Saturday, July 11, 2009

بات وہ آدھی رات کی

آدھی رات کو جب یہ دنیا والے خوابوں کی سیج سجاتے ہیں تو ایسے میں ہم شہروں کے رہنے والے ایکدوسرے کے فون کھڑ کھڑاتے ہیں۔ کیا کریں یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اپنے آپ سے ملاقات کرنے کا موقع ملتا ہے اورپھرکسی بہانے دوسرے ساتھیوں کو یادکرنے لگتے ہیں ۔یہ کچھ اوکھی سی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر پھرنے والے اور انسانی محبوبوں کو خدا سمجھنے والے اگر نہ پڑھیں تو انکا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ یہ دوسرا شخص، ایک ہمراہی ہیں۔ انکی اور میری ہم آہنگی ایسی ہے کہ باوجود مختلف طرز فکر رکھنے کے میں انہیں غدار پاکستان اور کافر نہیں سمجھتی اور وہ بھی مجھے اس وطن کے وفاداروں میں اور مسلمانوں میں خیال کرتے ہیں۔ یاد رہے اردو گرامر میں اگر تانیث ظاہر کرنا مقصود نہ ہو تو مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو یہ کوئ بےوقوف خاتون بھی ہو سکتی ہیں اور عقلمند مرد بھی۔

شش،آرام سے سنیں۔

میں؛ کیا ہو رہا ہے سونا تو یقیناً نہیں چل رہا ہوگا۔
ہمراہی؛ نہیں کل کی تیاری چل رہی ہے۔ کس لئے یاد فرمایا آپ نے۔
میں: بھئ ایک موضوع چھڑا ہوا ہے۔قاضی صاحب کے حوالے سے۔
ہمراہی ؛ کون سے قاضی؟
میں؛ جناب قاضی حسین احمد، انہوں نے اقبال اور قائد اعظم کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں جس کے اقتباسات ڈان میں بھی کچھ دنوں پہلے شائع ہوئے تھے۔ یہ کہا ہے کہ اس ملک کو دراصل اسلامی مملکت بننا ہے ورنہ یہاں کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اقبال کی نظم وطنیت کے ان اشعار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہی کہ اقبال وطنیت کے سخت مخالف تھے۔
ان تازہ خداءوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن ہےاس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

میرے ہاتھ میں اس وقت کلیات اقبال ہے۔ انکی نظم وطنیت بانگ درا میں موجود ہے اور اس نظم سے کوئ سو صفحے پہلے انکی نظم ہندی ترانہ موجود ہے جس میں انہوں نے ہندوستاں کو اپنا وطن قرار دیتے ہوئے اسے اپنی محبتوں کا مرکز قرار دیا ہے۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اسکی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی، دل ہو جہاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا

میں الجھن میں ہوں۔ علامہ کی بات میں تضاد کیوں ہے۔

ہمراہی؛ دراصل علامہ ابتدائ طور پر تو نہیں البتہ بعد میں پین اسلام ازم کی طرف مائل ہو گئے تھے ان کی دوسری نظم وطنیت اسی دور کی ہے اور اپنے انتقال کے وقت تک وہ اسی پر قائم رہے۔ جبکہ نظم ہندی ترانہ پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔

میں؛ مزید بات قائد اعظم کی اس پالیسی ساز تقریر کے حوالے سے جو انہوں نے قیام پاکستان سے دو دن قبل دی تھی۔
’آپ آزاد ہیں عبادت کے لیے اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں ،آپ اپنی مسجدوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ مملکت پاکستان میں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ خواہ کسی مذہب،فرقے یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں امور مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ۔ ۔ ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں اوربرابر کے شہری۔ ۔ ۔ پس ہمیں اس نصب العین کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور آپ وقت کے ساتھ ساتھ دیکھیں گے کہ نہ ہندو،ہندو رہے گا اور نہ مسلمان ،مسلمان ،مذہب کے معنوں میں نہیں کیونکہ یہ تو ذاتی عقیدت کا معاملہ ہے بلکہ سیاست کے معنوں میں جب ہر شخص مملکت کا شہری ہوتا ہے ‘‘۔

اسکے بارے میں قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ صرف اس تقریر کے پیچھے سب پڑ گئے ہیں حالانکہ اس سے پہلے اور اسکے بعد انہوں نے کتنی دفعہ ایسی باتیں کیں جس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہئے کہ وہ ایک اسلامی مملکت چاہتے تھے۔ ایک اسلامی مملکت جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ ہو۔ مجھے تو قاضی صاحب کی یہ بات صحیح لگتی ہے۔

ہمراہی؛ تو ان سے آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ خود قائد اعظم کسطرح کے مسلمان تھے اور وہ اسلام کو کیسا سمجھتے تھے۔ محترمہ شاید آپ نے وہ واقعہ نہیں سنا کہ جناح صاحب کو نماز پڑھنا نہیں آتی تھی۔ ایکدفعہ کسی اجلاس کے دوران جب انہیں جماعت نماز پڑھنی پڑی تو عین نماز کے دوران جب سب لوگ رکوع میں چلے گئے تو وہ کھڑے رہ گئے اور انتہائ حیرت سے بولے کہ واٹ اے ڈسپلن۔

میں؛ یہ تو ایکدم مذاق ہے گھڑا ہوا۔
ہمراہی؛ جب انسان صدمے سے زیادہ حیرت میں ہو تو اسے چیزیں یونہی مذاق لگتی ہیں۔ وہ تو کہتے تھے کہ رسول اللہ نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جمہوری طرز حکومت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ وہ خودتو سرتاپا ایک سیکولر انسان تھے۔امیر اتنے کہ اصلی ریشم کی ٹائ بھی ایکدفعہ کے بعد دوسری نہیں پہنتے تھے۔مغربی پینٹ کوٹ کے ہاتھ کے سلے ہوئے سینکڑوں سوٹ انکے پاس اس وقت موجود تھے۔
میں؛ انہوں نے مسلمانوں کے لئے پاکستان حاصل کرنے کی جنگ لڑی آپ کو معلوم ہے انکے جلسوں میں لوگ نعرے لگایا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ۔
ہمراہی؛ اول تو انہوں ے یہ نعرہ کبھی خود نہیں لگایا اور دوئم انہوں نے یہ نعرے بھی کبھی نہیں لگوائے۔ مختلف تحریکوں میں جذبہ پیدا کرنے کے لئے نعرے تخلیق کئے جاتے ہیں۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں نام نہاد جیت میں بھی ملکہء ترنم نورجہاں کے گانوں کا بڑا حصہ ہے۔ کیا آپ اس سے واقف نہیں۔ اب آپ کہیں جنگ اور اسکے لوازمات جیسے کھڑاگ کی کیا ضرورت ہے۔ دو چار نورجہانوں سے کام چل جائے گا۔ اور مزید یہ کہ حکومت وقت نے جنگ کو اسی مْصد کے لئے جیتا کہ نورجہاں اور گانے گائیں۔
میں؛ تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔
ہمراہی؛ میرا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسی مملکت چاہتے تھے جس کے قاعدے قوانین مسلمان اپنے فائدے، نقصان اور اپنی ثقافت کو مد نظر رکھ کر بنائیں۔ آپ یا دوسرے لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان محض جناح کی کوششوں سے نہیں بنا۔ کوئ بھی تحریک صرف لیڈر کے بل بوتے پہ نہیں چل سکتی بلکہ ان لوگوں کا عزم بھی اس میں کام کرتا ہے جو اس سے متاثر ہوتے ہیں جن کے لئے وہ تحریک چلائ گئ ہوتی ہے۔ اب آپ بتائیں۔ پاکستان کی تحریک کی اصل جنگ ان علاقوں میں لڑی گئ جو آج پاکستان میں شامل نہیں۔ وہاں کے مسلمان، مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ مسلمان خود جیسی زندگی گذار رہے تھے ویسی ہی زندگی گذارنا چاہتے ہونگے یا اپنے مزاج سے الگ کسی نئے اسلام کی طلب کر رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے ناں۔ یا پاکستان بننے کے بعد سب نئے سرے سے مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ انکی پریشانی یہ نہیں تھی کہ انگریز حکومت انہیں انکے مذہب پر عمل پیرا نہیں ہونے دے رہی تھی بلکہ انکی پریشانی یہ تھی کہ انگریزوں کے جانے کے بعد وہ ہندو اکثریت کے رحم و کرم پہ رہ جائیں گے۔ اور اس صورت میں انہیں معاشی اور ثقافتی طور پہ ہراساں کیا جائے گا۔ مسلمان کمیونٹی کے مفادات کو ضرب لگتی تھی نہ کہ اسلام کو۔ اب جناح صاحب شراب بھی پیتے تھے، غیر مسلمانوں کے ساتھ ہوتے تو ایسا کوئ حلال حرام کا بھی خیال نہ رکھتے تھے۔ کوئ ایسے نماز روزے کے پابند نہ تھے۔ اب وہ کیسا اسلامی ملک چاہتے ہونگے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلا وزیر قانون ایک ہندو کو اور پہلا وزیر خارجہ ایک قادیانی کو بنایا۔ آج لوگ انہیں ایک مذہبی شخصیت بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ مجھے حیرت ہے قاضی صاحب ایسا کہہ رہے ہیں۔ انکی جماعت کے جد اعلی مولانا مودودی تو کہتے تھے کہ جس جماعت کی قیادت ’جناح جیسے آدمی‘ کے ہاتھوں میں ہے اس سے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
میں؛ انہوں نے آخری عمر میں شراب چھوڑ دی تھی۔ باقی چیزوں کے بارے میں مجھے معلوم نہیں اور نہ کوئ خواہش ہے معلوم کرنے کی۔ انکی شخصیت پاکستان کی تخلیق کی جدوجہد میں سب سے نمایاں اور اہم ہے۔ میں نے تو کسی کی رائے یہ بھی پڑھی کہ اگر کانگریس کے پاس جناح جیسا ایک بھی لیڈر ہوتا تو پاکستان نہ بن پاتا۔ تو پاکستان کی تخلیق انکی دانائ اور زیرک شخصیت کی وجہ سے ممکن ہوئ۔

