Wednesday, August 1, 2012

ہود بھائ کی سازش

کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔  لیکن ضرورت کی مجبوری دماغی خلل  بھی پیدا کرتی ہے۔ اس سے ایجاد میں  شوخی ء تمنا  ہوتی ہے اور اگر مناسب تعداد میں ہم نوا مل جائیں تو دھمال ڈالنے کا لطف سوا ہوتا ہے۔ میرے جیسے مجبور بھی سر اٹھا کر دیکھنے لگتے ہیں کہ ایجاد کی ماں اب کیا جنم دیں گی۔ فی الحال تو ہفتہ بھر سے زائد ہو گیا اور ایک دفعہ پھر ٹاک شوز کو رواں رکھنے کے لئے ایک کے بعد ایک ڈرامہ ہونے کے علاوہ لیبر روم سے کچھ بر آمد نہیں ہو رہا۔ ایک دفعہ پھر میڈیا اینکرز بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے کھڑے ہیں اور ایک دفعہ پھر کچھ بڑے لوگوں کو آمنے سامنے پہنچا دیا گیا ہے۔ مثلاً ڈاکٹر عبد القدیر اور پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن۔
 سواس دفعہ لپیٹے میں ہمارے ایٹمی سائینسداں بھی نہ بچ سکے ۔  لگتا ہے ان سب کو پرویز ہود بھائ کی بد دعا لگی ہے۔ یوں مجھے شبہ ہے کہ آغا قادر نامی ڈپلومہ انجینیئر کو شہہ دینے والے حامد میر یا عبد القدیر خان نہیں بلکہ پرویز ہود بھائ ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ آغا قادر کی اس متوقع نوبل ایجاد پہ سب سے پہلے انہی کا اعتراض میں نے پڑھا۔ انہوں نے یہ ٹریپ تیار کیا ہے۔ ملک کے سائینسدانوں  کو لنگڑی دینے کا۔ خیر یہ کانسپیرینسی تھیوری ایک مذاق ہے۔ شوخی ایجاد تمنا کا کانسپیرینسی تھیوری سے بڑا گہرا تعلق ہے۔
اس ایجاد کی خبر سامنے آتے ہی  فخر و انبساط کے نعرے اٹھے۔ نعروں کی اس گونج میں جس نے بھی اپنی آواز بلند کی منہ کی کھائ۔ لوگوں کو اس پہ ہی ملک دشمن عنصر ہونے کا شبہ اٹھا۔ جہاں لکچھ لوگ بگڑ بیٹھے کہ یہ کیا پاکستانی کوئ بھی کارنامہ انجام دیں لوگ اس میں کیڑے نکالنے لگ جاتے ہیں دوسری طرف فزکس کے قوانین کی بقاء کی جنگ لڑنے والے اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ تو تھرمو ڈائنامکس کے پہلے قانون سے متصادم ہے۔ حامیوں نے یہ نہیں کہا کہ تو کیا ہوا آئینسٹائین کے قوانین نیوٹن کے قوانین سے متصادم تھے۔   فزکس کا یہ قانون فزکس کے لئے صحیح ہوگا۔ ہم میٹا فزکس پہ ، فزکس سے زیادہ یقین رکھتے ہیں۔ مجھے تو درحقیقت یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ انہوں نے کس کے دئیے ہوئے وظیفے سے چمتکار کر دکھایا۔ 

دنیا میں پانی سے کار چلانے کا یہ پہلا دعوی نہیں۔ پہلے جتنے مدعی گذرے ان میں سے زیادہ تر لوگ فراڈ نکلے۔ مغرب میں فراڈ نکلنے پہ کسی کو قومیت کا جذباتی دھچکا نہیں لگتا۔ اس لئے فراڈ کی نشاندہی کرنا کار ثواب کی جگہ کار علم ٹہرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا فراڈ پاکستان میں ہونا مشکل ہے۔ اس لئے ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے البتہ یہ کہ معصوم لوگوں کی ہمارے یہاں کمی نہیں۔ جیسے ایک معصوم حامد میر ہیں جنہوں نے پچھلے تمام مدعیوں کو فراڈ کہنے کے بجائے اپنے انٹرویو میں انکے خلاف سازشوں کا ماحول تیار کرنے کو ترجیح دی۔
 اب تک اس سلسلے میں جو سائینس بیان کی گئ ہے اس میں پانی کوبجلی سے توڑ کر ہائڈروجن گیس تیار کی جاتی ہے۔ یہ عمل الیکٹرولیسس یا برق پاشیدگی کہلاتا ہے۔ پانی کی اس تحلیل سے ہائڈروجن گیس اور آکسیجن  گیس کاآمیزہ پیدا ہوتا ہے جو آکسی ہائڈروجن کہلاتا ہے۔ جسے براءون گیس یا ایچ ایچ او بھی کہتے ہیں۔
 آغا وقار صاحب کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جس میں نہ صرف پانی ٹوٹ کر ہائڈروجن اور آکسیجن گیسز بنائے گا بلکہ یہ دونوں گیسز توانائ پیدا کرنے کے عمل سے گذر کر دوبارہ پانی میں تبدیل ہوجائیں گی۔  یہاں یہ یہ نکتہ قابل غور ہے کہ پانی ٹوٹتے وقت جتنی توانائ لیتا ہے اتنی ہی توانائ پانی کو ان گیسز کو ملا کر بنانے کے لئے چاہئیے ہوتی یعنی مجموعی تعامل اس طرح ہوگا۔

