Friday, April 15, 2011

تعلیم کے لئے جہاد

ایک مبصر کا کہنا ہے کہ تعلیم کے لئے جنگ نہیں تعلیم کے لئے جہاد کی اصطلاح استعمال ہو تو لوگ تعلیم کی طرف زیادہ متوجہ ہونگے۔ لگتا ہے یہ سچ ہے۔
ہم اکثر اپنے ملک کی تعلیمی حالت کی زبوں حالی کا رونا سنتے ہیں۔ ہمارے احباب علم و دانش اس بات پہ فکر مند رہتے ہیں کہ ہم علمی سطح پہ قحط الرجال کا شکار ہیں اور ہمارے احباب محفلاں گپ بازی ، اپنی اس کمی کو چند پڑھے لکھے لوگوں کا مذاق اڑانے کی کوششوں میں اپنا وقت لگاتے ہیں۔ کیونکہ انکے پاس اس وقت کی قلت ہے جس سے وہ اپنی اس کمی کو پورا کر پائیں۔
خیر جناب یہ میرے سامنے اس وقت دو پی ایچ ڈی کے تھیسس پڑے ہیں۔ ان پہ بات کرنے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ ہمارے سب سے بڑے صوبے کی سب سے مایہ ناز یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حصول کے لئے جمع کرائے گئے۔ دونوں ہی تھیسس، اپنے موضوع کے لحاظ سے پاکستان میں تعلیم سے تعلق رکھتے ہیں۔
دونوں تھیسس اپنی ضخامت کے لحاظ سے قابل توجہ ہیں۔ ایک کوئ سوا چار انچ بلند ہے اور دوسرا تقریباً تین انچ۔ یعنی دیکھنے والے کو ایک دم دبدبے میں لے آتا ہے۔ ایک تھیسس کوئ آٹھ سو صفحات پہ مشتمل ہے اور دوسرا کوئ پانچ سو صفحات پہ۔
تحقیقی ضابطوں سے نا آشنا لوگ سمجھیں گے کہ کیا زبردست محنت کی گئ ہوگی لیکن یہاں میں یہ اطلاع دیتی چلوں کہ اپنی پی ایچ ڈی کے دوران مجھے اس سلسلے میں انتہائ تناءو میں رہنا پڑا کہ ایک اچھے تھیسس کو زیادہ سے زیادہ دو سو صفحات پہ مشتمل ہونا چاہئیے اور اسکا زیادہ سے زیادہ حصہ آپکے اپنے کام پہ ہونا چاہیے نہ کہ دوسروں کی محنت کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔ یہ میرے ساتھ کوئ امتیازی سلوک نہ تھا بلکہ دنیا میں معیاری رائج طریقہ یہی ہے۔
ان موضوعات پہ اس قدر دلجمعی کے ساتھ کام کیا گیا ہے کہ تعلیمی موضوع پہ لکھے جانے والے ایک تھیسس میں ایک خاص علاقے کے کھانوں کی تراکیب تک موجود ہیں۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ دونوں تھیسس غیر معیاری ہیں ہیں۔
خیر ، اس میں طالب علم نہیں ان کا سپر وائزر زیادہ قصوروار ہے۔ پی ایچ ڈی کرانے والا استاد  اپنے طالب علموں کا معیار اپنے حساب سے بناتا ہے۔

ہمارے لئے ان کا موضوع زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ خاص طور پہ اس کا آخری حصہ جس میں پاکستان میں تعلیمی حالات کو بہتر کرنے کی تجاویز و سفارشات ہیں۔ ان میں سے چیدہ چیدہ سفارشات یہاں نقل کر رہی ہوں۔ یہ دکھانے کے لئے کہ ہمارے سب سے بڑے صوبے  کی سب سے بڑی جامعہ میں سوچنے کا انداز کیا ہے۔ ایک اور اہم بات یہ کہ یہ تھیسس ضیاءالحق کے زمانے کے نہیں ابھی حال ہی میں پاس ہوئے ہیں۔