ہمراہی؛ انکا انتقال پھیپھڑوں کی ٹی بی کی وجہ سے ہوا تو وہ تو ڈاکٹری ہدایت ہوگی کہ ترک کر دیں۔ البتہ میں آپکی بات سے متفق ہوں کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی کو اسکی قابلیت اور اہلیت سے الگ رکھنا چاہئیے۔ لیکن آپ اسی دنیا میں رہتیں اور دیکھتی ہونگیں کہ جب کسی کے خلاف کچھ بن نہیں پڑتا تو پھر ایسے ہی باتیں کی جاتیں ہے کہ وہ شراب پیتا ہے وہ یہ غیر اسلامی کام کرتا ہے وہ، وہ غیر اسلامی کام کرتا ہے اور پھر آخر میں یہ کہ وہ تو مسلمان یہ نہیں ہے کافر ہے۔۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ جناح بھی یہ کرتے تھے اب انکی شخصیت کو اتنا مذہبی کیوں بنایا جارہا ہے۔ جناح کی پیدائش ایک کھوجے شیعہ گھرانے میں ہوئ اور وہ بعد میں اثناء عشری شیعہ میں چلے گئے۔ پاکستانیوں کی اکثریت سنی فقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اب یہاں پہ کس فقہ کی حکومت ہوگی۔ وہ جس پر عوام کی اکثریت رضا مند ہے یا وہ جس پہ ہمارے قائد عمل پیرا تھے۔
میں: مجھے تو نہیں معلوم۔
ہمراہی؛ توپھر آپ جا کر بھنڈی پکائیں۔ ایک تو عورتیں، مردوں کی سیاست سے واقف ہوتی نہیں ہیں۔ اور چلی آتیں ہیں بیچ میں لقمہ دینے۔ اب ناراض ہونگی کہ مجھ جیسی علامہ کو یہ کہہ دیا۔
میں؛ آپ مجھے زیادہ طعنے نہ دیں۔ کبھی کبھی معاملات کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی لاعلمی کا ڈرامہ کرنا پڑتا ہے۔ سنا نہیں آپ نے لا علمی ایک نعمت ہے۔مجھے معلوم ہے یہ قرار داد مقاصد کا بھی اس میں کچھ چکر ہے۔ اب میں اتنی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ تضاد ان بڑے ناموں کے کردار کا حصہ تھا یا اب کچھ لوگ معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے انکا نام استعمال کرتے ہیں۔
ہمراہی؛ تو آپ نے مجھے عام لوگوں میں سے نکال کر قاضی صاحب کے مد مقابل کھڑا کر دیا۔
میں؛ جی، میری خواہش ہے کہ ہر عام آدمی ان خاص لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
ہمراہی؛ اس طرح تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ عام آدمی کے لئے بھی اور خاص آدمی کے لئے بھی۔ سو میری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے۔


ریفرنس؛

قاضی حسین احمد کا مضمون

قائد اعظم کی سوانح حیات ۱

قائد اعظم کی سوانح حیات
۲
پاکستان ایک مذہبی ریاست

فیصلے کا مرحلہ







33 comments:

  1. بہت حساس موضوع ہے
    فنکاری سے نبھا لیا ہے آپ نے
    جو باتیں میں دوستوں کی محفلوں میں‌کرتا ہوں
    وہ بہت دفعہ لکھنے کا ارادہ کیا۔۔
    لیکن پتھروں کے خوف نے باز رکھا
    ابھی ہم بطور قول ذہنی طور پر بالغ نہیں‌ ہوئے
    اس لئے مجھے غدار اور کافر کہلوانے کا شوق نہیں

    ReplyDelete
  2. ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس تحریر کے پس پردہ محرکات کیا ہے ۔ اور وہ کونسے مقآصد ہیں ہیں جن کی وجہ سے آپ قاضی حسین احمد کے ایک عام سے مضمون پہ اسقدر پریشاں ہیں ۔

    ویسے تو آپ کی ساری تحریر پہ بہت سے اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں ۔ مگر کچھ نکات میں دوسرے قابل احترام قارئین اکرام پہ چھوڑتا ہوں ۔

    بظاہر سیکولرازم کی محبت میں آپ ایک اہم نکتہ نظر انداز کر گئیں ہیں ۔تحریکیں چلتی ہیں تو اپنے اندر ہمہ جہتی پہلو رکھتی ہیں۔ تحریک کے چلنے سے لیکر انجام تک وہ کئی رخ اختیار کرتی ہیں ۔ جن میں بعض اوقات تحریک کے اصل مقاصد پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ لیکن تحریک پاکستان غالبا دنیا کی چند ایک گنی چنی تحریکوں میں سے ایک ہے جس میں شامل تمام لوگ اؤل سے لیکر آخر تک یعنی تحریک کے کامیاب انجام تک ایک بات پہ متفق تھے کہ بر صغیر میں مسلمانوں کے لئیے ایک الگ ریاست کا قیام ۔ مگر حیرت ہوتی ہے کہ آپ نے کس قدر دیدہ دلیری سے اتنے اہم مقصد تروڑمروڑکر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ فرماتی ہیں۔

    ۔۔۔۔انکی( مسلمانوں کی) پریشانی یہ تھی کہ انگریزوں کے جانے کے بعد وہ ہندو اکثریت کے رحم و کرم پہ رہ جائیں گے۔ اور اس صورت میں انہیں معاشی اور ثقافتی طور پہ ہراساں کیا جائے گا۔ گا۔ مسلمان کمیونٹی کے مفادات کو ضرب لگتی تھی نہ کہ اسلام کو۔۔۔۔۔

    واللہ میں حیران ہوں کہ آپ کے ۔۔ہمراہی۔۔ کی بیان کردہ مسلمان کمیونٹی ۔۔ سے اگر اسلام نکال لیا جائے تو پھر ان کے پاس کونسی ثقافت باقی رہ جاتی ہے ۔ جو انھیں ہندؤ ثقافت میں ممتاز کرتی۔؟ جبکہ آپ کے ہمراہی آپ کے قلم سے مذید دو دقدم آگے بڑھتے ہوئے یہ فرماتے ہیں ۔ انھیں مسلمانوں کی الگ ثقافت کی وجہ سے معاشی طور پہ ہراساں کیا جائے گا ۔ وغیرہ۔ یعنی دوسرے لفظوں میں آپ کے ہمراہی جو بیان کر رہے ہیں اور آپ اسے لفظ بہ لفظ اپنی تحریر میں سمو رہی ہیں اور چاہتیں کہ ہم اؤل سے آخر تک خاموشی سے آپ کا یا آپکے ہمراہی کا نقظہ نظر سنیں ۔ وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں پاکستان اس مسلمان کمیونٹی کے ان خدشات پہ وجود میں آیا ۔ جو کہ پاکستان کے موجودہ علاقوں سے تعلق نہیں رکھتی تھی۔ نیز پاکستان کا مقصد اسلام نہیں بلکہ آپکے ہمراہی کی متصور مسلمان کمیونٹی (کمیونٹی کا ایک مطلب برادری بھی ہے۔ جو نہائیت قلیل گروہ کے لئیے استعمال ہوتا ہے ۔ جبکہ ہندوستان میں مسلمان ایک پوری قوم ہیں ) کے ان معاشی تحفظات کرنا تھا جو ثقافتی طور پہ ہندؤں سے الگ تھا ۔ مگر اس میں اسلام کا ذکر نہیں تو پھر کونسی الگ ثقافت۔؟ اور کونسا جداگانہ تشخص؟۔

    نیز آپ نے اپنے ہمراہی کی زبان سے ۔ ہم پہ یہ راز بھی آشکارہ کر دیا کہ قائد اعظم شراب پیتے تھے ۔ اور شراب انہوں نے اسلام کی وجہ سے نہیں ڈاکٹروں کی وجہ سے اور پھیپھڑوں کی وجہ سے چھوڑی ۔۔ اور نیز تمام مسلمان اکابرین پاکستان کے بننے کے بعد بھی پاکستان سے مخلص نہیں ۔۔۔ سبحان اللہ