 
 پانی کے مالیکیول کو بنیادی اجزاء میں توڑنے کے لئے جو توانائ درکار ہوگی وہ الگ ہے جو کہ آغا وقار کی ایجاد میں بیٹری سے حاصل کی جارہی ہے اور بقول انکے بیٹری کی توانائ جنریٹر سے حاصل ہوگی ابتداء میں بعد میں جب کیمیائ تعامل چل پڑے گا تو نہیں چاہئیے ہوگی۔ واضح رہے  کہ پیٹرولیئم مرکبات کی صورت میں زنجیری تعامل چلتا ہے اور توانائ کی زیادہ مقدار تعامل کی ابتداء میں چاہئیے ہوتی ہے جب ایک دفہ تعامل چل پڑتا ہے تو وہ زنجیر کی شکل جاری رہتا ہے۔
چونکہ پانی توڑنے کے لئے توانائ بیٹری سے حاصل کی جارہی ہے اس لئے سامنے جو نظر آرہا ہے وہ یہ کہ گاڑی ایک ان ڈائریکٹ ذریعےسے  دراصل بیٹری کی بجلی سے چل رہی نہ کہ پانی سے۔
لیکن آغا وقار اسے سامنے کی بات قرار نہیں دیتے بلکہ انکا دعوی ہے کہ اس میں ایک راز ہے جو وہ اگر کھول دیں تو پھر پروڈکٹ انکے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ 
 یہاں فیئول سیلز ہوتے ہیں جن میں ہائڈروجن استعمال کی جاتی ہے۔ یہ فیئول سیلز گاڑیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ہائڈروجن حاصل کرنے کا کمرشل ذریعہ عام طور سے قدرتی گیس یا پیٹرول مرکبات ہوتے ہیں۔ انہیں توڑ کر ہائڈروجن حاصل کی جاتی ہے۔ اس طرح فیئول سیلز کا بنیادی فائدہ کم آلودہ فضا نظر آتی ہے۔ کیونکہ ہائدروجن جلنے سے کاربن کے آکسائیڈز پیدا نہیں ہوتے جوکہ فضائ آلودگی کا بنیادی سبب ہوتے ہیں۔ فیئول سیلز پہ چلنے والی گاڑیوں کے انجن میں تبدیلی لانی پڑتی ہے۔ پانی کو سورج کی شعاعوں کی مدد سے بھی توڑآ جا سکتا ہے اس سلسلے میں تجربات جاری ہیں ۔ سمندری پودے یہ کام انجام دیتے ہیں لیکن کمرشل سطح پہ اس وقت کوئ سستا طریقہ موجود نہیں۔
آغا وقار صاحب کا ایک انٹرویو اور حامد میر صاحب کے ساتھ انکی سیر دیکھی، پانی سے چلانے کے لئے اس گاڑی کو کرائے پہ حاصل کیا گیا۔ نہ حامد میر صاحب نے اپنی گاڑی پیش کی نہ ان صاحب نے اپنی گاڑی استعمال کی نہ ہی انکے کسی دوست یا قائل شخص نے انہیں اپنی گاڑی دی۔ انٹرویو میں وہ بے دھڑک ایک کے بعد ایک پیچیدہ سائینسی اصطلاحات استعمال کرتے رہے جن سے عام لوگ واقف نہیں۔ یعنی ایک مبصر کا یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ بس نیوکلیئر فیوژن کی اصطلاح باقی بچ گئ۔ ڈپلومہ ہولڈر انجینیئر آغا وقار اپنی 'ایجاد؛ کے بارے میں اتنے زیادہ پر اعتماد ہیں کہ انہوں نے ہمارے محترم استاد پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن کا بھی ٹیسٹ لے ڈالا۔ 'کیا آپکو معلوم ہے کہ ہائڈروجن گیس کہاں سے آتی ہے؟ مجھے معلوم ہے کہ استاد محترم کا حس مزاح بڑا اچھا ہے اور وہ یقیناً اس سے محظوظ ہوئے ہونگے۔
انٹرویو کے دوران مسلسل زور اس بات پہ رہا کہ حکومت اس سلسلے میں فنڈنگ کرے۔ بقول آغا وقار ، وہ اس پراجیکٹ پہ سوا کروڑ روپے خرچ کر چکے ہیں۔ میرا تو خیال ہے کہ انہیں اسکی تشہیر سے پہلے کم از کم دو گاڑیوں کو مستقل پانی پہ کر دینا چاہئیے۔ سوا کروڑ روپے خرچ کرنے والے شخص کے لئے دو سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں ایک ، ڈیڑھ لاکھ کی خریدنا مشکل نہیں۔
وہ لوگ جو ان کی اس 'ایجاد' کے قائل ہو چکے ہیں کم ازکم انہیں تو اپنی گاڑیاں پانی  پہ کر دینی چاہئیں۔ خاص طور پہ حامد میر صاحب۔ وہ کم از کم اپنی گاڑی کے لئے تو فنڈنگ کر ہی سکتے ہیں۔ تاکہ لوگ اس کے قائل ہو کر اسے خریدنا شروع کریں اسکے بعد ہی کمرشل سطح پہ اسکی پیداوار کا سوال اٹھتا ہے۔


  میرا تو آغا وقار سے اس سارے موضوع سے ہٹ کر ایک معصوم سا سوال ہے کہ انکے بقول ڈسٹلڈ واٹر کی بوتل تو دس روپے کی مل جائے گی یہ کم بخت پینے کے پانی کی بوتل اتنی مہنگی کیوں ملتی ہے؟
خیال یہ آرہا ہے کہ اس سے آگے کیا ہوگا؟ کیا آغا وقار میڈیا سے باہر کچھ ثابت کر پائیں گے۔ اگر وہ ثابت نہ کر پائے تو ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسے پائے کے سائینسدانوں کا کیا ہوگا۔ پی سی آئ آر کے چیئرمین کس گنتی میں گنے جائیں گے؟ ہود بھائ کی مسکراتی تصویر میں انکی مسکراہٹ کتنی بڑھ جائے گی؟ کیا پروفیسر ڈاکٹر عطاالرحمن ، آغا وقار کو یاد رکھیں گے؟
اور عام لوگ ، کیا عام لوگ تھرمو ڈائنامکس کا پہلا قانون، قانون بقائے توانائ بھول پائیں گے۔ توانائ نہ پیدا کی جا سکتی ہے نہ فنا کی جا سکتی ہے یہ بس ایک شکل سے دوسری شکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

26 comments:

  1. براہِ مہربانی عبدالقدیر خان اور پرویز ہودبھائی کے متزکرہ بیانات کے لنکس بھی فراہم کر دیجئے

    ReplyDelete
    Replies
    1. عبد القدیر خان کے لئے یہ لنک دیکھئیے۔
      http://www.youtube.com/watch?v=h_DR18ZsYzU
      ہود بھائ کے مضمون کا لنک ساتھ ہی موجود ہے غالباً آپ سے مس ہو گیا۔

