Monday, December 14, 2009

بین السطور

میں بچوں کا ایک انگریزی رسالہ پڑھ رہی تھی۔ حیران مت ہوں، میں نے ابھی تک اپنے اندر کے بچے کو رخصت نہیں کیا۔ دراصل وہ جاتا ہی نہیں ہے۔ اپنے معصوم چہرے اور سوالیہ آنکھوں کے ساتھ میری دہلیز سے یوں لگا بیٹھا رہتا ہے کہ جیسی ہی میری نظر اس پہ پڑے  وہ اپنے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر کہتا ہے مجھے ڈھونڈیں میں کہاں ہوں۔ بس تو ہم اکثر آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔
ہاں تو، اس رسالے میں بچوں کے مسائل والے سیکشن میں ایک گیارہ بارہ سال کے بچے نے لکھا کہ اسکی تیرہ گرل فرینڈز ہیں اور وہ پریشان ہے کہ وہ کیا کرے۔ مجھے ہنسی آئ، اسکے مسئلے کی گھمبیریت سے قطع نظر،آجکل یہ لفظ گرل فرینڈ اتنا زیادہ استعمال ہونے لگا ہے کہ مجھے اکثر شبہ ہوتا ہے کہ پاکستانی یہ جانتے بھی ہیں کہ گرل فرینڈ کسے کہتے ہیں۔
دو دفعہ تو مجھے کچھ لوگوں کی تصحیح کرنی پڑی کہ میں انکی دوست تو ہو سکتی ہوں لیکن میں انکی گرل فرینڈ نہیں ہوں۔  گرل فرینڈ ایک مخصوص لفظ ہے اور خاصے مخصوص حالات میں استعمال ہو سکتا ہے۔ حتی کہ اردو کا لفظ محبوبہ، معشوقہ یا کوئ بھی رومانوی لفظ اسکی جگہ نہیں لےسکتا۔ کیونکہ یہ لفظ ہمارے معاشرے سے  اور ہماری اقدار سے تعلق نہیں رکھتا۔ لیکن بہر حال جس تواتر سے یہ استعمال ہوتا ہے۔ اس سے میں ابھی بھی یہی سمجھتی ہوں کہ لوگ اسکی تخصیص سے واقف نہیں جبکہ  مغربی معاشرے میں اس لفظ کے خاصے مختلف معنی ہیں۔
 اس سے ملتی جلتی چیز مجھے اکثر فیس بک پہ نظر آتی ہے۔ جب کبھی میں دوستی کے خواہشمند  لوگوں کے پروفائل چیک کرنے کی کوشش کرتی ہوں تاکہ انکو دوست بننے کی اجازت دینے سے پہلے مجھے انکے متعلق کچھ تو ابتدائ معلومات ہوں تو دلچسپی کے خانے میں اکثر مرد حضرات نے لکھا ہوتا ہے۔ 'خواتین'۔ یعنی انہیں خواتین میں دلچسپی ہے۔ یہاں تک بھی قابل برداشت گو کہ میں پھر ایسے لوگوں کی دوستی سے احتراز کرتی ہوں کہ بحیثیت خاتون کسی مرد سے دوستی نہیں کرنا چاہتی۔ البتہ بحیثیت انسان ایکدوسرے انسان کے خیالات سننا اور بحیثیت انسان آپکو اپنی بات کہنا چاہونگی۔ خاتون ہونا میرے ڈیفالٹ میں موجود خوبی یا خرابی ہے جبکہ میں نے عقل اور سمجھ بطور انسان حاصل کی ہے۔
لیکن اس سے آگے ایک اکثریت ان لوگوں کی بھی نظر آتی ہے جو دلچسپی کے خانے میں خواتین اور حضرات دونوں لکھتے ہیں۔ اب حسن ظن رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں غلط سمجھتی ہوں۔ اس لئیے یہ بات میں نے کچھ لوگوں سے پوچھنے کی جراءت بھی کی۔ کیونکہ میں یہ سمجھتی تھی کہ دلچسپی کا یہ خانہ ان لوگوں کے لئیے ہے جو ڈیٹنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ اس سے انکا جنسی رجحان معلوم کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم جنس پرستی مغربی معاشرے میں ظاہر کرنا کوئ معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔
میری اس بات کی تصدیق باقی لوگوں نے کی کہ فیس بک کا آغاز ڈیٹنگ یعنی اپنی گرل فرینڈز یا بوائے فریندز ڈھونڈنے کے لئیے ہی کیا گیا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ اسکا زیادہ بہتر استعمال بھی سامنے آگیا۔ اگرچہ اب بھی لوگ اسے اس مقصد کے لئے خاصہ استعمال کرتے ہیں۔
تو اب وہ لوگ جو فیس بک کے خانے میں لکھتے ہیں کہ انکی دلچسپی مرد و خواتین دونوں میں ہے۔ اس پہ نظر ثانی کر لیں۔ اس سے لوگوں کی بڑی تعداد 'وہ نہیں سمجھتی' جو آپ سمجھانا چاہتے ہیں۔
وہ حضرات جو چاہتے ہیں کہ وہ خواتین کی فیس بک میں بھی جھانک سکیں۔ انہیں اپنے پروفائل میں سے دلچسپی کے خانے میں سےخواتین کا لفظ ہٹا دینا چاہئیے۔  پاکستانی خواتین کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہنا آسان ہے کہ یہ 'طریقہ صحیح نہیں ہے'۔ صحیح طریقوں کے لئیے ایک علیحدہ پوسٹ لکھنی پڑے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر آپ 'اس طرح' کےتعلقات بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ بھی دوسروں کے بارے میں 'کچھ اندازہ' لگا کر اپنی پیشکش انہیں بھیجیں ورنہ یہی کہتے رہیں گے کہ سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ"یوں"؟۔ 

