Wednesday, January 19, 2011

جہاں عورتوں کے لئے ڈاکٹر نہ ہو

ایک زمانے میں جب بر صغیر پاک و ہند میں صرف اعلی طبقات کی خواتین کو اتنی تعلیم دینے کا رواج تھا کہ وہ شوہر کو خط لکھ لیں یا گھر کا حساب کتاب کر لیں تو ان تعلیم یافتہ لڑکیوں کو بابل کے گھر سے وداع ہوتے وقت بہشتی زیور کتاب کی ایک جلد بھی ہمراہ دی جاتی تاکہ وہ فرمانبرادر بیوی کی حیثیت سے اپنا گھر بنانا سیکھیں۔
خیر جناب، زمانے کے انداز بدلے گئے، مسائل بھی بدل گئے ہیں۔
میری نظر سے ایک کتاب گذری۔ جس کا نام ہے 'جہاں عورتوں کے لئے ڈاکٹر نہ ہو'۔یہ کتاب صحت کارکنوں اور عورتوں کے لئے ایک رہ نما کتاب ہے۔ اگر آپ کسی خاتون کو ایسی کتاب دینا چاہتے ہیں جو اسکی زندگی میں آسانی پیدا کرے اور اسے اپنے آپ سے آگہی دے اور دیگر خواتین کے لئے مددگار بنائے تو یہ کتاب ایک بہترین تحفہ ہوگا۔ 
یہ کتاب انگریزی سے ترجمہ کی گئ ہے۔ اصل مصنفین اے آگسٹ برنز، رونی لووچ، جین میکسویل، کیتھرائین شاپیرو ہیں۔ شہری خواتین کو تو عام طور پہ طبی امداد مل جاتی ہے مگر دیہی خواتین کے لئے بر وقت طبی امداد ملنا مشکل ہوتا ہے جبکہ ہم یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ خواتین کی صحت مند زندگی خاندان کی تنظیم اور خوشحالی کے لئے بے حد ضروری ہے۔
اس منفرد کتاب کی تیاری میں تیس ملکوں کی خواتین نے حصہ لیا ہے۔ دنیا کی متعدد زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ کتاب کے کنوینر ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ اس کتاب کی مدد سے آپ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی عورتوں کی صحت ہی کی دیکھ بھال نہیں کر سکتیں بلکہ اپنے محلے اور برادری کی دوسری عورتوں کی بھی مدد کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسی کتاب نہیں جسے صرف ایک عورت استعمال کر سلے۔ یہ ہر عورت کی کتاب ہے سب عورتوں کی کتاب ہے۔
کتاب ملنے کا پتہ ہے۔
پاکستان نیشنل فورمز آن ویمینز ہیلتھ 
نیشنل سیکریٹیریٹ، پی ایم اے ہاءوس
گارڈن روڈ، کراچی
ای میل
 pnfwh@yahoo.com
مجھے بھی انہوں نے اس کتاب کی دو جلدیں دیں کیونکہ یہ کتاب دو حصوں پہ مشتمل ہے۔ ایک کتاب کا سیٹ انہوں نے پڑھنے کے لئے دیا اور دوسرا میں نے ان سا مانگا۔ اپنے عزیز گھرانے کو تحفے میں دینے کے لئے۔
سو آئیندہ چند مہینوں  میں آپکو اس کتاب سے بھی کچھ پڑھنے کے لئے ملے گا۔ آئیے آج کا اقتباس دیکھتے ہیں۔

ایک بہتر دنیا کے لئے اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں

زندگی کے پہلے لمحے سے ہم اپنے بچوں کی جس طرح تربیت کرتی ہیں، وہی، اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہمارے بچوں کی سوچ کیا ہوگی اور بڑے ہونے پہ انکی عملی زندگی کیسی ہوگی۔
ماں ہونے کی حیثیت سے ہم اپنے بچوں کو ہر روز تعلیم دیتی ہیں
جب ہم اپنے شوہروں اور بیٹوں کو کھانا پہلے دیتی ہیں تو ہم اپنے بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ لڑکیوں اور عورتوں کی بھوک کی کم اہمیت ہوتی ہے۔
جب ہم صرف اپنے بیٹوں کو اسکول بھیجتی ہیں تو ہم اپنے بچوں کو یہ تعلیم دیتی ہیں کہ لڑکیاں ان مواقع کی مستحق نہیں جو جو تعلیم حاصل کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
جب ہم اپنے بیٹوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ سخت اور تند و تیز مزاج مردانگی کی علامت ہےتو ہم تند و تیز مزاج والے مرد تیار کرتی ہیں۔
جب ہم اپنے پڑوسی کے گھر میں ہونے والے تشدد اور مار پیٹ کے خلاف نہیں بولتیں تو ہم اپنے بیٹوں کو تعلیم دیتی ہیں کہ مرد کے لئے اپنی بیوی اور بچوں کو مارنا جائز ہے۔


