اور خاندان کی غیرت کی موت ہوتی ہے۔ عصمت کا تصور خالصتاً ایک عورت کے ساتھ وابستہ ہے، مرد اس سے مبرا ہیں۔ اور اس وجہ سے مرد جتنے چاہے ناجائز جنسی تعلقات رکھیں،یہ انکی امارت کی علامت یا مردانگی کی تعریف تو ہو سکتا ہے مگر اس سے خاندان کی نیک نامی پہ دھبہ نہیں آتا۔ اسکی شادی کے مسائل یا معاشرے میں با عزت زندگی گذارنے کے خواب چکنا چور نہیں ہوتے۔  اسکے اس جرم کی وجہ سے کوئ اور قبیلہ یا قوم انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے لیکن اسکے اپنے قبیلے والے ایسا نہیں کریں گے۔ وہ جواں مرد اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے۔
یہ سوچ، زمینداری کے نظام سے اس لئے جنم لیتا ہے کہ ایک جسمانی طور پہ طاقتور مرد اپنی زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکتا ہے۔ جسمانی طور پہ زیادہ طاقتور مرد، زیادہ خوشحالی کا باعث بنیں گے جبکہ خواتین نئے مرد بچے پیدا کر کے زیادہ خوشحال میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس لئے ایک مثالی زمیندار نظام میں اس عورت کی آءو بھگت بھی زیادہ ہوتی ہے جو زیادہ مرد بچوں کو پیدا کر چکی ہو۔ یا کم از کم ایک وارث مرد بچہ تو رکھتی ہو۔
اگر افریقی ممالک کی طرف نظر کریں ۔ جہاں کچھ قبائل میں عورت اور مرد کی تخصیص نہیں ہے وہاں مجھے ایک افریقن ملک کیمرون کی خاتون نے بتایا کہ شادی کے لئے ہمارے یہاں اس لڑکی کو ترجیح دی جاتی ہے جسکے شادی سے پہلے بچے ہوں۔ چاہے کسی بھی مرد سے ہوں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بچے پیدا کر سکتی ہے۔ اس طرح اس سوچ سے متائثرہ نظام میں ایک ایسی عورت کی اہمیت نہیں رہتی جو بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ کسی بھی قدرتی وجہ سے۔ خیر یہ اایک الگ موضوع ہے۔
سر دست، ہمیں معاشرے کے اس اٹھان پہ غور کرنا ہے جہاں خواتین کو بھی انسان تصور کیا جائے۔ ایسا انسان جسے سر بازار، بقائمی ء ہوش و حواس، بزور قوت برہنہ گھمائے جانے پہ نفسیاتی اور روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ صرف عورت کے اوپر عزت اور غیرت کی بھاری ذمہ دریاں نہ ڈالی جائیں  جسکے نتیجے میں اسے زندگی جیسی مسحور کن نعمت سے محروم کر دیا جائے۔ زندگی کی مسرتوں پہ ہر ایک کا حق ہے۔ انسان ہونے کا احترم اور شرف ہر ایک کو حاصل ہے۔ 

33 comments:

  1. صاحب برہنہ کرکے پھیرانا اور وہ خواتین کو تو غیرت اور عزت کا جنازعہ ہے، ایام جہالیت میں شاید اسطرح کے واقعات نہ ہوتے ہوں۔ جہالت اور سخت جہالت نے ان لوگوں کو جانوروں سے بدتر بنادیا ہے۔ جاگیردارنہ نظام خرابی کی جڑ اور غربت و جہالت اسکی ماں ہے۔ ان تینوں چیز کے خاتمے کے بغیر اس طرح کے انسانیت سوز واقعات کو روکنا ناممکن ہے۔

    ReplyDelete
  2. صاحب برہنہ کرکے پھیرانا اور وہ بھی خواتین کو تو غیرت، عزت اور عفت کا جنازعہ ہے، ایام جہالیت میں بھی شاید اسطرح کے واقعات نہ ہوتے ہوں۔ جہالت اور سخت جہالت نے ان لوگوں کو جنگلی جانوروں سے بدتر بنادیا ہے۔ جاگیردارنہ نظام خرابی کی جڑ اور غربت و جہالت اسکی ماں اور ہے۔ ان تینوں چیز کے خاتمے کے بغیر اس طرح کے انسانیت سوز واقعات کو روکنا ناممکن ہے۔ ریاستی ادارے، پولیس اور کچہری بھی ان ہی تنوں چیزوں کے گرد گھوم پھر کر بدنمائی کا داغ بن چکی ہیں۔ اسکے حکمران بھی ذمہ دار ہیں اور باشعور و تعلیم یافتہ عوام بھی۔

    ReplyDelete
  3. ایسے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
    ان کو سرعام سنگسار کردینا چاہئے۔

    ReplyDelete
  4. ہمممممم
    اس کے سوا کیا کر سکتے ہیں

    مختار مائی کو کچھ انصاف تو ملا تھا۔ دیکھتے ہیں ان بی بی کی شنوائی ہوتی ہے کہ نہیں۔

