Thursday, February 24, 2011

خواتین اور بلاگنگ

مصر میں تبدیلی کا سہرا جن لوگوں کے سر جاتا ہے ان میں خواتین بلاگرز بھی شامل ہیں۔ بلاگستان کے ایک طبقے کی زبان میں وہ خواتین  نان کمیٹڈ ہیں جو اپنی گھر میں رہتے ہوئے کسی بھی ایسی چیز سے تعلق رکھنا چاہیں جو ان میں کسی بھی سطح کا شعور پیدا کرنے کے قابل ہو مثلاً بلاگنگ جیسی مفت شے۔ وہ خواتین جو  شادی شدہ ہیں انہیں  چاہئیے کہ ڈائجسٹ پڑھیں یا اسٹار پلس کے ٹی وی پروگرام  مثلاً ساس بھی کبھی بہو تھی دیکھ کر زندگی کے باقی دن پورے کریں۔  لیکن خواتین اگر خدا انہیں ہمت دے تو بلاگنگ نہ کریں جناب۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
مزید دلچسپ ٹرینڈز بھی ہمارے یہاں ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے یہاں احترام کے لائق کون خواتین ہوتی ہیں؟ جی نہیں وہ خواتین نہیں جو کسی علمی مرتبے پہ یا کسی مقام پہ اپنی صلاحیت کی بناء پہ پہنچی ہوں نہ ہی وہ جو اپنی صلاحیتوں سے اپنے ارد گرد کے لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا چاہ رہی ہوں یا دوسروں میں تحرک ہی پیدا کر دیں، نہیں وہ بھی نہیں جو کسی دباءو کا شکار اور کمزور شخص کی آواز بن جائیں اور وہ بھی نہیں جو صرف یہ کام انجام دینے لگیں کہ ایک جگہ کا کار آمد علم دوسری جگہ پہنچانے لگ جائیں۔
ہمارے یہاں کسی خاتون کو اگر احترام حاصل کرنا ہے تو ایک بالکل آسان سا نسخہ ہے حجاب پہننا شروع کر دے۔ اور ابھی اندازہ ہوا کہ سب سے کم سطح پہ یہ کہ اپنا نام ہی حجاب رکھ لے۔ بس اسکے بعد ان خاتون کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو کچھ کریں گے دوسرے کریں گے۔ احترام اور ستائیش  اس طرح نکل کر بہے گا کہ اس میں دھل کرعام مٹی بھی زم زم کی گیلی ریت بن جائے گی۔

 میں ان تمام ملکوں میں چلنے والی تحریکوں کی تصاویر دیکھتی ہوں جہاں مردوں کے دوش بدوش عورتیں کھڑی نعرہ زن ہیں۔ سوچتی ہوں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ان احتجاج کرنے والی عورتوں کو ہمارے یہ مرد کس فہرست میں رکھتے ہونگے قابل احترام یا نا قابل احترام۔ اس نیچے والی تصویر میں یقیناً وہ خواتین قابل احترام ہونگیں جنہوں نے اسکارف پہنا ہوا ہے اور جس خاتون نے نہیں پہنا ہوا وہ ناقابل احترام۔



اسماء محفوظ ایک بلاگر جو مصر میں تبدیلی کے بہاءو کو تیز تر کرنے میں شامل رہی۔ وہ اپنے گھر سے کمیٹڈ ہے یا نان کمیٹڈ، گھر اور گھریلو رشتوں کو اہمیت دینے والی ہے یا خود غرض۔  ہمارے یہاں ابھی پیٹ بھرے خیالات کا بہاءو اس طرح ہے۔

انکے دوست نے اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے بلاگنگ اور نیٹ سرفنگ سے معذرت کی ہے اس تحریر کے تبصروں میں لوگوں نے انکے اس اقدام کو ان لوگوں نے بہت سراہا جو گھر اور گھر میں بسنے والے لوگوں کی اہمیت سے واقف ہیں اور ان لوگوں نے اس فعل کو غیر اہم اور دقیانوس قرار دیا جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے انکے لئے انکا اپنا آپ ہی سب کچھ ہوتا ہے

چلیں جناب، اگر آپ گھر اور گھر میں بسنے والوں کی اہمیت سے واقف ہیں تو فوراً بلاگنگ جییسے قبیح فعل سے جان چھڑائیں ورنہ آپ ان لوگوں میں شامل ہونگے جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے اور آپکا اپنا آپ ہی آپ کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تبصرہ لکھنے والے اور اس پہ واہ واہ کرنے والے اس سے مستثنی ہیں۔ اگر انہوں نے  بلاگنگ چھوڑ دی اور دوسروں نے واہ واہ کرنا  تو بلاگنگ کی دنیا کو راہ راست پہ کون رکھے گا۔

44 comments:

  1. اردو بلاگستان کی اوقعات اتنی ہے جتنی کہ اردو اخبارات کی۔ دونوں ہی میں سنجیدہ لینے والی کوئی چیز نہیں۔ بلکہ اگر معقول چیز پڑھنے کو مل جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ لہذا پہلی بات تو یہ کہ ٹینشن نہ لیا کریں۔ مزید یہ کہ ایک مخصوص طبقے کی ذہنی وسعت اور ان کا "تصور عورت" ہی بلا تبصرہ ہے اس پر مزید کیا کلام؟ .. تین چار ٹاکنگ پوائنٹس ہیں لوگوں کے پاس؛ عورت ، روشن خیالی ، امریکہ ، مذہب ، جزاک اللہ خیر۔
    پاکستان میں انگریزی بلاگستان بہرحال بلاگنگ کا کچھ نہ کچھ حق ادا کررہا ہے۔ یقنناً ان میں سے کچھ کا موازنہ عالمی سطح پر دوسرے بلاگروں سے کیا جا سکتا ہے لہذا ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ اگرچہ اس "ہم" میں ہم مسکین اردو والے شامل نہیں۔

    ReplyDelete
  2. Disgusting and shameful...
    Never expected this kind of idiotic writing from you...

    ReplyDelete
  3. آپ جیسے لوگوں کے نزدیک بھی تو حجاب استعمال کرنے والی خواتین حقیر اور ناقابل احترام ہوتی ہیں تو دوسروں سے گلہ کیوں؟؟؟

    خواتین کو بلاگنگ ضرور کرنی چاہیے اگر ذرائع اور وسائل دستیاب ہوں تو۔ میرے خیال میں تو وہ باآسانی گھریلو معاملات اور بلاگنگ کو مینج کرسکتی ہیں۔
    ویسے شاید آپ نے اسماء محفوظ کی تصویر نہیں دیکھی باحجاب خاتون ہیں، یعنی آپ جیسوں کے نزدیک ناقابل احترام۔۔۔۔۔۔۔
    :D