سفارشات؛
اپنے مدارس، کالجوں یا جامعات کے معلمین و معلمات کے انتخاب میں انکی سیرت و اخلاقی اور دینی حالت کو انکی تعلیمی قابلیت کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ اہمیت دیں اور آئیندہ کے لئے معلمین کی تربیت میں بھی اسی مقصد کے مطابق اصلاحات کریں۔
مقاصد تعلیم اور نصاب تعلیم کی تدوین و ترتیب اس طرح کی جائے کہ تمام افراد چاہے وہ ڈاکٹر ہوں یا انجینیئر استاد ہوں یا وکیل تاجر ہوں یا کسی اور شعبے سے سے متعلق اپنے پیشے میں مہارت کے علاوہ اول و آخر صحیح مسلمان ثابت ہوں۔ یعنی ہر تعلیمی سطح پر تشکیل اور تنقید نصاب میں تلاوت آیات تزکیہ اور کتاب حکمت کی تعلیم کو اساسی حیثیت حاصل ہو۔

تشکیل سیرت کو کتابی علم سے زیادہ اہمیت دی جائے۔
ہر سطح کے نصاب میں عربی زبان کو  لازمی مضمون کی حیثیت دی جائے تاکہ طلبہ اسلام کی اصل روح کو پوری طرح سمجھ سکیں۔ مجموعی طور پہ ابتدائ ، ثانوی اور اعلی سطح کے نصابات کی ترویج کے حوالے سے مسلم مفکرین کے افکار خصوصاً سید مودودی کی کتاب تعلیمات کو پیش نظر رکھیں۔

عورتوں کی تعلیم میں اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہئیے کہ انکی اصل  اور فطری ذمہ داری زراعتی فارم، کارخانے اور دفاتر چلانے کے بجائے گھر چلانے اور انسان سازی کی ہے۔
ایسی تعلیم جو ہماری نسلوں کو غیر مسلم بناتی جا رہی ہے اس تعلیم میں اتنی ترمیم کر دی جائے جس سے ارتداد و بے دینی کے سیلاب کا انسداد ممکن ہو سکے۔ اسکے لئے مولانا سید مناظر احسن گیلانی نے 'نظام تعلیم کی وحدت' کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اس تعلیمی خاکے میں ہر بات کو تفصیلی جواب موجود ہے اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
طلبہ کویہ باور  کرانا چاہئیےکہ  وہ علوم و فنون  اور تہذیب و ثقافت کے تعمیری پہلوءوں میں یوروپ کے استاد و رہنما رہے ہیں اور یوروپ نے ان ہی کے دکھائے ہوئے راستوں پر چل کر آج کے نئے علم اور ترقی کی منزل پائ ہے۔ اس لئے نئ سائینس اور ٹیکنالوجی کو اپنانا گویا اپنے ہی سرمائے کی بازیافت کے مصداق ہے۔
مندرجہ بالا سفارشات کی تفصیلات و جزیات کے لئے مولانا سید مودودی کے اصلاح تعلیم کے مقالاجات اور مختلف کتب سے رہنمائ حاصل کی جا سکتی ہے۔
جن اداروں سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہیں۔ ادارہ ء تعلیم و تحقیق تنظیم اساتذہ پاکستان لاہور، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد۔ پاکستان ایجوکیشن فائونڈیشن اسلام آباد، ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور۔
ہمیں آئیندہ نسلوں کا مستقبل تابناک بنانے کے لئے اسلامی تعلیم کو اپنانے میں کوئ لمحہ ضائع نہیں کرنا چاہئیے اوردوسروں کی غلامی کا طوق گلے سے اتار دینا چاہئیے۔
چونکہ یہ تھیسس اپنی اپنی سطح پہ قبول کئے جا چکے ہیں تو کیا واقعی ہمارے تعلیمی نظام کو سدھار کے لئے یہ چیزیں درکار ہیں؟
 میرا خیال ہے اس میں واقعی ایک کمی ہے اور وہ یہ کہ تعلیم کے لئے جہاد کا اعلان کیا جائے۔