12 comments:

  1. محسن حجازیDecember 14, 2009 at 8:03 PM

    گرل فرینڈ پر ہی کیا موقوف۔ معاشرے کا بیڑا غرق ہو رہا ہے۔ تار پود بکھرتے نظر آرہے ہیں۔

    ReplyDelete
  2. کيا کريں عنيقہ بس عجيب ہی صُورتِحال ہے ليکِن کيا کہيں کہ ہم جيسے لوگوں کو ہی پِھر سبھی دقيانُوسی اور فرسُودہ سمجھ کر باتيں بناتے ہيں حالانکہ حقيقت سے نظريں چُرانا بھی پاگل پن ہے اور بے چارے ايسے بچے اپنے مسائِل کو لے کر کيا کيا نہيں سوچتے ہوں گے؟

    ReplyDelete
  3. اچھا مضمون ہے مگر مجھے بہت سے اعتراضات ہیں جن میں سے صف اول اعتراض ہے کہ

    وہ حضرات جو چاہتے ہیں کہ وہ خواتین کی فیس بک میں بھی جھانک سکیں۔ انہیں اپنے پروفائل میں سے دلچسپی کے خانے میں سےخواتین کا لفظ ہٹا دینا چاہیے۔

    یعنی آپ چاہتی ہیں کہ تمام مرد حضرات منافق بن جائیں اور جھوٹے کہلائیں۔

    دوسرا اعتراض ہے اس جملے پر

    ہ لوگ جو فیس بک کے خانے میں لکھتے ہیں کہ انکی دلچسپی مرد و خواتین دونوں میں ہے۔ اس پہ نظر ثانی کر لیں۔ اس سے لوگوں کی بڑی تعداد 'وہ نہیں سمجھتی' جو آپ سمجھانا چاہتے ہیں

    اللہ جانتا ہے کہ کس قدر جبر کرکے میں دلچسپی کے خانے میں مرد حضرات بھی لکھا ہے خواتین کے ساتھ حالانکہ فیس بک پر میری مرد حضرات میں اتنی ہی دلچسپی ہے جتنی کسی انگریز کو اردو سے ہو سکتی ہے مگر تجربات اور جبر کے ہاتھوں بہت کچھ کرنا پڑتا ہے عنیقہ جی

    ReplyDelete
  4. میرا ذاتی خیال ہے کہ فیس بک اور اسطرح کی دوسری ویب سائٹس کسی ایک معاشرے کی عکاس نہیں ہیں اس لیے کسی بھی پروفائل کی تشریح کرتے ہوئے ہمیں متعلقہ فرد کے حدود اربعہ کا جائزہ بھی لینا چاہیے تاکہ بین السطور پڑھا جاسکے۔۔ اس لیے پاکستانی معاشرے کے حساب سے تو شاید گرل فرینڈ سہیلی کا انگریزی ترجمہ ہے۔