    اسکا مظلب ہوا کہ پاکستان میں قادیانیوں ، ہندؤوں اور دوسری نہائیت قلیل سی اقلیتوں کو ۔ ( جنکا ہم پاکستانی ہونے پہ دلی احترام کرتے ہیں مگر انمیں سے قادیانی اقلیت واضح طور پہ پاکستان اور اسلام سے دشمنی کا کوئی موقع جانے نہیں دیتی) ایسی اقلیتیں جو کل مل کر پاکستان کا چند فیصد بھی نہیں بنتیں سیکولرازم کے نام پہ پاکستان ان کے حوالے کر دیا جانا چاہئیے ۔ اور مسلمانوں کو پاکستان میں اپنے مذھب اسلام اٹھا لینا چاھئیے۔

    بی بی!
    یہ وہ خواب ہیں جو آپکے ہمراہی جیسے لوگوں نے نہ صرف دیکھیں بلکہ انہیں حسرت میں بدلتے دیکھ کر وہ اپنے جزبات پہ قابو نہیں رکھ سکتے۔ اور راتوں کو چپکے چپکے بغیر نام بتلائے بیان کرتے رہتے ہیں۔

    ReplyDelete
  3. آپ کی تحریر کا انداز بتاتا ہے کہ آپ اس معاملے کے متنازعہ پہلوؤں کو زیرِ گفتگو لا کر کچھ عقدے حل کرنا چاہتی ہیں ۔ شاید اپنی انڈرسٹنڈنگ کلیر کرنے کے لئے یا پھر یوں ہی برسبیلِ تذکرہ۔

    یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ میرا حسنِ زن ہو۔

    ReplyDelete
  4. جی جاوید صاحب، آپکی مشکل میں سمجھتی ہوں جب آپ اس میں اپنی خیال کی ہوئ چیزیں تلاش کرنا چاہیں گے تو اسکے لئے آپکو درکار شہادتین نہیں مل پائیں گی۔ اس سے یہی نتیجہ نکالنا چاہئے کہ اس تحریر کے بارے میں آپ نے جو سوچا وہ غلط تھا۔ راتوں کو چپکے چپکے بات کرنے والے ہونگے کوئ ۔یہ نہیں ہیں۔ جہاں تک نام کا تعلق ہے عام آدمی کا کوئ بھی نام رکھ لیں اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ ہوسکتا ہے اس کردار کا نام جاوید ہو کیا اسے فرق پڑیگا۔ اس سولہ کروڑ کی آبادی میں بہت جاوید ہونگے۔ مجھے نہیں معلوم کس کی حسرتیں بدل رہی ہیں اور کون اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پا رہا اسکا احساس کرنے میں ہمیں شاید بہت دیر ہو جائے۔
    آپ کو پینے والی بات پہ اعتراض ہے یہ بھی نہ صرف ان ذرائع پر موجود ہے بلکہ ڈان میں کاواس جی کے کالمز میں بھی اس ریفرنس سے کافی بار پڑھنے کو چیزیں ملیں۔ حتی کہ پاکستان میں بننے والی فلم جناح میں بھی یہ حقیقت دکھائ گئ۔ اس پر کسی کی دو رائے نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر کے آخری دو سالوں میں مے خوری ترک کر دی تھی۔ خیر یہ وہ چیز ہے جس میں بڑے بڑے محبوبوں اور مشہوروں کے نام آتے ہیں۔ کوئ ان سے نفرت نہیں کرتا۔ یہاں بڑے بڑے اسلامی ممالک میں لوگ اس چیز کے رسیا ہیں۔
    اگر آپ انیس سو اسی سے اب تک پاکستان کے ہائ اسکولوں میں پڑھائ جانے والی کتابیں اپنے کسی ذریعے سے حاصل کریں تو یہ چیز روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ درباری مورخ کس طرح بیان تبدیل کرت ہیں۔ اگر میں نے یہ لکھا کہ مسلمانوں کو اپنی ثقافت اور معاش کی فکر تھی تو یہ چیز آپ کو حکومت پاکستان کی طرف سے پڑھائ جانےوالی حائ اسکول کی ان کتابوں میں مل جائے گی ءجو کہ انیس سو اسی کے اوئل میں یعنی انیس سو اکیاسی ، بیاسی یا شاید تراسی تک پڑھائ جا رہی تھیں۔ پھر اچانک جنرل ضیا الحق کو کچھ خیال آیا اور وہ کتاب اپنے اصل حجم سے آدھی کر دی گئ۔ اور تاریخ وہاں سے شروع ہوئ جب محد بن قاسم برصغیر میں داخل ہوئے۔ ساتھ یہ ساتھ ہر چیز کو مختصر کر کے نئ نسل کو لا علم رکھنے کی سازش کی گئ۔ میرے پاس اسکولوں میں پڑھائ جانے والی اس کتاب کا نسخہ کچھ عرصے پہلے تک موجود تھا اب نہیں ہے ورنہ ضرور اسکی کاپی لگاتی۔ حتی کہ اگر آپ ساٹھ اور ستر کی دھائ میں پڑھائ جانےوالی کتابوں کا جائزہ لیں تو اس میں وہ اعداد وشمار بھی درج ہونگے جس میں مسلمانو کی تعداا مختلف حکومتی اداروں میں بتائ گئ تھی۔
    اسلام کو خطرہ؟ آپ کے خیال میں آج جو لوگ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک کی شہریت اختیار کئے بیٹھے ہیں کیا وہاں پر اسلام کو کوئ خطرہ ہے۔ میں تو ایس نہیں سمجھتی۔ مسلمانوں نے ان ممالک میں حلال اشیاء کا حصول آسان بنایا ہے اپنے مذہب کے بارے میں لوگوں کو بلا کسی واسطے کے علم دیا ہے۔ یہ وہ کام ہے جو وہ پاکستان میں بیٹھ کر نہیں کر سکتے تھے۔
    مجھے بھی ایکدفعہ انڈیا جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں کے مسلمان بھی روزہ نماز زکوت اور حج ایسے ہی کرتے ہیں جیسے ہم کرتے ہیں۔ وہ بھی عید مناتے ہیں۔ میں عین رمضان میں وہاں موجود تھی اور سحری کے وقت وہاں آپ کو اذان کی آواز نہیں آتی مگر مسلمان اکثریت کے علاقوں میں ایک چھوٹا سا جلوس نعتیں پڑھتا اور دروازے بجاتا جاتا تھا۔ آج اگر مسلمانوں کو وہاں پر مسئلہ ہے تو وہی معاشی مسئلہ ہے۔ گجرات میں بھی مسلمانوں کی معاشی ترقی کو روکنے کے لئے انکا قتل عام کیا گیا تھا۔ اسلئے کہ وہاں مسلمان کاروبار پر چھائے ہوئے تھے۔ وہاں پر بھی مسلمان نکاح کرتے ہیں اور اپنے مردے دفناتے ہیں اور انکے مرنے پر قرآن خوانی کرتے ہیں۔ اسپر کوئ پابندی نہیں۔ میرے وہاں پر موجود لمبے چوڑے خاندان میں صرف ایک لڑکا ایسا نکلا جس نے ایک ہندو لڑکی سے شادی کر لی۔ جبکہ یہاں کراچی میں موجود میرے کئ جاننے والے ہیں جو باہر جاکر غیر مسلم خواتین سے بلا جھجھک شادیاں کرتے ہیں اور بعض اسکا تکلف بھی نیں کرت۔ ہمارے مسلمان بعض خاندان وہاں کسطرح رہتے ہیں ا یہ میرا موضوع نہیں اس وقت۔ انکی ان تمام سرگرمیوں سے اسلام کو کوئ خطرہ نہیں۔ اسکی اٹل اور آفاقی اصول اپنی جگہ رہیں گے چاہے کوئ کچھ کرے