ماں ہونے کی حیثیت سے ہم اپنے بچوں کی فطرت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ہم اپنے بیٹوں کی اس طرح تربیت کر ہیں کہ وہ مہربان، رحم دل اور درد مند بنیں تاکہ وہ بڑے ہو کر مہربان، نرم دل اور درد مند باپ اور بھائ ثابت ہوں۔
ہم اپنی بیٹیوں کو یہ تعلیم دے سکتی ہیں کہ وہ اپنی قدر و قیمت اور اہمیت  پہچانیں۔ اسی طرح وہ دوسروں سے بھی یہی توقع کریں گی کہ وہ انکی قدر کریں گے اور اور انہیں اہمیت دیں گے۔
ہم اپنے بیٹوں کی تربیت کر سکتی ہیں کہ وہ گھر کے کام کاج میں حصہ لینے میں فخر محسوس کریں تاکہ ان کی بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں پر بہت زیادہ کام کا بوجھ نہ پڑے۔
ہم اپنی بیٹیوں کی یہ تربیت کر سکتی ہیں کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کریں یا کوئ ہنر سیکھ لیں تاکہ وہ اپنا بوجھ خود اٹھا سکیں۔
ہم اپنے بیٹوں کو یہ تعلیم دے سکتی ہیں کہ وہ تمام عورتوں کا احترام کریں اور ذمہ دار ازدواجی رفیق ثابت ہوں۔
ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لئے ہم اپنے بچوں کی تربیت کر سکتی ہیں۔

11 comments:

  1. آپ نے لکھا ہے ”ایک زمانے میں جب بر صغیر پاک و ہند میں صرف اعلٰی طبقات کی خواتین کو اتنی تعلیم دینے کا رواج تھا کہ وہ شوہر کو خط لکھ لیں یا گھر کا حساب کتاب کر لیں تو ان تعلیم یافتہ لڑکیوں کو بابل کے گھر سے وداع ہوتے وقت بہشتی زیور کتاب کی ایک جلد بھی ہمراہ دی جاتی تاکہ وہ فرمانبرادر بیوی کی حیثیت سے اپنا گھر بنانا سیکھیں"

    کيا ميں پوچھ سکتا ہوں کہ يہ آج سے کتنے سال پہلے کی بات ہے ؟
    اور يہ کہ کيا بہشتی زيور خاوند کی تابعداری کيلئے ہدايات کی کتاب ہے ؟

    پاکستان بننے سے بہت پہلے بھی ہمارے خاندان ميں لڑکياں سکول کالج ميں تعليم حاصل کرتی تھی مگر کسی کو شادی کے وقت کتاب "بہشتی زيور "نہيں دی گئی البتہ قرآن شريف ضرور ديا جاتا رہا

    آپ کی معلومات ميں اضافے کی کوشش کرتے ہوئے لکھ ديتا ہوں کہ ميری والدہ محترمہ اپنی شادی سے قبل اتنا پڑھی ہوئی تھيں جسے آجکل اے ليول کہا جاتا ہے ۔ وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ انگريزی اور فرانسيسی زبانيں بھی جانتی تھيں جو انہوں نے سکول ميں پڑھی تھيں ۔ شادی کے وقت اُنہيں قرآن شريف کی ايک جلد ميرے نانا نانی نے دی تھی جو اب ہمارے پاس ہے

    جس کتاب کا آپ نے ذکر کيا ہے اگر يہ وہی ہے جس ميں خواتين کو خالص معاملاتِ صحت خواتين اور زچہ بچہ کے سلسلہ ميں تربيت دی گئی ہے تو واقعی يہ بڑی مفيد کتاب ہے ۔ اچھا ہوا کہ اس کا ترجمہ ہو گيا مگر فائدہ تبھی ہو گا جب يہ کتاب چھوٹے شہروں اور ديہات کی پڑھی لکھی خواتين تک پہنچے گی