9 comments:

  1. مسلمان وہ انقلاب اورینٹڈ قوم تھی جو اپنے دور کے خلیفاء پر انگلی اٹھالیا کرتی تھی، کے حضرت یہ اتنا لمبا کرتا جو زیب تن کیا ہوا ہے تو یہ اتنا زیادہ کپڑا کہاں سے آیا آپ کے پاس، اور وہ خلفاء بھی عظیم تھے کے صفائی پیش کیا کرتے تھے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ایک مخصوص دائرے میں قید کردیا گیا، اس انقلاب اورینٹڈ قوم کو باقائدہ سازش کے تحت ثواب اورینٹڈ قوم بنادیا گیا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے، افسوس کا مقام یہ ہے کے اتنا نقصان اٹھانے کے باوجود بھی ہم اپنی اس لگی بندی گلی سڑی سوچ کو بدلنے کے لئیے تیار نہیں ہیں۔

    ReplyDelete
  2. ہاہاہا ... یعنی مدرسہ کی لعنت تو اپنی جگہ موجود ہی تھی اب بچی کھچی یونیورسٹیاں بھی مُلا فیکڑی میں تبدیل ہونے کو ہیں۔ اس لحاظ سے "جہادی" عنوان خوب ہے لیکن یونیورسٹی کے نام کے آگے بریکٹ میں "شہید" کا اٖضافہ بھی اب کرنا ہوگا یعنی پنجاب یونیورسٹی (شہید)۔
    تقریباً ایک عشرہ پہلے کچھ لوگوں سے سنا تھا کہ انھوں نے آئی بی اے کراچی کو ہر قسم کی مذہبی اور سیاسی نجاست سے پاک کر رکھا ہے کہ داخلہ دینے سے قبل ہی اس نجاست کے محاسبہ کی تسلی کر لی جاتی تھی۔ کچھ یہی صورتحال ان دنوں لمز لاہور کی بھی تھی نتیجہ ان کی عمدہ کارکردگی کی صورت میں دیکھ لیں۔ موجودہ دور کا علم نہیں۔ کیا معلوم اب وہ بھی "شہید" ہوچکی ہوں۔
    غالباً کسی زمانے میں ترکی کے حالات اس سے بھی بدتر تھے۔ شائد تبھی انھوں نے ملائیت اور اس کی جملہ علامات کو لات مار کر نکال باہر کیا۔ مذہبی جہالت اور انتہا پسندی کے ردعمل میں کچھ انتہا پسندی کرنے کے کچھ منفی اثرات تو ہوئے لیکن فوائد بہت حاصل ہوئے۔ عالم اسلام میں آج صرف ترکی ہی کی یونیوسٹیاں بچی ہیں جو عالمی سطح پر تحقیق اور تدریس میں اپنی تھوڑی بہت پہچان رکھتی ہیں اور جہاں جہالت کی بجائے سائنٹفک اور ریشنل اپروچ رائج ہے۔
    یہ سلسلہ دلچسپ ہے۔ جاری رکھیں۔

    ReplyDelete
  3. سنیں سنیں ...
    عنوان میں تصحیح کریں۔ یہ تعلیم کے لئے جہاد نہیں .. تعلیم کے خلاف جہاد ہے۔

    ReplyDelete
  4. خالد حمیدApril 18, 2011 at 1:17 PM

    کاش!!!! لوگ غیر جانبدارانہ انداز میں دیکھیں اور پھر کچھ کہیں۔ جو لوگ مدرسہ کو لعنت اور مولوی کو غلط کہتے ہیں شاید انہوں نے کبھی مدرسہ دیکھا ہی نہ ہو اور کبھی مولوی سے واسطہ ہی نہ پڑا ہو۔ ویسے آپ کی ناقص معلومات کے لئے عرض ہے کے سند یافتہ عالم کو مولوی کا درجہ حاصل ہوتا ہے، کس نمازی یا باریش شخص کو مولوی کہنا مولوی کہ درجہ کی توہین ہے۔

