Tuesday, December 28, 2010

سر سید، تبیین الکلام اور علی گڑھ


سر سید اپنی نو عمری سے یہ دیکھ رہے تھے کہ عیسائ مشنری کے علماء ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور مسلمانوں سے مناظرہ اور مباحثہ کرتے پھرتے ہیں۔ مسلمان علماء بھی ان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ایک جانب تو لوگ ان مشنریز کے زیر اثر آنے سے بچ گئے تھے مگر دوسری جانب یہ فریقین کے درمیان تلخی کا باعث بنتا تھا۔ جبکہ سر سید اپنے فہم پہ سمجھتے تھے کہ ان دونوں فرقوں کے عقائد میں فرق زیادہ نہیں ہے۔ جتنےدونوں طرف کے مولویوں نے بنا رکھے ہیں۔
اس پہ انہیں خیال آیا کہ ایسی کتاب لکھنی چاہئیے جس سے پتہ چلے کہ بائبل اورقرآن دونوں آسمانی کتابیں بہت سے معاملات میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان علماء جو کہ تحریف کی وجہ سے بائبل کو سراسر غلط سمجھتے ہیں اور عیسائ علماء جو قرآن کو سرے سے آسمانی کتاب تسلیم کرنے کو تیار نہیں  ان میں اس گمراہی کی اصلاح ہونی چاہئیے۔
اسے لکھنے کے لئے سرسید نے تفصیلی طور پہ بائبل کا مطالعہ کیا، عبرانی زبان سے واقفیت پیدا کی۔ تاکہ اسے اصل زبان میں پڑھ کر معلوم کریں کہ عیسائیوں نے کہاں کہاں تحریف کی ہے۔
عیسائ تین خداءووں کے قائل ہیں جبکہ بائبل میں تثلیث کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی طرح مسلمان نسخ آیت قرآنی کے قائل ہیں لیکن سر سید نےنے اپنی کتاب تبین الکلام اور خطبات احمدیہ میں ثابت کیا کہ قرآن حکیم کی کوئ آیت منسوخ نہیں ہوئ۔
بہر حال عیسائیت اور اسلام کے تعلق پہ انہوں نے کتاب تبیین الکلام لکھی۔ اس بارے میں مسلمانوں اورعیسائیوں دونوں میں شبہات اٹھے۔ سر آرنلڈ کے خط کے جواب میں سر سید لکھتے ہیں کہ

بایں ہمہ مجھ کو یقین ہے کہ میری زندگی میں عام مسلمانوں کی گالیوں اور نفرت سے مجھے نجات نہ ملے گی۔ عیسائ بھی میری تفسیر سے خوش نہیں ہو سکتے کہ جس طرح میں انجیل کی تعلیم کو صحیح اور درست سمجھتا ہوں اسی طرح تثلیث کے مسئلے کا قائل نہیں اس لئے کہ میں انجیل میں کہیں اسکی تائید یا وجود نہیں پاتا ہوں۔
مجھ کو یقین ہے کہ  مذہب اسلام صحیح ہے اور اسکی صحت اور وجود دونوں انجیل سے ثابت ہیں۔ اس لئے مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ کسی گروہ کے لوگوں کو خواہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائ خوش کروں۔ میں حق پہ ہوں اور اس خدا کو خوش کرنا چاہتا ہوں جس کے روبرو سب کو ایک دن جانا ہے۔ البتہ یہ میری خواہش رہی ہے کہ مسلمان اور عیسائیوں میں محبت پیدا ہو کیونکہ قرآن مجید کے موافق اگر کوئ فرقہ ہمارا دوست ہو سکتا ہے تو وہ عیسائ ہیں۔

