Saturday, October 30, 2010

گا میرے منوا

یہ نئ نسل اس انداز سے نکلے سر بزم
کہ موءرخ سے گنہگار نہ ہونے پائے

لیکن تاریخ کی کلاس لینے کے بعد مصطفے  زیدی نے کبھی سوچا کہ  افتادگی ء زمانہ سے چکرائی ہوئی نسل کو قابو میں رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئیے۔ ایک ذہن میں آنے والے خیال کو  تو اس ویڈیو میں ددیکھ سکتے ہیں۔


جب چکرایا ہوا سر اپنے ماحول میں واپس پہنچتا ہے تو اپنا حال دیکھ کر اسے حال آجاتا ہے۔ کچھ لوگ اسکے لئے روحانی علاج تجویز کرتے ہیں اور کچھ کا کہنا ہے کہ چونکہ موسیقی روح کی غذا ہے اس لئے بہترین روحانی علاج گانا ہے۔ دانا کہتے ہیں کہ گائیے ، رونا اور گانا کسے نہیں آتا۔ لیکن ایسی سنی سنائ باتوں میں مت آجائیے گا کہ ایسا بھی ہوتا ہے۔


گانا جنوبی ایشیا کی ثقافت کا حصہ رہا ہے اور ایک قوم کی مذہبی عبادات کا قصہ بھی۔ یہاں کی سنگیت کی تاریخ اتنی شاندار رہی ہے کہ مائیکل جیکسن نے بھی اپنی فنی مہارت کو اس کے ساتھ مدغم کرنے کا مزہ لیا۔


یقین آیا، یہ مائیکل جیکسن ہے۔ 
ہمم لیکن پھر تاریخ۔ تاریخ ایک چلمن کی طرح راستے میں کیوں کھڑی ہو جاتی ہے۔ آئیے تاریخ اور چلمن کے درمیان تعلق نکالنے کی کوشش کرتے ہیں



  اس نتیجے کو سنگیت سے ضرب دیں۔  اگر کوئ تعلق نہ نکل پائے تو اس تحریر کو دوبارہ سے پڑھیں اور مکمل تجزئیے کے لئے ویڈیوز کو دوبارہ دیکھنا مت بھول جائیے گا۔ تعلق نکل آنے کی صورت میں  بے شمار فوائد ہیں۔ فوری طور پہ لاحول پڑھنے کا ایک صحیح موقع ملے گا۔  مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی،  آپ،  ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو والی صورت سے باہر نکل آئیں گے۔ معاشی حالات بہتر بنانے کے لئے مالشئیے کا کاروبار برا نہیں عالمی کساد بازاری میں اس قسم کے پیشوں سے مستقل ذریعہ ء روزگار رہنے کا امکان رہتا ہے۔
چلیں پھر گانا شروع کریں۔ 
ایک
دو
تین
گا میرے منوا گاتا جا رے
   
 

Friday, October 29, 2010

اسباب بغاوت ہند اور لائل محمڈنز آف انڈیا-۲


ہنگامے کے دنوں میں کچھ مسلمان علماء نے ایسے مضامین اور رسالے لکھے جن میں عیسائیوں کو نصاری کہا گیا تھا۔ انگریز حاکموں نے اسکا برا مانا۔ انہوں نے سمجھا کہ جیسے یہودی حقارت میں حضرت عیسی کو ناصری کہتے ہیں اسی طرح مسلمان لکھنے والوں نے عیسائیوں کی توہین کی ہے اور یہ لوگ دل سے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ انگریزوں کا رد عمل اس سلسلے میں اتنا شدید تھا کہ انہوں نے بعض ایسے علماء اور مصنفین کو پھانسی دے دی۔ سر سید نے فوری طور پہ ایک رسالہ نصاری لفظ کی تحقیق پہ لکھا اور یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں نے جو عیسائیوں کو نصاری لکھا ہے تو اسکی مشتق ناصری نہیں بلکہ نصر ہے۔ یہ قرآن سے بھی ثابت ہے۔ قرآن میں کہیں ناصرہ کے قریہ کا تذکرہ نہیں آیا۔ بلکہ حضرت عیسی اور انکے حواریوں کے نصاری ہونے کا بیان اس طرح آیا ہے کہ حضرت عیسی نے کہا من انصاری الی اللہ تو حواریوں نے کہا نحن انصاراللہ۔ سورہ مائدہ میں ارشاد ربانی ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو پائے گا اہل کتاب میں سب سے زیادہ مسلمانوں کا دوست انکو جنکا قول ہے کہ ہم نصاری ہیں انہوں نے اس مضون کا ترجمہ انگریزی میں کروایا اور سب انگریز حاکموں کو اسکی نقل بھیجی۔ یہ مضمون اردو ااور انگریزی اخبارات میں بھی چھپوایا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد لفظ نصاری کا قصہ ختم ہوا اور اس بناء پہ مسلمانوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ بند ہوا۔