    ReplyDelete
  5. میرا ایک سوڈانی کولیگ ایک دفعہ بتا رہا تھا کہ اسکالرشپ اتنی کم ہے کہ اسکا گذارا بڑی مشکل سے ہو رہا ہے۔ جب میں نے اس سے کہا کہ وہ اپنی بیوی اور بچے کو اپنے ما باپ کے پاس وہیں کیوں نہیں چھوڑ دیتا جب تک اسکی تعلیم مکمل نہیں ہو جاتی۔ اس نے کہا کہ ہمارے یہاں شادی اسی وقت ہوتی ہے جب لڑکا اپنی بیوی کو الگ رکھنے کے قابل ہو۔ ہمارے یہاں شادی کے بعد ماں باپ کے ساتھ رہنے کا تصور نہیں۔ وہ ایک مسلمان تھا۔ مگر یہ انکی ثقافت تھی ہماری ثقافت یہ ہے کہ شادی کے الگ ہوجانے والے جوڑوں کو بڑے برے الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔
    انگریزوں کی آمد کے بعد جب فارسی کا ستعمال ترک کیا گیا تو یہ مسلمان تھے جو اس سے بری طرح متاثر ہوئے۔ حتی کہ سرسید احمد خان کو ایک تحریک چلانی پڑی مسلمانوں کو انگریزی تعلیم کی طرف لانے کے لئے۔ بعد میں مسلمانوں نے اردو کو اپنا لیا۔ ہندءووں نے سے اپنی زبان کے طور پر نہیں لیا تھا۔ اگر آپ ان پرانی ٹیکسٹ بکس کو چیک کریں تو اس میں کہیں آپ کو یہ بھی ملے گا کہ کیوں مسلمان اردو سے بھی دستبردار ہومنے کو تیار نہ تھے۔ اردو زبان مسلمانوں کی ثقافت کا حصہ ہے مذہب کا نہیں۔ مذہباً ہماری زبان عربی ہے۔
    میں بالکل نہیں چاہتی کہ آپ خاموشی سے بیٹھکر جو میں فرماتی رہوں وہ سنیں۔ لیکن سوال کرنا کیا بری بات ہے۔ آپ بتائیں ان سب پرانی کتابوں کو کیوں غائب کردیا گیا۔ جن میں آریاءوں کے سندھ کی بات کی گئ ہے۔ اسکے پڑھنے سے ہم یا کم ازکم میں ہندو ہونے والی نہیں۔لیکن اس سے ہمیں مختلف اقوام کے رویوں کے بارے میں ضرور پتہ چلتا ہے۔
    آخر قائد اعظم یا مختلف دیگر سیاسی رہنماءوں کے بارے میں ایسی دو رخی باتیں کیوں کی جاتی ہیں۔ جبکہ وہ اپنے طرز عمل کو نہ چھپاتے تھے اور نہ اس پر شرمندہ تھے۔
    میرے ذاتی خیال میں تمام اقلیتیتون کو جن میں قادیانی بھی شامل ہیں انہیں اپنے مذہب کی ترویج پاکستان میں نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ انہیں یہ آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنے مذہب پر جس طرح چاہے عمل کریں۔ جو میں سمجھتی ہوں کہ انہیں کافی حد تک حاصل بھی ہے۔
    اگر کوئ ہم سے اختاف کرتا ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ وہ ہر بات غلط کہہ رہا ہے۔ اگر کوئ اپنے آپ کو سیکولر کہتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب وہ ہر بات غلط ہی کہے گا۔ نہ ہی اسکا یہ مطلب ہے کہ وہ اب مذہب سے بالکل پھر چکا ہے میرے خیال میں اب ایک بحث اس بات پہ بھی ہونی چاہئے کہ سیکولرزم سے ہم سب کیا مراد لیتے ہیں۔
    یہاں کچھ باتیں بتانا ضروری ہین اول یہ کہ میں شراب نہیں پیت، نہ ہی سگریٹ یا حقہ۔ دوئم یہ کہ میں اتنی ہی عام پاکستانی اور مسلمان ہوں جیساکہ آپ ہیں یا ہو سکتا ہے آپ سے کچھ اچھی ہی ہوں۔اگر سوال اٹھانا سیکولر ہونا ہے تو پھر میں سیکولر ہوں اور چاہونگی کہ سب سیکولر ہو جائیں۔
    احمد یہ حسن ظن ہے یا حسن زن۔

    ReplyDelete
  6. احمد یہ حسن ظن ہے یا حسن زن۔

    ہاہاہا!

    یہ تھا تو حسنِ ظن ہی پر نہ جانے کس طرح یہ حسنِ زن ہوگیا، جو کہ میرا تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔

    ReplyDelete
  7. "یہاں کچھ باتیں بتانا ضروری ہین اول یہ کہ میں شراب نہیں پیت، نہ ہی سگریٹ یا حقہ۔ دوئم یہ کہ میں اتنی ہی عام پاکستانی اور مسلمان ہوں جیساکہ آپ ہیں یا ہو سکتا ہے آپ سے کچھ اچھی ہی ہوں۔اگر سوال اٹھانا سیکولر ہونا ہے تو پھر میں سیکولر ہوں اور چاہونگی کہ سب سیکولر ہو جائیں۔"

    اس حساب سے تو ہم سب کو ہی سیکولر ہونا چاہیے۔

    ReplyDelete
  8. آنٹی آپ نے بہت درست اور مناسب باتوں کی طرف نشاندہی کی۔ بات غور کرنے کی ہی ہے کہ ہماری تاریخ کو ہر شخص اپنے مقصد کے مطابق کیوں توڑ مروڑ لیتا ہے؟

    پتا نہیں کیوں پاکستان کی تشکیل کو ہر دوسرا شخص "خدائی نعمت" قرار دیتا ہے اور علامہ، قائد، شہید اور محترمہ جیسی نابگۃء روزگار شخصیات کو "برگزیدہ" اور "ہدایت یافتہ" گرداننے پر مصر۔۔۔

    پاکستان کا مقصد اگر شریعت کا نفاذ ہی تھا تو میں نے مادرِ ملت کی ایسی ان گنت تصاویر دیکھی ہیں جن میں وہ انگریزوں کے ساتھ پارٹیز میں بے پردہ موجود ہیں، حتیٰ کہ دوپٹہ بھی محض لباس کے حصہ کے طور پر۔

    اسی طرح جو لوگ پاکستان کو عوامی ریاست کہلانے پر مصر ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پہلے وزیرِ اعظم "نوابزادہ" تھے، پہلے گورنر جنرل انتہائی امیر شخص تھے، اور تمام کیبنٹ اوراعلیٰ قیادت میں کم از کم میری ناقص معلومات کے مطابق تو کوئی "عوامی نمائندہ" نہیں تھا۔۔۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا نقشہ اور منصوبہ۔۔اور باقی ہر چیز بھی کسی طرح خرد مندی کا شاہکار نہیں تھا، آج یہ بات تو مان لینی ہی چاہیے۔ مجھ پر کفر و غداری کا فتویٰ بھی لگ سکتا ہے مگر میں بھی غالبا قیل و قال سے الطاف "بھائی" کا ہمنوا ہوں۔

    حقیقت ہے کہ انڈیا کا مسلمان آج پاکستان کے مسلمان کے مقابلے میں کہیں زیادہ "آزاد" اور "آسودہ" ہے، زیادہ ترقی یافتہ ہے۔۔۔

    اگر پاکستان بنانے والوں نے یہ نہیں سوچا کہ جس "ہائریرکی" کو وہ اپنے پیچھے چھوڑے جا رہے ہیں وہ پاکستان کو تباہ کردیگی تو انہیں کون ذی عقل "قائد" کہہ سکتا ہے؟ ہائریرکی سے میری مراد بیوروکریسی اور سیاست کے شہسوار ہیں۔۔۔

    خیر۔۔۔ مجھے شروع ہی سے ان موضوعات پر بات کرنے کا شوق ہے مگر وہی "کفر و الحاد اور غداری" کے فتاویٰ کا ڈر رہتا ہے۔۔۔ کیوں کہ ہمارے صاحبان تو اس مملکت کو خدا کی طرف سے تحفہ مانتے ہیں اور "ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی سرزمین" بھی مانتے ہیں۔۔۔

    "پاکستان کو کوئی قوت نہیں توڑ سکتی"۔۔۔۔ بذاتِ خود ۲۰۰۹ میں یہ دعویٰ کتنا کھوکھلا لگتا ہے کہ جب پہلے ہی ہم بنگلہ دیش گنوا چکے اور آج "مرشد پاک" کشمیر سے بھی دستبرداری کے عندیے" دے رہے ہیں اور بلوچستان مزید سنگینیوں میں گھرا نظر آتا ہے۔۔۔

    ان سب باتوں کے بعد بے ربط سا ہو جاتا ہوں اور اس ایک جملے کے سوا میرے ذہن میں کچھ نہیں آرہا کہ:
    "میں کافر میرا دل بھی کافر"۔۔۔۔


    میرا مطلب ۔۔پاکستان کاکافر۔۔۔

    ReplyDelete
  9. امین اگرچہ کہ اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا کہ کوئ مجھے باجی کہتا ہے یا آنٹی یا نانی اماں۔لیکن باقی سب کی اطلاع کے لئے میری بیٹی ابھی صرف مکمل ڈھائ سال کی ہوئ ہے۔ ہی ہی ہی
    فی الوقت مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستانی مسلمانّوں کا کیا حال ہے۔ جبکہ بابری مسجد کا سانحہ اور گجرات کا واقعہ گذر چکا ہے۔ کیونکہ میں نے خاصے بچپن میں وہاں کا سفر کیا تھا۔ ان مسلمانوں کی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ پاکستان کا بننا تھا۔ اگرچہ اب انکی قربانیوں کو کوئ یہاں یاد بھی نہیں کرتا لیکن ہندوستان کے طول و عرض میں بسنے والے مسلمان ہندو اکثریت کے غیض و غضب کا شکار ہوئے جو انہوں نے تخلیق پاکستان کے بعد انکے ساتھ کیا۔ ایک زمانے میں ہندوستانی مسلمان پاکستان کی محبت میں اتنے مست تھے کہ جب کبھی پاکستان اور انڈیا کا مقابلہ ہوتا تو وہ پاکستان کے جیتنے کی دعائیں کرتے تھے۔ اب انہیں پتہ چل گیا کہ وہ سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ یہ ملک اکابرین پاکستان نے مسلمانوں کے لئے نہیں جاگیرداروں اور وڈیروں کے لئے بنایا تھا۔ یا ان لوگوں کے لئے جو مذہب کے نام پہ اپنی سیاست چمکاتے رہیں گے۔ اور جو ان سے پلٹ کر پوچھے گا کہ کیا اسی واسطے چھانے تھے بیابان بہت تو وہ اسے مذہب یا وطن کی صلیب پر چڑھا دیں گے۔ چڑھ جا بیٹا صولی پہ رام بھلی کریگا اسکا مطلب پتہ ہے آپ کو۔