      Delete
    2. جی، پہلی بار لنک پر دھیان نییں گیا تھا، شکریہ۔

      Delete
  2. گاڑی پانی سے چلے یا نہ چلے۔۔۔۔
    ھائیڈروجن بم روڈ پہ ضرور آجائے گا
    گیس کٹ پھٹنے کم بندے پھٹتے ہیں۔۔۔۔۔
    ہائیڈروجن بم سے خاطرخواہ آبادی میں کمی واقع ہو گی۔۔۔

    ReplyDelete
  3. بہت خوب

    ہم میٹا فزکس پہ ، فزکس سے زیادہ یقین رکھتے ہیں

    کاش میں یہ کہ سکتا کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے یا موجد کو ڈسکریڈٹ کرنے سے اس کی ذہنی اپت و صلاحیت کا کچھ نہیں بگڑتا کہ یہ 'ایجاد' خود اپنے آپ کو منوالیتی ہے وغیرہ وغیرہ
    لیکن افسوس اس طرح کی بیسیوں افسانوی 'ایجادات' متھ بسٹر پر بسٹ ہو چکی ہیں۔ مملکت خداداد میں اگر اس قسم کی فسانہ شکنی پر ایک مستقل پراگرام جاری رکھا جاے تو شائد کہیں زیادہ کامیاب ہو۔

    غالبا ڈاکٹر عطا الرحمن ،آغا قادر صاحب کا برقی پتا ڈھونڈ رہے ہیں کہ انہیں پیر رویو 'نظر ثانی' اور سائنٹفک ریپرڈیسبلٹی 'قابلیت تکثیر' پر کچھ بنیادی مواد بھیچیں اس سے پہلے کہ محترم اغا صاحب انٹرنیٹ کو دریافت یا ایجاد کر ڈالیں۔

    ReplyDelete
  4. ایک تصیح کر لیجئے اس بندے کا نام آغا قادر نہیں بلکہ آغا وقار ہے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. شکریہ بلال م، تصحیح کر دی گئ ہے۔

      Delete
  5. یہ مقابلہ ہے سب سے بڑا جاہل کون کا۔
    یہ جاہل فراڈیا تو کل غائب ہوجائے گا۔ یہ باقی نام نہاد سائنسدانوں نے جو منہ کالا کیا ہے ان کا احتساب کون کرے گا ؟

    ReplyDelete
  6. brilliantly sorted out such random information about this controversy thanks for doing this effort

    ReplyDelete
  7. عبدالقدیر خان اور اس فراڈیے کی بغل میں بیٹھے شوکت نامی سائنسدان کی جہالت دیکھ کر اب تک ششدر ہوں۔
    خدا نے بھی روئے زمین پر کیسے کیسے مناظر دکھانے ہیں۔

    ReplyDelete
  8. یہ آغا وفار کہاں ملے گا میں نے اس کا منہ چڑھانا ہے:)

    ReplyDelete
  9. its quite unfortunate for Pakistan that if somebody is trying something new he or she always be blamed as "FRAUD " , "doo Number" , "Jaali "," Paisay Khanay ka chakker hai " etc etc.. If Agha Waqar was in Canada or in Europe he might not get as much fame by media as he got in Pakistan but he was also not Mock by so many Stupids at a time as as he is now in Pakistan!
    Why dont this Ataa urehamn sort of Arrogant understand that SCIENCE is the name of Observation & Experiment ..it could be successful or a total Failure !! what's the big deal ?? why you all Pakistanis are trying hard to Discourage this man ?? who will ever try to show his or her Thesis or experiment to Arrogant like Hoodboy or atta urehman ????

    ReplyDelete
    Replies
    1. Fayez Shakil AhmedAugust 7, 2012 at 6:51 PM

      جنابِ عالی،
      مسئلہ یہ ہے کہ آغا صاحب کا دعویٰ سائینس کی کسی نئی یا انوکھی جہت کا نمائندہ نہیں کہ اہلِ علم کو اس کی صداقت پرکھنے کے لیئے غور و فکر کی ضرورت ہو۔ اس کے برعکس اس صورتِ حال میں عمومی شہرت یافتہ سائینسدانوں کا مثبت یا محتاط رویہ ان کی قابلیت پر سنگین شبہات ابھارتا ہے۔ درحقیقت آغا صاحب نے اپنی ایجاد کی جو تفصیل مختلف پروگراموں میں بیان کی ہے، اس کی حیثیت ایسی ہے کہ کوئی شخص کسی حلوائی کے سامنے دعویٰ کر بیٹھے کہ اس نے بالکل حلوائی کی دکان جیسا حلوہ تیار کیا ہے، البتہ شکر کی جگہ نمک کا استعمال کیا ہے۔ نیز اس پر بھی مصِر ہو کہ مٹھاس محض نمک سے پیدا کی گئی ہے، اور کوئی شے نہیں ملائی گئی۔ کیا انسانی مشاہدہ کسی طور پر بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اس دعوے کو دروغِ محض کے سوا کچھ سمجھا جائے؟ مثال سادہ سی ہے، پھر بھی یہ اجمال رکھا جائے کہ بالفرض کوئی شخص مٹھاس کے محرکات سے ناواقف ہو، پر ایک ماہر اسے صریح جھوٹ قرار دئیے بغیر نہیں رہ سکتاٗ۔