وقت کے دھارے سے گذرتے ہوئے سر سید احمد خان کو یہ احساس ہوا کہ جب تک ہندوستان میں علم کی روشنی نہیں پھیلتی انکے ترقی کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ ادھر علوم جدیدہ، کے خزانے انگریزی میں دستیاب تھے۔ مسلمان انگریز سے نفرت کرتے تھے اور انگریزی سیکھنے کی طرف مائل نہ تھے۔ جبکہ ہندو بھی صرف اسی قدر انگریزی سیکھنے میں دلچسپی رکھتے تھے جو ملازمت کے حصول کو آسان بنادے۔
ان علوم کی طرف توجہ دلانے کی غرض سے سر سید نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سائینٹیفک سوسائیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے۔ جس کا اہم کام، اہم علمی و سائینسی کتابوں کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرا کے انکی اشاعت ہو۔
اس طرح سے ۱۸۶۳ میں غازی پور، جہاں سر سید بغرض ملازمت موجود تھے، میں یہ سوسائٹی وجود میں آئ۔ اس وقت کے وزیر ہند کو اسکا پیٹرن بنایا گیا، پنجاب اور یوپی کے گورنر اسکے وائس پیٹرن بنے۔ ملک بھر سے رئیس اور علم دوست لوگوں کو اسکا ممبر بنایا گیا۔
سر سید اگرچہ اس سوسائیٹی کے روح رواں تھے مگر انہوں نے خود کو اسکا سیکریٹری کہلوانا پسند کیا۔ 
اس سلسلے میں انہوں نے مختلف شہروں کا دورہ کیا تاکہ اسے متعارف کرایا جا سکے۔
 انہی بنیادوں پہ انہوں نے غازی پور میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا۔اسکی تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کیا گیا اور اسّی ہزارروپے کی لاگت سے ایک شاندار عمارت تعمیر کی گئ۔ اس مدرسے کا موجودہ نام وکٹوریہ ہائ اسکول ہے۔ ۱۸۶۴ میں سر سید کا تبادلہ غازی پور سے علی گڑھ ہو گیا۔
علی گڑھ جاتے ہوئے وہ سائینٹیفک سوسائیٹی کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اور علیگڑھ میں علاقے کے رئیسوں سے چندہ اکٹھا کر کے  اسکے لئےایک عالی شان عمارت تعمیر کروائ۔
اس انسٹیٹیوٹ میں ہر ماہ علمی اجلاس اور مذاکرے ہوتے۔ مختلف موضوعات پہ لیکچر کا اہتمام کیا جاتا۔ سائینسی آلات کی مدد سے مختلف سائینسی علوم کی وضاحت اور تشریح کی جاتی۔ بہت سی کتابوں کے تراجم ہوئے۔ مفید اور علمی کتابوں کی ایک لائبریری قائم کی گئ۔
حالی لکھتے ہیں کہ رئیسہ ء بھوپال نواب سکندر بیگم نے سر سید کی خدمات کے اعتراف میں ایک قیمتی انگوٹھی بطور تحفہ بھجوائ جسے سرسید نے ایک ہزارروپے میں بیچ کر ساری رقم انسٹیٹیوٹ کے فنڈ میں جمع کروادی۔ سر سید نے تبیین الکلام کی طباعت کے لئےآٹھ ہزار روپے اس زمانے کے لحاظ سے  کثیر رقم خرچ کر کے اپنا پریس خریدا تھا۔ وہ بھی اس انسٹیٹیوٹ کے حوالے کیا اور یوں سوسائیٹی کی کتابیں، اخبار، رسالے اور اطلاع نامے اسی پریس سے چھپنے لگے۔
اس ادارے کے دارالمطالعہ میں لندن اور ہندوستان کے اطراف و جوانب کے اٹھارہ انگریزی اور چھبیس اردو اخبارات و رسائل آیا کرتے تھے جو اس وقت کے لحاظ سے ایک خاصی بڑی تعداد تھی۔ یوں اسکی روشنی ملک کے طول و عرض میں اہل بصیرت تک پہنچنے لگی۔

جاری ہے 

Saturday, December 25, 2010

جناح اور تحریک پاکستان، یادوں کا مزار

قائد اعظم جوانی میں


قائد اعظم اور مسلم لیگی رہ نما




قائد اعظم اپنے دوستوں کے ساتھ



قائد اعظم کی پہلی بیوی، ایمی بائ جو انکی والدہ کی پسند تھیں اور شادی کے کچھ عرصے بعد انتقال کر گئیں جبکہ وہ لندن میں اپنی وکالت کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔


قائد اعظم کی دوسری بیوی رتی بائ، جن سے انہوں نے پسند کی شادی کی۔ ان سے انکی اکلوتی اولاد دینا جناح تھیں۔