اسی وقت انگریز اور ہندو مصنفین نے بھی تحاریر کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا اور ان میں سے اکثر کا مءوقف یہ تھا کہ مسلمان مذہباً عیسائیوں کے دشمن ہیں انکا مذہب انہیں عیسائیوں کے خلاف جہاد کرنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ عیسائیوں کے خلاف جہاد ان پہ مذہباً فرض ہے۔ وہ انگریزی حکومت کے خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ پروپیگینڈہ انتہائ زہریلا تھا اور اس سے مسلمانوں کا ہندوستان میں بطور مسلمان رہنا مشکل نظر آرہا تھا۔ یہ تباہی بالکل سامنے تھی اور واضح ہوتی جارہی تھی۔ سر سید ان الزامات کا اثر زائل کرنے کمر بستہ ہوئے۔ انہوں نے رسائل کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کا نام لائل محمڈنز آف انڈیا رکھا۔ اس میں پہلے تو انہوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ مذہب کی رو سے ہندوستان کی تمام اقوام میں صرف مسلمان ہی ایسی قوم جو انگریزوں کی وفادار ہو سکتی ہے
قرآن اور احادیث کا حوالہ دیا کہ جسطرح مسلمان اپنے رسول پہ ایمان رکھتے ہیں اسی طرح وہ حضرت عیسی اور بائبل پہ یقین رکھتے ہیں. اسلام کسی ایسے گروہ یا جماعت کے خلاف جہاد کی اجازت نہیں دیتا جو انکے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مخل نہ ہو۔ پھر سر سید نے ہندوستان بھر سے ایسے مسلمانوں کے کوائف اکٹھا کئے جو ہنگامے کے دنوں میں انہی کی طرح انگریزوں سے خیر خواہی اور ہمدردی کا رویہ رکھا اور انکی حفاظت کے لئے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانوں کی قربانی دی۔
انگریزوں کا ایک عام عقیدہ اس وقت یہ تھا کہ اسلام اور تہذیب و شائیستگی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ سر سید نے دلیلیں اور مستند حوالے اکٹھے کرکے یہ ثابت کیا کہ اسلام اور صرف اسلام ہی سب سے بڑھ کر تہذیب و شائیستگی، خوش اخلاقی اور دوسروں سے ہمدردی کا سبق دیتا ہے۔

یہ رسالے ظاہر ہے مسلمانوں کی طرفداری میں لکھے گئے تھے اس لئے سر سید لکھتے ہیں کہ۔
ہاں یہ بات تو مجبوری کی ہے کہ میری پیدائیش ہندوستان میں ہوئ اور میں بلاشبہ مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا ذکر خیر اس کتاب میں لکھتا ہوں۔

سر سید کی ہمہ گیر اور مختلف النوع قومی جد وجہد کے لئے مولانا صلاح الدین احمد اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں
ایک معرکہ ء عظیم ہے جس کے مختلف محاذوں پہ بیک وقت یورش جاری ہے اور دفاع بھی۔ اور بڈھا سپہ سالار ایک ہاتھ میں دوربین اور دوسرے میں شمشیر عمل لئے ہر مورچے پر مثل برق پہنچتا اور مثال ابر گرجتا ہے۔

