Wednesday, July 15, 2009

مجھے اماں چاہئیں


یہ میری ڈھائ سالہ بیٹی کا سمر کیمپ فن میں پہلا دن تھا۔ یہاں وہ اس لئے ہے کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ اسے دیگر بچوں کے ساتھ رہنا پسند ہے۔ مگر کلاس میں ماں کے ساتھ ہونے پر پابندی کی وجہ سے میں باہر برآمدے میں بیٹھی ہوئ تھی۔ مبادا اسکول والوں کو اسے بہلانے میں پریشانی کا سامنا ہو۔ مجھے اندر سے اسکے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ اسے اماں چاہئیں۔ مگر میں دل کڑا کئے بیٹھی رہی۔ دس منٹ بعد آیا اسے میرے پاس واپس لے آئ۔ رونے سے اسکی آواز بیٹھی ہوئ تھی۔ وہ آتے ہی میرے گھٹنوں سے لپٹ گئ۔ میں نے اسے تسلی دی اور پوچھا کیا ہوا تھا۔ اس نے آنسو بھری آنکھیں میری طرف کیں اور سسکیاں لیتی کہنے لگی۔ 'اماں، آپ کہا ں چلی گئ تھیں۔ مشعل لوئ۔ مشعل بہت لوئ۔ مشعل نے کہا۔ اماں کہاں ہیں۔ اماں کہاں ہیں'۔ میں اسے سمجھاتی ہوں کچھ وقت بچوں کو دوستوں کے ساتھ بھی رہنا چاہئے۔ اماں ہر وقت ساتھ نہیں ہوتیں۔ دوستوں کے ساتھ بڑا مزہ آتا ہے۔ اسکول میں ٹیچر بڑے مزے کے گیمز کھیلتی ہیں، کتابیں پڑھتی ہیں اور پنسل بھی دیتی ہیں لکھنے کے لئے۔ اسے پنسلوں سے بڑی محبت ہے۔ مگر وہ میری یہ ساری باتیں سمجھنے سے انکار کر دیتی ہے اگر اماں نہیں تو پھر کچھ نہیں۔ وہ جواب دیتی ہے'اماں , یہ اچھا نہیں لگتا'۔
دفعتاً مجھے خیال آتا ہے اگر کوئ میرے جسم میں اسکے سامنے تیز خنجر سے اٹھارہ وار کرے کہ ہر وار سے میرے جسم کے سوتوں سے خون کی دھار پھوٹ پڑے اور میرے شوہر جب مجھے بچانا چاہیں تو ارد گرد کھڑے پولیس والے بجائے مجرم کو پکڑنے کہ گولی میرے شوہر پہ چلادیں۔ خنجر کے ان واروں کی تاب نہ لا کر میں موقع پر ختم ہو جاءوں۔ اور میرے شوہر کو ہسپتال کے انتہائ نگہداشت کے شعبے میں پہنچا دیا جائے۔میرا وجود اس دنیا میں نہیں رہے۔ میری بیٹی کسی گوشے میں کھڑی سسک رہی ہو اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوگی کہ کسی نے اسکی ماں کو دوپٹہ سر سے نہ پہننے کی پاداش میں جان سے ختم کردیا ہے۔ اسے اماں چاہئیں۔ کیونکہ اماں کے بغیر اتنے بڑے بچے کو کچھ اچھا نہیں لگتا۔

لیکن میں ابھی زندہ ہوں۔ البتہ مجھ سے ملتی جلتی ایک مصری مسلمان عورت ماروا ایک تین سالہ بچے کی ماں جو ایک ترقی یافتہ ملک جرمنی کی ایک عدالت میں موجود تھی اپنے بچے کے سامنے اسی انجام سے دوچار ہوئ۔ایک احساس سے عاری خنجر کے اٹھارہ وار اسے زندگی جیسی خوبصورت نعمت سے محروم کر گئے جبکہ اسکی کوکھ میں ایک اور زندگی بھی پل رہی تھی۔ اس بچے نے اپنی ماں کو کھونے کا سانحہ کیوں دیکھا۔ کیونکہ اس کی ماں نے اپنے سر کو چار گرہ کپڑے سے لپیٹے ہوا تھا۔ جسے اس معاشرے کا ایک طبقہ سخت نہ ناپسند کرتا ہے۔ ایک ترقی یافتہ معاشرہ جو کپڑوں سے آزاد عورت کو اپنے اندر سمونے میں کوئ جھجھک محسوس نہیں کرتا لیکن چند کپڑے زیادہ پہن لینے پر ایسا ردعمل سامنے آتا ہے۔ ایک ہمارا معاشرہ ہے جہاں خواتین کی اکثریت نہ صرف کپڑوں بلکہ دیواروں کے اندر لپٹی ہوئ ہیں وہاں کچھ عورتوں کے ذرا سا کپڑے کم کر دینے ، ان دیواروں سے باہر آنے پہ ایک شور و غل مچ جاتا ہے۔ جہاں میں اور میری جیسی مزید عورتیں جو اس چار گرہ کپڑے کوسر سے لپیٹنے سے دلچسپی نہیں رکھتیں۔ وہاں ماروا جیسی عورتیں ہیں جو اسے اپنانا چاہتی ہیں۔ آخر معاشرہ عورتوں کو اپنے حساب سے زندگی گذارنے کی اجازت دینے میں کیوں اتنا شدت پسند ہے۔
آخر دنیا عورتوں کے کپڑوں کے بارے میں کیوں فکرمند رہتی ہے۔۔
صاحبو، میں اپنی بیٹی کی طرف پلٹتی ہوں ۔ اسے اماں چاہئیں۔چاہے اس نے دوپٹہ سر سے اوڑھا ہو یا نہ اوڑھا ہو۔ اسے اماں کے بغیر کچھ اچھا نہیں لگتا۔