قائد اعظم اپنی بہن فاطمہ جناح کے ساتھ

قائد اعظم اور فاطمہ جناح اپنے دوستوں کے ساتھ

قائد اعظم اپنی اکلوتی بیٹی دینا کے ساتھ
قائد اعظم اپنی بیٹی اور بہن کے ساتھ



 قائد اعظم اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ

قائد اعظم حیدرآباد دکن کی خواتین کے ساتھ







Wednesday, December 22, 2010

اختیار

میں گھر سے نکلی اور ابھی گاڑی تک پہنچ ہی رہی تھی کہ  پڑوسیوں کی بہو صاحبہ مل گئیں۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے شکوہ کیا کہ اب تو ہم سے ملنا ہی نہیں ہو پاتا، پھراصرار کہ ذرادیر کو ان کے ساتھ بھی بیٹھ جائیں۔ میں نے سوچا  مشعل تو اپنے بابا کے ساتھ ہے۔ موقع اچھا ہے۔ چلیں کچھ وقت انکے ساتھ بھی گذار لیا جائے۔
باتوں باتوں میں میں نے پوچھا آپ کی شادی کو تو چار سال ہو رہے ہونگے۔ بچوں کا پلان نہیں ہے ابھی۔ کہنے لگیں نہیں ہماری طرف سے تو ایسا  کچھ نہیں ہے۔ ایک دفعہ آثار بنے مگر تیسرے مہینے ہی ختم ہو گیا۔ اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ میری ایک ٹیوب بند ہے اور ایک کھلی۔ ادھر میرے شوہر کے ساتھ جرثوموں کا بھی کچھ مسئلہ ہے۔ میں نے انہیں تسلی دی۔ ایک ٹیوب کھلی ہے تو بھی بڑی بات ہے۔ ایک ہی راستہ چاہئیے ہوتا ہے اور ایک ہی اسپرم۔
 پھر ان سے پوچھا کہ وہ اس سلسلے میں کیا کچھ کروا چکی ہیں تاکہ اندازہ تو ہو انکا اپنے بارے میں علم کتنا ہے۔
اس بارے میں بتاتے وہ دفعتًا کہنے لگیں کہ آپ تو ادھر ادھر آتی جاتی ہیں۔ کسی اچھی گائینا کولوجسٹ کا پتہ ہے تو مجھے بتائیں۔ میں نے انہیں ایک گائیاکولوجسٹ کا پتہ دیا کہ ان سے ضرور ملیں۔ اور پھر کہا کہ اور اگر ایسے بھی کچھ نہ ہو تو ٹیسٹ ٹیوب بے بی کر والیں۔ کراچی میں اب بآسانی ہوتا ہے۔ اور یہ جن گائیناکولوجسٹ کا پتہ میں نے آپکو دیا ہے یہ بھی کرتی ہیں اور دیگر جگہوں کے مقابلے میں انکے پاس خرچہ کم آتا ہے۔ ویسے تو زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن  یاد رکھیں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے لئے بھی خواتین کی عمر خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
جواب ملا آپکی سب باتیں اپنی جگہ صحیح مگر میرے شوہر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کو غیر اسلامی کہتے ہیں۔ اچھا، میں نے ان سے کہا پاکستان میں جس طرح کیا جاتا ہے یہ سارا عمل اس میں اسے غیر اسلامی نہیںکہا جا سکتا۔ خیر، یہ انکا ذاتی فیصلہ ہے۔ ہر ایک کا اپنا فقہ۔ آپ کوئ بچہ کیوں نہیں گود لے لیتیں۔ ایک دفعہ پھر سرد آہ۔ وہ کہتے ہیں کہ سگے بہن بھائیوں کے علاوہ کسی کا بچہ گود نہیں لیا جا سکتا۔ وہ بڑا ہو کر نامحرم ہو جائے گا۔  انکے تو ایک ہی بھائ ہیں انکی بھی ایک ہی بچی ہوئ اسکے بعد کوئ اولاد نہیں۔ ادھر میرے بہن بھائیوں میں بھی کوئ اب بچے پیدا کرنے کے حالات میں نہیں۔ یہ تو نہیں ہو سکتا۔
میں نے ان پہ ترس کھایا۔ ہمدردی کے الفاظ بولے اور نکل آئ۔ انسان صرف ایک دفعہ زندگی جیسی نعمت پاتا ہے اور اس میں بھی وہ  سب لوگوں کی اطاعت میں وہ بھی نہیں کر پاتا۔ جس سے کوئ اخلاقی قدر ختم نہیں ہوتی۔ معاشرہ غیر مستحکم نہیں ہوتا۔ صرف اسکی زندگی میں خوشی سے جینے کا تحرک پیدا ہوتا ہے۔