    ReplyDelete
  10. ہہم م م م ۔۔۔۔۔ بابری مسجد کا سانحہ اگر وہاں ہوا تھا۔۔۔ تو یہاں بھی حال ہی میں شریعت کے نام پر چلنے والی ایک تحریک نے اپنے مخالف مسلک کے مزارات اور علماء کو نشنہ بنایا ہے۔۔۔

    ہندوؤں نے بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جبکہ یہاں تو ایک دوسرے کی مسالک کی مساجد پو قبضہ کی جنگ چھڑی رہتی ہے، کبھی کوئی ذرا نیو کراچی جا کر تو دیکھے۔۔۔

    گجرات میں قتلِ عام ہوا تھا۔۔۔ وحشی بنیوں نے مسلمانوں کو مارا تھا، تو یہاں بھی اس سے کچھ کم نہیں بلکہ زیادہ ہی ہوا ہے، فرق بس یہ ہے کہ یہاں مارنے والے ایک ہی مذہب و ملت کے پاسباں اور ایک ہی ترانے کے ہدی خواں ہوا کرتے ہیں۔۔ اور جو بھی کچھ ہوتا ہے کراچی میں ہی ہوتا ہے۔۔ پٹھان مہاجر فسادات تو گویا کراچی شہر کی لائف لائن ہیں۔ پھر ۹۲ سے ۹۷ تک بے دریغ قتلِ عام۔ مہاجر حقوق کا دعویٰ کرنے والوں کے دو گروہوں نے آپس میں اور پھر فوج نے ان کے ساتھ خون کی جو ہولی کھیلی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔۔۔

    آج بھی خاموشی سے متحدہ۔حقیقی اور متحدہ پٹھان اور دیگر "قویمیتوں" کے آپس میں فسادات جاری ہیں۔ پچھلے چند ماہ میں کراچی شہر میں ٹارگٹ کلنگ میں کم از کم ۱۰۰ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ۱۲ مئی کو کون بھول سکتا ہے؟ اور پھر ۲۷ دسمبر کو کیسے بھول سکتے ہیں؟ پھر ابھی حال ہی میں ایک اور دن کراچی میں سرخ سورج لے کر طلوع ہوا تھا۔۔۔

    میں آج نہیں جانتا کہ گھر سے نکلنے کے بعد موبائل فون اور جان بچا کر واپس آپاؤں کا کہ نہیں۔۔۔

    اگر پاکستان میں ہونے والے ان سب واقعات کو اکٹھا کیا جائے تو کئی بابری مساجد اور کئی گجرات ہمیں اپنے ہی دامن میں خون میں نہائے ہوئے نظر آئیں گے۔

    پھر ہم کہتے ہیں کہ یہ ملک قیامت تک قائم رہنے کے لیے بنا ہے۔ پھر ہمارے وثوق کی انتہا نہیں ہوتی کہ ہم پر اللہ کا بے پانہ کرم ہے، اور ہم بنی اسرائیل کی طرح "من و سلویٰ" سے نوازے گئے ہیں پاکستان کی صورت۔۔

    ہماری بد بختی تو دیکھیے ۔۔ہماراسربراہِ مملکت وہ شخص ہے کہ جسکو ۱۷ کروڑ میں سے ۱۶ کروڑ ننانوے لاکھ افراد دشنام سے نوازتے ہیں، خودکلامی میں بھی، مجلس میں بھی، خلوت میں بھی جلوت میں بھی اور پھر اس پر بھی جس پر اب پابندی لگا دی گئی ہے، یعنی ایس ایم ایس۔۔۔

    اور اسی پر موقوف نہیں، جو سربراہان "مقبولِ عوام" تھے انہوں نے ملک کے لیے کونسے تیر مار لیے جو ان میں سرخاب کے پر ڈھونڈ ڈھونڈ کر دنیا کو دکھائے جائیں۔۔

    تمام تر ڈانڈے رہ سہہ کر ملک کے بانییے سے جا ملتے ہیں۔۔۔ چلیے صاحب ہم نہیں کر رہے شک انکی نیتوں پر۔ جائیے بینیفٹ اوف ڈاؤٹ دیا ان سب کو۔۔۔ مگر عقل تو محوِ تماشالبِ بام۔۔۔ کیا وہ عقل کے ناخنوں سے محروم تھے؟ آخر کیوں گورے آقا کی گود سے چھین کر ہمیں رنگ برنگے (اور رنگیلے) آقاؤں کے پیروں میں لا پٹخا؟؟

    ReplyDelete
  11. ""تمام تر ڈانڈے رہ سہہ کر ملک کے بانییے سے جا ملتے ہیں"

    اس جملے کو :"تمام تر ڈانڈے رہ سہہ کر ملک کے بانیین سے جا ملتے ہیں"۔ پڑہا جائے۔

    ReplyDelete
  12. "امین اگرچہ کہ اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا کہ کوئ مجھے باجی کہتا ہے یا آنٹی یا نانی اماں۔لیکن باقی سب کی اطلاع کے لئے میری بیٹی ابھی صرف مکمل ڈھائ سال کی ہوئ ہے۔ ہی ہی ہی"
    ہہاہاہاہا

    دراصل آپکی تحاریر سے جو پختگی جھلکتی ہے وہ گو کہ نانی جان سے بھی پرانی شئے کی طرف دلالے کرتی ہے مگر پھر بھی معاملہ بین بین رجھتے ہوئے میں نے "آنٹی" کہنے میں بھی عافیت جانی کہ ہر دو صورت میں بچت کا سامان ہے۔۔۔ ہی ہی ہی۔۔ میری ایک خالہ مجھ سے صرف ۱ سال بڑی ہیں ۔۔۔۔۔؛)۔

    ReplyDelete
  13. دلالے کی جگہ دلالت سمجھا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  14. اصل میں ہمارے ہاں نام نہاد دانشوروں کا ایک ٹولہ ایسا ہے جو زمانے کی روش سے ہٹ کر بات کرنے کو اپنا انوکھا پن اور انفرادیت سمجھتا ہے۔
    کرتے رہنے دیں اس طرح کی باتیں۔ ان کو اتنا سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔
    دوسری سب سے اہم بات کہ اگر پاکستان کے بانیوں کو ایک سیکولر ریاست ہی بنانی تھی تو ہندوستان سے الگ ہونے کی کوئی تک بنتی ہے۔ کوئی ایک دلیل مجھے بتا دیجیے کہ سیکولر ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کیوں بنایا گیا؟
    باقی سب باتیں بے پر کی ہیں۔

    ReplyDelete
  15. کیا تحریک پاکستان احیائے اسلام کی تحریک تھی۔ اگر ایسا تھا تو اس وقت کی مذہبی جماعتوں نے اس سے لا تعلقی کیوں ظاہر کی۔ اس تحریک کے چلانے والے اس وقت کے امراء اور رءوسا کیوں تھے۔ جبکہ وہ کوئ مثالی مسلمان بھی نہ تھے۔ براہ مہربانی لفظ سیکولر سے اجتناب کیا جائے۔ سیکولرزم اس وقت ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔

    ReplyDelete
  16. سیدھی سیدھی بات ہے، پاکستان کے قیام کا مقصد اگر یہاں نفاذِ شریعت تھا تو کوئی ایک عالم بتلادیجیے جو پاکستان کی پہلی کابینہ میں رہا ہو؟۔۔۔

    یہ ضرور ہے کہ علماء دیوبند نے تحریکِ پاکستان سے انحراف کرتے ہوئے کونگریس کا ساتھ دیا تھا مگر بریلوی مکتبہ فکر جو کہ بہت ہندوپاک میں بڑی اکثریت ہے، کے علماءنے ہر محاذ پر تحریکِ پاکستان کی حمایت کی۔۔۔مگر انہیں تو دھوکے میں رکھا گیا تھا، اگر واقعی نفاذِ شریعت مقصدِ اولین تھا تو ان علماء کو منصوبہ سازی، مقننہ اور کابینہ میں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟ اور پھر افواجِ پاکستان کے پہلے پہلے سپاہ سالاران تو تھے ہی انگریز۔۔۔ کیا یہ بات احاطہ عقل میں سما سکتی ہے کہ اسلام کی نام پر بننے والی سب سے بڑی مملکت کی سپاہ سالاری انگریز غیر مسلم کو سونپ دی جائے۔۔۔ بری فوج نے ۱۹۵۱، فضائی فوج نے ۱۹۵۷ اور بحری فوج نے اس "غلامی" سے ۱۹۵۳ میں آزادی حاصل کی۔

    اور پھر جو سربراہان اس وقت سے لے کر اب تک ہمارے سروں پر مسلط رہے ہیں کوئی "کم از کم" شکل و حلیہ سے مسلمان نظر آیا؟؟ عمل تو خیر داخلی معاملہ ہے مگر حلیہ بھی تو چغلی کھائے نا کہ جب مملکت نفاذِ اسلام کی عادی ہو؟؟

    ReplyDelete
  17. عادی کے بجائے۔۔ داعی۔۔۔

    ReplyDelete
  18. ابوشامل صاحب، نہ میں دانشور ہوں نہ میں کبھی ایسا دعویٰ کرسکتاہوں۔۔۔ اور ہاں ۔۔میں واقعی بے پر کی اڑاتا ہوں، کافرِ ملک جو ہوں۔۔