جاری ہے

اسباب بغاوت ہند اور لائل محمڈنز آف انڈیا-۱


اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے بارے میں سر سید کا مئوقف تھا کہ یہ نہ تو ملکی بغاوت تھی نہ کوئ سازش بلکہ محض سپاہیوں کی حکم عدولی تھی ان کارتوسوں کے سبب جس میں اطلاع یہ تھی کہ گائے اور سوءر دونوں کی چربی شامل تھی اور جسے استعمال سے پہلے دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ یہ چیز انگریز حکومت کی مختلف پالیسیوں سے پہلے سے شاکی ہندو اور مسلمان دونوں کے جذبات بھڑکانے کا باعث بنی۔ اس  نے پھیل کر مسلمانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور ایک عام تائثر یہ بنا کہ یہ سب مسلمانوں کا کیا دھرا تھا۔

اپریل ، ۱۸۵۸ میں مراد آباد واپس پہنچتے ہی انہوں رسالہ اسباب بغاوت ہند لکھنے کا کام شروع کیا۔جس میں انہوں نے شواہد کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اس میں ساری غلطی انگریز حکومت کی تھی۔ انہوں نے ہندوستانیوں کے جذبات و احساسات کو اپنے روئیے اور ناروا سلوک بری طرح مجروح کیا ہوا تھا۔ سپاہی اور دسرے لوگ انگریزوں کے خلاف جذبات سے بھرے ہوئے تھے کارتوسوں کے قصے نے جلتی پہ تیل کا کام کیا اور یہ ہنگامہ اچانک بھڑک اٹھا۔
سر سید نے اس نازک وقت میں وہ تمام الزامات جو لوگوں کے خیال میں حکومت پہ عائد ہوتے تھے دلیری اور جراءت کے ساتھ بیان کر ڈالے۔ یہی نہیں بلکہ اسکی پانچ سو کاپیاں سن ۱۸۵۹ میں تیار کر والیں۔ وہ اس رسالے کو لندن میں ارکان پارلیمنٹ کو بھیجنا چاہتے تھے تاکہ انہیں صحیح صورت حال سے آگاہی ہو۔
انکے دوستوں اور خیر خواہوں نے انکو اس اردے سے باز رکھنا چاہا۔ لوگوں نے مشورہ دیا ان کتابوں کو جلا ڈالو اور اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالو۔
سرسید نے کہا کہ
میں ان باتوں کو گورنمنٹ پر ظاہر کرنا ملک اور قوم اور خود گورنمنٹ کی خیر خواہی سمجھتا ہوں۔ پس ایک ایسے کام پر جو سلطنت  اور رعایا دونوں کے لئے مفید ہو مجھ کو کچھ گزندبھی پہنچ جائے تو گوارا ہے۔
انہوں نے ہمت کی اور اسکی پانچ سو کم کاپیاں ارکان پارلیمنٹ اور برطانوی حکومت اور انڈیا آفس میںتقسیم کرنے کی غرض سےبذریعہ ڈاک بھیج دیں۔ ایک کاپی گورنمنٹ آف انڈیا کو خاص گورنر جنرل کے ملاحظہ کے لئے پیش کر دی گورنر جنرل نے اسکا ترجمہ کروا کے مندرجات کا جائزہ لیا اور کونسل میں ممبران کے اجلاس میں اس پر بحث کی۔اگر چہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ یہ تحریر اصلاح احوال کے لئے ہے۔ لیکن کونسل کے اک ممبرسیل بیڈن کو جو اس وقت سیکریٹری خارجہ تھا اس پہ شدید اعتراضات ہوئے اور اس نے نہ صرف اس تحریر کو بغاوت پہ محمول کیا۔ بلکہ مصنف پہ مقدمہ چلا کر ضابطے کی کارروائ عمل میں لانے کا کہا۔ ۔
بیڈن نے سرسید سے ملاقات کے دوران تلخی کا مطاہرہ کیا اور کہا کہ وہ اگر اپنے عمل میں مخلص ہوتے تو اسکی اشاعت نہ کرواتے اور تحریر صرف گورنر جنرل کو پیش کرتے۔ جب سر سید نے بتایا کہ پورے ہندوستان میں اسکی ایک کاپی گورنر جنرل کو بھیج ہے اور ایک دو کاپیاں انکے پاس محفوظ ہیں اور باقی سب لندن بھجوا دی گئ ہیں تو اسے یقین نہ آیا۔ تحقیق ہوئ اور سر سید کی بات درست نکلی۔ بیڈن کے دل سے بد گمانی دور ہوئ اور وہ انکا دوست بن گیا۔
لندن میں اس رسالے کے متعدد ترجمے ہوئے اور اہل سیاست اور اہل حکومت میں اس پہ بحث ہوئ۔ لیکن بالآخر وہ سر سید کے نکتہ ء نظر کے قائل ہو گئے۔
اس رسالے میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ گورنر جنرل کی کونسل میں کوئ مقامی رکن موجود نہیں اس لئے اعلی انتظامی سطح پہ ہندوستانیوں کی نمائیندگی اور انکے نکتہ نظر کے اظہار کی کوئ صورت نہیں۔ انہوں نے مقامی باشندوں کی شمولیت پہ زور دیا اور انکی یہ تجویز مان لی گئ۔ لارڈ لٹن کے دور میں سر سید کو گورنر جنرل کی کونسل کا رکن نامزد کیا گیا۔ اسی رسالے سے مسٹر ہیوم کے ذہن میں انڈین نیشنل کانگریس قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا۔