والدین بننا، دنیا کی سب سے بڑی خوشی ہے۔  مرد یا عورت کواپنی زندگی میں شادی کو ترجیح دینا چاہئیے۔ اس لئے نہیں کہ آپکو ایک ساتھی ملے گا۔ بلکہ اس لئے بھی کہ یہی وہ پاک طریقہ خدا نے رکھا ہے جس کے ذریعے نسل انسانی آگے بڑھتی ہے۔ 
شادی شدہ جوڑوں میں سے تقریباً پندرہ فیصد افراد کسی بھی وجہ سے بے اولادی کا شکار ہوتے ہیں۔ شادی کے ایک سال بعد تک اگر آپکے یہاں اولاد کے آثار نہیں تو فوراً گائیناکولوجسٹ سے رابطہ کریں۔ بے اولادی کے ٹیسٹ مرد کے لئے بھی کرانا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ عورت کے لئے۔ مرد کا ٹیسٹ بہت سستا اور آسان ہوتا ہے۔ بے اولادی کی وجہ مردوں کے اندر بھی اسی نسبت سے ہوتی ہے جتنی کہ عورتوں میں۔ 
اگر کسی بھی وجہ سے خدا آپکو بچوں جیسی نعمت سے نہیں نوازتا تو دل چھوٹا نہ کریں۔ یہاں لا تعداد بچے ماں کی گرم گود اور باپ کی شفقت کے منتظر ہیں۔ اپنے دل میں نرمی پیدا کیجئیے اور انہیں گود لے لیں۔

بچے، زندگی میں سب سے بڑا تحرک ہیں۔ وہ آپکو، آپکی زندگی کی ان باریکیوں سے آشنا کراتے ہیں جن سے بحیثیت انسان بھی آپ اس وقت تک آشنا نہیں ہو پاتے جب تک انکی معصوم مسکراہٹ اور بے لاگ تجزیہ کی قوت آپکو نہیں ملتی۔ انکے ساتھ رہنا ایک بالکل مختلف دنیا ہے۔  وہ  دنیا میں  امید کا نشان اور خدا کا سب سے انمول تحفہ ہیں۔ وہ بچے بھی جو آپ نے پیدا نہیں کئیے لیکن خدا نے انکی محبت سے آپکے دلوں کو معمور کیا۔ پیدا کرنا آپکے اختیار میں نہیں مگر سنوارنا،سنبھالنا اور محبت کرنا یہ آپکے اختیار میں ہے۔