    ReplyDelete
  5. خالد صاحب، ہر شخص ایک مخصوص لغت استعمال کرتا ہے۔ میں جو لغت استعمال کرتی ہوں اس میں لفظ مولوی سے گریز کرتی ہوں۔ اگر کبھی اتفاقاً کیا ہو تو مولوی صاحب لکھا ہوگا۔
    دراصل، میں جس ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتی ہوں وہاں مولانا کا لفظ ترجیحاً استعمال کیا جاتا ہے مولوی نہیں۔
    اس تحریر میں بھی کہیں مولوی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ گمان ہے کہ آپ نے کسی اور جگہ لکھا جانے والا اپنا یہ تبصرہ یہاں لکھ دیا ہے۔ میں نے ذاتی طور پہ کراچی کے مشہور سلسلہ مدارس سے قرآن کی تعلیم لی ہے اپنی قرآن جماعت کے ان پسندیدہ بچوں میں سے تھی جنہیں مدرسہ فخر سے پیش کرتا اور جس کا ناظرہ قرآن پسند کیا جاتا تھا بلکہ اس سلسلے میں انعامات بھی حاصل کئے۔ اس لئے خوب اچھی طرح واقف ہوں کہ مدارس کا کیا ماحول ہوتا ہے۔

    ReplyDelete
  6. گستاخی معاف: محترم عثمان صاحب کی بات پر افسوس ہوا تھا ، آپ کو برا لگا تو معافی چاہتا ہوں۔

    ReplyDelete
  7. پنجاب یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے لئے سید مودودی کی مکتوبات سے استفادہ اور ان کا حوالہ ناگزیر ہوتا ہے۔ گزشتہ اکیس برس سے تو پنجاب یونیورسٹی کو جمعیت کے قبضہ میں دیکھ رہا ہوں، بعینہ جیسے جامعہ کراچی ایک اور تنظیم کے قبضہ میں ہے۔ ایسے میں اسی قسم کے مقالات سامنے آسکتے ہیں۔ ویسے ان مقالات کے ایک نکتہ سے متفق ہوں۔ کتابی علم سے زیادہ اہمیت سیرت و کردار کو دی جانی چاہئے اساتذہ کے انتخاب میں۔ بچہ کتاب سے نہیں، استاد سے سیکھتا ہے اور دونمبری استاد کبھی بھی راستبازی کا سبق نہیں دے سکتا۔ سامنے کی بات ہے، ٹیوشن کلچر کے آتے ہی ہمارے ملک میں تعلیم کی زیادتی اور علم کی کمیابی ہوگئی۔

    ReplyDelete
  8. خرم صاحب، میں نے جامعہ کراچی سے ہی تعلیم پائ اور وہاں تدریس کے عمل میں شامل رہی۔ کراچی سے باہر جانے والے تائثر کے بر عکس جامعہ کراچی میں کسی تنظیم کا قبضہ نہیں ہے۔ یہاں بنیادی طور پہ تین تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ چونکہ یہاں کسی تنظیم کو واضح قبضہ نہیں ہے اس لئے یہان کا انتظام رینجرز کو سنبھالنا پڑا۔ آپ یونیورسٹی حدود میں رینجرز سے چیکنگ کرائے بغیر داخل نہیں ہو سکتے۔
    ایم کیو ایم کی آمد سے قبل کامعہ کراچی بھی جمعیت کے قبضے میں تھی۔ اس وقت یہاں رینجرز بھی نہیں تھے۔
    اب صورت حال اس حوالے سے خاصی قابو میں ہے۔
    ریسرچ اور تدریس کے حوالے سے جامعہ کراچی بالکل آزاد ہے۔ یہاں کسی کے مکتوبات کے حوالے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

    ReplyDelete
  9. ملاحضہ فرمائیں سنگسار عباسی کے کالم میں کراچی یونیورسٹی کی ایک مجاہدہ کا غیرت نامہ۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