    ReplyDelete
  5. شازل صاحب کفر کا فتوا تو مناسب نہیں ہے البتہ رجم یعنی سنگسار کا نفاز اگر ایک دفعہ بھی ہوجائے تو آئندہ اس طرح کی شرمناک حرکت کی جرت کسی کو نہیں ہوگی۔ اگر قرآنی حکم کے حکم سزا کے وقت مسلمانوں کی ایک جماعت بھی موقع پر موجود ہو تاکہ لوگ عبرت پکٹرے تو زیادہ افاقہ ہوگا۔ مزید یہ کہ اگر ممکن ہو تو اس کاروائی کو براہ راست نشر ٹی وی ہر بھی نشر کردیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ، جہالت، غربت اور جاگیردارانہ نظام کا قلع قمع بھی ضروری ہے۔

    ReplyDelete
  6. جاہل اور سنکی، جہالستانJuly 9, 2010 at 12:43 PM

    ویسٹ تک تو یہ بات لگتا ہے پہنچ ہی چکی ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ ویسٹ اسبار کیا کرتا ہے اور کیسے ہمیں سمجھاتا ہے ۔

    ReplyDelete
  7. میرے خیال میں ان واقعات کی رپورٹنگ بھی درست طریقہ سے نہیں ہوتی ہے ۔ ایسے واقعات میں رپورٹنگ صرف عورت کی بے بسی کی تصویر دکھانے تک محدود رہتی ہے، جبکہ اس کا اصل مقصد درندگی کو دکھانا ہونا چاہیے ۔
    مثال کے طور پر مختار مائی کے واقعہ میں ایک مظلوم اور بے بس عورت کا چہرہ جس پر سب ترس کھائیں تو زور و شور سے دکھایا گیا، لیکن اس کے ساتھ درندگی کرنے والوں میں سے کسی ایک کا نام بھی شائد کوئی نہ جانتا ہو، درندگی دکھانا اور ایسی نفرت کا جذبہ بیدار کرنا رپورٹنگ کا اصل مقصد ہونا چاہیے ۔

    ReplyDelete
  8. پنجاب کے طالبانی وزير اعلی کا ايک اور کارنامہ؛

    3.Father and mother of the bride and bridegroom shall sign in the witness to the marriage column.

    http://tribune.com.pk/story/26497/new-nikkahnama-law-makes-medical-checkup-compulsory/comment-page-2/#comment-33726

    مسئلہ سمجھنے کے ليئے تبصرہ جات پڑھيں؛

    "What if a bride or groom do not have one or both parents? What if bride/groom child has run away due to abusive parent(s) and is not on speaking terms with them? This would also be a blackmailing tool in the hands of abusive parents who will not accept child’s preference to a partner and instead will enforce their own will on the bride/groom. What an idiotic act by Punjab government. Thank you Shehbaz Sharif for bringing in talibanisation from back door. You just can’t help it.
    "

    اب پنجاب کے طالبانی بھائی اسلام کے نام پہ اس جہالت کی حمايت کو نکل آئيں گے

    ReplyDelete
  9. گمنام صاحب، آپ کو طالبان فوبیہ ہوگیا ہے، کسی اچھے حکیم سے اپنا ذہنی علاج کرائیں۔

    ReplyDelete
  10. گمنام صاحب، آپ کو طالبان فوبیا ہوگیا ہے، کسی اچھے حکیم سے اپنا ذہنی علاج کرائیں۔

    ReplyDelete
  11. پنجابی طالبان سرپرست اعلی کے مزيد کرتوت؛

    Punjab soup kitchen forbidden to Christians

    http://www.asianews.it/news-en/Punjab-soup-kitchen-forbidden-to-Christians-18884.html

    يہ پنجابی کس پتھروں کے دور کی ذہنيت رکھتے ہيں؛ انسانيت ان کو چھو کے نہيں گزري- ويسے تو عيسائي/مغربی دنيا کی خيرات پہ پل رہے ہيں اس سے تو ايمان خطرے ميں نہيں البتہ کسی بھوکے پاکستانی مسيحی کو کھلا دينا ايمان کے ليئے بڑا خطرہ ہے-