Monday, December 20, 2010

خدا کے قریب

رمضان کا مہینہ تھا اور تیرہ اگست کا دن کہ مجھے اپنی بیٹی کے اسکول سے نوٹس ملا۔ کل سکول میں چودہ اگست منایا جا رہا ہے اور یہ بات خوشی کا باعث ہوگی کہ آپ اپنے بچے کو قومی لباس میں بھیجیں۔ میری بچی کے پاس یوں تو شلوار قمیض ہیں مگر مجھے خیال آیا کہ اگر ہرے سفید رنگ میں بنا لیا جائے تو موقعے کی مناسبت سے اچھا ہے۔ گھر میں سفید شلوار اور دوپٹے کا کپڑا موجود ہے قمیض کا لینا پڑے گا۔ باقی سلائ مجھے خود آتی ہے  گھنٹے بھر میں سل جائے گا۔  کل وہ تیار ہو کر بڑی اچھی لگے گی۔ میں فوراً گھر کے قریب لگنے والے بچت بازار چلی گئ۔
بازار میں سب سے پہلی دوکان ملی جو افغانی پٹھان کی تھی۔ اسکے پاس مجھے ہرے سفید پرنٹ میں اپنے مطلب کا کپڑا مل گیا پوچھا کیا حساب ہے۔ کہنے لگا ایک سو تیس روپے گز۔ میں نے کہا، ساری مارکیٹ میں یہ کپڑا عام ہے اور سو روپے گز ملتا ہے۔ کہنے لگا کہ لیکن ہے بھی تو ہرے سفید رنگ میں۔ یہ افغانی پٹھان کتنے تیز کاروباری ہوتے ہیں۔ میں نے سوچا اور  اس سے کہا کہ سو روپے گز نہیں دوگے تو نہیں لونگی۔ کسی اور جگہ سے لے لونگی۔ خیر، وہ راضی ہو گیا۔ کہنے لگا کتنا چاہئیے۔ میں نے جواب دیا۔ دو گز ، یہ کہہ کر میں اپنا پرس چھاننے لگی اور وہ خاموشی سے کپڑا ناپ کر کاٹنے لگا۔ اتنے میں ذرا فاصلے پہ بیٹھا اسکا اسسٹنٹ لڑکا جسکی عمر انیس بیس سال ہوگی، کلین شیوڈ، آکر میرے سامنے بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ باجی رمضان کا مہینہ ہے کیا ہمیں نیک اور اچھا نہِں بننا چاہئیے۔
میں نے یہ جملہ سن کر سر اٹھایا۔ میں نے صبح اٹھ کر سحری کی تھی۔ نماز پڑھی، تھوڑا سا سیپارہ پڑھا اپنے روز کے امور انجام دئیے۔ اس دوران کسی مرد کو ترغیب دینے کی کوشش کی نہ خیال آیا، نہ جھوٹ بولا ، نہ غیبت کی نہ چوری اور نہ غبن، نہ کسی پہ بہتان لگایا، نہ تہمت دھری، نہ کسی کی حق تلفی کی، نہ کسی کو نقصان پہنچایا، نہ اپنی نیکیوں کا ڈھنڈھورا پیٹا نہ کسی اور سے اسکی نیکیوں کا حساب پوچھا۔  صرف اس دن ہی نہیں بلکہ بقیہ تمام دنوں میں ، میں نے  ہمیشہ اپنے آپکو ان تمام اخلاقی برائیوں سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ 
یہ مجھے بالکل نہیں جانتا، پھر یہ مجھ سے یہ سوال کیوں کر رہا ہے؟
میں نے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں سمجھ آگیا کہ وہ مجھے دوپٹہ سر سے اوڑھنے کے بارے میں نصیحت کرنے والے ہیں۔ میں نے اس سے ترنت کہا۔ رمضان کا مہینہ ہے کیا تمہیں نیک اور اچھا نہیں بننا چاہئیے۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ تم نیکی اور اچھی کے اس درجے پہ پہنچ گئے ہوں جہاں تم دوسروں سے یہ سوال کرو۔ وہ ایکدم خاموش میری طرف خالی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ 
حالات کی یہ صورت اسکے ذہن میں نہیں تھی۔ اتنی دیر میں اس پہلے دوکاندار نے صورت حال کو بھانپا اور جلدی سے کپڑے کی تھیلی میرے ہاتھ میں دی۔ یہ کہتے ہوئے کہ سب کو نیک اور اچھا بننا چاہئیے۔ سب کو ضرورت ہے۔
راہ چلتی کسی انجان خاتون سے یہ کہنے والے آپ کون ہوتے ہیں؟ آپ کون ہوتے ہیں کہ آپ کسی بھی خاتون کو کھڑے ہو کر اس بات پہ لیکچر دینے بیٹھیں کہ اسے اسلام کے مطابق کیسی زندگی گذارنی چاہئیے۔ جبکہ وہ اپنے کام سے  لگی ہوئ ہو۔ آپ اس سے واقف نہیں، اسکے شب وروز نہیں جانتے۔ 
