Thursday, June 9, 2011

جانور وں کی تفریح

یہ آج کا قصہ نہیں۔ ہمیشہ کا دستور ہے کہ بلاگستان کی دنیا ویسے تو کراچی سے متعلق معمولی خبروں کے حوالے تلاش کرتی ہے اور اس سلسلے میں امّت جیسے  جانبدار صحافت کرنے والے اخبار کے حوالوں سے بھری تحاریر اکثر و بیشتر نمودار ہوتی ہیں ۔ لیکن کل کراچی میں جس طرح رینجرز کے ہاتھوں ایک نوجوان کو دل سوز طریقے مارا گیا اس پہ یہ سارے عناصر خاموش ہیں۔ شاید انہیں علم ہی نہیں کہ کس بربریت کے ساتھ کراچی کے ایک تفریحی پارک میں ایک نوجوان کو جو کہ اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا، موت کی گولی نصیب ہوئ۔
اس جانبداری کی وجہ یہ ہے کہ اس واقعے سے ایم کیو ایم کی مٹی پلید کرنے کا کوئ موقع نہیں بن رہا تھا۔ جبکہ ہماری بلاگی دنیا کی اکثریت اس بڑی جگہ سے تعلق رکھتی ہے جہاں پہ کراچی کی صرف وہ خبر پہنچ پاتی ہے جس کے ساتھ ایم کیو ایم  لگا ہو۔ اسکی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہی عناصر جو متعصب دل و دماغ کے ساتھ تمام انسانی احساسات سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں اس سے ایجنیسیز کا وقار مجروح نہ ہو جائے۔ ان ایجنسیز کا جس میں انکے پیارے بڑی تعداد میں شامل ہونگے۔
نتیجہ یہ ہے کہ اس خبر کو شاید اردو بلاگی دنیا میں  صرف ان لوگوں نے سنا ہوگا جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی اردو اسپیکنگ۔ نسلی تعصب آپ جانتے نہیں کیا ہوتا ہے، تو اب دیکھ لیجئیے۔
ان سب بے چاروں کو انکی حالت پہ چھوڑتے ہوئے، یہ چیز سمجھنے سے کم از کم میں قاصر ہوں کہ اس نہتے نوجوان کو سر عام گولی مارنے کی کیا ضرورت تھی۔ خروٹ آباد، کوئٹہ کے واقعے میں انہوں نے بات بنائ کہ وہ پانچوں چیچنز انہیں شبہ تھا کہ دہشت گرد تھے۔  یہ سوچا جا سکتا ہے کہ وہاں رینجر اہلکار خود کش حملہ آور کے ہونے کے احساس سے خوفزدہ ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنے دفاع میں گولی چلا دی۔ اگرچہ کہ یہ بھی ایک کمزور دلیل ہی ہو سکتی ہے۔ سیکیوریٹی اہل کاروں کی تربیت آخر کس چیز کی ہوتی ہے۔
لیکن کراچی کے ایک بھرے پرے پارک میں ایک تلنگا سا نوجوان چھ سات رینجرز کے اہل کاروں کے درمیان مارا جائے اس طرح مارا جائے کہ وہ ہر ایک سے زندگی کی بھیک مانگ رہا ہو۔ یہ پورا منظر دیکھا نہیں جا سکتا۔ اس نوجوان پہ بھی الزام لگایا گیا  کہ وہ ڈکیتی یا چھیننے جھپٹنے کے واقعے میں ملوث تھا۔ یہ مان لیا جائے کہ وہ چور تھا ڈاکو تھا لیکن وہ رینجرز کے قابو میں آچکا تھا۔ فوٹیج بتاتی ہے کہ وہ نہتا بھی تھا۔ تو رینجرز کے بہادروں کو چھٹانک بھر کے لڑکے پہ یہ مردانگی دکھانے کی کیا ضرورت تھی؟ 
کیا انکی اس نفسیات کے پیچھے وہی نسلی تعصب تھا جو ہماری بلاگی دنیا میں بھی نظر آتا ہے، کیا یہ طاقت کا شو آف تھا یا یہ کہ  تیس سال سے مسلسل حیوانی سطح پہ سفر کرتے کرتے ہمارے اندر اب جینیاتی  میوٹیشن ہو چکی ہے اور دلی تسکین اور تفریح بس انسان کے خون  سے حاصل ہو سکتی  ہے زندہ انسان کے بہتے خون سے۔
میں آدھے درجن جانوروں کے درمیان ایک نوجوان کی ویڈیو دکھانے سے معذور ہوں۔ در حقیقت میں خود بھی دیکھ نہیں پائ۔