ریفرنس؛

مصری خاتون کا قتل


مصری خاتون کا قتل ایک رپورٹ

Saturday, July 11, 2009

بات وہ آدھی رات کی

آدھی رات کو جب یہ دنیا والے خوابوں کی سیج سجاتے ہیں تو ایسے میں ہم شہروں کے رہنے والے ایکدوسرے کے فون کھڑ کھڑاتے ہیں۔ کیا کریں یہی وہ وقت ہوتا ہے جب اپنے آپ سے ملاقات کرنے کا موقع ملتا ہے اورپھرکسی بہانے دوسرے ساتھیوں کو یادکرنے لگتے ہیں ۔یہ کچھ اوکھی سی گفتگو کا خلاصہ ہے۔ آنکھوں پر عقیدت کی پٹی باندھ کر پھرنے والے اور انسانی محبوبوں کو خدا سمجھنے والے اگر نہ پڑھیں تو انکا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ یہ دوسرا شخص، ایک ہمراہی ہیں۔ انکی اور میری ہم آہنگی ایسی ہے کہ باوجود مختلف طرز فکر رکھنے کے میں انہیں غدار پاکستان اور کافر نہیں سمجھتی اور وہ بھی مجھے اس وطن کے وفاداروں میں اور مسلمانوں میں خیال کرتے ہیں۔ یاد رہے اردو گرامر میں اگر تانیث ظاہر کرنا مقصود نہ ہو تو مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو یہ کوئ بےوقوف خاتون بھی ہو سکتی ہیں اور عقلمند مرد بھی۔

شش،آرام سے سنیں۔

میں؛ کیا ہو رہا ہے سونا تو یقیناً نہیں چل رہا ہوگا۔
ہمراہی؛ نہیں کل کی تیاری چل رہی ہے۔ کس لئے یاد فرمایا آپ نے۔
میں: بھئ ایک موضوع چھڑا ہوا ہے۔قاضی صاحب کے حوالے سے۔
ہمراہی ؛ کون سے قاضی؟
میں؛ جناب قاضی حسین احمد، انہوں نے اقبال اور قائد اعظم کے حوالے سے اپنے ایک مضمون میں جس کے اقتباسات ڈان میں بھی کچھ دنوں پہلے شائع ہوئے تھے۔ یہ کہا ہے کہ اس ملک کو دراصل اسلامی مملکت بننا ہے ورنہ یہاں کا مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ انہوں نے اقبال کی نظم وطنیت کے ان اشعار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہی کہ اقبال وطنیت کے سخت مخالف تھے۔
ان تازہ خداءوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن ہےاس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

میرے ہاتھ میں اس وقت کلیات اقبال ہے۔ انکی نظم وطنیت بانگ درا میں موجود ہے اور اس نظم سے کوئ سو صفحے پہلے انکی نظم ہندی ترانہ موجود ہے جس میں انہوں نے ہندوستاں کو اپنا وطن قرار دیتے ہوئے اسے اپنی محبتوں کا مرکز قرار دیا ہے۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اسکی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی، دل ہو جہاں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا

میں الجھن میں ہوں۔ علامہ کی بات میں تضاد کیوں ہے۔

ہمراہی؛ دراصل علامہ ابتدائ طور پر تو نہیں البتہ بعد میں پین اسلام ازم کی طرف مائل ہو گئے تھے ان کی دوسری نظم وطنیت اسی دور کی ہے اور اپنے انتقال کے وقت تک وہ اسی پر قائم رہے۔ جبکہ نظم ہندی ترانہ پہلے دور سے تعلق رکھتی ہے۔

میں؛ مزید بات قائد اعظم کی اس پالیسی ساز تقریر کے حوالے سے جو انہوں نے قیام پاکستان سے دو دن قبل دی تھی۔
’آپ آزاد ہیں عبادت کے لیے اپنے مندروں میں جانے میں آزاد ہیں ،آپ اپنی مسجدوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ مملکت پاکستان میں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے میں آزاد ہیں آپ خواہ کسی مذہب،فرقے یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں امور مملکت کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ۔ ۔ ہم سب ایک ہی مملکت کے شہری ہیں اوربرابر کے شہری۔ ۔ ۔ پس ہمیں اس نصب العین کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور آپ وقت کے ساتھ ساتھ دیکھیں گے کہ نہ ہندو،ہندو رہے گا اور نہ مسلمان ،مسلمان ،مذہب کے معنوں میں نہیں کیونکہ یہ تو ذاتی عقیدت کا معاملہ ہے بلکہ سیاست کے معنوں میں جب ہر شخص مملکت کا شہری ہوتا ہے ‘‘۔

اسکے بارے میں قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ صرف اس تقریر کے پیچھے سب پڑ گئے ہیں حالانکہ اس سے پہلے اور اسکے بعد انہوں نے کتنی دفعہ ایسی باتیں کیں جس سے یہ نتیجہ نکالنا چاہئے کہ وہ ایک اسلامی مملکت چاہتے تھے۔ ایک اسلامی مملکت جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ ہو۔ مجھے تو قاضی صاحب کی یہ بات صحیح لگتی ہے۔