    آشنا اور داشتہ کے لفظ ہم نے ایجاد کررکھے ہیں مغربی اقدار کے حساب سے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے ترجمہ کے لیے۔

    باقی تو جی ہمارے یہاں کءی چار ازواج رکھنے والوں کی دلچسپی بھی مردوں میں ہوتی ہے تو اب فیس بک اس کے لیے کیا کرے۔

    ReplyDelete
  5. محسن حجازی، عام طور پہ یہ شکایت ہر عہد میں پچھلی نسل کے لوگ کرتے ہیں۔ جب کوئ اسی نسل کا شخص یہ بات کہتا ہے تو مجھے یہ بات تھوڑی الگ لگتی ہے۔ معاشرے کے تار وپود ارسطو کو آج سے ہزاروں سال پہلے بھی بکھرتے نظر آرہے تھے۔ آپ مجھے انسانی تاریخ کا کوء ایسا لمحہ بتائں جب معاشرے میں کچھ لوگوں کو ایسا ہوتا نہیں نظر آرہا ہو۔ اسکی وجوہات پہ اس وقت بات ممکن نہیں۔
    شاہدہ اکرم، ہر بچے کو اپنے عہہد کے مسائل سے گذرنا پڑتا ہے۔پرانی جنریشن اپنی مستقبیلیاتی ذہانت استعمال کر کے انکی مدد کر سکتی ہے مگر ہمارا ڈائلیمہ یہ ہے کہ پرانی جنریشن وقت گذرنے کے ساتھ زیادہ سختی سے اپنے عہد کی خوبیوں یا خامیوں سے جڑ جاتی ہے۔ اور اس وجہ سے وہ قابل عمل حل تلاش نہیں کر پاتے۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
    لفنگا،آپکو میرا پیغام مل گیا ہوگا۔
    :)
    محب صاحب، آپکے اعتراض اول پہ جیسا کہ میں نے کہا کہ
    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
    لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
    کس کو بچانے اٹھ کھڑے ہوئے آپ۔ افسوس آپکے موکلوں کی تاریخ اتنی بہتر نہیں بلکہ حال بھی کچھ نظر نہیں آتا، اور لگتا ہے کہ اگر سائنسدانوں نے قدرت کے کاموں میں مداخلت نہ کی یا قدرت نے ہی کچھ نیا کرنے کے بارے میں نہ سوچا تو اس میں بہتری کے کچھ خاص آثار نہیں۔
    آپ صرف اپنے آپکو بچائیں۔
    اور یہ جو دوسرا اعتراض ہے، اس پہ میں کیا کہوں۔ خواتین میں دلچسپی تو چلیں ایک قدرتی امر ہو سکتا ہے لیکن مردوں کا مردوں کے بارے میں لکھنا اسے ابھی تک قدرتی ہونے کا درجہ نہیں مل سکا۔ ایسا صرف دو ہی طرح کا لوگ چاہ سکتے ہیں۔ ایک وہ جو خواتین کو ارتقاء کے راستے میں ایک بائ پروڈکٹ سمجھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو خود کو ارتقائ تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بائ پروڈکٹ سمجھتے ہیں۔
    میرا خیال ہے لوگوں کی اکثریت اپنے آپکو عام انسانوں میں رکھنا پسند کرتی ہے۔ اس لئے میں صرف لا علمی میں ان سے سرزد ہونے والی ایک غلطی کی طرف اشارہ کر رہی ہوں۔
    راشد کامران صاحب،آپ نے صحیح کہا کہ اس طرح کی سائٹس معاشرے کی عکاس نہیں۔ لیکنیہ ذہن میں رہنا چاہئیے کہ اس طرح کے ڈیٹا کوئ بھی شخص استعمال کر سکتا ہے۔ کسی بھی چیز کو ثابت کرنے کے لئے۔ جب ہم اپنے سے الگ لوگوں کے متعلق اتنا کم جانتے ہیں تو دوسرے بحی ہمارے متعلق اتنا زیادہ نہیں جانتے۔ سچ پوچھیں تو جب میں کسی صاحب کی دلچسپی مردوں میں دیکھتی ہوں تو تھوڑی دیر کے لئیے حیران ہو جاتی تھی۔ لیکن بہ ہرحال بہت سارے پروفائلز پہ سے گذرنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ دراصل باقی لوگ اس چیز کو اسکے اسل پس منظر میں نہیں دیکھ رہے۔ اسے محض پاکستانی ہونے کی وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
    اب اس منظر کو سوچیں کہ کوئ مجھ سے کہے کہ آپ میری گرل فرینڈ ہیں۔ اس سے مجھے شاک لگ سکتا ہے۔
    اگرچہ آپکا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ گرل فرینڈ کو یہاں سہیلی کے طور پہ بھی لیا جاتا ہے۔ لیکن معاشرے میں مختلف طبقات ہونے کی وجہ سے سب لوگ ان الفاظ کو ایک ہی طرح سے نہیں لیتے اور یہ خاصی گھمبیر صورت حال کی طرف جا سکتا ہے کبھی کبھی۔
    آپکی آخری بات پہ بھی میں یہی کہنا چاہونگی کہ اگر صورت حال بالکل واضح ہوتو آسانی رہتی ہے ، ہر فریق کے لئے۔ اب دیکھیں جو لوگ نہیں جانتے اور جو لوگ اسی ذریعے سے اپنے ہم خیال ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس وقت وہ دونوں ایک ہی زبان استعمال کر رہے ہیں۔