Wednesday, June 8, 2011

جن پہ تکیہ تھا

کچھ کتابوں کے کچھ صفحات اسکین کر کے ڈالنے کا ارادہ ہے۔ سوچا کس سے شروع کیا جائے۔ 
ٹی وی پہ آجکل ایک ٹاک شو میری دلچسپی لئے ہوئے ہے۔ یہ ہے سی این بی سی سے نشر ہونے والا پروگرام ایجینڈا تین سو ساٹھ۔ اسکی پہلی خوبی تو مجھے اسکے میزبان لگتے ہیں ۔ دو میزبان، دونوں  نوجوان۔ لیکن جتنی سادگی سے وہ اپنے مہمان کو گرفت میں لاتے ہیں ، وہ مزے کی چیز ہے۔ خاص طور پہ اسکا ایک میزبان عبدالمعید جعفری، اتنے سادہ اور پپو والے انداز میں کسی بھی گرم سوال کو اٹھالیتا ہے کہ شاید مہمان کو توقع بھی نہیں ہوتی۔
ابھی کچھ دنوں پہلے عمران خان اس پروگرام میں موجود تھے۔ معید ، نے اسی سادگی سے  پوچھا۔ یہ ہم مانتے ہیں کہ آپ میں کوئ کرپشن نہیں۔ لیکن الیکشن میں آپکو کسی نہ کسی کو تو ساتھ رکھنا پڑے گا۔ آپ کرپشن نہیں کرتے نہ اسلحہ استعمال کرتے ہیں لیکن کراچی کے دھرنے میں آپ نے سنی تحریک کی حمایت استعمال کی۔ انکی شہرت تو یہ نہیں ہے۔ پھر الیکشن میں یا اسکے بعد آپ کیا کریں گے۔
اس سوال پہ مجھےایک کتاب یاد آگئ۔  اسکا نام ہے مولانا مودودی کی تقاریر۔  جماعت اسلامی نے انیس سو پچاس میں پنجاب میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا۔ جس کے لئے مولانا مودوددی صاحب نے انتھک محنت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں کیا اسٹریٹجی اپنائ ، وہ ان صفحات سے ظاہر ہے۔


 لیکن انتخابات کے بعد ہوا کیا۔ اسکا اندازہ اس صفحے سے لگایا جا سکتا ہے۔

نوٹ؛
تصاویر بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے ان پہ کلک کیجئیے۔