    ReplyDelete
  4. وقار اعظم، آپ میری پچھلی تمام تحریروں میں سے کوئ ایک تحریر ایسی لے آئیں جس میں یہ کہا گیا ہو کہ خواتین کو حجاب نہیں پہننا چاہئیے۔ یا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ میں حجاب پہننے والی خواتین کو نا پسند کرتی ہوں۔ میرے لئے یہ مسئلہ صرف ذاتی پسند کا ہے کسی کو اگر حجاب کرنا پسند ہے تو وہ کرے کسی کو نہیں تو وہ نہ کرے۔ اس سے آگے یہ کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ میرے نزدیک احترام صرف حجاب تک محدود نہیں۔ میں ہرگز بھی کسی خاتون کو اس لئے نا پسند نہیں کر سکتی کہ وہ حجاب پہنتی ہے اور نہ ہی اسے اس لئے پسند کر سکتی ہوں کہ وہ حجاب نہیں پہنتی۔
    تو آپ کے نزدیک اسماء محفوظ کی اہمیت صرف حجاب سے بڑھ جاتی ہے کیا ایسا ہی ہے۔ کوئ بے حجاب خاتون اگر اس احتجاج میں شامل ہے یا اس تحریک کا حصۃ ہے تو اسکی اہمیت نہیں۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے جبکہ مصر میں چلنے والی اس تحریک میں وہاں کے عیسائ تک شامل ہیں۔
    آپ سمجھتے ہیں کہ اسماء محفوظ کا حوالہ دونگی مگر یہ نہیں جانتی ہونگی کہ وہ کون خاتون ہیں۔ تو آپکی اس معصومیت پہ صدقے ہی جایا جا سکتا ہے۔ نیٹ پہ آپ کو ان خاتون کا حوالہ دونگی مگر نہیٹ پہ بکھری ہوئ ان خاتون کی تصاویر سے صرف نظر کرونگی۔ واہ۔
    جب تک آپ لوگ اپنے معیارات کو ان ظاہری چیزوں پہ تولتے رہیں گے حالات ویسے ہی رہیں گے جیسے ہمیں نظر آتے ہیں۔
    عثمان، مجھے ٹینشن نہیں ہوتا، ان باتوں پہ ہنسی آتی ہے۔ یہ سب باتیں میں نے اس پہ ہنسنے کے بعد ہی لکھی ہیں۔ تاکہ جو مستفید نہیں ہوئے وہ بھی ہنس سکیں۔ گڈ گاڈ۔ مجھے آج تک نہیں پتہ چلا کہ وہ خاتون با پردہ ہیں۔ لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ ایک با پردہ خاتون ہیں۔ اس لئے کہ نفیس خیالات، با پردہ خاتون کے ہی ہو سکتے ہیں۔
    بہرحال، ان خاتون سے درخواست کرونگی کہ میرے تبصروں کو ذاتی سطح پہ نہ لیں۔ مجھے ان سے کچھ لینا دینا نہیں بس یہ ایک کلاسک مثال تھی اور لوگوں کے ذہنی رویوں کی اس لئے انکا حوالہ ڈالنا پڑا۔

    ReplyDelete
  5. نہ جانے آپ کے پاس اتنی فرصت کیوں ہوتی ہے کہ بیکار بات پر پوسٹ تو کر سکتی ہیں مگر سمجھنے کی کوشش نشتہ۔
    جو بلاگنگ کر سکتا ہے وہ کرے اور جو نہیں کر سکتا نہ کرے اس میں کوئی کیوں کسی کو کھینچے کہ تم بلاگنگ کرو اور کوئی کیوں کسی کو نیچا دیکھانے کو کہے کہ نہ بھیا تم گھر سنبھالو۔

    ReplyDelete
  6. عنیقہ۔۔۔ ویسے تو میں آپ کو کافی پڑھی لکھی اور روشن خیال خاتون سمجھتا ہوں۔۔۔ لیکن یہ تحریر لکھ کر آپ نے ثابت کر دیا کہ دوسروں کے بارے میں فضول باتیں کرنے کی آپ سے بھی امید کی جا سکتی ہے۔۔۔ آپ نے یہ تحریر کیوں لکھی ہے اور کن کن کے حوالے دیے ہیں وہ ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے۔۔۔ جو اردو سیارہ کو روزانہ فالو کرتا ہے۔۔۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ نے بلاوجہ اس معاملہ کو اتنی ہوا دی ہے اور بلکہ دوسروں پر بھی کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی ہے۔۔۔ اس سے بھی زیادہ افسوس اس بات پر ہوا ہے کہ آپ کی سوچ بہت سے لوگوں کے سامنے آ گءی ہے۔۔۔
    عثمان۔۔۔ جب اردو بلاگز کے معیار اتنے ہی گرے ہوءے ہیں تو میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ صرف انگریزی بلاگ ہی پڑھا کریں۔۔۔ یا پھر حسب عادت صرف عنیقہ صاحبہ کے بلاگ پر ہی کمنٹ دے کر خوش ہوتے رہیں۔۔۔

    ReplyDelete
  7. نجانے کیوں آپ کی چند تحاریر اسی روئیے کا اظہار نظر آتی ہیں جس کی مذمت میں یہ لکھی جاتی ہیں۔ چلیں ایک خاص طبقہ کو تو آپ تنگ نظر قرار دے دیں گی لیکن اگر معیار صرف فراخ دلی یا برداشت ہو تو پھر آپ بھی خاکم بدہن اسی طبقہ کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہیں اگرچہ نشانہ پر کوئی اور ہوتا ہے۔ دیکھئے احترام تو کوئی بھی کسی بھی قسم کا کام کرلے اسے مل ہی جاتا ہے کہ احترام مانگا نہیں جاتا خودبخود لوگوں کے دلوں میں اُتر آتا ہے۔ ہاں یہ بات مسلم ہے کہ آپ چاہے کچھ بھی کرلیں اس سے زیادہ احترام اور پیار نہیں پاسکتے جو ایک ماں کو اس کی اولاد سے ملتا ہے۔ خالص اور غیر مشروط پیار اور احترام۔ ہم اس حقیقت کے خلاف لڑ ضرور سکتے ہیں لیکن اس سے نظر نہیں چُرا سکتے۔ میری ذاتی نظر میں ہر وہ کام جو آپ کو اپنی اولاد کو وہ پیار اور توجہ دینے سے باز رکھے جو اس کا حق ہے، اس کا کرنا ناجائز ہے کہ اس دُنیا میں آپ اس سے زیادہ کچھ اچھا نہیں کرسکتے کہ اسے ایک باشعور اور باتہذیب نسل کے حوالے کرجائیں۔ جہاں تک بات ہے حجاب کی تو اللہ کی کہی بات کو تو نہ میں بدل سکتا ہوں اور نہ آپ۔ احترام تو لوگوں کے دلوں میں اللہ پیدا کرتا ہے اب دیکھئے لاہور شہر میں ایک شہنشاہ بھی دفن ہے اور ایک فقیر بھی۔ لیکن لوگوں کے دل میں احترام ایک فقیر ہے شہنشہاہ کا نہیں کہ فقیر کے آستانے پر ہر وقت لوگوں کا جمگھٹا رہتا ہے جبکہ شہنشاہ کی قبر ویران ہے۔ تو یہ ایک مثال ہے ہزاروں لاکھوں میں سے۔ کسی بھی علم میں، فن میں کمال حاصل کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن اگر اس کی قیمت آپ کے گھر کو، آپ کی اولاد کو دینا پڑی ہے تو پھر سودا حماقت ہے۔