ہمراہی؛ تو ان سے آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ خود قائد اعظم کسطرح کے مسلمان تھے اور وہ اسلام کو کیسا سمجھتے تھے۔ محترمہ شاید آپ نے وہ واقعہ نہیں سنا کہ جناح صاحب کو نماز پڑھنا نہیں آتی تھی۔ ایکدفعہ کسی اجلاس کے دوران جب انہیں جماعت نماز پڑھنی پڑی تو عین نماز کے دوران جب سب لوگ رکوع میں چلے گئے تو وہ کھڑے رہ گئے اور انتہائ حیرت سے بولے کہ واٹ اے ڈسپلن۔

میں؛ یہ تو ایکدم مذاق ہے گھڑا ہوا۔
ہمراہی؛ جب انسان صدمے سے زیادہ حیرت میں ہو تو اسے چیزیں یونہی مذاق لگتی ہیں۔ وہ تو کہتے تھے کہ رسول اللہ نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جمہوری طرز حکومت کی بنیاد رکھ دی تھی۔ وہ خودتو سرتاپا ایک سیکولر انسان تھے۔امیر اتنے کہ اصلی ریشم کی ٹائ بھی ایکدفعہ کے بعد دوسری نہیں پہنتے تھے۔مغربی پینٹ کوٹ کے ہاتھ کے سلے ہوئے سینکڑوں سوٹ انکے پاس اس وقت موجود تھے۔
میں؛ انہوں نے مسلمانوں کے لئے پاکستان حاصل کرنے کی جنگ لڑی آپ کو معلوم ہے انکے جلسوں میں لوگ نعرے لگایا کرتے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ۔
ہمراہی؛ اول تو انہوں ے یہ نعرہ کبھی خود نہیں لگایا اور دوئم انہوں نے یہ نعرے بھی کبھی نہیں لگوائے۔ مختلف تحریکوں میں جذبہ پیدا کرنے کے لئے نعرے تخلیق کئے جاتے ہیں۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں نام نہاد جیت میں بھی ملکہء ترنم نورجہاں کے گانوں کا بڑا حصہ ہے۔ کیا آپ اس سے واقف نہیں۔ اب آپ کہیں جنگ اور اسکے لوازمات جیسے کھڑاگ کی کیا ضرورت ہے۔ دو چار نورجہانوں سے کام چل جائے گا۔ اور مزید یہ کہ حکومت وقت نے جنگ کو اسی مْصد کے لئے جیتا کہ نورجہاں اور گانے گائیں۔
میں؛ تو آپ سمجھتے ہیں کہ وہ سیکولر پاکستان چاہتے تھے۔
ہمراہی؛ میرا خیال ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے ایک ایسی مملکت چاہتے تھے جس کے قاعدے قوانین مسلمان اپنے فائدے، نقصان اور اپنی ثقافت کو مد نظر رکھ کر بنائیں۔ آپ یا دوسرے لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ پاکستان محض جناح کی کوششوں سے نہیں بنا۔ کوئ بھی تحریک صرف لیڈر کے بل بوتے پہ نہیں چل سکتی بلکہ ان لوگوں کا عزم بھی اس میں کام کرتا ہے جو اس سے متاثر ہوتے ہیں جن کے لئے وہ تحریک چلائ گئ ہوتی ہے۔ اب آپ بتائیں۔ پاکستان کی تحریک کی اصل جنگ ان علاقوں میں لڑی گئ جو آج پاکستان میں شامل نہیں۔ وہاں کے مسلمان، مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ مسلمان خود جیسی زندگی گذار رہے تھے ویسی ہی زندگی گذارنا چاہتے ہونگے یا اپنے مزاج سے الگ کسی نئے اسلام کی طلب کر رہے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے تھے ناں۔ یا پاکستان بننے کے بعد سب نئے سرے سے مسلمان ہونا چاہتے تھے۔ انکی پریشانی یہ نہیں تھی کہ انگریز حکومت انہیں انکے مذہب پر عمل پیرا نہیں ہونے دے رہی تھی بلکہ انکی پریشانی یہ تھی کہ انگریزوں کے جانے کے بعد وہ ہندو اکثریت کے رحم و کرم پہ رہ جائیں گے۔ اور اس صورت میں انہیں معاشی اور ثقافتی طور پہ ہراساں کیا جائے گا۔ مسلمان کمیونٹی کے مفادات کو ضرب لگتی تھی نہ کہ اسلام کو۔ اب جناح صاحب شراب بھی پیتے تھے، غیر مسلمانوں کے ساتھ ہوتے تو ایسا کوئ حلال حرام کا بھی خیال نہ رکھتے تھے۔ کوئ ایسے نماز روزے کے پابند نہ تھے۔ اب وہ کیسا اسلامی ملک چاہتے ہونگے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پہلا وزیر قانون ایک ہندو کو اور پہلا وزیر خارجہ ایک قادیانی کو بنایا۔ آج لوگ انہیں ایک مذہبی شخصیت بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ مجھے حیرت ہے قاضی صاحب ایسا کہہ رہے ہیں۔ انکی جماعت کے جد اعلی مولانا مودودی تو کہتے تھے کہ جس جماعت کی قیادت ’جناح جیسے آدمی‘ کے ہاتھوں میں ہے اس سے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
میں؛ انہوں نے آخری عمر میں شراب چھوڑ دی تھی۔ باقی چیزوں کے بارے میں مجھے معلوم نہیں اور نہ کوئ خواہش ہے معلوم کرنے کی۔ انکی شخصیت پاکستان کی تخلیق کی جدوجہد میں سب سے نمایاں اور اہم ہے۔ میں نے تو کسی کی رائے یہ بھی پڑھی کہ اگر کانگریس کے پاس جناح جیسا ایک بھی لیڈر ہوتا تو پاکستان نہ بن پاتا۔ تو پاکستان کی تخلیق انکی دانائ اور زیرک شخصیت کی وجہ سے ممکن ہوئ۔