Sunday, June 5, 2011

دروغ دروغ

کہتے ہیں جھوٹ کے پاءوں نہیں ہوتے اس لئے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاتا لیکن کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ ایک سچ اپنے تسمے باندھ ہی رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ ساری دنیا کی سیر کر کے آجاتا ہے۔ اب ایمانداری سے بتائیے آپکو کونسا کنکشن پسند آئے گا۔
جھوٹ بولا ، بنایا یا بَکا ہی نہیں جاتا بلکہ پکڑا بھی جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگ اسے گھر پہنچا کر بڑا خوش ہوتے ہیں اور ہرجگہ سینہ پھلائے پھرتے ہیں کہ جھوٹے کو اسکے گھر تک پہنچایا، جھوٹا نہ ہوا محلے کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو گیا۔
خوبصورت لوگ وہ بھی جنس مخالف کے اگر جھوٹ بولیں تو بالکل برا نہیں لگتا۔ خواتین کے معاملے میں جتنی کم عمر ہوں جھوٹ بولتے ہوئے اتنی حسین لگتی ہیں۔ مشرقی خواتین کو ماچو مردوں کا جھوٹ پسند آتا ہے۔ منمناتے ہوئے جھوٹے سے ڈپارٹمنٹ کے پیچھے والی دوکان سے صرف چھولوں کی پلیٹ منگوائ جا سکتی ہے۔ وہ بھی اسی کے خرچے پہ۔
یوں
بولے تو سہی جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب و لہجہ دل آویز بہت ہے
اس ظالم اور اسکے جھوٹ پہ اردو شاعری میں دیوان کے دیوان لکھے جا چکے ہیں۔ جو لگتا ہے کہ سب کے سب جھوٹ کے پلندے ہونگے۔ لیکن شاعر انہیں نسخہ ہائے وفا کہتے ہیں۔
جھوٹ کے پتلے بھی ہوتے ہیں۔ یہ  صرف جھوٹ سے بنے ہوتے ہیں اور جھوٹ کے پل بناتے رہتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہ بولیں تو پیٹ اپھر جائے۔ انکا نہیں پل بنوانے والوں کا۔ یہ دوسروں کو اتنی آسانی سے جھوٹا بناتے ہیں کہ بننے والے کو اپنے جھوٹا ہونے پہ صداقت کا احساس ہوتا ہے۔ انکا نعرہ ہوتا ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ معلوم ہونے لگے۔ ایسے لوگ اچھے درباری موءرخ ثابت ہوتے ہیں۔ اپنے زمانے میں بڑا نام کماتے ہیں۔ مگر بعد کے زمانے کے موءرخ ان سے دشمنی دکھاتے ہیں۔ اس طرح یہ سراب کی مانند مٹ جاتے ہیں۔ یوں ایک جھوٹا موءرخ دوسرے جھوٹے موءرخ کے حق میں سم قاتل ہوتا ہے۔  اس قتل و غارت گری کے بعد  تاریخ کا مضمون پڑھنے میں آسانی بھی ہوتی ہے اور دشواری بھی۔کیوں اس لئے کہ کس کا یقیں کیجئیے کس کا نہ کیجئیے۔ لائے ہیں اسکی بزم سے یار خبر الگ الگ۔  اس لئے ہم کتابوں کے بجائے سینہ بہ سینہ اور منہ بہ منہ چلی آنے والی تاریخ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ سینہ اور منہ وہ جو ہمارے قبیلے کا ہو۔
حیران کن طور پہ، جھوٹ کے دفتر بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک عمر ہم یہی سمجھتے رہے کہ دفتر میں جھوٹ ہوتا ہے۔ دیکھا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا۔ ایسے موقعوں پہ یقین آتا ہے کہ لا علمی کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ آخر کو ہم اس آگ کے دریا کو آگ کا دریا پڑھتے ہوئے پار کر آئے۔
مگر گھبرائیے نہیں جھوٹ ایکدم خالص نہیں ہوتا زیادہ تر باتیں جھوٹ سچ کے زمرے میں آتی ہیں۔ یعنی تھوڑا سا پگلا تھوڑا سیانا۔ اسی میں عافیت ہے۔
کسی زمانے میں  لوگ باگ عاجز تھے کہ جھوٹا مرے نہ شہر پاک ہو۔ بعد میں نہ معلوم وجوہات کی بناء پہ شہر پاک کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں۔  کچھ لوگوں کو اس روایت سے اختلاف ہے کہتے ہیں کہ شہر نہیں ایک ملک تھا اور ایک نہیں سب ہی جھوٹے تھے۔   اللہ کی باتیں اللہ ہی جانے ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جھوٹے کے آگے سچا روتا ہے۔  جہاں سچا روتا ہوا واپس آتا ہے وہاں جھوٹا ہنستا ہوا نکل جاتا ہے۔
اگر آپ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹے کا منہ کالا اور سچے کا بول بالا تو  اس جھوٹ کی ناءو نہیں چل سکتی۔  اس جھوٹ کی پوٹ اس دن کھلے گی جس دن جھوٹا بات بنا لے گا اور پانی میں آگ لگا لے گا۔ اس لئے کہنے والوں نے اڑائ کہ سچے مر گئے جھوٹوں کو تاپ بھی نہ آئ۔ یہاں مرنے والوں سے میری مراد وہ صحافی سلیم شہزاد نہیں ہے، اور جھوٹے کون ہیں اس بارے میں ، میں اشارتاً بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔ جسکو ہو دین و دل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں۔
ہم اور تیری گلی سے سفر، دروغ دروغ
کہاں  دماغ ہمیں اس قدر، دروغ دروغ