      آغا صاحب نے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں کہی جو سائینسدانوں کے لئے اجنبی ہو۔ جن اعمال کا ذکر وہ بارہا کرتے نظر آتےہیں، مثلاً
      Electrolysis, Pulse-Width modulation of DC current, hydrogen combustion, etc.
      کیمیادان، ماہرِ طبعیات، انجینئر حضرات ان تمام کے اصول و نتائج سے بخوبی واقف ہیں، بالکل اسی طرح جیسے حلوائی حلوے اور شکر سے واقف ہو۔ انہیں بعینہی اسی تناظرمیں ، یعنی ہائڈروجن پروڈکشن برائے انجن کے لئے غیر موثر قرار دیا جا چکا ہے۔ ہر تجربے میں ناکامی کی وجہ وہی دو قوانینِ حرحرکیات یعنی فرسٹ اور سکنڈ لاز آف تھرموڈائنیمکس بنے جن کی بنا پر عطاارحمان اور ھودبھائی صاحبان نے سنتے ہی اس واٹر کٹ کو رد کر دیا، جبکہ آغا صاحب نے بہ یک گستاخیِ سخن ان قوانین کا ہی انکار کر دیا۔ خاکسار کی عرض ہے کہ غیرجزباتی فکر کا حامل کوئی عام شخص یعنی جو سائینس کے اصول وضوابط اور ظرزِ فکر سے واقف نہ ہو، اس کے سامنے ایک طرف یہ حقیقت رکھی جائے کہ صدیوں پر محیط شواہد و تجربات نے کائنات کے ہر عمل کو ان قوانین کا طابع ثابت کیا، اور سائینسدان سر توڑ کوشش کے باوجود ان کے خلاف کوئی ایک عمل بھی نہ پیش کر سکے، جبکہ آغا صاحب جو نہ تو اپنے عمل کی باریکیوں کی وضاحت کے قابل ہیں، نہ ہی طبعیات کے مروجہ و نسخ شدہ اصولوں کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں، وہ از آدم تا ایں دم انسانی مشاہدے کی یکسر نفی کا اعلان کرتے ہیں، توعام آدمی کے خیال میں کس کی رائے قابلِ غور ہوگی؟ ایسے میں اگر اس قضیے کوذرائع ابلاغ پر شہرت بخش دی جائے، بجائے اس کے کہ پہلے اس دعوے کی تحقیق و تصدیق کی جائے اور چند گھنٹے گاڑی چلا کر ایمان لے آنے کی جگہ اسے انجن، فیول سورسز بالخصوص ہائڈروجن جنریشن کے ماہرین کو دکھایا جائے تو عطا ارحمان صاحب کا غصہ بجا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ آغا صاحب نہ صرف طبعیات، کیمیا اور الکٹرونکس سے نابلد ہیں بلکہ انجن، بیٹری اور انجن کے عوامل میں بیٹری کے کردار کا بھی انہیں کچھ علم نہیں۔

      آخر میں عنیقہ صاحبہ کے جامع و مفصل بیان میں انجن کے نقطہِ نظر سے کچھ اضافہ کرتا چلوں کہ اگر انجن کو کہیں سے ہائڈروجن مہیا ہو جائے، تب بھی اس کی اگنشن ٹائمنگ تبدیل کیا جانا ضروری ہے ورنہ انجن کی کارکردگی کم رہے گی اور وہ جلد وہ خراب بھی ہو جائے گاٗ۔ مزید یہ کہ عام خیال ہے کہ ہائڈروجن چونکہ راکٹ وغیرہ میں بطور ایندھن مستعمل ہے، سو پٹرول یا سی این جی سے بہتر ہو گی۔ یہ محض مغالطہ ہے، گیس کی حالت میں ہائڈروجن دیگر ایندھن کے مقابلے میں بہت کم حرارت خارج کرتی ہے۔ ٰ
      http://en.citizendium.org/wiki/Heat_of_combustion

      راکٹ میں ہائڈروجن گیس نہیں بلکہ لکوئڈ حالت میں استعمال کی جاتی ہے، اور یہ عام گاڑیوں میں ممکن نہیں۔

      Delete
    2. مزید معلومات فراہم کرنے کا شکریہ۔

      Delete
  10. سائینس میں کچھ چیزیں طے ہو گئی ہیں اور انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ نئے مشاہدات کو نہ صرف ان اصولوں کے تابعہ ہونا ہوتا ہے اور اگر یہ بظاہر نہ نظر آئیں تو انکی وجوہات معلوم کئے بغیر انہیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور یہ سائینسی نہیں کہلائے جا سکتے۔
    ان صاحب کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ایجاد کی صداقت کسی بھی سائینسداں سے لینے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ خود نہیں جانتے کہ یہ سب کچھ ہوا کیسے ہے اس پہ طرہ یہ کہ وہ اس علم کے ماہرین کو بھی خاطر میں نہیں لائے۔ اب انکے پاس اپنی پروڈکٹ کی مارکیٹنگ کا ذریعہ کیا ہے۔
    آپ نے پوچھا کون لوگ انہیں اپنا تھیسی دکھانا چاہے گا؟ عطاالرحمن صاحب کے زیر نگرانی ایک بڑی تعداد نہ صرف ڈاکٹریٹ کر چکی ہے بلکہ شاید وہ اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ پی ایچ ڈی کروانے والے بین الاقوامی سطح کے تحقیق داں ہونگے۔ لوگ انکا اسٹوڈنٹ بننے کو اپنی خوش قسمتی جانتے ہیں۔ اب کیا کریں؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. عنیقہ جی ! آغا صاحب کا لطیفہ اپنی جگہ مگر شکیل احمد صاحب کے تفصیلی جواب اور پھر آپ کے شکریئے والے ضواب کے بعد والے تبصرے سے ایک اور ہی مزیدار حقیقت سامنے آئی ہے کہ جیسے سائینس میں کچھ چیزیں طے ہو گئی ہیں اور انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ نئے مشاہدات کو نہ صرف ان اصولوں کے تابعہ ہونا ہوتا ہے اور اگر یہ بظاہر نہ نظر آئیں تو انکی وجوہات معلوم کئے بغیر انہیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا اور یہ سائینسی نہیں کہلائے جا سکتے۔

      بلکل یہی جواب آپ اور مکی جیسے تمام لوگوں پر صد فی صد اور حرف بحرف لاگو ہوتا ہے کہ جب آپ مذہب کی/پر تحقیق کرنے کا بیڑا اٹھاتے ہیں اور آخیر میں آغا صاحب جیسا ہی کوئی اور لطیفہ لے کر حاضر ہوجاتے ہیں۔ اور پھر شکایت یہ رہتی ہے کہ لوگ تنگ نظر ہیں اور اندھی تقلید کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔

      خیر ابھی حال ہی میں مودودی صاحب کا ایک خالصتا عقلی ، جی ہاں مذہبی نہیں بلکہ بلکل عقلی مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے آپ بھی وقت نکال کر پڑھیئے انشاءاللہ نفع ہی ہوگا :
      http://www.scribd.com/doc/84305212/%D8%B9%D9%82%D9%84-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%81