    ReplyDelete
  6. ہمارے ایک دوست اقوام متحدہ کی ملازمت کے دوران ایک افریقی ملک میں تعینات تھے ۔ دور دور تک کوئی پاکستانی نظر نہیں آتا تھا ۔ ان کی سیکتری ایک سکاٹ لڑکی تھی ۔ دو ماہ تک اس بندہ خدا نے اپنے کام سے کام رکھا اور اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا ۔ دو ماہ بعد ایک اور ان جی او کا پاکستانی رکن کوی ڈاک لے کر آیا تو میرے دوست نے اس کا بڑی گرمجوشی سے استقبال کیا اور گھٹ کر جپھی ڈالی اور چاےَ پلانے کے بعد رخصت کیا ۔ اس کے جانے کے بعد اس کی سیکرٹری بولی مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم ہم جنس پرست ہو :-P

    ReplyDelete
  7. محمد ریاض، آپ نے صحیح لکھا۔ دنیا میں تمام لوگ اپنے طرز زندگی سے ہی دوسروں کا جانچتے ہیں۔ جس سے لازماًغلط نتائج نکلتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے لوگوں کی اس عام غلطی ک طرف توجہ دلائ ہے۔ میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ کچھ لوگ خواتین سے کمیونیکیٹ نہیں کرنا چاہتے خاص طور پہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے شدت پسند یا فیس بک کی زبان میں انہیں دوست نہیں بنانا چاہتے۔ اس لئیے شاید زیادہ زور دیکر صرف یہ لفظ لکھ دیتے ہیں 'مین'۔ یا کچھ لوگ یہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں کسی کے خاتون یا مرد ہونے سے کوئ مسئلہ نہیں اور وہ کلک کرتے ہیں۔'مرد اور خواتین'۔
    حالانکہ اگر آپ مخصوص تعلقات نہیں چاہتے تو نہ یہ سوال آپکے لئیے ہے اور نہ ہی اس میں موجود کوئ بھی آپشن آپکے لئیے ہے۔

    ReplyDelete
  8. یہ آپ کو پانی میں مدھانی چلانے کا شوق کب سے ہوگیا ہے
    :D

    ReplyDelete
  9. آں، پانی میں مدھانی
    :)
    اچھی ایکسرسائز ہے اس سےکندھے مضبوط ہوجاتےہیں۔

    ReplyDelete
  10. میں نے پہلے بھی آپ کی یہ تحریر پڑھی مگر تبصرہ کرنے سے ڈر گیا کہ کہیں آپ روٹیاں پکا رہی ہوں اور غُصے میں توا اُٹھا کر میرے سر پر دے ماریں ۔ آج میں نے سوچا کہ مجھے بزدل نہیں بننا چاہیئے ۔ آپ نے پی ایچ ڈی کی پھر لڑکی سے عورت بن کر خاتونِ خانہ بنیں اور اب خیر سے ایک بچی کی والدہ بھی ہیں مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہیں ابھی بچی ہی ۔ ارے بی بی بچوں والی تحاریر آپ بچوں کے صفحہ پر لکھا کریں