وضاحت؛
اس تحریر کی انسپیریشن فیروز اللغات سے حاصل کی گئ، سچی مچی۔

Saturday, June 4, 2011

او رے گیمی بولے تو اوری گیمی

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی تو یاد ہوگا۔ لیکن کاغذ  ، ہاتھ اور خوشی کا تعلق،  بچپن کی ان کشتیوں  پہ نہیں ختم ہوتا۔  یہ مجھے اس وقت پتہ چلا جب ہمیں ایک جاپانی استاد ملے۔ یہاں وہ پہنچے تو انکی بیگم بھی ہمراہ تھیں۔ یہ  ستّر سالہ خاتون اکیلے یہاں کیا کرتی رہتی ہیں۔ جاپانی تو خدا پہ یقین نہیں رکھتے،  ایسا بھی نہیں کہ تسبیح گھماتے ہوئے آخری وقت کے سہل ہو جانے کا بندو بست کرتی رہتی ہوں۔ ہمارے شہر میں کوئ ڈھنگ کی تفریحی جگہ، میوزیم یا لائبریری کچھ بھی تو نہیں ہے۔ رشتے دار بھی نہیں کہ انکی غیبت کر کے وقت گذاریں، زبان بھی انہیں یہاں کی نہیں آتی کہ نوکروں سے حال احوال معلوم کرتی رہیں۔  آخر یہ کیا کرتی رہتی ہیں۔
کسی نے بتایا  بیشتر اوقات کاغذ کے کھلونے تیار کرتی ہیں۔ جب ایک معقول تعداد میں بن جاتے ہیں تو انہِن جاپان کے کسی اسکول بھجوا دیتی ہیں۔ کس قدر عجیب سنَکی ہوئ قوم ہے۔ کس قدر غیر دلچسپ چیز میں وقت لگاتی ہیں۔ کھلونے وہ بھی کاغذ کے۔
کاغذ کی جاپان میں بڑی اہمیت ہے۔ ہم چند لائینیں لکھ کر کاغذ کو پھینک دینے میں کوئ حرج نہیں سمجھتے۔ ہمارے جاپانی پروفیسر، جب کچھ سمجھانے بیٹھتے تو کاغذ کا سینٹی میٹر بھی نہ بچ پاتا۔ جب تک وہ اچھی طرح بھر نہ جاتا دوسرے صفحے پہ نہیں لکھتے تھے۔
خیر، میں کاغذ کے کھلونوں کے متعلق بتا رہی تھی۔ جاپانی زبان میں اس کے لئے ایک لفظ مخصوص ہے اور وہ ہے اوریگیمی۔ اس مخصوص طریقے میں کاغذ کو اس طرح تہیں دی جاتی ہیں کہ وہ ایک کھلونے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
اگرچہ کہ اسکے آغاز کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کیا جا سکتا کہ کاغذ کو محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور اسکے قدیم نسخے اس وجہ سے دستیاب نہیں۔ اس لئے چین اور یوروپ کا بھی نام لیا جاتا ہے کہ وہاں پہ  یہ ایک ہزار عیسوی کے دوران موجود تھی۔ لیکن ثبوت اس کا موجود ہے کہ اس کا باقاعدہ آغاز جاپان میں سترہویں صدی میں ہوا اور انیسویں صدی میں اسکی شہرت جاپان سے باہر پھیلنا شروع ہوئ۔ ایہارا سائکاکو ایک کی نظم میں کاغذ کی تتلیوں کا تذکرہ ہے یہ سترہویں صدی کا ایک جاپانی شاعر ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً ایک ہزار عیسوی میں میں جاپان میں شادیوں میں کاغذ کو تہہ کر کے تتلیاں بنانے کی روایت موجود تھی۔