      Delete
    2. پہ؛لے آپکا شکریہ کہ آپ نے یہ تبصرہ کیا۔ کیونکہ یہ جواب لکھتے وقت میں سوچ رہی تھی کہ کیا کوئ اسے مذہبی نظریات سے ملائے گا؟
      اب آتے ہیں آپکے اعتراض کی طرف۔ کیا آپ نے طے کر لیا ہے کہ مذہب سائینس ے ہا یا مذہب سائینس نہیں ہے۔ کیا مذہب کے اس طرح بخئیے ادھیڑے جا سکتے ہیں جس طرح سائینس کے ادھیڑے جاتے ہیں۔ کیا آپ نے یہ طے کر لیا ہے کہ سائینس انسانی علم ہے اور مذہب دراصل خدا کا علم ہے؟
      کم از کم میں مذہب پہ تحقیق نہیں اسکی عملی شکل پہ بات کرتی ہوں۔ یعنی جب ایک کتاب سے کچھ احکامات مجھے خدا کے احکام بتا کر پڑھائے جاتے ہیں تو میں لازماً سوال کرتی ہوں کہ میرا مجوزہ خدا جو علم میں کسی انسان کا محتاج نہیں آخر اپنے وجود کے لئے مجھے دوسرے انسانوں کا پابند کیوں بنانا چاہتا ہے؟ کیا وہ خدا نیوٹن جیسے جیسے انسان سے کم تر ہے کہ اوہ فزکس کی ایک بات سینکڑوں سال پہلے بتائے۔ میں ایک کتاب میں پڑھوں اور مجھ ایسے کیمسٹ کو ایک روشن دن کی طرح سمجھ میں آجائے۔ لیکن وہ علیم اور خبیر ہونے کے باوجود اپنے بیان میں اتنا کمزور کہ میں اسکی بات مودودی صاحب سے سمجھوں۔
      آپ آغا وقار کی بات کو ایک لطیفہ کہہ سکنے کی جرائت کر سکتے ہیں میں علماء کی کسی بات کو لطیفہ نہیں کہہ سکتی۔ ایسا کیوں ہے جناب؟

      Delete
    3. چلئیے آپکا دیا ہوا لنک پڑھ لیا۔ مودودی صاحب کے زمانے میں وائ فاء نہیں تھا اور نہ ہی وائر لیس کنکشن۔ لوگوں نے اس مثال پہ واہ واہ کی ہوگی لینک دو ہزار بارہ میں جب میرے گھر میں وائ فائ کام کر رہا ہے کیا مجھے اس مثال پہ حیران ہونا چاہئیے۔
      اب جب کہ ہم جانتے ہیں کہ ریڈیو لہریں کیسے کام کرتی ہیں کیسے ان دیکھی شعاعیں ہمارے جسم کا ایکسرے تصویر بناتی ہیں۔ یہی نہیں الفا بیٹا اور گیما نامی شعاعیں کس طرح ہمیں چشم زدن میں ختم کر سکتی ہیں تو یہ بات جان لینی چاہئیے کہ سائینس مشاہدے کا مخصوص حالات میں بار بار ہونے کا عمل ہے۔
      عقل کی رو سے اگر دیکھا جائے تو انبیاء اکرام کی بات پہ انسان کیوں اعتبار کرے۔ وہ بھی تو ہماری طرح انسان تھے۔ اور ایسا کوئ طریقہ موجود نہیں کہ مشاہدے کو بار بار دوہرا کر اس امر کی تحقیق کی جا سکے کہ وہ تمام لوگ جن کا نبی ہونے کا دعوی رہا۔ واقعی خدا سے پیغام وصول کرتے تھے۔
      ایک بات طے کر لینی چاہئیے اور وہ یہ کہ سائینس اور مذہب دو علیحدہ سمتوں کی چیزیں ہیں۔ دوسری اہم بات تصور خدا کو درست کرنے کی ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا انسان نہیں ہے تو ہم کیوں اسے انسانی حسوں کے اندر موجود چیزوں سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ایسا کرنے میں ناکام رہیں گے چاہے وہ مودودی جیسے اعلی پائے کے عالم ہی کیوں نہ ہوں۔
      ہر ذی ہوش شخص کو انسان کے علم سائینس کو خدا کے اٹل علم کے ساتھ ملانے سے گریز کرنا چاہئیے کیونکہ پھر اس دنیا کی جیت ہوگی جو حواسوں اور مشاہدوں کی دنیا ہے۔ خدا نے خود آپکو اس میدان میں تنہا چھوڑا ہوا ہے۔ کیا وہ صحیح نہیں کلہتا کہ اللہ الصمد۔ اللہ بے نیاز ہے۔

      Delete
  11. دیکھیئے محترمہ ، میں نے تو صرف اتنا ہی کہنا چاہا تھا کہ جس طرح آغا جی کا دعویٰ سائنس کے مسلمہ اصولوں کے سامنے کسی لطیفے سے کم نہیں ہے، بلکل اسی طرح آپ اور مکی جیسے افراد کے مذہب کے متعلق آئے دن کے اوٹ پٹانگ دعوے بھی لطائف سے ذیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔

    مگر آپ نے بات کو بڑھا دیا ہے، خیر، ایک ایک کرکے آپ کے تمام اعتراضات کے جوابات دینے کی کوشش کرتا ہوں، متفق ہونا یا نا ہونا آپ کے اوپر منحصر ہے، میں تو اتمام حجت کردوں گا۔

    01. کیا آپ نے طے کر لیا ہے کہ مذہب سائینس ہے یا مذہب سائینس نہیں ہے۔ (مذہب سائنس نہیں ہے، بلکہ سائنس سے بڑھ کر ہے، کیونکہ سائنس محض ایک علم ہے جبکہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔)

    02. کیا مذہب کے اس طرح بخئیے ادھیڑے جا سکتے ہیں جس طرح سائینس کے ادھیڑے جاتے ہیں۔ (مذہب کو مزید سمجھنے کے لیئے اس پر تحقیق کی جاسکتی ہے۔ مگر اسکے لیئے بھی متعلقہ قابلیت و اہلیت درکار ہوتی ہے جس کے لیئے کسی بھی اچھے عالم دین سے کسب علم کرنا ہوتا ہے۔)