    ReplyDelete
  8. بہنا، یہ بات واقعی پریشان کرنےوالی ہےدراصل ہمارےہاں کچھ معیارہیں جسطرح کوئی بھی بندہ اگرنمازباقاعدگی سےپڑھتاہوں لیکن برےکام بھی کرتاہوں توآپ کےخیال میں وہ کیسابندہ ہےوہ نماز بھی پڑھےاورحقوق العبادبھی دبائےآپ اس کوکیاکہیں گی۔
    یہی بات ان خواتین کی ہےجوکہ باپردہ ہوتی ہےکیونکہ اسلام ہمیں کوئی بھی ایساکام جس سےعورت کےنفس پرکوئی حرف نہیں آتااس سےنہیں روکتاہےاگروہ عورت اس کوباپردہ ہوکرکرےگی توظاہرسی بات ہےاس کواس کاثواب بھی ملےگااوریہ ٹھیک بھی ہوگا۔باقی عورت کوہم وہ مقام نہیں دےسکیں ہیں جسکی وہ حقدارہےکیونکہ ان کےحقوق غصب کرنےمیں آگےہوتےہیں۔ اللہ تعالی ہم کودین اسلام کی صحیح تعلیمات پرعمل کرنےکی توفیق عطاء فرمائیں ۔ آمین ثم آمین

    ReplyDelete
  9. آپ قابل نفرت نہیں بلکہ قابل رحم ہیں

    ReplyDelete
  10. درست کہا .. اس قسم کے لوگوں کی باتوں پر ہنسی ہی آنی چاہیے۔محظوظ کن بات یہ ہے کہ عورت کی عزت و عصمت کے دم بھر نے والے یہ مذہب پرست عورت ہی کے خلاف ایک لمحے سے بھی پہلے اپنی نیچ اصلیت اور اوقعات پر اترتے ہیں۔ مذہب کے پاسدار مذہب ہی کو ہتھیار بناتے ہوئے نفرت اور تشدد کو محبوب گنیں گے۔ان میں سے غیر تہذیب کے خلاف بولنے میں وہ سب سے آگے ہوگا جس کے اپنے تانے بانےاس سے جڑے ہونگے۔ مذہب پرست کے بارے میں وضاحت کی ضرورت ہی نہیں .. یہ لوگ بار بار اپنی نمایاں مثالوں کے ساتھ خود ہی سامنے آتے رہتے ہیں۔
    پچھلے کچھ عرصہ سے انہیں پہچاننے میں کافی مہارت ہوچکی ہے۔ اب تو آغاز ہی میں پہچان جاتا ہوں کہ کس کی اصلیت کہاں کھلے گی ، کس کی تان کہاں آ کر ٹوٹے گی۔
    دیکھ لیں ، شاگرد صاحب ماہر ہوتے جارہے ہیں۔

    ReplyDelete
  11. خرم صاحب، میں یہ ضروری سمجھتی ہوں کہ ان باتوں کو سامنے رکھوں جسے کے تحت کچھ تمام نظام اور اسکے کرتا دھرتا پہ ہر وقت لعنت بھیجتے ہیں اور جو معاشرے کی تکزلہ کی فکر میں وہ اسی تنزلی می برابر کے ساجھے دار ہوتے ہیں۔
    مجھے خود ان تمام لوگوں سے کسی قسم کا اگترام حاصل کرنے کی نہ فکر ہے نہ خواہش اور یہ چیز میں بارہا لکھ چکی ہوں۔ ان سے حاص کردہ احترام کی اوقات اتنی ہے کہ اسکارف سر پہ باندھ کر انکے سامنے آجائیے۔ پھر جو چاہے کرتے رہئیے۔
    رہی بات ماں اور اولاد کی محبت کی۔ شاید ہم اور آُ اس سلسلے میں پہلے بھی بات کر چکے ہیں۔ ایک دفعہ پھر۔ پاکستان میں اس وقت پڑھی لکھی خواتین کا تناسب پندرہ فی صد سے زیادہ نہیں۔ اس میں سے جو خواتین جاب کرتی ہیں انکا تناسب بہت ہوگا تو دس فی صد ہو گا اور یہ سب کی سب پاکستان کے بڑے شہروں میں رہتی ہیں۔ ملک کی تقریباً اسی فی صد خواتین اسی معیار پہ ہیں جیسا کہ دیگر لوگ چاہتے ہیں عنی ہمہ وقت اپنے گھر میں بند یا مصروف رہے والی۔ اسی فی صد خواتین کے بچے اپنی ماءووں سے وہ محبت پا رہے ہیں جو آُ سمجھتے ہیں کہ گھر میں ہمہ وقت رہمے والی خواتین اپنے بچوں کو دے سکتی ہیں۔ نتیجہ آپکے سامنے ہے۔
    کسی بھی علم میں مہارت پیدا کرتے وقت تو مرد بھی اپنے گھریلو رشتوں کو نظر انداز نہیں کرتے۔ وہ بھی دنیا میں جو کچھ کرتے ہیں خاندان کی بہتری کے لئے ہی کرتے ہیں۔
    لیکن ، معمولی چیزوں کو احترام اور غیرت کا مسئلہ بنا لینا ، چہ معنی دارد۔
    اگر میں اس قسم کے احترام حاصل کرنے کی کوشش میں پڑ جاءوں تو اتنی سمجھ تو رکھتی ہوں کہ لوگوں کی دماغی رو دیکھ کر وہی لکھتی رہوں جو انہیں پسند ہے۔ لیکن میں ایسا کیوں نہیں کرتی، یہ بھی تو سوچنے کی بات ہے۔

    ReplyDelete
  12. آپ کو اپنی تعليمی سند کا واسطہ ۔ اس طرح کی جاہلانہ تحارير لکھ کر تعليم کی توہين نہ کيا کيجئے مبادہ لوگوں کو [جو پہلے ہی عِلم سے کنارہ کشں ہوئے جاتے ہيں]عِلم سے نفرت کرنے لگيں

    ReplyDelete
  13. افتخار اجمل صاحب، مجھے آپکی اس طرز سے بے حد اختلاف ہے۔ جن تحاریر کے میں حوالے دیتی ہوں۔ وہاں آپ یہ کبھی نہیں لکھتے کہ یہ کیا جہالت ہے صاحب۔ ہمہ وقت اسکے مظاہرے کی چنداں ضرورت نہیں۔
    اگر آپ جسیے لوگ وہاں بھی ایسے تبصرے لکھ دیں۔، تو امید ہے کہ بےکار کی ڈگڈگی بجانے کے بجائے لوگ کوئ کام کا کام کرنے میں بھی دلچسپی لینے لگیں۔
    ہر تھوڑے دن بعد ایک نیا بلاگ بنتا ہے، جس میں لمبے عرصے کے وقفوں کے بعد کوئ تحریر ابھرتی ہے جس کا کوئ مقصد نہیں ہوتا سوائے ایسی لغویات کے اور اس پہ ایک طبقے کے لوگ جلدی جلدی جا کر واہ واہ کر آتے ہیں۔ اسکے بعد اخلاقی دروس کا سلسلہ آ کر یہاں اس بلاگ پہ شروع ہوتا ہے۔ دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ۔