اوریگیمی کے لئے جاپان میں مخصوص کاغذ استعمال ہوتا ہے جسے واشی کہتے ہیں۔ یہ مخصوص کاغذ اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ  تہوں کو برداشت کر سکے ۔ یہ ڈھائ سینٹی میٹر سے پچیس سینٹی میٹر تک کے سائز میں ملتے ہیں۔ عام طور پہ ایک سطح سفید اور دوسری رنگدار ہوتی ہے لیکن ڈیزائن والے کاغذ بھی ملتے ہیں۔
روائیتی جاپانی اوریگیمی سے الگ  کاغذ کے علاوہ کسی بھی ایسی چیز کو استعمال کر سکتے ہیں جس کی تہہ بنائ جا سکے اور وہ تہہ قائم رہ سکے۔ مثلاً ایلومینیئم فوائل۔ ایک اور خاص مادہ ملتا ہے جس میں ایلومینیئم فوائل کے اوپر ٹشو کو اچھی طرح چپکا لیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ  ہمم، نوٹوں کا کاغذ بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
اگرچہ کے روائیتی اوریگیمی میں اوزار استعمال کرنے کا تصور نہیں۔ لیکن تہوں کو بہتر بنانے کے لئے اسکیل اور ٹوئزر کی مدد لی جا سکتی ہے۔ ہاتھ کی انگلیاں ناکافی پڑ رہی ہوں تو کلپس کام میں لائے جا سکتے ہیں۔
اوریگیمی سے حرکت کرنے والے کھلونے بنائے جا سکتے ہیں اس طرح کے انکی حرکت کے لئے آپ اپنے ہاتھ کی انگلیاں استعمال کر سکیں۔ جیسے ہاتھ کی پتلیاں ہوتی ہیں۔ اس طرح ایک اڑتا ہوا پرندہ یا کھلتا ہوا پھول بنانا کوئ مشکل کام نہیں۔
سہہ جہتی کھلونے بنانا بھی اوریگیمی میں ممکن ہے، جبکہ تہوں کو بالکل واضح رکھنے کے بجائے نرمی کا تائثر دینے کے لئے کاغذ کو بھگویا جا سکتا ہے۔



معذور بچوں کی دلچسپی کے لئے ایسی اوریگیمی کے طریقے بھی موجود ہیں جن میں کاغذ کی تہہ کو پلٹا نہیں جاتا۔ اس طرح تہہ کے اندر پیچیدگی نہیں پیدا ہو پاتی۔ اور ایک ذہنی طور پہ سست بچے کو بھی یہ کرنا آسان ہوتی ہے۔ اس طرح اوریگیمی ذہنی طور پہ معذور بچوں کے لئے بھی ایک دلچسپ مشغلہ ثابت ہو سکتی ہے۔
بہت سارے حصوں کو الگ الگ  بنا کر کسی چیز کی مدد سے جوڑا جا سکتا ہے اس طرح ایک خاصہ بڑا ماڈل تیار ہو سکتا ہے۔
 اب اتنی تفصیلات کے بعد آپ  کے اندر اگر تھوڑی سی بھی خواہش پیدا ہوئ ہے کچھ بنانے کی تو اس سادہ سے ماڈل سے شروع کریں۔