    ReplyDelete
  2. نکات تو بہت زبردست اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم ان سے حقوق نسواں کی "بو" آرہی ہے جو ظاہر ہے کہ "گروپ" کی بلبلاہٹ میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ ان نکات سے زومبیت پر میری نئی تحقیق میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تو بالآخر آپ نے میری تھیسز ایڈوائزر بننے کا فیصلہ کر ہی لیا۔
    "بہشتی زیور" کا جہاں تک تعلق ہے تو اس میں ایک چھوٹی سی لیکن اہم تصحیح کرلیں کہ یہ ایک فرمانبردار بیوی یا لائف پارٹنر کے لئے نہیں بلکہ بیوی کو پاؤں کی جوتی بننانے کے لئے پڑھائی جاتی تھی۔ گناہ اور ثواب کے چکر میں ڈال کر ایسی ایسی لغویات باور کروائی جاتی تھیں کہ جو کم از کم کسی پڑھی لکھی خاتون کے شایان شان ہرگز نہیں۔

    ReplyDelete
  3. عنیقہ بہت ہی زبردست تحفہ ہے ۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ جہاں انکے مردوں نے قبول ہی نہیں کیا تو ۔۔۔ مرد کب چاہئے گا کہ اسکی بیوی کو زیادہ سمجھ ہو ۔ اگر اس کو سمجھ آ گئی تو وہ اپنے میاں سے ہر بات کیسے پوچھے گی ، مطلب نہیں پوچھے گی ، جو اسکے میاں اور سسرال والوں کے لیے بہت بڑی ہار ہے ۔۔۔ جہاں ڈاکٹر نہیں ہے وہی عورتوں کے مسائل بھی بہت ہیں ۔ اور بچاری عورت ڈاکٹر کی گٰر موجودگی میں جہاں فانی سے کوچ کر جاتی ہے ۔۔یہ بہشتی زیور ابھی بھی دیا جاتا ہے ۔۔۔۔ اور بیٹی کو رخصت کرتے وقت مرے ہوئے منہ کی قسم بھی پلو سے باندھ دی جاتی ہے ۔ اب وہ جائے تو جائے کہاں ؟

    ReplyDelete
  4. اُؤں مولویJanuary 20, 2011 at 3:40 PM

    ان تعلیم یافتہ لڑکیوں کو بابل کے گھر سے وداع ہوتے وقت بہشتی زیور کتاب کی ایک جلد بھی ہمراہ دی جاتی تاکہ وہ فرمانبرادر بیوی کی حیثیت سے اپنا گھر بنانا سیکھیں

    بر یلوئ مسلک میں "بہشتی زيور " خاوند کی تابعداری کيلئے ہدايات کی کتاب ہے ۔ اس کتاب سے دیو بندی مسلک کا کوئ تا لق نہیں ھے

    ReplyDelete
  5. اُؤں مولویJanuary 20, 2011 at 3:42 PM

    بر یلوئ مسلک میں "بہشتی زيور " خاوند کی تابعداری کيلئے ہدايات کی کتاب ہے ۔ اس کتاب سے دیو بندی مسلک کا کوئ تا لق نہیں ھے

    ReplyDelete
  6. افتخار اجمل صاحب، تانیہ کے بیان سے آپکو پتہ چل گیا ہوگا کہ یہ کتاب اب بھی دی جاتی ہے۔ مزید معلومات کے لئیے یہ لنک دیکھیں۔
    http://en.wikipedia.org/wiki/Bahishti_Zewar

    اوں مولوی، بہشتی زیور کے مصنفف مولانا اشرف علی تھانوی ریو بندی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے آپکا یہ کہنا عجیب ہے کہ اس کتاب کا دیو بندی مسلک سے کوئ تعلق نہیں۔
    یہ بات الگ ہے کہ خواتین کے حوالے سے اس کتاب نے ایک زمانے میں بڑی شہرت پائم اور اس میں دونوں مسالک کے لوگ شامل ہیں۔ وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ ایک فیوڈل سماج میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ احساس گناہ کے ما تحت رکھنا۔