ہمراہی؛ انکا انتقال پھیپھڑوں کی ٹی بی کی وجہ سے ہوا تو وہ تو ڈاکٹری ہدایت ہوگی کہ ترک کر دیں۔ البتہ میں آپکی بات سے متفق ہوں کہ کسی شخص کی ذاتی زندگی کو اسکی قابلیت اور اہلیت سے الگ رکھنا چاہئیے۔ لیکن آپ اسی دنیا میں رہتیں اور دیکھتی ہونگیں کہ جب کسی کے خلاف کچھ بن نہیں پڑتا تو پھر ایسے ہی باتیں کی جاتیں ہے کہ وہ شراب پیتا ہے وہ یہ غیر اسلامی کام کرتا ہے وہ، وہ غیر اسلامی کام کرتا ہے اور پھر آخر میں یہ کہ وہ تو مسلمان یہ نہیں ہے کافر ہے۔۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ جناح بھی یہ کرتے تھے اب انکی شخصیت کو اتنا مذہبی کیوں بنایا جارہا ہے۔ جناح کی پیدائش ایک کھوجے شیعہ گھرانے میں ہوئ اور وہ بعد میں اثناء عشری شیعہ میں چلے گئے۔ پاکستانیوں کی اکثریت سنی فقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اب یہاں پہ کس فقہ کی حکومت ہوگی۔ وہ جس پر عوام کی اکثریت رضا مند ہے یا وہ جس پہ ہمارے قائد عمل پیرا تھے۔
میں: مجھے تو نہیں معلوم۔
ہمراہی؛ توپھر آپ جا کر بھنڈی پکائیں۔ ایک تو عورتیں، مردوں کی سیاست سے واقف ہوتی نہیں ہیں۔ اور چلی آتیں ہیں بیچ میں لقمہ دینے۔ اب ناراض ہونگی کہ مجھ جیسی علامہ کو یہ کہہ دیا۔
میں؛ آپ مجھے زیادہ طعنے نہ دیں۔ کبھی کبھی معاملات کو قابو میں رکھنے کے لئے بھی لاعلمی کا ڈرامہ کرنا پڑتا ہے۔ سنا نہیں آپ نے لا علمی ایک نعمت ہے۔مجھے معلوم ہے یہ قرار داد مقاصد کا بھی اس میں کچھ چکر ہے۔ اب میں اتنی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتی۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ تضاد ان بڑے ناموں کے کردار کا حصہ تھا یا اب کچھ لوگ معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے انکا نام استعمال کرتے ہیں۔
ہمراہی؛ تو آپ نے مجھے عام لوگوں میں سے نکال کر قاضی صاحب کے مد مقابل کھڑا کر دیا۔
میں؛ جی، میری خواہش ہے کہ ہر عام آدمی ان خاص لوگوں کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
ہمراہی؛ اس طرح تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ عام آدمی کے لئے بھی اور خاص آدمی کے لئے بھی۔ سو میری دعا ہے تیری آرزو بدل جائے۔


ریفرنس؛

قاضی حسین احمد کا مضمون

قائد اعظم کی سوانح حیات ۱

قائد اعظم کی سوانح حیات
۲
پاکستان ایک مذہبی ریاست

فیصلے کا مرحلہ







Thursday, July 9, 2009

ایک تعارف

آتے جاتے خوبصورت آوارہ سڑکوں پہ۔ کبھی کبھی اتفاق سےکتنے انجان لوگ مل جاتے ہیں۔ اس سے آگے جو مرحلہ ہوتا ہے وہ تعارف کا ہے۔ خوبصورتی بذات خود ایک اچھا تعارف ہے۔ اگر تعارف ہو جائے تو خوبصورت سڑکوں پہ اچھی آوارگی ہو سکتی ہے یا آوارہ سڑکیں بھی خوبصورت لگنے لگتی ہیں۔ خوبصورتی اور بد صورتی سے الگ کبھی کبھی یہ تعارف زندگی کے معنی تبدیل کر دیتے ہیں اور کبھی اسے بے معنی بنا دیتے ہیں۔
اجنبی کو آشنا بننے کے لئے بھی ایک تعارف کی ضرورت ہوتی ہے کبھی کوئ واقعہ ہمیں نئے لوگوں سے متعارف کراتا ہے۔ کبھی ہمارے جاننے والوں کے طفیل ہمیں نئے تعارف حاصل ہوتے ہیں اور کبھی کچھ ہٹ کر کرنے میں زندگی کے نئے تعارف سامنے آتے ہیں۔ جیسے اس بلاگ کے طفیل مجھے کتنے سارے لوگوں سے واقفیت حاصل ہوئ اور جنہیں نہیں ہے انہیں بتادوں کہ میرا نام عنیقہ ناز ہے۔ حالانکہ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ نام میں کیا رکھا ہے گلاب کو کسی نام سے پکارو وہ گلاب ہی رہے گا۔ لیکن ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ جولیا رابرٹس، رچرڈ گیئر، کترینہ کیف اور ٹام کروز کے نام پہ دل کی دھڑکن کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ لیاقت کیبل والے یا جمیلہ پاپڑ والی کے نام سے نہیں ہوتا۔
اب شیکسپیئر سے کون بحث کرے۔ لیکن میں یہ خود کلامی کیوں کر رہی ہوں۔ آں، یاد آیا، یہ ایک نظم ہے ن م راشد کی اس کا عنوان ہے تعارف۔ اسکے مطالعے میں آپ سب کو شریک کرنا تھا۔ یہ ایک عجیب سا تعارف ہے، شاید آج ہم سب اس سے واقف ہیں۔ چلیں اسے پڑھتے ہیں۔