مزید کے لئے ان لنکس کو دیکھیں 


اور جب مہارت حاصل ہو جائے تو یہ ویڈیو دیکھنا مت بھول جائیے گا۔ اس سے آپکو پتہ چلے گا کہ جاپانی ذہنی اور جسمانی مشقت کے کیوں عادی ہوتے ہیں۔ وہ اس نشے کا شکار قوم ہے۔ جیسے ہم جنگ کے نشے میں چور ہیں وہ محنت کے نشے میں مست ہیں۔ ہماری اکثریت ایکدوسرے کو جعلی نصیحتوں کے علاوہ کوئ مشغلہ پالنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور وہ مشغلے کے طور پہ ایک کاغذ کے پرزے پہ بھی اتنی محنت کر ڈالتے ہیں۔


اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ جسم سے فاسد خون نکالنے کے لئے ایک زمانے میں جونکیں استعمال کی جاتی تھیں۔ دماغ سے فاسد خیالات  دور رکھنے کے لئے اسے کسی تخلیقی کام میں مصروف کر لیں اس سے آپکی تخلیقی صلاحیت کو جِلا ملے گی۔ تخلیقی کام ایسا ہو جسے کر کے آپکو خوشی اوردوسروں کو حیرانی ہو تو کیا بات ہے۔ تحقیق کہتی ہے کہ جو لوگ تخلیقی کاموں میں لگے رہتے ہیں وہ اپنے آپ سے زیادہ باہردیکھنے لگتے ہیں تاکہ انسپیریشن ملنے کا کوئ لمحہ ضائع نہ چلا جائے۔ 
لیکن کچھ لوگ اتنی زیادہ تانکا جھانکی کرتے ہیں کہ باہر سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ سو یہ بھی ممکن ہے کہ کاغذ کی تہیں لگاتے ہوئے آپ کی  اپنی تہیں کھلنے لگ جائیں۔ اور آپ اپنے آپ سے ملاقات کے قابل ہو سکیں۔
اگر آپ استاد ہیں تو کلاس میں  دلچسپی پیدا کرنے کے لئے مددگار اور طالب علم  متائثر الگ ہونگے۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ گرمیوں کی طویل چھٹیوں میں اپنے گھر کے بچوں کو مصروف رکھیں آجکل بہت سے والدین اسکی تلاش میں ہونگے ۔
وہ پوچھتے ہیں آخر گرمیوں کی چھٹیاں اتنی لمبی کیوں ہوتی ہیں؟