    ReplyDelete
  12. عثمان، مختاراں مائ کے ساتھ جو کچھ ہوا یا اس قسم کے انتہائ حالات کا سامنا کرنے والی خواتین کے ساتھ ہمارے یہاں بعد میں جو کچھ ہوتا ہے۔ اسے انصاف نہیں کہا جا سکتا۔ مختارں مائ کو میڈیا اور این جی اوز نے اپنی پبلسٹی کے لئے استعمال کیا۔ در حقیقت اسکے ساتھ یہ انتہائ فعل کرنے والے آج تک گرفتار نہ ہو سکے۔ یہ ہمارے معاشرتی اور عدالتی نظام کی ناکامی ہے۔
    کسی متائثر کو پیسہ دے دینا حل نہیں ہے۔ نظام کو ایسا ہونا چاہئیے کہ اس قسم کے واقعات جو کسی بھی معاشرے میں ہو سکتے ہیں وہ دوبارہ نہ ہو پائیں۔
    لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مذمتی بیانات اور کچھ پیسوں کے لین دین کے کچھ نہیں ہوتا۔ حتی کہ پرویز مشرف نے ایک دفعہ یہ کہہ دیا کہ خواتین اس طرح کے واقعات کو باہر ممالک کی شہریت اختیار کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ معاشرتی جمود اپنی جگہ طاری ہے۔ مختاراں مائ کے بعد بھی کئ خواتین اس قسم کے واقعات کا شکار ہو چکی ہیں۔
    ہمارا نظام کچھ معلوم مگر بظاہر نا معلوم وجوہات کی بناء پہ ایسے تمام مجرمین کو تحفظ دیتا ہے۔
    ہم زنا بالجبر کا شکار ہونے والی عورت کو تو سماجی طور پہ حقیر سمجھنے لگتے ہیں اور اسکی آئیندہ کی زندگی درگور کر دیتے ہیں۔ مگر ہم ان تمام درندہ صفت لوگوں کا بائیکاٹ نہیں کرتے جو اس میں ملوث ہوتے ہیں۔
    اب آپ بتائیے کہ یہ معاشرتی نا انصافی کیوں روا رکھی جاتی ہے۔
    اور اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ایسے شرمناک واقعات کو نہ دوہرائے تو ہمیں حکومتی سطح پہ اور معاشرتی سطح پہ کن تبدیلیوں کو لانا چاہئیے۔
    اور آخیر میں ہم ہر دفعہ ایسے کسی واقعے کے ہونے کے بعد متائثرین کو سکی این جی او کے حوالے کیوں کر دیتے ہیں کہ ویسٹرن میڈیا اس سے فائدہ اٹھائے۔ آخر ہم اسے ایک منطقی انجام تک کیوں نہیں پہنچاتے۔ کیا ان سب واقعات کا منطقی انجام یہی ہونا چاہئیے جو ہوتا ہے۔
    جہانزیب اشرف صاحب، آپکی بات صحیح ہو سکتی ہے۔ رپورٹنگ میڈیا اپنی خبروں میں سنسنی پیدا کرنے کے لئے کرتا ہے۔ کیونکہ بیشتر اوقات میڈیا کو ایشو بنانے سے دلچسپی ہوتی ہے اسکے حل سے نہیں۔ لیکن ایک بات تو پھر بھی ہے کہ اس واقعے کی صحت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ یہی خبر اگر شام کے کسی سستے اخبار میں چھپے تو خبر اس طرح ہوگی کہ خبر پڑھنے کے بعد ایک اکثریت محسوس کرے کہ وہ موقع پہ کیوں نہ تھی۔
    میڈیا اپی طاقت سے لوگوں کے ذہن بدل سکتا ہے۔ مگر انکا یہ ٹارگٹ نہیں ہے۔
    جہانزیب اشرف صاحب، یہ سب تو منصوبہ بندی ہے کیونکہ اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتے۔ یہ وہ حربہ ہے جس سے لوگوں کو بڑی آسانی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ انکے ناموں سے کون واقف نہیں۔ لیکن کسی میں ہمت ہو تو انہیں قرار واقعی سزا دے کر دکھائے۔
    کسی کی بے بسی ایک اور چیز کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور وہ طاقتور کی طاقت کا مظاہرہ۔
    طاقت، ایک زبان انتی ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کو کس طرح خاموش رکھا جا سکتا ہے کہ وہ ہر ظلم سہیں لیکن اف نہ کریں۔ بلکہ اسے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرتے رہیں۔
    گمنام، کیا واقعی آپ اپنا کوئ نام رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ حالانکہ اکثر آپ اچھی معلومات دیتے ہیں۔ مگر یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ یہ کوئ ایک گمنام ہے یا ایک سے زائد۔ اس طرح ایک سے زائد ہونے میں ایک اچھا تبصرہ اپنی قدر صحیح سے وصول نہیں کر پاتا۔
    یہ جو آپ نے مسئلہ لکھا ہے یہ بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ دراصل ہمارا معاشرہ باقی دنیا کے ساتھ تبدیل ہونے کے مراحل میں ہے۔ چونکہ ہم باقی دنیا سے ایکدم کٹے ہوئے نہیں ہیں۔ اس لئے بیرونی تبدیلیاں ہمیں بھی متائثر کر رہی ہیں۔ اور ہم من حیث القوم ایک اور المئیے کا شکار ہیں کہ ترقی کے اس سفر میں کیا چیزیں لے لیں اور کیا چھوڑ دیں۔ جو چیزیں ہمیں معاشی آسودگی کی بہتری کی امید دلاتی ہیں انہیں قبول کرنے میں ہمیں کوئ تکلیف نہیں۔ لیکن جو چیزیں ہمارے معاشرے کی پرانی اقدار سے ٹکراتی ہیں جنکے نتیجے میں معاشرے میں طاقت کے ستون اپنی جگہ مضبوطی سے قائم نہ رہ پائیں۔ انہیں لینے سے گھبراتے ہیں۔
    مثلاً ہم اپنے بچوں کا انکی زندگی پہ اختیار تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ لیکن یہ برداشت کر لیتے ہیں کہ ہمارے بچے باہر جا کر باہر کی غیر ملکی عورتوں سے شادیاں کریں وہاں کی شہریت حاصل کریں۔ پیسے بنائیں وغیرہ وغیرہ۔ اب حکومتی سطح پہ لوگوں کو تعلیم دے کر معاشرے کو متوازن بنانے کے بجائے ایسے کمزور اقدامات سے کب تک استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے یہ سمجھنے کی بات ہے۔
    کاشف نصیر صاحب، آپکی اس بات سے اتفاق ہے کہ جہالت اور غربت دونوں کا علاج کرنا ہوگا اور جاگیرداری کے نظام سے ہی نہیں جاگیرادارنہ سوچ سے بھی نجات پانا ہوگی۔ کیونکہلوگوں کے پاس جاگیریں نہیں ہیں لیکن اس نظام نے جو بنیادی سوچ پیدا کی ہے وہ اپنی جگہ چلتی رہتی ہے۔