    اور آپ فیس بُک کے پیچھے بغیر ہاتھ دھوئے کیوں پڑ گئی ہیں ۔ محاورہ غلط ہو گیا ؟
    میں بھی فیس بُک کا عرصہ دراز سے رُکن ہوں لیکن کوئی نامحرم لڑکی وہاں پر مجھے بوائے فرینڈ بننے کی دعوت نہیں دیتی ۔ اور نہ میرے پاس اتنا وقت ہوتا ہے کہ میں لڑکیوں یا عورتوں کو دیکھتا پھروں ۔ آخر ایسی بھی کیا بات ہے ان میں ۔
    اور ہاں جب آپ چاہتی ہیں کہ لڑکے لڑکیوں کو نہ دیکھیں تو آپ لڑکوں کو کیوں دیکھتی ہیں ؟

    ReplyDelete
  11. اجمل صاحب، میرے بلاگ پہ تو کہیں نہیں لکھا کہ یہ برائے بالغاں ہیں۔ اب آپ یہاں سوچ سمجھ کر آئیے گا۔ کسی نے کہا تھا کہ فیس بک یہودیوں کی مشین ہے۔ میں نے سوچا کہ چلیں اسی طرح ان یہودیوں کے پیچھے پڑا جائے۔ مگر ہوا یوں کہ یہاں پہ بہت سارے لوگ مجھ سے ناراض ہیں۔ آپ اگر وہاں پہ اپنی عمر لکھ دیں گے اور ساتھ میں طالبان میرا مطلب افغانی طالبان سے اپنی شفقت بھی تو پھر کتنی ہی بے وقوف لڑکی ہو آپکو بوائے فرینڈ بننے کی دعوت نہیں دے گی۔ ویسے بھی فیس بک پہ لڑکے اتنے زیادہ اور لڑکیاں اتنی کم ہیں کہ لڑکیوں کو سمجھ میں نہیں آتا کیا کریں اور اس وجہ سے وہ کسی کو آفر دینے کے قابل نہیں رہتیں۔ آپ اپنے ڈیٹا پروفائل میں مناسب تبدیلیاں کریں۔ انشاللہ یہ شکایت نہیں رہے گی۔
    یہاں ایک وضاحت ضروری ہے یہ جو میں نے اپنے متعلق بات لکھی ہے اسکا بالکل عملی زندگی سے تعلق ہے فیس بک سے نہیں۔ اور میں نے تو کبھی نہیں کہا کہ لڑکے ، لڑکیوں کو نہ دیکھیں۔ دیکھیں گے نہیں تو بہت ساری پیاری پیاری کہانیاں کیسے جنم لیں گی۔ ہم کنہیں مشورہ دیں گے اور کس سے روداد غم سنیں گے۔ ہم تو صرف اتنا کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی کریں دل لگا کر کریں۔ اور اچھے پیارے طریقے سے کریں اسے بدصورت نہ بنائیں۔ ویسے آپ کو کیسے پتہ چلا کہ میں لڑکوں کو دیکھتی ہوں۔ فیس بک پہ ان سب لڑکوں نے یا تو کارٹون لگا رکھے ہیں یا دوسروں کی تصویریں۔
    :)
    اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مجھے ایک صاحب ہمہ وقت میسر ہیں دیکھنے کے لئے تو انگریزی محاورے پہ عمل کرتے ہوئے کہ ایک ہاتھ میں بہتر ہے دو جھاڑیوں میں ہونے سے۔ میں اس جھاڑ جھنکار میں کیا کرونگی۔ اور جبکہ بچے بچے کو پتہ ہے کہ میری ایک بیٹی بھی ہے تو کون میرے ساتھ اپنا وقت ضائع کریگا۔
    یہ سارا فسانہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ابھی پچھتر سال کے نہیں ہوئے یا وہ جو اکثر بلاگ لکھنے کے دوران اپنے بچوں کو بہلا نہیں رہے ہوتے ہیں۔
    اب آپ اسکا جواب لکھیں میں جب تک توے پر سےروٹی اتاروں۔ جل جائے گی تو بڑی ڈانٹ پڑے گی۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