    ReplyDelete
  7. بہت کم لوگون کو اس بات کا علم ہے کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے بہشتی زیور مردوں کے لیئے نام کی کتاب بھی لکھی تھی،
    جس کو جان بوجھ کر ترویج نہیں دی گئی ورنہ میل ڈومینیٹیڈ سوسائٹی کو عورتوں کے ساتھ بیلنس سوسائٹی بنانا پڑتی!!!!!!
    کچھ لوگ صرف اپنے ارد گرد کی دنیا کو کل دنیا سمجھتے ہیں،اور صرف اسے ہی علم سمجھتے ہیں جو انکی آنکھوں نے دیکھا!!!!!
    میں تو آپ سے پہلے ہی کہ چکا ہوں کہ اب یہ آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے!
    بے چارے جب اپنے کرتوت مومناں کھلتے دیکھتے ہیں تو ماضی کے قصے اٹھا لاتے ہیں کہ تاکہ ان کے حلقہ اثر میں موجودچند بے وقوف اپنے شعور کی آنکھیں کھولنے لگیں تو ان پر اپنے مومن ہونے کا زور ڈال کر دوبارہ ادھ کھلی آنکھیں بند کی جاسکیں!

    ReplyDelete
  8. " مذہب کے جو بیوپاری ہیں،
    وہ سب سے بڑی بیماری ہیں
    وہ جن کے سِوا سب کافر ہیں،
    جو دین کا حرفِ آخر ہیں
    ان جھوٹے اور مکاروں سے،
    مذہب کے ٹھیکیداروں سے
    میں باغی ہوں، میں باغی ہوں،
    جو چاہے مجھ پر ظلم کرو

    ReplyDelete
  9. بھارت میں نئی طرز کے مذہبی اسکولوں کا تصور پروان چڑھ رہا ہے!
    http://www.voanews.com/urdu/news/India-Madrassas-20Jan11-114281339.html

    ReplyDelete
  10. پہلے زمانے میں خواتین کو تعلیم دی جاتی تھی اور اعلیٰ تعلیم دی جاتی تھی ، جہاں تعلیم نہیں دی جاتی تھی وہاں وصائل کی کمی کی وجہ سے نہیں دی جاتی تھی ۔۔ کیونکہ اس زمانے کے روشن خیال بھی آجکے زمانے کے روشن خیالوں کی طرح اپنی جیبیں بھرنے میں لگے ہوے تھے۔۔ اسی لیے ایک مولوی کو فکر ہوی کہ اور کچھ نہیں ان عورتوں کو کچھ نہ کچھ تو آنا ہی چاہیے اسی لیے اس مولوی نے اپنی استعداد کے مطابق ایک کتاب ترتیب دی جسکا نام بہشتی زیور رکھا گیا ۔۔ کتاب چونکہ ایک مولوی نے لکھی تھی اسی لیے اسکے اندر اخلاقیات اور دین کا درس بھی تھا ۔۔ اپنی ایسی کوی کتاب نہ لکھنے کے باوجود بھی آج تک روشن خیال اس سے تکلیف میں ہیں ۔

    عورت کو ٹرک سے لے کر چھالیہ کی مشہوری پر لگا کر پیسے کمانے والے روشن خیال آج بہشتی زیور پر طنز کرتے ہیں ۔

    عورت کو جاہل اور روشن خیال طبقے نے ہمیشہ پاوں کی جوتی بنایا ہے بس فرق صرف طریقہ کار کا ہے ۔ پہلے کے روشن خیال اسکو جاہلوں کی طرح زورِ بازو سے پاوں کی جوتی بناتے تھے آج عورت اور مرد میں فرق ختم کرنے کے نام پر ۔

    شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔۔۔

    انکل ٹام

    ReplyDelete
  11. میں انکل ٹام سے تھوڑا سا اختلاف کروں گا۔ اگر روشن خیال طبقہ عورت مرد میں فرق ختم کرنے کے نام پر عورت کا استحصال کر رہا ہے تو عورت آخر کیوں اِس دھوکے میں آرہی؟ کوئی زبردستی پکڑ کے تو ٹرک اور چھالیہ کی مشہوری پر نہیں لگا رہا۔ عورت اپنے مرضی سے ہی فیصلہ کرتی ہے۔
    عورت مرد میں فرق ختم کرنے کی کوشش تو خود عورت کی خواہش ہے۔ اسے عورت کو پاؤں کی جوتی بنانے کی چال قرار دینا غلط ہے۔
    بہتر یہی ہے معاشرہ صنفِ نازُک کی خواہہش اور مرضی کا احترام کرے۔ قطع نظر اِس کے کہ عورت کی خواہش اور مرضی صحیح ہو یا غلط۔

    Safdar

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