Sunday, April 15, 2012

اقبال اور مولوی

کچھ اشعار اقبال کے فیس بک کی دنیا میں گردش میں ہیں۔ میں نے کلیات اقبال کھولا یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا یہ واقعی اقبال کے ہیں تو یہ ایک نظم بانگ درا میں  مل گئ۔ طویل نظم آرام سے پڑھیں۔


اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی
شہرہ تھا بہت آپکی صوفی منشی کا
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادنی
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعت
جس طرح کے الفاظ میں مضمر ہوں معانی
لبریز مئے زہد سے تھی دل کی صراحی
تھی تہہ میں کہیں دُرد خیال ہمہ دانی
کرتے تھے بیاں آپ کرامات کی اپنی
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی
حضرت نے میرے ایک شناسا سے یہ پوچھا
اقبال، کہ ہے قمری شمشاد معانی
پابندی ء شریعت میں ہے کیسا؟
گو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانی
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی
ہے اسکی طبیعت میں تشیع بھی ذرا سا
تفصیل علی ہم نے سنی اسکی زبانی
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادت میں داخل
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہے
عادت ہے یہ ہمارے شعراء کی پرانی
گاتا ہے جو شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی
لیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی
مجموعہء اضداد ہے ، اقبال نہیں ہے
دل دفتر حکمت ہے، طبیعت خفقانی
رندی سے بھی آگاہ، شریعت سے بھی واقف
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی
اس شخص کی تو ہم حقیقت نہیں کھلتی
ہوگا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی

القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے
تا دیر رہی آپکی یہ تغز بیانی
اس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میں
میں نے بھی سنی اپنی احبّاء کی زبانی
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد
پھر چھڑ گئ باتوں میں وہی بات پرانی
فرمایا شکایت وہ محبت کے سبب تھی
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی
میں نے یہ کہا کوئ گلہ مجھ کو نہیں ہے
یہ آپ کا حق تھا زرہ قرب مکانی
خم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگے
پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی
گر آپکو معلوم نہیں میری حقیقت
پیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانی
میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا
گہرا ہے میرے بحر خیالات کا پانی
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ اقبال کو دیکھوں
کی اسکی جدائ میں بہت اشک فشانی
اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں واللہ نہیں ہے