    ReplyDelete
  13. پبجاب ميں مسيحی ہونا اور انپڑھ ہونا جان ليوا ہوسکتا ہے-

    Two Christians charged under blasphemy on desecrating Quran verses on roadside Banner

    Lahore, Pakistan: July 7, 2010. (PCP) The angry Muslim mob burnt tires and blocked Ferozpur Road in Factory Area of Lahore and demanded arrest of two Christians living in Model Colony number 2.

    The agitated Muslims attempted to burn house of one Christian where one Muslim spotted a Roadside metal Banner being used as roof on bathroom on which verses from Holy Quran were written.

    ...

    The roadside metal banner are mostly used for commercial advertisements in Pakistan for promotion of goods and Quranic verses are used for blessings on top of matter.

    When any company, person or organization do not pay to municipal corporation for these commercial advertisement boards, the administration brings them down where they lie for weeks or months and any one can pick it and use it.

    Yousaf Masih and Tariq Masih also picked one roadside metal sheet banner and brought it to home where they put it on their bathroom as roof to safe them from sunshine and protect their family women to see naked from roofs of other houses.

    Being an illiterate laborers, working odd jobs, they have no idea that there were verses of Holy Quran on that advertisement banner.


    يہ پنجابی مذہب کی اور ملک کی کيا خدمت کرہے ہيں؟ ان گدھوں کو کسی ايسے اسکول بھجوائيں جو ان کو عقل سکھائے، اگر انکا عقل سيکھنا ممکن ہے-

    ReplyDelete
  14. دیگر بہت سے جرائم کی طرح مذکورہ معاملہ بھی قانون کی رو سے قابل گرفت ہے. نہ صرف اسلامی بلکہ انسانی قوانین بھی اس گہناونے عمل کو جائز قرار نہیں دے سکتے. مسئلہ صرف عمل درآمد کا ہے.

    جب ملک میں ایک قانون نافظ ہوتا ہے تو وہ بلا امتیاز تمام لوگوں پر جاری ہوتا ہے. چاہے کوئی شخص گاوں میں رہتا ہو یا شہر کا باسی ہو، اسے اس طرح کی 'روایات' یا 'غیرت' کے نام پر بے غیرتی کی اجازت نہیں.

    ایسے لوگوں کو جتنی ممکن ہو عبرت ناک سزا دینی چاہیے. تاکہ آئندہ کے لیے کوئی ایسے اقدامات کا حوصلہ نہ کرسکے.

    ReplyDelete
  15. جاہل اور سنکی، جہالستانJuly 9, 2010 at 8:17 PM

    پنجاب کو تو اب کنوئیں سے نکال کر کنوئیں کو دھونے کی کسر رہ گئی ہے جی ۔

    ReplyDelete
  16. جاہل اور سنکی، جہالستانJuly 9, 2010 at 9:07 PM

    آپ آج کل اپنے بلاگ کو غیر مناسب حد تک کم ٹائم دے رہی ہیں اسلئے میری طرف سے مشورہ ہے کہ آپ ماڈریشن لگا دیں تاکہ آپکا اپنا بلاگ ایک مکمل ہائیجیکڈ بلاگ نہ لگے ۔

    ReplyDelete
  17. جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کی رہنے والی خاتون اللہ وسائی دو روز قبل وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ کھیتوں میں گھاس کاٹ رہی تھیں کہ ان کی ہی برادری کے نسبتاً بہتر معاشی حیثیت کے چند افراد نے انہیں برہنہ کرکے مارا پیٹا اور زیادتی کی۔
    اللہ وسائی کا الزام ہے کہ ان افراد نے ان کے ’تمام کپڑے اتار دیے، ان کی نو عمر بیٹی کے ساتھ بہت زیادتی کی، اس کے کپڑے پھاڑے اور اسے نوچا کھسوٹا۔۔۔‘
    اللہ وسائی کا کہنا ہے کہ پولیس اور ڈاکٹر ان کی بات نہیں سن رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی ’عزت برباد کر دی گئی، انہیں زہر کا ٹیکہ لگا دیا جائے۔‘
    اللہ وسائی کے شوہر غلام مصطفی گاؤں میں موجود نہیں تھے، بلکہ کسی کام سے شہر گئے ہوئے تھے۔
    غلام مصطفی نے جس شک کا ذکر کیا اس کے پیچھے جو کہانی بتائی جا رہی ہے اس کے مطابق جن لوگوں نے اللہ وسائی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی ان کی بیٹی کے ساتھ اللہ وسائی کے بیٹے کے مراسم تھے۔ جس کا انہیں قلق تھا اور انہوں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے یہ سب کیا۔
    پاکستان میں خواتین کو سر عام برہنہ کر کے ان پر تشدد کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔

    ReplyDelete
  18. گمنام یہ سارا تبصرہ آپ گدھا کہے بغیر بھی کر سکتے تھے۔ کیونکہ یہ سوال اکثر ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں ایسا کیوں ہوتا ہے۔ انیس سو چوراسی میں جب پہلی دفعہ ایسی خبر سامنے آئ تو اس وقت موجودہ وزیر اعلی نہیں تھے۔ دوسری طرف اگر تعلیم کے شعبے میں دیکھیں تو شاید پنجاب م اس وقت پاکستان کا سب سے پڑھا لکھا صوبہ کہلائے گا۔ ایک اور دلچسپ بات اگر دیکھیں تو کراچی حیدر آباد کو ہٹا کر پاکستان کے باقی تمام صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں خواتین کو زیادہ آزادی حاصل ہے اور تمام صوبوں کے مقابلے میں شاید زیادہ تعلیمی شرح بھی خواتین کی وہاں ہو۔ کراچی اور حیدر آباد کے بعد۔
    اسلامی اقدار کے تذکرے کی اگر بات کریں تو یہ بھی پنجاب میں سب سے زیادہ آتا ہے۔
    اسکے باوجود، اس طرح کے واقعات کا پے درپے پنجاب میں ہونا خاصی عجیب بات لگتی ہے۔
    یا شاید عجیب نہیں ہے۔ کیونکہ سرحد اور بلوچستان میں تو خواتین عام طرز زندگی سے بالکل کٹی ہوئ ہیں۔ صوبہ ء خیبر پختونخواہ میں نہ وہ باہر نظر آتی ہیں اور نہ انکے ساتھ ایسا سلوک کرنا ممکن ہے۔ دوسرا اسلحہ تو وہاں ہر ایک کے پاس ہوتا ہے۔ اسلحے کی موجودگی باہمی تعلقات میں توازن رکھنے میں خاصی مددگار ہوتی ہے۔
    پنجاب میں دیہاتی خواتین کی اکثریت کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ یوں وہ کسی نا خوشگوار واقعے کی لپیٹ میں آسکتی ہیں مگر یہ کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد تو کراچی میں بھی گھر سے باہر اپنے کام انجام دیتی ہے۔
    میرا تو خیال ہے کہ پنجاب میں جاگیر دارانہ نظام کا طرز فکر پوری طرح سے جاری و ساری ہے۔ اسے پاک بنانے کے لئے مذہب کا سہارا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ حکومت پنجاب سے شکایت کی ایک وجہ یہ بھِ ہے کہ مذہبی انتہا پسند گروہوں کی طرف انکا جھکاءو رہا ہے۔ بہر حال اس پہ تفصیل سے وہی لوگ روشنی ڈال سکتے ہیں جو وہاں رہے ہوں اور جو دیگر علاقوں میں بھی رہے ہوں۔
    یہ خواتین پہ اس طرح کے بہیمانہ تشدد کا پہلا واقعہ نہیں ہے لیکن اس چیز کو ہر سطح پہ یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہئیے کہ یہ آخری واقعہ بن جائے۔
    جاہل سنکی صاحب، میری مصروفیت ابھی کچھ اور دن چلے گی۔ ماڈریشن میں تو اس سے زیادہ وقت لگتا ہے۔

    ReplyDelete
  19. جاہل اور سنکی، جہالستانJuly 10, 2010 at 1:20 AM

    "اس طرح کے واقعات کا پے درپے پنجاب میں ہونا خاصی عجیب بات لگتی ہے۔" اس بات کا کریڈٹ اچھی ریپورٹنگ کو بھی دیا جا سکتا تھا اور اسکے علاوہ کئی اور بھی بیشمار سالڈ ریزنز بھی دیجاسکتی تھیں ۔
    ایسے والے پرابلمز اب نئے پرابلمز میں ٹرانسفارم ہو چکے ہیں اور آج کل کچھ اور ہی ناموں سے پکارے جاتے ہیں جی ۔

    ReplyDelete
  20. Punjab govt’s inaction against militants irks GHQ

    ISLAMABAD: While public attention has been focused on the political barbs flying between Islamabad and Lahore, behind the scenes the Pakistan Muslim League-N has earned itself a new and very powerful adversary thanks to its inaction against the ‘Punjabi Taliban’ -- the Pakistan Army.

    It is now evident that the Punjab government led by the PML-N and the army, which is spearheading counter-terrorism operations, are on a warpath.

    At a recent meeting at the General Headquarters (GHQ), senior intelligence officers conveyed their serious concern to the Punjab government over its failure to act against terrorists based in the province on the basis of information provided to it.

    Other issues that were discussed included the lax handling of detained terrorists, especially of an injured assailant apprehended after the recent attack on Ahmadi places of worship (he was allowed to communicate with his accomplices from his hospital bed by a cellphone which allowed them to launch an attempt to free him).

    Sources say that the meeting was attended by the top officials from both sides.

    Long before the attack on Ahmadis, an alert was circulated by an intelligence agency warning that a group of militants led by previously little-known Qari Daud had been tasked by the banned Tehrik-i-Taliban Pakistan (TTP) leadership to attack the community in Punjab. However, the warning was not heeded.

    It is said that warnings about an attack on Data Darbar were also ignored by the provincial authorities.

    Besides citing specific instances, sources in the national security apparatus said it was particularly worrying that the PML-N government was in a state of total denial about the existence of the problem in the province which was in the militants’ line of fire.