کیا اس لئے کہ کسی بحر بیکراں کے عالم نے آپکے کانوں میں یہ طلسم پھونکا کہ اب آپ نیکی اور اچھائ کی اس معراج پہ پہنچ گئے ہیں جہاں اب آپکو حق ہے جسے چاہیں اسے دین کی اپنی سمجھ عطا کرتے جائیں۔ یا خدا نے آپکو الہام کیا ہے۔ خاص طور پہ اگر آپ ایک مرد ہیں تو اب آپکو یہ خدائ حق مل گیا ہے کہ ہر عورت کو خدا کے اس حکم سے آگاہ کریں جو اسکے متعلق ہے۔
کل ہی فیس بک پہ میری پوسٹ ایک سودے کا سواد میں جو کہ وکی لیکس کے بارے میں ہے۔ ایک صاحب تبصرہ کرتے ہیں کہ خدا کس قسم کی خواتین کے قریب ہوتا ہے؟
وہ جو گھر میں رہ کر اپنے بچوں کی تربیت میں لگی ہو۔
ایک دفعہ میں پھر حیران ہوئ کہ اسکی یہاں کیوں ضرورت۔ اس پوری پوسٹ کا اس ساری چیز سے کوئ تعلق نہیں۔  ان موصوف نے اسی پہ بس نہیں کی بلکہ ایک اور اسٹیٹس کے تھریڈ پہ اسے ڈالا۔ یعنی اتنا اہم تھا کہ اسے دو جگہ ڈالنا پڑا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ موصوف میرے فیس بک دوستوں میں شامل نہیں ہیں۔  فوری طور پہ انہیں تائیدی رکن بھی مل گئے۔ کیونکہ یہ اسٹیٹس کس کا تھا ایک خاتون کا۔ اورجب انہیں گھر میں بٹھا کر  خالصتاً بچوں کی پرورش میں مصروف ماں  بنا لیں گے تو ہزار نفلوں کا بیٹھے بٹھائے محض چند ِکلکس پہ ثواب مل جائے گا۔  
کیا کہوں، کہ ان موصوف نے اپنے ماں باپ کے پیسوں پہ عیاشی کر کے آرام کی زندگی گذاری ہوگی۔ ورنہ اگر تھر کی گرمی میں کمر سے بچہ باندھ کر روڈ کوٹتی عورتوں کو دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ خدا کن عورتوں کے قریب ہوتا ہے۔ ریگستانوں میں میلوں دور سے اپنے گھر والوں کے لئے پینے کا پانی لاتی عورت کو دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ خدا کن عورتوں کے قریب ہوتا ہے۔ 
اسی ریگستان میں جب مرد سینکڑوں فٹ گہرا کنواں کھودرہا ہوتا ہے تو عورت اس سے مٹی لے لے کر پھینک رہی ہوتی ہے اور یوں سارا دن اسکے ساتھ لگی ہوتی ہے۔ کراچی کی مضافاتی بستیوں سے گھنٹوں کا فاصلہ طے کر کے گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کر کے اپنے بچوں کو پالتی عورت کو دیکھتے تو معلوم ہوتا کہ خدا کن عورتوں کے قریب ہوتا ہے۔
اقبال نے کہا تھا کہ ہند کے شاعر و افسانہ نویس صورت گر، آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار، یہاں اقبال صاحب نے نجانے کیوں ہند کے  ان لوگوں کو تذکرہ نہیں کیا جن پہ جب اسلام کی پاسداری کا شوق چڑھتا ہے تو فورا اپنی منجنیقوں کا رخ عورتوں کی طرف موڑ لیتے ہیں۔ اور تان لا کر توڑیں گے لبرلزم پہ۔ 
لا علم، صرف چند الفاظ سیکھ لیتے یہ تک نہیں جانتے کہ انکی ارد گرد کی دنیا میں ہو کیا رہا ہے۔ کیا  تھر میں روڈ کوٹنے والی عورت یہ سب کچھ لبرلزم کی وجہ سے کرتی ہے۔ نیو کراچی سے تعلق رکھنے والی عورت کسی گارمنٹ فیکٹری میں دھاگے کاٹنے لبرلزم کی وجہ سے جاتی ہے، کیماڑی کی بندرگاہ پہ برف سے ٹھنڈے جھینگوں اور مچھلیوں کو صاف کر کے اپنی انگلیاں گلاتی عورت ہوئی سب کچھ لبرلزم کی وجہ سے کرتی ہے۔ یہ تو بہت محدود مثالیں ہیں اگر حقیقی زندگی کو برتیں تو ان گنت مثالیں اور رخ ہیں جنہیں جاننے والے جانتے ہیں۔
کیوں کی جاتی ہیں یہ لایعنی باتیں ہر وقت اس لئے کہ ایک طبقے کی عورت تو یہ تمام سختیاں سہتی رہے اور پھر بھی اس خوف کا شکار رہے کہ خدا اسکے قریب ہے یا نہیں اوردوسرے طبقے کی عورت کو اس ذریعے سے بالکل ختم کر دیا جائے کہ اگر اسکے علاوہ کچھ بھی کیا تو خدا تمہارے قریب نہیں ہوگا۔
یہ سب پیٹ بھرے  نئے مسلمانوں کے خیالات جدیدہ ہیں جو کسی کو کچھ سوچنے کے قابل نہیں رکھنے نہیں دینا چاہتے۔ وہ اور انکے بحر بیکراں کے عالم ہیں ناں سب کچھ سوچنے اور کہنے کے لئے۔