Wednesday, June 1, 2011

سرکشی

ایک لفنگا ایک باغ میں گھس گیا۔ دیکھا کہ درخت پھلوں سے لدے ہیں۔ تو ان پہ چڑھ کر کبھی ایک پہ کبھی دوسرے پہ پھل توڑ کر کھاتا رہا۔ پھر بہت سے پھل جمع کر لئے کہ ساتھ لے جائے۔
اتفاق کی بات ہے اس وقت  باغ کا مالک وہاں آگیا۔  اس نے ایک اجنبی کو درخت پر چڑھتے دیکھا تو پوچھا۔ تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو۔ وہ بولا۔ باغ میں آیا تھا دیکھا درختوں پہ پھل لگے ہیں کچھ توڑ کر پیٹ بھرا اور کچھ ساتھ لئے جا رہا ہوں۔ دیدہ دلیری کی انتہا تھی۔ مالک نے کہا اول تو یہ بتاءو کہ تم باغ میں آئے کیسے  اور پھل تم نے کیسے چرائے؟
بولا، باغ تو باغ ہے۔ اس میں آنے کی اجازت کی کیا ضرورت۔ یہ درخت اللہ کا، یہ پھل اللہ نے پیدا کئے، میں بھی اللہ کا بندہ ہوں، مجھے اختیار ہے جو دل چاہے کروں۔ تم کون ہوتے ہو مجھے ٹوکنے والے۔ چوری اور سینہ زوری۔
بعض لوگ سچ بات کو مان کر نہیں دیتے۔ بات کو اس طرح گھما دیتے ہیں کہ جیسا وہ سوچتے ہیں ویسی دلیلیں ہو جائیں۔ انکے پاس اصول، انصاف، ایمانداری کسی بات کی کوئ اہمیت نہیں ہوتی۔ انکے نزدیک انہیں کھلی چھٹی ہے۔
ہاتھ پاءوں کے مضبوط ہونگے تو لڑنے بھڑنے پہ آمادہ یہ نہ ہو سکے تو پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کریں گے۔ بس کسی طرح ہمارا مطلب نکل آئے۔
باغ کا مالک ہکا بکّا اس شخص کے سامنے کھڑا تھا۔ اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے جا رہا تھا۔ آخر باغ کے مالک نے کہا۔ میاں ہوش کے ناخن لو، چوری کا مال یہی چھوڑ کے اپنے گھر جاءو، یہ وہ بڑی رعایت ہے جو میں تمہارے ساتھ کر سکتا ہوں۔
چور میاں اکڑ گئے بولے۔ یہ اللہ کا مال ہے اور اسکا کوئ بندہ بھی کھا سکتا ہے۔ یہ سن کر باغ کے مالک سے رہا نہ گیا۔ اپنے آدمیوں کو آواز دی۔ ایک رسی منگوائ اور چور کو درخت سے باندھ دیا۔ جب وہ بندھ گیا تو ایک ڈنڈا منگوایا اور خوب ڈنڈے اسکے اوپر پڑے۔ اب جو مار پڑی تو چور صاحب نے شور مچانا شروع کیا۔ ارے ظالموں اللہ سے ڈرو۔ کیوں مجھے مارے ڈالتے ہو۔ باغ کے مالک نے کہا۔ چلاتے کیوں ہو۔ مار پڑتی ہے تو پڑنے دو۔ اللہ کا ایک بندہ اللہ کے دوسرے بندے کو اللہ کے بنائے ہوئے ڈنڈے سے پیٹے تو واویلا کس بات کا؟ میرے دوست جو تمہارا فلسفہ ہے اسی پہ عمل کر رہا ہوں۔ تمہیں کوئ اعتراض نہیں ہونا چاہئیے۔ آخر اس نے توبہ کی اور رہا ہو کر اپنے گھر گیا۔
آدمی بڑا خود غرض ہوتا ہےاسے اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا لیکن دوسرے کی آنکھ کا تنکا وہ دیکھ لیتا ہے۔ غرض اسے اندھا بنا دیتی ہے۔ اپنا مقصد پورا کرنے کے لئے وہ برے بھلے کی تمیز بھلا دیتا ہے۔ اسی کو ظلم کہتے ہیں۔ ظالم ظلم کرتا ہے تو کبھی نہیں سمجھتا کہ اس سے ظلم ہو رہا ہے۔ بلکہ طرح طرح سے اسکی تاویلیں کر کے اپنے آپکو راستی پر ٹہراتا ہے۔ یہی شیطان کا بہکاوا ہے۔ معاف کرنا اور صبر کرنا دو بڑی اچھی عادتیں ہیں۔ لیکن جب دیکھو کہ ظالم ظلم پہ دلیر ہو رہا ہے اور موذی تکلیف پہنچانے کے در پے ہے تو حکم ہے کہ پھر پوری قوت سے اسے روکو اور کیفر کردار تک پہنچاءو۔ ورنہ امن اور سکون درہم برہم ہو جائے گا اور زندگی میں توازن نہیں رہے گا۔ ظلم سہنے میں بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے۔

ماخذ۔ کتاب روشنی، مصنف شاہ بلیغ الدین، اردو اکیڈمی سندھ۔