    They also questioned why had the provincial government failed to crack down on militant bases identified by intelligence agencies, including the Bahawalpur seminary run by Maulana Masood Azhar of the banned Jaish-i-Muhammad.

    “What has the Punjab government done to round up middle- and low-ranking activists and office-bearers of these outfits? Has it confiscated hate material churned out by them?” are other hard-hitting questions the officers are now raising.

    “We have time and again told them to act against the Bahawalpur madressah where a number of militants are hiding. But they are not ready to do so,” one official said. He alleged that the Punjab government was sitting on the fence as far as sectarian-cum-militant organisations were concerned.

    Investigators said that most terrorist attacks in Punjab were linked to the TTP and Punjabi Taliban in contrast to claims by certain quarters that the so-called ‘foreign hand’ was involved in them.

    Security officials said they felt encouraged by the federal government’s position of not entertaining any such demands.

    However, they revealed that they were taken aback by PML-N chief Mian Nawaz Sharif’s recent media remarks articulating views similar to those of the Taliban and their sympathisers.

    http://www.dawn.com/wps/wcm/connect/dawn-content-library/dawn/the-newspaper/front-page/16-punjab-govts-inaction-against-militants-irks-ghq-870-hs-08

    ReplyDelete
  21. کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کہوں؟ اگر عوام کو اسلام کا علم ہو تو ایسے مسائل کبھی نہ ہوں۔ یہ صرف ہماری مزہب سے دوری ہے۔

    ReplyDelete
  22. پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پی ایف یو جے نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے پاکستانی میڈیا مخالف قرارداد کی منظوری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

    ReplyDelete
  23. پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پی ایف یو جے نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے پاکستانی میڈیا مخالف قرارداد کی منظوری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

    ReplyDelete
  24. جی ہاں اب نواز شریف اینڈ کمپنی کی شامت آئ تو انہوں نے اسکا باعث میڈیا کو جانا اور میڈیا کے خلاف تحریک چلادی۔ یقیناً وہ غلط نہیں اور یقیناً میڈیا انکے خلاف مہم چلا رہا ہے۔ وہ غلط کیسے ہو سکتے ہیں۔
    میڈیا کو بھی سچ اور جھوٹ جاننا چاہئیے اور چاہے کسی بھی دوسرے شخص کے خلاف جتنا چاہے کرعے اسے ناز اینڈ کمپنی کے لئے کچھ نہیں کرنا چاہئیے ورنہ وہ انہیں بتا دیں گے کہ وہ کیا کیا کر سکتے ہیں۔

    ReplyDelete
  25. http://criticalppp.com/wp-content/uploads/2010/07/20100711_SABIR_EDITORIAL_11.jpg

    ReplyDelete
  26. پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے ضلع کے سشین جج کے مبینہ نامناسب رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں عدالتی کام کرنے سے روک کر ان کی عدالت کو تالا لگا دیا ہے۔
    وکلا کے اس طرز عمل پر احتجاج کرتے ہوئے لاہور کی ماتحت عدلیہ کے تمام ججوں نے عدالتی کام بند کر دیا ہے اور انہوں نے اس ضمن میں پندرہ دنوں کی چھٹی کے لیے درخواستیں بھی دے دی ہیں۔

    ReplyDelete
  27. آپ کے بلاگ پر اتنے سپام کیوں ہیں؟

    ReplyDelete
  28. عثمان، سپام سے آپکی مراد بےنام تبصرے ہیں تو اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ انکی وجہ مجھے بھی نہیں معلوم کہ باقی سب بلاگز پہ ناموں کے ساتھ حاضری دینے والے ممرے بلاگ پہ بغیر نام کے حاضری کیوں دیتے ہیں۔

    ReplyDelete
  29. آپ اپنے بلاگ پر آرٹیکل چھاپنے والوں سے مختصر تبصرے کیساتھ صرف لنک دینے کیلئے ایک دفعہ پھر بھی کہہ سکتی ہیں ۔

    ReplyDelete
  30. میرا نہیں‌ خیال کہ یہ سپام دوسرے بلاگوں پر موجود ہیں۔
    میرا خیال ہے کہ کچھ سپام قسم کی چیزیں آپ کا کندھا اپنے مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ خود اپنا بلاگ نہیں‌ بنا سکتے۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ ان کے پاس وہ مضبوط انداز بیان نہیں جو آپ کے پاس ہے۔ ان کا نہ اپنا کوئی نظریہ ہے نہ اپنا کوئی تجزیہ حتیٰ کہ ان کے پاس تو الفاظ بھی نہیں‌ ہیں۔ صرف غصہ ہے۔ جسے یہ الٹے سیدھے طریقے سے آپ کے فورم استعمال کرتے ہوئے آگے بھیجنا چاہتے ہیں۔
    جہاں تک میں نے آپ کو پڑھا ہے۔۔بڑی حد تک اپنے آپ کو آپ سے متفق ہی پایا ہے۔ مجھے آپ کی تحریر میں کوئی تعصب یا نفرت آمیز بات اب تک نظر نہیں آئی۔ تاہم آپ کے بلاگ کے کمنٹ سیکشن میں جو سپام پتنگوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں وہ آپ کی مثبت لیکن نازک رائے کو بے ڈھنگے طریقے سے اپنے مقاصد کی طرف چینل کر رہے ہیں۔
    قاری آپ کی تحریر پڑھنا شروع کرتا ہے۔ جو بڑی حد تک تعمیری اور وسیع النظر ہوتی ہے۔ لیکن جوں جوں نیچے کمنٹ سیکشن میں اترتا چلا جاتا ہے۔۔۔آپ کی رائے گم ہوتی چلی جاتی ہے اور سپام کا شور حاوی ہوتا چلا جاتا ہے۔ دس بیس تبصروں کے بعد آپ کی رائے اور سپام کے شور میں فرق کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور ایک عامیانہ ذہنی سطح کا قاری یہی اخذ کرتا ہے کہ آپ کی رائے ان سپام کے شور کے قریب تر ہے۔۔