Wednesday, October 27, 2010

روڈ پہ

مشعل کو بڑا مزہ آتا ہے جب کسی کو ڈانٹ پڑ رہی ہو۔ اور اگر اسے ذرا بھی شبہ ہو کہ کسی کو ڈانٹ پڑنے والی ہے تو وہ موقع پہ جم جاتی ہے سو بعض اوقات گھر میں لوگوں کو اس وجہ سے ڈانٹ موءخر کرنی پڑتی ہے۔ کیونکہ انکی موجودگی کی وجہ سے ڈانٹ میں وہ کڑک نہیں پیدا ہو پاتی جس کا اثر تا دیر رہے۔
کسی شخص کو بے وقوف کہنا وہ عیاشی ہے جسے وہ وقتاً فوقتاً حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس لئے جب بھی کسی کو بے وقوف کہا جائے وہ ہمیشہ وجہ پوچھتی ہیں کہ اسے بے وقوف کیوں کہا گیا۔ اسکا مقصد عبرت حاصل کرنا نہیں بلکہ دوبارہ کسی سے بھی اس حرکت کے سرزد ہونے پہ انکا سب سے پہلے بے وقوف کہنے کی تیاری ہے۔
اپنی مونٹیسوری آتے جاتے ہوئے، دن میں ایک وقت وہ میرے ساتھ اور دوسرے وقت اپنے ابا کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی ابا کی زیادہ مصروفیت کی وجہ سے دونوں وقت یہ میری ذمہ داری ہو جاتی ہے۔ رستہ بھر ہم دونوں باتیں کرتے جاتے ہیں اس میں انکا حصہ زیادہ ہوتا ہے لیکن زبان کے ساتھ وہ خود بھی بہت متحرک رہتی ہیں اس لئے ڈرائیونگ کے دوران  ہر تھوڑی دیر بعد مجھے کوئ نصیحت کرنی پڑتی ہے۔  مثلاً سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھو، چہرہ آگے کی طرف رکھو، گاڑی سے ہاتھ باہر بالکل نہیں نکالنا، پیچھے والی سیٹ پہ جانے کی کوشش نہ کرو، پیچھے سے آگے آنے کی حماقت نہیں کرنا، چلتی گاڑی میں پانی خود سے نہیں پینا وغیرہ وغیرہ۔
ابھی تین چار دن پہلے جب میں نے ایک موٹر سائیکل والے کو اپنے برابر سے مسکراتے ہوئے نکلتے دیکھا تو  روڈ سے نظر ہٹا کر ان پہ ڈالی، وہ کھلی کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالے پاس سے گذرنے والوں سے جذبہ ء خیر سگالی کا مظاہرہ کر رہی تھِں۔ میں  بالکل اصل والے غصے میں چنگھاڑی۔ مشعل کتنی دفعہ منع کیا ہے چلتی گاڑی میں سے ہاتھ باہر نہیں نکالا کرو، بالکل یاد نہیں رکھتیں تم۔ انہوں نے میرے چہرے کے تائثرات دیکھے اور پھر سیٹ پہ بیٹھ گئیں۔ کچھ منٹ خاموشی رہی۔ میں نے کن انکھیوں سے دیکھا وہ دونوں ہاتھ گود میںرکھے ، منہ پھلائے ڈیش بورڈ کو تک رہی تھیں۔ اس وقت میں نے انکے حواسوں کو مہمیز کرنے والا جملہ بولا۔ ارے یہ کیا؟ فوراً ہی آواز آئ کیا ہوا ماما؟ یہ بس پہ اتنے سارے لوگ چڑھے بیٹھے ہیں۔ کراچی میں یہ منظر روز کا منظر ہے۔ لیکن میں نے مشعل کی توجہ  اس طرف کرائ۔ محض گاڑی کے ماحول کے تناءو میں کمی کے لئے۔