    ReplyDelete
  14. بد تمیز ، آپ تنا کیوں نہیں سمجھتے کہ میں بلاگ اس لئے بھی لکھتی ہوں کہ لوگوں کو اس منافقت پہ بھی ٹوکوں جو وہ ہر وقت معاشرے میں نکاتے رہتے ہیں مگر جسکے کرنے والون میں وہ خود شامل ہیں۔ جب کوئ ایسا کرتا ہے اور ببانگ دہل کرتا ہے تو میں ضورو کہنا چاہونگی کہ اٹس یو ٹو۔
    میں بلاگنگ کے متعلق اپنا تبصرہ بلکہ دو تبصے لکھ کر بات ختم کر چکی تھی۔ مگر لوگوں کو نیا مواد مجھے دینے کی جلدی ہوتی ہے۔
    آپکے تبصرے کے آخری حصے سے مجھے اتفاق ہے۔ مجھے بھی یہی کہنا تھا کہ جسکی مرضی چاہے کرے اور چھوڑے۔ لیکن اگر کوئ خاتون یہ کہہ کر چھوڑے تو اس پہ واہ واہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ایک شخص انہیں وقت نکالنے کے مشورے دے سکتا ہے۔ مگر ایسے وقت پہ بغض معاویہ نکالنا شاید فرض عین ہوتا ہے۔
    عمران اقبال، کیا جو تحریر پہ یہ تحریر لکھی گئ ہے وہاں بھی آپ نے اسی قسم کے تاءثرات کا اظہار کیا ہے۔ نہیں۔ تو پھر آپ مجھ سے اختلاف کر رہے ہیں یا اس نظرئیے سے اتفاق۔
    بلا امتیاز صاحب، یہ آپکی قسمت ہے جو چاہے آپ اپنے لئے منتخب کریں۔ انتخاب کی صلاحیت سے ہی تقدیریں بنتی ہیں۔

    ReplyDelete
  15. عنیقہ یہ کچھ خوفزدہ لوگوں کی آہ و بکا ہے،جو آپ جیسی اپنے حقوق کا ادراک رکھنے والی با شعور خواتین سے خوفزدہ ہیں،انہیں یہ ڈر ہے کہ ایسی خواتین ان کے گھروں میں بھی پیدا ہوگئیں تو ان کی اجارہ داریاں خاک میں مل جائیں گی،
    یہ اس تبدیلی سے خوفزدہ ہیں جو انسان کو اپنے ہونے کا شعور بخشتی ہے!
    ان خدائی فوجداروں سے کوئی یہ پوچھے کہ جن کے بارے میں لکھا گیا کیا ان کے منہ میں زبان نہیں جواب دینے کے لیئے، کہ ان محلے کے بھائی لوگوں کو مقابلے پر اترنا پڑا؟
    اصل ہمدردی بہنوں کی نہیں بلکہ اصل مسئلہ آپ سے کھندس نکالنا تھا سو بہانہ مل گیا!!!!!!
    آپ نے ان کی ایگو کو ڈاریکٹ ہٹ کیا ہے انہوں نے واہ واہ کی اور آپ نے تنقید،تو یہ تو ہونا ہی تھا!!!!
    عبداللہ

    ReplyDelete
  16. آپ سے اتفاق تو کوئی کند ذہن دانشور ہی کر سکتا ہے۔۔ ویسے بھی آپ سے بحث کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔۔۔

    میں نے جس نظریے کے ساتھ اتفاق کیا ہے، آپ کی اس تحریر میں اس کی مناسبت سے صرف گند گھولا گیا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔

    اللہ آپ کو ہوش و عقل کے ںاخن دے۔۔۔ آمین۔۔۔

    ReplyDelete
  17. اس ذہنیت کے ساتھ اس طرح کے تبصرے اور بلاگ سمجھ میں آتے ہیں!!!!!!!!!!!!!
    http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan-women-26feb11-116974993.html

    عبداللہ

    ReplyDelete
  18. مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے ۔ کہ آپ سب یہاں مرد حضرات جمع ہیں ۔۔۔ اور خواتین کے بارے میں ہی اپنے خیالات کا اظہار فرما رہے ہیں ۔۔۔ پاکستان میں کچھ شہر ایسے ہیں ، جہاں اپنی عورتوں کو ساتھ پردوں میں چھپایا جاتا ہے ۔ اور دوسرے کی عورت پر نظر رکھی ہوتی ہے ۔۔۔۔ چاہئے وہ اس طبقے کی ہی کیوں نا ہو جس کو معاشرہ برا کہتا ہے ۔۔ اگر برقعے میں رہ کر وہ سب کچھ کرئے تو بہت اچھی اور اگر بغیر حجاب کے نکلے چاہئے وہ اندر سے کتنی ہی پاک صاف اچھی نیت کی ہو خراب ہے ۔ بس یہی ہمارا معیار ہے ۔ اگر نہین ہے تو دوسروں کو دیکھانے کے لیے بنا لیا ہے ۔۔۔ ہم وہی بات کرتے ہیں ۔ چاہئے دل میں اچھی نا ہو لیکن واہ واہ ہونی چایئے۔

    ReplyDelete
  19. ہاں جی۔۔۔ بقول بھیا جی۔۔۔ اگر گھر کی عورت "بلاگ" لکھنا شروع کر دے تو مرد حضرات کی اجارہ داری خاک میں مل جائے۔۔۔ کیا لاجک ہے جناب۔۔۔ نکتہ بھی نکالا تو کیا نکالا جناب۔۔۔

    محلے کے بھائیوں کا بھی کیا ہی زکر کر دیا۔۔۔ بہت کچھ یاد آ گیا۔۔۔ محلے کے بارے میں۔۔۔ غیرت بریگیڈ بھی کوئی شے ہوتی ہے۔۔۔ لیکن وہ بھی غیرت مندوں کا ہی وطیرہ ہے۔۔۔ ہوں ہوں ہاں ہاں کرنے والے صرف بغلیں ہی بجاتے پھرتے ہیں۔۔۔

    بہنیں جن کی ہوتی ہیں انہیں ہی قدر ہوتی ہے۔۔۔ جن کی نہیں ہوتی۔۔۔ اب وہ عزت و احترام کہاں سے سیکھیں۔۔۔