اجل، ان سے مل،
کہ یہ سادہ دل
نہ اہل صلٰوت اور نہ اہل شراب،
نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب،
نہ اہل کتاب۔۔۔۔
نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین
نہ اہل خلاء اور نہ اہل زمین
فقط بے یقین
اجل ان سے مت کر حجاب
اجل، ان سے مل،
بڑھو، تم بھی آگے،
اجل سے ملو،
بڑھو، نو تونگر گداءو
نہ کشکول دریوزہ گردی چھپاءو
تمہیں زندگی سے کوئ ربط باقی نہیں
اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساءو
بڑھو، بندگان زمانہ بڑھو بندگان درم
اجل، یہ سب انسان منفی ہیں،
منفی زیادہ ہیں، انسان کم
ہو ان پر نگاہ کرم


ریفرنس؛
ن م راشد
ن م راشد

Monday, July 6, 2009

کچھ خرابات


آج کچھ لوگوں کی فرمائش پہ چند اشعار کی تشریح حاضر ہے۔ چونکہ ان اشعار کے تخلیق کار اب اس دنیا میں نہیں رہے تو کسی اور کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ ان سے اتفاق نہ کرے.

لیجئیے پہلا شعر حاضر خدمت ہے۔

جو تمہاری مان لیں ناصحا تو بچے گا دامن دل میں کیا
نہ کسی عدوکی عداوتیں، نہ کسی صنم کی حکائیتیں

یہاں کچھ الفاظ کا تعارف پہلے سے دینا ضروری ہے۔ جیسے ناصحا یا نا اور صحا، اس کا مطلب بظاہر یہ لگتا ہے، وہ شخص جو کبھی صحیح نہیں ہو سکتا۔ اب اسکے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ یا تو یہ کہ اسکی بات کبھی صحیح ثابت نہیں ہو سکتی اور یا یہ کہ انکی شخصیت کے ٹیڑھ پن کو کبھی صحیح نہیں کیا جا سکتے۔ بادی النظر میں یہ کوئ سیاستداں لگتے ہیں۔ لیکن شعر میں کیا مراد ہے اس پہ ہم بعد میں بحث کرتے ہیں۔

دامن دل، اس پہ کچھ اصحاب کو حیرت ہوتی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ دل کا دامن کیسے ہو سکتا ہے۔ تو جناب اگر دل کو قمیض کی طرح پہن لیا جائے تو دامن تو کیا اسکا گلا اور آستین بھی بن جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ تو سراپا دل ہوتے ہیں۔ ایسے دل عوامی جگہوں پہ بہ کثیر دستیاب ہوتے ہیں۔ دل اگر سینے سے نکل جائے تو اسکی غیر حاضری کو عقلمندی سے عشق و محبت کے خانے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ کیونکہ دماغ کو کاسہء سر سے نکالنا خاصہ دقت طلب اور محنت کا کام ہے اسلئے دماغ سے اس قسم کی کوئ چیز تیار کرنا مشکل ہے۔ اتنی محنت کے بعد اسے صرف کھایا جا سکتا ہے۔ اسے فرائ کر لیا جائے تو بھیجا فرائ کہلاتا ہے۔ کچھ دماغ بغیرنکالے فرائ ہو جاتے ہیں نہیں معلوم کہ اس میں خوبیءدماغ ہوتی ہے یا خوبیءترکیب ۔

دوسرے مصرعے کے پہلے حصے میں لگتا ہے کہ کچھ دعوتوں کا تذکرہ ہے، کیونکہ حروف کی ترتیب ادھر ادھر ہے اس لئے کچھ الجھن پیدا ہو گئ ہے۔ ہوسکتا ہے یہ دواتوں کے بارے میں کچھ کہا گیا ہو۔ فی زمانہ دوات تو استعمال ہوتی نہیں اس لئے اب صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ کچھ احباب کا خیال ہے کہ ان الفاظ کا دشمنی اور دشمنوں سے بھی تعلق ہوتا ہے۔ لیکن ہم چونکہ صرف محبت کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اس لئے اس خیال کے پیچھے نہیں جاتے۔ اسکے پیچھے جائیں ہمارے دشمن جو ایک نہیں کئ ہیں۔ اس بہانے کچھ دنوں تک ہماری جان ان سے چھوٹی رہے گی۔