کتنے بے وقوف لوگ ہیں چھت پہ بیٹھے ہیں، کتنا خطرناک ہے یہ گر بھی سکتے ہیں۔ میں نے یہ سارے ڈائیلاگز بولے کہ مشعل کے پسندیدہ ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا یہ تو بے وقوف لوگ ہیں ایسا تو نہیں کرنا چاہئیے۔ ہم تو اپنی گاڑی کے اندر بیٹھے ہیں۔ ہے ناں ماما۔ اگریہ گر جائیں تو چوٹ لگ سکتی ہے پھر ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے گا۔ وہاں ڈاکٹر انجکشن لگائے گا پھر روئیں گے کہ تکلیف ہو رہی ہے۔ مشعل نے اپنی آپ بیتی کو شامل کر کے ایک پورا ڈرامہ کھڑاکر لیا۔ اسکول پہنچنے تک بے وقوف لوگوں، ہسپتال اور ڈاکٹر کے تذکرے میں ہم الجھے رہے۔ اسکے بعد سے وہ روڈ پہ ایسی گاڑیوں کو نظر میں رکھتیں کہ پھرلوگوں کو بے وقوف کہنے کا موقع ملے گا۔
 آج صبح بھی جب ہم ایک چورنگی سے مڑے تو سامنے ایک رکشہ جا رہا تھا۔ میں نے تو دھیان نہیں دیا کہ روڈ کہ باقی پیرامیٹرز کو دھیان میں رکھنا تھا۔ لیکن مشعل کی آواز آئ۔ کتنا بے وقوف بچہ ہے رکشے کے اوپر بیٹھا ہے ایسا تو نہیں کرنا چاہئیے۔ یہ گر بھی سکتا ہے، اسے چوٹ بھی لگ سکتی کتنا خنّاک ہے۔ ماما ہم تو ایسا نہیں کرتے ناں۔ میں نے دیکھا کہ رکشے کی چھت پہ ایک گیارہ بارہ سال کا بچہ جیسے تخت طاءوس پہ بیٹھا ہوا تھا۔  زیر لب مسکراہٹ سے کہا ہمم، ہم ایسا نہیں کرتے۔ پھر سوچا ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں ہم اسکے مقابلے میں بہتر سہولیات زندگی رکھتے ہیں۔  لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہی تھی کہ جو میری بچی کو پتہ ہے  یہ  پورا سچ نہیں ہے۔ اور مشعل کو اس پورے سچ کو جاننے میں وقت لگے گا۔ پھر وہ سامنے دیکھتے دیکھتے،  میری طرف مڑی۔ اور کہنے لگی، ماما لگتا ہے رکشے کے اندر جگہ نہیں ہوگی۔ میں نے کچھ حیرانی، کچھ مادرانہ فخر اور خوشی سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جومیں اس میں چاہتی ہوں۔ وجوہات پہ غور کرنا، جو نظر نہیں آرہا، اسکے بارے میں بہتر اندازہ لگانا اور پھر نتیجہ نکالنا۔