    ReplyDelete
  20. یہ بڑی عجیب بات ہے، کہ "الف" کسی "ب" کو برا بھلا کہے اور ذیادتی کرے اور "ب" کے حق میں "ج" اٹھ کر "الف" کی کلاس لے لے، تو ساری دنیا مل کر "ب" اور "ج" کے خلاف کھڑی ہو جائے۔۔۔ اور "الف" کو معصوم اور مظلوم ثابت کرنے میں اپنی پوری کوششیں صرف کر دی جائیں۔۔۔ یعنی ماریں بھی اور رونے بھی نا دیں۔۔۔
    سارے پاکستان میں خواتیں کے ساتھ برا ہو رہا ہو، اور حقوق نسواں کی علمبردار خواتین کو صرف 10 فیصد گنا جاتا ہے اور وہ آزاد خیال اور روشن خیال خواتین جو باقی 90 فیصد خواتین کے بے باک نا ہونے کا مذاق اڑاتی ہیں تو اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟
    ایک اور بات۔۔۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جب ہم ماڈریٹ خواتین کا ذکر کرتے ہیں تو یہ سوال بھی ہمیں سامنے رکھنا چاہیے کہ انہیں یہ آزادی کس نے دی؟ ان کی اس آزادی کس سلب کس کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔۔؟ تو جواب سامنے یہی آئے گا کہ ان کے والد یا بھائی ان پر اعتماد کرتے ہیں، ورنہ جس بے باکی کا اظہار وہ کرتی ہیں، اس کے بعد تو "غیرت کے نام پر قتل" پاکستان میں کوئی بڑی بات بھی نہیں۔۔۔ ان کی یہ آزادی بھی مرد حضرات کی ہی دی گئی ہے۔۔۔ اس پر بھی زرا غور کیجیے گا۔۔۔

    ReplyDelete
  21. عمران اقبال صاحب آپ کے خیال میں چونکہ آپ میری بات سے اتفاق نہیں کرتے اس لئے کند ذہن دانشوروں میں نہیں بلکہ تیز ذہندانشوروں کی قطار میں کھڑے ہیں۔ تو ہمارے، غصے میں آئے ہوئے دانشور صاحب، یہ بات الف اور ب یا ج لوگوں کی نہیں الف ب اور جیم رویوں کی ہیں۔ یہ ال، ب جیم روئیے، گ، ل م اور ن لوگ بھی دکھا سکتے ہیں۔ اور ہر صورت میں یہ قابل مذمت ہیں۔
    اب جو آپ نے غیرت اور بے باکی کے ماہرانہ تقابل پیش کئیے ہیں تو میں یہاں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتی ہوں کہ میں آپکی بہت عزت کرتی ہوں ، دیاردل میں بڑا احترام ہے تیرا قسم کے شعر آپکی نذر کرتی ہوں۔ اب آپ میرے اس جذبے کا احترام کرتے ہوئے بلاگنگ اور نیٹ سرفنگ وغیرہ سب چھوڑ دیں۔ اس سے میرے دل میں آپکا احترام دو چند ہو جائے گا۔
    مجھے بھی بعض مردوں کو قتل کرنے کا دل چاہتا ہے لیکن بخدا میں نے آج تک حکومت پاکستان سے یہ درخواست نہیں کی کہ اسمبلی میں میرے ان مردوں کو قتل کرنے کے عمل کو غیرت کے نام پہ تحفظ دیا جائے۔
    اب یہ بات آپ سائینسی سطح پہ ثابت کریں کہ خواتین میں غیرت نام کی جینز کیا نہیں ہوتی ہے، کیا اس جینز سے صرف آپ جیسے تیز ذہن کے مرد دانش وروں کو نوازا گیا ہے۔ اگر خواتین میں غیرت نام کی جینز نہیں ہوتی تو ایسا کیوں ہے؟ کیا کوئ خاتون غیرت کی وجہ سے کسی مرد کو قتل کر دے تو قانون اسکو تحفظ دے گا کیا آپ اسکی تعریف میں یونہی رطب اللسان ہونگے وغیرہ وغیرہ۔
    ہم انتظار کرتے ہیں کہ ہمارے اصل دانشور کند ذہنوں میں اٹھنے والے ان سوالوں کے کیا جوابات لاتے ہیں۔

    ReplyDelete
  22. مجھے تو یہ بات بڑی مزاحکہ خیز لگ رہی ہے کہ ایک "غیرت مند" جو کسی خاتون کی عزت و عصمت کے لئے مرا جارہا ہے وہ خاتون کی عزت و عصمت کے نام پر ایک خاتون ہی کے خلاف غلیظ زبان استعمال کرتا ہوا ٹھٹھہ لگا رہا ہے۔ اپنی من پسند خواتین کی عزت تو ہر کوئی کر لیتا ہے۔ پتہ تو اس وقت چلتا ہے جب کسی ناپسندیدہ سے واسطہ پڑے۔ خوشگوار موڈ میں اچھے اخلاق کا مظاہر تو ہر کوئی کر لے گا۔ قلعی تو اس وقت کھلے گی جب کوئی طیش میں ہوگا۔ اس "غیرت" کی وقعت تو یہیں کھل گئی۔ لیکن کوئی حیرت نہیں۔۔یہ اذہان جب آگے جا کر ناسور کی شکل اختیار کرتے ہیں تو اپنی ہی عورتوں کو غیرت کے نام پر قتل کرتے اور ان کے چہروں پر تیزاب پھینکتے ہیں۔
    غلیظ ٹھٹھہ آمیز کلام کے بعد ایک "اسلامی پوسٹ" آئے گی۔ لوگوں کو اسلام سکھانے کے لئے۔ دلچسپ


    استانی جی۔۔ سفرنامہ گوادر کی نئی قسط لائیں۔۔مذہب پرست سرکس سے میں اب اکتا چکا ہوں۔

    ReplyDelete
  23. بی بی، کسی ایک طرف رہیں نا۔۔۔ ایک بلاگر نے بلاگ لکھنا چھوڑ دیا تو اس کی مذمت میں نا صرف ایک طویل بلکہ لغو تحریر لکھ دی آپ نے۔۔۔ اور دوسری طرف آپ خود ایک دوسرے بلاگر کو مشورہ دے رہی ہیں کہ بلاگنگ اور حتیٰ کے نیٹ سرفنگ بھی چھوڑ دیں۔۔۔ "کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے۔۔۔؟"۔۔۔۔

    اور جناب عالی مقام، تعزیرات پاکستان میں قتل قتل ہوتا ہے۔۔۔ غیرت کے نام پر قتل تو مسکینوں کے دل بھلانے کی کوشش ہے۔۔۔ آپ بھی ایک دو کر دیجیے۔۔۔ کچھ دانشور حضرات آپ کی ایما پر یہ پراپیگنڈہ بھی پھیلا دیں گے کہ غیرت کے نام پر قتل ہوئے ہیں‌جی۔۔۔ "بدنام ہوئے تو کیا نام نا ہوگا؟"

    سائینس میں تو علم نہیں، اخلاقیات میں عورت میں غیرت سے زیادہ شرم و حیا ہونی چاہیے جو ایک مسلمان عورت کا زیور ہے۔۔۔ اور فتویٰ دینے کا عالمی ریکارڈ تو "حضرت عبداللہ" کے پاس ہے۔۔۔ میں کسی پر منافقت، بے شرمی اور بے غیرتی کا الزام لگانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔۔۔

    شکریہ کہ آپ نے مجھ نا چیز کو بھی "دانشور" کہہ دیا۔۔۔ طنز ہی سہی لیکن "ایک ہی صف میں‌ کھڑے ہو گئے محمود و ایاز'۔۔۔۔ میں تو خود کو ایک ادنیٰ سا لکھاری سمجھتا ہوں۔۔۔ جو کسی کو دکھانے کے لیے، دوسروں پر تہمت لگانے کے لیے اور پھڈے بازی کے لیے ہر گز "نہیں" لکھتا۔۔۔۔ پھر سے شکریہ۔۔۔