    ReplyDelete
  19. مجھے کوئی شخص قیام پاکستان کی وہ ایک وجہ بتا دے جس کی بنیاد پر مسلمانوں نے اپنا ملک الگ بنایا؟
    باقی رہی نام نہاد علماء کی کابینہ میں شمولیت کی بات اس کو ایک جانب رکھیں تو اچھا ہے و۔سے شاید آپ کو معلوم ہو کہ پاکستان کے آئین میں اسلامی شقیں شامل کرنے کے لیے دنیا بھر کے ممتاز علمائے کرام کو مدعو کیا گیا تھا۔ ان میں مشہور نو مسلم محمد اسد بھی تھے اور عظیم محقق ڈاکٹر حمید اللہ بھی۔ علاوہ ازیں کئی ممتاز مقامی علمائے کرام اس کام میں جتے ہوئے تھے۔ جنہوں نے قرارداد مقاصد بنانے کے لیے سفارشات مرتب کیں۔ قائد اعظم کی ذاتی سفارش پر ابو الاعلی مودودی ریڈیو پاکستان پر دروس دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ قائد کی وفات تک جاری رہا۔

    ReplyDelete
  20. قیام پاکستان کی وجہ وہی ہے جو قیام بنگلہ دیش کی ہےاور جو اب پاکستان میں جاری جنگ کی ہے۔
    نہیں معلوم کن وجوہات کی بنیاد پہ پاکستان کو اپنا باضابطہ آئین انیس تہتر میں ملا۔ قائد اعظم نے اگر مودودی صاحب کے دروس کی سفارش کی تو یہ انکے ریاستی قانون کو کسی ایک مخصوص طرز فکر پہ چلانے کے لئے نہ تھی۔ یہ یاد رہے کہ وہ ایک ہندو اور ایک قادیانی کو اپنی کابینہ میں شامل کر چکے تھے اور بے شمار غیر مسلم مختلف عہدوں کے اوپر اس وقت کام کر رہے تھے۔ مسلم لیگ کی تحریک میں اس وقت مروجہ معاشی ثقافت کے باوجود ہر طرح کی خواتین شامل تھیں۔
    میرے ارد گرد ہجرت کر کے آنیوالے لوگوں کے جم غفیر سے میں نے آج تک یہ نہیں سنا کہ وہ پاکستان اسلام کی وجہ سے آئے تھے۔ اور جو لوگ نہیں آئے جن کی تعداد بھی لاکھوں میں تھی اور ہے۔ اس وقت انڈیا میں مسلمانّوں کی مجموعی تعداد شاید پاکستان سے زیادہ ہے۔ اگر اسلام کی وجہ سے چھوڑنا ہوتا تو وہ سب کے سب آچکے ہوتے۔

    ReplyDelete
  21. "قیام پاکستان کی ایک معقول وجہ" ہنوز مطلوب
    کیا ایک ہندو اور ایک قادیانی کی شمولیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست بننے جا رہا ہے؟

    ReplyDelete
  22. اگرچہ کہ یہ بات میں اس میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ تحریک پاکستان جسے پین اسلامزم سے جوڑا جاتا ہے وہ ایک صحیح تشریح نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ پچھلے ساٹھ سال میں ہم اس نظرءیے کی دھجیاں اڑتے دیکھ چکے ہیں۔ عام مسلمان جو اس وقت انڈیا کے طول و عرض میں موجود تھے۔ انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد انڈیا میں ہندءووں کی اکثریت ہوگی وہ جو بھی قوانین بنائیں گے وہ لازماً اپنی کمیونٹی کے فائدے کے لئے بنائیں گے۔ انیس سو سیہنتیس کے انتخابات کے نتیجے میں یہ خیال راسخ ہو گیا تھا یہی وجہ ہے کہ انیس سو چالیس میں قرارداد پاکستان پیش کی گئ۔ اب اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ قائد اعظم ایک ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں ملائیت ہو تو میں اس طبقے کے ساتھ ہوں جو سمجھتا ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ آج میں جو چاروں طرف سے ان لوگوں میں گھری رہتی ہوں جو وہاں سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے اور ان سے پوچھتی ہوں کہ کیا آپ کو وہاں اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے میں مشکل تھی تو اسکا جواب نہیں میں آتا ہے۔ البتہ ہر ایک کو یہ خدشات لاحق تھے کہ جب ہندو اکثریت ذرائع معاش بانٹے گی تو اپنے لوگوں کو ترجیح دے گی۔ یہ صرف میں نہیں کہہ رہی بلکہ یہ چیز جیساکہ میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ انیس سو اسی کے اوائل تک ہماری مطالعہء پاکستان کی کتابوں میں پڑھائ جاتی رہی یہ ضیاءلحق کے زمانے میں سمجھ میں آیا کہ پاکستان کتنی شدت سے ایک نثریاتی ملک ہے جب ہم اپنے ملک کے آدھے مسلمانوں کو الگ کر چکے تھے۔۔ اس وقت ہمیں احساس ہوا کہ افغانستان ہمارا برادر ملک ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں انکے ساتھ ملکر جہاد کرنا چاہئیے۔۔ آج اگر ان علاقوں سے لوگ اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہو کر آئے ہیں تو اس کی ایک بالکل سیدھی سادی وجہ ہے اور وہ یہ کہ دنیا کا ہر انسان امن اور سکون سے زندگی گذارنا چاہتا ہے اور ایسی جگہ رہنے کو ترجیح دیتا ہے جہاں اسے معاشی استحکام حاصل ہو، اور اسکی جان ومال محفوظ ہو۔ آج ہمارے ملک سے نکل کر غیر مسلم مملک میں جا بسنے والے لوگوں کو یہاں کی حکومت نے جلا وطن نہیں کیا بلکہ اپنے بہتر معاشی مستقبل کے لئے وہ ایک مسلم ملک سے جہاں انہیں ذبیحہ گوشت کھانے کو ملتا ہے ایسے ملکوں کی چرف چلے گئے ہیں جہاں غیر ذبیحہ گوشت کی آفر موجود ہے۔ اگر اسلامپر عمل پیرا ہونے کا نام وہی ہے جو نثریہ پاکستان میں پیش کیا گیا ہے تو کسی بھی پاکستانی کو اپنا ملک نہیں چھوڑنا چاہئیے محض معاش حاصل کرنے کے لئے۔ مذہب کو اس وقت بھی استعمال کیا گیا تھا، اسکے بعد بھی کیا گیا ، اب بھی کییا جاتا ہے اور جب تک لوگ اس نام پر بے وقوف بننے کو تیار بیٹھے ہیں انشاللہ ایس ہوتا رہے گا۔

    ReplyDelete
  23. گوندل صاحب اور ابو شامل صاحب کوئی میرے سوالوں کا جواب کیوں نہیں دیتا :(
    چلیئے آپ کی بات مان لی کہ پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کے لیئے اسلامی نظریئے کے تحت زندگی گزارنے کے لیئے بنا تھا تو پھر ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان آنے سے کیوں روک دیا گیا اور بنگلہ دیش کو عزاب جان کر اس سے جان کیوں چھڑائی گئی؟اور اج بھی جو پاکستانی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں جانوروں سے بد تر زندگی گزار رہے ہیں انہیں واپس پاکستان لانے میں کیا قباحت ہے اور اپ جیسے اسلام کے ٹھیکے دار اس پر صدائے احتجاج کیوں بلند نہیں کرتے؟

    ReplyDelete
  24. میرا سوال اب بھی باقی ہے کہ اگر سیکولر ریاست ہی بنانی تھی تو اتنے لوگوں کو مروانے اور اتنی زبردست جدوجہد کرنے کا فائدہ کیا تھا؟
    اب آپ کے تبصرے کے حوالے سے:
    میرے خیال میں یہاں مذہب کی تفہیم کا مسئلہ درپیش آ رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ نماز، روزے اور حج کو ہی اسلام سمجھتی ہیں ، اور ان اراکین کی ادائیگی ہی کو آزادی،
    ملا کو ہے جو ہند میں سجدے کی اجازت
    نادان سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد
    دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام ایک تھیوکریسی ہے جبکہ تعلیمات اسلامی سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی نظام حکومت ہر گز "ملاؤں کی آمریت" نہیں۔ اس حوالے سے اپنی مرضی کے کسی بھی عالم دین کی کتاب پڑھ سکتی ہیں، میں کوئی کتاب ریفر نہیں کروں گا کہ شاید آپ کو نام اچھا نہ لگے۔
    لب لباب یہ ہے کہ تحریر میں آپ کا سب سے زیادہ زور اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کو درپیش معاشی مسائل قیام پاکستان کا سبب بنے، آپ نے پورا تانا بانا اس ایک نکتے کے گرد بنا ہے۔

    اب روئے تخاطب عبد اللہ صاحب کی جانب!آپ کی جانب سے "عزت افزائی" کا خوف تبصرہ کرنے سے روک تو رہا ہے لیکن بصد احترام عرض کروں گا کہ قیام پاکستان کے بعد ہندوستان سے کسی کو آنے سے نہیں روکا گیا تھا۔ جب بنگلہ دیش بنا تھا تو پاکستان پر کسی "ملا" کی حکومت نہیں تھی، اور نہ کبھی رہی ہے، وہ سیکولر اور لبرل لوگوں ہی کی حکومت تھی جو ملک کو دو ٹکڑے کرنے کا سبب بنی۔ انہیں بھلا مسلمانوں سے کیا دلچسپی اور ہمدردی؟ ان کی بلا سے سارے کے سارے مر جاتے، ان کی صحت پر کیا فرق پڑتا؟ انہوں نے اپنا اقتدار مضبوط کیا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ ہزاروں پاکستانی اپنی ہی سرزمین پر اجنبی اور پناہ گزین بننے پر مجبور ہوئے (محصورینِ بنگلہ دیش)۔ باقی آپ نے آخر میں جس لقب سے نوازا ہے، سے آپ کی پرانی عادت سمجھ کر درگزر کرتا ہوں۔