    کچھ عرصہ پہلے میں ایک مغربی خاتون کا بلاگ پڑھتا تھا۔ جو ایک عرب کے ساتھ بیاہ کر مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں رہ رہی تھی۔ مذہب ، سماج ، سیاست ۔۔۔بہت سے موضوعات پر اسیر حاصل تجزیہ کرتی تھی۔ ان کے کمنٹ سیکشن میں بھی خوب بحث جمتی تھی۔ ایک اچھا خاصا مستعد بلاگ تھا۔ ان خاتون نے غلطی یہ کی کہ آزادی رائے کے واسطے سپام کو کھلی چھٹی دے دی۔ اب ہر وہ سپام جسے عربوں یا اسلام سے کوئی خار تھی وہ بغیر مثبت یا تعمیری بحث کئے اپنی نفرت کو ان کے بلاگ پر چینل کرتا۔ موضوع چاہے کچھ ہو۔ سپام کا مقصد بس ایک ہی تھا۔ آہستہ آہستہ مثبت بحث اور رائے دینے والے گھٹتے گئے اور صرف سپام ہی رہ گئے۔ جو نہ قارئین‌ کو کچھ دے سکے ، نہ بلاگ کو اور نہ ہی بلاگر کو۔

    ذاتی طور پر میں بلاگنگ کے معاملے میں‌کسی قسم کی قدغن کا قائل نہیں۔ ہاں البتہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے کچھ اہتمام کرنا ہی پڑتا ہے۔ وہ کیا اہتمام ہو گا یہ فیصلہ کرنا بلاگر کا کام ہے۔

    آپ ذہین خاتون ہیں۔ بین السطور میری بات کو سمجھ چکی ہوں گی۔

    ReplyDelete
  31. میرا نہیں‌ خیال کہ یہ سپام دوسرے بلاگوں پر موجود ہیں۔
    میرا خیال ہے کہ کچھ سپام قسم کی چیزیں آپ کا کندھا اپنے مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ خود اپنا بلاگ نہیں‌ بنا سکتے۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ ان کے پاس وہ مضبوط انداز بیان نہیں جو آپ کے پاس ہے۔ ان کا نہ اپنا کوئی نظریہ ہے نہ اپنا کوئی تجزیہ حتیٰ کہ ان کے پاس تو الفاظ بھی نہیں‌ ہیں۔ صرف غصہ ہے۔ جسے یہ الٹے سیدھے طریقے سے آپ کے فورم استعمال کرتے ہوئے آگے بھیجنا چاہتے ہیں۔
    جہاں تک میں نے آپ کو پڑھا ہے۔۔بڑی حد تک اپنے آپ کو آپ سے متفق ہی پایا ہے۔ مجھے آپ کی تحریر میں کوئی تعصب یا نفرت آمیز بات اب تک نظر نہیں آئی۔ تاہم آپ کے بلاگ کے کمنٹ سیکشن میں جو سپام پتنگوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں وہ آپ کی مثبت لیکن نازک رائے کو بے ڈھنگے طریقے سے اپنے مقاصد کی طرف چینل کر رہے ہیں۔
    قاری آپ کی تحریر پڑھنا شروع کرتا ہے۔ جو بڑی حد تک تعمیری اور وسیع النظر ہوتی ہے۔ لیکن جوں جوں نیچے کمنٹ سیکشن میں اترتا چلا جاتا ہے۔۔۔آپ کی رائے گم ہوتی چلی جاتی ہے اور سپام کا شور حاوی ہوتا چلا جاتا ہے۔ دس بیس تبصروں کے بعد آپ کی رائے اور سپام کے شور میں فرق کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور ایک عامیانہ ذہنی سطح کا قاری یہی اخذ کرتا ہے کہ آپ کی رائے ان سپام کے شور کے قریب تر ہے۔۔