    ReplyDelete
  24. عمران اقبال، پھڈے بازی کی تحاریر۔ اگر آپ لفظ پھڈے بازی سمجھتے ہیں تو اپنے بلاگ کی تحاریر کی تعداد اور انکے مواد کو ایک نظر دیکھ لیں اور پھر یہ الفاظ دوبارہ اسی روانی سے لکھ لیں تو آپکو ذہنی جمال گوٹے کی ضرورت ہے۔
    یہ میری طبیعت کا تضاد نہیں اسی لئے لکھا ہے کہ جب ایک خاتون کے بلاگنگ ترک کرنے پہ آپ کا جوش و خروش اس عالم پہ ہے تو میں آپکے لئے اسی پیمانے کو سامنے رکھتے ہوئے اسی وقت جذبہ دکھا سکتی ہوں جب آپ بھی یہی کریں۔ آخر آپکا بھی تو گھر ہو گا۔ گھر والوں کو آپکی ضرورت ہو گی۔ دن بھر غم روزگار کے بعد جو وقت ملتا ہے وہ آپ گھر والوں کی اہمیت جاننے کے بجائے غیر لوگوں پہ تبصرہ کرنے میں گذار دیتے ہیں۔
    میں نے تو پیمانہ ایک جیسا رکھا ہے۔ الگ نہیں۔
    جی ہاں جب اسی پیمانے پہ مردوں کے قتل کی باری آئ تو عوت کو شرم وحیا کا پیکر بنا دیا۔ بہت خوب۔ چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی۔
    مجھے اس گھسے پٹے موضوع میں کوئ دلچسپی نہیں، جس میں عورت شرم و حیا کا پیکر اور مرد غیرت و غضب کی علامت بن کر مفاد پرستی کی جڑیں مضبوط کرتے رہیں۔
    البتہ مجھے اس چیز سے دلچسپی ہے کہ جمال گوٹہ کی کیمیائ ساخت کیا ہے۔ ابھی دیکھتی ہوں۔

    ReplyDelete
  25. عثمان: زرا ریفرنس کے ساتھ غلیظ اور ٹھٹھ کی تشریح تو کر دیجیے۔۔۔ کہ کہاں کسی خاتون کے بارے میں غلیظ جملے لکھے گئے ہیں۔۔۔ عین نوازش ہو گی۔۔۔

    ReplyDelete
  26. آئے ہائے۔۔۔ صدقے جاوں۔۔۔ بی بی آپ میرے بلاگ پر تشریف لے گئیں۔۔۔ اس عزت افزائی کا بڑا شکریہ۔۔۔

    ویسے اب سمجھ آئی۔۔۔ بارھ سنگھے کھاتے کیا ہیں۔۔۔ جمال گوٹا۔۔۔

    اور آپ کا مشورھ بجا ہے۔۔۔ جس دن مجھے محسوس ہوگا۔۔۔ کہ میرے بلاگنگ اور نیٹ سرفنگ سے میرے گھر والے متاثر ہونگے تو میں بھی بلاگنگ چھوڑ دوں گا۔۔۔ بس آپ سے التجا ھے کھ میری شان میں بھی کچھ قصیدے لکھ دیجیے گا۔۔۔

    عثمان کے سر پر ہاتھ پھیر کے پیار دیجیے گا۔۔۔ اور عبداللہ کھ تھپکی۔۔۔

    والسلام۔۔۔ میں تو چلا ایک اور اسلامی تحریر لکھنے۔۔۔

    ReplyDelete
  27. میڈم چسکے بازFebruary 27, 2011 at 3:55 PM

    تانیہ رحمان کا کہنا ہے، پاکستان میں ہر شہر میں ایسی لوگ ہیں جو عورتوں کو سات پردوں میں چھپا کر رکھتے ہیں تو ایسے بھی ہیں جو عورت کو شمع مفحل بنانے کے لے تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ ویسے بھِی کلام ربانی جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ حکم خدا کو ماننے والے اور نہ ماننے والے کیسے برابر ہوسکتے ہیں؟؟ اور اگر واہ واہ پہ غصہ ہے تو ذرا اپنے بلاگ کی بھی فکر لو، آپ کا اور کام ہی کیا ہے؟ صرف واہ واہ سمیٹنا۔۔۔۔

    ReplyDelete
  28. محترمہ آپ کی کئی تحاریر کا حوالہ دیا جاسکتا ہے جس میں آپ نے حجاب کا مذاق اڑا یا ہے، تو آپ کے نزدیک مذاق اڑانا ناپسندیدگی میں شمار نہیں ہوتا؟؟؟

    خیر سے انسان کے ظاہری ہیئت سے پسندیدگی ہمارا پیمانہ نہیں ہے۔ جب تک مخالفین کے لیے اس کے اندر بھرا بغض و عناد اور گند واضح نہ ہوجائے۔ آپ کو اعتراض ہے کہ لوگ واہ واہ کرتے ہیں اور جزاک اللہ وغیرہ، ادھر آپ کے چاہنے والے اور کیا کرتے ہیں؟؟ ویل ڈن انیقہ، کیا بات ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔

    اور پائی عمران ٹینشن نہ لے بھئی، نام نہاد لبرل مداری دراصل اسی رویے کے عکاس ہے کہ شادی شدہ مرد اور عورتیں دوسروں کے ساتھ رنگ رلیاں منائیں اور کہیں، کوئی مسئلہ نہیں، یہ تو ہمارا حق ہے۔۔۔۔

    ReplyDelete
  29. یہ محدود “دائرہ فکر“ میں قید لوگ اور انکی کج بحثیاں،چچ چچ چچ
    اب یہی دیکھ لیں کہ حیا جیسے وسیع موضوع کو بھی عورتوں پر تھوپ کر خود فارغ ہوگئے حضرت مفکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب کہ حیا کرنے کا حکم مرد اور عورت دونوں کو برابر سے ہے مگر اس خصلت کے مالک لوگوں سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے،
    آپ کے جوابات ان جیسوں کو ہضم ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہیں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ قرآن پاک میں سے اپنے مطلب کے مطالب کھوج نکالتے ہیں،
    اور یہی لوگ ہیں کہ قرآن جن کی حلقوں سے نیچے نہیں اترتا،
    پھر بھی زرا یہ مفکر حضرت یہ تو بتائیں کہ غیرت کے نام پر قتل کا حکم قرآن میں کہاں ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    ان محدود زہنوں کو ان کے تماشوں پر چھوڑیں اور آپ اپنا کام کریں،آپکی تحاریر کا انتظار کرنے والے بہت سے لوگ ہیں!
    عبداللہ