    ReplyDelete
  25. اسلامی نظام ایک تھیو کریسی نہیں ہے اور آپکے الفاظ میں ملاءوں کی آمریت نہیں ہے۔ تو کیا اسلامی نظام ملاءوں کی جمہوریت ہے؟آپ کا کہنا کہ پاکستان پر کبھی ملاءوں کی حکومت نہیں رہی۔ تو پھر ضیاالحق کی حکومت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جسے ہمارے ملک کی مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی کے انکی حمایت نہ صرف حاصل رہی بلکہ اس زمانے کی قانون سازی میں بھی وہ پیش پیش رہے۔ وہ ملاءون کی یہ حکومت تھی۔ اور کابل میں قائم ہونے والی طالبان کی حکومت جو صوفی محمد کے خیال میں دنیا میں واحد صحیح اسلامی حکومت تھی اسکے متعلق آپ کا خیال ہے۔ جس وقت وہاں یہ حکومت کر رہے تھے اس وقت بھی ہماری مزہبی جماعتیں انلی تعریف میں رطباللسان تھیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہے نا کہ آپ دراصل ایک ایس اسلامی حکومت چاہتے تھے۔ در حقیقت ابھی بھی جب انکے خلاف جءنگ شروع کی گئ تو یہی طبقہ اس غم میں گحل رہا تھا کہ ان سے جنگ نہ کی جائے اور مذاکرات کئے جائیں۔ کراچی میںایک لمبے عرصے تک آپریشن کلین اپ کے نام پر خدا جانے کتنے نوجوانوں کو ختم کیا گیا کتنوں کے خاندان تباہ کر دئے گئے ایک پوری نسل ختم کر دی گئ۔ مگر اس وقت آپ کی مذہبی جماعتوں نے کبھی نہ کہا کہ ان سے مذاکرات کئے جائیں اور انکے مسائل حل کئے جائیں۔ وہ بھی ہمارے مسلمان بھائ ہیں۔ نہیں اس وقت وہ کافر سے بد تر تھے۔ آپ کو معلوم ہے جب علی گڑھ کالونی پر حملہ ہوا میں اس علاقے میں موجود تھی۔ جب پورے علاقے کو جلا کر خاکستر کر دیا گیا اور سینکڑوں کی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو قتل کر دیا گیا تو مختلف سیا سی تنظیموں ے امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ جماعت اسلامی کے کارکن پہنچے اور انہوں نے عل؛اقے میں جماعت اسلامی کے حامی لوگوں کو مارک کیا اور انکی امداد کی۔ ماشاللہ سے جب یہ صحیح معنوں میں حکومتے حاصل کریں گے تو کسقدر اسلامی بھائ چارے کا مثاہرہ ہوگا اسکا تصور کرنا کوئ مشکل کام نہیں۔ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ کیوں ہماری یہ جماعت جس کا دعوی ہے کہ اسے پاکستان کے پڑھے لکھے طبقے کی حمایت حاصل ہے عوامی حمایت حاصل نہیں کر سکی۔
    پاکستان کی تاریخ میں لال مسجد کے سانحے کو تاریخ کا ترایک ترین دن قرار دینے والوں کو کیوں علیگڑھ کالونی اور قصبہ کالونی کے بے گناہ، معصوم اور اسلحے سے خالی لوگوں کو ذبح کرنے کا دن پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن نہیں لگتا۔ اس لئے کہ مسجد والون کو مذہب کے نام پر ترویج دی جا رہی تھی اور لاعلمی میں مارے جانے والے ان کالونیوں کے لوگ ان مذہبی جماعتوں کے نمائندہ نہ تھے۔ وہ تو بس عام سے مسلمان تھے وہی روزہ نماز زکوت کو ادا کرنے والے، حقو ق العباد کا خیال رکھنے والے۔ ضیاا لحق کی کوڑوں کی سزاءوں سے ڈر جانےوالے۔
    وہ تو پاکستان اس لئے آئے تھے کہ سکون سے حلال روزی کما کر امن اور آشتی کی زندگی گذاریں گے لیکن یہاں آکر پتہ چلا کہ جناب یہ اسلام نہیں ہے اسلام وہ ہے جس کی خاطر لال مسجد والے جان دیں گے اور جن کی سربلندی کے لئے محب وطن ، اسلام پسند پاکستانیوں کی آنکھیں روئیں گی۔
    کسی مدبت=ر کا قول ہے کہ اپنے فلسفےکی خطر دوسروں کو جان دینے کے لئے آمادہ کرنے کے لئے سلیقہ چاہئیے۔

    ReplyDelete
  26. محترمہ! آپ اس طرح کے بودے دلائل دے کر کیا یہ ثابت کرنا چاہ رہی ہیں کہ اسلامی نظام کے بارے میں آپ کا مطالعہ صفر ہے اور تاریخی لحاظ سے آپ بہت زیادہ غلط فہمیوں کا شکار ہیں؟ ضیاء اور جماعت کا گٹھ جوڑ کتنا عرصہ چلا، یہ شاید آپ کو یاد نہ ہو اور ساتھ میں یہ بھی کہ جتنا نقصان ضیاء نے جماعت کو پہنچایا کسی نے نہیں پہنچایا ہوگا خصوصاً طلبہ یونین پر پابندی اور کراچی میں ایم کیو ایم کو "پیدا" کر کے۔ باقی تمام باتیں موضوع سے ہٹ کر ہیں، بلا وجہ دل کے پھپھولے پھوڑے گئے ہیں۔ اس لیے صرف اتنا کہوں گا کہ علی گڑھ میں بہنے والا خون بھی میرے بھائیوں کا تھا اور لال مسجد میں بہنے والا بھی۔ جب ہم بزعم خود پڑھے لکھے افراد بھی اپنے معاشرے میں لسانی بنیادوں پر تقسیم کو روا رکھیں گے تو اس خلیج کو کون پاٹے گا؟
    باقی آخر میں ایک مرتبہ یہ ضرور کہوں گا کہ پاکستان آنے والے مہاجرین یہاں صرف رزق کے لیے نہیں آئے تھے، بلا شبہ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو یہ مقصد لے کر آئے ہوں گے، لیکن قیام پاکستان کا واحد مقصد ہر گز یہ نہ تھا کہ مسلمانوں کو اچھا روزگار فراہم کیا جائے بلکہ اس کا مقصد دنیا کے سامنے ایک مثالی اسلامی فلاحی مملکت کا قیام تھا۔ تاریخ شواہد سے بھری پڑی ہے۔ اگر کبھی ممکن ہوا تو ضرور اپنے بلاگ پر ایک تحریر کے ذریعے پیش کروں گا۔

    ReplyDelete
  27. جی ہاں اس لئے آج بھی ضیا الحق کے گن گانے والوں کا تعلق زیادہ تر جماعت یا انکے حامیوں میں سے ہوتا ہے باقی یہ کہ خرد کا نام جنوں رکھدیں، جنوں کا خرد۔ جو چاہے آپ کا حسن ظن کرے اور جس کی طرف اسکا رخ ہو۔ جس پر آپکا دل آیا ہو اسکے خلاف ہر بات بودی ہی لگتی ہے۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپالینے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔ باقی یہ کہ یا خدا مجھے اتنی حیات دے نہ دے لیکن آپ کو ضرور دے کہ آپ اس بزعم خود صحیح بات کو رو بہ عمل ہوتے دیکھ پائیں۔ یا پھر آپ اور آپ جیسے دوسرے لوگ اس سراب سے باہر آکر کچھ زیادہ بہتر اور مثبت کام کر کے اپنے علم اور بہ حیثیت انسان پیدا ہونے کا حق ادا کرسکیں۔

    ReplyDelete
  28. ہمارے ہاں جو یہ تقسیم ہے نا جدت و قدامت پسند کی، اس کے دونوں جانب جا کر دیکھیے آپ کو ایک دوسرے کے خلاف یہی باتیں سننے کو ملیں گی جو آپ نے اوپر کہی ہیں۔
    اگر اوپر والے تبصرے سے صرف آپ کا نام اور پہلا جملہ ہٹا دیا جائے تو یقین جانیں کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ آخر کون کس پر الزام دھر رہا ہے۔
    میں نہ مانوں، شتر مرغ اور سراب کی اصطلاحیں دونوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے رہتے ہیں۔ آپ پڑھی لکھی ہیں میں تو جاہل آدمی ہوں، آپ خود پڑھ کر دیکھ سکتی ہیں کہ کس کے دلائل بودے ہیں اور کس کے ٹھوس۔ لیکن شاید ہمارا ذہنی سانچہ اس قسم کا بن جاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے۔
    مجھے افسوس ہے کہ آپ نے لا علمی کا طعنہ مارنے کے ساتھ یہ بھی غیرت دلائی ہے کہ ہم بحیثیت انسان پیدا ہونے کا حق ادا کر سکیں۔ خیر ۔۔۔۔ میں اب تک اپنے جواب کے حوالے سے تشنہ ہوں۔ جو بار ہا توجہ دلانے کے باوجود مجھے ابھی تک نہیں ملا۔