Monday, October 25, 2010

دل کی زبان

اپنے قارئین سے معذرت، جیسا کہ آپ نے محسوس کیا ہو گا کہ اس پوسٹ کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے۔ یہ پوسٹ میں نے آج صبح لکھی اور ابھی مکمل بھی نہ تھی کہ اٹھنا پڑا لیکن سیو کرنے کے بجائے پبلش کا بٹن دبا دیا۔  اب میں نے اسے مکمل کر دیا ہے۔

مزاروں کی مسلم آبادی میں بڑی اہمیت رہی ہے۔ جہاں شب برات کی عبادت میں قبرستان جانا ضروری ہے وہاں تصوف کے مختلف سلسلے اپنے اپنے انداز میں مزاروں پہ عرس منعقد کرتے ہیں اور عام لوگ اپنی خواہشوں کو ناممکنات میں سے سمجھ کر انہی مزاروں کا رخ کتے ہیں کہ صاحبان مزار جو کہ اب انکےعقیدے کے مطابق روحانی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ، اس کائینات کے خالق اعلی کے پاس انکی درخواست ذاتی طور پہ پہنچا سکیں اوراسکے لئے سفارش بھی کر سکے۔ ایک بڑی تعداد کو یقین ہے کہ انکے بیشتر مسائل اسی طرح حل ہوئے۔
لیکن مزار کے ان روحانی سلسلوں سے ہٹ کر جن پہ میں کچھ ایسا یقین نہیں رکھتی یہ لوگوں کو اپنی زندگی کی یکسانیت سے نجات دیتے ہیں۔  بر صغیر کی ہزار سالہ تاریخ میں انکا وجود مرکز میں رہا ہے اور ان صوفیوں نے اسلام کی سادگی سے عام لوگوں کو متعارف کرایا بجائے علماء کے علم نے۔ یہ انداز یہاں کے باشندوں کے ثقافتی انداز کے بھی قریب تھا۔ میلہ ٹھیلہ، طرح طرح کے لوگ کا ہجوم اور انکی عقیدت  کے مختلف مناظر۔ مجھے یہ مزار انسانی فطری آزادی کی چاہت نظر آتے ہیں۔

یہاں ایسی ایسی خواتین بھی عالم رقص میں نظر آتی ہیں جن کا سایہ بھی کبھی کسی نے عام زندگی میں نہیں دیکھا ہوتا۔ ایک عام عورت کی حیثیت وہ اپنی ذات کا کوئ استحقاق نہیں رکھتیں لیکن ایک جناتی مخلوق کا سایہ ان کی حکمرانی کے جذبے کی تسکین کرتا ہے۔ تمام زندگی ایسی چہار دیواری میں زندگی گذارنے والیاں سال میں ایک دفعہ کسی مزار پہ پہنچنے کا موقع حاصل کرتی ہیں اور پھر رج کر اپنی جسمانی آزادی کو استعمال کرنے کا مزہ چکھتی ہیں۔ ان پہ کسی جن کا سایہ ہے یا وہ گھٹن کا شکار ہیں۔ یہ کوئ نہیں جانتا، سب دور سے کھڑے تماشہ دیکھتے ہیں۔ وہ حالت حال میں ہے۔