    03. کیا آپ نے یہ طے کر لیا ہے کہ سائینس انسانی علم ہے اور مذہب دراصل خدا کا علم ہے؟ (اس میں طے کرنے والی کیا بات ہے؟ یہی حقیقت ہے، بلکہ سائنس کے دروازے دین اسلام نے ہی کھولے ہیں، اگر قرآن ہم کو کائنات میں غور کرنے کی تاکید نہیں کرتا تو کسطرح لوگ سیاروں و ستاروں کی پوجا چھوڑ کر ان پر تحقیق کرتے؟ ویسے یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ جن کاموں کی بنیاد ہمارے آباء و اجداد نے ڈالی تھی آج دوسرے لوگ ان راہوں کے راہی ہیں۔)

    04.میرا مجوزہ خدا جو علم میں کسی انسان کا محتاج نہیں آخر اپنے وجود کے لئے مجھے دوسرے انسانوں کا پابند کیوں بنانا چاہتا ہے؟ (بے بنیاد الزام تراشی ہے، درحقیقت صرف دین اسلام ہی جوکہ انسان کو دوسرے انسانوں کی غلامی سے آزاد کرتا ہے، دین اسلام ہم کو کاروبار زندگی چلانے کے کچھ اصول و ضوابط دیتا ہے جن کی مدد سے یہ بات یقینی بنائی جاتی ہے کہ کسی بھی انسان تو کجا کسی جانور کی بھی حق تلفی نا ہو۔ اب اگر آج کے مسلمان اسلام کو اسکی حقیقی شکل میں اپنے معاشروں میں نافذ کرنے میں ناکام ہیں تو اسکا نزلہ دین اسلام پر گرانا کم عقلی ہیں ہے کیا؟)

    05. کیا وہ خدا نیوٹن جیسے جیسے انسان سے کم تر ہے کہ وہ فزکس کی ایک بات سینکڑوں سال پہلے بتائے۔ میں ایک کتاب میں پڑھوں اور مجھ ایسے کیمسٹ کو ایک روشن دن کی طرح سمجھ میں آجائے۔ لیکن وہ علیم اور خبیر ہونے کے باوجود اپنے بیان میں اتنا کمزور کہ میں اسکی بات مودودی صاحب سے سمجھوں۔ (کیا آپ کسی کمپیوٹر سے کمتر ہیں؟ کہنے کا مطلب ہے کہ خالق کبھی بھی اپنی مخلوق سے کمتر ہیں ہوسکتا ہے، اور یہ میرا ایمان ہے کہ نیوٹن کا خالق اس سے ہر لحاظ سے برتر ہے، آپ اس بات کو کیوں نظر انداز کررہی ہیں کہ آپ نے نیوٹن کی بات سمجھنے کے لیئے پہلے سائنس کا اتنا بنیادی علم حاصل کرلیا تھا کہ پھر آپ کو اسکی بات ایک روشن دن کی طرح سمجھ میں آرہی ہے، اگر آپ نے پہلے سے سائنس کا اتنا علم حاصل نہیں کیا ہوتا تو پھر آپ کبھی بھی اس قابل نہیں ہوتیں کی نیوٹن تو کیا ، آغا جی کی بات بھی سمجھ سکتیں! بحرحال رب کی بات اگر آپ کی سمجھ شریف میں نہیں آرہی ہے تو اس سے اسکے علیم اور خبیر ہونے والی صفت پر کیا کمی آرہی ہے؟ یہ تو ایسی بات ہوگئی کہ اس غیر زبان کا سائنس دان اپنی بڑی اعلٰی پائے کی تحقیق آپ کو بتارہا ہو اور اسکی زبان نا سمجھ سکنے کے بنا پر آپ اسکی قابلیت پر شک کریں! بات سیدھی اور سامنے کی ہے کہ رب نے چاہا کہ اپنی کتاب عربی زبان میں نازل کرے، اب اگر آپ اسکی کتاب کو خود سے برائے راست پڑھنا اور سمجھنا چاہتی ہیں تو پھر آپ کو قرآن کی زبان سمجھنی ہوگی، نہیں تو مودودی یا کسی بھی بھی عالم دین سے ہی رب کی منشاء کو سمجھنا پڑے گا، اب اگر یہ سوال ہو کہ قرآن عربی میں کیوں نازل کیا ؟ آپ کی زبان میں کیوں نازل نہیں کیا یا پھر آپ کو عرب قومیت میں کیوں نا پیدا کیا یا پھر سب ہی انسانوں کی ایک ہی زبان کیوں نا مقرر کی وغیرہ وغیرہ تو میرے خیال سے یہ فضول اور بیکار کے سوالات ہوں گے ، کیونکہ دین کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہماری زمہ داری و مجبوری ہے ناکہ رب کی، سو اس نے جیسے چاہا ہم کو اپنے دین کا علم دیا، اب یہ ہماری زمہ داری ہے کہ ہم اسکو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا اہتمام کریں نا کہ فضول سوالات کی طومار کرکے دین پر عمل نا کرنے کا جواز تلاشیں !)