    ReplyDelete
  29. آپکی سادہ دلی کہ میرے قلم پھاڑ کر لکھنے کے باوجود آپ کو جواب نہ مل سکا۔ آگے میں کہہ کر اس موضوع کو پھر کسی وقت کے لئے اٹھا رکھتی ہوں کہ
    الجھیں گے کئ بار ابھی لفظ سے مفہوم
    سادہ ہوں بہت میں نہ وہ آسان بہت ہے

    ReplyDelete
  30. بجلی کی مہربانی تھی کہ جواب لکھنے میں تاخیر ہوئی،ابو شامل ساحب ہماری تاریخ درست کرواتے کرواتے آپ اپنی ہی تاریخ بھول گئے،کیا ایوب خان نے اپنے دور میں یہ پابندی عائد نہیں کی تھی اور جب سے آج تک یہ پابندی عائد ہے یہاں تک کہ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد جنگی قیدیوں کی واپسی کے وقت یہ تک فرمایا تھا کہ جو لوگ 1956 کے بعد پاکستان آئے تھے انہیں واپس نہیں لیا جائے گا،کس کس ظلم کو جھٹلائیں گے آپ،اور یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہوگی کہ یہ بھٹواکیلے کا فیصلہ نہیں تھا،
    اس کے علاوہ آپ نے انیقہ صاحبہ کو بھی خوب دل بھر کر جھٹلایا ہے،
    کوئی ایک دو سال نہیں 11 سال جماعت فوج کے ساتھ مل کر حکومت کرتی رہی،جماعت اور ضیاءکا گٹھ جوڑ تو 11 سال چلا مگر جماعت اور ایجینسیوں کا گٹھ جوڑ اس سے بہت پرانا ہے،الشمس اور البدر کے کارنامے تو یاد ہی ہوں گے آپ کو،اور زرا تاریخ کو دوبارا دھیان سے پرھیے تو آپکو پتہ چلے گا کہ ایم کیو ایم اے پی ایم ایس او سے وجود میں ائی تھی اور اے پی ایم ایس او 1978 میں کراچی کے سٹوڈنٹس کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کی وجہ سے بن چکی تھی اس لیئے آپ اس کا کریڈٹ ضیاءالحق کو نہ ہی دیں تو بہتر ہے،ضیاء نے اگر اس تنظیم کی طرف سے خاموشی اختیار کیئے رکھی تو صرف اس لیئے کہ وہ چاہتا تھا کہ کسی طرح پی پی پی کا زور توڑا جاسکے اور یہ آپس میں ہی لڑتے بھڑتے رہیں اور ختم ہو جائیں اور جماعت کی بھی یہی خواہش تھی،مگر خدا کی قدرت دیکھیئے کہ پی پی پی بھی موجود ہے اور متحدہ بھی قائم ہے مگر انہیں مٹانے کے خواب دیکھنے والا مٹ گیا،اور باقی جو ہیں یعنی جماعتی اور نون لیگ تو وہ بھی نہ ہونے کے برابرسمجھیں سازشوں سے تو باز نہیں آتے کہ پرانی عادتیں بھلا کہاں چھوٹتی ہیں،مگر لوگ بھی اب سوا ہوشیار ہوگئے ہیں سو بے چاروں کی دال نہیں گل پارہی :)
    ان کے دلائل کو بودا کہنے کے بجائے اپنی نظر اور مطالعے میں وسعت پیدا کیجیئے تب جا کر بات سمجھ میں آئے گی،

    ReplyDelete
  31. قائد اعظم کو برا کیوں کہیں؟ ایک ملک بنا کر دیا وگرنہ ہندو اکثریت میں ہمیشہ کی معاشی بدحالی مقدر ہوتی۔ یہ اور بات ہے کہ پاکستانی جاگیردار اور اسٹبلشمنٹ ہی معاشی طور پر مستحکم ہوے ہیں۔ عام آدمی تو قائد کے فرامین کو سمجھنے کے چکر میں ہی پھنسا رہا ہے۔ یہ سیکیولر اور ملا کا جھگڑا بھی خود ساختہ ہے۔ ملا احمق نہیں ہے۔ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ سنی دیوبندی، بریلوی ، وھابی، مالکی،شافعی وغیرہ مذاہب کے جھگڑے پاکستان میں تا قیامت ختم نہیں ہوں گے۔پاکستان میں عالم اسلام کے بھ بہت سے تضادات جمع ہو چکے ہیں۔ عام شہری تو قرآن کو ناظرہ ہی پڑھ سکتا ہے۔ باقی سب میدان ان علما کے لئے خالی ہے۔ کوئ دھمالیں ڈلواے تو کوئ علی معاویہ کے مناظرے کراے۔ کوئ حدیث کو قرآن پر بالا کرے تو کوئ حدیث کا کل انکار کر دے۔ کوئرجم کی سزا ہر کس وناکس پر جاری کرے تو کوئ قبریں ملیامیٹ کرتا پھرے۔ پاکستان میں نسلی تنوع بھی ہے اور مذھبی تنوع بھی۔ بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر اسلام اور ہے اور پنجاب کے خطے کا اسلام اور ہے۔ پٹھان کا اسلام اور ہے اور سندھی کا اسلام اور ہے۔ اور ان سب کے بیچوں بیچ سعودی دولت سے چلتے طالبانی مدرسوں کا اسلام اور ہے۔ یہ تو کھیل صرف چندے اکھٹے کرنے کا ہے۔ کچھ ریالوں میں لیتے ہیں ، کچھ روپوں میں اور کچھ ڈالروں میں بھی۔قائد کے زمانہ میں پاکستان دنیا میں اسلامی ملکوں کا وکیل تھا۔ آج کل سب دنیا میں بدنام ہے۔ قائد اعظم تو اسلامی قومی شناخت کے متمنی تھے۔ شریعت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ٹھیکیدار کہاں سے آگئے؟ یہ ملا جو پلیدستان پر تھوکتے بھی نہیں تھے، ریڈیو پاکستان پر چڑھ دوڑے۔ بڑھ بڑھ کر فسادات شروع کراے اور بس فتووں کا نہ رکنے والا سلسلہ۔۔۔ منارک ہو۔۔ کہ پاکستان کا ہر مسلمان آج کل کافر ہے۔۔

    ReplyDelete
  32. لطف، قائد اعطم کو کوئ برا نہیں کہتا بلکہ کچھ لوگوں کی تو خواہش ہے کہ مخصوص دنوں میں انکی مخصوص باتوں کے علاوہ انکا تذکرہ نہ ہو تو بہتر ہے۔ بہت ممکن ہو کہ قائد اعظم پاکستان کے بارے میں یہ سوچتے ہوں کہ یہاں اسلامی افکار کو جدیدت سے ہم آہنگ کر کے نئے نئےسوشل تجربے کئے جا ئیں گے اور پھر ایسا نظام ترویج دیا جائےکہ جس سے ریاست ، ایک فلاحی ریاست بنے جہاں مسلمانوں کو ایک ایسی مثالی ریاست بنانے کا موقع ملے جو وہاں کے لوگوں کی امنگوں کی ترجمان ہو، جہاں ریاست میں موجود تمام لوگ اسکی ترقی کے لئیے بغیر کسی خطرے کے کام کریں۔ جہاں ہر شخص کے متعین حقوق اور فرائض ہوں۔ اور سزا دینے کا حق صرف قانون کو ہو۔ جہاں مسلمان جدید علم کے فروگ میں دلچسپی لیں۔ جہاں اسلامی تحقیقات کے اعلی مراکز قائم ہوں جن میں اور مضامین کے علاوہ دنیا بھر کے ادیان کا تقابلی مضمون بھی پڑھایا جائے۔
    لیکن ایک ترقی پسند اسلامی ریاست کے بجائے باسٹھ سال بعد ہمیں ایک انتہائ تنگ نظر ، شدت پسند معاشرہ ملتا ہے۔ جہاں ٹائ اور سوٹ پہنے نوجوان بھی طالبان کو پسند کرتے ہیں، جہاں ملازمت کر نیوالی خواتین یہ کہتی ہیں کہ مجبوری ہے ورنہ مسلمان عورت کو گھر کی چہار دیواری میں ہی رہنا چاہئیے۔ جہاں والدین اپنے بچوں کو خدا حافظ کی جگہ اللہ حافظ سکھا کر دھمالیں ڈال رہے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی کیا خدمت کی اور مولوی صاحب خوش ہیں کہ اسلام کو بچا لیا گیا۔
    یہ ملائیت کی سوچ ہمارے معاشرے میں خاصی حد تک جڑ پکڑ چکی ہے اور وہ جو داڑھی نہیں رکھتا اور حجاب نہیں پہنتا وہ بھی ایسی لا یعنی باتیں کرتا ہے۔
    قوم کو اس بے یقینی اور افراتفری میں مبتلا کرنے والوں کے خلاف کیا کسی کو آواز نہیں اٹھانی چاہئیے؟

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