اب رہا حکائتیں اور صنم کا تعلق۔ یہ سب سے زیادہ مشکل تعلق ہے۔ حکائیتیں وہ باتیں ہوتی ہیں جو حقہ پیتے ہوئے کی جاتی ہیں۔حقے کئ اقسام کے ہوتے ہیں اور باتیں کئ طرح کی۔ جتنے حقے اتنی باتیں۔ اب بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ صنم کی ان باتوں کا تذکرہ ہو رہا ہے جو وہ حقہ پیتے ہوئے کرتا ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حقہ کوئ اور پی رہا ہو اور باتیں صنم کر رہا ہو۔ یااسکے برعکس صورتحال ہو۔ دراصل اس
سارے شعر کی جان اور مطلب انہی دو الفاظ میں پوشیدہ ہے۔ کہاں ہے میرا حقہ، اسکے بغیر دماغ
فرائ کرنے میں مزہ نہیں آتا۔ ایک لمبی گڑ گڑ کے بعد۔ میرا خیال ہے کہ اب اس شعر کا مطلب بالکل
واضح ہے۔ اس سے زیادہ وضاحت سے شعر کی شعری خوبصورتی ختم ہو جائے گی۔

یہ دوسرا شعر ہے

تونے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کردیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہء کائنات میں

لیکن اس سے پہلے میں آپکی شکل کی طرف دیکھتی ہوں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ منہ میں نیم کی پتیوں کا بھرتہ دبائے بیٹھے ہیں۔ ایک اور گڑ گڑ۔ اور میرے حقے کو اتنی خشمناک نگاہوں سے کیوں دیکھ رہے ہیں۔ یہ تو اقبال کے شعر کی تشریح کرتے وقت پینا پڑتا ہے۔ ورنہ ماحول کیسے بنے گا۔ کیا کہا بہت بری بات ہوتی ہے عورتوں کا حقہ پینا۔ چلئیے بھئ ایسا ہے تو لے جا یہ حقہ۔اب اس دوسرے شعر کی تشریح کسی اور دن، جب یہ والے صاحب نہیں ہونگے۔ کیا کہایہ ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور جہاں انکی پسند کے خلاف کام ہورہا ہو۔ وہاں سے تو ٹلتے نہیں۔ اوئے، فیر یہ حقہ ان باءو جی کو دے ۔ تھوڑی گڑ ہی گڑ ہی کرلیں۔ پرشان نہ ہوں جی، جب تک نیم کی پتیوں کے بھرتے کا اثر زائل ہوتا ہے کچھ انکی سنتے ہیں۔ غالب سے معذرت کے ساتھ،

پھر دیکھئے انداز گل افشانی گفتار
رکھدے کوئ حقہ وچلم میرے آگے

امید ہے دوسرے شعر کا مطلب بھی سمجھ آگیا ہوگا


Sunday, July 5, 2009

ایک تعلق کی بابت


سائنس اور تجربات سے تنگ آجانے والے لوگ چاہیں تو یہ پیرا نہ پڑھیں۔تو ایک دفعہ یوں ہوا کہ ایک سائنسداں تھا۔ وہ ایک مینڈک پر تجربہ کر رہا تھا۔ اس نے مینڈک کی ایک ٹانگ کاٹی، اسے میز پہ رکھا اور میز پہ ایک زور کا ہاتھ مارا اور کہا اچھل۔ مینڈک اچھلا اور دھپ سے میز پر بیٹھ گیا۔ اگلے مرحلے میں
اس نے دوسری ٹانگ کاٹی اور دوبارہ اسے میز پہ رکھا اور زور سے میز پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا اچھل۔ مینڈک موصوف پہلے کے مقابلے میں تھوڑا کم اچھلے اور پھر میز پہ آرہے۔ اس سائنسداں نے باری باری چاروں ٹانگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا اور اخیر میں جب انہوں نے مینڈک کو اچھلنے کا حکم دیا تو اس نے اپنی جگہ سے جنبش بھی نہ کی۔آپ میں سے بیشتر کو اندازہ ہوگیا ہوگاکہ ایسا کیوں ہوا۔ اس سائنسدان کو بھی اندازہ ہوا۔ اس نے اپنی نوٹ بک نکالی اور اس پر ان تجربات کا نتیجہ لکھا جو کچھ یوں تھا کہ اگر مینڈک کی چاروں ٹانگیں کاٹ دی جائِں تو اسے کچھ سنائ نہیں دیتا۔

خدامزید مینڈکوں کو ایسے سائنسدانوں سے بچائے۔ یہ میں ان لوگوں کی تسلی کے لئے کہہ رہی ہوں جو سائنس اور اس کی سفاکیت پہ اب تک افسردہ ہونگے۔ کچھ ایسے نتائج ہم بھی اخذ کرتے ہیں جیسے پسند کی شادیوں کی وجہ سے طلاق کا تناسب بڑھ گیا ہے۔یہ اکثر ان لوگوں کا اخذ کیا ہوا نتیجہ ہوتا ہے جو اس سلسلے کے خلاف ہیں۔ اب اگر میں اپنے اطراف میں ہونے والی پسند کی شادیوں پہ نظر ڈالوں اور ان کی خوشحال زندگیوں پہ رشک کرتے ہوئے یہ بیان دوں کہ کہ طلاق کا تناسب اس لئے بڑھ گیا ہے کہ اب تک زیادہ تر شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں اور فریقین اسے غلط ثابت کرنے کے لئے معاملات کو اس مقام تک لیجاتے ہیں یعنی طلاق لینا اور دینا چاہتے ہیں تو یہ میری کوتاہ نظری ہو گی ۔یعنی یہ بات بھی کچھ ایسی صحیح نہ ہوگی۔