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپکی اس تمام حجت میں مجھے ایک بات جو دلچسپ لگی وہ قرآن کا عربی زبان میں ہونا ہے۔ آپ نے اسے فضول سوال قرار دیا۔ حالانکہ خدا جب اپنے بیان کو مخلوق کے لئے عام قرار دیتا ہے تو اسکا مطلب ہم یہ نکالتے ہیں کہ وہ زندگی کی آسان ترین تشریحات پہ بات کرنا چاہتا ہے اور اسے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کسی کی زبان کیا ہے۔
      اسکی مثال نیوٹن اور آئینسٹائین سے سمجھتے ہیں نیوٹن نے ایک سادہ سی حقیقت بیان کی کہ زمین ایک کشش رکھتی ہے جسکی وجہ سے تمام اشیاء ایک حد میں رہ کر زمین کی طرف گرتی ہیں۔ اسکا مشاہدہ میں ہی نہیں ہر عام شخص کرتا ہے اور وہ بغیر سائینس پڑھے اسکی تصدیق کر سکتا ہے اور چاہے تو اسکی باریکیوں میں جانے کے لئے مزید علم حاصل کرے۔
      آئینسٹائین کے بیان میں ہم دیکھیں کہ وقت ایک سمت رکھتا ہے اور جب ہم کسی ایک سمت میں سفر کرتے ہیں تو اسکا ماضی بھی ہوتا ہے اور مستقبل بھی۔ وقت گھٹ اور بڑھ سکتا ہے اور آئینسٹائین اسکی مثال ایک خوبصورت لڑکی کی سنگت اور جلتے توے پہ پاءوں رکھنے کے احساسات سے بیان کرتا ہے میں فزکس نہیں جانتی لیکن میں اسکی بات سمجھتی ہوں۔ حالانکہ ان دونوں کی زبان مجھے سمجھ نہیں آتی۔
      ادھر خدا ان دونوں کے مقابلے میں اتنا کمزور لگتا ہے کہ میں اسکی بات نہیں سمجھ سکتی۔ اسکے لئے مجھے عربی زبان سیکھنے پہ وقت لگانا پڑے گا۔ کیونکہ خدا اتنا پیچیدہ ہے یعنی نظریہ اضافیت سے زیادہ پیچیدہ کہ میں نے اگر عربی زبان سیکھے بغیر اسے سمجھا تو زیادہ امکان یہہی ہے کہ میں اسے سمجھ نہیں پاءونگی۔ اس لئے خدا کے احکامات مجھے ایک اور انسان سے سمجھنے پڑیں گے۔ خوب۔ وہ ایک اور انسان جس بات کو چاہے جس طرح بیان کرے وہ چاہے تو ہمارے خدا کی باتوں کو یہودیوں کی روائیتوں سے سمجھائیں یا عیسائیوں کے حوالوں سے۔ ہمیں اسکا یقین کرنا چاہئیے کیونکہ وہ عربی زبان جانتے ہیں۔ ماشاء اللہ یعنی خدا نے اپنے وجود کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے مودودی صاحب کا محتاج نکلا۔
      پھر اسلام کو دین فطرت کیوں بنا دیا گیا ہے۔ انسانی فطرت تو نیوٹن کی زبان سمیکھے بغیر اسکی بات سمجھ رہی ہے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
      مذہب اگر ایک علم ہے تو لازمی طور پہ اسے کچھ علماء تک محدود ہونا پڑے گا اور مذہب اگر ایک فطری حقیقت ہے تو اسے ہر ایک سمجھ سکتا ہے اپنی زبان میں۔ مثلاً پانی پینا اور کھانا کھانا ایک علم نہیں ہیں۔ یہ دونوں عوامل انسان سیکھے بغیر جانتا ہے کیونکہ یہ فطرت ہے۔ جنس ایک علم نہیں ے، فطرت ہے، خوف ایک علم نہیں فطرت ہے۔
      سائینس ایک علم نہیں فطرت ہے یہ آپکے دین کا کہنا ہے۔
      دین جن معنوں میں لیا جاتا ہے وہ انسان اور معاشرے سے تعلق رکھتا ہے۔ جبکہ سائینس ایک علم ہے یہ معاشرے سے اور انسان سے تعلق رکھ سکتی ہے اور نہیں بھی رکھ سکتی۔ اس طرح دیکھنے میں تو سائینس کا دامن زیادہ وسیع لگتا ہے۔
      دین کے بخئِے ادھیڑے نہیں جا سکتے۔ درحقیقت دین کی ابتداء ہی اس بات سے ہوتی ہے کہ غیب پہ ایمان لانا۔ اپنے آپکو دین کے تابع کر دینا اور اس پہ کوئ دلیل نہ لانا۔ مسلمان کا مطلب جس نے خدا کے آگے ہتھیار ڈال دئے۔ اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ بخئیے ادھیڑے جا سکتے ہیں۔ بس یہ کہ جو سوالات اٹھتے ہیں انکے بہلانے کو عالم دین سے رجوع کیا جائے کیونکہ وہ دل بہلانے کے گروں سے واقف ہوتے ہیں۔ دلیل وہ بھی نہیں دیتے۔
      آپکی تاریخ بہت کمزور ہے سائینس کی تاریخ بہت پرانی ہے اس پہ تو ارسطو، فیثا غورث اور خدا جانے کن کن عالموں اور سائینسدانوں نے تحقیقات کیں۔ جب سائینس پڑھانی شروع کی جاتی ہے تو سب سے پہلے ارسطو کا نام لیا جاتا ہے۔در حقیقت سائینس کم از کم پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ یہ الگ بات کہ پچھلے پانچ سوسالوں میں اس پہ خاصی تیزی سے کام ہوا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ صفر، کی ایجاد برصغیر میں ہوئ اور اسکا زمانہ اسلام سے بھی خاصے پہلے کا بتایا جاتا ہے۔
      جب ہمیں اسلام کی بنیاد کو سمجھنے کے لئے علماء کی طرف دیکھنا پڑتا ہے انکی کہی ہوئ ہر صحیح اور غلط بات کو من و عن تسلیم کرنا پڑتا ہے چاہے ہم عام زندگی میں ان سے کہیں بہتر اور عملی سوچ رکھتے ہوں تو یہ غلامی کے علاوہ کیا ہے۔ خدا کے نام پہا نسانوں کی غلامی۔

      Delete
  12. آپ آغا وقار کی بات کو ایک لطیفہ کہہ سکنے کی جرائت کر سکتے ہیں میں علماء کی کسی بات کو لطیفہ نہیں کہہ سکتی۔ ایسا کیوں ہے جناب؟ (بھلا یہ کس نے کہا کہ آپ علماء کی بات کو لطیفہ نہیں کہ سکتیں ہیں، علماء سے زیادہ قابلیت پیدا کیجیئے اور پھر انکے لطائف کی دھجیاں بکھیرئیے، مگر اس سے پہلے اگر ایسا کریں گی تو وہی حال ہوگا جوکہ آغا صاحب کا ہورہا ہے!)