    ReplyDelete
  30. وقار اعظم، چلیں پھر اس تحریر کو پیش کریں جس میں کسی خاتون کا مذاق اس لئے اڑایا گیا کہ وہ حجاب پہنتی ہے۔ اور اگر وہ حجاب نہ پہنتی تو اسکی اس بات کا مذاق نہیں اڑایا جاتا۔
    اگر آپکے زبان اور نظریہ رکھنے والے لوگ ویل ڈن کہنے لگ جائیں تو کیا وہ ہمارے لحاظ سے درست ہو جائیں گے۔ یہ بات اگر آپکو سمجھ آجائے تو آپ کو یہ لکھنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔
    اور آپ بار بار، اتنی بیمار مثالیں دے کر اپنے بیمار ہونے کا ثبوت نہ دیا کریں۔
    تندرست معاشروں میں عورت اور مرد کے درمیان رنگ رلیوں کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے۔ اسی سے آپکے گھر بنتے ہیں اور دوسروں کے۔ جس سے انسانیت جنم لیتی ہے اور انسان کا انسان کے اوپر یقین اور اعتماد۔ کیا آپ اس سے بھی واقف نہیں؟
    دنیا میں غلاظت اور گند کے علاوہ حسن بھی ہے اور وہ اس غلاظت اور گند سے بہت زیادہ ہے۔ مگر آپکی نظر ڈھونڈھ کر غلاظت اور گند پہ ہی کیوں پڑتی ہے۔ اسکی وجہ معلوم ہے آپکو؟
    عمران اقبال، آپکی خوشی ادھوری ہے۔ میں آپکے بلاگ پہ اس تحریر کے بعد نہیں گئ، جس کے لئے آپ نے مجھے ای میل کیا تھا۔ آپکی شان میں قصیدہ لکھا تو ہے اور لکھتی رہتی ہوں۔ چونکہ آپ اسی طرح رہیں گے اس لئے مستقبل میں بھی وقتاً فوقتاً لکھتی رہونگی۔ بس آپکو سمجھنا چاہئیے کہ یہ آپ کے لئے لکھا گیا ہے۔ اب اس سے آگے میں آپکے تبصروں میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
    آپکا ذاتی بلاگ ہے ناں۔ اسے استعمال کریں۔ تاکہ مزید لوگ بھی وہاں اپنے اعلی خیالات جمع کرا سکیں۔

    ReplyDelete
  31. عمران اقبال صاحب، ایک آخری مشورہ، نئ اسلامی تحریر لکھنے سے پہلے توبہ کی نماز ضرور پڑھ لیجئیے۔ خدائے پاک سے اپنے تمام ناکردہ اور کردہ گناہوں کی معافی مانگ کر یہ دعا ضرور کیجئیے گا کہ آپکو اپنی اس تحریر پہ خود بھی عمل کرنے کی توفیق دے۔

    ReplyDelete
  32. اقتباس: آپ بار بار، اتنی بیمار مثالیں دے کر اپنے بیمار ہونے کا ثبوت نہ دیا کریں۔
    تندرست معاشروں میں عورت اور مرد کے درمیان رنگ رلیوں کے علاوہ بھی کچھ ہوتا ہے۔ اسی سے آپکے گھر بنتے ہیں اور دوسروں کے۔ جس سے انسانیت جنم لیتی ہے اور انسان کا انسان کے اوپر یقین اور اعتماد۔

    تبصرہ: یہی تو میں بھی کہنا چاہتا ہوں محترمہ کہ جو نفرت کدورت اور احساس کمتری ایک خاص مائنڈ سیٹ رکھنے والوں کے دل میں ہے، کبھی اس سے باہر نکل کربھی دیکھیں، عورت کی مظلومیت اور مرد کے مظالم کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے دنیا میں۔۔۔۔۔

    اور ہاں اپنی اسی تحریر کو ذرا غور سے پڑھیں۔۔۔۔
    :D

    ReplyDelete
  33. اقتباس: دنیا میں غلاظت اور گند کے علاوہ حسن بھی ہے اور وہ اس غلاظت اور گند سے بہت زیادہ ہے۔ مگر آپکی نظر ڈھونڈھ کر غلاظت اور گند پہ ہی کیوں پڑتی ہے۔ اسکی وجہ معلوم ہے آپکو؟

    تبصرہ: اپنے ان الفاظ کی روشنی میں ذرا اپنا محاسبہ کیجے تو لگ پتہ جائے گا کہ کسے غلاظت اور گند پسند ہے اور کسے حسن۔۔۔۔
    ;)

    ReplyDelete
  34. عنیقہ۔۔۔ بے شک میں نماز توبہ پڑہنے کو تیار ہوں اگر آپ ایسی لغو تحریرں لکھنے سے توبہ کر لیں۔۔۔ حد ہوتی ہے۔۔۔

    آپ میرے بلاگ پر جب آخری دفعہ آءیں تھیں۔۔۔ تو بھی بارہ سنگھا کے رونے دھونے کے بعد میری کلاس لینے تشریف لینے آءی تھی۔۔۔ میں تو اپنی تمام بحث آپ کو میل کی تھی یہ سمجھ کر کہ آپ میں تھوڑی بہت عقل موجود ہے۔۔۔ لیکن حقیقت آشکار ہو ہی گءی۔۔۔ اچھا کرتی ہیں کہ اس کے بعد آپ میرے بلاگ پر نہیں آءیں۔۔۔ آپ کے لیے واقعی وہاں کچھ نہیں ہے۔۔۔

    عبداللہ۔۔۔ تمہاری لغویات میں دینا ہی نہیں چاہتا۔۔۔ جاہل کہیں سے دو باتیں سیکھ آتا ہے اور جگہ جگہ ویسی کی ویسی بول دیتا ہے۔۔۔ یہ جانے بغیر کہ اگلا بندہ کیا کہہ رہا ہے۔۔۔ اور مقصد کیا ہے۔۔۔ تم اپنی پیٹھ تھپکواتے رہو۔۔۔ اور تمہاری، شاگرد کی اور عنیقہ کی واہ واہ کی مجھے ضرورت نہیں۔۔۔

    میں بحث یہیں ختم کر رہا ہوں کہ جاہل کو جتنا بھی سمجھا لو، وہ جاہل کا جاہل ہی رہتا ہے۔۔۔ جیسا کہ آپ حضرات۔۔۔

    ReplyDelete
  35. وقار اعظم، یہ تو آپ اور آپکے جیسے خیالات رکھنے والے لوگون کا حسن خیالات ہے شاید جو ہمیشہ عورت اور مرد کے حوالے سے رنگ رلیوں کو ڈھونڈھ کر لاتا ہے۔ غیرت کے نام پہ قتل کو قابل فخر گردانتا ہے اور اس پہ احتجاج کرنے والے مرد اور عورت کو مغرب پرست ان سب باتوں پہ آپ کو دیکھنا چاہئیے نہ کہ مجھے۔
    یہ بھی آپکا کرشمہ ہے کہ آپکو جب بھی کسی تحریر پہ تبصرے کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایسی ہی کوئ تحریر ہوتی ہے۔ میری سینکروں تحاریر اسکے علاوہ ہیں ان پہ آپکی نظر کرم نہیں ہو پاتی۔ خود آُ جب لکھنے کا ارادہ کرتے ہیں بلکہ آپ ہی نہیں کچھ اور لوگ بھی تو سوائے بے سروپا باتوں کے کسی اور چیز کے لکھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
    پھر آپ کیوں آ کر ایسی متضاد باتِں لکھتے ہیں۔ کیا یہ تبصرے لکھتے وقت آپ کے حالات کچھ اور ہوتے ہیں۔ آپکو بھی میرا مشورہ یہی ہے کہ اب اپنے بلاگ کو رونق بخشی
    آپ نے کہا کہ خواتین پہ مظالم کا تذکرہ کیوں کرتی ہوں۔ کیونکہ میں بے حسی کے جنگل میں نہیں رہتی، کیونکہ میں پاکستان کا ایک فیوڈل مائینڈ مرد نہیں ہوں، کیونکہ میں اپنے سامنے مختلف اندوہناک صروتوں کو ہوتے ہوئے دیکھتی ہوں۔ یونکہ میں عورت یو یا مرد تمام کو بنیادی طور پہ انسان سمجھتی ہوں، کیونکہ یرے یہاں مرد اور عورت کی تخصیص انسان ہونے کے بعد آتی ہے۔
    کیونکہ میں ایک زندہ دل اور دماغ کے ساتھ موجود ہوں، کیونکہ میں نہیں سمجھتی کہ دنیا ان حدوں پہ ختم ہو جاتی ہے جہاں عنیقہ ناز، زندگی کی آسانیان پا رہی ہیں۔ یہ دنیا ان حدوں سے آگے ہیں اور بہت آگے تک ہے۔