نوٹ؛ فی الوقت اس پوسٹ پہ تبصرے پبلش نہیں کئیے جائیں گے۔

Friday, December 17, 2010

ایک سودے کا سواد

کارا فلم فیسٹیول والوں کی طرف سے کراچی میں بین الاقوامی فلموں کا میلہ جاری تھا کہ ایک دن ہمیں ایک دوست کی دستاویزی فلم میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ حالات کچھ ایسے بنے کہ  کچھ مراعات کی وجہ سے ہمیں ایکدن کی فلمیں دیکھنے پہ رعایت بھی مل گئ۔ انکی دستاویزی فلم دیکھ کر فارغ ہوئے اور پھر کچھ اور فلمیں لگاتار دیکھ ڈالیں۔ اب ایک ایسا شخص جو دو ڈھائ گھنٹے کی فلم ٹکڑوں میں یا ٹہل ٹہل کر دیکھتا ہواسکے لئے سارا دن سینما اسکرین کے آگے گذار دینا ایک درد سر ہی بننا تھا۔ شام کو چار بجے جب ایک اور فلم دیکھنے کے لئے بیٹھے تھے تو میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ لائیٹس بند ہوتے ہی آنکھیں بند کر کے پڑ جاءونگی۔ یہ ایک دستاویزی فلم تھی اور نام بھی ایسا غیرروائیتی سا۔ باءولنگ فار کولمبائین۔  کون دیکھے گا۔ خدا جانے اس  میلے کے منتظمین کن بنیادوں پہ  فلمیں منتخب کرتے ہیں۔  صبح سے اب تک میں وہ بنیاد تلاش کرنے میں ناکام ہو چکی تھی۔
فلم شروع ہوئ اور لائیٹس بند ہونے کے بعد بھی میری آنکھیں بند نہ ہو سکیں۔
 کیا مزے کی فلم ہے۔ میلے کی منتظمین کی تمام خامیاں پس پردہ چلی گئیں۔ اور یوں لگا کہ سارے دن کی قیمت وصول ہو گئ۔ دستاویزی فلم اور اس قدر دلچسپ، کیا ممکن ہے اگر یہ دیکھنا ہو تو یہ فلم ضرور دیکھیں۔  جہاں فلم میکر امریکہ میں مار دھاڑ کے بڑھتے ہوئے جحانات کی چھان پھٹک کرتا ہے وہاں وہ اسے اتنے پر مزاح انداز میں پیش کرتا ہے کہ پردے پہ سے نظر ہٹانا ممکن نہیں۔  یہ جگتیں نہیں، نہ پھبتیاں بلکہ اس ساری چیز کے لئے خاصی ریسرچ کی گئ ہے جو فلم کا مواد دیکھ کر ہی پتہ چلتی ہے۔ جہاں فلم میکر اپنے موضوع کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے وہاں وہ اس چیز کا پروپیگینڈہ کرتا بالکل نظر نہیں آتا کہ امریکی عظیم قوم ہیں۔ یہ فلم میکر مائیکل مور سے میرا پہلا تعارف تھا۔
 وہ ایک دستاویزی فلم میکر ہے اور انکے کریڈٹ پہ اسکے علاوہ بھی دیگر فلمیں جن میں وہ امریکن معاشرے کی سرجری کرتے نظر آتے ہیں۔
تو کیا میں مائیکل مور کا تعارف یا اس فلم کا ریویو لکھنے جا رہی ہوں۔ نہیں جناب ، ایسا کچھ نہیں ہے۔ بلکہ ہوا یوں کہ جب میں نے یہ خبر سنی کہ وکی لیکس کے بانی اسانژ نے خود کو  گرفتاری کے لئے پیش کر دیا ہے اس مقدمے کا سامنا کرنے کے لئے جسکے متعلق خیال یہی کیا جاتا ہے کہ انکی لیکس کو لگام دینے کے لئے گھڑا گیا ہے۔ تو ساتھ ہی یہ خبر بھی آگئ کہ اسانژ کی ضمانت ہو گئ ہے۔ اور اس  ضمانت  میں حصہ ڈالنے والے مائیکل مور بھی ہیں۔ بیس ہزار ڈالر ضمانت کی رقم میں ڈالتے ہوئے آخر مائیکل مور نے کیا سوچا؟
 مائیکل مور کہتا ہے کہ
I am publicly offering the assistance of my website, my servers, my domain names and anything else I can do to keep WikiLeaks alive and thriving as it continues its work to expose the crimes that were concocted in secret and carried out in our name and with our tax dollars. 
یعنی میں اپنی ویب سائیٹ، اپنے سرور، اپنے ڈومین اور ہر وہ چیز جو وکی لیکس کو زندہ اور متحرک رکھے اسکی پیش کش کرتا ہوں جب تک کہ یہ، ان جرائم کو سامنے لانے کا کام کرتی رہے گی جو کہ ہمارے نام اور ہمارے ٹیکس کے ڈالرز سے خفیہ طور پہ کئے جاتے رہے۔