    مودودی صاحب کے زمانے ۔ ۔ ۔ ۔ سائینس مشاہدے کا مخصوص حالات میں بار بار ہونے کا عمل ہے۔ عقل کی رو سے اگر دیکھا جائے تو انبیاء اکرام کی بات پہ انسان کیوں اعتبار کرے۔ وہ بھی تو ہماری طرح انسان تھے۔ اور ایسا کوئ طریقہ موجود نہیں کہ مشاہدے کو بار بار دوہرا کر اس امر کی تحقیق کی جا سکے کہ وہ تمام لوگ جن کا نبی ہونے کا دعوی رہا۔ واقعی خدا سے پیغام وصول کرتے تھے (ادھر آپ نے مودودی کی بات کو مکمل طور سے سمجھے بغیر ہی اسکا رد کرنے کی ناکام کوشش کی ہے، میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ذرا پھر سے مودودی صاحب کی دی گئی مثال کو کھلے دل و دماغ سے پڑھیئے انشاءاللہ آپ کے اس اعتراض کا جواب آپ کو خودبخود ہی مل جائے گا۔)


    سائینس اور مذہب دو علیحدہ سمتوں کی چیزیں ہیں۔ (سائنس مذہب کی دین ہے۔ تو انکی سمتیں الگ کیسے ہوئی؟ مذہب سائنس نہیں ہے مگر سائنس مذہب کے تابع ہے، اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ دین میں داڑھی ہے، مگر داڑھی میں دین نہیں ہے!)

    دوسری اہم بات تصور خدا کو درست کرنے کی ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا انسان نہیں ہے تو ہم کیوں اسے انسانی حسوں کے اندر موجود چیزوں سے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ (یہ اتنی بچکانہ بات ہے کہ جسکی توقع مجھے آپ سے نہیں تھی، خیر مزید مباحثہ سے پہلے ذرا اپنی بات کی دلیل میں مجھ کو یہ تو بتلادیجیئے اگر انسان اپنی حسوں سے نہیں تو پھر کس چیز سے کسی بھی شے کی موجودگی کا ادراک کرتا ہے؟ اب ایسی بات نا کہہ دیجیئے گا کہ :
    عرش خدا کا ہم اقرار کریں تو کیسے؟
    جغرافیہ میں اسکا نقشہ نہیں ملتا !)

    انسان کے علم سائینس کو خدا کے اٹل علم کے ساتھ ملانے سے گریز کرنا چاہئیے کیونکہ پھر اس دنیا کی جیت ہوگی جو حواسوں اور مشاہدوں کی دنیا ہے۔(اوپر جواب دے آیا ہوں۔)

    خدا نے خود آپکو اس میدان میں تنہا چھوڑا ہوا ہے۔ (پھر ایک اور بے بنیاد الزام، اللہ نے مجھ آپ سمیت کسی کو تنہا نہیں چھوڑا ہوا ہے، ورنہ سوا لاکھ انبیاء کیوں نازل کیئے؟)

    کیا وہ صحیح نہیں کہتا کہ اللہ الصمد۔ - اللہ بے نیاز ہے (بلا شک و شبہ وہ درست کہتا ہے، مگر اسکے اس دعویٰ کا ہماری موجودہ بحث سے صرف اتنا سا تعلق بنتا ہے کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم اسکی سن کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس سمیت اسکے احکامات کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔)

    امید ہے کہ تمام نکات کی وضاحت ہوچکی ہوگی۔
    وسلام

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپ نے شیاد میری جناتی مسائل والی تحریر نہیں پڑھی۔ مجھے تو علماء کا موقف اس میں ایک لطیفے سے کم نہیں لگتا۔ یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں میری باتیں لطیفہ ہونگیں۔
      انسانی حسوں سے جو خدا بر آمد ہوتا ہے وہ انسانوں کی طرح کسی زبان کا پابند ہوتا ہے یعنی بیشتر لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا کی زبان عربی ہے۔ یہ ایک لطیفے سے کم نہیں۔ اسی طرح خدا انسانوں کی طر ناراض ہوتا ہے، روٹھتا ہے اور منتا ہے۔ یہی نہیں خدا انسانوں کی طرح ناپ تول بھی کرتا ہے۔ بحیثیئت ایک سائینس کا طالب علم میں سمجھتی ہوں جو خدا انسان کے پانچ حواسوں میں بند ہو جائے وہ خدا نہیں باس ہوگا۔
      سوا لاکھ انبیاء نازل کرنے کے باوجود آپ خدا کی ماہیئت نہیں سمجھ سکے۔ اس میں قصور کس کا؟
      آپ نے کسی نکتے کی وضاحت نہیں کی بلکہ ادھر ادھر کے عالموں کی جو باتیں آپکو سمجھ میں آتی ہیں وہ بیان کی ہیں۔ آپکے خیال میں یہ باتیں میں نے پہلے نہیں پڑھی ہونگیں؟

      Delete
    2. اگر میری باتیں آغآ وقار کی طرح لطیفہ ہوتیں تو آپ انہیں ایک دو بار کے بعد نظر انداز کر دیتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میری باتوں میں کہیں نہ کہیں زور ہے، زندگی ہے اور آپ چاہتے ہیں کہ یہ زندگی اور زور کسی طرح ختم ہوجائے۔

      Delete
    3. ہائے رے خوش فہمی کہ "میری باتوں میں کہیں نہ کہیں زور ہے، زندگی ہے" اور افسوس کی اتنی بدگمانی "اور آپ چاہتے ہیں کہ یہ زندگی اور زور کسی طرح ختم ہوجائے"؛ محترمہ ایسی کوئی بات نہیں ہے سوائے اسکے کہ مجھ کو شک ہے کہ مذہب کے حوالے سے آپ کچھ کنفیوژن کا شکار ہیں جبکہ اللہ نے آپ کو صاحب قلم بنایا ہے اور اس حوالے سے کافی سارے لوگ آپ کو پڑھتے ہیں سو کہیں ایسا نا ہوکہ آپ کا مرض آگے منتقل ہوجائے، اسی لیئے کبھی کبھار اپنے محدود علم کے ساتھ آپ کو سمجھانے کی اپنی سی کوشش کرتا ہوں مگر اکثر ہم ذاتیات پر آکر مباحثہ چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ اسکی سادی سی وجہ یہ ہے کہ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں جبکہ آپ سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے جھگڑتی ہیں، بحرحال میں پھر بھی مطمئن رہتا ہوں کہ جس بات کو حق سمجھتا تھا آپ تک پہنچادی اب یہ آپ کے سمجھ میں آتی ہے کہ نہیں اس پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے!

      Delete
  13. I read chemistry a long time ago and I forget it now. Can you tell me if we add some catalyst in water then less energy will be required to break it? or just the threshold energy will be decreased rest is still there?
    Initially I thought he might have discovered some new catalyst :P
    anyhow nice post....

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