    ReplyDelete
  36. @عمران اقبال
    چچ چچ چچ
    بے چارہ
    :)
    عبداللہ

    ReplyDelete
  37. mohtarma aniqa sahiba may ap ko 1 ba sha'aur aurat samajhti thi lakin may ghalat thi app aik aurat ho k auraton ki tazlil kar rae hen may hijjab leti hun meri baqi nehnay hijab nai lay teen lakin qabl-e-ehtram tu hum sub hen

    ReplyDelete
  38. گمنام خاتون، مجھے خوشی ہے کہ آپ نے اپنے خیالات کو تحریر کی صورت دی اور اپنے اعتراض سے آگاہ کیا۔
    لیکن آپ نے شاید یہ سب کچھ پڑھے بغیر جلدی میں یہ لکھ ڈالا۔
    یہی تو میں کہنا چاہ رہی ہوں کہ آپ اور آپکی بہنیں سبھی لائق احترام ہیں۔ اس وقت تک جب تک آپ میں سے کوئ ایسا کام نہ کر ڈالے جو انسانی قدروں کے منافی ہو یا بنیادی اخلاقیات کے خلاف۔ کیا یہ ہونا چاہئیے کہ آپ سب میں سے صرف آپ قابل احترام ہوں کیونکہ آپ حجاب کرتی ہیں۔ چاہے آپکی دیگر بہنیں کتنے ہی تعمیری اور اچھے کام کرتی ہوں شاید آپ سے بہت بہتر کرتی ہوں۔
    اگر کوئ شخص ایسا کرے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ کس کی ذلت محسوس ہوگی۔ اپنی یا اپنی بہنوں کی؟

    عبداللہ، یہ مت کریں۔ ورنہ وہ اسلامی تحریر لکھنے کے بجائے قبل از اسلام کے عرب لکھاریوں کی تحریر لکھنے بیٹھ جائیں گے۔ اگر انہوں نے اسلامی تحریر لکھنے کا ارادہ باندھا ہے تو عمل پیرا ہونے دیں۔ ورنہ گناہ آپکے سر جائے گا۔

    ReplyDelete
  39. جی لکھ تو دی ہے اسلامی تحریر!

    http://emraaniqbal.wordpress.com/
    :)
    Abdullah

    ReplyDelete
  40. انکا اسلام دوسروں پر گند اچھالنے سے شروع ہو کر گند اچھالنے پر ختم ہوتا ہے!!!!!!!!!
    Abdullah

    ReplyDelete
  41. تو محترمہ آپ کو واقعی کیس نفسیاتی ڈاکٹر کو دکھانے کی ضرورت ہے۔ ایک بار پھر آپ کے لیے مشورہ ہے کہ اپنے احساس کمتری کے خول سے باہر نکلیں اور مرد ہو یا عورت سب کا احترام کرنا سیکھیں۔ اور اپنے اندر جو نفرت بھری ہے جس کی وجہ پتہ نہیں کیا ہے؟ نہ جانے آپ کا بچپن کن حالات میں گذرا ہے؟

    شادی سے پہلے اپنے شوہر سے تو پوچھا تھا نہ کہ وہ عورتوں پر مظالم کا حامی تو نہیں ہے، غیرت کے نام پر قتل کو جائز تو نہیں سمجھتا، فیوڈل مائنڈ تو نہیں ہے؟ کیونکہ یہ تو آپ کی فطرت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے، جو آپ کا حمایتی نہیں ہے وہ ضرور ایسا ہی ہے اور فریق مخالف پر آپ کی ہر تان اسی پر ٹوٹتی ہے۔ جھوٹے سچے قصے تو آپ کی پہچان ہے۔ اب میں اتنا فارغ تو ہوں نہیں کہ واہی تباہی کو منہ لگاتا پھروں، بس کبھی کبھار شغل کرلیتا ہوں۔ باوجود اس کے کہ میں یہ جانتا ہوں کہ بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں، تو لگی رہیں۔۔۔۔

    ReplyDelete
  42. وقار اعظم، میں منتظر ہوں کہ آپ میری وہ تحریر لے کر آئیں جس میں کسی خاتون کا صرف اس لئے مذاق اڑایا گیا ہے کہ وہ حجاب پہنتی ہے۔ آپ نفسیات کی گرہیں کھولنے میں یہ سب بھول گئے کہ آپ نے کیا کہا اور اب آپکو اپنی سچائ کے لئے اسے ثابت کرنا ہے۔
    ہمم، پاکستان میں جتنے لوگ خواتین کے حوالے سے کام کر رہے وہ سب نفسیاتی کیسز ہیں۔ یہ جان کر اطمینان ہوا کہ آپ سب متوازن شخصیات کے درمیان میرے فٹ نہ ہونے کی وجہ اتنی سادہ ہے کہ وقار اعظم صاحب نے فوراً ڈھونڈھ نکالی۔ اور یہ کہ پاکستان میں نفسیاتی کیسز خاصے کم اور 'متوازن شخصیات' کافی زیادہ ہیں۔
    میں ایک دفعہ پھر انتظار شروع کرتی ہوں۔ آپ اپنے دئیے گئے بیان کو صحیح ثابت کر کے کس طرح سچائ کی دنیا کے باشندے بنتے ہیں اور کسطرح پھر اس پہ اصرار کرتے ہیں کہ آپ توازن رکھتے ہیں اور ہم نفسیاتی مسائل۔
    جب تک آپ اپنی اس سچائ کو سامنے نہیں لاتے۔ آپکے کسی تبصرے کا چاہے وہ اس تحریر سے تعلق رکھتا ہو یا کسی اور تحریر سے ، جواب نہیں دیا جا سکتا۔

    ReplyDelete
  43. صرف آپ ہی نہیں عنیقہ ہم سب بھی انتظار کررہے ہیں کہ کج بحث اپنے جھوٹے الزامات کس طرح ثابت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بھی دیکھنا ہے کہ دوسروں پر غلاظت انڈیلنے کے علاوہ بھی کوئی نالج ہے یا نہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    Abdullah

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