وکی لیکس کیا چاہتے ہیں؟
WikiLeaks states that its "primary interest is in exposing oppressive regimes in Asia, the former Soviet bloc, Sub-Saharan Africa and the Middle East, but we also expect to be of assistance to people of all regions who wish to reveal unethical behaviour in their governments and corporations." 
 وکی لیکس کا کہنا ہے کہ انکی بنیادی دلچسپی   ایشیا، سابق سوویئت بلاک، صحرائ افریقہ اور مشرق وسطی کی جارحانہ حکومتوں کا پول کھولنے میں ہے۔ لیکن ہم تمام خطوں کے لوگوں کی مدد کرنے کی توقع کرتے ہیں جو کہ اپنی حکومتوں اور کارپوریشنز کے غیر اخلاقی رویوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔

یہ سائیٹ وکی پیڈیا کی طرح ہے جس پہ کوئ بھی جا کر راز افشاء کر سکتا ہے اور افشا شدہ رازوں کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ چاہے تو ایڈٹ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن انکا وکی پیڈیا سے کوئ تعلق نہیں۔
 اسکے بانی جولین اسانژ کے بارے میں امریکی اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹ اور امریکی معاشرے کے دیگر معززین کے بیانات اگر ہم پڑھیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ بیان ویسے ہی ہیں جن سے بچنے کے لئے ہم اپنے بلاگ کے تبصروں میں کچھ اخلاقی نصیحتیں یا دھمکیاں لکھتے ہیں۔مثلاً اس کتیا کے بچے کو  غیر قانونی طور پہ شوٹ کر دینا چاہئیے۔ مزید یہ کہ وہ ایک ذہنی، نفسیاتی مریض ہے، دماغ چلا ہوا ہے اسکا، وہ ایک دہشت گرد ہے۔ اسکے ساتھ بالکل اسی طرح نبٹنا چاہئیے جیسا کہ القاعدہ اور طالبان کے ساتھ کیا گیا۔ وکی لیکس دہشت گردوں کی تنظیم ہے۔ 
مائیکل مور کے خیال میں وہ یقیناً دہشت گردہے جو ان  جھوٹے امریکیوں پہ دہشت لائے ہوئے ہے جنہوں نے امریکی قوم  کو تباہ کردیا اور دوسروں کو بھی۔ اب جنگ کے ان شیدائیوں کے لئے  اگلی جنگ کرنا اتنا آسان نہیں رہا۔ جھوٹ بولنا اب آسان نہیں رہا۔ مائیکل کے خیال میں وکی لیکس وجود میں آئ اس لئیے کہ امریکی مین اسٹریم جرنلزم نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ حیرت ہے دنیا بھر کی صحافتی دنیا وہ کچھ نہیں کر سکی جو وکی لیکس نے کیا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر آج سے دس سال پہلے وکی لیکس کا وجود ہوتا تو صدر بش عراق پہ اس بہانے سے حملہ نہ کر پاتے کہ وہاں بڑی تباہی کے اسلحہ کا ذخیرہ ہے۔
مجھے تویوں لگتا ہے امریکی سفیر ہالبروک پہ بھی وکی لیکس کی دہشت تھی۔ وکی لیکس کے دباءو کی وجہ سے انکے دل کی بڑی شریان سے خون لیک کر گیا۔ اور وہ چٹ پٹ چلے گئے۔
ادھر روسی میڈیا میں خبر گرم ہے کہ امن کا نوبل پرائز جولین اسانژ کو دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس سال کسی صحیح شخص کو یہ انعام ملے گا۔
جولین اسانژ کو دنیا بھرکےپچاس با اثر لوگوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اسے ان پچیس افراد میں بھی رکھا گیا ہے جو اپنی مستقبلیاتی ذہانت کی وجہ سے دنیا کو بدل کر رکھ سکتے ہیں۔
کیا دنیا کی تاریخ اور ترجیحات بدلنے کو ہیں؟ کیا جولین اسانژ اس بدلی ہوئ دنیا کا ایک نمائندہ ہے؟ کیا دنیا بھر کے انسانوں کو اب جنگ کی معیشت سے نجات مل جائے گی؟
اگر ان سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو مائیکل مور نے بیس ہزار ڈالر میں بڑا سستا سودا کیا۔ کیا خیال ہے؟