    کچھ عرصہ پہلے میں ایک مغربی خاتون کا بلاگ پڑھتا تھا۔ جو ایک عرب کے ساتھ بیاہ کر مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں رہ رہی تھی۔ مذہب ، سماج ، سیاست ۔۔۔بہت سے موضوعات پر اسیر حاصل تجزیہ کرتی تھی۔ ان کے کمنٹ سیکشن میں بھی خوب بحث جمتی تھی۔ ایک اچھا خاصا مستعد بلاگ تھا۔ ان خاتون نے غلطی یہ کی کہ آزادی رائے کے واسطے سپام کو کھلی چھٹی دے دی۔ اب ہر وہ سپام جسے عربوں یا اسلام سے کوئی خار تھی وہ بغیر مثبت یا تعمیری بحث کئے اپنی نفرت کو ان کے بلاگ پر چینل کرتا۔ موضوع چاہے کچھ ہو۔ سپام کا مقصد بس ایک ہی تھا۔ آہستہ آہستہ مثبت بحث اور رائے دینے والے گھٹتے گئے اور صرف سپام ہی رہ گئے۔ جو نہ قارئین‌ کو کچھ دے سکے ، نہ بلاگ کو اور نہ ہی بلاگر کو۔

    ذاتی طور پر میں بلاگنگ کے معاملے میں‌کسی قسم کی قدغن کا قائل نہیں۔ ہاں البتہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے کچھ اہتمام کرنا ہی پڑتا ہے۔ وہ کیا اہتمام ہو گا یہ فیصلہ کرنا بلاگر کا کام ہے۔

    آپ ذہین خاتون ہیں۔ بین السطور میری بات کو سمجھ چکی ہوں گی

    ReplyDelete
  32. میرا نہیں‌ خیال کہ یہ سپام دوسرے بلاگوں پر موجود ہیں۔
    میرا خیال ہے کہ کچھ سپام قسم کی چیزیں آپ کا کندھا اپنے مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ خود اپنا بلاگ نہیں‌ بنا سکتے۔ وجہ اسکی یہ ہے کہ ان کے پاس وہ مضبوط انداز بیان نہیں جو آپ کے پاس ہے۔ ان کا نہ اپنا کوئی نظریہ ہے نہ اپنا کوئی تجزیہ حتیٰ کہ ان کے پاس تو الفاظ بھی نہیں‌ ہیں۔ صرف غصہ ہے۔ جسے یہ الٹے سیدھے طریقے سے آپ کے فورم استعمال کرتے ہوئے آگے بھیجنا چاہتے ہیں۔
    جہاں تک میں نے آپ کو پڑھا ہے۔۔بڑی حد تک اپنے آپ کو آپ سے متفق ہی پایا ہے۔ مجھے آپ کی تحریر میں کوئی تعصب یا نفرت آمیز بات اب تک نظر نہیں آئی۔ تاہم آپ کے بلاگ کے کمنٹ سیکشن میں جو سپام پتنگوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں وہ آپ کی مثبت لیکن نازک رائے کو بے ڈھنگے طریقے سے اپنے مقاصد کی طرف چینل کر رہے ہیں۔
    قاری آپ کی تحریر پڑھنا شروع کرتا ہے۔ جو بڑی حد تک تعمیری اور وسیع النظر ہوتی ہے۔ لیکن جوں جوں نیچے کمنٹ سیکشن میں اترتا چلا جاتا ہے۔۔۔آپ کی رائے گم ہوتی چلی جاتی ہے اور سپام کا شور حاوی ہوتا چلا جاتا ہے۔ دس بیس تبصروں کے بعد آپ کی رائے اور سپام کے شور میں فرق کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ اور ایک عامیانہ ذہنی سطح کا قاری یہی اخذ کرتا ہے کہ آپ کی رائے ان سپام کے شور کے قریب تر ہے۔۔
    کچھ عرصہ پہلے میں ایک مغربی خاتون کا بلاگ پڑھتا تھا۔ جو ایک عرب کے ساتھ بیاہ کر مشرق وسطیٰ کے کسی ملک میں رہ رہی تھی۔ مذہب ، سماج ، سیاست ۔۔۔بہت سے موضوعات پر اسیر حاصل تجزیہ کرتی تھی۔ ان کے کمنٹ سیکشن میں بھی خوب بحث جمتی تھی۔ ایک اچھا خاصا مستعد بلاگ تھا۔ ان خاتون نے غلطی یہ کی کہ آزادی رائے کے واسطے سپام کو کھلی چھٹی دے دی۔ اب ہر وہ سپام جسے عربوں یا اسلام سے کوئی خار تھی وہ بغیر مثبت یا تعمیری بحث کئے اپنی نفرت کو ان کے بلاگ پر چینل کرتا۔ موضوع چاہے کچھ ہو۔ سپام کا مقصد بس ایک ہی تھا۔ آہستہ آہستہ مثبت بحث اور رائے دینے والے گھٹتے گئے اور صرف سپام ہی رہ گئے۔ جو نہ قارئین‌ کو کچھ دے سکے ، نہ بلاگ کو اور نہ ہی بلاگر کو۔
    ذاتی طور پر میں بلاگنگ کے معاملے میں‌کسی قسم کی قدغن کا قائل نہیں۔ ہاں البتہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے کچھ اہتمام کرنا ہی پڑتا ہے۔ وہ کیا اہتمام ہو گا یہ فیصلہ کرنا بلاگر کا کام ہے۔

    آپ ذہین خاتون ہیں۔ بین السطور میری بات کو سمجھ چکی ہوں گی

    ReplyDelete
  33. لگتا ہے کہ کوئی تیکنیکی مسئلہ بھی ہے۔ ایک رائے کئی کئی دفعہ بھی چھپ رہی ہے۔ خیر یہ والی تو کوئی مشینی خطا ہو گی۔
    (:

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