اس بات پہ مزید آگے بڑھنے سے پہلے میں یہ ضرور چاہوں گی کہ آپ اپنے نزدیک اتوار کا جنگ اور ڈان کا اشتہارات کا اخبار رکھ لیں۔ جنگ اخبار کے سلسلے میں آپ کو فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ اخبار اور اشتہار کے درمیان حد بندی کہاں ہوتی ہے تو اس سلسلے میں مزید اشارے دیدوں کہ ضرورت رشتہ کا اشتہار والا اخبار لے لیں۔اور اس میں ضرورت رشتہ کے وہ اشتہار پڑھئیے گا جوکسی میرج بیورو کی طرف سے نہیں بلکہ لڑکے یا لڑکی کے والدین کی طرف سے ہوتے ہیں۔

لڑکے کے سلسلے میں اکثر اشتہارات میں یہ مطالبہ ہو گا کہ لڑکی بہت خوبصورت، لمبی، دبلی، پتلی اور واقعی گوری ہو۔ یا لکھا ہوگا کہ واقعی خوبصورت ہو۔۔ اس کےعلاوہ کم عمر، تعلیم یافتہ اور اچھے مختصر گھرانوں سے تعلق ہو۔ مختصر گھرانوں سے مراد لڑکی کے بہن بھائ زیادہ نہ ہوں۔ اور اگر اکلوتی ہو تو کیا بات ہے نہیں تو اس کے نام کوئ زمین جائیداد ہو یا بزنس میں سپورٹ کر سکتے ہوں۔

دوسری طرف ایک آیئڈیل لڑکے میں کیا خصوصیات ہونی چاہئیں ان کا اندازہ بھی ان کو پڑھ کر ہو سکتا ہے۔ ان کو میں ترجیح کے لحاظ سے ایسے لکھ سکتی ہوں۔
تنخواہ، چھ، سات ہندسوں میں ہو۔
کسی باہر ملک، یعنی امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، انگلینڈ یا کسی بھی فرسٹ ورلڈ دنیا کی شہریت ہو۔
کوئ پیشہ ورانہ ڈگری ہو۔
اور اگر یہ سب چیزیں نہ بھی ہوں اور وہ صرف ہماری بیٹی سے شادی کرنے کے لئیے تیار ہو تو ہم دیکھیں گے کہ ہم اس کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ ہم صرف دیکھیں گے نہیں بلکہ جو بھی مال مصالحہ خرچ کر سکتے ہیں ضرور کریں گے۔

ان دونوں فہرستوں میں ہم دیکھیں گے کہ ایسی کسی بات کا مطالبہ نہیں کیا گیا جو ایک کامیاب شادی شدہ زندگی کے لئے چاہئیے ہوتی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ اس باب میں بھی کامیابی کے اصول اور ضابط سب کے لئے یکساں نہیں ہوتے۔ اگرکسی لڑکی کی شادی ایک ایسے گھرانے میں ہوئ ہو جہاں پیسے کی ریل پیل ہو تو وہاں کسی کو اس بات کی فکر نہیں ہوگی کہ آپ پلاءو کتنا شاندار بناتی ہیں اس کے لئے ان کے پاس ایک باورچی ہوگا۔ البتہ سب یہ ضرور دیکھیں گے کہ آپ بات چیت کسطرح کرتی ہیں اور سماجی تعلقات کس طرح نبھاتی ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کےجیون ساتھی نے اپنی زندگی خود تعمیر کی اور وہ ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اسے آپ کا بچت کرنا، کھانا پکانا، سلائ کرنا یہ سب چیزیں خاصا سمجھداری کا کام لگے۔ اسی طرح اگرآپکی جیون ساتھی ایک گھریلو خاتون ہوں تو شاید وہ آپکی انکے حسن یا کھانے یا بہتر طور پہ گھر سنبھالنے کی تعریفوں سے خوش ہو جائیں۔ لیکن اگر آپکی بیگم خود بھی جاب کرتی ہیں تو پھر انہیں آپ کا گھریلو امور میں ہاتھ بٹانا، مل بیٹھ کر بجٹ بنانا بہت اچھا لگے۔ لیکن ان سارے امور میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ظاہری خصوصیات کا اثر کچھ دنوں کے لئے ہی ہوتا ہے۔ اور باہمی ہم آہنگی کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔

چونکہ بیشتر شادی کے یہ اشتہارات والدین کی طرف سے ہیں تو یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ والدین کتنی ذمہ داری سے اپنا یہ فرض نبھا رہے ہیں۔ اب کوئ ایک ہزار لڑکیاں دیکھنے کے بعد انہیں ایک صحیح لڑکی مل جاتی ہے تو شادی کے ایک مہینے بعد وہی صحیح لڑکی ایک دم غلط ہوتی ہے۔ توبہ، بات کرنے کی تمیز نہیں اسے تو، انڈہ تک ابالنا نہیں آتا، کیا ڈگری کو لیکر چاٹے گا ہمارا بیٹا، اپنے بستر کی چادر تک ٹھیک کرنے کی تو فیق نہیں ہوتی۔ ہر وقت بیوٹی پارلر کے چکر، اےتنا پیسہ برباد کرتی ہیں، لگتا ہے ماں باپ نے کوئ تمیز نہیں سکھائ۔ لڑکے کے سلسلے میں یہ سننے کو ملے گا کہ ہماری بیٹی کا کوئ خیال نہیں کرتا، بہت مذہبی ہیں یا بہت آزاد خیال، کنجوس ہے یا فضول خرچ اسی طرح کی دیگر باتیں۔ اب اگر ان سے کوئ پلٹ کر پوچھے کہ دیکھتے وقت تو آپ نےیہ سب نہیں دیکھا تھااس وقت آپ کی ترجیحات کچھ اور تھیں۔ خریدتے وقت آپ کو ٹماٹر چاہئیے تھے اور اب آپ اس میں آلو کی خصوصیات تلاش کر رہی ہیں۔ یعنی غالب کی زبان میں عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا۔ دنیا کی بنیادی سائنس جس میں کوئ اختلاف نہیں یہ کہتی ہے کہ ٹماٹر ہمیشہ ٹماٹر رہے گا اور آلو ہمیشہ آلو۔۔

جس چیز کی بنیاد ہی غلط ہو وہ کیسے مضبوطی کی طرف جا سکتی ہے۔ نتیجتاً وہی ماں با بہن بھائ جو کچھ عرصے پہلے تک رشتہ کرانے میں تندہی سے مصروف ہوتے ہیں۔ وہی اب دونون فریقین کے اوپر زورآزمائ کرنے سے لگ جاتے ہیں۔ یہ بات آپ نے بھی اکثر لڑکوں کے والدین کو کہتے سنی ہے کہ ہمارے لڑکے کو لڑکیوں کی کوئ کمی نہیں۔ ابھی چھوڑ دے تو چار اور مل جائیں گی جبکہ لڑکیوں کے والدین بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری لڑکی ہم پہ بوجھ نہیں یا یہ کہ وہ خود اپنا بوجھ اٹھا سکتی ہے۔

پسند کی شادیاں بھی اسی صورت میں ناکام ہوجاتی ہیں جب آپ ٹماٹر پسند کرکے اسے آلو بننے پہ مجبور کریں ۔ دوسری اہم وجہ ہمارے معاشرے میں پسند کی شادیوں کو نا پسند کرنا ہے۔ اسے عام طور پہ لڑکیوں کی بے حیائ سے وابستہ کیا جاتا ہے حالانکہ رسول اللہ کے زمانے میں بھی خواتین اورمردحضرات اپنےپسند کے مرد اور خواتین کو اپنا رشتہ بھیجا کرتے تھے۔ لیکن خدا جانے کیوں اب ہمارے یہاں اس کے لئے اتنے سنگین الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ جہاں خواتین کا اپنی پسند کے متعلق کچھ کہنا نری بے حیائ ہے وہاں جیسے ہی کوئ لڑکا اپنے والدین کے سامنے یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اب چاہے اس لڑکی کو خود بھی نہ پتہ ہو کہ وہ موصوف ایسا چاہتے ہیں۔ لڑکے کے گھر میں ایک ناگواری پھیل جاتی ہے۔ اور کئ صورتوں میں تو میں نے یہ دیکھا کہ لڑکے کی والدہ اور بہنیں فوری طور پہ ایک عدد لڑکی کی تلاش میں نکل کھڑی ہوتی ہیں کہ کسی صورت اس لڑکی سے شادی نہ ہوجائے۔ وجہ پوچھیں کیوں؟ انتہائ تگ و دو کے بعد جو جواب نکلے گا وہ کچھ اس طرح سے ہو گا کہ شادی سے پہلے اگر ان کا بیٹا اسےکے لئے انکی مرضی کے خلاف جانے کو تیار ہے تو شادی کے بعد تو انکے بالکل قابو میں نہیں رہے گا۔ ایک تو یہ لفظ قابو ، قابو میں ہی نہیں آتا اور زندگی بے قابو ہوجاتی ہے۔

یہاں پسند کی شادیوں سے میری مراد مغربی انداز کی کورٹ شپ نہیں ہے۔ نہ ہی میری مراد ٹین ایجرز کےانفیچوایشن سےہے۔ جو وہ اپنے زمانے کے فلمی ہیرو اور ہیروئن سے متائثر ہو کر کرتے ہیں۔
بلکہ یہ وہ پسندیدگی ہے جس میں ہم اپنے ارد گرد کےماحول میں کسی شخص کو زندگی بسر کرتے دیکھتے ہیں اور اس کے انداز اور شخصیت کو اپنے لئے پسندیدہ پاتے ہیں۔ اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں اسکے ساتھ زندگی گذارنے میں آسانی ہو گی۔

طلاق کی شرح کے بڑھنے کا تعلق اپنی یا والدین کی پسند سے شادی کرنے سے نہیں ہے بلکہ جیسا کہ من حیث القوم ہم زندگی کے ہر شعبے میں یہ کرتے ہیں کہ ہماری ضرورت تو کچھ اور ہوتی ہے لیکن بھیڑچال یا لالچ میں لیتے کچھ اور ہیں، اسی میں مضمر ہے کچھ صورت خرابی کی۔۔ جب نیت میں فتور ہو تو تعلق میں برکت کیسے ہو سکتی ہے۔