پورے پورے خاندان، بڑی بڑی گاڑیاں پکڑتے ہیں اور مزارات کا رخ کرتے ہیں۔ خیمے لگاتے ہیں اور تین چار دن یا اس سے بھی زیادہ وقت گذارتے ہیں۔ مختلف قسم کے عقائد کا فرق رکھنے کی وجہ سے کچھ لوگ ان تمام رسومات کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ میرا بھی ذہنی رجحان اس سمت نہیں۔ آج تک جن مزارات پہ گئ۔ اسکا مقصد وہاں پہ موجود خلقت کو محسوس کرنا ہی رہا۔ لیکن اپنے آپ سے ایک سوال کرتی ہوں کہ کیا اس تمام عمل سے لا تعلق رہنے کی وجہ سے میں اپنے آپکو اس کام کے لئے تیار پاتی ہوں کہ کسی مزار پہ جا کر ایک خودکش جیکٹ کے ذریعے خود کو اڑادوں۔ تاکہ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے ان مردہ ہستیوں کے مزار پہ جا کر میرے عقیدے کے مطابق غیر اسلامی حرکات نہ کریں۔ شرک نہ کریں، بدعت نہ کریں۔ اور اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم بزور طاقت انہیں ایسا کرنے سے روکیں گے۔
افسوس، میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی۔ میں انکے عقیدے کا مذاق اڑا سکتی ہوں، میں ان سے بحث اور دلیل بازی کر سکتی ہوں۔ اور بے زار ہو کر انہیں انکے حال پہ چھوڑ سکتی ہوں۔ لیکن یہ وہ کام ہے جو میں نہیں کر سکتی۔ اور معزز قارئین یہ سارے آپشنز جو میں نے آپکو بتائے ہیں یہ بھی میں ہر ایک کے ساتھ نہیں کرونگی۔ مجھے معلوم ہے کہ انسانوں کو اپنی زندگی میں کچھ ایسے موقعے اور جگہیں چاہئیے ہوتی ہیں۔ جہاں وہ اپنے جذبات مکمل طور پہ بہا سکے، جہاں وہ اپنی کم مائیگی کو فراموش کر سکے، جہاں وہ یہ یقین کر سکے کہ خدا اب بھی اس سے تعلق رکھتا ہے۔ بس ذرا کوئ ڈھنگ کا شخص خدا کے پاس اسکی وکالت کرتا رہے۔ وہ ناچتے ہیں کہ مینوں نچ کے یار مناون دے، وہ گاتے ہیں بلھے شاہ کی جاناں میں کون۔ مزراوں کے تخت سے حکمرانی کرنے والے یہ مردہ حاکم کبھی انکے دل کی زبان بول گئے تھے وہ آج تک اسکی لے کو اپنا محسوس کرتے ہیں۔ وہ اس صوفی بزرگ کا کلام گاتے ہیں، وہ ایک نظر آنے والے وکیل کو سجدے کرتے ہیں، وہ دل بھر کے روتے ہیں اور اپنے آپکو ایک نظر نہ آنے والی دنیا کے حوالے کر کے آخیر میں شانت ہو جاتے ہیں اس دریا کے ڈیلٹا کی طرح جو سمندر سے بس ملنے والا ہوتا ہے اس یقین کے ساتھ کہ اب اسکا سفر تمام ہوا اور سمندر کی ذمہ داری شروع ہو گئ۔
پھر یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان میں آزادی کے ان چھوٹے چھوٹے جزیروں کو اپنی بربریت کے لئے چنا ہے۔
اگر وہ اپنے عمل میں اتنے ہی مخلص ہوتے تو اس تمام کی وجوہات یعنی معاشرتی نا انصافی، غربت اور جہالت کو ختم کرتے۔ جب تک وہ یہ نہیں کریں گے انہیں یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انسان کو اسکے منتخب کردہ اظہار سے روکیں۔ انہیں دیوانوں کی طرح ناچنے دیں، گانے دیں،  رونےدیں۔  جنگل کے مور کی طرح، اس سے پہلے کہ وہ اپنے وجود میں موجود ان بد ہیئت پیروں سے آگاہ ہوں جو انکے دل سے  زندگی کی خوبصورتی کا سرور چھین لیتے ہیں۔ خدا کے لئے انکے دلوں سے آزادی کا یہ ہلکا سا احساس مت چھینیں، ورنہ یہ انہیں درندہ بنا دے گا۔
اگر آپ انہیں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو پھر انکی زندگی سے کم مائیگی کے احساس کو نکالیں انہیں اس چیز کا فخر دلائیں کہ وہ خدا کے کنبے میں شامل ہیں اور ابھی آپ جیسے زندہ لوگ ان کے حقوق کی جنگ لڑنے کو تیار ہیں۔ اور آپ انکے دل کی زبان سمجھتے ہیں۔


بابا فرید گنج شکر کے مزار پہ دھماکہ، کئ افراد ہلاک اور زخمی۔